Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 26 1 والثاني إما لا يكون معناه الواحد مشخصا بل يكون له أفراد كثيرة. وهو ضربان، أحدهما أن يكون صدق ذلك المعنى على سائر أفراده على سبيل الاستواء من غير أن يتفاوت بالأولية أو الأولوية أو الأشدية أو الأزيدية. ويسمى هذا القسم بالمتواطئ لتواطؤ أفراده وتوافقها في تصادق ذلك المعنى العام، كالإنسان بالنسبة إلى زيد وعمرو وبكر. کل مفرد کی دوسری تقسیم ہم نے شروع کی تھی کہ مفرد جو ہے، اس کا معنی ایک ہی ہوگا یا اس کے کئی معانی ہوں گے۔ اگر اس کا ایک ہی معنی ہو، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ متحد المعنی۔ اور اگر اس کے کئی معانی ہوں، تو اس کو کہتے ہیں متکثر المعنی۔ ایک معنی والے کو متحد المعنی اور کئی معانی والے کو متکثر المعنی۔ پھر جس کا معنی ایک ہو، یعنی متحد المعنی، اس کی تین قسمیں ہیں بھئی، تین قسمیں۔ ایک تو یہ معنی تو ایک ہی ہے، وہ معنی وہ جو ایک معنی ہے متعین اور مشخص ہوگا، تو وہ اسے کیا کہیں گے؟ علم کہیں گے۔ یعنی آسان لفظوں میں، میں نے آپ کو بتلایا تھا، جس میں شرکت نہ ہو سکے، جس میں شرکت نہ ہو سکے اور کسی متعین فرد پر وہ صادق آئے، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ علم کہتے ہیں۔ مناطقہ کے نزدیک اسے کیا کہا جاتا ہے؟ علم کہا جاتا ہے۔ جیسے کہ زید ہے، ھذا اور ھو۔ دیکھیے، زید ایک متعین شخص کا نام ہے، اس میں شرکت نہیں، یعنی اوروں پر یہ صادق نہیں آتا۔ اسی طرح ھذا، ھذا کے ذریعے آپ کسی قریب والی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، تو جب بھی اشارہ کریں گے، یقیناً کسی متعین چیز کی طرف اشارہ کریں گے، غیر متعین کی طرف اشارہ نہیں کریں گے۔ تو جب ایک متعین کی طرف اشارہ ہوا، تو یہ اس وقت صرف اسی پر صادق آ رہا ہے جس کی طرف آپ نے اشارہ کیا۔ مثلاً، میں کہتا ہوں: ھذا الکتاب، یہ کتاب۔ تو دیکھو، میں نے ایک متعین کتاب کی طرف اشارہ کیا۔ اب یہ ھذا ہر کتاب پر صادق نہیں اور چیزوں پر یہ صادق نہیں آ رہا۔ اسی طرح ھو، یہ غائب کی ضمیر ہے، تو اس سے مراد کوئی غائب شخص ہوتا ہے، تو یہ جب آپ نے استعمال کیا، تو یقیناً کسی معین ذات کے لیے استعمال کیا، ہر ذات اب اس سے مراد نہیں ہے بھئی، ہر ذات اس سے مراد نہیں۔ اور صاحب مرقات نے بتلایا کہ بہتر یہ ہے کہ اس کا نام علم کے بجائے کیا رکھنا چاہیے؟ جزئی حقیقی رکھنا چاہیے۔ کیا رکھنا چاہیے؟ جزئی حقیقی رکھنا چاہیے۔ جزئی، یہ وہی معنی جو ابھی بیان ہوا، جو کسی متعین فرد پر بولی جائے، جس میں شرکت نہ ہو سکے۔ اور اس کے مقابلے میں ہے کلی، کلی وہ ہے جس میں شرکت ہو سکے، جو کثیرین پر صادق آئے بھئی، کثیرین پر صادق آئے۔ جیسے انسان بھئی، ہر شخص زید، عمرو، بكر وغیرہ جتنے بھی ہیں، سب پر صادق آتا ہے۔ تو اس میں شرکت ہو سکتی ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی۔ جزئی کسے کہتے ہیں؟ جس میں شرکت نہ ہو سکے اور کسی معین فرد پر صادق آئے اور کلی کسے کہتے ہیں؟ جس میں شرکت ہو سکے۔ تو پھر یہ جزئی حقیقی انہوں نے نام رکھا، میں نے بتلایا تھا آپ کو کہ جزئی دو قسم پر ہے: ایک جزئی حقیقی اور ایک جزئی اضافی ہے بھئی۔ جزئی حقیقی کسے کہتے ہیں؟ یہی ابھی تعریف گزر گئی بھئی، جو کسی متعین فرد پر بولی جائے اور اس میں شرکت نہ ہو سکے، جیسے زید، ھذا اور ھو۔ اس کے مقابلے میں جزئی اضافی ہے، اضافی۔ اضافی اضافت کا معنی ہوتا ہے نسبت کرنا، تو جزئی اضافی، نسبت والی جزئی۔ کیا معنی جزئی اضافی کا؟ نسبت والی جزئی، یعنی دوسری چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ جزئی ہے۔ دوسری چیز کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ جزئی ہے اور تعریف بتلائی تھی جزئی اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر اخص تحت الاعم، ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو، اس کے نیچے واقع ہو بھئی۔ جیسے انسان حیوان کے نیچے ہے، حیوان انسان پر بھی بولا جاتا ہے اور چیزوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ تو حیوان میں ہوا عموم، انسان میں ہوا خصوص بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو جیسے انسان حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے، یہ جزئی اضافی ہے، کیونکہ یہ عام کے تحت ہے، اس کے نیچے واقع ہے بھئی۔ اسی طرح انسان کے تحت بہت سارے افراد ہیں: زید، عمرو، بكر، خالد وغیرہ، سب افراد ہیں۔ تو یہ افراد جو ہیں، یہ انسان کے نیچے ہیں، یعنی یہ تحت الاعم ہوئے بھئی، یہ اخص تحت الاعم ہوئے بھئی۔ تو یہ بھی زید، عمرو، بكر وغیرہ، یہ بھی جزئی اضافی ہیں۔ یہ جزئی اضافی بھی ہوئے اور جزئی حقیقی بھی ہوئے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جزئی حقیقی بھی ہوئے اور جزئی اضافی بھی ہوئے۔ کون؟ زید، عمرو، بكر۔ یہ جزئی حقیقی کیوں ہیں؟ کیونکہ ان میں شرکت نہیں ہو سکتی، یہ متعین ذات کے لیے بولے جاتے ہیں۔ اور جزئی اضافی کیوں ہیں؟ کیونکہ یہ عام کے تحت واقع ہیں، اس کے نیچے آ جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب انسان کو دیکھو، انسان حیوان کے تحت ہے، تو انسان کو کیا کہیں گے؟ جزئی اضافی، ہر اخص تحت الاعم، زبان سے ادا کرو بھئی، ہر اخص تحت الاعم کو کیا کہا جاتا ہے؟ جزئی اضافی۔ تو انسان حیوان کے تحت ہوا، تو انسان کو کیا کہیں گے؟ جزئی اضافی، تو یہ جزئی اضافی ہے انسان، لیکن جزئی حقیقی نہیں، کیونکہ جزئی حقیقی تو کسے کہتے تھے؟ جس میں شرکت نہ ہو سکے، زید، عمرو، بكر وغیرہ، اور انسان تو اس میں تو شرکت ہے، کثیرین پر یہ بولا جاتا ہے بھئی۔ اسی طرح حیوان بھئی، حیوان، یہ جسم نامی کے تحت واقع ہے۔ جسم نامی، نامی نمو سے ہے، نمو، نمو کا معنی ہے بڑھنا، بڑھنا۔ وہ جسم جس میں بڑھنا پایا جائے بھئی۔ چھوٹا ہو، آہستہ آہستہ بڑا ہوتا چلا جائے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ جسم نامی۔ تو حیوان جسم نامی کے تحت واقع ہے۔ جسم نامی بھئی، جسم نامی میں یہ سارے حیوان بھی آ گئے، انسان اور سارے جانور بھی آ گئے۔ ان کا جسم بڑھتا ہے یا نہیں آہستہ آہستہ؟ شروع میں چھوٹے ہیں، پھر آہستہ آہستہ بڑے ہو گئے۔ تو یہ سب جسم نامی ہیں۔ اور اسی طرح یہ پودے اور درخت بھی جسم نامی ہیں۔ یہ بھی شروع میں چھوٹے سے اور پھر آہستہ آہستہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں، بیج سے پودا پیدا ہوتا ہے، اگتا ہے اور پھر بڑا ہوتا چلا جاتا ہے۔ تو جسم نامی میں حیوان کے ساتھ ساتھ یہ درخت اور پودے بھی آ گئے۔ تو معلوم ہوا جسم نامی عام ہے، اس کے نیچے حیوان بھی آ گئے اور درخت اور پودے بھی آ گئے۔ تو حیوان جسم نامی کے تحت ہوا، تو حیوان کو کیا کہیں گے؟ جزئی اضافی۔ ہر خاص جو کس کے نیچے ہو؟ عام کے نیچے ہو، اسے کیا کہیں گے؟ جزئی اضافی کہیں گے۔ تو زید، عمرو، بكر، یہ کس کے نیچے ہیں؟ انسان کے نیچے، تو انہیں کیا کہیں گے؟ جزئی اضافی، لیکن یہ ساتھ ساتھ جزئی حقیقی بھی ہیں۔ جبکہ انسان کس کے نیچے ہے؟ حیوان، تو حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے انسان کیا ہے؟ جزئی اضافی ہے۔ کس کی طرف؟ اوپر والے کی طرف نسبت کرتے ہوئے نیچے والا جزئی اضافی ہے، ویسے نہیں جزئی، اوپر والے کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور حیوان بھی جزئی اضافی ہے، کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ جسم نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے بھئی۔ اور جسم نامی، یہ جسم کے، جسم مطلق کے تحت ہے بھئی۔ جسم مطلق، جسم مطلق، مطلق کا جس میں کوئی قید نہ ہو بھئی، مطلق کا کیا معنی؟ جس میں کوئی قید نہ ہو، تو جسم مطلق، اس میں ہر قسم کا جسم داخل ہوا، چاہے وہ نامی ہو یا نامی نہ ہو، جیسے پتھر وغیرہ۔ اب یہ پتھر بڑھتے ہیں بھئی کوئی؟ یہ پتھر وغیرہ اور چیزیں جو بڑھنے والی نہیں ہیں، وہ سب اس کے اندر داخل ہو گئیں بھئی۔ تو جسم، تو گویا جسم، جسم مطلق دو قسم کا ہو گیا: کچھ نامی ہے اور کچھ نامی نہیں۔ یہ سب اس میں داخل، تو اور نامی اس میں سے خاص ہے، کیونکہ اس کے مقابلے میں غیر نامی بھی ہے۔ کچھ کیا ہیں؟ غیر نامی، تو جسم نامی جسم کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ جزئی اضافی ہے بھئی۔ جزئی اضافی کسے کہتے ہیں؟ ہر وہ خاص جو کس کے نیچے ہو؟ عام کے نیچے ہو، یعنی ہر اخص تحت الاعم، اسے کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی۔ توجہ ہے سبق کی طرف، ادھر؟ کدھر ہے توجہ آپ لوگوں کی، بولتے کیوں نہیں ہیں جلدی؟ ہر اخص تحت الاعم کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی اضافی کہتے ہیں۔ تو دیکھو، جو بھی کوئی خاص کسی عام کے نیچے ہو، اس عام کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی اضافی کہلائے گا۔ جسم نامی، یہ کیا ہے؟ کس کے نیچے ہے؟ جسم مطلق کے نیچے، تو جسم نامی جسم مطلق کے اعتبار سے کیا ہوا؟ جزئی اضافی۔ اور اسی طرح حیوان جسم نامی کے نیچے واقع ہے، کیونکہ اس میں حیوان بھی ہیں اور درخت وغیرہ بھی ہیں۔ تو حیوان جسم نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ جزئی اضافی ہے۔ اچھا، پھر حیوان کے نیچے کئی قسم کے افراد ہیں، انسان بھی ہیں اور غیر انسان بھی، تو انسان کیا ہوا ان میں سے؟ جزئی اضافی ہوا بھئی، حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ پھر انسان کے نیچے بہت سارے افراد ہیں، تو انسان عام ہوا، وہ افراد خاص ہوئے۔ تو زید، عمرو، بكر وغیرہ، یہ کیا ہیں؟ انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی اضافی ہیں۔ تو بس ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو، یعنی جو خود خاص ہے اور اس کے اوپر کوئی عام ہے، تو اس عام کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ کیا کہلائے گا؟ جزئی اضافی ہے۔ اضافی یعنی نسبت والی، اس اوپر کی طرف نسبت کرتے ہوئے یہ جزئی ہے، ویسے جزئی نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا ہر جزئی حقیقی جزئی اضافی ہے، کیونکہ وہ عام کے تحت واقع ہو گی۔ زید، عمرو، بكر کس کے تحت ہیں؟ انسان کے تحت، اور یہ جزئی حقیقی بھی ہیں اور جزئی اضافی بھی ہیں۔ تو ہر جزئی حقیقی کیا ہے؟ جزئی اضافی، لیکن ہر جزئی اضافی جزئی حقیقی نہیں، جیسے انسان حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے جزئی اضافی ہے، لیکن یہ جزئی حقیقی نہیں ہے، کیونکہ اس میں شرکت ہو سکتی ہے، اور جزئی حقیقی تو ہم کسے کہتے تھے؟ جس میں شرکت نہ ہو سکے بھئی۔ صاحب مرقات اسی لیے فرماتے ہیں کہ والاولى ان يسمى هذا القسم الجزئي الحقيقي، بہتر یہ ہے کہ ان يسمى هذا القسم کہ موسوم کیا جائے اس قسم کو جزئی حقیقی کے ساتھ، یعنی اس کا نام علم کے بجائے کیا رکھنا چاہیے؟ جزئی حقیقی رکھنا چاہیے۔ علم کیوں نہیں رکھنا چاہیے؟ ہاں، اس سے ذہن علم جو نام جو ہم علم کا لفظ ہم نام کے لیے استعمال کرتے ہیں، عام استعمال ہے، تو ذہن نام کی طرف چلا جاتا ہے، حالانکہ انہوں نے ابھی بتایا کہ اس علم میں جیسے زید، عمرو، بكر داخل ہیں، اسی طرح ھذا، اسماء اشارہ بھی اس کے اندر آ گئے، ھو یعنی ضمائر بھی اس کے اندر آ گئیں، تو ذہن تو ہمارا چلا گیا تھا کس کی طرف علم سنتے ہی؟ نام کی طرف، لیکن پتہ لگا صرف نام نہیں، نام اس میں شامل نہیں ہے، اسماء اشارہ بھی اس کے اندر شامل ہو گئے اور تمام ضمائر بھی اس میں شامل ہو گئیں، معلوم ہوا یہ وہ علم نہیں ہے جو ہم آپس میں استعمال کرتے ہیں علم کا لفظ دوسرے علوم میں، تو کہتے ہیں اسی لیے علم سے تو نام کی طرف ذہن چلا جاتا ہے کہ شاید یہ صرف زید، عمرو، بكر وغیرہ جیسے جو نام ہیں، وہ مراد ہیں، لیکن پھر جب مثالیں ذکر کیں ھذا اور ھو کی، تو پتہ چلا یہ تو اسماء اشارہ پر بھی بولا جاتا ہے اور یہ اسماء اور یہ ضمائر پر بھی بولا جاتا ہے، تو کہتے ہیں بہتر یہ ہے اس کا نام علم نہ رکھا جائے، بلکہ کیا رکھا جائے؟ جزئی حقیقی اس کا نام رکھا جائے۔ یہ تو وہ مفرد تھا، متحد المعنی، متحد المعنی کی تقسیم چل رہی تھی کہ جس کا ایک ہی، جس کا، جو کسی متعین معنی پر دلالت کرے بھئی، مشخص معنی ہو، یعنی اس میں شرکت نہ ہو سکے۔ اور کبھی پھر اس میں شرکت ہو سکتی ہے بھئی، پھر شرکت جب ہو سکے، تو پھر یہ اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ بولا جائے، تو اس کو کہتے ہیں کلی متواطی، اور اگر تمام افراد پر یہ برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، کسی پر زیادہ صادق آئے، کسی پر کم صادق آئے، تو اسے کہتے ہیں کلی مشکک۔ بھئی، دیکھیے، دوبارہ سنیے، متحد المعنی کی تقسیم کر رہے ہیں، جس کا ایک ہی معنی ہو۔ متحد المعنی، یہ کسی ایک ہی ذات پر صادق آئے گا یا بہت سی ذاتوں پر صادق آئے گا۔ اگر ایک ہی ذات پر صادق آئے، تو اس کا کیا نام ہم نے رکھا؟ جزئی، جزئی، اور اگر بہت سارے افراد پر یہ صادق آئے، تو اسے کیا کہیں گے؟ کلی کہیں گے، اور پھر یہ دو قسم پر: ایک کلی متواطی ہے، ایک کلی مشکک ہے۔ کلی متواطی، جس میں شرکت ہو سکتی ہے، کلی کا لفظ ہی بتلا رہا ہے جس میں شرکت ہو سکتی ہے، جو کثیرین پر صادق آئے، اور لیکن تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے، جبکہ کلی مشکک وہ ہے جو تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، بلکہ بعض پر زیادہ صادق آئے اور بعض پر کم صادق آئے، تو کلی متواطی کسے کہتے ہیں جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے؟ جیسے انسان ہے۔ اب انسان ایک پر صادق آتا ہے یا کثیرین پر صادق آتا ہے؟ کثیرین پر صادق آتا ہے اور برابری کے ساتھ صادق آتا ہے۔ زید بھی انسان ہے، عمرو بھی انسان ہے، بكر بھی انسان ہے، ایک بچہ جو پیدا ہوا صرف ایک ماہ کا ہے، وہ بھی انسان ہے۔ کوئی زیادہ یا کم انسان ان میں ہے یا سب انسان ہیں برابر بھئی؟ ہاں، اس میں چاہے ایک ماہ کا بچہ ہی کیوں نہ ہو، وہ بھی انسان ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے یہ کم انسان ہے اور زید کی عمر تو چالیس سال ہے، وہ زیادہ انسان ہے، بلکہ سب کیا ہیں؟ انسان ہونے میں سب برابر ہیں۔ ہر ایک، زید بھی انسان، عمرو بھی انسان، بكر بھی انسان، سب پر برابری کے ساتھ صادق آتا ہے، کمی بیشی نہیں ہے بھئی، کسی میں بھی انسان ہونے کی کمی بیشی نہیں، اس کو کیا کہیں گے؟ کلی متواطی، وہ کلی جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے، اسے کیا کہتے ہیں؟ کلی متواطی۔ اور اگر تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، بلکہ کمی بیشی کے ساتھ صادق آئے، تو اس کو کہتے ہیں کلی مشکک بھئی، جیسے، جیسے سفیدی، اب دیکھیے، سفیدی مختلف چیزوں میں ہوتی ہے، لیکن آپ دیکھتے ہیں بعض چیزوں میں سفیدی زیادہ ہے، بعض میں سفیدی کم ہے، تو دیکھو، افراد میں فرق آ گیا بھئی، افراد میں کیا ہوا سفیدی کے افراد میں؟ فرق آ گیا، کسی میں سفیدی زیادہ ہے، کسی میں سفیدی کم ہے۔ 2 جیسے آپ سفید کپڑے بھی دیکھتے ہیں، بعض میں سفیدی زیادہ ہوتی ہے، خوب چمک دمک اور سفیدی ہوتی ہے اور بعض ہیں وہ بھی، دوسرے بھی سفید ہوتے ہیں، لیکن اس کے مقابلے میں ان میں سفیدی کم ہوتی ہے۔ تو دیکھو، اب سفید سفیدی اس کپڑے میں بھی ہے جس میں خوب چمک دمک ہے اور اور دوسرے میں بھی سفیدی ہے، لیکن ایک میں زیادہ ہے سفیدی اور ایک میں کم ہے۔ تو دیکھو سفیدی جہاں بھی، جس میں بھی سفید جہاں پایا جائے گا ہم کہیں گے یہ سفیدی ہے، لیکن یہ اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ ساتھ صادق نہیں آتی۔ بعض پر کمی کے ساتھ صادق آتی ہے اور بعض پر زیادتی کے ساتھ صادق آتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ یا جیسے روشن، روشن۔ ہر وہ چیز جس میں چمک ہو ہم اسے کیا کہیں گے؟ روشن۔ تو یہ کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے، کثیرین پر بولا جا سکتا ہے۔ لیکن آپ خود دیکھتے ہیں، بعض چیزیں کم روشن ہیں، کم روشنی اس میں سے نکلتی ہے، بعض چیزیں زیادہ روشن ہیں۔ مثلاً، سورج بھی روشن ہے، بلب آپ جلاتے ہیں وہ بھی روشن ہے، ٹیوب لائٹ جلاتے ہیں وہ بھی روشن ہے۔ لیکن یہ روشن، یہ زیادہ کس پر صادق آ رہا ہے؟ سورج، کیونکہ وہ زیادہ روشن ہے بمقابلہ بلب اور ٹیوب لائٹ کے، بھئی۔ تو دیکھو، یہ کمی بیشی افراد کے پر صادق ہے، کمی بیشی کے ساتھ۔ اس کو کیا کہتے ہیں کلی مشکک کہتے ہیں۔ جی، وہ کلی، تعریف کریں اب ذرا کلی متواطی کسے کہتے ہیں؟ وہ کلی جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے، وہ کیا ہے؟ کلی متواطی۔ اور اگر تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے تو اسے کیا کہیں گے؟ کلی مشکک کہتے ہیں۔ متواطی تواطؤ سے ہے۔ تواطؤ کا معنی ہوتا ہے باہم ایک دوسرے کے موافق ہونا۔ باہم ایک دوسرے کے موافق ہونا۔ تو چونکہ کلی کے صادق اس کے افراد بھی ایک دوسرے جیسے ہیں، ایک دوسرے کے موافق ہیں اس کلی کے صادق آنے میں۔ جیسے ایک پر کلی انسان صادق آتا ہے، دوسرے پر بھی کیا آتا ہے؟ انسان، اسی طرح صادق آتا ہے۔ تو توجہ سے سننا، بھئی، کہ اس کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد باہم ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ کیا ہیں؟ موافق ہیں۔ ہاں، اس کے افراد ایک دوسرے کے موافق ہیں یا یوں کہیں ایک دوسرے کے برابر ہیں، بھئی۔ کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ کس چیز میں برابر ہیں؟ کلی کے صادق آنے میں۔ اس کلی کے ان پر صادق آنے میں یہ ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ زید عمرو کے برابر ہے کہ جیسے وہ انسان یہ بھی انسان، بھئی۔ عمرو زید کے برابر ہے۔ وہ ایک ماہ کا بچہ بھی زید کے برابر ہے اور زید اس کے برابر ہے۔ کس چیز میں ایک دوسرے کے برابر ہیں؟ انسان کے ان پر صادق آنے میں، یعنی انسان ان پر برابری کے ساتھ صادق آ رہا ہے۔ کسی پر زیادہ صادق آئے اور کسی پر کم صادق آئے، ایسا نہیں ہے، بھئی۔ تو یہ تواطؤ، متواطی کس سے ہے؟ تواطؤ سے، اور تواطؤ کا کیا معنی؟ توافق، بھئی، ایک دوسرے کے موافق ہونا۔ اور اس کے افراد بھی چونکہ ایک دوسرے کے موافق ہوتے ہیں اس کلی کے صادق آنے میں، اس لیے اس کو کیا کہا جاتا ہے کلی متواطی۔ اور مشکک، جس کی، جو اپنے تمام، کلی مشکک جو اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، اس کو کلی مشکک کس لیے کہتے ہیں کہ شَکَّ یُشَکِّکُ تشکیک کے معنی ہیں دوسرے کو شک میں ڈالنا۔ تو مشکک اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ کیا معنی ہوگا؟ دوسرے کو شک میں ڈالنے والا۔ تو یہ کلی بھی دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ وہ سوچتا ہے، وہ ایک جہت کو دیکھتا ہے تو اسے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام اس کے افراد ہیں کیونکہ اصل معنی میں سب شریک ہیں۔ جیسے دیکھیے، سفیدی دیوار میں بھی ہے، سفیدی مثلاً آپ کے کپڑوں میں بھی ہے، لیکن ایک میں سفیدی کم ہے اور ایک میں زیادہ ہے۔ تو اصل معنی کی طرف نظر کرے عقل کہ یہ بھی سفید تو یہ بھی ہے۔ اور دوسرے کی طرف نظر کرے سفید تو یہ بھی ہے۔ تو سفیدی تو دونوں میں ہے۔ تو اصل معنی کے اعتبار سے عقل کیا سوچتی ہے کہ یہ سب، وہ سمجھتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے۔ کیا سمجھتا ہے؟ کلی متواطی، کیونکہ سفیدی تو ہے ہر ایک میں چاہے کم ہو یا زیادہ ہو، لیکن ہے تو ہر ایک میں۔ تو سفیدی ہونے کے اعتبار سے اس کے افراد ایک دوسرے کے موافق ہیں وہ سمجھتا ہے۔ تو سمجھتا ہے یہ شاید کلی متواطی ہے۔ اور کمی بیشی کی طرف نظر کرتا ہے تو اس کو سمجھ، یہ ذہن میں آتا ہے کہ بھئی اس سے معلوم ہوتا ہے اس لفظ کا ایک معنی نہیں، سفیدی کا ایک معنی نہیں۔ اس کے بہت سے معانی ہیں۔ جیسے عین کا لفظ تھا اس کے کئی معانی تھے۔ عین کا معنی گھٹنا بھی تھا، چشمہ بھی تھا، آنکھ بھی تھا، سورج بھی تھا، وغیرہ۔ اسی طرح وہ بھی اس کا ذہن اصل معنی کی طرف نظر کرتا ہے تو کہتا ہے یہ سب اس کے افراد ہیں برابری کے ساتھ۔ اور کہ یہ بھی سفید ہے وہ بھی سفید ہے۔ لیکن وہ کمی بیشی کی طرف نظر کرتا ہے تو سمجھتا ہے شاید اس لفظ کے کئی معانی ہیں۔ اس یہ والا سفید بھی اس کا معنی، یہ والی سفیدی بھی اس کا معنی، یہ والا کمی بیشی، سب میں فرق ہے نا سفید ہونے میں۔ تو کمی بیشی کے ساتھ یہ اس معنی کے لیے بھی وضع ہے، یہ بھی اس کا معنی ہے، یہ اس معنی کے لیے بھی وضع ہے، یہ اس معنی کے لیے بھی وضع ہے۔ تو شاید یہ مشترک ہے۔ مشترک جس کے آگے آئے گا جس کے کئی معانی ہوں۔ جیسے عین کا لفظ کیا تھا؟ متکثر المعنی، اس کو مشترک کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ جس کے کئی معانی آئیں۔ تو یہاں پر بھی مشکک کا کیا معنی؟ وہ کلی جو اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دے۔ جیسے سفیدی اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے کس چیز، کہ اس کو شک ہوتا ہے کہ پتہ نہیں یہ کلی متواطی ہے یا یہ مشترک ہے۔ یہ کیا ہے؟ اس کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ نہ وہ متواطی ہے، نہ مشترک ہے بلکہ وہ تو کیا ہے؟ کلی مشکک ہے، بھئی۔ اور دیکھنے والے کو کیا شک پڑتا ہے؟ شاید یہ متواطی ہے۔ اس کے، کیونکہ سفیدی ہر ایک میں ہے۔ تو سفید ہونے کے اندر سب ایک دوسرے کے موافق ہیں تو اس کو شبہ پڑتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے۔ اور دیکھتا ہے دوسری طرف نظر کرتا ہے تو سفیدی تو ہے سب میں لیکن ہے تو کمی بیشی۔ تو وہ سمجھتا ہے شاید ہر ایک اس کا الگ الگ معنی ہے، الگ الگ فرد ہے۔ تو کئی معانی ہو گئے ایک ہی مفرد کے۔ اور کئی معانی ایک ہی مفرد کے ہوں تو اسے کیا کہتے ہیں؟ مشترک کہتے ہیں۔ تو وہ دوسری طرف نظر کرتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے یہ مشترک ہے، بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں؟ بھئی، اس کی تعریف پہلے کرو۔ کلی متواطی کسے کہتے ہیں؟ ہاں، جو اپنے افراد پر برابری کے ساتھ بولی جائے۔ تو یوں تو جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے، بھئی۔ یہاں صادق آئے کا لفظ کر لیں۔ وہ کلی ہے جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے۔ اور کلی مشکک کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، بھئی۔ تو اور کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں؟ تواطؤ کا کیا معنی ہے؟ باہم ایک دوسرے کے موافق ہونا۔ تو اس کے افراد بھی ایک دوسرے کے موافق ہوتے ہیں۔ کس چیز میں موافق ہوتے ہیں؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ اس کلی کے ان پر صادق آنے میں ایک دوسرے جیسے ہیں۔ جیسے اس پہ انسان صادق آ رہا ہے، دوسرے پہ بھی انسان اسی طرح صادق آ رہا ہے، تیسرے پر بھی اسی طرح انسان صادق آ رہا ہے۔ تو کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ کس سے ہے؟ تواطؤ سے ہے۔ اور تواطؤ کا کیا معنی؟ ایک دوسرے کے موافق ہونا۔ تو اس کے افراد بھی ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ کس چیز میں؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ ایک دوسرے کے ویسے نہیں موافق، زید الگ ہے، بکر الگ ہے، خالد الگ ہے، ہر ایک کی شکل و صورت، ڈھانچہ سب کچھ الگ ہے۔ لیکن ایک دوسرے کے موافق ہیں کس اعتبار سے؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ جیسے کلی ایک پر صادق آ رہی ہے دوسرے پر بھی اسی طرح صادق آ رہی ہے، تیسرے پر بھی اسی طرح صادق آ رہی ہے۔ کوئی کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کہ ایک انسان زیادہ ہو اور ایک کم انسان ہو، ایسا نہیں ہے۔ تو اس کے افراد ایک دوسرے کے موافق ہوتے ہیں کس چیز میں؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ اور کلی مشکک کو کلی مشکک کس لیے کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ وہ کبھی تو سمجھتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے اور کبھی سمجھتا ہے کہ شاید یہ مشترک ہے، بھئی۔ کیا ہے؟ کلی متواطی کس اعتبار سے ہے؟ اصل معنی کے لحاظ رکھتے ہوئے۔ اور مشترک کس اعتبار سے ہے؟ کمی بیشی کا لحاظ رکھتے ہوئے۔ کلی مشکک وہ ہے نہ جو کثیرین پر بولی جائے اور افراد میں کمی بیشی ہو اس معنی کی۔ کسی میں وہ معنی زائد ہو، کسی میں وہ معنی کم ہو۔ کسی میں سفیدی زیادہ ہوگی، کسی میں سفیدی کم ہوگی۔ تو وہ شخص دیکھنے والا جب بھی سفیدی کی طرف نظر کرتا ہے تو شک میں پڑ جاتا ہے کہ یہ پتہ نہیں کلی متواطی ہے یا شاید یہ مشترک ہے۔ یہ کیا ہے؟ اس کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ حالانکہ نہ وہ متواطی ہے، نہ مشترک ہے بلکہ وہ تو کیا ہے؟ کلی مشکک ہے۔ اور دیکھنے والے کو کیا شک پڑتا ہے؟ شاید یہ متواطی ہے۔ اس کے، کیونکہ سفیدی ہر ایک میں ہے۔ تو سفید ہونے کے اندر سب ایک دوسرے کے موافق ہیں۔ تو اس کو شبہ پڑتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے۔ اور دیکھتا ہے دوسری طرف نظر کرتا ہے تو سفیدی تو ہے سب میں لیکن ہے تو کمی بیشی۔ تو وہ سمجھتا ہے شاید ہر ایک اس کا الگ الگ معنی ہے۔ اس سفیدی کا ایک یہ والا بھی معنی ہے، یہ والی سفیدی بھی ہے۔ اس سفیدی کا یہ والا بھی معنی ہے، ذرا کم جو ہو وہ بھی سفیدی ہے، اس سے جو ذرا کم ہو وہ بھی کیا ہے؟ تو وہ سمجھتا ہے شاید اس لفظ کا یہ والا بھی معنی ہے، یہ والی سفیدی بھی اس کا معنی ہے، یہ والی سفیدی بھی اس کا معنی ہے، یہ والی سفیدی بھی اس کا معنی ہے۔ تو سمجھتا ہے شاید کہ یہ مختلف معانی کے لیے یہ، اس لفظ کے کئی معانی ہیں۔ یہ والی سفیدی بھی، یہ والی سفیدی بھی اور یہ والی سفیدی بھی۔ تو اس کے ذہن میں وہم پڑتا ہے شاید یہ مشترک ہے۔ تو اصل معنی کا لحاظ کرتے ہوئے، اصل معنی کیا ہے؟ نفس سفیدی۔ اس کے اعتبار سے وہ کیا سمجھتا ہے؟ یہ شاید کلی متواطی ہے۔ اور کمی بیشی کی طرف جب وہ نظر کرتا ہے تو کیا سمجھتا ہے؟ شاید یہ مشترک ہے۔ تو اس لیے اس کو کلی مشکک کہتے ہیں کہ یہ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے۔ اولاً وہ سمجھتا ہے شاید کلی متواطی ہے، نیز وہ سمجھتا ہے شاید یہ مشترک ہے۔ حالانکہ نہ یہ کلی متواطی ہے اور نہ مشترک، بلکہ کلی مشکک ہے، بھئی۔ چلیے بھئی، اب کتاب پر ذرا ترجمہ دیکھیے، بھئی۔ وَالثَّانِي، اور دوسری قسم۔ پہلی قسم کیا تھی؟ وہ متحد المعنی کی تقسیم چل رہی ہے۔ متحد المعنی کا وہ اگر متعین اور مشخص ہو بھئی اس کا معنی۔ اس مفرد کا معنی متعین اور مشخص ہو، یعنی اس میں شرکت نہ ہو سکے تو اسے کیا کہیں گے؟ جزئی حقیقی کہیں گے۔ اور دوسری قسم أَيْ مَا لَا يَكُونُ مَعْنَاهُ الْوَاحِدُ مُشَخَّصًا، وہ مفرد کہ اس کا وہ معنی واحد اس مفرد کی بات چل رہی ہے نہ جس کا معنی واحد ہوگا۔ تو وہ مفرد جس کا معنی واحد جو ہے وہ مشخص نہ ہو بَلْ يَكُونُ لَهُ أَفْرَادٌ كَثِيرَةٌ، یعنی متعین نہ ہو بلکہ اس کے بہت سے افراد ہوں۔ فَهُوَ ضَرْبَانِ، تو وہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر۔ أَحَدُهُمَا أَنْ يَكُونَ صِدْقُ ذٰلِكَ الْمَعْنَى عَلَى سَائِرِ أَفْرَادِهِ عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِوَاءِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَفَاوَتَ، اچھا، ایک تو یہ کہ اس معنی کا صدق عَلَى سَائِرِ أَفْرَادِهِ اپنے تمام افراد پر، اس معنی کا صدق جیسے انسان کو ذہن میں رکھنا، جیسے انسان کا صدق اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ ہے، تو یہ کلی متواطی کی تعریف کر رہے ہیں۔ تو وہ یہ کہ اس معنی کا صدق اپنے تمام افراد پر عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِوَاءِ، استواء کا معنی برابری، برابری کے طریقہ، سبیل راستہ طریقہ، عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِوَاءِ کس طریقے پر ہوگا؟ برابری کے طریقے پر ہو مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَفَاوَتَ بغیر اس کے کہ فرق ہو ان میں بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ أَوْ أَشَدِّيَّةٍ أَوْ أَزْيَدِيَّةٍ، کہ ان میں فرق ہو اولیت، اولویت، یا اشدیت یا ازدیدیت کے ساتھ، بھئی۔ بھئی، دیکھیے، کلی متواطی اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آتی ہے۔ جبکہ کلی مشکک اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتی۔ اس کے افراد میں فرق ہوگا۔ اب وہ فرق بتلانے لگے ہیں کہ کتنی قسم کے فرق ہو سکتے ہیں۔ کتنے اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے؟ بتلائیں گے چار اعتبار سے فرق ہو سکتا ہے۔ کلی متواطی میں چاروں میں سے کوئی ہی نہیں ہونا چاہیے۔ کسی قسم کا فرق نہیں ہونا چاہیے، سب پر کیا ہو؟ برابری کے ساتھ صادق آئے۔ برابری کے ساتھ صادق آئے۔ تو ان چار میں سے کوئی ایک صادق آنے میں، ان چار میں سے کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اور وہ چار فرق کون سے ہو سکتے ہیں؟ اولیت، اولویت، اشدیت اور ازدیدیت، بھئی۔ ازدیدیت، بھئی، یاء دال ہونا چاہیے، بھئی، ازدیدیت۔ بھئی، یہ صفت کے صیغے ہیں۔ اول، اول کا کیا معنی؟ پہلا۔ اچھا، اولا کا کیا معنی ہے؟ زیادہ لائق، زیادہ قابل۔ زیادہ کسی چیز کے زیادہ لائق ہو، کسی چیز کے زیادہ قابل ہو۔ یہ، اس کو کہتے ہیں اولا۔ اشد، اشد کا معنی زیادہ شدت والا، جس میں زیادہ شدت ہو کسی چیز کی۔ ازید، یہ زیادت سے ہے جو دوسرے سے زیادہ ہو، دوسرے سے زیادہ ہو۔ تو دیکھیے، صفت کے صیغے تھے: اول، اولا، اشد اور ازید۔ اور صفت کے صیغے کے آخر میں کبھی یاء مشدد اور یہ گول تاء ملا دیتے ہیں۔ تو اول سے کیا بن گیا؟ اولیت۔ یاء مشدد ساتھ ملائی اور گول تاء۔ اولا تھا، اولا کے آخر میں کیا ملائی؟ یاء مشدد اور تاء، تو کیا بن گیا؟ اولویت، بھئی۔ اشد کے آخر میں یاء مشدد اور تاء ملائی، کیا بن گیا؟ اشدیت۔ اور ازید کے آخر میں یاء مشدد اور تاء ملائی تو کیا بن گیا؟ ازدیدیت، بھئی، ازدیدیت۔ 3 تو صفت کے صیغے کے آخر میں کبھی کبھار یائے مشدد اور گول تا ملا کر اسے مصدر بنا لیا جاتا ہے۔ کیا بنایا جاتا ہے؟ مصدر۔ اب یہ مصدر بن گئے، اولیت کا کیا معنی؟ اول کا معنی تھا پہلا، اولیت کا معنی ہے پہلا ہونا، اول ہونا۔ اولىٰ کا معنی کیا تھا؟ زیادہ قابل، زیادہ لائق۔ اولویت کا کیا معنی؟ زیادہ لائق ہونا، یہ 'ہونا' مصدر کے آخر میں آتا ہے لفظ کے۔ اور اشد کا کیا معنی تھا؟ زیادہ شدید، تو اشدیت کا کیا معنی؟ زیادہ شدید ہونا۔ ازید کا کیا معنی؟ دوسرے سے زیادہ، اور ازیدیت کا کیا معنی؟ دوسرے سے زیادہ ہونا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 26 of 108