Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-041

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 48
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 41 1 والجوهر هو الموجود لا في موضوع أي محل، بل قائم بنفسه كالأجسام. والعرض هو الموجود في موضوع أي محل. والمقولات العرضية هي الكم، والكيف، والإضافة، والأين، والملك، والفعل، والانفعال، ومتى، والوضع. وتجمعها هذا البيت الفارسي: مرد دراز نيكو ديدم بشهر امروز با خواسته نشسته از كرد خويش فيروز بھئی، گزشتہ سبق میں ہم مقولاتِ عشرہ کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ مقولاتِ عشرہ یعنی اجناسِ عالیہ بھئی۔ ان اجناسِ عالیہ میں سے آپ نے پڑھا کہ ایک جوہر ہے اور نو عرض ہیں بھئی۔ جوہر وہ جس کا اپنا وجود ہو۔ یہ کسی محل کا محتاج نہیں بھئی، یعنی کسی موصوف کا محتاج نہیں، بلکہ یہ خود موصوف ہوگا۔ اور عرض وہ ہے جو اپنے وجود میں محل کی محتاج ہو، یعنی آسان لفظوں میں یوں کہیے: جوہر جو ہے وہ موصوف ہوگا اور عرض اس کی صفت ہوگی۔ کیا ہوگی؟ صفت ہوگی، اور صفت کے لیے ہمیشہ کوئی موصوف چاہیے بھئی، بغیر موصوف کے اس کا اپنا الگ وجود نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو ان کے لیے موصوف چاہیے بھئی۔ سفیدی ہے، سفیدی کے لیے کوئی محل چاہیے جس کے ساتھ وہ قائم ہو بھئی، کوئی موصوف چاہیے۔ اسی طرح جو بھی رنگ ہے، اس کے لیے کوئی موصوف چاہیے، اس کا الگ اپنا وجود نہیں بھئی۔ کوئی موصوف چاہیے جس کے ساتھ وہ قائم ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ باقی سب صفت ہیں، باقی سب صفات ہیں، اور جوہر جو ہے اس کا اپنا الگ وجود ہوتا ہے۔ تو مقولاتِ عشرہ میں سے ایک جوہر ہے اور باقی نو عرض کی قبیل سے ہیں، عرض ہیں بھئی۔ اور مقولاتِ عشرہ کون کون، تو ان میں سے ایک جوہر ہوا، اور باقی مقولاتِ عرضیہ کون کون سے ہوئے؟ کم، کیف، اضافہ، عین، ملک، فعل، انفعال، متى، اور وضع۔ وضع بھئی۔ ان میں سے کم کے بارے میں آپ پڑھ چکے، بتلایا تھا کم کسے کہتے ہیں؟ وہ عرض ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا کرے، تقسیم کو قبول کرے، اور اس کے اندر یہ پیمائشیں وغیرہ آ گئیں، مقداریں بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا یہ دو قسم پر ہے: ایک کمِ متصل ہے اور ایک کمِ منفصل بھئی۔ کمِ متصل، اسے متصل نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ جہاں دو اجزا میں آپس میں اتصال ہوگا۔ یعنی جہاں ایک جز کی انتہا ہو رہی ہے، بعینہٖ وہی دوسرے جز کی ابتدا بھی ہے بھئی۔ تو ان میں حدِ مشترک ہوتی ہے، جہاں ایک کی انتہا ہوتی ہے، وہیں سے دوسرے کی ابتدا ہوتی ہے۔ جیسے لمبائی آپ تقسیم کرتے ہیں، دو حصے کرتے ہیں، تو جہاں ایک حصے کی انتہا ہے، بعینہٖ وہی دراصل دوسرے حصے کی ابتدا ہے۔ جبکہ دوسری قسم کمِ منفصل ہے بھئی، جس میں ایسا نہیں ہوتا بھئی، حدِ مشترک نہیں ہوتی بھئی، حدِ مشترک بھئی۔ اور یہ عدد میں ہے، عدد میں۔ سمجھ میں آیا؟ دو، چار، پانچ، دس، پندرہ، بیس۔ تو یہ عدد بھئی، اور اس میں آپ تقسیم کرتے ہیں تو کوئی حدِ مشترک ان میں نہیں ہوتی، الگ الگ ہیں سب بھئی، الگ الگ۔ اس کے بعد کیف کے بارے میں پڑھا بھئی۔ کیف وہ عرض ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے تقسیم کا تقاضا نہیں کرتی بھئی، تقسیم کو قبول اپنی ذات کے اعتبار سے نہیں کرتی۔ مثلاً بھئی موٹاپا ہے، اور دبلا پن ہے، اور خوبصورتی ہے، بدصورتی ہے بھئی۔ اسی طرح رنگ ہیں بھئی، سفیدی ہے، سفیدی، سیاہی، اور سرخ رنگ بھئی، سبز، یہ سب رنگ بھی اس کے اندر داخل بھئی۔ اور سمجھ میں آیا؟ تو تمام کیفیات اس کے اندر داخل ہو گئیں، جیسے خوش ہونا، غمگین ہونا، کوئی زیادہ خوش ہے، کوئی کم خوش ہے، کوئی زیادہ غمگین ہے، کوئی کم غمگین ہے، وغیرہ، یہ سب اس کے اندر داخل ہیں، سب کیفیات بھئی۔ اس کے بعد تیسرے نمبر پر اضافت کے بارے میں پڑھا بھئی۔ اضافت وہ عرض ہے کہ جسے سمجھنے کے لیے دوسری چیز کا سمجھنا ضروری ہے بھئی۔ تو دو چیزوں کے درمیان ایسی نسبت کہ ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہو۔ جیسے باپ کسے کہتے ہیں؟ جس کا بیٹا ہو، اور بیٹا کسے کہتے ہیں؟ جس کا باپ ہو۔ مالک اسے کہتے ہیں جس کا مملوک ہو، اور مملوک اسے کہتے ہیں جس کا مالک ہو۔ استاد اسے کہتے ہیں جس کا شاگرد ہو، اور شاگرد اسے کہتے ہیں جس کا استاد ہو۔ خاوند اسے کہتے ہیں جس کی بیوی ہو، اور بیوی اسے کہتے ہیں جس کا خاوند ہو بھئی۔ تو ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہوا بھئی، تو یہ اضافت ہے بھئی۔ اس کے بعد عین ہے بھئی، عین۔ عین، اور یہ وہ عرض ہے، تعریف لکھ لی تھی اس کی؟ وہ عرض ہے جو کسی شے کو مکان میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو۔ وہ حالت ہے جو کسی شے کو مکان میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو بھئی، مکان میں۔ جو بھی چیز ہوگی، وہ کسی نہ کسی مکان میں، کسی جگہ میں ہوگی بھئی۔ چیز ہو اور جگہ میں نہ ہو، ایسا تو نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور پھر یہ بتلایا تھا آپ کو، دو قسم پر ہے بھئی: ایک عینِ حقیقی اور ایک عینِ اضافی بھئی۔ تو عین کے لفظی جگہ کا معنی آپ کو سمجھ میں آ رہا ہے، یہ دراصل ماخوذ ہے "أين هو"، عربی میں کہتے ہیں "أين هو"، وہ کہاں ہے؟ تو کس چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے دراصل؟ جگہ کے بارے میں، کہ وہ کس جگہ ہے یعنی، تو یہ عین اسی سے ہے بھئی۔ تو یہ عین دو قسم پر ہے: ایک عینِ حقیقی اور ایک عینِ غیرِ حقیقی۔ عینِ حقیقی تو وہ ہے کہ کوئی چیز جس جگہ پر ہے اس کو پورا بھر دے، اس کو کیا کہیں گے؟ عینِ حقیقی۔ اور ایک عینِ غیرِ حقیقی کہ جس جگہ میں ہے اس کو پورا نہ بھرے، جیسے زید گھر میں ہے۔ اب زید نے پورے گھر کو کیا بھر دیا؟ نہیں بھئی، زید گھر کے جو کسی ایک جگہ پر، کسی ایک جز میں ہوگا۔ اور ایک عینِ حقیقی ہے بھئی، ایک عینِ حقیقی۔ دیکھیے جیسے آپ کا وجود ہے، آپ کا وجود اس وقت اس نے فضا کے ایک مخصوص حصے کو بھرا ہوا ہے۔ فضا کے ایک، بھئی جب تک آپ یہاں نہیں بیٹھے تھے، یہاں ہوا موجود تھی بھئی۔ ہوا نے اس جگہ کو بھرا ہوا تھا۔ آپ آ کر بیٹھ گئے، اب اس جگہ کو کس نے پر کر دیا؟ آپ کے بس، آپ کے جسم نے بھئی۔ وہ جو ہوا تھی وہ دائیں بائیں ہوئی، اور آپ کے، یہ فضا بعینہٖ وہی اسی جگہ کو اب جس کو پہلے جہاں ہوا موجود تھی، اب اس جگہ کو آپ کے جسم نے پر کر دیا، تو یہ جو فضا، یہ جو جگہ جس کو ہمارا جسم پر کر دیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عینِ حقیقی بھئی، عینِ حقیقی۔ یا مثلاً یہ آپ کی کتاب ہے بھئی، اس نے کچھ فضا کو پر کیا ہوا ہے یا نہیں بھئی؟ جی؟ فضا کو پر کیا ہوا ہے۔ تو یہ جس فضا کو اس نے پر کیا ہوا ہے، یہ اس کا عینِ حقیقی ہے۔ تو ہر وہ چیز جس کا جسم ہوگا وہ کچھ نہ کچھ فضا کو پر کرے گی اور اس جگہ میں پھر صرف وہی چیز ہے اور کوئی چیز نہیں بھئی۔ جس فضا کو آپ کے بدن نے پر کیا ہوا ہے اس میں صرف آپ کا بدن ہے اور کوئی چیز وہاں نہیں آ سکتی، آ ہی نہیں سکتی بھئی۔ اسی جگہ میں کتاب بھی آ جائے، نہیں ہو سکتا بھئی، کیونکہ یہ عینِ حقیقی ہے بھئی، آپ کے بدن نے اس پوری جگہ کو کیا کیا ہوا ہے؟ پر کیا ہوا ہے، بھرا ہوا ہے بھئی۔ تو کتاب اس کے ساتھ تو آ سکتی ہے الگ الگ، لیکن اسی جگہ میں آپ کا جسم بھی ہو، یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو جس فضا کو جس چیز نے بھی پر کیا ہو، مثلاً آپ کی گاڑی ہے بھئی، گاڑی، گاڑی نے بھی ایک جگہ کو پر کیا ہوا ہے۔ اور ایسا ہو سکتا ہے گاڑی ہو اور جگہ کو اس نے ذرا بھی نہ پر کیا ہو؟ جگہ تو ضرور بھئی، اس کا جتنا جسم ہے اتنی فضا اس کے لیے چاہیے، اتنی جگہ اس کے لیے چاہیے بھئی۔ تو جس جگہ کو اس نے پر کیا ہوتا ہے وہ کیا ہے؟ عینِ حقیقی۔ اور اگر جگہ زائد ہو تو پھر اس کو بھی عین کہہ دیتے ہیں۔ زید کدھر ہے؟ میں نے پوچھا، آپ نے کہا زید گھر میں ہے۔ تو آپ نے جگہ کیا بتلائی؟ گھر، لیکن یہ عینِ حقیقی نہیں اس لیے کیونکہ زید نے اس سارے گھر کو پر نہیں کیا ہوا ہے۔ آپ سے کوئی پوچھے بھئی مثلاً بادشاہی مسجد کدھر ہے؟ آپ کیا کہیں گے؟ لاہور میں ہے۔ یہ عینِ غیرِ حقیقی ہے۔ کیا بادشاہی مسجد نے پورے لاہور کو پر کیا ہوا ہے؟ نہیں بھئی، ہاں جس جگہ پر ہے اس جگہ کو اس نے پر کیا ہوا ہے بھئی۔ اچھی طرح بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ عینِ حقیقی اور عینِ غیرِ حقیقی بھئی۔ اس کے بعد اگلا مقولہ جو ہے، ملک ہے بھئی، ملک۔ ملک کی تعریف لکھ لیجیے: ملک وہ حالت ہے، ملک وہ حالت ہے جو کسی جسم کے ساتھ، جو کسی جسم کے ساتھ، عین وہ حالت ہے جو کسی جسم کے ساتھ کسی دوسری چیز کے متصل ہونے سے، کسی دوسری چیز کے متصل ہونے سے اور اس کے احاطہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے، اور اس کے احاطہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے، احاطہ ط کے ساتھ ہے بھئی، ط، ظ، اور اس کے احاطہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ بھئی ملک وہ حالت ہے جو کسی ایک جسم کے دوسرے دوسری چیز کے ساتھ، دوسرے جسم کے ساتھ متصل ہونے سے اور احاطہ کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً جیسے اس کی مثال دی جاتی ہے، جیسے آپ کے کپڑے بھئی۔ آپ نے قمیض پہنی ہوئی ہے، اس قمیض نے آپ کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یا اگر آپ نے پگڑی پہنی ہوئی ہے، پگڑی نے آپ کے سر کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یا آپ نے گھڑی پہنی ہوئی ہے، گھڑی نے آپ کے ہاتھ کا، کلائی کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ یا جیسے آپ نے اگر انگوٹھی پہنی ہے، انگوٹھی نے آپ کی انگلی کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ تو یہ جو ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ ملنے سے جو ہیئت حاصل ہوئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملک کہتے ہیں۔ اور یہاں آپ کے منتقل ہونے سے وہ چیز بھی منتقل ہوتی ہے۔ آپ یہاں بیٹھے ہیں تو یہ قمیض بھی آپ کے ساتھ یہی پر ہے۔ آپ یہاں سے اٹھ کر دروازے کے پاس گئے تو قمیض بھی آپ کے ساتھ ہی وہاں تک گئی بھئی۔ تو یہاں وہ چیز اس دوسری چیز کا جس نے احاطہ کیا ہے، اس کے ساتھ ہی منتقل ہوتی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو ایک چیز کے ساتھ دوسری چیز کے متصل ہونے سے ہیئت حاصل ہوئی، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ملک کہتے ہیں، اور وہ دوسری چیز پہلی چیز کے ساتھ ہی منتقل ہوتی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھئی۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی ملک کی بھئی؟ یا جیسے سر پر آپ نے ٹوپی پہنی ہوئی ہے، اس نے آپ کے سر کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ آپ منتقل ہوتے ہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ تو یہ بھی آپ کے ساتھ ہی منتقل ہوتی ہے۔ تو یہ جو احاطہ کیا ہوا ہے، اس سے جو کیفیت، جو حالت، جو ہیئت حاصل ہوئی، اس حالت کو کیا کہتے ہیں؟ ملک کہتے ہیں بھئی ہیئت کو۔ اگلا مقولہ ہے فعل بھئی۔ فعل کی تعریف لکھ لیجیے: فعل وہ حالت، وہ حالت جو فاعل کے، جو فاعل کے کسی چیز میں، کسی چیز میں اثر ڈالنے سے حاصل ہو، اثر، اثر ث کے ساتھ ہے بھئی، اثر ڈالنے سے حاصل ہو، اثر ڈالنے سے حاصل ہو۔ وہ حالت جو فاعل کے کسی چیز میں اثر ڈالنے سے حاصل ہو۔ بھئی دیکھیے، آپ لکھ رہے ہیں، یہ آپ کا فعل ہے بھئی، اور اس کا کیا اثر ہو رہا ہے؟ وہ الفاظ، لفظ لکھے جا رہے ہیں ان کے وہ نقوش کاپی پر بھئی۔ یا کوئی بھی بھئی وہ وہ حالت جو کسی چیز میں اثر، مثلاً آپ لکڑی کاٹتے ہیں، لکڑی کاٹتے ہیں، تو دیکھو آپ کا یہ فعل لکڑی پہ اثر ڈال رہا ہے، تو یہ حالت کیا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فعل، کوئی بھی آپ فعل کرتے ہیں بھئی، کوئی بھی فعل کرتے ہیں۔ یا جیسے آپ پانی گرم کرتے ہیں، وہ گرم ہوتا ہے، تو یہ آپ کے فعل کا اثر ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وہ وہ حالت جو فاعل کے کسی چیز میں اثر ڈالنے سے حاصل ہو، تو آپ جو بھی فعل کرتے ہیں وہ سب اس کے اندر داخل ہو گئے بھئی، سب اس میں داخل ہو گئے۔ اگلا مقولہ ہے بھئی انفعال بھئی۔ وہ حالت جو کسی شے کو، وہ حالت جو کسی شے کو، وہ حالت جو کسی شے کو اس وقت حاصل ہوتی ہے، اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ فاعل کا اثر قبول کر لیتی ہے، وہ حالت جو کسی شے کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ فاعل کا اثر قبول کر لیتی ہے۔ سمجھ گئے بھئی؟ انفعال، انفعال، بس یہ فاعل کے اثر کو قبول کرنا، یہ انفعال ہے بھئی۔ آپ نے ایک فعل کیا اور دوسری چیز نے آپ کے فعل کے اثر کو قبول کر لیا، اس کے آپ اس پر آپ کے فعل کا اثر ظاہر ہوا، یہ کیا ہے؟ انفعال۔ آپ نے لکڑی کو کاٹا، وہ کٹ گئی۔ آپ نے کاپی پر لکھا، اس پر نقوش آ گئے۔ یہ کیا کیا اس نے؟ آپ کے فعل کے اثر کو قبول کیا۔ آپ نے پانی کو گرم کیا، وہ گرم ہو گیا، اس نے آپ کے فعل کے اثر کو قبول کیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو فعل کے اثر کو قبول کر لینا ہے، یہ کیا ہے؟ انفعال ہے، انفعال بھئی۔ اگلا مقولہ ہے متى بھئی، متى۔ وہ ہیئت جو کسی شے کو، وہ ہیئت جو کسی شے کو زمانے میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو، زمانے میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو، وہ ہیئت جو کسی شے کو زمانے میں ہونے کے اعتبار سے حاصل ہو، زمانے کے میں۔ 2 بھئی زمانہ آپ استعمال کرتے ہیں، کوئی بھی کام بتلانے کے لیے کیا، میں نے یہ کام کل کیا، یا پرसों کیا، یا یہ کام میں آج کر رہا ہوں، یا یہ کام میں کل کروں گا، یہ جو زمانے کے ساتھ بیان کرتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ یہ متٰی ہے بھئی، بس یہ زمانہ آئے گا اس متٰی کے اندر بھئی، آسان بات ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پانچ سال قبل مثلاً آپ چھوٹے تھے بھئی، اس زمانے میں آپ کی ہیئت اور تھی، آج کا زمانہ ہے، آج آپ بڑے ہو گئے بھئی، تو یہ زمانے کے اعتبار سے جو ہیئت ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ متٰی بھئی، زمانے کے تعلق کے اعتبار سے۔ کوئی بھی چیز آپ بیان کرتے ہیں مثلاً آپ کہتے ہیں: میں نے سبق 10 منٹ میں یاد کر لیا۔ تو دیکھو یہ 10 منٹ جو آپ بیان کر رہے ہیں، اس 10 منٹ میں اپنی کیا حالت بیان کر رہے ہیں آپ؟ کیا کیا آپ نے اس میں؟ سبق یاد کیا۔ تو یہ زمانے کے اعتبار سے جو ہیئت ہے، جو حالت ہے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ متٰی بھئی، متٰی۔ پھر یاد رکھیے یہ بھی دو قسم پر ہے: ایک متٰی حقیقی اور ایک متٰی غیر حقیقی۔ متٰی حقیقی اور ایک متٰی غیر حقیقی۔ متٰی حقیقی وہ ہے جس میں وہ وجود یا وہ فعل پورے اس زمانے کا احاطہ کر لے۔ پورے اس زمانے کا کیا کر لے؟ وہ وجود، یا وہ فعل پورے زمانے کا احاطہ کر لے، مثلاً آپ روزہ رکھتے ہیں بھئی، روزہ صبح سے شام تک سارے وقت کا کیا کر لیتا ہے؟ احاطہ کر لیتا ہے۔ یا جیسے مثلاً آپ نماز پڑھتے ہیں تو چار رکعت فرض پڑھنے میں مثلاً آپ کو 5 منٹ لگتے ہیں تو دیکھو اس 5 منٹ کے اندر جو ہے، یہ ساری کی ساری، اس کیا کیا گیا اس میں؟ اس میں نماز پڑھی گئی، سارا نماز اس سارے وقت کے اندر موجود ہے، سارے وقت میں۔ کوئی بھی اس وقت کا حصہ نماز سے خالی نہیں، اس پورے 5 منٹ میں کیا کرتے رہے آپ؟ نماز پڑھتے رہے، تو اس نماز نے اس پورے 5 منٹ کو بھر دیا بھئی۔ کوئی حصہ اس کا خالی نہیں۔ یا آپ کہتے ہیں میں نے 10 منٹ میں سبق یاد کیا تو اس پورے 10 منٹ میں آپ نے اور کوئی کام نہیں کیا، آپ کے اس سبق یاد کرنے نے اس پورے 10 منٹ کو بھر دیا بھئی۔ یہ کیا ہے عینِ، متٰی حقیقی بھئی، متٰی حقیقی۔ اور ایک متٰی غیر حقیقی ہے، مثلاً آپ سے کوئی پوچھے آپ کی پیدائش کب ہوئی؟ آپ مثلاً کیا کہتے ہیں کہ میری پیدائش مثلاً 1990 میں ہوئی بھئی، 90۔ تو اب یہ متٰی غیر حقیقی ہے، آپ کی پیدائش پورے سال میں تو نہیں ہوئی، سال کے کسی ایک جز میں ہوئی، تو دیکھو اس پورے وقت کو اس نے نہیں بھرا بلکہ وقت کے صرف ایک جز کو بھرا ہے، تو لہٰذا یہ متٰی غیر حقیقی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے آپ سے کوئی پوچھے زید کب پیدا ہوا؟ آپ کہتے ہیں زید 1900، 19ء مثلاً 80 میں پیدا ہوا، بھئی زید تو 1980 کے کسی ایک جز میں پیدا ہوا ہوگا، پورا سال تو اس کے پیدائش کا عمل نہیں، تو یہ متٰی غیر حقیقی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ آخری مقولہ ہے بھئی وضع، وضع۔ غیر حقیقی بتلایا تو صحیح کہ وہ فعل پورے وقت کو نہ بھرے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں بھئی: آج میں نے تلاوت کی، آج میں نے، یہ آج کس چیز کا نام ہے؟ زمانے کا نام ہے نا، تو کیا آپ نے سارا دن تلاوت کی یا کسی ایک حصے میں کی؟ کسی ایک حصے میں، بس تو اس فعل نے پورے وقت کو نہیں بھرا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ متٰی غیر حقیقی، اور اگر پورے کو بھر لے تو یہ حقیقی ہے بھئی۔ تو ایک ہے عین بھئی، عین وہ جگہ کے اعتبار سے ہیئت ہے جو، اور متٰی زمانے کے اعتبار سے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ایک متٰی حقیقی میں بھئی، عینِ حقیقی میں، عینِ حقیقی میں وہ فضا جس کو کوئی چیز بھر دے، اس جگہ میں ایک ہی چیز ہو سکتی ہے، دوسری کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ بھئی جس فضا میں آپ کا جسم ہے اس میں صرف آپ کا جسم ہی آ سکتا ہے، کوئی اور چیز نہیں آ سکتی بھئی عینِ حقیقی کے اندر۔ لیکن متٰی حقیقی میں، اسی 10 منٹ میں جس میں آپ نے سبق یاد کیا، کوئی شخص گاڑی چلا رہا ہوگا، کوئی شخص کھیت میں ہل چلا رہا ہوگا، کوئی کچھ اور کام کر رہا ہوگا، تو اس متٰی حقیقی جو تھا آپ کے پڑھنے کا، تو اس میں بے شمار کام ہو سکتے ہیں لوگوں کے بدلنے کے اعتبار سے بھئی۔ لیکن کس میں؟ یہ متٰی حقیقی میں، ہاں عینِ حقیقی کے اندر ایک جگہ پر ایک ہی وجود سما سکتا ہے، دو یا زیادہ وجود نہیں سمائے جا سکتے۔ جی، اگلا کیا لکھ رہے ہیں؟ وضع، وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ نمبر ایک: بعض اجزاء کی بعض کی طرف نسبت، نمبر ایک: بعض اجزاء کی بعض کی طرف نسبت، اور نمبر دو: خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ اور نمبر دو: خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جیسے قیام و قعود وغیرہ، جیسے قیام و قعود وغیرہ۔ وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو، یرحمک اللہ۔ وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ پہلی کیا نسبت؟ بعض اجزاء کی بعض کی طرف، اور نمبر دو؟ خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ مثال اس کی قیام اور قعود۔ بھئی دیکھیے! اس وقت جو آپ کی حالت ہے، آپ کی حالت ہے بھئی، بعض اجزاء بعض کی طرف کرتے ہوئے۔ آپ نے کیا کیا ہوا ہے؟ گھٹنوں کو موڑا ہوا ہے، زمین پر بیٹھے ہیں، اور ہاتھ آپ کے ہاتھوں کی آپ کے جسم کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے، ہاتھ مثلاً تپائی پر رکھا ہوا ہے آپ نے، اور یہ خاص ہیئت ہے آپ کی۔ کوئی آپ سے پوچھ، کوئی دیکھے گا تو یہی کہے گا: یہ شخص اس وقت بیٹھا ہوا ہے۔ کیا کہے گا؟ کیوں کہا اس نے بیٹھا ہوا؟ آپ کی ہیئت دیکھ کر، آپ کے جو اجزاء کی ایک دوسرے کی طرف نسبت ہے، اور نیز خارج، ارد گرد کے اعتبار سے۔ آپ کے اپنے اجزاء کی بھی ایک دوسرے کے ساتھ نسبت دیکھی، اور خارج کے اعتبار سے بھی آپ کو دیکھا۔ اسی اجزاء، اپنے اجزاء کو ذرا تبدیل کریں گے آپ بھئی، ذرا آپ کھڑے ہو جائیں بھئی، آپ کھڑے ہو جائیں۔ بھئی دیکھیے! اب ان کے اجزاء کی آپس میں ایک اور ہیئت ہے، پہلے گھٹنے مڑے ہوئے تھے، اب کھڑے ہیں تو گھٹنے کیا ہیں؟ سیدھے ہیں۔ ہاتھ ان کے سیدھے ہیں، تو ان اجزاء کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جو پہلے ہیئت تھی وہ کیا ہوئی؟ بدل گئی بھئی، اب آپ کو کوئی دیکھے گا ان کو کیا کہے گا؟ یہ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ کس اعتبار سے اس نے کہا یہ کھڑے ہوئے ہیں؟ ان کے اپنے اجزاء کی آپس میں بھی نسبت کو دیکھا کہ گھٹنے سیدھے ہیں، ہاتھ سیدھے ہیں، یہ اور خارج کے اعتبار سے بھی دیکھا۔ دو نسبتیں دیکھیں بھئی، اپنے اجزاء بھی آپس میں ان کی کیا نسبت ہے، اور خارج کے اعتبار سے بھی۔ تو اس وقت یہ کھڑے ہیں، بعینہٖ ان کے اپنے اجزاء کی ہیئت نہ بدلے، خارج سے صرف نسبت بدل جائے تو آپ کہیں گے یہ لیٹے ہوئے ہیں۔ مثلاً آپ فرض کریں، ابھی یہ، اب اپنے ہاتھ، ہاتھ آپ کے سیدھے، گھٹنے سیدھے، آپ ان کو ذرا بھی نہ ہلائیں، ہلنے نہیں دینا آپ نے ان کو اپنی جگہ سے، دو ساتھی آئیں، وہ آرام سے پکڑ کر آپ کو سیدھا کر دیں زمین پر۔ آپ کے اجزاء کی آپس میں نسبت نہیں بدلی، لیکن کیا خارج کے اعتبار سے کیا ہو گئی؟ بدل گئی، اب جب آپ نیچے پڑے ہوں گے ہم کیا کہیں گے یہ؟ یہ لیٹا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اپنے، اب دونوں نسبتوں کا دیکھا لحاظ ہے، جب ان کو نیچے لٹایا تو ان کے اپنے اجزاء، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو سیدھا رکھا، ذرا بھی نہیں ہلنے دیا، ہاتھوں کی ہیئت آپس میں ذرا بھی نہیں بدلی اجزاء کے اعتبار سے، لیکن خارج کے اعتبار سے کیا ہو گئی؟ حالت بدل گئی، پہلے صرف ان کے پاؤں زمین پر لگے ہوئے تھے، اب پورا دھڑ زمین پر لگا ہوا ہے، تو اب ہم کیا کہیں گے؟ یہ لیٹا ہوا ہے، تو دیکھو دونوں نسبتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔ یہ کھڑے ہونے میں، بیٹھنے میں، لیٹنے میں وغیرہ بھئی، جو بھی آپ حرکت کرتے ہیں، تو یہ ساری اجزاء کی ایک دوسرے کی طرف نسبت کرتے ہوئے اور خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے، یہ اسے یہ جو ہیئت حاصل ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضع کہتے ہیں، وضع بھئی، واؤ، ضاد، عین بھئی۔ جیسے کوئی انسان بیٹھا ہو، کھڑا ہو، لیٹا ہو، تو یہ اس کی مختلف حالتیں ہیں جو اس کے اپنے اعضاء، اپنے اجزاء کے اعتبار سے اور خارج کی نسبت سے اسے حاصل ہیں، اور اسی اعتبار سے ہم اسے کبھی کہتے ہیں وہ کھڑا ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں بیٹھا ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں لیٹا ہوا ہے، تو یہ اس کے اعضاء کے اعتبار سے، اجزاء، اعضاء یعنی اجزاء کے اعتبار سے اور خارج کے اعتبار سے اسے جو نسبت حاصل ہے، اس اعتبار سے ہم یہ اسے کہتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً کرسی کوئی پڑی ہوئی ہے، تو آپ کہتے ہیں کرسی سیدھی پڑی ہے۔ یہ کرسی اگر ایک طرف کو آپ گرا دیں تو پھر اب آپ کیا کہیں گے کہ کرسی گری ہوئی ہے۔ تو دیکھو یہ خارج کے اعتبار سے اس کی نسبت، اپنے اجزاء کے اعتبار سے تو اگرچہ اس کی نسبت نہیں بدلی، لیکن خارج کے اعتبار سے اس کی نسبت بدل گئی بھئی۔ تپائی مثلاً سیدھی پڑی ہے یا تپائی گری ہوئی ہے، یا تپائی کمرے کے درمیان میں پڑی ہے، یا ایک طرف پڑی ہے، یا کونے میں پڑی ہے، یا کنارے میں پڑی ہے، تو یہ دیکھو ساری نسبتیں اس کی خارج کے اعتبار سے اسے حاصل ہو رہی ہیں، اور اس کے بدلنے سے آپ بھی اس پر مختلف لفظ بول رہے ہیں کہ یہ تپائی مثلاً سیدھی پڑی ہے، یا یہ تپائی اس وقت گری ہوئی ہے، یا کمرے کے درمیان میں پڑی ہے یہ، اور اگر ہیئت بدلی کمرے کی دیوار کے پاس ہے تو آپ کہتے ہیں کنارے کے اندر تپائی پڑی ہوئی ہے وغیرہ بھئی، یہ سب کس میں داخل ہیں؟ وضع کے اندر داخل ہیں بھئی، وضع کے اندر۔ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
108 approved lectures · 41 of 108