Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-013

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 30
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَلَوْ تَرَكَ ثَلَاثَ بَنَاتِ ابْنٍ بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، وَثَلَاثَ بَنَاتِ ابْنِ ابْنٍ آخَرَ بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ۔ اچھا بھئی! آج ہم مسئلہ تشبیب پڑھیں گے بھئی، مسئلہ تشبیب۔ یہ جو آگے مسئلہ ذکر ہو رہا ہے، اس کو مسئلہ تشبیب کہا جاتا ہے بھئی۔ اور یہ تشبیب کہتے ہیں... تشبیب کہتے ہیں کہ عرب شعراء اپنے قصیدے کی ابتداء کے اندر، جو بھی وہ قصیدہ کہنے لگتے، تو شروع میں کچھ وہ اپنے جوانی کے ایام کا تذکرہ کرتے تھے بھئی۔ اور اپنے عشق و محبت کو بیان کرتے تھے، اپنے محبوبہ اور معشوقہ کے حسن و جمال کو بیان کرتے تھے اور اس طرح کی چیزیں... ان کو کیا کہا جاتا ہے؟ تشبیب کہا جاتا ہے۔ تو قصیدے کی ابتداء کے اندر یہ اپنے جوانی کے ایام اور اپنے عشق و محبت اور اپنے محبوبہ کے حسن و جمال کو بیان کیا کرتے تھے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تشبیب کہتے ہیں۔ اور مقصد یہ ہوتا تھا تاکہ سننے والے کی توجہ ہو جائے پوری طرح، کیونکہ یہ امور جو ہیں، یہ عام لوگوں کے لیے دلچسپی کا سامان لیے ہوئے ہوتے ہیں، ان کی طرف وہ متوجہ ہو جاتے ہیں۔ تو چنانچہ اس کے بعد پھر اپنے مقصد کی طرف وہ... اپنے مقصد کو اس کے بعد آگے بیان کرتے جس مقصد کے لیے قصیدہ کہہ رہے ہیں بھئی۔ تو مقصود سے پہلے یہ چیزیں ذکر کرتے تھے۔ تو اسی طرح یہاں پر یہ جو مسئلہ ہے، اس کو مسئلہ تشبیب کہتے ہیں، کیونکہ اس کے اندر یہ جو پیچھے صورتیں ذکر ہوئیں، اس میں طالب علم کے ذہن میں بہت سے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تو تاکہ ان سوالات کا جواب بھی اسے مل جائے اس مسئلے کے ذریعے اور وہ بھی پوری طرح مستعد اور چوکَس ہو جائے کہ کس طرح مسئلہ حل کیا جائے گا بھئی۔ بھئی! اس کے لیے، مسئلہ تشبیب کے لیے نقشہ دیا ہوا ہے کتاب کے اندر، لیکن یہ میری کتاب میں تو کم از کم یہ نقشہ واضح نہیں ہے، اس کو سمجھنا بڑا مشکل۔ تو آپ یوں کیجیے، اپنی کاپیوں پر نقشہ بنائیے، جیسے میں لکھواتا ہوں اس طرح بنا لیجیے، تو پھر انشاء اللہ آپ کے لیے سمجھنا بڑا آسان ہو جائے گا۔ تمام طلباء لکھیے بھئی، کوئی ویسے نہ بیٹھے بھئی۔ کاپیاں نکال لیں بھئی؟ اچھا، نقشہ بھی بنائیے اور ساتھ ساتھ نقشے کے، کتاب پر بھی نظر رکھیے گا تاکہ کوئی لفظ یا کوئی بات سمجھ میں نہ آئے میرے بتلانے سے پوری وضاحت نہ ہوئی آپ کے لیے، تو وہ کتاب پر نظر ڈالنے سے واضح ہو جائے گی وہ بات۔ بھئی! دیکھیے، کتاب کے اندر یہ جو نقشہ بنا ہوا ہے، سب سے اوپر یہ ایک لکیر ہے دائیں سے بائیں، یہ "میّت" لکھا ہوا ہے، آپ دیکھیں بھئی۔ نظر آ رہا ہے بھئی؟ یہ جس کے اوپر "زید" لکھا ہے، یہ اس کے نیچے جو لکیر ہے لمبی سی، یہ لفظِ میّت ہے، صرف یا اور تا کے نقطے نہیں ڈلے ہوئے۔ آپ بھی صفحے کے اوپر اسی طرح میّت لمبی سی بنا دیجیے بھئی۔ بنا دیا بھئی؟ اچھا، اس کے وسط میں اسی طرح "زید" لکھ لیجیے۔ یہ مرنے والا جو تھا، اس کا نام زید تھا۔ یہ میّت ہے۔ اس کے نیچے دیکھیے، الفریق الأول، الفریق الثاني اور الفریق الثالث، یہ تین لفظ لکھنے ہیں بھئی اور فاصلہ دے دے کر بھئی۔ تو میّت کے نیچے، شروع کے کنارے کے نیچے لکھ لیں الفریق الأول۔ درمیان میں لکھ لیں الفریق الثاني۔ اور اب آخری کنارے پر لکھیں الفریق الثالث۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب ہر فریق کے نیچے فاصلہ نہیں دینا، ساتھ ہی اس کے نیچے لکھ دیں ابنٌ۔ فاصلہ نیچے کی طرف ایک لکیر چھوڑ کر کوئی لکھے، ایسا نہیں بھئی۔ ساتھ ہی لکھنا ہے۔ الفریق الأول کے ساتھ نیچے ملا کر کیا لکھ دیں؟ ابنٌ۔ الفریق الثاني کے نیچے بھی اسی طرح ابنٌ لکھ دیں۔ الفریق الثالث کے نیچے بھی ابنٌ لکھیں بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب نیچے ایک سطر چھوڑ کر اس سے اگلی سطر میں، تینوں ابنٌ کے نیچے ایک ایک اور ابنٌ لکھ لیں، ایک سطر چھوڑ کر۔ ہر ابنٌ کے نیچے ابنٌ لکھ لیں۔ ہر ابنٌ کے نیچے ابنٌ ایک اور لکھ لیں بھئی، اور ایک ایک سطر چھوڑ کر بھئی۔ تو الفریق الأول کے نیچے کتنے ابنٌ ہوئے؟ دو ہو گئے۔ الفریق الثاني کے نیچے کتنے ہوئے؟ اس کے نیچے بھی دو ابنٌ آ گئے۔ الفریق الثالث کے نیچے کتنے ابنٌ؟ اچھا، دو ہو گئے؟ چلیں، ایک ایک اور لکھ لیں ایک سطر چھوڑ کر بھئی۔ ایک ایک اور لکھ لیں۔ لکھ لیا بھئی؟ جی، اب آپ دیکھیں، ہر فریق کے نیچے تین ابنٌ ہیں بھئی۔ کتنے ہیں؟ تین۔ اچھا، اب الفریق الأول کے نیچے جو تین ابنٌ ہیں، اب اس سے نیچے ایک سطر چھوڑ کر بنتٌ لکھیں، صرف فریقِ اول کے نیچے بنتٌ لکھ دیں بھئی۔ بنتٌ، فریقِ اول کے نیچے، بس۔ فریقِ اول کے نیچے کتنے ابنٌ آئے؟ تین ابنٌ اور چوتھے نمبر پر کیا ہے؟ بنتٌ۔ اچھا، فریقِ ثانی میں کیا صورتحال ہے؟ تین ابنٌ ہیں۔ ادھر ایک اور ابنٌ نیچے لکھو، اس کے نیچے بنتٌ لکھو۔ ایک اور ابنٌ لکھو فریقِ ثانی میں اور پھر اس کے نیچے بنتٌ لکھ دو۔ ہاں، اسی طرح لائن چھوڑ کر، نیچے نیچے لکھتے جاؤ بھئی۔ فریقِ ثانی کے نیچے اب کیا صورتحال ہوئی بھئی؟ چار ابنٌ ہیں اوپر نیچے اور پھر اس کے سب سے آخر میں نیچے کیا ہے؟ بنتٌ۔ اچھا، فریقِ ثالث میں کیا صورتحال ہے؟ تین ابنٌ ہیں۔ ان کے نیچے دو مزید ابنٌ اسی طرح لکھیں اور پھر بنتٌ لکھیں۔ دو ابنٌ فریقِ ثالث میں اور لکھنے ہیں اور پھر بنتٌ لکھنا ہے۔ جی، یہاں اب کیا صورتحال ہو گئی؟ فریقِ ثالث میں پانچ ابن ہیں اور پھر ان سے نیچے کیا ہے؟ بنتٌ۔ فریقِ اول میں تین ابن ہیں، پھر بنتٌ ہے۔ فریقِ ثانی میں چار ابنٌ ہیں، پھر بنت ہے۔ فریقِ ثالث میں پانچ ابنٌ ہیں اور پھر بنت ہے۔ اب یوں کیجیے، جو سب سے اوپر پہلا ابنٌ سب فریقِ اول، ثانی، ثالث میں پہلا پہلا ابنٌ ہے، ان کے دونوں طرف دو دو قوسین ان کے گرد لگا دیجیے بھئی۔ ان کے گرد قوس، بریکٹ بھئی۔ الفریق الأول کے نیچے کیا لکھا تھا؟ ابنٌ۔ اس ابنٌ کے دونوں طرف بریکٹ لگا دیں۔ فریقِ ثانی کے نیچے بھی کیا لکھا تھا؟ ابنٌ۔ اس کے گرد بھی دونوں طرف بریکٹ لگا دیں۔ اور فریقِ ثالث کے نیچے جو پہلا ابنٌ تھا، اس کے... صرف پہلے ابنٌ کے گرد بریکٹ لگانی ہے، سب کے گرد نہیں۔ لگا لی بھئی یہ؟ وجہ کیا یہ میں نے کیوں لگائی، لگوائی ہے؟ کہ بھئی، یہ جو فریقِ اول ہے، اس کے نیچے کیا لکھا؟ ابنٌ۔ یہ خود یہ ابنٌ، یہی فریقِ اول ہے۔ یہ اس کا بیٹا نہیں ہے، بلکہ یہ خود کیا ہے؟ میّت کا... یہ رشتہ بیان ہو رہا ہے صرف۔ یہ کوئی الگ نہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ زید کا کیا ہوا؟ انتقال۔ اس کے نیچے تین ابن ہیں یہ جو قوس جن کے گرد میں نے لگوائی۔ یہ تین ابن، ایک کا نام ہم نے کیا رکھ دیا؟ الفریق الأول۔ دوسرے کا نام کیا رکھ دیا؟ فریقِ ثانی۔ تیسرے کا فریقِ ثالث۔ تو یہ فریقِ اول، ثانی، ثالث کوئی الگ نہیں ہیں۔ ان کے نیچے جو ابنٌ لکھا، یہ خود ہیں۔ یہ ان کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ یہ خود ہی کیا ہیں؟ میّت کے بیٹے ہیں، اس لیے ابنٌ لکھا۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھا، اب دیکھیے! فریقِ اول کے نیچے ایک تو ابنٌ لکھا، یہ یہ خود ہے۔ اس سے نیچے کتنے ابنٌ ہیں؟ دو۔ اس کے نیچے اب دو ابنٌ رہ گئے، ٹھیک ہے؟ تو یہ جو پہلا ابنٌ ہے جس کے گرد بریکٹ لگوائی، اس سے لکیر کھینچ کے نیچے والے ابنٌ تک لے جائیں۔ اور اس دوسرے ابنٌ سے پھر نیچے والے تک لکیر کھینچ کر لے جائیں۔ اور اس سے آگے نیچے ابنٌ سے پھر بنتٌ تک لکیر کھینچ کر لے جائیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یعنی ہر اوپر والے ابنٌ سے نیچے والے ابنٌ کی طرف لکیر، سیدھی سیدھی لکیریں کھینچ دو۔ اور آخر میں ابنٌ سے بنتٌ کی جو سب سے نیچے بنتٌ ہے، تو اس کو بھی اسی طرح لکیر اس کی طرف بھی کھینچ دو۔ بنا لیا بھئی؟ یہ سب میں کر دیں بھئی۔ فریقِ ثانی کے بھی ابن جو ہیں، ان کو اوپر نیچے لکیریں بیچ میں ان کے ملا دیں۔ فریقِ ثالث میں بھی ہر اوپر والے ابنٌ سے نیچے والے کو لکیر کھینچتے جائیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اب یوں کیجیے، فریقِ اول سب سے نیچے کیا ہے؟ بنتٌ۔ اس کے اوپر ابنٌ۔ اس کے اس ابنٌ کے ساتھ بنتٌ لکھ لیں، ساتھ ہی اس کے، ساتھ ہی اس کے۔ بھئی، دیکھیے! الفریق الأول میں سب سے نیچے کیا ہے؟ بنتٌ۔ اس بنتٌ کے اوپر جو ابنٌ ہے، یعنی سب سے نچلا ابنٌ فریقِ اول کا، اس ابنٌ کے ساتھ ہی آگے بنتٌ لکھ دیں۔ بالکل ساتھ لکھنا ہے، تھوڑا سا بے شک فرق کر دیں، ساتھ ہی لکھنا ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اس سے اوپر والا جو ابنٌ ہے، اس کے ساتھ بھی اسی طرح کر دیں۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا، اب دیکھیے، فریقِ اول کے نیچے سب سے پہلے کیا ہے؟ ابنٌ بریکٹ میں ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ فریقِ اول خود ہی ہے، یہ میّت کا ابن ہے۔ اس کے نیچے کیا کیا کیا ہے؟ ابنٌ ہے اور... تو اس ابنٌ سے آپ نے نیچے والے ابنٌ کو لکیر کھینچی تھی یا نہیں؟ کیوں؟ مقصد کیا تھا؟ بتلانا یہ تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ اور بیٹے کے ساتھ ایک بیٹی بھی اب میں نے لکھوا دی۔ تو اس کو بھی اسی طرح اوپر والے ابنٌ سے، جیسے نیچے والے ابنٌ کو لکیر کھینچی ہے، بیٹی کی طرف بھی ایک لکیر کھینچ دیں۔ پہلے ابنٌ کی لکیر نیچے والی بنت کی طرف... نہیں سمجھ میں آ رہی بات؟ فریقِ اول ابنٌ خود ہے۔ اس کے آگے کتنی اولاد ہے؟ ایک ابنٌ ہے اور ایک بنتٌ۔ ابنٌ کی طرف لکیر کھینچی ہے، تو بنتٌ کی طرف بھی لکیر کھینچ دو، تو پتہ چلے یہ دونوں اس کی اولاد ہیں۔ ٹھیک ہے؟ اب یہ جو ابنٌ آیا دوسرے نمبر پر، اس کے نیچے لکیر کھینچی تھی کس کی طرف؟ ابنٌ کی طرف۔ اور ساتھ اب کیا آ گئی؟ بنتٌ بھی میں نے لکھوا دی ہے، تو اس کی طرف بھی لکیر کھینچیں کہ پتہ چلے اس کی یہ دو اولادیں ہیں: ایک ابنٌ ہے اور ایک بنتٌ ہے۔ ابنٌ سے... جیسے اوپر والے ابنٌ سے نیچے والے ابن اور بنت دونوں کی طرف لکیر کھینچی تھی، اسی طرح اس نیچے والے ابنٌ کی لکیر نیچے والے ابنٌ اور بنتٌ کی طرف بھی کھینچ دیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ نقشے سے پتہ چل رہا ہے: میّت فریقِ اول پہ نظر رکھیں۔ یہ فریقِ اول کون ہے میّت کا؟ ابنٌ، بیٹا ہے۔ اس کے نیچے دو لکیریں جا رہی ہیں: ایک ابنٌ کی طرف، ایک بنتٌ کی طرف۔ اس کی دو اولادیں ہیں۔ پھر یہ جو نیچے ابنٌ آیا تھا، اس کی بھی آگے دو اولادیں ہیں، دو لکیریں اس سے جا رہی ہیں: ایک ابنٌ کی طرف اور ایک بنتٌ کی طرف جا رہی ہے، اس کی دو اولادیں ہیں۔ پھر آخر میں جو ابنٌ آیا تھا، اس کی صرف ایک بیٹی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب فریقِ اول میں کیا ترتیب ہوئی؟ سب سے نیچے ہے بیٹی، اور اس سے اوپر والے دو ابن جو ہیں، دونوں کے ساتھ کیا ہیں؟ فریقِ ثانی میں بھی اسی طرح کر دیں۔ سب سے نیچے بیٹی ہے، اس سے اوپر والے جو دو ابن ہیں، ان کے ساتھ بیٹی لکھ دیں۔ فریقِ ثانی میں سب سے نیچے کیا ہے؟ بنت ہے۔ اس بنت کے اوپر والے جو دو ابن ہیں، دونوں کے ساتھ کیا لکھ دیں؟ بنت۔ اور اسی طرح لکیریں کھینچ دیں جیسے پہلے میں تھیں۔ بھئی، اس کو نقشے کو چھوڑو، میں اسی لیے تو بنوا رہا ہوں کہ نقشہ واضح نہیں بھئی۔ نقشہ واضح نہیں۔ انشاء اللہ یہ جو نقشہ میں بنوا رہا ہوں، اس کو دیکھتے ہی صورتِ مسئلہ آپ پر واضح ہو جائے گی۔ اور ادھر سوچنا پڑتا ہے، دماغ لڑانا پڑتا ہے بھئی۔ جی، فریقِ ثانی میں کیا ترتیب ہوئی؟ سب سے پہلے کیا ہے؟ ابنٌ، یہ خود ہے۔ اس کے نیچے کیا ہے؟ صرف ابنٌ ہے؟ اچھا، ٹھیک ہے۔ اس سے نیچے؟ ابنٌ اور بنتٌ ہیں۔ لکیریں ملائی ہیں بھئی؟ اس سے نیچے؟ پھر ابنٌ اور بنتٌ ہیں۔ اور سب سے نیچے؟ شاباش بھئی۔ الفریق الثالث میں کتنے ابن ہیں؟ پانچ۔ سب سے نیچے؟ بنت۔ اس سب سے نیچے جو بنت ہے، اس سے اوپر والے جو دو ابن ہیں، ان کے ساتھ بھی بنت لکھ دیں۔ سب سے نیچے جو بنت ہے فریقِ ثالث میں، اس سے اوپر والے صرف دو... دو ابن ہیں، ان کے ساتھ بنت لکھ دیں۔ حاصل یہ ہوا کہ ہر فریق میں آخری تین پشتوں میں بیٹیاں ہیں۔ کتنے میں ہیں؟ تین پشتوں میں بیٹیاں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور فریقِ اول کے اندر ایک تو ابنٌ خود ہے، اس کے درمیان میں کوئی خالی ابن نہیں ہے۔ فریقِ ثانی میں ایک ابن بیچ میں خالی ہے جس کے ساتھ بنت نہیں ہے۔ اور فریقِ ثالث میں دو ابن ہیں جن کے ساتھ بنت نہیں ہے۔ اچھا، اب آپ دیکھیے! فریقِ اول میں اوپر تلے تین بیٹیاں ہیں، کس کے اندر؟ فریقِ اول میں۔ اوپر تلے تین بیٹیاں ہیں۔ تو جو ان میں سے اوپر والی ہے، یعنی فریقِ اول کے قریب ہے... یہ کس ابن کے ساتھ ہے؟ یعنی اس فریق کا جو بیٹا ہے، اس کے ساتھ لکھا ہے۔ اس بنت کے ساتھ لکھ لیں: العُلیَا، العُلیَا۔ یہ اوپر والی ہے۔ العُلیَا۔ نیچے والی کے ساتھ لکھ لیں: الوُسطَى۔ بھئی، تینوں میں آسان ہے۔ تینوں میں جو اوپر والی ہیں میّت کی جانب ہیں، ان سب کے ساتھ لکھ لو: العُلیَا۔ جو تینوں کے اندر سب سے نیچے والی ہے، اس کے ساتھ کیا لکھ لو؟ السُّفلَى۔ اور درمیان والیاں جو ہیں، ان کے ساتھ: الوُسطَى۔ العُلیَا کا معنی اوپر والی، الوُسطَى درمیان والی، اور السُّفلَى کا معنی نیچے والی۔ تو یہ تینوں کے اندر اوپر نیچے تین بیٹیاں ہیں۔ سب سے اوپر والی جو ہر ایک میں ہے، اس کے ساتھ لکھ لیں: العُلیَا، فریقِ اول میں بھی، ثانی میں بھی، ثالث میں۔ درمیان والی میں تینوں میں کیا لکھ لیں؟ الوُسطَى، فریقِ اول میں بھی، ثانی میں بھی اور ثالث میں۔ اور سب سے نیچے والی تینوں میں جو ہے، اس کے ساتھ السُّفلَى لکھیں، فریقِ اول میں بھی، فریقِ ثانی میں بھی اور فریقِ ثالث میں بھی۔ نقشہ صحیح طرح بنا لیا؟ اچھی طرح سمجھ لیا اس کو بھئی؟ اب یاد رکھنا، یہ جو ہیں، ان میں سے مذکر کوئی بھی زندہ نہیں بھئی۔ بٹا اور اس کے نیچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی تو یہ پوتی ہوئی میت کی پوتی ہوئی۔ اس کے نیچے والی کیا ہو گئی میت کی؟ پڑپوتی۔ اس کے نیچے والی؟ جی؟ پہلے سکڑ پوتی آتی ہے کہ لکڑ پوتی آتی ہے؟ چلو پہلے لکڑ پوتی کر لیں بھئی۔ فریق ثانی میں دیکھیے بھئی۔ ان فریق ثانی یہ ابن ہے اور کون سے ابن کے ساتھ آپ نے بنت لکھا؟ تو یہ دیکھیے میت کی کیا بنے گی بھئی؟ بیٹے کے بیٹے کی بیٹی۔ پڑپوتی بھئی۔ اور اس کے نیچے لکڑ پوتی، اس کے نیچے سکڑ پوتی۔ اچھا، اس کے بعد فریق ثالث میں دیکھیے یہ ابن کے نیچے یہ ابن، یہ بیٹا ہوا میت کا، اس کے نیچے پوتا، اس کے بعد پڑپوتا، اس کے بعد لکڑ پوتا۔ لکڑ پو یہ پہلی کیا ہوئی بنت؟ یہ لکڑ پوتی ہوئی۔ اس سے نیچے؟ چلو یہ سکڑ پوتی ہو گئی، اور اس سے نیچے بھی ایک بنت ہے بھئی۔ جی؟ وہ میرا خیال ہے پھر شاید چھکڑ پوتی بن جائے گی۔ تو یہ ترتیب ہے اب ان میں سے مذکر کوئی نہیں زندہ، صرف یہ بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں بھئی۔ اچھا، اب آئیے کتاب پر پہلے تھوڑے عبارت حل کر لیں، اور پھر اس کے بعد صورتِ مسئلہ بناتے ہیں۔ بھئی یہ نقشہ اپنے سامنے رکھیں، عبارت اسی سے حل ہوگی بھئی۔ دیکھیے بھئی۔ ولو ترک ثلاث بنات ابن اور اگر چھوڑا میت نے چھوڑی میت نے ثلاث بناتِ ابنِ، تین پوتیਆਂ آپ بناتِ ابنِ میں نے بتایا اس کا اطلاق سب اس میں آ جاتی ہیں پوتیاں، پڑپوتیاں وغیرہ نیچے تک بھئی۔ تو اے میت نے تین بناتِ ابنِ چھوڑیں، یعنی کہ ہاں ایک بیٹے کی تین بیٹیاں ہیں بعضهن أسفل من بعض اور ان میں سے بعض بعض کے نیچے ہیں تو یعنی ایک پوتی ہے دوسری پڑپوتی تیسری لکڑ پوتی۔ و ثلاث بنات ابنِ ابنِ آخر، اور تین بیٹے کے بیٹے کی بیٹیاں، بیٹے کا بیٹا پوتا، اس کی بیٹی پڑپوتی تو تین پڑپوتیاں چھوڑیں بعضهن و ابنِ آخر، دوسرے بیٹے کی، بعضهن أسفل من بعض، ان میں سے بعض بعض کے نیچے ہیں بھئی۔ یہ فریق ثانی کا بیان ہوا۔ و ثلاث بناتِ ابنِ ابنِ ابنِ آخر، اور تین جو ہیں بیٹے کے بیٹے کے بیٹے کی بیٹیاں چھوڑیں بھئی دوسرے بیٹے کی۔ یہ کیا بن جائے گا؟ بیٹے کے بیٹا پوتا اور اس کا بیٹا پڑپوتا اور اس کی بیٹی لکڑ پوتی۔ تین لکڑ پوتیاں بعضهن أسفل من بعض، ان میں سے بعض بعض کے نیچے ہیں بھئی۔ بهذه الصورة، اس صورت کے اندر بھئی یہ جو نقشہ بنا ہوا ہے۔ آپ نے وہ جو کاپی پہ بنایا اس پر نظر رکھیں اس میں ذرا آسان ہے۔ اب دیکھتے جائیے بھئی العلیا، بھئی سب سے العلیا فریقِ اول میں ذرا دیکھیں، اس کے برابر میں آگے فریقِ ثانی اور ثالث میں دیکھیں کوئی اور بیٹی ہے؟ نہیں۔ یہی کہہ رہے ہیں العلیا من الفریقِ الاولِ کہ علیا جو ہے فریقِ اول میں سے لا یوازیہا احد، کوئی ایک بھی اس کے برابر نہیں ہے بھئی۔ والوسطی من الفریقِ الاول، فریقِ اول کی ذرا وسطی پہ نظر رکھو، اس کے سامنے برابر میں فریقِ ثانی میں کوئی ہے؟ ہاں ایک ہے۔ کون سی؟ العلیا۔ اور فریقِ ثالث میں کوئی نہیں، یہی بات بیان کر رہے ہیں والوسطی من الفریقِ الاولِ جو وسطی ہے فریقِ اول میں سے توآزیها العلیا من الفریقِ ثانی، اس کے برابر میں ہے العلیا فریقِ ثانی میں سے، اس کے آگے اور کوئی نہیں ہے اس کو ذکر نہیں کیا،۔ اس کے بعد اب فریقِ اول پہ پھر آئیے، جو سفلی ہے اس کے مقابلے میں فریقِ ثانی میں کون ہے بھئی اس کے برابر؟ الوسطی۔ تو کہتے ہیں والسفلی من الفریقِ الاولِ جو سفلی ہے فریقِ اول میں سے توازیها الوسطی من الفریقِ ثانی، اس کے برابر میں ہے الوسطی فریقِ ثانی میں سے اور ثالث میں کیا ہے؟ العلیا ہے، والعلیا من الفریقِ ثالث یہی بیان کر رہے ہیں اور علیا ہے کس میں سے فریقِ ثالث میں سے۔ جی تو فریقِ اول کی تو یہ تین بیٹیاں، اب فریقِ ثانی میں جو کون رہ گئی؟ سفلی۔ تو کہتے ہیں والسفلی من الفریقِ ثانی، جو سب سے نیچے والی ہے فریقِ ثانی میں سے توازیها الوسطی من الفریقِ ثالث، اس کے مقابلے میں کون ہے؟ الوسطی ہے فریقِ ثالث میں سے۔ والسفلی من الفریقِ ثالثِ، اور جو نیچے والی ہے فریقِ ثالث کے اندر لا یوازیها احد، اس کے مقابلے میں کوئی بھی نہیں ہے۔ اب دیکھیے عبارت ہو گئی بھئی مسئلہ سمجھ میں آگیا۔ اب آپ بتائیے صورتِ مسئلہ بھئی۔ دیکھیں جو بیٹی کوئی ہے؟ بیٹی کوئی بھی نہیں ہے، تو میں نے آپ کو کل بتلایا تھا بیٹی نہ ہو تو پوتی اس کی جگہ ہوگی، اس کا وہی حکم۔ اور بیٹی ایک ہوتی تھی تو اس کا اور ساتھ بھئی وغیرہ کوئی نہیں، بیٹا یعنی کوئی نہیں تو اس کو کتنا دیتے تھے؟ نصف۔ تو لہٰذا یہ جو فریقِ اول میں علیا ہے، اس کو کیا دے دیں گے؟ نصف۔ یہی کہہ رہے ہیں واذا عرفت هذا، جب آپ نے یہ جان لیا فنقول ہم کہتے ہیں للعلیا من الفریقِ الاولِ النصف، کہ جو علیا ہے فریقِ اول میں سے اس کے لیے کیا ہے؟ نصف۔ کیونکہ یہ کس کے قائم مقام ہو گئی؟ حقیقی بیٹی کے قائم مقام ہو گئی جب وہ نہ ہو گئی۔ اب بیٹیوں کو ہم نے کتنا دینا ہوتا ہے؟ ثلثان، دو ثلث بھئی۔ نصف جا چکا صرف کتنا رہ گیا؟ ثلث سب دینا ہے۔ مثال سے میں نے وضاحت کی تھی کہ ثلث اور نصف مل کر دو ثلث کیسے بنتے ہیں چھ کے عدد کو دیکھ لیں۔ چھ کے عدد کا نصف کتنا ہے؟ تین، اور ثلث کتنا ہے؟ ایک، تو تین ایک بیٹی کو دے دیا جب، تو اب چھٹا حصہ ایک اور نیچے والی کو دے دیں گے تو یہ کتنے ہوگئے چار، اور چار چھ کا کیا ہے؟ ثلثان ہے۔ تو اس کو فریقِ اول کی جو علیا ہے اس کو نصف مل جائے گا وللوسطی، اچھا نیچے اس کے کیا تھی وسطی؟ اس کے برابر میں کوئی تھی؟ فریقِ ثانی کے علیا۔ ان دونوں کو ملا کر چھ، چھٹا حصہ دے دیں گے بھئی، اس کو چھٹے کو آپس میں آدھا آدھا تقسیم کر لیں گے بھئی، تو دو ثلث ہو گئے۔ اور اس سے نیچے والی محروم ہو جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں وللوسطی من الفریقِ الاولِ، اور جو وسطی ہے فریقِ اول میں سے مع من یوازیھا، ساتھ اس کے جو اس کے برابر میں ہیں کون برابر میں ہے؟ فریقِ ثانی کے علیا، ان دونوں کو ملا کر چھ، چھٹا حصہ دے دیں گے بھئی، اس کو چھٹے کو آپس میں آدھا آدھا تقسیم کر لیں گے بھئی، تو دو ثلث ہو گئے۔ اور اس سے نیچے والی محروم ہو جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں وللوسطی من الفریقِ الاولِ، اور جو وسطی ہے فریقِ اول میں سے مع من یوازیھا، ساتھ اس کے جو اس کے برابر میں ہیں کون برابر میں ہے؟ فریقِ ثانی کے علیا، ان کے لیے السدوس، ان کے لیے چھٹا حصہ ہوگا، کیوں چھٹا؟ تکمیلاً للثلثین، دو ثلث کو پورا کرنے کے لیے ولا شيء للسفلیاتِ، اور نیچے والیوں کے لیے کچھ بھی نہیں ہوگا الا ان یكون معهن غلامٌ، مگر یہ کہ ان کے ساتھ کوئی لڑکا آ جائے فیعصبھنہ، تو وہ لڑکا کیا کرے گا ان کو عصبہ بنا دے گا، کس کو عصبہ بنائے گا؟ بتلا رہے ہیں من كانت بحذائه، وہ جو اس کے برابر میں ہیں ان کو ومن كانت فوقه، اور وہ جو اس کے اوپر ہیں ممن لم تكن ذات سهم، ان میں سے جو کہ حصے والیاں نہیں ہیں جو محروم ہو رہی تھیں۔ بھئی کچھ کو تو حصہ مل گیا اور جو محروم لڑکا اپنے برابر والے کو تو عصبہ بنائے گا۔ اور لڑکا کیا کرے گا؟ عصبہ۔ بھئی اس کے برابر والی اگر ذوی الفروض میں بھی آ رہی تھی یہ اس کو ذوی الفروض سے نکال کر عصبہ بنا دے گا اب وہ ذوی الفروض میں سے نہیں رہے گی بلکہ کیا بن جائے گی؟ عصبہ، عصبہ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ لڑکے، مثلاً لڑکا آج دیکھیے فریقِ اول کی وسطی کو اور کیا دیا آپ نے؟ ثلث۔ اور اسی طرح فریقِ ثانی کی علیا، ان دونوں کو ثلث دیا۔ لیکن اگر ان کے برابر کوئی لڑکا آگیا تو وہ ان دونوں کو عصبہ بنا دے گا پھر ان کو ثلث نہیں ملے گا، بلکہ جو مال باقی بچ گیا اس کو ان دو لڑکیوں اور ایک لڑکے میں تقسیم کریں گے اس طریقے پر کہ لڑکے کو دگنا دیں گے یعنی دو لڑکیوں کے برابر حصہ، تو معلوم ہوا اوپر والی جو بیٹی تھی اس کو تو کیا دے دیا تھا؟ نصف، باقی نصف رہ گیا، اس نصف کے چار حصے کریں گے، ایک حصہ ایک بیٹی کو، ایک حصہ دوسری کو، اور دو حصے لڑکے کو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ تو دیکھو لڑکا وہ اپنے برابر والی کو عصبہ بنا دیتا ہے چاہے وہ ذوی الفروض میں سے ہی کیوں نہ ہو، اس کو نکال کر کدھر لے جائے گا؟ عصبہ۔ اگر یہ لڑکا نہ ہوتا تو ذوی الفروض میں تھیں یا نہیں بھئی یہ والی دو؟ ان کو ہم کتنا دے رہے تھے؟ ثلث دے رہے تھے۔ لڑکے کا کوئی حصہ مقرر نہیں جو مال باقی بچا وہ اس کے پاس آئے گا۔ لڑکے کا کوئی حصہ مقرر نہیں جو مال باقی بچا وہ اس کے پاس آئے گا۔ لیکن بیٹیوں کو ہم نے یہ کہا کہ جو مال بچے گا ان کو دے دینا ہے۔ ان کا باقاعدہ ایک حصہ مقرر ہے، وہ ذوی الفروض میں سے ہیں بھئی، سمجھ میں آئی بات؟ تو یہ معنی ان کا ایک ذوی الفروض کا باقاعدہ ایک حصہ مقرر ہوتا ہے کہ اتنا ان کو دینا ہے، اور جو سارا مال لے جاتا ہے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ عصبہ۔ تو اب یہ جو لڑکا نہ ہوتا تو پھر یہ جو فریقِ اول میں وسطی، اور فریقِ ثانی میں علیا ان کو ثلث دے رہے تھے لیکن اگر ان کے ساتھ برابر میں ایک لڑکا آگیا تو وہ اب وہ ذوی الفروض نہیں رہیں گی، ثلث ان کو نہیں ملے گا، ان کو وہ ذوی الفروض سے نکال کر کہاں لے جائے گا؟ عصبات کے اندر، اور اب باقی جتنا مال بچا ہوگا اوپر سے وہ سارا مال ان کے درمیان للذکر مثلُ حظِ الانثیین کے طریقے پر تقسیم ہوگا۔ اور اگر لڑکا اور نیچے آیا، یہ سب سے اوپر والی کو نصف، اس سے نیچے والیوں کو ثلث۔ ثلث مل گیا۔ اس کے نیچے والیاں ساری محروم تھیں۔ لیکن نیچے کیا آگیا ایک؟ لڑکا آگیا، تو جو باقی بچے گا وہ اب اس لڑکے کو، نیچے والیاں پہلے محروم ہو رہی تھیں، لیکن اب وہ لڑکے کے برابر میں آگئیں وہ کیا بن جائیں گی؟ عصبہ، تو جو مال باقی بچ گیا، یعنی نصف ملا تھا سب سے اوپر والی فریقِ اول میں جو تھی، اور ثلث کن کو ملا تھا؟ فریقِ اول کی وسطی، اور فریقِ ثانی کی علیا، ان کو چھٹا دے دیا، کتنے حصے چلے گئے؟ چار، دو ثلث، یعنی چار چلے گئے، دو حصے رہ گئے بھئی، تو یہ دو اب لڑکا کیا کرے گا؟ یہ لڑکا اور اس کے برابر والیوں میں اسی طرح للذکر مثلُ حظِ الانثیین کے طریقے پر تقسیم ہو جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر لڑکا ان سے بھی نیچے ہوا، سب سے اوپر والیوں کو کیا ملا؟ نصف۔ اس سے نیچے والیوں کو ثلث۔ اس کے نیچے ساری محروم تھیں۔ مسًن فرض کریں اس کے نیچے دو تین نسلیں ہیں بھئی، کتنی نسلیں ہیں؟ تین نسلیں۔ سب سے نچلی نسل میں لڑکا آیا بھئی، تو لڑکا کیا کرتا ہے اپنے برابر میں تو ذوی الفروض کو بھی وہ کیا بنا دیتا ہے؟ عصبہ۔ لیکن اگر اس کے برابر میں اوپر والیاں ہیں اوپر والیاں، پھر ان میں کوئی رد و بدل نہیں کرے گا صرف اتنا کرے گا کہ جو محروم ہو رہی تھیں ان کو عصبہ بنائے گا ذوی الفروض کو پھر وہ کچھ نہیں کر سکتا۔ معلوم ہوا جن کو پہلے نصف ملا ہے یا ثلث ملا ہے ان پہ کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اب صرف کن کن کو حصہ ملے گا؟ جو لڑکے کے برابر میں ہیں یا اس سے اوپر جو محروم ہو رہی ہیں۔ لڑکے کے اوپر تو بھئی ایک کو نصف ہی ملا تھا کچھ کو ثلث بھی ملا تھا اور کچھ کیا ہو رہی تھیں؟ محروم۔ تو صرف کن کو عصبہ بنائے گا؟ اوپر والیوں میں صرف جو محروم ہیں صرف ان کو عصبہ بنائے گا، جو ذوی الفروض میں سے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا۔ یہی بات کر رہے ہیں کہ فیسهبھنہ، پس وہ لڑکا جو ہے وہ ان کو عصبہ بنا دے گا من كانت بحذائه، وہ جو اس کے برابر میں ہیں ومن كانت فوقه، اور وہ جو اس کے اوپر ہیں ممن لم تكن ذات سهمٍ، ان میں سے کہ جو کہ حصے والیاں نہیں ہیں جو حصے والے نہیں ہیں جو محروم ہو رہی ہیں اور وہ کیا کر دے گا ان کے علاوہ کو ساقط کر دے گا (یعنی جو اس کے نیچے ہیں بھئی) صورت سمجھ میں آگئی؟ اب دیکھیے بھئی، ذرا نقشے پہ پھر ذرا اور تھوڑی وضاحت ہو جائے اگرچہ مسئلہ آپ سمجھ چکے ہیں بھئی۔ بھئی لڑکا آیا کہاں پر؟ محروم کون؟ نقشہ مجھے دیں بھئی کتاب میں واضح نہیں ہوتا ایک کتاب جو میں نے بنا بنوایا ہے بھئی نقشہ، جو میں نے کاپی پہ بنوایا وہ نقشہ دیں۔ اچھا ہاں اس نقشے میں یہ بھی تو کریں جیسے پہلے فریقِ اول میں آپ نے ابن سے دو لکیریں کھینچ کر ابن اور بنت کو ملایا تھا، اسی طرح ہر ابن کو اپنے سے نیچے والے ابن اور بنت کے ساتھ لکیر کے ذریعے ملا دیں بھئی۔ ہر ایک کو ملا دیں بھئی۔ آخری کے نیچے صرف بنت ہے صرف اس کو ملائیں، تو اب دیکھیے بھئی، مثلاً یہ جو فریقِ ثانی جو ہے، اس کے سب سے نیچے جو بنت لکھی ہے اس کے ساتھ کیا آ جائے؟ ابن بھی آ جائے، بیٹا بھی آ جائے تو اب کیا ہوگا؟ سب سے اوپر والی جو فریقِ اول میں علیا تھی اس کو کتنا دیا تھا؟ نصف۔ نصف۔ اس کے بعد فریقِ اول کی وسطی اور فریقِ ثانی کی علیا، ان کو کیا دیا تھا؟ ثلث۔ ثلث دیا تھا؟ اور باقی محروم ہو رہی تھیں لیکن اب نیچے لڑکا آیا تو لڑکا اپنے برابر والوں کو بھی عصبہ کر دے گا، یعنی کس کس کو کرے گا؟ اپنے برابر میں اس کے کون ہے؟ فریقِ ثانی کی سُفْلٰی۔ بھئی میں نے لڑکا کہاں لکھوایا؟ فریقِ ثانی کی سُفْلٰی کے ساتھ لکھوایا ہے نا؟ تو وہ اپنے برابر والی کو عصبہ پہلے اس کو دیکھیں۔ اس کے برابر میں کیا ہے فریقِ ثانی کی سُفْلٰی اور فریقِ ثالث کی وُسْطٰی۔ اور اوپر کون کون محروم ہو رہی ہیں؟ فریقِ اول کی سُفْلٰی اور فریقِ ثانی کی وُسْطٰی اور فریقِ ثالث کی علیا۔ ان ساروں کو کیا بنا دے گا؟ عصبہ۔ عصبہ بنا دے گا۔ اور نیچے والی جو تھی، یعنی فریقِ ثالث کے اندر جو سُفْلٰی تھی، وہ نیچے ہے تو وہ محروم رہے گی۔ اچھی طرح مسئلہ سب کو سمجھ آگیا؟ جی۔ تو یہ ہے مسئلہ تشبیہ بھئی۔ چلیے پھر بس کریں بھئی بس، ھٰذا۔
92 approved lectures · 13 of 92