Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

سراجي · dars-008

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor کاشف چنا
📍 Location گھوٹکی, Pakistan
📅 Approved Date 05 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 29
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فصل فی الموانع المانع من الارث اربع ارق وافرا کان او ناقصا والقثل الذی یتعلق به وجوب القصاص او الکفارة طالب علم: جی یاد رکھیے یہ جو وارثوں کے اللہ نے حصے مقرر فرمائے اور مال میں ان کا حق جو مقرر فرمایا، یہ ان میں اپس میں ایک قسم کا ان سب میں تعلق اور ربط موجود ہے بھئی۔ سب کا ایک تعلق ہے، رشتہ داری ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی بات ہو جائے جس سے جدائی اور علیحدگی یا ایک قسم کی نفرت ثابت ہو جائے تو پھر اس صورت میں یہ تعلق نہ رہا۔ گویا کہ یہ رشتہ داری اس کا کوئی اعتبار نہیں اور پھر اس صورت میں وہ شخص وراثت سے محروم ہوتا ہے۔ تو آج ہم پڑھیں گے کہ وہ چیزیں جن کی وجہ سے کوئی انسان وراثت سے محروم ہو جاتا ہے اور وہ چار چیزیں ہیں بھئی چار۔ نمبر ایک ہے غلامی، نمبر دو ہے قتل مورث۔ قتل مورث، نمبر تین ہے اختلاف دین یعنی دونوں کا دین مختلف ہو وارث اور مورث کا، اور نمبر چار ہے اختلاف دار بھئی اختلاف دار یعنی دونوں کا ملک، دونوں کی سلطنت الگ الگ ہو۔ ایک ایک ملک میں رہتا ہے دوسرا دوسرے ملک میں رہتا ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو فصل فی الموانع یہ فصل ہے موانع کے بیان میں یعنی وہ چیزیں جو وارث بننے سے مانع ہیں پھر وہ شخص محروم ہوتا ہے۔ المانع من الارث اربعہ مانع ارث جو ہیں چار چیزیں ہیں ارق وافرا کان او ناقصا؛ رق غلام بھئی غلام وافرا پوری ہو وافرا کان او ناقصا پوری ہو یا ناقص بھئی۔ پہلی چیز ہے غلامی بھئی۔ بھئی غلام کسی چیز کا مالک ہی نہیں ہوتا اور اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے، استغفراللہ، اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے، وہ اس کے آقا کا ہوتا ہے۔ تو لہذا اس میں مالک بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے تو وہ کسی کا وارث بھی نہیں بنے گا اس لیے کہ اسے جو بھی مال اگر اسے وراثت میں حصہ دے بھی دیا جائے تو وہ تو کسی بھی چیز کا مالک نہیں۔ جو کچھ بھی اس کے پاس آئے گا اس کا مالک کون بن جائے گا؟ آقا بن جائے گا اور آقا کا تو کوئی حق نہیں ہے وراثت کے اندر۔ تو اس لیے غلامی یہ کیا ہے مانع ہے وارث بننے سے بھئی، وارث نہیں بنے گا۔ چاہے غلام پورا ہو، کامل درجے کا ہو جیسے عام غلام ہوتا ہے یا غلامی ناقص ہو بھئی جیسے مدبر اور ام ولد بھئی۔ مدبر، ام ولد اور مکاتب جانتے ہیں یا نہیں جانتے بھئی؟ مکاتب وہ غلام جس کے ساتھ آقا نے عقد کتابت کیا ہو۔ یعنی آقا نے کہہ دیا کہ اگر مثلاً تو دو سال کے اندر دس لاکھ روپے لے آئے تو تو آزاد ہے، غلام نے اس کو قبول کر لیا تو یہ دونوں کے درمیان عقد ہو گیا۔ اس عقد کو کیا کہتے ہیں؟ عقد کتابت اور یہ غلام مکاتب کہلاتا ہے بھئی، مکاتب۔ اور اس کے اندر اس کے اندر اب یہ غلامی تو پوری ہے، لیکن ملک کامل نہ رہی اب یہ آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا۔ یہ آزاد شخص کی طرح ہے جائے گا، پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا بھئی۔ آقا اس سے خدمت وغیرہ نہیں لے سکتا۔ اور ایک ہے مدبر، وہ غلام جسے آقا نے کہہ دیا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔ اب یہ غلامی اس میں ناقص ہو گئی کیونکہ اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ مکاتب میں ایسا نہیں تھا، اس میں غلامی ناقص نہیں، غلامی اس کے اندر اب بھی کامل ہے کیونکہ ابھی بھی اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں۔ آقا نے کیا کہا؟ دو سال میں کتنے پیسے لے آؤ؟ دس لاکھ۔ تو قطعی طور پر وہ دس لاکھ لے آئے گا؟ نہیں، قطعی طور پر اگر لے آتا ہے تو آزاد ہو جائے گا، اگر نہیں لاتا تو پھر عام غلام بن جائے گا وہ عقد ختم ہوا، بھئی گزر گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہذا وہاں پر آزادی یقینی نہیں۔ لیکن مدبر جسے ایک دفعہ آقا نے کہہ دیا کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو، اب اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے آقا کے مرنے کے بعد۔ اب آقا اس سے رجوع کرنا چاہے تو رجوع کی کوئی صورت نہیں بھئی۔ رجوع کی کوئی صورت نہیں۔ تو آزادی اس کا حق بن گئی، اس نے ہر حال میں آزاد ہو جانا ہے تو اب اس میں غلامی کامل نہیں ہے، ناقص ہے، عنقریب ختم ہونے والی ہے، یہ آزاد ہو جائے گا۔ اسی طرح ام ولد بھئی وہ باندی جس سے آقا کی اولاد ہوئی، تو یاد رکھیے! باندی سے آقا کی اولاد ہو جائے تو وہ کیا کہلاتی ہے؟ نہیں بھئی نہیں، صرف اولاد ہونے سے ام ولد نہیں کہلائے گی، آقا اس کا باقاعدہ اقرار بھی کرے کہ یہ میری اولاد ہے، پھر وہ کیا بنے گی؟ ام ولد۔ یہاں آقا کے لیے اقرار ضروری ہے بھئی، کیونکہ یہ فراش ضعیف ہے۔ بیوی بھی ہے جس سے نکاح ہوا ہے منکوحہ، وہ فراش قوی ہے، اس سے جو بھی اولاد ہوگی وہ خاوند ہی کی شمار ہوگی۔ وہاں اقرار کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہ فراش قوی ہے۔ اور یہ کیا ہے؟ فراش ضعیف ہے تو اس سے میں اولاد کے اندر آقا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اقرار کرے کہ یہ میری اولاد ہے تو جب آقا اقرار کر لے گا تو یہ ام ولد ہوئی بھئی، ام ولد بھئی اس کے بچے کی ماں اور اس کا حق بھی آزادی ہے، آقا کے مرنے کے بعد اس نے ہر حال میں آزاد ہو جانا ہے تو اس کے اندر غلامی ناقص ہے بھئی اب۔ تو صاحب کتاب فرما رہے ہیں کہ غلامی چاہے کامل درجے کی ہو چاہے ناقص درجے کی ہو یہ وراثت سے محروم کر دیتی ہے وہ شخص، یہ مانع ہے وہ شخص غلام جو ہے وارث نہیں بنے گا بھئی، وارث نہیں بنے گا۔ والقتل الذی یتعلق به وجوب القصاص او الکفارة اور وہ قتل جس کے ساتھ متعلق ہو قصاص کا وجوب یا کفارے کا وجوب یعنی جس قتل کی وجہ سے قصاص واجب ہوتا ہو یا کفارہ واجب ہوتا ہو تو یہ بھی مانع ہے وراثت سے اور محروم کر دے گا بھئی انسان کو وراثت سے۔ یہاں قتل کی پہلے اقسام سمجھ لیں۔ بلکہ پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ قتل سے عام قتل کسی کو انسان قتل کر دیتا ہے تو یہ معنی نہیں کہ وہ وارث وراثت سے محروم ہو گیا۔ وہ صورت جب وارث اپنے مورث کو قتل کرے صرف ان دونوں میں حرمان میراث آئے گا اور صورتوں میں نہیں۔ مثلاً ایک آدمی نے کسی اجنبی کو قتل کر دیا تو اب جب اس کے والد کا انتقال ہوا، قاتل کے، آپ کہتے ہیں بھئی یہ تو وارث نہیں بن سکتا کیونکہ اس نے کیا ہے؟ قتل۔ نہیں بھئی یہ نہیں۔ مراد یہ اب بھی وارث بنے گا، کون سا قتل مراد ہے؟ کہ وارث کس کو کرے؟ اپنے مورث کو قتل کرے جس کا یہ وارث بن رہا ہے، جس نے اسے وارث بنایا۔ اور محروم اس لیے ہوتا ہے کہ دلوں کے اندر بدگمانی پیدا ہوتی ہے، تہمت کی وجہ سے بھئی دلوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ شاید اس نے اسی لیے قتل کیا تھا کہ یہ مرے گا تو مجھے مال مل جائے گا بھئی۔ تو یاد رکھیے! قتل پانچ قسم پر ہیں اور قتل سے متعلقہ احکام بھی پانچ قسم پر ہیں بھئی۔ ایک قتل عمد ہے، قتل عمد اور ایک شبہ عمد۔ ع م د بھئی، عمد۔ قتل عمد ہے، شبہ عمد، قتل خطا، شبہ خطا اور قتل بسبب، پانچ قسم پر ہوا۔ قتل عمد وہ ہے یاد رکھیے! جس میں کسی کو آلہ قتل کے ساتھ یا قائم مقام آلہ قتل کے ساتھ قتل کیا جائے بھئی۔ بھئی کسی کو آلہ قتل سے قتل کیا یا اس آلہ قتل جیسی کوئی چیز ہے اس سے قتل کیا، مثلاً تلوار بھئی۔ تلوار بنی ہی کس کے لیے ہے؟ قتل کے لیے یا اسی طرح کسی کو گولی مار دی تو یہ بندوق، پستول وغیرہ بنی ہی کس کے لیے ہے؟ قتل تو اس لیے یا اسی طرح کسی کو خنجر مار دیا تو یہ آلہ قتل کے ساتھ قتل کیا بھئی۔ اور یا اس جیسی کوئی چیز مثلاً تیز دھار والی کوئی لکڑی بھئی جو خنجر کی طرح کام کرے یا اسی طرح تیز دھار والا کوئی پتھر جو کس کی طرح ہو؟ خنجر کی طرح، تو یہ بھی کسی کو اگر مارا جائے تو یقیناً وہ نہیں بچے گا تو یہ تیز دھار والا پتھر اگرچہ قتل کے لیے نہیں بنا لیکن یہ اسی کی طرح ہے بھئی۔ تو آلہ قتل کے ساتھ کسی کو قتل کیا جائے یا اس جیسی چیز کے ساتھ کسی کو قتل کیا جائے جس میں بچنے کا امکان نہ ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ قتل عمد کہلاتا ہے۔ اور ایک ہے قتل شبہ عمد بھئی۔ جس میں آلہ قتل کے علاوہ کسی چیز کے ذریعے قتل کرے، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کی لاٹھی سے پٹائی کی اور وہ مر گیا تو یہ قتل شبہ عمد ہے مولانا۔ شبہ عمد ہے۔ کیونکہ لاٹھی سے عام طور پر مرتا نہیں بھئی انسان بھئی۔ لاٹھی سے نہیں مرتا۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ تو یہ کیا ہے شبہ عمد۔ اور یاد رکھیے! قتل کی کتنی قسمیں لکھوائیں؟ پانچ۔ پانچ قسمیں۔ اسی طرح وہ احکام جو قتل سے متعلق ہیں وہ بھی پانچ قسم پر ہیں۔ نمبر ایک ہے قصاص۔ قصاص اور دیت ایک معنی ہے بھئی، دیت اور قصاص کا۔ دیت کا لفظ جگہ جگہ استعمال ہوتا ہے یہ بھی ہمیشہ ذہن میں رکھیں قصاص ہی کو کہا جاتا ہے۔ دوسرا ہے حکم ہے دیت بھئی۔ دیت سو اونٹ دینے پڑتے ہیں یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار بھئی۔ یہ دیت ہے بھئی۔ نمبر تین کفارہ بھئی کفارہ اور اس کا کفارہ قتل میں اولاً تو ایک غلام آزاد کرنا پڑتا ہے اور اگر یہ میسر نہ ہو تو پھر ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے مسلسل بھئی۔ یہ ہے کفارہ قتل۔ یہاں اطعام طعام جائز نہیں ہے بھئی۔ سمجھ میں آگیا بھئی؟ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا جائز نہیں کیونکہ اس کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں آتا، صرف انہی دو کا ذکر ہے کہ غلام آزاد کرو اور اگر غلام نہ ملے تو پھر کیا کرو؟ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، یہ ہے کفارہ۔ نمبر چار ہے گناہ، قتل کا گناہ۔ بہت عظیم گناہ ہے۔ قتل کا گناہ۔ اور نمبر پانچ ہے حرمانِ میراث، وراثت سے محروم ہونا۔ وراثت سے ہر قتل کی وجہ سے انسان محروم نہیں ہوگا۔ صاحب کتاب نے آپ کو بتلا دیا، وہ قتل جس کی وجہ سے قصاص یا کفارہ آتا ہو، اس قتل کی وجہ سے انسان وراثت سے محروم ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی قتل کی قسم ہو تو اس سے وراثت سے محروم نہیں ہوگا۔ اب وہ قتل کی اقسام، تو کتنے حکم ہو گئے؟ پانچ۔ نمبر ایک: قصاص۔ نمبر دو: دیت۔ نمبر تین: کفارہ۔ نمبر چار: گناہ ہوگا قتل کا۔ اور نمبر پنج: حرمانِ میراث۔ تو قتل بھی پانچ قسم کے ہوئے اور اس سے متعلقہ احکام بھی پانچ قسم کے ہوئے تو کسی ایک میں ایک دو تین حکم آئیں گے، کسی میں چار حکم آئیں گے۔ سارے ہر جگہ نہیں ہوں گے۔ مثلاً پہلی قسم بیان ہوئی بھئی! قتلِ عمد۔ اس کے اندر قصاص آئے گا اور قتل کا گناہ ہوگا، دیت اور کفارہ اس میں نہیں ہے بھئی، دیت اور کفارہ۔ اور حرمانِ میراث؟ یہ اب آپ مجھے بتائیں بھئی۔ وارث نے مورث کو آلہ قتل سے قتل کیا، گولی مار دی۔ حرمانِ میراث آئے گا یا نہیں؟ آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ قصاص آ رہا ہے اور ہم نے کہا تھا جہاں قصاص ہے وہاں پر حرمانِ میراث بشرطیکہ کہ وارث نے کس کو قتل کیا ہو؟ مورث کو۔ کسی اور کو قتل کیا ہو اس سے نہیں آئے گا یہ حکم بھئی۔ تو حرمانِ میراث آئے گا۔ دوسرا قسم قتل کی ہے شبہ عمد، جس میں کسی ایسی چیز کے ذریعے قتل کرے جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جائے، اس سے انسان مرتا نہیں ہے اس چیز سے۔ مثلاً میں نے مثال دی ایک لاٹھی سے کسی کو مارا، پٹائی کی اور اس سے دوسرا مر گیا، تو یہ شبہ عمد ہے۔ اور اس کے اندر یاد رکھیے! دیت آتی ہے، دیت بھئی۔ کفارہ بھی آئے گا، قتل کا گناہ بھی ہوگا۔ اور اب آپ مجھے بتائیے، حرمانِ میراث ہوگا یا نہیں؟ جی؟ ہوگا، کیوں؟ کیونکہ کفارہ آ رہا ہے اور ہم نے کہا تھا جس قتل میں قصاص یا کفارہ ہے وہاں حرمانِ میراث۔ تو یہاں اگر وارث نے مورث کو شبہ عمد کے طریقے پر قتل کیا ہے تو پھر وراثت سے محروم بھی ہوگا۔ تو یہاں چار حکم آگئے بھئی چار۔ پہلی قسم میں تین تھے یہاں پر چار۔ تو اس میں دیت آتی ہے، قصاص نہیں آتا۔ بھئی دیکھیے ایک آدمی ہے اس نے دوسرے کو گولی ماری، قتل کر دیا، آپ کہتے ہیں قصاص آئے گا۔ ایک آدمی ہے اس نے دوسرے کو لاتیاں مار مار کے قتل کر دیا، آپ کہتے ہیں قصاص نہیں آئے گا۔ ابھی پڑھا یا نہیں بھئی؟ شیخ و حاکم کیا فرماتے ہیں؟ قصاص نہیں آئے گا، دیت آئے گی۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ اس نے بھی قتل کیا، اس نے بھی قتل کیا، دونوں نے قتل کیے۔ پھر ایک پر قصاص کیوں، ایک پر دیت کیوں؟ اس نے لاٹھی سے مارا۔ بھئی دیکھو! نہیں، یہ بات نہیں۔ وجہ یہ کہ بھئی ٹھیک ہے قتل دونوں نے کیا، فقہاء فرماتے ہیں لیکن اصل میں قصاص آئے گا جب ہمیں یہ پتہ لگ جائے کہ اس کا ارادہ ہی قتل کا تھا۔ کیا تھا؟ جب ہمیں پتہ چل جائے کہ اس کا ارادہ ہی قتل کا تھا اور ارادہ تو دل کی بات ہے ہمیں اس کا پتہ نہیں چل سکتا تو لہذا جس چیز کے ذریعے مار رہا ہے، اس کو اس کا قائم مقام کر دیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب اس نے گولی سے گولی ماری ہے، معلوم ہوا اس کا ارادہ ہی قتل کا تھا کیونکہ یہ تو آلہ قتل ہے، اس کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ قتل کیا جاتا ہے۔ تلوار سے قتل کیا، معلوم ہوا اس کا ارادہ ہی قتل کا تھا، اس لیے قصاص آیا۔ اور لاٹھی سے مارتا ہے، اب ہمیں ارادے کا نہیں پتہ، پتہ نہیں وہ صرف پٹائی کر رہا تھا زبردست طریقے سے یا اس کا ارادہ کیا تھا؟ تو شبہ آگیا اور شبہ کی وجہ سے قصاص کیا ہو جاتا ہے؟ ساقط ہو جاتا ہے بھئی۔ تیسری قسم ہے قتلِ خطا بھئی۔ قتلِ خطا۔ غلطی سے کوئی قتل ہو جائے۔ مثلاً آپ کوئی شخص شکار کھیلنے گیا اور اس نے دور سے ایک چیز کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا، اس نے تیر چلایا اور وہ اس چیز کو مار ڈالا، قریب جا کر دیکھا تو وہ تو کوئی شکار نہیں تھا، انسان مرا پڑا تھا بھئی۔ تو اب اس کا ارادہ اس شخص انسان کو قتل کرنے کا تھا؟ نہیں بھئی! اس کا ارادہ تو شکار کا رہا بھئی، تو یہ غلطی سے قتل ہوا۔ اور ایک قتل ہے شبہ خطا۔ اور شبہ خطا اس کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص سویا ہوا تھا اور اس نے کروٹ لی اور دوسرا شخص اس کے نیچے آیا، اس کا سانس رُکا اور وہ مر گیا۔ یہ کیا ہے شبہ خطا اور یہ قتل عموماً عورتوں سے ہوتا ہے بھئی۔ چھوٹا بچہ ان کا ساتھ لیٹا ہوا ہے، سمجھ میں آیا؟ اب شروع کے ایام میں بچہ تو بالکل ہل بھی نہیں سکتا بھئی تو وہ اس کے لیے سوتے ہوئے اس کا بازو یا کپڑا تھوڑا سا اس کے منہ پر آیا جس سے اس کا سانس رک گیا اور وہ مر گیا بھئی، تو یہ عموماً عورتوں سے۔ اور یاد رکھیے! خطا اور شبہ خطا کا حکم بھئی۔ خطا اور شبہ خطا کا حکم۔ اس کے اندر بھی دیت آئے گی، دیت آئے گی، کفارہ بھی آئے گا، کفارہ بھی آئے گا، البتہ قتل کا گناہ نہیں ہوگا بھئی۔ کیونکہ غلطی سے ہوا ہے بھئی، غلطی سے۔ اسی طرح بھئی! خطا کی دوسری مثال، یہ تو تھا خطا فی القصد بھئی، ایک خطا فی الفعل بھی ہے۔ ایک آدمی تھا سامنے نشانہ رکھا ہوا ہے اسے تیر مار رہا ہے، نشانہ لگاتے ہوئے اچانک تھوڑا سا ہاتھ ہل گیا اور ساتھ قریب یہ ایک شخص کھڑا تھا اس کو تیر لگ گیا یا اس نشانے کے پیچھے کوئی بیٹھا تھا اسے پتہ ہی نہیں تھا وہ تیر جا کر اسے لگا اور وہ مر گیا، تو یہ بھی کیا ہے؟ قتلِ خطا ہے۔ اور قتلِ خطا اور شبہ خطا کا حکم میں نے کیا بتلایا؟ دیت آئے گی، کفارہ بھی آئے گا اور گناہ نہیں ہوگا۔ گناہ نہیں ہوگا یعنی قتل کا وہ عظیم گناہ نہیں ہوگا، ہاں! بے احتیاطی کا گناہ ہوگا کہ احتیاط کیوں نہیں کی تمہاری نا احتیاطی کی وجہ سے جان چلی گئی۔ لیکن بہرحال قتل کا وہ عظیم گناہ نہیں ہوگا بھئی۔ اب آپ بتائیے! حرمانِ میراث آئے گا یا نہیں بھئی؟ آئے گا۔ جی؟ آئے گا۔ کیوں؟ کیونکہ کفارہ آ رہا ہے اور ہم نے کہا تھا جہاں قصاص یا کفارہ ہے وہاں حرمانِ میراث۔ لذا! وہ جو بچہ مر گیا، ماں کا ہاتھ اس کے اوپر آیا نیند کے اندر، وہ بڑے مال کا مالک تھا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ اس کے والد کا انتقال ہوا تھا اور اسے وراثت میں بہت بڑا حصہ ملا تھا، اب وہ ماں اس کی وراثت سے محروم ہو گئی بھئی۔ پانچویں قسم ہے قتلِ بسبب۔ قتلِ بسبب۔ اور وہ یہ کوئی شخص جو ہے راستے میں اپنی ملکیت کے علاوہ کے اندر کوئی کنواں کھود لیتا ہے یا بھاری پتھر وغیرہ رکھ دیا اور پھر کوئی شخص گزرنے والا اس کنویں میں گرا اور مر گیا یا وہ پتھر اس شخص کو گزرنے والے پر گرا اور وہ مر گیا، تو یہ قتلِ بسبب ہے بھئی۔ قتلِ بسبب ہے۔ اس میں دیت آئے گی، دیت آئے گی، قصاص بھی نہیں ہے، کفارہ بھی نہیں ہے اور قتل کا گناہ بھی نہیں ہے اور دیت آئے گی بھئی، کفارہ بھی نہیں۔ جی تو حرمانِ میراث ہوگا یا نہیں بھئی اسی میں اگر اس کا مورث گر کر مر گیا؟ نہیں ہوگا۔ کیونکہ نہ قصاص ہے اور نہ کفارہ ہے بھئی۔ تفصیل اچھی طرح سب کو سمجھ میں آگئی بھئی؟ معلوم ہوا قتلِ عمد کے اندر بھی حرمانِ میراث اگر وارث نے مورث کو قتل کیا ہے۔ شبہ عمد کے اندر بھی حرمانِ میراث اگر وارث نے اپنے مورث کو قتل کیا ہے۔ خطا اور شبہ خطا کے اندر بھی حرمانِ میراث اگر وارث نے اپنے مورث کو قتل کیا ہے کیونکہ بدگمانی آتی ہے دلوں میں کہ شاید اسی لیے قتل کیا ہو کہ پھر اس کے مرنے پر مجھے اس کا مال مل جائے گا بھئی۔ बच्चا، بچہ اور مجنون اگر اپنے مورث کو قتل کر دیں یاد رکھیں تو پھر حرمانِ میراث نہیں آئے گا بھئی۔ عمداً جان بوجھ کر ہی چاہے کیوں نہ قتل کر دیں آلہ قتل سے بھئی، پھر بھی حرمانِ میراث نہیں بھئی۔ کیونکہ ان کو سمجھ ہی نہیں ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ جو شریعت میں ان کے اکثر افعال پر سزا نہیں ہے بھئی۔ بھئی! والد اپنے بیٹے کو قتل کر دے آلہ قتل کے ساتھ، قصاص آئے گا یا نہیں آئے گا؟ آپ نے کیا پڑھایا آج؟ نہیں آئے گا۔ تو سوال پیدا ہوا، والد اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو قصاص بھی نہیں آتا، قصاص نہیں آتا، جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو کفارہ بھی نہیں ہے، تو لیکن حرمانِ میراث ہوتا ہے وہاں بھئی، بیٹے کے مال کا اب یہ وارث والد نہیں بنے گا بھئی۔ اس کی کیا وجہ؟ جواب یہ کہ اولاً قصاص آیا تھا لیکن شبے کی وجہ سے ساقط ہو گیا کیونکہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو ان کے والد سے کیا کہا ان کے بارے میں؟ ایک شخص سے کہا انت و مالُک لابیك کہ تم اور تمہارا مال تمہارے والد کے ہیں۔ اسی طرح قرآن میں اللہ فرماتے ہیں فلا تقل لھما اُف والدین کو اُف بھی نہ کہو یعنی انہیں ادنی درجے کی تکلیف بھی دینا جائز نہیں ہے، تو والد کو تکلیف نہیں دینا۔ تو یہاں جب اسے والد کو اگر قتل کیا جائے قصاص میں تو تکلیف پہنچی یا نہیں پہنچی بھئی؟ بیٹے کا اب اس کا باعث ہوا، تو اس لیے یہاں شبے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جائے گا بھئی۔ تو اولاً قصاص آیا اور پھر کیا ہوا؟ شبے کی وجہ سے ساقط ہوا، تو لہذا جب اولاً قصاص آیا ہے تو حرمانِ میراث ہوگا بھئی۔ جی چلیے بس کریں بھئی۔ واللہ اعلم بحقیقة الحال۔
92 approved lectures · 8 of 92