Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-010

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 31
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
باب معرفۃ الفروض ومستحقیہا۔ یہ باب ہے، ہذا باب معرفۃ الفروض۔ یہ باب ہے، فروض کی معرفت یعنی حصوں کی پہچان کے بارے میں، ومستحقیہا، نون اضافت سے گر گیا، مستحقین تھا بھئی۔ اور ان حصوں کے جو مستحقین ہیں یہ باب حصوں اور ان کے مستحقین کی پہچان کے بارے میں ہے بھئی۔ اس میں حصے بیان ہوں گے اور جو ان حصوں کے مستحق ہیں ان کی، ان کا بیان آئے گا بھئی۔ کہتے ہیں الفروض المقدرۃ فی کتاب اللہ تعالی ستۃ، وہ حصے جو مقرر ہیں اللہ تعالی کی کتاب میں، ستۃ چھ ہیں۔ جی یہ میں پہلے لکھوا چکا ہوں آپ کو۔ النصف والربع والثلث والثلثان والثلث والسدس، نصف ہے یعنی آدھا، والربع اور چوتھا حصہ، والثلث اور آٹھواں حصہ، والثلثان اور دو تہائی، دو تین میں سے دو حصے، دو تہائی، والثلث اور ایک حصہ، اور تہائی تیسرا حصہ، والسدس اور چھٹا حصہ علی التضعیف والتنصیف، تضعیف اور تنصیف کے طریقے پر۔ تضعیف کا معنی دگنا کرنا، اور تنصیف کا معنی آدھا کرنا، دگنا کرنے اور آدھا کرنے کے طریقے پر۔ بھئی دیکھیے، چھ حصے بیان ہوئے، چھ حصے، نصف، ربع، ثمن، اور ثلثان، ثلث، اور سدس، یہ چھ حصے، انہی میں سے ان کی یہ اس طرح ہے کہ باب کو دگنا کریں تو اگلا حصہ، دوسرا حصہ بن جاتا ہے، اس کو دگنا کریں تو اس سے اوپر والا حصہ بن جاتا ہے، اوپر والے کو آدھا کریں تو نیچے والا حصہ بن گیا، اس کو آدھا کریں تو نیچے والا۔ مثلاً دیکھیے، آٹھ آٹھ بھئی، آٹھ کا آٹھواں حصہ، آٹھ حصے کریں تو ایک پہ کتنا آئے گا؟ ایک آ جائے گا۔ آٹھ کے کتنے حصے کریں؟ آٹھ، آٹھ تو یہ ایک جو ہے، یہ آٹھ کا کیا ہے؟ آٹھواں یعنی سمن ہے، سمن۔ اچھا، آٹھ کے ذرا چار حصے کرو، تو ایک حصے میں کتنے آئیں گے؟ دو، تو یہ دو جو ہے یہ آٹھ کا چوتھا حصہ ہے، ربع۔ اچھا، آٹھ کو آدھا کریں ذرا، چار، تو آدھا چار آئے گا ایک حصے کے اندر، تو یہ چار جو ہے آٹھ کا نصف ہے بھئی نصف۔ اب آٹھواں حصہ کیا ہوا؟ ایک اور چوتھا حصہ کیا ہوا؟ دو اور آدھا حصہ چار، اچھا، اب سب سے چھوٹا حصہ کون سا ہے؟ ایک یعنی آٹھواں حصہ ایک ہے، اس ایک کو دگنا کریں ذرا، دو، یہ کیا بن گیا؟ ربع، چوتھا حصہ بن گیا، اس دو کو پھر دگنا کریں، چار بن گیا، اور چار کیا ہے؟ نصف ہے، تو آدھا بن گیا بھئی، تو دیکھو، اور پھر تو یہ تھا دگنا کرنا، اب ذرا آدھا آدھا کریں، سب سے بڑا حصہ کون سا ہے؟ نصف یعنی چار، اس چار کو آدھا کریں، کتنا رہ گیا؟ دو، اور یہ دو آٹھ کا کیا ہے؟ چوتھا حصہ ربع ہے، دیکھو بھئی دوسرا حصہ بن گیا، اور اس دو کو پھر آدھا کریں، ایک رہ گیا جو کہ کیا ہے؟ سمن ہے آٹھواں حصہ ہے بھئی، سمجھ تو یہ جو ان کے درمیان تعلق ہے، اس کو کس سے تعبیر کیا انہوں نے؟ تضعیف اور تنصیف سے بھئی، کہ چھوٹے حصے کو دگنا کریں تو اوپر والا بڑا حصہ بن جاتا ہے، اس کو دگنا کریں تو اس سے اوپر والا، اور اوپر اس سے سب سے بڑا جو حصہ ہے اس کو آدھا کریں تو اس سے نچلا حصہ، اس کو آدھا کریں تو اس سے نچلا حصہ، اسی طرح بھئی ثلثان ثلث اور سدس ہے، چھ، چھ کا عدد ذہن میں رکھیں، بھئی چھ کا نصف کیا ہے؟ تین، نہیں ثلث کی بات کریں گے اب ہم، چھ کا چھ چھٹا حصہ، اس کے چھ حصے کریں بھئی، تو ایک حصے میں کتنا آئے گا؟ ایک، ایک آ جائے گا۔ اچھا، چھ کے تین حصے کریں، تو ایک حصے میں کتنے آئیں گے؟ دو، تو یہ دو جو ہے تیسرا حصہ ہے، اور ایک اس کا چھٹا حصہ تھا۔ اچھا، تین حصے کیے، تو ایک حصے میں کتنا آیا؟ دو، اس دو کو دگنا کریں بھئی، چار، یہ دو تہائی بن گیا بھئی، ثلثان، ایک کیا ہے؟ سدس چھٹا حصہ، دو کیا ہے؟ ثلث، اور چار کیا ہے؟ ثلثان، دو تہائی بھئی۔ اب دیکھیے، سب سے چھوٹا حصہ کون سا؟ ایک، چھٹا حصہ ہے، اس کو دگنا کریں، کیا بن گیا؟ دو، اور دو کیا ہے چھ کا؟ ثلث ہے بھئی، تیسرا حصہ، اس ثلث کو دگنا کریں، تو کیا بن گیا؟ ثلثان بن گیا، یا اوپر سے چلیں، آدھا آدھا کرتے جائیں، ثلثان یعنی چار کو آدھا کریں تو کیا بن جائے گا؟ دو رہ جائے گا، اور دو چھ کا کیا ہے؟ ثلث تیسرا حصہ بھئی۔ اور اس ثلث یعنی دو کو آدھا کریں تو کتنا رہ گیا؟ ایک، اور یہ ایک چھ کا کیا ہے؟ سدس چھٹا حصہ ہے بھئی، بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے تضعیف و تنصیف کا، تو چھ حصے ہیں نصف، ربع، اور سمن، اور ثلثان، ثلث، اور سدس علی التضعیف والتنصیف تضعیف اور تنصیف کے طریقے پر، واصحاب ہذہ السہام اثنا عشر نفرا، اور اس حصوں کے جو اصحاب ہیں، یہ حصوں والے جو ہیں، اثنا عشر نفرا، وہ بارہ افراد ہیں، بارہ افراد۔ یاد رکھیے، نفر جو ہے عربی کے اندر تین سے دس تک آدمیوں کی جو جماعت ہے، اس کو نفر کہا جاتا ہے، تو نفر، لیکن اس سے پہلے اگر عدد آ جائے، تو پھر یہ فرد کے معنی میں ہو جاتا ہے۔ تو اثنا عشر نفرا کا یہ معنی نہیں کہ بارہ جماعتیں ہوں، تین سے دس آدمیوں کی جماعت کو کیا کہا جاتا تھا؟ نفر، تو کم از کم کتنے ہونے چاہیے نفر میں؟ تین افراد ہونے چاہیے، تو بارہ نفر کہا تو کتنا بن گیا؟ 36، نہیں یہ معنی نہیں ہے، نفر ٹھیک ہے کہتے جماعت کو ہیں، لیکن جب اس سے پہلے کیا آ جائے؟ عدد آ جائے، تو پھر اس صورت میں یہ کس معنی میں ہوتا ہے؟ فرد کے معنی میں ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ اسی طرح ہے جیسے قدوری کے اندر بھئی عبارت آتی ہے، لیس فی اقل من خمس ذود من الإبل صدقۃ، پانچ ذود سے کم ابل کے اندر صدقہ یعنی زکوٰۃ نہیں ہے، پانچ ذود، ذود کا لفظ آتا ہے، اور ذود بھی اونٹوں کے ریوڑ کو کہا جاتا ہے بھئی، تو اب پانچ ریوڑ مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے کیا آگیا؟ عدد آگیا، جب عدد آیا تو یہ کس معنی میں ہوا؟ فرد کے معنی میں، یعنی پانچ افراد ہوں اونٹوں کے، یعنی پانچ اونٹوں، تو پھر ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ تو کہتے ہیں واصحاب ہذہ السہام، اور ان حصوں والے جو لوگ ہیں، اثنا عشر نفرا، وہ بارہ افراد ہیں، ان کا ذکر پہلے گزر چکا ہے بھئی۔ اربعۃ من الرجال، چار مردوں میں سے ہیں، وہم اور وہ یہ ہیں الاب والجد الصحیح باپ ہے والجد الصحیح اور جد صحیح ہے۔ تو جد کے ساتھ، جد کے ساتھ صحیح کی قید لگا کر جد فاسد کو نکال دیا۔ اب جد صحیح کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وہو ابو الأبی، وہ باپ کا باپ یعنی والد کے والد ہیں وان علا، اگرچہ اوپر ہوں۔ یعنی دادا، پردادا، لکڑ دادا، اس سے اوپر کیا آئے گا؟ جی، تو باپ دادا، پردادا وغیرہ، دادا پردادا وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ جد صحیح ہیں مولانا۔ معلوم ہوا ان کے علاوہ جو ہیں وہ جد صحیح نہیں بلکہ جد فاسد ہیں بھئی، جہاں درمیان میں ماں کا واسطہ آ جائے، یہاں پر تو کس کا واسطہ تھا درمیان میں؟ باپ کا، اور اگر ماں کا واسطہ آ جائے تو وہ کیا ہے؟ جد فاسد ہے، جیسے نانا، بھئی۔ تو کہتے ہیں والجد الصحیح وہو ابو الأبی وان علا، جد صحیح جو ہے وہ باپ کا باپ ہے، اور اگرچہ اوپر ہو، باپ کا باپ یعنی دادا ہے، وان علا، اگرچہ اوپر ہو یعنی پردادا وغیرہ۔ یہ دو ہو گئے بھئی، باپ اور دادا، والاخ لقم، اور ماں شریک بھئی، یعنی اخیافی بھئی، یہ پہلے تفصیل گزر چکی ہے، اخیافی بھئی کسے کہتے ہیں؟ کہ یہ میت اور یہ جو شخص ہے اس کا بھئی ان دونوں کی ماں ایک ہی ہے، البتہ والد الگ الگ ہیں، یعنی اس عورت نے پہلے ایک شخص سے نکاح کیا تھا، اور اس سے ایک بیٹا ہوا تھا، اور پھر اس خاوند کا انتقال ہوا یا اس نے طلاق دے دی، اور اس نے پھر کسی اور سے نکاح کر لیا، تو یہ دوسرا بیٹا دوسرے خاوند سے ہے، تو ان دونوں، یہ جو بھئی ہیں آپس میں، ان کی ماں تو ایک ہی ہے، البتہ والد کیا ہیں؟ الگ الگ ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اخیافی بھئی۔ تو تیسرے نمبر پر ذوی الفروض ہیں، والاخ لأم، اخیافی بھئی ہے، والزوج، اور چوتھے نمبر پر خاوند، شوہر ہے بھئی۔ وسامان من النساء، اور آٹھ عورتوں میں سے ہیں، وہن اور وہ جو ہیں الزوجۃ، بیوی ہے، والبنت، اور بیٹی ہے، وبنت لابن وان سافلت، اور بیٹے کی یعنی پوتی ہیں، وان سافلت، اگرچہ نیچے تک ہو، یعنی پوتی، پڑپوتی، اور نیچے تک بھئی، والاخت لأب و أم، اور ماں باپ شریک بہن، ماں باپ شریک، یعنی حقیقی بہن، یہ ہے والاخت لأب و أم، اور حقیقی بہن، والاخت لأبن، اور علاتی بہن، باپ شریک بہن، والاخت لأم، اور ماں شریک بہن، یعنی اخیافی بہن، والام، اور ماں ہے، والجدۃ الصحیحۃ، اور جدہ صحیحہ ہے۔ جدہ کے ساتھ صحیحہ کی قید لگا کر کس کو نکال دیا؟ جدہ فاسدہ کو، اور جدہ صحیحہ کسے کہتے ہیں؟ خود بیان کر رہے ہیں، وہی التي لا تدخل في نسبھا الی المیت جد فاسد، اور یہ وہ ہے کہ داخل نہ ہو اس کی نسبت میں میت کی طرف جد فاسد۔ کرنے میں ال میت کی طرف۔ میت کی طرف اس جد کی نسبت کرنے میں داخل نہ ہو جد فاسد۔ کون داخل نہ ہو؟ جد فاسد۔ میت کی طرف اس کی نسبت کریں، رشتہ جوڑیں تو درمیان میں جد فاسد کا واسطہ نہ ائے اور جد فاسد ابھی گزرا۔ کسے کہتے ہیں؟ نانا کو۔ نانا ہیں یعنی نانا۔ تو یعنی جہاں درمیان میں کس کا واسطہ آ جاتا تھا؟ ماں کا واسطہ آ جاتا تھا بھئی۔ تو جد صحیحہ وہ ہے کہ جس کی میت کی طرف نسبت کریں تو درمیان میں نانا کا رشتہ نہ ائے، واسطہ نہ ائے۔ معلوم ہوا نانا کی جو ماں ہے وہ جد صحیحہ ہوئی یا جد فاسدہ؟ جد فاسدہ۔ نانا کی ماں۔ واسطہ کس کا آیا؟ میت کے ساتھ رشتہ کس کے ذریعے جڑ رہا ہے؟ نانا کے ذریعے اور ہم نے کیا کہا تھا؟ نانا کے ساتھ واسطہ بیچ میں نہ آئے تو یہاں نانا کا واسطہ آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ جو نانا کی ماں ہے، یہ جد صحیحہ ہے یا جد فاسدہ؟ یہ جد فاسدہ ہوگئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح سب کو بات سمجھ میں آگئی؟ أما الأب جی اب یہ حصے بیان ہونے لگے ہیں، یہ اب مشکل بحثیں ہیں، یہ روزانہ آپ کو پختہ کریں گے بھئی تو پھر ہی آپ کو یاد رہیں گی ورنہ ذہن سے نکل جائیں گی اور یہ چیزیں آپ کو یاد ہوں گی تو آگے آپ مسائل حل کر سکیں گے کہ مثلاً کسی کا انتقال ہوا فلاں فلاں وارث باقی ہے کس کو کتنا کتنا حصہ ملے گا؟ تو یہ جو اب آگے باتیں آنے لگی ہیں ان کو آپ نے خوب پختہ کرنا ہے بھئی، خوب پختہ کرنا ہے جس قدر پختہ کر سکیں کرتے چلے جائیں، چالیس پچاس مرتبہ تو کم از کم ضرور دہرائیں ہر ایک کو۔ پھر ہم ادھر سبق کے اندر بھی بار بار ان کا تکرار کرتے رہیں گے تاکہ ذہن کے اندر اچھی طرح بیٹھ جائیں بھئی۔ تو خوب پختہ کرنا ہے بھئی۔ أما الأبو فلہ أحوال ثلاث باپ جو ہے تو اس کے تین احوال ہیں، تین حالتیں ہیں۔ بھئی بتلایا تھا پیچھے کہ ذوی الفروض جو ہیں 12 افراد ہیں، چار ان میں سے مرد ہیں اور آٹھ ان میں سے عورتیں ہیں۔ اب مردوں کے حصے بیان ہونے لگے ہیں بھئی۔ سب سے پہلے والد کا حصہ، باپ کا حصہ بیان ہو رہا ہے تو کہتے ہیں فلہ أحوال ثلاث باپ کی تین حالتیں ہیں۔ الفرض المطلق پہلی یہ حالت ہے فرض مطلق۔ اس سے آگے آ رہا ہے کچھ فاصلے پر والفرض وتعصیب معاً فرض اور تعصیب اکٹھا، فرض اور تعصیب اکٹھا آگے تیسری حالت آ رہی ہے کچھ لفظوں کے بعد والتعصیب المحض تعصیب محض، یہ تیسری حالت ہے بھئی۔ فرض مطلق کا معنی یہ ہے بھئی، یعنی کہ باپ کو صرف وہ حصہ، اس کا مقررہ حصہ ملے گا، یعنی چھٹا حصہ۔ باپ کو صرف اس کا مقررہ حصہ اور یاد رکھو یہ جو رشتے آگے ذکر ہو رہے ہیں یہ سارے میت کی نسبت سے ہیں۔ باپ کیا معنی؟ کس کا باپ؟ مرنے والے کا باپ۔ آگے ماں کا ذکر آئے، کس کی ماں؟ میت کی ماں۔ بھئی کا ذکر آئے، کس کا بھئی؟ مرنے والے میت کا بھئی تو آگے جتنے رشتے ذکر ہو رہے ہیں، وہ کس کی نسبت سے ہیں؟ میت کی نسبت سے کیونکہ علمِ میراث آپ پڑھ رہے ہیں تو اسی میت کے ساتھ جو رشتہ ہوگا اس کے اعتبار سے وراثت کا وہ حقدار بنے گا۔ جی تو پہلے کو فرض مطلق سے تعبیر کیا مولانا اور فرض مطلق یعنی باپ کو صرف اس کا فرض جو مقررہ حصہ ہے وہ ملتا ہے اور وہ چھٹا حصہ ہے تو ایک صورت ایسی بنے گی جس میں باپ کو صرف کون سا حصہ ملتا ہے؟ چھٹا۔ اس کو کیا کہیں گے؟ فرض مطلق۔ پھر بعض صورتیں ایسی کہ وہاں پر باپ کو اس کا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی بنے گا۔ عصبات تو ذوی الفروض میں سے بھی حصہ لے لیا اس نے اور پھر دوسری قسم کس کو ہم مال دیا کرتے تھے؟ عصبات کو عصبات نسبی تو پھر وہ عصبہ ہونے کی بناء پر بھی مال لے گا بھئی جو باقی بچ جائے گا۔ اس کو انہوں نے کس سے تعبیر کیا؟ فرض وتعصیب معاً سے اور ایک صورت وہ بنے گی کہ جہاں والد جو ہے وہ صرف عصبہ بن کر مال لے۔ عصبہ بن کر مال لے گا تو اس کو تعصیب محض کے ساتھ تعبیر کیا۔ تو فرض مطلق کب ہوگا، فرض اور تعصیب کب ہوگا اور تعصیب محض کب ہوگی یہ صورت وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں الفرض المطلق فرض مطلق وھو السدس اور وہ کتنا ہے؟ چھٹا حصہ۔ وذلک مع الابن أو ابن الابن وہ بیٹے کے ساتھ ہوگا یا بیٹے کے بیٹے کے ساتھ یعنی پوتے کے ساتھ وإن سفل اگرچہ نیچے تک ہوں۔ بھئی ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کے والد زندہ ہیں۔ تو والد کو چھٹا حصہ ہم دیں گے اگر میت کا بیٹا بھی زندہ ہو۔ مرنے والے کا بیٹا بھی زندہ ہو یا بیٹا تو نہیں، اس کا تو انتقال ہو چکا البتہ بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا زندہ ہے یا پوتا بھی نہیں، بیٹے کا بھی انتقال ہو چکا میت کے، پوتے کا بھی انتقال ہو چکا البتہ پڑپوتا موجود ہے تو پھر اس صورت میں نیچے تک اور بھی یہ سلسلہ جہاں تک چلے ان میں نیچے والوں میں سے کوئی ایک بھی موجود ہو تو باپ صرف وہ اس کو کون سی صورت کون سا حصہ ملے گا؟ صدس یعنی فرض مطلق بھئی، چھٹا حصہ صرف ملے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ چھٹا حصہ۔ ایک اور بات یاد رکھیں کہ ایک لفظ ابن آئے گا اور اسی طرح ایک لفظ ولد آئے گا بھئی ولد۔ ولد کے لفظ کے بارے میں یاد رکھیں اس کا اطلاق مذکر اور مونث دونوں پر ہوتا ہے، واحد، تثنیہ، جمع سب پر بولا جاتا ہے بھئی۔ واحد، تثنیہ اور جمع سب پر بولا جاتا ہے اور یہ مذکر مؤنث دونوں کو شامل ہوتا ہے۔ اردو میں اس کے لیے بہترین تعبیر جس سے کی جاسکتی ہے وہ لفظ اولاد ہے۔ اولاد بھئی۔ تو ولد کا ترجمہ اولاد کے ساتھ کرنا۔ تو کہتے ہیں باپ کی پہلی حالت جو ہے الفرض المطلق فرض مطلق وھو السدس اور وہ چھٹا حصہ ہے وذلک مع الابن أو ابن الابن یا وہ بیٹے کے ساتھ یا پوتے کے ساتھ وإن سفل اگرچہ نیچے تک ہو والفرض وتعصیب معاً اور فرض اور تعصیب دونوں ہوں گے یعنی چھٹا حصہ بھی ملے گا اور عصبہ بھی بنے گا، باقی مال بھی لے جائے گا وذلک مع الابنۃ أو ابنۃ الابن اور وہ بیٹی کے ساتھ یا بیٹے کی بیٹی یعنی پوتی کے ساتھ وإن سفلث اگرچہ نیچے تک ہو۔ اگرچہ نیچے تک نیچے تک ہو یعنی مرنے والے کا بیٹا تو نہیں ہے البتہ بیٹی ہے۔ والد بھی اس کا زندہ مرنے والے کا اور بیٹی بھی زندہ۔ اگر بیٹی کا پہلے انتقال ہو چکا اور آگے پوتی بیٹا بھی کوئی نہیں ہے پوتی وغیرہ تو ان کا اعتبار نہیں کریں گے بھئی، میت کے مرنے سے پہلے جو مر چکے ہیں ان کا کسی بھی درجے میں اعتبار نہیں۔ یہ ان کی بات ہو رہی ہے جو مر یہ شخص مر گیا اور یہ جو جن کا ذکر ہو رہا ہے وہ اس وقت زندہ ہوں بھئی تو ایک شخص کا انتقال ہوا اس کے والد بھی زندہ ہیں اور بیٹی بھی زندہ ہے ایک۔ تو اب والد کیا کرے گا؟ وہ والد کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور عصبہ بھی بنے گا یعنی بیٹی کو اس کا حصہ دے دیں گے، والد کو اس کو چھٹا حصہ دے دیں گے اور جو مال باقی بچ جائے گا وہ بھی کس کا ہو جائے گا؟ والد کا تو عصبہ بن کر باقی مال لے لے گا۔ یا بیٹی تو نہیں ہے، بیٹی کا بھی بیٹی تو نہیں ہے البتہ پوتی موجود ہے یا پڑپوتی موجود ہے تو ان سب صورتوں میں کون سی حالت ہوگی؟ فرض مع تعصیب کے۔ والتعصیب المحض اور تیسری صورت تعصیب محض کی صرف عصبہ بنے گا وذلک عند عدم الولد اور یہ ولد کے نہ ہوت اولاد کے نہ ہوتے وقت ہوگا جب میت کی کوئی اولاد نہ ہو یعنی بیٹا یا ولد کا لفظ آیا بھئی میں نے بتلایا اس کا اطلاق مذکر اور مونث دونوں پر ہوتا ہے، میت کی کوئی اولاد نہ ہو یعنی بیٹا بھی نہ ہو اور بیٹی بھی نہ ہو اور جی وولد الابن وإن سفل اور بیٹے کی اولاد یعنی پوتا پوتی بھی نہ ہوں وإن سفل اگرچہ نیچے تک یعنی پڑپوتا پڑپوتی وغیرہ بھی نہ ہوں بھئی۔ تین صورتیں سمجھ میں آگئیں؟ پہلی صورت کہ والد کو صرف کتنا ملے گا؟ چھٹا حصہ۔ کب؟ جب میت کے بیٹا یا پوتا یا پڑپوتا ہو۔ اور دوسری صورت ہے کہ فرض حصہ بھی ملے گا اور عصبہ بھی بنے گا وہ کس وقت؟ جب میت کے بیٹے یا پوتی یا پڑپوتی موجود ہوں بھئی نیچے تک۔ اور تیسری صورت ہے کہ صرف عصبہ بنے گا وہ کب؟ جب میت کی کوئی اولاد نہ ہو بیٹا بیٹی آگے بیٹے کی بھی اولاد نہ ہو، نسب کس سے چلتا ہے بھئی؟ باپ سے چل رہا ہے تو مذکر کے اندر اس کا اعتبار کر رہے ہیں بھئی۔ بیٹے کی اولاد بھئی۔ بیٹی کی اولاد کی بات نہیں کر رہے تو لہٰذا میت کی اولاد بھی نہ ہو اور بیٹے کی اولاد بھی نہ ہو اسی طرح نیچے تک پوتے کی اولاد بھی نہ ہو، پڑپوتے کی اولاد بھی نہ ہو تو صرف عصبہ بنے گا بھئی۔ عصبہ بن جائے گا۔ آگے دیکھیے والجد الصحیح كالابي إلا في أربع مسائل اور جد صحیح جو ہے، جد صحیح کس کو کہتے تھے؟ دادا کو جہاں ماں کا واسطہ درمیان میں نہ آئے تو جد صحیح كالابي وہ بھی والد کی طرح ہے یعنی وہاں بھی یہی تین صورتیں بنیں گی بھئی۔ إلا في أربع مسائل مگر چار مسائل کے اندر وسنذکرھا فی مواضعھا اور ہم ذکر کریں گے ان کو ان کی جگہوں کے اندر، ان کے مقامات پر وہ چار مسائل جن میں صورت صورت مختلف بن جائے گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ چلیے بس ھذا ھو المرام واللہ أعلم بحقیقۃ الکلام
92 approved lectures · 10 of 92