LESSONS NO. 108
1
فصل في رؤوس الثمانية
اعلم أن القدماء كانوا يذكرون في مبادئ الكتب أشياء ثمانية، ويسمونها رؤوس الثمانية. أحدها الغرض، أعني العلة الغائية لئلا يكون الناظر عابثا. وثانيها المنفعة لتسهل عليه المشقة في تحصيله.
فصل في رؤوس الثمانية. أي هذا فصل في رؤوس الثمانية. یہ فصل ہے رؤوس ثمانية کے بیان میں۔ اعلم جان لو، اعلم جان لے، أن القدماء کہ قدیم علماء جو تھے، كانوا يذكرون وہ ذکر کیا کرتے تھے، في مبادئ الكتب کتابوں کی ابتداء میں، أشياء ثمانية ثمانيةً، آٹھ چیزیں۔ قدیم علماء کتابوں کی ابتداء میں آٹھ چیزیں ذکر کیا کرتے تھے۔ ويسمونها رؤوس الثمانية ثمانيةً، اور وہ ان کو رؤوس ثمانية کہا کرتے تھے۔ کیا کہتے تھے؟ یہ آٹھ چیزیں جو ذکر ہوتی تھیں کتابوں کی ابتداء میں، ان کو رؤوس ثمانية کہتے تھے۔
أحدها الغرض، ان میں سے ایک جو ہے وہ غرض ہے۔ یعنی مقصد، اس علم کا مقصد۔ اس کے غرض۔ أعني العلة الغائية، یعنی کہ علت غائیہ۔ علت غائیہ وہ مقصد جس کے لیے کسی کام کو سرانجام دیا جاتا ہے۔ یعنی علم کا فائدہ کیا ہوگا؟ کس اس کا کس مقصد کے لیے کسی علم کو حاصل کیا جائے گا؟
یہ بات میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ عام کتابوں میں جس کی مثال ملتی ہے مثلاً چارپائی بنانا۔ اس کے لیے علت مادی بھی چاہیے، علت فاعلی بھی چاہیے، علت صوری بھی چاہیے اور علت غائی بھی۔ علت فاعلی اس کو بنانے والا، جو ترکھان وغیرہ ہے۔ علت مادی وہ چیزیں جن سے چارپائی بنے گی، وہ لکڑیاں، رسی وغیرہ بھئی۔ علت صوری جب وہ چارپائی بن کر تیار ہو جائے گی اس کی ایک صورت بن جائے گی، وہ کیا ہے؟ علت صوری۔ اور علت غائی وہ مقصد جس کے لیے چارپائی کو بنایا گیا یعنی اس پر بیٹھنا ہے، اس پر لیٹنا ہے، آرام کرنا ہے۔ تو یہ علت غائی ہے۔
تو علت غائی ذہن میں سب سے مقدم ہوتی ہے، خارج میں سب سے مؤخر۔ ذہن میں سب سے، چارپائی جب بنانے لگے، سب سے پہلے مقصد ہی کیا تھا ذہن میں؟ کس مقصد کے لیے بنا رہے ہیں؟ آرام کرنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن خارج میں سب سے آخر میں ہے۔ جب بالکل تیار ہو جائے گی اس کے بعد جا کے اب آرام ہو سکتا ہے، اس سے پہلے نہیں۔ تو علت غائی ذہن میں سب سے مقدم ہوتی ہے اور خارج میں سب سے مؤخر۔ یعنی وہ مقصد، وہ غرض بھئی۔
تو وہی بتا رہے ہیں کہ ان آٹھ میں سے ایک غرض ہے۔ أعني العلة الغائية، یعنی کہ علت غائیہ ہے۔ لئلا يكون الناظر عابثا، عبث بیکار کام کو کہتے ہیں، بیکار چیز بھئی۔ لئلا يكون الناظر عابثا، تاکہ اس میں علم میں نظر کرنے والا وہ عابث، عابس نہ ہو، بیکار کام کرنے والا نہ ہو۔ عابس نہ ہو، بیکار۔ بھئی آپ جو بھی کام کرتے ہیں، جو بھی حرکت کرتے ہیں، اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ بلا وجہ کوئی بھی کام نہیں کیا جاتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
کوئی علم بھی حاصل کرنے لگے ہیں، کوئی مقصد ہوگا اس علم کے حاصل کرنے کا۔ اگر بغیر کسی مقصد کے کوئی کام کر رہے ہیں تو یہ تو بیکار کام ہے۔ آپ کو پتہ ہی نہیں اس کا فائدہ کیا ہوگا، مقصد کیا ہے اس کا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں لہٰذا ان آٹھ چیزوں میں سے ایک غرض ہے، اس کا جاننا ضروری ہے تاکہ علم حاصل کرنے والا، اس علم میں نظر کرنے والا جو ہے، وہ بیکار کام کرنے والا نہ ہو۔ اگر اسے غرض کا پتہ نہیں ہوگا پھر تو وہ ایک بیکار کام کر رہا ہے، اسے مقصد کا ہی نہیں پتہ اس علم کے بھئی۔
یہ معنی ہے لئلا يكون الناظر عابثا، تاکہ اس علم میں نظر کرنے والا وہ بیکار کام کرنے والا نہ ہو۔ وثانيها المنفعة، اور دوسری چیز ان آٹھ میں سے وہ اس کا نفع ہے۔ لتسهل عليه المشقة في تحصيله، تاکہ آسان ہو جائے اس پر مشقت اس علم کے حاصل کرنے میں۔ اس علم کا نفع ذہن میں ہوگا تو مشقت اور تکلیف جو آئے گی اس علم کے حصول میں، وہ آسان معلوم ہوگی کہ بالآخر اس وقت تو تکلیف ہے، مشقت ہے، لیکن آگے چل کر مجھے یہ فائدہ حاصل ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
جی، تو یہ وہی غرض کے قریب قریب بات ہو گئی، بس غرض یہ اس میں ذرا تفصیل آ جائے گی، منفعت کے اندر۔ کیونکہ غرض بھی کیا ہے؟ وہی مقصد ہے، وہ فائدہ ہے اس علم کا۔ اور تو منفعت وہی نفع ہے، لیکن اس میں ذرا تفصیل آ جائے گی۔ وثالثها التسمية، اور तीसरी چیز ان آٹھ میں سے وہ تسمیہ ہے۔ تسمیہ سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں أعني عنوان العلم، اس علم کا عنوان۔ اس علم کا عنوان، اس علم کا نام۔ کون سا علم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ صرف ہے، نحو ہے، منطق ہے، کون سا علم؟
ليكون الناظر ہے آپ کی کتابوں میں؟ ليكون عند الناظر، عند کا لفظ ہونا چاہیے۔ یہ کتابت کی غلطی ہے، رہ گیا ہے بھئی۔ ليكون عند الناظر إجمال ما يفصله الغرض، تاکہ ہو جائے عند الناظر اس علم میں نظر کرنے والے کے پاس، إجمال ما إجمال اس چیز کا يفصله الغرض جس کی تفصیل غرض کرتی ہے۔ تاکہ اس علم میں نظر کرنے کے والے کے پاس، اس علم میں نظر کرنے والے کے پاس کیا ہو جائے؟ إجمال ما يفصله الغرض، غرض جو مقصد ہے، مقصد جس تفصیل کو بیان کر رہی ہے، اس کا اجمالی علم آ جائے اس کے پاس۔ اس کا کیا آ جائے؟ اجمالی۔
علم کے نام سے ہی کچھ نہ کچھ اس علم کا اندازہ ہو جائے گا، یہ کس قسم کا علم ہے۔ تو عنوانِ علم سے بھی اس علم کا اجمالاً کچھ نہ، اجمالاً یعنی مختصراً۔ ایک ہوتا ہے ایک ہوتی ہے تفصیل، تفصیل کی ضد ہے اجمال۔ جہاں تفصیل نہ ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ اجمال۔ تو تاکہ اس علم میں نظر کرنے کے والے کے پاس إجمال ما يفصله الغرض، وہ چیز جس کی غرض تفصیل بیان کر رہی ہے، اس کا وہ اجمالی طور پر آ جائے۔
بھئی غرض میں جا کر تو اس علم کے مقصد کا پورا پتہ چل جائے گا۔ غرض اس کی تفصیل بیان کر رہی ہے۔ لیکن علم کے عنوان سے بھی کیا ہو جائے گا؟ کچھ نہ کچھ اجمالی اندازہ ہو جائے گا کہ کس قسم کا علم ہے۔ نحو کا ہے، صرف کا ہے، منطق کا ہے، تو نام سے بھی کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
ورابعها المؤلف، اور چوتھی چیز ان رؤوس ثماﻧﻴﺔ میں سے مؤلف ہے۔ وہ کہ جو آپ کتاب پڑھنے لگے ہیں، جس علم کی، اس کتاب کے مصنف، اس کے احوال بھئی۔ مصنف کے احوال کا پتہ ہوگا تو پھر اس کتاب کی بھی قدر و منزلت ہوگی دل کے اندر۔ جب پتہ چلے گا اس کتاب کو فلاں بڑے عالم نے لکھا ہے تو پھر اس کتاب کی بھی آپ کے نزدیک اہمیت ہوگی، لہٰذا مؤلف کا جاننا بھی مفید ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ورابعها المؤلف، اور چوتھی چیز ان میں سے وہ مؤلف ہے۔ مؤلف مصنف بھئی۔ ليسكن قلب المتعلم، تاکہ تعلیم حاصل کرنے والے کا دل مطمئن ہو جائے۔ اس کا دل کیا ہو جائے؟ مطمئن ہو جائے۔ خامسها، پانچویں چیز ان میں سے، أنه في أي مرتبة هو، یہ کہ وہ علم کس درجے کا ہے۔ وہ علم کیا ہے؟ کہ کون سے درجے کا علم ہے بھئی؟
تو مثلاً علوم مختلف ہیں، قرآن کی تفسیر ہے، حدیث ہے، منطق ہے، فقہ ہے، وغیرہ۔ تو یہ جو بھی علم آپ پڑھنے لگے ہیں وہ کس درجے کا علم ہے؟ کون سے علوم اس سے بڑھ کر ہیں؟ کون سے علوم سے یہ بڑھ کر ہے؟ وغیرہ بھئی۔ تاکہ جن کا درجہ بڑا ہے ان کو پہلے حاصل کرے اور جن کا درجہ کم ہے ان کو بعد میں، یہ اس کو ان پر مقدم کر دے بھئی۔ یہ معنی ہے کہ أنه في أي مرتبة هو، کہ یہ کہ وہ کس درجے کا علم ہے، ليعلم تاکہ یہ جان لیا جائے، على أي علم يجب تقديمه، کہ کس علم پر واجب ہے اس کو اس علم کو مقدم کرنا، وعن أي علم يجب تأخيره، اور کس علم سے واجب ہے اس علم کو مؤخر کرنا۔
معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ کس علم پر اس کو مقدم رکھا جائے اور کس علم سے مؤخر رکھا جائے۔ وسادسها، اور چھٹی چیز ان میں سے، من أي علم هو، کہ وہ کس علم میں سے ہے؟ کس قسم کا علم ہے؟ علومِ نقلیہ میں سے ہے یا علومِ عقلیہ میں سے ہے بھئی؟ علومِ نقلیہ یہ قرآن، حدیث وغیرہ یہ کیا ہیں؟ علومِ نقلیہ، یہ نقل در نقل چلے آ رہے ہیں جس طرح ہیں اسی طرح بھئی۔ احادیث میں اب اضافہ ہو سکتا ہے؟ نہیں، اب نہیں، کیونکہ احادیث نام ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے جا چکے، تو جو ان کی احادیث نقل در نقل کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں وہ اسی طرح ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں؟ تو یہ ہیں علومِ نقلیہ۔
اور کچھ کیا ہیں؟ علومِ عقلیہ، جن میں عقل کا دخل ہے اور جیسے منطق وغیرہ، تو اس میں اضافے ہو سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں چھٹی چیز یہ ہے من أي علم هو، کہ یہ جانا جائے کہ یہ کس علم میں سے ہے یعنی کس قسم کا علم ہے، ليطلب ما يليق به، تاکہ طلب کرے وہ طلب وہ چیز جو اس کے مناسب ہو۔ يليق کے معنی ہیں مناسب۔ علومِ نقلیہ ہے میں سے ہے تو اس کے مناسب چیزوں کو حاصل کرے، اس کے مناسب اور علوم کو بھی حاصل کرے تاکہ اس میں فائدہ ہو۔ علومِ عقلیہ میں سے ہے تو اس کے مناسب جو جو علوم ہیں ان کو بھی حاصل کرے تاکہ اس میں مزید فائدہ ہو بھئی۔
وسابعها، اور ساتویں چیز ان میں سے، القسمة، وہ تقسیم ہے۔ وهو أبواب العلم والكتاب، وہ علم اور کتاب کے ابواب ہیں۔ کتاب شروع کرتے وقت ابتداء میں کیا پتہ ہونا چاہیے؟ کتاب اور علم کے ابواب کا پتہ ہو کہ اس اس قسم کی بحثیں آگے آئیں گی۔ وثامنها، اور آٹھویں چیز ان میں سے، أنحاء التعليم۔ أنحاء جمع ہے نحو کی، اور نحو بمعنی قسم کے ہے یہاں بھئی۔ تعلیم کی قسموں کو جان لے کہ کس طریقے پر اس کی تعلیم ہوگی، کس طریقے پر یہ علم ہوگا، سکھایا جائے گا۔
اور تعلیم کی اقسام کیا ہیں؟ کہتے ہیں وهي التقسيم والتحليل والتحديد والبرهان، وہ تقسیم ہے، تحلیل ہے، تحدید ہے اور برہان۔ تقسیم تو آپ جانتے ہیں بھئی، اوپر سے نیچے کی طرف آنا۔ مثلاً آپ پڑھتے ہیں بھئی، کلمہ کی تین قسمیں ہیں، تقسیم ہوا کلمہ۔ پھر اس کے بعد کون سی قسمیں ہیں؟ اسم، فعل اور حرف۔ پھر آگے تقسیم ہوتی ہے، اسم دو قسم پر ہے، مبنی ہے اور معرب ہے، وغیرہ۔ اسی طرح منطق میں آپ نے پڑھا بھئی، ایک جنس ہے، جنس کے تحت کیا آتی ہیں؟ انواع، انواع کے تحت اصناف وغیرہ، یہ اوپر سے نیچے کی طرف۔
اور تحلیل، تحلیل نیچے سے اوپر کی طرف جانا بھئی۔ تحلیل کیا ہے؟ نیچے سے اوپر کی طرف جانا۔ والتحديد، تحدید حد سے ہے، حد آپ پڑھ چکے، تعریف کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ کسی چیز کی تعریف حد کہلاتی ہے۔ والبرهان، برہان بھی آپ پڑھ چکے بھئی۔ برہان کس کو کہتے ہیں؟ وہ دلیل جو یقینیات سے مرکب ہو۔ اس سے علم بھی جو آئے گا وہ یقینی ہوگا یعنی قوی اور مضبوط دلیل کہیں بھئی، قوی اور مضبوط۔
تو کہتے ہیں تعلیم کی اقسام ہیں آٹھویں ان میں سے اور وہ تقسیم، تحلیل، تحدید اور برہان ہیں، ليعرف تاکہ یہ جان لے یا جائے، أن الكتاب مشتمل عليها أو بعضها، کہ یہ جو کتاب جو وہ پڑھنے لگا ہے، وہ کتاب جو ہے وہ ان سب پر مشتمل ہے یا ان میں سے صرف بعض پر مشتمل ہے تاکہ علم ہو جائے۔
کتاب کے مباحث مکمل ہوئے۔ اب مصنف آخر میں یہ ایک دو باتیں ذکر کر رہے ہیں اور اپنے لیے دعا کی درخواست کر رہے ہیں طلباء سے۔ تو کہتے ہیں أقول، میں کہتا ہوں، وأنا محمد وأنا محمد فضل الإمام الخير الخیرآبادي، هذا آخر ما أردنا جمعه وتأليفه، میں کہتا ہوں اور میں کون مراد ہے میں سے؟ کہتے ہیں میں محمد فضل الإمام خیرآبادی۔ هذا آخر ما أردنا، یہ وہ آخری چیز ہے کہ جس کا ہم نے ارادہ کیا، جمعه وتأليفه اس کے جمع کرنے کا اور اس کے تالیف کرنے کا۔ تالیف کا معنی بھی وہی جمع کرنا۔
في هذه الرسالة، اس رسالے کے اندر، من كتب الأقدمين وكلمات المتأخرين، متقدمین کی کتابوں میں سے اور متاخرین علماء کے کلمات میں سے، ان کی باتوں میں سے۔ یہ کہتے ہیں یہ آخری چیز ہے جس کے ہم نے جمع کرنے اور کا ارادہ کیا اس رسالے میں متقدمین کی کتابوں میں سے اور متاخرین علماء کی باتوں میں سے جو ہم نے جمع کی، متقدمین کی کتابوں میں سے باتیں اور متاخرین کی باتیں ہم نے اس میں جمع کیں۔ والغرض من هذا التأليف، اور غرض جو ہے اس تالیف سے، اس تصنیف سے، ليس إلا تعليم المبتدئين، نہیں ہے مگر مبتدی یعنی ابتدائی طلباء کو کی تعلیم، وتسهيل الأمر على الطالبين، اور معاملے کو آسان کرنا طالب علموں پر بھئی۔ طالب علموں پر معاملے کو آسان، ہمارا مقصد کیا تھا کہ علمِ منطق کا کی تعلیم کیا ہو جائے طلباء کے لیے؟ آسان ہو جائے۔
تو یہ مبتدی طلباء کی تعلیم اور طلباء کے لیے معاملے کو آسان بنانا ہی غرض ہے اس تالیف سے۔ فإن نفعك أيها الطالب الراغب، پس اگر تجھ کو نفع دے أيها الطالب الراغب، اے رغبت رکھنے والے، اے شوق رکھنے والے طالب علم! اگر تجھے نفع دے، کیا چیز نفع دے؟ فاعل آگے آ رہا ہے۔ هذه العجالة، عجالہ عجلت سے ہے، عجلت جلدی کو کہتے ہیں، تو عجالہ جلدی میں کیا ہوا کام۔ تو یہاں مراد یہ رسالہ ہے، جلدی کے اندر لکھا ہوا رسالہ۔
کہتے ہیں اگر نفع دے تجھ کو اے شوق رکھنے والے طالب علم، یہ جلدی میں لکھا ہوا رسالہ، نفعا يسيرا، تھوڑا سا بھی نفع اگر آپ کو دے، فلا تنسني بدعاء حسن الخاتمة، تو مجھے نہ بھولنا، فلا تنسني پس آپ مجھے نہ بھولنا، بدعاء حسن الخاتمة حسنِ خاتمہ کی دعا کے ساتھ۔ یعنی میرے لیے حسنِ خاتمہ کی دعا کرتے رہنا، اس میں نہ مجھے بھولنا کہ اللہ میرا خاتمہ اچھا فرمائے، ایمان پر فرمائے۔ اللہ ہم سب کا خاتمہ بھی ایمان پر فرمائے۔
والنجاة من حر الخاتمة، اور نجات، چھٹکارا من حر الخاتمة، ختمہ کے معنی ہوتے ہیں توڑنے کے، توڑنے کے۔ حر کہتے ہیں حرارت کو، تپش، گرمی۔ اور خاتمہ سے مراد ہے قیامت۔ کیا مراد ہے؟ خاتمہ کا معنی ہوا توڑنے والی، تو قیامت بھی توڑنے والی ہے اس سارے نظامِ عالم کو توڑ کر ختم کر دے گی، تہس نہس کر دے گی بھئی۔
تو آپ مجھے نہ بھولنا حسنِ خاتمہ کی دعا سے اور قیامت کی گرمی یعنی قیامت کی سختی سے چھٹکارے کی دعا میں مجھے نہ بھلانا کہ میرے لیے بھی اللہ اس دن آسانی فرمائے۔ اللہ ہم سب کے لیے قیامت کے دن خوب آسانی فرما دے، ہر
2
قسم کی سختی سے ہماری حفاظت فرمائے۔
وصلى الله على سيدنا محمد اور اللہ کی رحمت نازل ہو ہمارے سردار پر جن کا نام محمد ہے خاتم النبيين جو تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔ تمام نبیوں کو ختم، ان کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آ سکتا۔ اولا وآخرا اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے اولا شروع میں بھی وآخرا اور آخر میں بھی۔ وظاهرا وباطنا اور ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔ والحمد لله رب العالمين اور سب تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے جو رب ہے تمام جہانوں کا۔
تو مصنف نے آخر میں دیکھیے اپنے لیے دعا بھی کی، دعا کی درخواست کی۔ اور کتاب کی ابتداء جس طرح انہوں نے اللہ کی حمد و ثناء اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کے ساتھ کی تھی، کتاب کا اختتام بھی اسی طرح درود پر اور حمد و ثناء پر کیا تاکہ خوب اور زیادہ برکت حاصل ہو جائے بھئی۔ چلیے بھئی، کتاب ہماری مکمل ہو گئی، آئیے بھئی اب دعا کر لیں۔
دعا کا طریقہ ہمیشہ یاد رکھیے، جب بھی دعا کرنے لگیں تو چونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے دعا کی جا رہی ہے، اللہ کی طرف آپ متوجہ ہیں، تو سب سے پہلے اللہ کی حمد و ثناء ہونی چاہیے۔ اللہ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد اس کے بعد چند مرتبہ درود شریف پڑھ لیا جائے۔ پھر اس کے بعد دعا کی جائے اور آخر میں بھی دعا کے درود شریف اور آمین ہو، اس سے دعا قبولیت کے قریب تر ہو جاتی ہے۔
الحمد لله رب العالمين، اللهم صل على سيدنا...
اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، کوئی نیکی آپ کی توفیق کے بغیر نہیں کی جا سکتی، اے اللہ ہمیں نیکیوں کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، کسی گناہ سے آپ کی توفیق کے بغیر نہیں بچا جا سکتا، اے اللہ گناہوں سے بچنے کی ہمیں توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ، ان سنتوں کو پھیلانے والا بنا۔ اے اللہ، شرک و بدعت اور گمراہی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، شرک و بدعت اور کفر کو مٹانے والا بنا ہمیں۔
اے اللہ، ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کا خاتمہ بھی ایمان پر فرما۔ اے اللہ، ہمارے بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی ایمان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں بھی دین پر مضبوطی سے جمائے رکھ۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اس دینِ حق پر مضبوطی سے جمائے رکھ۔ اے اللہ، ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔
اے اللہ، ہم یقیناً بے انتہا کمزور، اے اللہ ہمارے یقیناً گناہ بھی بہت زیادہ، لیکن اے اللہ آپ کی رحمت بڑی وسیع ہے، آپ کی اس وسیع رحمت کا واسطہ اے اللہ ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ، آئندہ زندگی میں نیک اعمال کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے ان محبوب بندوں میں شامل فرما جن سے آپ کے فرشتے بھی محبت کرتے ہیں، جن سے یہ حیوانات بھی محبت کرتے ہیں، جن سے یہ پرندے بھی محبت کرتے ہیں۔ اے اللہ، آپ تو قادر ہیں، اے اللہ ہماری دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ، میرے جتنے تلامذہ ہیں، اے اللہ ان کو دنیا میں بھی معزز و محترم فرما، اے اللہ ان کو آخرت میں بھی معزز و محترم فرما۔ اے اللہ، ہر شر، تکلیف اور پریشانی سے ان کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، ہم سب کو گھروں میں اطمینان اور سکون نصیب فرما۔ اے اللہ، بے سکونی اور بے چینی کو دور فرما۔ اے اللہ، بے سکونی اور بے چینی سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، خیر کے امور کرنے کی ہمیں توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ، ہمارے گھروں میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ، ہماری نشست و برخاست میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ، ہماری مجالس میں دین کا بول بالا فرما۔ اے اللہ، ہمیں نیک اعمال کرنے والا بنا۔ اے اللہ، گناہوں سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، آپ کے در کے سوا اور کوئی در نہیں، اے اللہ ہمیں اپنے در سے خالی ہاتھ نہ لوٹا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ، حاضرین میں سے کوئی بیمار ہو یا ان کے گھروں میں کوئی بیمار ہو اے اللہ، اے اللہ سب کو شفاء نصیب فرما، اے اللہ سب کو صحت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہم نے اس مجلس میں آپ کے دین کی ایک کتاب ختم کی ہے، اے اللہ اس کو ہمارے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، تمام مشکلات حل فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو عزیز و اقارب فوت ہو چکے ہیں اے اللہ سب کی مغفرت فرما، اے اللہ سب کی لغزشوں سے درگزر فرما، اے اللہ سب کے درجات بلند فرما۔ اے اللہ، مجاہدین کی خصوصی مدد و نصرت فرما، اے اللہ ان کو ہمت اور قوت نصیب فرما۔ اے اللہ، دشمنانِ اسلام کو تباہ و برباد فرما، اے اللہ ان کو ذلیل و رسوا فرما، اے اللہ ان کے مکر و فریب اور سازشوں کو انہی پر الٹا دے۔ اے اللہ، ہم تمام مسلمانوں کو پھر دین کی طرف لوٹا دے، اے اللہ ہمیں دین پر چلنے والا بنا دے، اے اللہ مسلمانوں کے اندر اتفاق اور اتحاد پیدا فرما۔ اے اللہ، ہم سے بری عادات کو اے اللہ، بری عادات کو ہم سے دور فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے دین پر احسن طریقے سے عمل کرنے والا بنا۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
اے اللہ، تمام مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین اے اللہ سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، جو شخص جس انداز میں بھی دینی کام میں اس زمانے کے اندر مصروف ہے اے اللہ سب کی مدد فرما، اے اللہ سب کی نصرت فرما، اے اللہ سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے ہیں اے اللہ ان کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ ان کے کروڈہا درجات بلند فرما۔ اے اللہ، ان کے جو اہل و عیال باقی ہیں ان کو خوشیاں نصیب فرما۔ اور اے اللہ، ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں ان کو بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ اطمینان و سکون نصیب فرما، اے اللہ ان کی حاجات پوری فرما، اے اللہ ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، جتنے حاضرین ہیں اے اللہ ان سب کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، آئندہ زندگی میں ہمیشہ وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ، حرام کے ذرے ذرے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری بھی حفاظت، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہمیں اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما۔
میرے لیے بھی آپ حضرات سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اے اللہ، تمام حاجات پوری فرما، اے اللہ تمام مشکلات حل فرما۔ میرے والدہ اور ہمشیرہ بھی بیمار رہتی ہیں، ان کے لیے بھی دعاؤں کی درخواست ہے، اے اللہ ان کو صحت و عافیت نصیب فرما، اے اللہ ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں پر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ، حاضرین جتنے ہیں اے اللہ سب کے والدین کا سایہ ان کے سروں پر تا دیر قائم و دائم فرما۔ اے اللہ، ہمیں والدین کی خدمت کر کے جنت کا مستحق بننے کی توفیق نصیب فرما۔
اے اللہ، اے اللہ ہر شر اور فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، یہ فتنے کا زمانہ، اے اللہ ہر فتنے سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، قیامت تک ہماری آنے والی نسلوں کی بھی حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ ہماری تمام حاجات پوری فرما۔
میرے ایک اور کام کے سلسلے میں بھی آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے کہ اللہ اس کام کو آسان فرما دے۔ اس میں ادنیٰ درجے، ادنیٰ سے ادنیٰ تکلیف سے بھی اللہ مستقبل میں بھی اللہ اس سے ادنیٰ سے ادنیٰ تکلیف سے بھی اس میں حفاظت فرمائے۔ اے اللہ، اس کو دنیا اور آخرت ہر اعتبار سے مبارک فرما، ہر شر اور فتنے سے اس میں حفاظت فرما، ہر قسم کی رکاوٹوں سے حفاظت فرما۔ اے اللہ، اور اگر اے اللہ اگر وہ خیر کا باعث نہیں تو اس سے اللہ حفاظت فرما لے۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ ہماری تمام حاجات پوری فرما۔
اے اللہ، ہمارے اس ختمِ کتاب کو ہم سب کے لیے مبارک فرما۔ اے اللہ، جتنے طلباء ہیں اے اللہ ہر ایک کو عالمِ باعمل بنا، اے اللہ ان پر تحصیلِ علم کے دروازے کھول دے، اے اللہ سب کے سینوں کو علومِ دینیہ سے منور فرما۔ اے اللہ، دین پر ہمیں احسن طریقے سے چلنے والا بنا۔ اے اللہ، ہمیں اسی طرح دین پر چلنے والا بنا جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس پر عمل کیا کرتے تھے۔ اے اللہ، اسی طریقے سے اور انہوں نے جو جو جن باتوں کے معانی جس انداز میں بیان کیے، اے اللہ ہمیں بھی اس راستے پر استقامت نصیب فرما۔ اے اللہ، ہر قسم کی گمراہی سے ہماری حفاظت فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ، تمام مشکلات حل فرما، اے اللہ تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ، ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔
صلی اللہ تعالیٰ علی خلقه...
چلیے جی، آپ سب کو بھی مبارک ہو بھئی، کتاب ختم ہو گئی۔