Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-107

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 42
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 107 1 فصلٌ، ولا بد أن يعلم أنه إذا كان إحدى مقدمتي القياس غير برهانيةٍ، بل كانت جدليةً، أو خطابيةً، أو شعريةً، أو غيرها، كان القياس أيضاً غير برهانيٍّ. وكذا الكلام في القياس الجدلي ونظائره. وبالجملة، المؤلف من الراجح والمرجوح مرجوحٌ. فصلٌ، أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ ولا بد أن يعلم، یہاں سے ایک سوالِ مقدر کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ سوال یہ پیدا ہوا کہ مصنف رحمہ اللہ نے پیچھے قياس کی پانچ قسمیں ذکر کی تھیں بھئی: قياسِ برهانی، قياسِ جدلی، قياسِ خطابی، قياسِ شعری، اور قياسِ سفسطی۔ تو سوال پیدا ہوا کہ آپ نے تو پانچ قسمیں ذکر کیں، حالانکہ قسمیں پانچ سے زیادہ ہیں۔ آپ نے ہمیں بتلایا قياسِ برهانی وہ ہے جس کے مقدمات یقینی ہوں بھئی، کیا ہوں؟ یقینی۔ یعنی دونوں مقدمات جو ہیں وہ یا زیادہ جو ہیں وہ یقینی ہوں تو قياس دو یا دو سے زیادہ مقدمات سے مل کر بنے گا، تو یہ تو ایک ہی نوع کے ہوں تو وہ سارے اگر برہانی ہوں تو قياس برہانی کہلائے گا، سارے جدلی ہوں تو قياس کیا کہلائے گا؟ جدلی۔ لیکن یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ یہ مقدمات مختلف قسم کے ہوں، ایک مقدمہ برہانی ہے تو دوسرا ہو سکتا ہے جدلی ہو، یا ایک برہانی ہے تو دوسرا ہو سکتا ہے شعری ہو وغیرہ، تو مل جل کر اس طرح اور بھی بہت سی قسمیں بن جاتی ہیں، آپ نے ان کو ذکر ہی نہیں کیا۔ تو یہ کہنا کہ پانچ ہی قسم پر قياس ہے، یہ درست نہیں۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ خلاصۂ جواب یہ کہ یہاں پر جو سب سے اعلیٰ درجے کا قياس ہے وہ ہے برہانی، اس کے بعد درجہ ب درجہ، اس کے بعد درجہ ہے جدلی کا، اس کے بعد خطابی کا، اس کے بعد شعری کا اور اس کے بعد سفسطی۔ تو جب بھی قياس جن مقدمات سے مل کر مرکب ہوگا، تو جو کچھ مقدمات فرض کریں اعلیٰ ہیں، کچھ ادنٰی ہیں۔ تو وہ جو ادنٰی درجے والا ہوگا، وہ قياس کہلائے گا، اس کا نام وہ رکھا جائے گا۔ مثلاً ایک مقدمہ ہے برہانی اور ایک مقدمہ ہے جدلی، تو برہان اور جدل میں سے ادنٰی کون ہے؟ جدل۔ تو یہ قياسِ جدلی کہلائے گا، یاد رکھیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جیسے نتیجہ اخس اور ارذل کے تابع ہوا کرتا تھا، تو اسی طرح یہاں پر بھی قياس بھی جو ہے ادنٰی کے تابع ہوگا، اس کے نام سے اس کو موسوم کیا جائے گا، یا یوں کہیں جو انہوں نے لفظ ذکر کیے: ایک راجح ہے، ایک مرجوح۔ راجح وہ جو ترجیح پا جائے دوسرے پر بھئی۔ ایک طرف قياسِ برهانی ہے، دوسری طرف قياسِ جدلی ہے، راجح کون سا ہے؟ قياسِ برهانی راجح ہے، وہ ترجیح پا جاتا ہے اس پر۔ تو بس جب مقدمات کئی قسم کے ہوں، بعض مقدمات راجح ہوں، بعض مرجوح ہوں، تو کس نام سے موسوم کیا جائے گا قياس کو؟ مرجوح کے نام سے، یعنی جو ادنٰی ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو لہٰذا قسمیں پانچ ہی ہیں اور انہی میں قياس بند ہے اور جو باقی قسمیں بنیں گی مختلف قسم کے مقدمات سے بھی، تو راجح اور مرجوح میں سے کس نام سے اس کو موسوم کیا جائے گا؟ مرجوح کے نام سے اس قياس کو موسوم کیا جائے گا بھئی، وہ نام اس کا رکھا جائے گا۔ اب دیکھیے کتاب پر: فصلٌ، أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ ولا بد أن يعلم، اور ضروری ہے کہ یہ جان لیا جائے أن انه إذا كان إحدى مقدمتي القياس کہ جب قياس کے دو مقدموں میں سے ایک جو ہے غير برهانيةٍ وہ غیرِ برہانی ہو، برہانی نہ ہو، بل كانت جدليةً بلکہ جدلی ہو، أو خطابيةً یا خطابی ہو، أو شعريةً یا شعری ہو، أو غيرها یا ان کے علاوہ ہو، كان القياس أيضاً غير برهانيٍّ تو قياس بھی کیا ہوگا؟ غیرِ برہانی ہوگا۔ وكذا الكلام في القياس الجدلي ونظائره اور اسی طرح کلام ہے قياسِ جدلی اور جو اس کے مشابہ ہیں ان میں بھی بھئی، یعنی وہی کہ جو ادنٰی ہوگا وہ نام رکھا جائے گا جو ادنٰی۔ وبالجملة، اور خلاصۂ کلام یہ المؤلف من الراجح والمرجوح مرجوحٌ کہ وہ قياس جو مرکب ہو راجح اور مرجوح سے، وہ کون سا قياس ہوگا؟ مرجوحٌ، وہ مرجوح ہوگا بھئی، یعنی وہ ادنٰی درجے والے کے نام اس کا رکھا جائے گا۔ وها هنا قد تم بحث الصناعات الخمس، مصنف فرماتے ہیں یہاں پر پوری ہو گئی صناعاتِ خمسہ کی بحث۔ صناعاتِ خمسہ، یہ پانچ قياس جو تھے بھئی، ان کی بحث یہاں پر کیا ہوئی؟ پوری ہو گئی۔ وبه تم مقاصد الفن، اور اس پر پورے ہو گئے فن کے مقاصد بھئی، بنوعيه، ساتھ اپنی دونوں انواع کے، أعني الموصل إلى التصور والموصل إلى التصديق، یعنی وہ جو پہنچانے والا ہے تصور تک اور وہ جو پہنچانے والا ہے تصدیق... بھئی آپ نے پڑھا تھا علمِ منطق کا موضوع کیا ہیں؟ تصور اور تصدیق۔ اس حیثیت سے کہ وہ تصور کس تک پہنچائے؟ مجهول تصور تک، اور وہ تصدیق اس حیثیت سے کہ وہ کہاں تک پہنچائے؟ مجهول تصدیق تک پہنچائے۔ تو کہتے ہیں وہ ساری بحث، یہاں پر فن کے مقاصد یہاں پر پورے ہو گئے اپنی دونوں قسموں کے ساتھ، یعنی وہ تصور جو پہنچانے والا ہے تصور تک، یعنی تصورِ مجهول تک، اور وہ تصدیق جو پہنچانے والی ہے إلى التصديق، کہاں تک؟ مجهول تصدیق تک، سب کی بحث پوری ہو گئی۔ خاتمةٌ، أي هذه خاتمةٌ، یہ خاتمہ ہے۔ اب آخر میں خاتمہ ذکر کر رہے ہیں کتاب کے آخر میں۔ یاد رکھیے اس خاتمہ کے اندر تین ضروری چیزیں ذکر کریں گے کسی علم کے لیے: ایک موضوع، دوسرے مبادی، اور تیسرے مسائل بھئی۔ کسی علم کا موضوع، اس علم کے مبادی، ابتدائی باتیں (مبادی کیا ہیں؟ ابتدائی باتیں)، اور مسائل، اس علم کے مسائل جن پر وہ علم مشتمل ہوتا ہے، جن سے بحث کی جاتی ہے بھئی، جن کو ذکر کیا جاتا ہے۔ تو علم میں کتنی چیزیں آگئیں؟ تین چیزیں ضروری چیزیں یہاں وہ ذکر کریں گے علم سے متعلق: موضوع، مبادی، اور مسائل بھئی۔ تو وہ اب تین ذکر کرنے لگے ہیں بھئی، آسان سی بحث ہے، صرف اتنا بتلائیں گے آپ کو کہ یاد رکھیے کہ موضوع جو ہے وہ جس علم، جس چیز کے عوارض کے بارے میں کسی علم سے بحث کی جائے، وہ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے۔ جس چیز کے عوارض کے بارے میں کسی علم، کسی علم میں بحث کی جائے، وہ اس علم کا موضوع کہلاتا ہے، جیسے نحو کا موضوع ہے کلمہ اور کلام۔ علمِ نحو میں کس کے بارے میں بحث کی جاتی ہے؟ کلمہ اور کلام کے عوارض کے بارے میں، کلمہ اور کلام پہ جو مختلف احوال پیش آتے ہیں، کبھی مبنی ہوتا ہے، کبھی معرب ہوتا ہے، کبھی مرفوع ہوتا ہے، کبھی منصوب ہوتا ہے، کبھی مجرور، تو یہ مختلف حالتیں جو اس کو مختلف بات، چیزیں جو اس کو لاحق ہوتی ہیں، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے علمِ نحو کے اندر بھئی، تو یہ کلمہ اور کلام کیا ہیں؟ علمِ نحو کا موضوع ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ دیکھیے کہتے ہیں، کہتے ہیں: لكل علمٍ ثلاث امورٍ، ہر علم کے لیے تین چیزیں ہیں، تین چیزیں ہوتی ہیں۔ أحدها الموضوع، ان میں سے ایک موضوع ہے۔ وهو ما يبحث في العلم عن عوارضه ولواحقه الذاتية، اور وہ چیز ہے کہ بحث کی جائے کسی علم کے میں اس کے عوارض اور لواحقِ ذاتیہ کے بارے میں۔ عوارض، لواحق کا ایک معنی بھئی، جو کسی چیز کو عوارض، جو کسی چیز کے پیش آنے والی چیزیں ہیں اس موضوع کے ساتھ متعلقہ۔ اور ذاتیہ کہا، عوارضِ ذاتیہ، جو اس کی ذات کے اعتبار سے اس کو لاحق ہوتی ہیں، اس کے ساتھ ملتی ہیں بھئی جو چیزیں۔ جو اس کی ذات، یوں کہیں، اس کسی چیز کی ذات کے اعتبار سے اس کے ساتھ جو اوصاف اس کے ساتھ ملتے ہیں، جو اوصاف اس پر آتے ہیں، وہ عوارضِ ذاتیہ کہلاتے ہیں۔ کیا کہلاتے ہیں؟ عوارضِ ذاتیہ، یعنی ذات کے اعتبار سے جو اس کے اوصاف ہیں، اور اس میں پھر تین چیزیں آئیں گی بھئی، تین چیزیں۔ تین چیزیں: یا تو وہ عوارض اس چیز کے ذات کے اعتبار سے ہوں گے، یا اس چیز کے جز کے اعتبار سے، یا کسی ایسی چیز کے اعتبار سے اس کو لاحق ہوں گے جو اس چیز کی ماہیت سے تو خارج ہے، لیکن اس چیز کے مساوی ہے۔ اس چیز کے عوارضِ ذاتیہ جن کو کہتے ہیں وہ عوارض جو کسی شئے کو لاحق ہوتے ہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ عوارضِ ذاتیہ کس کو کہتے ہیں؟ وہ عوارض جو کسی شئے کو لاحق ہوتے ہیں اس کی ذات کے اعتبار سے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ عوارضِ ذاتیہ وہ عوارض جو کسی شئے کو اس کی ذات کے اعتبار سے عارض ہوتے ہیں، اور اس میں تین چیزیں داخل ہیں بھئی: یا تو وہ شئے وہ عوارض شئے کو اس کی ذات کے اعتبار سے لاحق ہوں گے، یا اس کے کسی جز کے اعتبار سے اس کو لاحق ہوں گے، یا کسی اور چیز کے واسطے سے اس کو لاحق ہیں، وہ اور چیز اس کے نہ ذات ہے، نہ اس کا جز ہے، اس سے خارج ہے، لیکن اس کے مساوی ہے، اس کے برابر ہے، اس کے کیا ہے؟ تو عوارضِ ذاتیہ کسے کہتے ہیں؟ وہ عوارض جو کسی شئے کو لاحق ہوتے ہیں اس کی ذات کے اعتبار سے، یا اس کے کسی جز کے اعتبار سے، یا یا کسی اور شئے کے واسطے سے جو اس شئے کے مساوی ہو، برابر ہو بھئی۔ مثلاً دیکھیے، مثال سے بات واضح ہوگی۔ جیسے تعجب بھئی، تعجب۔ انسان کو تعجب ہوتا ہے بعض اوقات کسی چیز کو دیکھ کر بھئی، حیرت ہوتی ہے، تعجب ہوتا ہے۔ تو یہ تعجب انسان کا وہ انسان ہونے کے اس کی ذات کی حیثیت سے بغیر واسطے کے لاحق ہوتا ہے۔ تو یہ عوارضِ ذاتیہ میں سے ہوا، کس میں سے ہوا؟ تعجب انسان کو انسان ہونے کی وجہ سے عارض ہوتا ہے اور جانوروں کو تعجب عارض نہیں ہوتا بھئی۔ تو یہ انسان کا خاصہ ہے بھئی۔ تو تعجب انسان کو کیوں عارض ہوتا ہے؟ اس کی ذات کے اعتبار سے بھئی، اس کی کہ وہ انسان ہے۔ اچھا، دوسری، تو یہ دیکھو، یہ کیسا عارض ہے جو کسی شئے کو عارض ہوا اس کی ذات کے اعتبار سے؟ اور کبھی کوئی شئے عارض ہوگی کسی جز کے اعتبار سے، مثلاً دیکھیے حرکت بالارادہ، اپنے ارادے سے حرکت کرنا۔ انسان اپنے ارادے سے حرکت کرتا ہے یا نہیں کرتا؟ یہ بھی اس کی صفت ہے، لیکن یہ صفت اس کو کیوں عارض ہے؟ حیوان ہونے کی وجہ سے، کیونکہ ہر حیوان کیا ہے؟ متحرک بالارادہ ہے۔ تو یہ جو حرکت بالارادہ انسان کو عارض ہوئی ہے، کس کی وجہ سے؟ حیوان ہونے کی وجہ سے، اور حیوان انسان کا جز ہے، کیونکہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوانِ ناطق، ایک جز حیوان ہے، ایک جز ناطق۔ تو یہ ایک جز کے اعتبار سے یہ عارض لاحق ہوا انسان کو، تو یہ بھی کس میں سے ہے؟ عوارضِ ذاتیہ میں سے۔ تو عوارضِ ذاتیہ وہ ہیں جو کسی شئے کو لاحق ہوتے ہیں اس کی ذات کے اعتبار سے، یا اس کے کسی ذات کے اعتبار سے، جیسے تعجب، اور کسی جز کے اعتبار سے، جیسے حرکت بالارادہ۔ اور تیسرے کیا تھا؟ جو کسی امرِ خارجی کے واسطے سے کسی شئے کو لاحق ہوں، لیکن وہ امرِ خارجی کیا ہو؟ اس شئے کے مساوی ہو، اس کے برابر ہو۔ جیسے ضحک بھئی، ہنسی، ہنسنا۔ ہنسنا انسان کو لاحق ہوتا ہے تعجب کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ انسان یہ ہنستا کیوں ہے؟ وجہ یہ کہ کوئی وہ چیز دیکھتا ہے، کوئی بات سنتا ہے، جس کی وجہ سے اس کو تعجب ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ کوئی عجیب چیز دیکھتا ہے جس کی وجہ سے اس کو تعجب ہوتا ہے اور اس تعجب کی وجہ سے پھر اسے ہنسی آجاتی ہے، اسے ضحک لاحق ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ ضحک کیوں ہوتا ہے؟ تعجب، کوئی آپ انوکھی بات، کوئی ایسی چیز دیکھتے ہیں جبھی ہنسی آتی ہے نا، بلاوجہ تو نہیں آتی۔ تو وہ یہ دراصل انسان کو اولاً ایک چیز دیکھی، ایک انوکھی سی، عجیب سی بات دیکھی، اسے تعجب لاحق ہوا اور تعجب کی وجہ سے پھر کیا آگئی؟ ہنسی آجاتی ہے۔ تو یہ جو ضحک انسان کو لاحق ہے، تعجب کی وجہ سے ہے، اور تعجب یہ انسان کے مساوی ہے، کیونکہ جو بھی انسان ہے وہ متعجب ہے۔ غیرِ انسان متعجب نہیں، تو متعجب یہ صرف کس پر صادق آتا ہے؟ انسان پر۔ جن جن جن پر انسان کا لفظ صادق آتا ہے، انہی پر متعجب کا لفظ بھی... تو یہ دونوں برابر ہوئے، مساوی ہوئے بھئی۔ کسی جانور اور پر اس کا متعجب کا لفظ صادق نہیں، تو متعجب کا لفظ مساوی ہوا انسان کے۔ تو دیکھیے یہاں ضحک لاحق ہوا انسان کو کس کی وجہ سے؟ ایک امرِ مساوی کی وجہ سے، اور وہ امرِ مساوی کیا ہے؟ تعجب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا عوارضِ ذاتیہ جن کو کہتے ہیں؟ وہ امور جو کسی شئے کو لاحق ہوتے ہیں اس شئے کی ذات کی وجہ سے، یا اس کے جز کی وجہ سے، یا کسی امرِ خارجی کی وجہ سے جو اس شئے کے مساوی ہو بھئی۔ تو یہ ہیں عوارضِ ذاتیہ۔ تو کہتے ہیں ان میں سے ایک موضوع ہے: وهو ما يبحث في العلم عن عوارضه ولواحقه الذاتية، اور وہ چیز ہے کہ بحث کی جائے علم کے اندر اس شئے کے عوارض اور لواحقِ ذاتیہ سے، میں نے بتلایا عوارض، لواحق کا ایک معنی۔ كبدن الإنسان لعلم الطب، جیسے انسانی بدن ہے علمِ طب کے لیے۔ علمِ طب بھئی، اس کا موضوع کیا ہے؟ بدنِ انسانی۔ والكلمة والكلام لعلم النحو، اور جیسے کلمہ اور کلام ہے علمِ نحو کے لیے، یہ موضوع ہیں۔ والمقدار المتصل لعلم الهندسة، اور جیسے مقدارِ متصل ہے علمِ ہندسہ کے لیے بھئی، مقدارِ متصل۔ مقدارِ متصل... بھئی ایک ہیں مقدارِ منفصل، ایک ہیں مقدارِ متصل۔ مقدارِ منفصل، یہ جو چیزیں ہم گنتے ہیں: ایک، دو، تین، چار، پانچ، یہ کیا ہیں؟ مقدارِ منفصل۔ مثلاً بھئی، آپ جانور گن رہے ہیں: ایک بکری، دو، تین، چار، اور ہر بکری کا جسم دوسری بکری کے ساتھ ملا ہوا ہے یا الگ الگ ہے؟ الگ الگ، تو یہ کیا ہیں؟ مقدارِ منفصل۔ اور ایک ہیں مقدارِ متصل، جس میں پیمائش وغیرہ اور یہ چیزیں آگئیں۔ دیکھیے، آپ کپڑے کی پیمائش کرتے ہیں: ایک گز، دو گز، تین گز، چار گز۔ جہاں ایک گز کے، پہلے گز کی انتہا ہو رہی ہے، بعینہٖ اسی مقام سے دوسرے گز کی ابتدا ہو رہی ہے، تو دونوں جز کیا ہیں آپس میں؟ ملے ہوئے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یا جیسے میں نے بتلایا تھا کہ جسم کی طلاق کو سطح کہتے ہیں، جسم کی طلاق کو کیا کہتے ہیں؟ یہ کتاب ہے، اس کتاب کا یہ اوپر والا حصہ کیا کہلائے گا؟ سطح۔ اور اس سطح کی ایک جانب جو ہے وہ خط کہلاتی ہے، کیا کہلاتی ہے؟ خط۔ اور خط کا ایک کنارہ جو ہے وہ نقطہ کہلاتا ہے۔ اور تو جسم جو ہے اس کی تقسیم ہو سکتی ہے لمبائی میں بھی، چوڑائی میں بھی، اونچائی میں بھی۔ 2 لمبائی، چوڑائی اور اونچائی میں، جبکہ سطح، سطح کی تو اونچائی ہوتی ہی نہیں، لمبائی اور چوڑائی میں تو اس کی تقسیم ہو سکتی ہے، اونچائی میں اس کی تقسیم نہیں، کیونکہ یہ اوپر والا صرف حصہ ہے اس کی موٹائی ہے ہی نہیں بھئی، تقسیم کیسے ہو؟ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس کی لمبائی، سطح کی تقسیم لمبائی اور چوڑائی میں تو ہو سکتی ہے لیکن موٹائی میں، اونچائی میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد سطح کی طرف کو کہتے ہیں خط، خط وہ ہے جس کی تقسیم لمبائی میں تو ہو سکتی ہے چوڑائی میں بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ چوڑائی اس کی ہے ہی نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ چوڑائی میں بھی تقسیم نہیں ہو سکتی اور اونچائی میں بھی تقسیم نہیں، اور پھر خط کی ایک جانب کو نقطہ کہتے ہیں بھئی، کیا کہتے ہیں؟ نقطہ، تو نقطے کی تقسیم نہ لمبائی میں ہو سکتی ہے، نہ چوڑائی میں، نہ اونچائی میں، نہ اس کی اونچائی ہے نہ چوڑائی ہے اور نہ لمبائی ہے، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ نقطہ نہیں جو آپ قلم سے لگاتے ہیں، یہ نقطہ ہے فرضی نقطہ بھئی جس کی، جس کی تقسیم ہو ہی نہیں سکتی اتنا ادنیٰ جز ہے وہ بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اور تو دیکھیے یہ جسم کی طرف کو کیا کہتے ہیں؟ سطح۔ بہت سی سطحیں ملیں گی اوپر نیچے تو جسم بن جائے گا موٹا ہو جائے گا۔ ایک سطح کی موٹائی تو نہیں ہے لمبائی اور چوڑائی تو ہے، لیکن دو سطحیں، تین، چار، پانچ، چھ بہت ساری ملیں گی تو کیا بن جائے گا؟ جسم، موٹائی آجائے گی۔ اچھا خط کس کو کہتے تھے؟ سطح کے کنارے کو، تو اس کے کنارے کو اس کی طرف کو، اب بہت سے خطوط آپس میں ملیں گے، صرف پہلے لمبائی تھی اب بہت سے ملے تو چوڑائی بھی آگئی سطح بن جائے گی، کیا بن جائے گی؟ سطح۔ اور خط کی طرف کو کیا کہتے تھے؟ نقطہ، اس کی تقسیم لمبائی، چوڑائی، اونچائی کسی میں نہیں ہو سکتی، لیکن بہت سے نقطے ایک ساتھ ایک ترتیب سے آپس میں ملیں گے تو کیا بن جائے گا؟ خط بن جائے گا، اب لمبائی میں تقسیم ہو سکے گی۔ تو نقطے بہت سے ملیں گے تو کیا بنے گا؟ خط، بہت سے خط ملیں گے تو کیا بنے گی؟ سطح، بہت سی سطحیں ملیں گی تو کیا بنے گا؟ جسم، تو یہ سارے کیا ہیں؟ مقدار متصل ہیں بھئی۔ تو یہ علم ہندسہ کا موضوع ہیں: وَالْمِقْدَارِ الْمُتَّصِلِ لِعِلْمِ الْهَنْدَسَةِ، اور مقدار متصل جو ہے وہ موضوع ہے علم ہندسہ کے لیے یعنی حساب کے لیے۔ وَالْمَعْلُوْمِ التَّصَوُّرِیِّ وَالْمَعْلُوْمِ التَّصْدِیْقِیِّ لِصِنَاعَتِیْ هٰذِهِ، اور جیسے کہ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی وہ موضوع ہیں لِصِنَاعَتِیْ میرے اس، لِصِنَاعَتِیْ یا متکلم کی ہے هٰذِهِ، میرے اس فن کے لیے۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ میرے اس فن، یعنی یہ جو میرا فن ہے جو میں بیان کر رہا ہوں اس وقت یعنی علم منطق اس کے لیے موضوع کیا ہیں؟ معلوم تصوری اور معلوم تصدیقی، یعنی معلوم تصور کہاں تک پہنچاتا ہے؟ مجهول تصور تک، اور معلوم تصدیق کہاں تک پہنچاتی ہے؟ مجهول تصدیق تک۔ وَيَنْبَغِيْ أَنْ يُُّعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُبْحَثُ عَنْ وُجُوْدِ الْمَوْضُوْعِ وَلَا يُبْحَثُ، جی، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ کسی علم کا جو موضوع ہوا کرتا ہے اس کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں اس علم میں بحث نہیں ہوتی بلکہ ابھی جیسے بیان ہوا عوارض ذاتیہ سے بحث ہوگی، کس سے بحث ہوگی؟ عوارض ذاتیہ سے بحث ہوگی، اس کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں بحث نہیں ہوگی۔ حقیقت اور، کہ یہ کس چیز سے بنا ہے؟ کس طرح بنا ہے؟ یہ بحث نہیں کی جائے گی بھئی۔ جیسے نحوی جو ہے نحوی، وہ کلمہ اور کلام سے بحث کرتا ہے کہ معرب ہے یا مبنی ہے، رفع پڑھنا ہے، نصب پڑھنا ہے، جر پڑھنا ہے، کیا عمل کرے گا، کس طرح کرے گا، یہ چیزیں تو وہ بحث کرے گا، لیکن یہ کیسے بنا؟ کیا تھا اصل میں؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ حقیقت اور ماہیت سے بحث کرنا یہ اس کا مقصد نہیں ہے۔ ہاں تبعاً کبھی ساتھ ذکر کر دیتا ہے، نحوی کیا کرے گا؟ تبعاً یہ چیزیں بھی بعض اوقات ذکر کرتا ہے لیکن یہ اس علم کا موضوع نہیں ہے، ویسے بات چل رہی ہوتی ہے اس کے تبعاً وہ کیا کر دیتا ہے؟ اسی کے تحت میں وہ کچھ کبھی ذکر کر دیتا ہے لیکن یہ دراصل اس کا موضوع نہیں ہے، موضوع کیا ہے؟ کلمہ اور کلام کی حقیقت کے پیچھے وہ نہیں پڑے گا بلکہ وہ ان کے عوارض ہی کو بیان کرے گا بھئی۔ تو کسی بھی علم کا جو موضوع ہوتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے، اس کی ماہیت کیا ہے، وہ کس چیز سے بنا ہے، یہ اس علم میں اس کے بارے میں بحث نہیں کی جا سکتی بلکہ کس چیز کے بارے میں بحث کی جاتی ہے؟ اس کے عوارض ذاتیہ کے بارے میں، لہٰذا طبیب جو ہے طبیب، وہ انسانی بدن کس سے بنا ہے، کس طرح بنا ہے، ان چیزوں کی بحث نہیں کرے گا بلکہ اس کے عوارض سے بحث کرے گا بھئی، کن چیزوں سے اس کو نفع ہوتا ہے، کس سے نقصان ہوتا ہے، کس سے بیماری آتی ہے، کس سے بیماری ختم ہوتی ہے، یہ چیزیں ان کے بارے میں وہ کیا کرے گا؟ بحث کرے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ ہاں اور اگر کبھی کہیں وہ حقیقت اور ماہیت کی بحث لے بھی آئے وہ تبعاً لے کر آئے گا بھئی، صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ وَيَنْبَغِيْ أَنْ يُُّعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُبْحَثُ عَنْ وُجُوْدِ الْمَوْضُوْعِ اور مناسب ہے کہ یہ جان لیا جائے کہ بحث نہیں کرتا موضوع کے وجود سے، وَلَا يُبْحَثُ عَنْ مَاهِيَّتِهِ اور نہ اس موضوع کی ماہیت سے بحث کرتا ہے، فِي الْعِلْمِ الَّذِيْ هُوَ مَوْضُوْعٌ لَّهُ اس علم کے اندر جو اس کا موضوع ہے۔ فَلَا، أَنَّهُ لَا يُبْحَثُ بحث نہیں کی جاتی بھئی، پیچھے کیا آیا؟ وَيَنْبَغِيْ أَنْ يُُّعْلَمَ أَنَّهُ لَا يُبْحَثُ، یہ مجہول پڑھیے بھئی، لَا يُبْحَثُ عَنْ وُجُوْدِ الْمَوْضُوْعِ بحث نہیں کی جاتی موضوع کے وجود کے بارے میں، وَلَا يُبْحَثُ عَنْ مَاهِيَّتِهِ اور نہ اس موضوع کی ماہیت کے بارے میں، فِي الْعِلْمِ الَّذِيْ هُوَ مَوْضُوْعٌ لَّهُ اس علم کے اندر جس کا وہ موضوع ہے۔ فَلَا يُبْحَثُ الطَّبِيْبُ عَنْ بَدَنِ الْإِنْسَانِ پس طبیب جو ہے وہ بحث نہیں کرتا انسانی بدن کے بارے میں، مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ مَوْجُوْدٌ أَوْ جِسْمٌ أَوْ حَيَوَانٌ نَّاطِقٌ اس حیثیت سے کہ وہ موجود ہے یا جسم ہے یا حیوان ناطق، اس حیثیت سے وہ بحث نہیں کرے گا، ہاں کیا چیز اس کو نفع دیتی ہے اور کیا چیز اس کو نقصان، اس اعتبار سے بحث کرے گا۔ وَلَا النَّحْوِيُّ عَنْ حَقِيْقَةِ الْكَلِمَةِ وَالْكَلَامِ اور نہ نحوی بحث کرے گا حقیقت کلمہ اور حقیقت کلام کے بارے میں، وہ ان کے عوارض کے بارے میں تو بحث کرے گا، ان کی حقیقت کے بارے میں بحث نہیں کرے گا۔ وَمِنْ ثَمَّ اور اسی وجہ سے، یاد رکھیے ثَمَّ اسم اشارہ ہے، ایک ہے ثُمَّ، ایک ہے ثَمَّ، ثُمَّ تو ہے حرف عطف بھئی، اور ثَمَّ کیا ہے؟ اسم اشارہ ہے ذٰلِكَ کی طرح، وَمِنْ ثَمَّ اور اسی وجہ سے، لَمَّا كَانَ مَوْضُوْعُ الْعِلْمِ الطَّبِيْعِيِّ الْجِسْمَ الْمُطْلَقَ جب علم طبیعی کا موضوع جسم مطلق ہے، علم طبیعی بھئی یہ طبیعیات یہ ایک علم ہے فلسفے کی ایک قسم ہے بھئی، علم طبیعیات کیا ہے؟ فلسفے کی ایک قسم، اب علم طبیعی جو ہے اس کا موضوع کیا ہے؟ الجسم المطلق، جسم مطلق ہے، وَكَانَ صَاحِبُ هٰذَا الْفَنِّ يُوْرِدُ مَبَاحِثَ الْهَيُوْلَىٰ وَالصُّوْرَةِ فِي الطَّبِيْعِيَّاتِ، جی، کہتے ہیں بھئی دیکھیے ہم نے آپ کو بات بتلا دی کہ جو بھی کسی علم کا موضوع ہوتا ہے اس کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں بحث نہیں کی جاتی بلکہ اس کے عوارض کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اسی طرح علم طبیعیات ہے بھئی، فلسفہ کی ایک قسم علم طبیعی بھی کہتے ہیں اس کو، علم طبیعی جو ہے اس کا موضوع جسم مطلق ہے، اس کا موضوع کیا ہے؟ جسم مطلق، اور جسم مطلق بنا ہے ہیولیٰ اور صورت سے، کس سے؟ جسم مطلق کوئی بھی جسم ہو وہ کس سے مرکب ہوتا ہے؟ ہیولیٰ اور صورت، ہیولیٰ تو ہوتا ہے اس کا مادہ اور صورت اس کی جو صورت ہوتی ہے، مادے کے ساتھ ساتھ صورت چاہیے یا نہیں چاہیے بھئی؟ دیکھیے یہی آپ کے سامنے کتاب، یہ بھی ایک مادے سے بنی ہے، چیزوں سے بنی ہے، لیکن اس کی یہ صورت ہے اس لیے آپ اس کو کتاب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ کتاب، اور صورت ہوتی تو آپ اس کو کتاب نہ کہتے، مثلاً یہ سارا ہی گتا ہوتا آپ اس کو گتا کہتے، کتاب نہ کہتے، تو دیکھو صورت بدلنے سے بھی نام کیا ہے؟ بدلتا ہے، تو کوئی جسم جو ہے وہ اس میں ایک مادہ ہوتا ہے اور ایک اس کی صورت ہوتی ہے۔ تو دیکھیے ہیولیٰ اور صورت، ہیولیٰ کسے کہتے ہیں؟ مادہ، تو ہیولیٰ اور صورت سے، اس سے تو وہ جسم بنا ہے، یہ تو اس کی حقیقت اور ماہیت ہے، کیا ہے حقیقت اور؟ حقیقت اور ماہیت، تو علم طبیعیات والے کو اس سے بحث نہیں کرنی چاہیے ہیولیٰ اور صورت سے، کیونکہ یہ حقیقت اور ماہیت کی بات آگئی، لیکن وہ ان کو ذکر کرتا ہے اپنی بحثوں کے اندر، تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ بھئی آپ کس طرح حقیقت اور ماہیت کو ذکر کر رہے ہیں یہ تو آپ کے علم کا موضوع نہیں، یہ تو ہاں آپ کے علم کا موضوع، آپ تو عوارض یعنی موضوع کی حقیقت اور ماہیت سے آپ کس طرح بحث کر رہے ہیں؟ تو پھر آگے بتلائیں گے کہ پھر وہ عذر پیش کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بھئی میں تبعاً ان کی بحث لے کر آیا ہوں، اصل مقصود یہ نہیں ہے، مطلوب یہ چیزیں نہیں ہیں، لیکن مطلوب کے سمجھنے کے لیے ان کا سمجھنا ضروری اس لیے ان کو بھی میں کیا کر دیتا ہوں؟ ذکر کر دیتا ہوں ان کے تابع ہو کر بھئی، صورت سمجھ میں آگئی، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جیسے نحوی جو ہے شروع میں ہی ذکر کرتا ہے کلمہ کی تعریف ذکر کرتا ہے، کیا ذکر کرتا ہے؟ بھئی آپ کلمہ کی تعریف کیوں ذکر کر رہے ہیں؟ کلمہ کی تعریف کو ہم نے کیا کرنا ہے؟ ہمیں یہ بتائیے کہاں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب پڑھنا ہے، کہاں جر پڑھنا ہے، اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، تعریفات شروع کر دیتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ بھئی کلمہ سمجھ میں آئے گا تو آگے یہ باقی باتیں بھی کیا ہوں گی آپ کو؟ تو یہ اس کے حقیقت اور ماہیت ہم تبعاً بیان کر رہے ہیں اس کے تاکہ مقصود کا سمجھنا کیا ہو جائے؟ آسان ہو جائے، صورت سمجھ میں آگئی؟ کہتے ہیں وَمِنْ ثَمَّ اور اسی وجہ سے لَمَّا كَانَ مَوْضُوْعُ الْعِلْمِ الطَّبِيْعِيِّ الْجِسْمَ الْمُطْلَقَ جب علم طبیعی کا موضوع جسم مطلق ہے، وَكَانَ صَاحِبُ هٰذَا الْفَنِّ اور اس علم والا جو ہے، اس فن والا جو ہے، يُوْرِدُ مَبَاحِثَ الْهَيُوْلَىٰ وَالصُّوْرَةِ وہ لے کر آتا ہے ہیولیٰ اور صورت کی بحثیں، فِي الطَّبِيْعِيَّاتِ کس کے اندر؟ علم طبیعیات میں، أُشْكِلَ عَلَيْهِ تو اس پر یہ اشکال کیا گیا، یہ اعتراض کیا جاتا ہے، كأَنَّ الْهَيُوْلَىٰ وَالصُّوْرَةَ مِنْ أَجْزَاءِ الْجِسْمِ کہ ہیولیٰ اور صورت تو جسم کے اجزا میں سے ہیں، وَمُقَوِّمَاتِهِ اور اس کے مقومات میں سے ہیں یعنی اس کو بنانے والے ہیں، اس کے مادہ ہیں، فَكَيْفَ يُوْرِدُ هٰذِهِ الْمَبَاحِثَ فِي الطَّبِيْعِيَّاتِ؟ تو کیسے وہ لے کر آتا ہے ان بحثوں کو طبیعیات میں؟ وَأُعْتُذِرَ مِنْ قِبَلِهِ اور عذر پیش کیا جاتا ہے اس کی جانب سے، كأَنَّ هٰذِهِ الْمَبَاحِثَ اسْتِطْرَادِيَّةٌ کہ یہ بحثیں جو ہیں تبعاً ہیں بھئی، یہ بحثیں کیا ہیں؟ استطرادیہ کا کیا معنیٰ؟ تبعاً ہیں بھئی، یعنی مقصود کے تابع ہیں، مقصود کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اس لیے تبعاً اس کو بھی ذکر کر دیتے ہیں۔ وَثَانِيْهَا مَبَادِيْهِ، مَبَادِيَةٌ ہے آپ کی کتابوں میں بھئی؟ مَبَادِيْهِ بھئی، ھ ہونی چاہیے بھئی، یہ کتابت کی غلطی ہے۔ بھئی اوپر بتلایا تھا ہر علم کے لیے تین چیزیں ہیں، ایک موضوع ہے، دوسرا کیا تھا؟ مبادی، وہ اب ان کا ذکر آیا، کہتے ہیں وَثَانِيْهَا مَبَادِيْهِ اور ان تین میں سے دوسرا جو ہے وہ مبادی ہیں۔ میں نے بتلایا مبادی سے کیا مراد ہیں؟ ابتدائی کچھ باتیں، ابتدائی کچھ، جو بھی علم آپ پڑھنے لگتے ہیں، شروع میں مصنف ایک مقدمہ لے کر آتا ہے، کیا لے کر آتا ہے؟ مقدمہ، اس کے بعد پھر اصل باتیں شروع کرتا ہے، تو مقدمے کے اندر وہ کچھ چیزیں ذکر کرتا ہے، ان کے سمجھنے سے آگے مقاصد کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے، تو وہ جو چیزیں ذکر کرتا ہے مقدمے میں ان کو کیا کہتے ہیں؟ مبادی کہتے ہیں، ابتدائی باتیں۔ تو کہتے ہیں وَأَمَّا الْمَبَادِيُّ مَا يَبْتَنِيْ عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ، مبادی وہ ہیں جن پر مسائل کی بنیاد ہو، وَهِيَ إِمَّا تَصَوُُّرِيَّةٌ، پھر یاد رکھیے یہ مبادی تصوری بھی ہو سکتے ہیں، تصدیقی بھی، کیا ہو سکتے ہیں؟ تصوری بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیقی، تصوری، تصوری کے اندر تعریفات آئیں گی، کیا آئیں گی؟ تعریفات آئیں گی جیسے کلمہ کس کو کہتے ہیں، اس کی تعریف کر دی، اسم کسے کہتے ہیں اس کی تعریف کر دی، فعل کسے کہتے ہیں اس کی تعریف، حالانکہ یہ علم نحو کے اندر ان کو ذکر کرنے کی کوئی حاجت نہیں، یہ تو مقاصد میں سے نہیں ہے بھئی، لیکن پھر بھی آپ کو کلمے کا پتہ ہوگا، اسم کا پتہ ہوگا، فعل کا پتہ ہوگا، حرف کا پتہ ہوگا، تو پھر ہی آگے مقاصد کا سمجھنا آسان ہوگا۔ تو یہ، تو تعریفات ہیں یہ تصورات ہیں، اَلْكَلِمَةُ، کلمہ کسے کہتے ہیں؟ دیکھیے، آپ آگے کلمے کی تعریف آرہی ہے، کیا تعریف ہے؟ اَلْكَلِمَةُ، جی، لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، یہ ایک چیز کی تعریف ہو رہی ہے، ایک چیز بیان ہو رہی ہے، کیا؟ کلمہ، تو یہ تصورات ہیں، کیا ہیں؟ تصورات ہیں، تو یہ تعریفات کس قبیل سے ہیں؟ تصوری، ان کے ذریعے ایک چیز کی وضاحت کی جاتی ہے بھئی، ایک چیز کی وضاحت کی جاتی ہے، تو یہ مبادی تصورات بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیقات، تصورات میں تعریفات آگئیں اور تصدیقات کے اندر وہ مقدمات آگئے قیاس کے۔ قیاس کے مقدمات ہوتے ہیں یا نہیں ہوتے بھئی؟ قیاس کے مقدمات ہوتے ہیں پھر ان سے نتیجہ نکلتا ہے اور وہ مقدمات کیا ہوا کرتے ہیں؟ قضیہ اور جملہ ہوا کرتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آگئی؟ تو لہٰذا وہ مبادی تصور کی قبیل سے بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیق، تصور کے قبیل سے ہوں تو تعریفات اس میں، اور تصدیق کی قبیل سے ہیں تو جو آگے اس جو قیاسات ہیں ان کے مقدمات وغیرہ بھئی۔ تو کہتے ہیں مبادی وہ ہیں مَا يَبْتَنِيْ عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ جن پر مسائل کی بنیاد ہوتی ہے، وَهِيَ إِمَّا تَصَوُُّرِيَّةٌ اور یہ یا تو تصوری ہوں گے، أَيْ حُدُوْدٌ تُوْرَدُ لِمَوْضُوْعِ الصِّنَاعَةِ، حدود، حد ان کی جمع ہے، تعریف کو کہتے ہیں، أَيْ حُدُوْدٌ تُوْرَدُ لِمَوْضُوْعِ الصِّنَاعَةِ وہ تعریفات جن کو لایا جاتا ہے اس فن کے موضوع کے لیے، وَأَجْزَائِهٖ اور اس کے، اس فن کے اجزا کے لیے، وَجُزْئِيَّاتِهٖ اور اس کی جزئیات کے لیے، وَأَعْرَاضِهِ الذَّاتِيَّةِ اور اس کے اعراض ذاتیہ کے لیے جو، جو بھی تعریفات لائی جاتی ہیں وہ تصوریاں ہیں، أَوْ تَصْدِيْقِيَّةٌ اور یا وہ مبادی کیا ہوں گے؟ تصدیقیہ ہوں گے، وَهِيَ الْمُقَدِّمَاتُ الَّتِيْ تُؤَلَّفُ مِنْهَا قِيَاسَاتُهٗ اور یہ وہ مقدمات ہیں تُؤَلَّفُ مِنْهَا کہ جن سے مرکب ہوتے ہیں قِيَاسَاتُهٗ اس علم کے قیاسات۔ پھر یہ قیاسات جو ہیں یاد رکھیے، إِمَّا بَدِيْهِيَّةٌ یا تو بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے، کیا ہوں گے؟ بدیہی ہوں گے یا نظری، یاد رکھیے اگر یہ قیاسات کے جو مقدمات ہیں، یا یہ بدیہی ہوں گے یا نظری، اگر یہ بدیہی ہوں تو ان کو کہتے ہیں اصول متعارفہ، کیا کہتے ہیں؟ اصول متعارفہ، کون سے قیاسات؟ کون سے مقدمات جو بدیہی ہوں، اور اگر وہ نظری ہیں یعنی جن میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے، تو پھر یاد رکھیے وہ دو قسم کے ہو سکتے ہیں، وہ اصول موضوعہ بھی ہو سکتے ہیں اور اصول مصادرہ بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ قیاس کے مقدمات بھئی، وہ جو تصدیقات میں اس کی قبیل سے ہیں، وہ یا تو بدیہی ہوں گے وہ مقدمات یا نظری، بدیہی ہوں گے تو کیا کہلائیں گے؟ اصول متعارفہ، بدیہی ہوں گے فوراً ہی پتہ چل گیا بھئی اور غور و فکر کی ضرورت ہی نہیں پڑی، اور یا ان میں کیا کرنا پڑے گا؟ غور و فکر، اور اگر غور و فکر کرے بعد ان کو تسلیم کیا جاتا ہے، تو پھر وہ دو قسم پر ہوں گے، یا وہ اصول اصول موضوعہ ہوں گے یا اصول مصادرہ، دیکھیے بھئی: تو کہتے ہیں إِمَّا بَدِيْهِيَّةٌ یہ مقدمات یا تو بدیہی ہوں گے، وَتُسَمَّى الْعُلُوْمَ الْمُتَعَارَفَةَ اور ان کو کہتے ہیں علوم متعارفہ یا اصول متعارفہ کہہ لیں، أَوْ غَيْرَ بَدِيْهِيَّةٍ یا وہ مقدمات کیا ہوں گے؟ غیر بدیہی ہوں گے، بَلْ نَظَرِيَّةً مُُسَلَّمَةً بلکہ نظری ہوں گے مُسَلَّمَةً تسلیم شدہ ہوں گے، ایسے نظری ہوں گے جو تسلیم شدہ ہوں، یاد رکھیے تسلیم شدہ جن کو مان لیا جائے کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ یہ ماننا دو قسم پر ہو سکتا ہے، یا تو بتلانے والے پر حسنِ ظن کرتے ہوئے جب یہ بتلا رہا ہے تو بات اسی طرح ہوگی، جب یہ بتلا— 3 آرہے ہیں، تو یہ بات اسی طرح ہوگی۔ آپ نے اس کہنے بتلا، کہنے والے اور بتلانے والے کے بارے میں اچھا گمان کیا کہ یہ جب کہہ رہے ہیں، یہ تو—یہ تو غلط بات کرتے نہیں، یہ تو ہمیشہ کس طرح کی بات کرتے ہیں؟ صحیح بات کرتے ہیں۔ جب یہ بتلا رہے ہیں تو بات ایسی ہی ہوگی، چنانچہ آپ نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا۔ تو یہ بات تسلیم شدہ ہوگئی۔ لیکن کس وجہ سے تسلیم کی آپ نے؟ حسنِ ظن، اس کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے۔ اور بعض اوقات دل میں شک اور انکار ہوتا ہے، لیکن پھر بھی تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ کیا ہوتا ہے؟ شک اور انکار۔ تو پہلی صورت میں تو شک اور انکار تھا ہی نہیں، اچھا گمان کیا اور بات تسلیم کر لی۔ اور کبھی کیا ہوتا ہے؟ شک اور—تو شک اور انکار کے بعد اگر تسلیم کیا جائے، تو یہ اصولِ مصادرہ ہیں۔ اور اگر اچھا گمان کرتے ہوئے ان کو مان لیا گیا، تو یہ اصولِ موضوعہ ہیں، بھئی۔ یوں کہیے آسان لفظوں میں، اصولِ موضوعہ وہ ہیں جو دونوں کے نزدیک ساتھ مسلم ہوں—بتلانے والا بھی اور سننے والا بھی۔ اور اصولِ مصادرہ وہ ہیں جو بتلانے والے کے نزدیک تو ثابت شدہ، سننے والے کے نزدیک ثابت شدہ نہیں، اس کے ذہن میں شک اور انکار ہے؛ لیکن تسلیم کر رہا ہے، لیکن ذہن میں شک اور انکار ہے۔ تو کہتے ہیں یا تو وہ قیاسات بدیہی ہوں گے، ان کو علومِ متعارفہ کہتے ہیں، یا غیرِ بدیہی بلکہ نظری ہوں گے؛ پھر وہ نظری مسلمہ ہوں گے، یعنی تسلیم شدہ۔ "فإن كانت تسليماً على سبيل حسن الظن" اگر یہ تسلیم کرنا جو ہے، حسنِ ظن کے طریقے پر ہو "ممن" اس شخص کی طرف سے "ألقاه إليه" جس نے اس کی طرف اسے ڈالا ہے—جس شخص نے اسے اس کی طرف، یعنی جس نے وہ بات اس پر پیش کی ہے، اس کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے آپ نے اس کی بات کو تسلیم کر دیا— "تسمى أصولاً موضوعة" ان کو کیا کہتے ہیں؟ اصولِ موضوعہ کہتے ہیں۔ "وإن كانت تسليماً مع الاستنكار" اور اگر تسلیم کرنا استنکار کے ساتھ ہو، یعنی انکار، یعنی شک و شبہے کے ساتھ ہو "تسمى مصادرة" تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مصادرہ۔ "وثالثها المسائل" اور ان تین میں سے تیسری چیز مسائل ہیں۔ بتایا تھا کہ کسی علم کے لیے کتنی چیزیں ہیں؟ تین: موضوع، مبادی، اور مسائل۔ اب ان کا بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: "والمسائل وهي التي اشتمل العلم عليها" اور یہ وہ ہیں جن پر علم مشتمل ہوتا ہے "ويحاول إثباتها بالدليل" اور "حاول يحاول" کے معنی ارادہ کرنے کے ہیں۔ "ويحاول إثباتها" اور ارادہ کیا جاتا ہے ان کو ثابت کرنے کا "بالدليل" کس کے ذریعے؟ دلیل کے ذریعے، دلیل کے ساتھ ان کو ثابت کرنے کا ارادہ۔ تو مسائل جو ہیں، وہ علم جن پر علم مشتمل ہوتا ہے۔ موضوع جس کے عوارضِ ذاتیہ سے بحث کی جائے؛ مبادی اس علم کی ابتدائی باتیں، وہ تصورات بھی ہوسکتے ہیں، تصدیقات بھی ہوسکتے ہیں؛ اور مسائل وہ جن پر علم مشتمل ہوا کرتا ہے اور وہ جن کو دلیل کے ذریعے ثابت کیا جاتا ہے، علم کے مسائل، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟ تو وہ یہ معنی ہے کہ جن پر علم مشتمل ہوتا ہے "ويحاول إثباتها بالدليل" اور دلیل کے ذریعے ان کو ثابت کرنے کا ارادہ، جن کے بارے میں بحث کی جاتی ہے علم کے اندر، دلیل کے ذریعے ان کو ثابت کیا جاتا ہے، وہ باتیں وغیرہ وہ اس علم کے مسائل ہیں، بھئی۔ چلیے، بس بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 107 of 108