والجد الصحيح كالأب إلا في أربع مسائل وسنذكرها في مواضعها إن شاء الله تعالى، ويسقط الجد بالأب لأن الأب أصل في قرابة الجد إلى الميت.
بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مقررہ حصے جو ہیں وہ چھ ہیں؛ نصف، ربع، ثمن، اور ثلثان، ثلث اور سدس۔ اور ان میں جو تعلق ہے وہ تضاعف و تنصیف والا ہے یعنی چھوٹے حصے کو دگنا کریں تو اوپر بڑا حصہ بن جائے گا، اور اس کو دگنا کریں تو اس سے اوپر والا حصہ بن جائے گا، اور یا اسی طرح اوپر والے حصے کو آدھا کریں تو نیچے والا چھوٹا حصہ بن جائے گا اور اس کو آدھا کریں تو اس سے نیچے والا حصہ بن جائے گا۔
اور پھر بتلایا تھا کہ یہ حصوں والے 12 افراد ہیں، چار مرد ہیں اور آٹھ عورتیں ہیں بھئی۔ اور وہ چار مرد کون کون سے تھے؟ ذکر ہوا تھا کہ والد ہے، اور دادا ہے، اور اخیافی بھئی ہے، اور شوہر ہے۔
اور آٹھ عورتیں ذکر ہوئیں تھیں، وہ آٹھ عورتیں ان میں پہلے نمبر پر کس کا ذکر ہوا؟ بیوی کا، اور اس کے بعد بیٹی اور پوتی یا نیچے تک بھئی پڑپوتی وغیرہ، اور اس کے بعد سگی بہن، اس کے بعد علاتی بہن، اخیافی بہن، اور اخیافی بہن، اور جدہ ام، اور جدہ صحیحہ بھئی۔
اور جدہ صحیحہ کس کو کہتے تھے؟ کہ میت کی طرف نسبت کرنے میں درمیان میں جد فاسد کا واسطہ نہ آئے تو وہ ہے جدہ صحیحہ۔ معلوم ہوا نانا کی ماں جو ہے وہ کیا ہے؟ جدہ فاسدہ کیونکہ درمیان میں کس کا واسطہ آیا؟ نانا کا واسطہ آیا۔
اس کے بعد آپ نے باپ کے احوال پڑھے تھے کہ باپ کے تین احوال ہیں؛ کبھی کبھار اسے صرف وہ جو مقررہ حصہ ہے وہ ملتا ہے، بعض اوقات اسے مقررہ حصہ بھی ملتا ہے اور ساتھ ساتھ وہ عصبہ بھی بنتا ہے، اور بعض اوقات وہ صرف کیا بنتا ہے؟ عصبہ بنتا ہے۔
مقررہ حصہ۔ (رحمہ اللہ) مقررہ حصہ یعنی سدس اس کو صرف اس وقت ملے گا جبکہ میت کا بیٹا یا پوتا یا پڑپوتا موجود ہو، تو اس وقت صرف باپ کو مقررہ چھٹا حصہ ملے گا اس لیے کیونکہ وہ بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ جو ہے وہ عصبہ بن جائے گا۔
وہ کیا بن جائے گا؟ عصبہ بنے گا، تو باپ پھر صرف ذوی الفروض میں سے رہا، اس کو اس کو مقررہ حصہ ملے گا۔
اور اگر بیٹا، پوتا، پڑپوتا وغیرہ ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے، ہاں ایک بیٹی ہے یا پوتی ہے یا پڑپوتی ہے، تو اس صورت میں باپ کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور یہ عصبہ کیونکہ قریبی عصبہ جو تھا وہ بیٹا پوتا وغیرہ جو میت کا جز تھے وہ تو موجود نہیں ہے تو اس کے بعد عصبہ میں درجہ کس کا رکھا اللہ تعالی نے؟ باپ کا ہے۔
لذا باپ کو اب ملے گا حصہ، باپ عصبہ بھی بن جائے گا، چھٹا حصہ بھی ملے گا اور بیٹی کا حصہ دینے کے بعد جو مال باقی بچے گا وہ کس کو مل جائے گا؟ باپ کو مل جائے گا۔
مثال کے طور پر بھئی ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی ایک بیٹی ہے اور اس شخص کا والد زندہ ہے، تو تقسیم کس طرح کریں گے؟ باپ کو ہم نے دینا ہے سدس اور بیٹی کے حصے آگے آئیں گے وہ اکیلی ہو تو اسے نصف ملتا ہے، تو سدس دینا ہے تو سدس دینے کے لیے مال کے کتنے حصے کر لیں گے؟ چھ۔
چھ میں سے ایک حصہ باپ کا حصہ سدس، بیٹی کا حصہ نصف، نصف چھ کا کتنا؟ تین، وہ دے دیں گے بیٹی کو، اور سدس کتنا؟ ایک، وہ مل جائے گا باپ کو، اور پھر باقی کتنے حصے رہ گئے؟ دو، دو حصے وہ بھی باپ کو عصبہ ہونے کی وجہ سے مل جائیں گے بھئی، تو باپ کو بھی گویا تین حصے مل گئے اور بیٹی کو بھی تین یعنی آدھا آدھا مال تقسیم ہو جائے گا۔
جی۔ اور اگر مرنے والے کی کوئی اولاد یا بیٹے کی اولاد یا پوتے کی اولاد کوئی بھی نہ ہو، تو پھر اس صورت کے اندر باپ عصبہ بنے گا اور باقی وارثوں کو ذوی الفروض کو ان کا مقررہ حصہ ملنے کے بعد جو کچھ باقی بچے گا وہ سارا کس کا؟ وہ باپ کا ہو جائے گا بھئی اور اگر ذوی الفروض میں سے اور کوئی بھی نہیں ہے تو پھر باپ سارے مال کا مالک بن جائے گا بھئی، سارے مال کا۔
اب آپ مجھے صورت بتائیے! ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے والد اس کا والد بھی زندہ ہے مرنے والے کا اور اس کا ایک بیٹا ہے یا یوں ہاں ایک بیٹا ہے اور ایک بیٹی ہے۔
اب کیا کریں گے؟ باپ کو چھ، پہلی صورت، دوسری، تیسری کیا کریں گے بھئی؟ پہلی صورت کہ بیٹا ہو تو باپ کو کتنا ملتا ہے؟ چھٹا حصہ۔ اور اگر بیٹی ہو تو تب کتنا ملتا ہے؟ سدس چھٹا حصہ بھی ملتا ہے اور عصبہ بھی۔ تو بیٹے کی طرف دیکھیں تو اس کو باپ کو صرف کیا ملنا چاہیے؟ سدس۔ بیٹی کی طرف دیکھیں تو کیا ملنا چاہیے؟ چھٹا حصہ بھی اور عصبہ بھی۔ اب آپ کیا فتویٰ دیں گے بھئی؟
ہاں شاباش! بھئی خود غور کر لیں، بیٹی کے جب بیٹی تھی، تو میت کا کوئی مذکر کوئی مذکر اولاد نہیں تھی، وہ ہوتی تو اس نے عصبہ بننا تھا لیکن وہ نہیں تھی تو اب عصبہ کون بنتا؟ وہ باپ بن جاتا ہے، لیکن یہاں پر میت کا بیٹا موجود ہے تو وہ عصبہ بن رہا ہے لہذا باپ عصبہ تو نہیں بن سکتا، معلوم ہوا صرف کون سا حصہ ملے گا؟ سدس، عصبہ وہ نہیں بن سکتا بھئی۔
تو چھٹا حصہ مل جائے گا والد کو اور بیٹی کو؟ ہاں بھئی, جو ہے وہ اپنے برابر والے کو عصبہ بنا دیتا ہے یعنی بہن کو تو جب اس کو عصبہ بنا دیا تو اب تقسیم کس طرح ہوگی؟ للذکر مثل حظ الانثيين کہ مذکر کو دو عورتوں کے مثل حصہ ملے گا بھئی، دومن۔ تو اب جو باقی بچے گا اس کے تین حصے کر دیں گے اور اس میں سے دو حصے بیٹے کے اور ایک حصہ بیٹی کا بھئی۔
تو یہ سارے احوال آپ کے ہر وقت ذہن میں ہوں گے تو مسائل حل کر سکیں گے، ان کو ساتھ ساتھ خوب پختہ کرتے جاؤ بھئی! تھوڑی محنت نہیں۔ تھوڑی تھوڑی صورتیں پڑھیں گے، لیکن اس کو ذرا خوب پکا کرتے رہیں آپ بھئی۔
جی آگے دیکھیے! والجد الصحيح كالأب اور جد صحیح جو ہے وہ کالب وہ کس کی طرح ہے؟ باپ کی طرح یعنی جو تین صورتیں باپ میں بنتی تھیں وہی تین صورتیں یہاں دادا میں بھی بنیں گی إلا في أربع مسائل مگر چار مسئلوں کے اندر بھئی۔ چار مسئلوں میں ذرا صورت مختلف ہوگی وسنذكرها في مواضعها إن شاء الله تعالى اور قریب ہم ان چار مسائل کو ذکر کریں گے ان کی جگہوں کے اندر ان شاء اللہ تعالیٰ۔ ويسقط الجد بالأب جی یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہوا، دادا زندہ ہے اور ساتھ والد بھی زندہ ہے تو اب دادا کو کچھ نہیں ملے گا، صرف باپ کو حصہ ملے گا بھئی۔
کیونکہ دادا کا رشتہ میت کے ساتھ کس نے جوڑا؟ باپ نے۔ تو باپ ہوا واسطہ اور دادا ہوا ذو الواسطہ، واسطے والا۔ دادا کیا ہوا؟ دادا خود واسطہ ہے یا واسطے والا ہے؟ واسطے والا ہے۔ واسطے والا ہے یعنی واسطے سے اس کا رشتہ جڑ رہا ہے میت سے۔
اور قانون ہے کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم ہوتا ہے۔ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ محروم یعنی قریب والے کے ہوتے ہوئے دور والا محروم ہوگا بھئی۔ تو جب باپ اصل موجود ہے تو اس کو حصہ مل جائے گا صورت کے مطابق اور دادا کو کچھ نہیں ملے گا۔
دادا کو صرف اس وقت ملے گا جب باپ موجود نہ ہو بھئی، جب باپ موجود نہ ہو۔
تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں ويسقط الجد بالأب اور ساقط ہو جائے گا دادا باپ کی وجہ سے لان الأب أصل في قرابة الجد إلى الميت اس لیے کیونکہ باپ اصل ہے فی قرابة الجد دادا کی رشتہ داری کے اندر الی المیت میت کی طرف۔ میت کی طرف جو دادا کی رشتہ داری ہے، اس میں باپ اصل ہے، واسطہ ہے۔
اب لفظ آیا جد صحیح بھئی اوپر، جد صحیح کی یہی باپ کی طرح ہوتا ہے، تو بتلا رہے ہیں جد صحیح کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں والجد الصحيح هو الذي لا تدخل في نسبته إلى الميت أم جد صحیح وہ ہے کہ داخل نہ ہو فی نسبته اس کی نسبت کرنے میں الی المیت میت کی طرف ام، ماں۔ درمیان میں کوئی ماں یعنی عورت کا واسطہ نہ آئے بھئی۔
تو اوپر کی طرف جو اصول ہیں، جو اصول ہیں جہاں بھی درمیان میں عورت کا واسطہ آئے گا تو سمجھ لینا یہ جد فاسد ہے اور اگر درمیان میں عورت کا واسطہ نہیں تو وہ جد صحیح ہے۔
اب آپ مجھے بتائیے! نانا جد صحیح ہے یا جد فاسد ہے؟ صحیح ہے۔ صحیح ہے کیونکہ میت کے ساتھ رشتہ کس کے واسطے سے ہے؟ باپ کے واسطے سے یعنی مرد کے واسطے سے ہے بیچ میں عورت نہیں۔
اور نانا جو ہے وہ جد فاسد کیونکہ واسطہ کس کا آیا؟ ماں کا۔
अच्छा بھئی باپ اس کی میت کے باپ کی نانی جد صحیح ہے یا جد نانی نہیں نانا میت کے باپ کا نانا جد صحیح ہے یا جد فاسد؟ جد فاسد اگرچہ یہاں بیچ میں باپ آ رہا ہے لیکن باپ سے اوپر پھر کون ہے درمیان میں عورت ہے دادی کا درمیان میں رشتہ آ گیا تو لہذا وہ جو ہے باپ کا جو نانا ہوا وہ کیا ہے جد فاسد۔
تو کہتے ہیں والجد الصحيح هو الذي لا تدخل في نسبته الى الميت أم جد صحیح وہ ہے کہ داخل نہ ہو اس کی میت کی طرف نسبت کرنے میں أم ماں کوئی ماں و أما لأولاد الأم فاحوال ثلاث اور باقی اولاد ام جو ہے اولاد ام اخیافی اولاد کا لفظ آیا میں نے بتلایا تھا ولد کا لفظ مذکر اور مؤنث دونوں پر بولا جاتا ہے تو اولاد ام میں مذکر بھی داخل اور مؤنث بھی یعنی اخیافی اخیافی بہن بھئی ہوئی اخیافی ان کے احوال ذکر کرنے لگے ہیں کہتے ہیں ان کے فاحوال ثلاث ان کے تین احوال ہیں السدس للواحد اگر ان میں سے کوئی ایک ہو چاہے اخیافی بھئی ہو چاہے اخیافی بہن اس کو کتنا حصہ ملے گا؟ سدس چھٹا حصہ لیکن آخر میں جا کر ذکر کر رہے ہیں ایک سطر بعد ويسقطون بالولد یہ ساقط ہو جائیں گے کس کی وجہ سے؟ میت کی اولاد کی وجہ سے اگر میت کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہوا تو پھر یہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط یہ اخیافی بہن بھائیوں کو پھر کچھ نہیں ملے گا
و ولد الابن اور اسی طرح میت کے بیٹے کی جو اولاد ہے یعنی پوتا پوتی اس کی وجہ سے بھی کیا ہو جائیں گے؟ ساقط وان سفلا اگرچہ نیچے تک ہوں اگر پڑپوتا یا پڑپوتی میں سے بھی کوئی ہوا میت کا تو بھی اخیافی بھئی بہن کیا ہو جائیں گے؟ ساقط و بالاب اور باپ کی وجہ سے بھی یہ کیا ہو جائیں گے؟ ساقط والجد اور دادا کے ذریعے بھی بالاتفاق بھئی تو ان سب کے ذریعے بالاتفاق یہ ساقط ہو جائیں گے۔
تو پہلی صورت ذکر کر رہے ہیں کہ اخیافی بہن بھائیوں کو سدس ملے گا للواحد سدس سدس ملے گا للواحد جب وہ کتنے ہوں؟ ایک ہوں ایک اخیافی بھئی ہے بس بہن کوئی نہیں یا صرف ایک اخیافی بہن ہے بھئی کوئی نہیں اور وہ شرط بھی ساتھ لگانا میت کے بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی، پڑپوتا یا پڑپوتی میں سے بھی کوئی نہ ہو اور میت کا باپ بھی نہ ہو اور دادا بھی نہ ہو تو اس صورت میں ایک اخیافی بھئی ہے یا ایک اخیافی بہن ہے تو اسے چھٹا حصہ مل جائے گا۔
والثلث للاثنين فصاعدا اور ثلث ملے گا دو یا زیادہ کے لیے دو یا اس سے زیادہ اگر اخیافی بھئی بہن دو ہیں، دو اخیافی بھئی ہیں یا دو اخیافی بہنیں ہیں یا ایک اخیافی بھئی ہے اور ایک اخیافی بہن تو یہ دو ہو گئے تو جو بھی صورت ہو جائے دو ہوں یا دو سے زیادہ ہوں تو پھر اس صورت میں ان کو سدس نہیں ملے گا بلکہ ثلث اب حصہ بڑھ گیا ثلث دوگنا ہے سدس سے تو اب حصہ زیادہ ملے گا لیکن شرط وہی ہے کہ میت کا بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی، پڑپوتا یا پڑپوتی، باپ یا دادا میں سے کوئی زندہ نہ ہو
آگے ذکر کر رہے ہیں وذکورهم و إناثهم في القسمة والاستحقاق سواء ان کے مذکر اور ان کے مؤنث تقسیم کے اندر اور استحقاق کے اندر برابر ہیں۔ بھئی ویسے تو ضابطہ یہ ہے للذكر مثل حظ الانثيين کہ مذکر کو مؤنث سے دگنا حصہ ملتا ہے لیکن یہاں پر اخیافی بھئی بہن جو ہیں وہ حصے کے تقسیم میں اور استحقاق میں برابر ہیں یعنی مال ان کو میں برابر تقسیم ہوگا مال کیا ہوگا ان میں یہاں ایسا نہیں کریں گے کہ اخیافی بھئی کو اخیافی بہن سے آپ دگنا دے دیں نہیں بلکہ برابر برابر بھئی جتنا حصہ اخیافی بھئی کو اتنا ہی حصہ اخیافی بہن کو یہاں مذکر اور مؤنث برابر ہیں بھئی برابر ہیں۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو اگر ایک اخیافی بھئی یا بہن ہو اور میت کے اصول و فروع میں سے کوئی نہیں تو کتنا ملے گا؟ سدس چھٹا حصہ اور اگر دو یا تین یا چار یا پانچ ہیں تو پھر انہیں اسی حالت کے اندر جب اصول و فروع میت کے نہ ہوں تو انہیں کتنا ملے گا؟ ثلث اور اس ثلث کو پھر وہ آپس میں تقسیم کر لیں گے بھئی اسی ثلث کو آپس میں کیا کر لیں گے؟ تقسیم کر لیں گے جتنا جس کے حصے میں بن گیا بھئی
تو کہتے ہیں وذکورهم و إناثهم في القسمة والاستحقاق سواء سواء ان کے مذکر اور ان کے مؤنث جو ہیں تقسیم کے اندر اور مستحق ہونے کے اندر برابر ہیں ويسقطون بالولد وولد الابن وان سفلا اور یہ ساقط ہو جائیں گے اولاد کی وجہ سے بھی اور اب بیٹے کی اولاد کی وجہ سے بھی اگرچہ نیچے تک ہو و بالاب باپ کی وجہ سے بھی اور دادا کی وجہ سے بھی بالاتفاق بھئی یعنی بالاتفاق ان میں سے اولاد یا بیٹے کی اولاد یا پوتے کی اولاد یا باپ یا دادا ان کی وجہ سے بالاتفاق یہ ساقط ہو جائیں گے۔
و أما للزوج فحالان باقی خاوند جو ہے اس کی دو حالتیں ہیں النصف عند عدم الولد و ولد الابن وان سفلا یاد رکھیے خاوند کے خاوند کو جو ہے بعض صورتوں کے اندر نصف مال ملتا ہے اور بعض صورتوں کے اندر ربع ملتا ہے چوتھا حصہ مثلاً بیوی کا انتقال ہوا اور اس کی کوئی اولاد یعنی بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، پڑپوتا پڑپوتی وغیرہ نہیں ہے تو پھر اس صورت میں خاوند کو نصف مال مل جائے گا اور اگر اس کے کوئی اولاد ہوئے چاہے بیٹا ہو بیٹی ہو پوتا ہو پوتی ہو پڑپوتا ہو یا پڑپوتی ہو تو پھر اس صورت میں خاوند کو چوتھا حصہ ملے گا اولاد نہ ہو تو نصف اور اگر اولاد ہو تو ربع یعنی چوتھا حصہ تو کہتے ہیں و أما للزوج فحالان باقی خاوند جو ہے اس کی دو حالتیں ہیں النصف عند عدم الولد و ولد الابن وان سفلا اور نصف جبکہ اولاد نہ ہو میت کی و ولد الابن اور بیٹے کی اولاد نہ ہو وان سفلا اگرچہ نیچے تک بھئی۔ و الربع اور چوتھا حصہ ملے گا مع الولد ساتھ اولاد کے یعنی وہ مرنے والی جو عورت ہے اس کی اولاد ہے بیٹا یا بیٹی أو ولد الابن یا اس کے بیٹے کی اولاد یعنی پوتا پوتی وغیرہ وان سفلا اگرچہ اگرچہ نیچے تک ہو بھئی پڑپوتی پڑپوتا وغیرہ۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اب چاروں کے حصے ہو گئے ذرا دہرالیں بھئی ان کو جس قدر ہو سکے دہراتے رہو یہ سب سے یہ حالتیں آپ کو اچھی طرح یاد ہو گئی تو پھر کوئی مشکل آگے انشاءاللہ نہیں رہے گی بھئی۔
جی باپ کی کتنی حالتیں ہیں؟ تین حالتیں ہیں۔ پہلی حالت فرض مطلق ملے گا چھٹا حصہ یہ کس وقت ملے گا؟ میت کا بیٹا ہو یا پوتا ہو یا پڑپوتا ہو نواتے نواتے کی طرف نہیں جانا بھئی وہ بیٹے کی اولاد ہے ان کا اعتبار نہیں ہے بھئی تو بیٹے کے اولاد بیٹا یا بیٹے کی اولاد یا بیٹے کے بیٹے کی اولاد یعنی بیٹا پوتا پوتا پوتی پڑپوتا پڑپوتی تو اس صورت میں یہ عصبہ بن جائیں گے ان میں سے جو مذکر ہے بیٹا پوتا اور پڑپوتا وغیرہ یہ عصبہ بن جائیں گے اور باپ کو صرف کتنا ملے گا؟ چھٹا حصہ۔ دوسری صورت مذکر اور کوئی نہیں اولاد میں سے بیٹا بھی نہیں پوتا بھی نہیں پڑپوتا بھی نہیں بھئی تو پھر اس صورت میں باپ کو کیا ملے گا؟ فرض ہی ملے گا اور وہ عصبہ بھی بنے گا جسے انہوں نے فرض تعسی تعبیر کیا۔ اور تیسری صورت کہ میت کی کوئی اولاد ہی نہیں یعنی بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی پڑپوتا پڑپوتی کوئی بھی نہیں تو پھر عصبہ کون بن جائے گا؟ باپ عصبہ بن جائے گا بھئی اور باقیوں کو حصہ دے کر جو مال بچے گا وہ مالک اس کا بن جائے گا۔
دوسرے دادا کی بھی یہی تین حالتیں ہیں کہتے ہیں البتہ چار مسائل میں کچھ مختلف ہے وہ آگے آ جائیں گے اپنے اپنے مقام پر اور اس کے بعد اخیافی بہن بھئی جو ہیں ان کی کتنی حالتیں؟ تین حالتیں ہیں ان کی بھئی اگر اخیافی بہن بھائیوں میں سے کوئی ایک ہو صرف اور میت کی اولاد یا آگے یعنی بیٹے کی اولاد یا پوتے کی اولاد یہ یوں کہیں میت کا کوئی بیٹا بیٹی بھی نہیں پوتا پوتی بھی نہیں پڑپوتا پڑپوتی بھی نہیں اور ساتھ میت کا باپ بھی نہیں اور دادا بھی نہیں تو اور اخیافی بھئی صرف ایک ہے یا اخیافی بہن صرف ایک ہے تو کتنا مل جائے گا؟ سدس چھٹا حصہ۔ اور اگر اسی حالت میں جب کہ مذکورہ جو ذکر ہوئے وہ نہ ہوں اور اخیافی بھئی بہن دو یا تین یا چار ہیں تو اب سدس نہیں دیں گے بلکہ کتنا دیں گے؟ ثلث دے دیں گے تیسرا حصہ دے دیں گے جسے واپس میں تقسیم کر لیں گے برابر برابر بھئی مذکر مؤنث یہاں برابر ہیں۔ اور تیسری حالت کیا ہے؟ کہ یہ محروم ہو جائیں گے کچھ بھی نہیں ملے گا جبکہ میت کا بیٹا بیٹی، پوتا پوتی، پڑپوتا پڑپوتی یا باپ یا دادا میں سے کوئی بھی موجود ہو تو یہ کیا ہو جائیں گے؟ محروم ہو جائیں گے انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ اس کے بعد خاوند کی کتنی حالتیں پڑھیں؟ دو حالتیں کبھی خاوند کو نصف ملتا ہے اور کبھی ربع نصف کب ملے گا؟ جب بیٹا بیٹی، پوتا پوتی اور پڑپوتا پڑپوتی ان میں سے کوئی نہ ہو اور اگر ان میں سے کوئی ہو تو پھر کتنا ملے گا؟ پھر ربع یعنی چوتھا حصہ ملے گا۔
بات سب کو سمجھ میں اچھی طرح آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ہالا والبرع واللہ اعلم بحقيقة الكلام