Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-081

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 81 1 والضروب الناتجة أيضا أربعة، أحدها من الكليتين والصغرى موجبة ينتج سالبة كلية كقولنا: "كل ج ب، ولا شيء من أ ب، فلا شيء من ج أ". والدليل على هذا الإنتاج عكس الكبرى، فإنك إذاعكست الكبرى صار "لا شيء من ب أ"، وبانضمامه إلى الصغرى انتظم الشكل الأول وينتج النتيجة المطلوبة. بھئی، گزشتہ سبق میں ہم شکل ثانی کی ضربیں کر رہے تھے، وہ ضربیں جو نتیجہ دیتی ہیں۔ اور آپ نے وہ نقشہ بنایا اس میں آپ نے دیکھا کہ چار ضربیں ہیں جو نتیجہ دیتی ہیں شکل ثانی میں۔ شکل ثانی وہ جس کے اندر حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ دونوں میں محمول کی جگہ آتا ہے بھئی، محمول کی جگہ۔ اور اس کی نتیجہ دینے کے لیے دو شرطیں تھیں؛ ایک تو یہ کہ صغریٰ اور کبریٰ میں کیف میں اختلاف ہو، یعنی ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو، اور دوسری شرط کلیتِ کبریٰ تھی کہ کبریٰ کو کلیہ ہونا چاہیے۔ اور یہ شرطیں چار کی ضربیں تھیں ان میں پوری ہو رہی تھیں، جبکہ بقیہ بارہ ضربوں کے اندر ان میں سے بعض میں ایک شرط نہیں تھی، بعض میں دونوں شرطیں نہیں تھیں تو وہ نتیجہ نہیں دیتی تھیں۔ اور آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ پہلی قسم جو ہے یعنی شکل اول، شکل اول جو ہے وہ بدیہی الإنتاج ہے، اس میں نتیجہ خود بخود آ جاتا ہے، ذہن خود بخود نتیجے کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، غور و فکر نہیں کرنا پڑتا۔ جبکہ باقی شکلیں جو ہیں ان میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے۔ یرحمک اللہ۔ ان میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے اور باقاعدہ اس نتیجے پر دلائل قائم کرنا پڑتے ہیں بھئی، دلائل۔ چنانچہ یہاں آپ نے دیکھا کہ پہلی ضرب بیان ہوئی شکل ثانی کی، اور پہلی ضرب جو نتیجہ دینے والی ہے انہوں نے بتلایا وہ دو کلیتین سے مرکب ہے، یعنی صغریٰ بھی کلیہ اور کبریٰ بھی کلیہ، اور صغریٰ موجبہ ہے تو خود بخود پتہ چل گیا کہ کبریٰ سالبہ ہو گا۔ جی، اور پھر مثال دی اس کی "كل ج ب، ولا شيء من أ ب" اور نتیجہ نکلا "لا شيء من ج أ"۔ پھر اس پر دلیل ذکر کی بھئی، دلیل ذکر کی۔ دلیل میں نے بتلایا تھا کہ شکل ثانی کے اندر جو ہے چار قسم کے ادلہ قائم کیے جاتے ہیں؛ ایک کو عکسِ صغریٰ کہتے ہیں، ایک کو عکسِ کبریٰ، اور ایک دلیلِ خلف ہے، اور ایک دلیلِ افتراض۔ یہ ایک دو قسم کی دلیلیں یہاں ذکر کریں گے، باقی دلیلیں اگلی بڑی کتابوں کے اندر آ جائیں گی۔ تو یہ جو پہلی ضرب تھی جس میں صغریٰ اور کبریٰ دونوں کلیہ ہیں، دونوں کلیہ ہیں اور صغریٰ جو ہے موجبہ ہے اور کبریٰ سالبہ ہے۔ اس کے نتیجے پر جو دلیل ذکر کی وہ اس کا نام ہے عکسِ کبریٰ، اس دلیل کا کیا نام ہے؟ عکسِ کبریٰ۔ اور طریقہ اس کا آسان ہے عکسِ کبریٰ کا کہ کبریٰ کا عکس کر لیا جائے بھئی، عکس بنا لیا جائے۔ اور عکس کس طرح بناتے تھے آپ پہلے پڑھ چکے، موضوع کو محمول کی جگہ اور محمول کو موضوع کی جگہ لے آئیں اور کیف اور صدق دونوں کو برقرار رکھنا ہے، یعنی اگر اصل صادق تھا تو عکس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق۔ اور اگر عکس موجبہ تھا تو اگر اصل موجبہ تھا تو عکس کو بھی موجبہ، اور اگر اصل سالبہ تھا تو عکس کو بھی سالبہ ہونا چاہیے، تفصیل پیچھے گزر چکی۔ تو اس کی دلیل عکسِ کبریٰ ذکر کی۔ اور وہ کیا طریقہ؟ عکسِ کبریٰ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ کبریٰ کا عکس کیا جائے اور پھر باقی سارا کچھ اسی طرح ہو۔ جب کبریٰ کا عکس کریں گے تو یہ پہلی شکل بن جائے گی، کیا بن جائے گی؟ شکل اول بن جائے گی۔ کیونکہ عکس کے اندر یہاں شکل ثانی ہے اصل میں، یہ ہے شکل ثانی۔ اور یہاں حد اوسط دونوں میں کہاں آ رہا ہے؟ محمول کی جگہ۔ اور شکل اول میں کبریٰ میں حد اوسط کہاں آتا تھا بھئی؟ موضوع کی جگہ۔ تو جب یہاں آپ کبریٰ کا عکس کریں گے، حد اوسط ہے شکل ثانی میں محمول کی جگہ کبریٰ میں بھی، تو کبریٰ میں جب عکس کریں گے تو حد اوسط کبریٰ میں موضوع کی جگہ آ جائے گا، تو یہ بعینہٖ وہی شکل اول بن جائے گی۔ اور شکل اول تو بدیہی الإنتاج ہے، وہ تو فوراً اس میں غور و فکر کرنا ہی نہیں پڑتا، ذہن خود بخود نتیجے کی طرف جاتا ہے تو نتیجہ آپ کے سامنے آ جائے گا۔ اور نتیجہ وہی نکلے گا جو آپ شکل ثانی میں بنا رہے تھے، عکسِ کبریٰ کر کے۔ تو یہ وہی نتیجہ آنا کبریٰ کا عکس کرنے کی صورت میں یہ دلیل ہے اس بات کی کہ وہ جو شکل ثانی میں آپ نے قیاس کیا تھا اور نتیجہ آیا تھا وہ نتیجہ صحیح تھا۔ وہ نتیجہ صحیح تھا، کبریٰ کا عکس کر کے شکل اول بنا کر وہی نتیجہ آیا جو کس میں آیا تھا؟ شکل ثانی میں۔ یہ کس بات کی دلیل ہے؟ کہ وہ جو شکل ثانی وہ جو قیاس تھا آپ کا وہ صحیح ہے، نتیجہ بعینہٖ وہی آ رہا ہے۔ اس پر آپ کے ذہن میں آئے گا کہ بھئی کبریٰ کا عکس کر کے پھر اس کا نتیجہ وہی آنا، یہ کیسے دلیل بنا شکل ثانی کے صحیح ہونے کی؟ بھئی واضح سی بات ہے، ظاہر سی بات ہے، یہ جو عکس ہوتا ہے عکس، یہ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ مثلاً دیکھیے، یہاں کبریٰ کیا تھا؟ "لا شيء من أ ب"، "لا شيء من أ ب"۔ تو مثلاً اس سے اس کی موضوع کی جگہ موضوع لے آئیں ذرا "أ ب" کی جگہ، "لا شيء من الحجر بحيوان"، "لا شيء من الحجر بحيوان"، کوئی حجر حیوان نہیں۔ اس کا عکس کریں، "لا شيء من الحيوان بحجر"، کوئی حیوان پتھر نہیں، دیکھیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں بھئی۔ جب آپ نے کہہ دیا کوئی پتھر حیوان نہیں، تو یہ بات خود بخود سمجھ میں آ جاتی تھی یا نہیں کہ اس کا مطلب ہے کوئی حیوان بھی پتھر نہیں؟ آپ نے تو یہ کہا کہ کوئی پتھر حیوان نہیں، لیکن خود بخود سمجھ میں آ گیا کہ کوئی حیوان پتھر نہیں بھئی، یہ اس کے ساتھ لازم ہے بھئی۔ تو چاہے اصل کے ذریعے نتیجہ نکالیں یہاں پر، یا اس کے عکس کے ذریعے نکالیں، بات ایک ہی ہے بھئی۔ صرف عکس میں یہ فائدہ ہوا کہ شکل اول بن گئی اور وہ بدیہی الإنتاج ہے بھئی۔ ایک چیز کے ذریعے دلیل قائم کی جائے یا اس کے لازم کے ذریعے وہ نتیجہ نکالا جائے، بات تو ایک ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ مثلاً میں یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ کمرے میں روشنی ہے۔ کمرے میں... تو چاہے میں اصل کے ذریعے دلیل بنا کر ثابت کروں، چاہے میں اس کے لازم کے ذریعے دلیل بناؤں، بات ایک ہی ہے۔ مثلاً دیکھیے بھئی، سورج کا نکلنا یہ سورج کا طلوع ہونا یہ ہے اصل، اور اس کے ساتھ لازم ہے دن کا ہونا۔ اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ دن کا ہونا۔ تو چاہے میں سورج کے طلوع ہونے کو دلیل بنا لوں یا میں دن کے ہونے کو دلیل بنا لوں، بات تو ایک ہی ہے بھئی۔ میں کہوں اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو اس کمرے میں روشنی ہوتی ہے۔ اس وقت سورج طلوع ہے، نکلا ہوا ہے، اور جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کمرے میں روشنی ہوتی ہے۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ میں نے کہا سورج نکلا ہوا ہے اور جب سورج نکلا ہوتا ہے تو اس کمرے میں روشنی ہوتی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس کمرے میں روشنی ہے۔ اس وقت کیا ہے کمرے میں؟ اس کے بجائے اگر میں یہ کہہ دوں، لازم کو لے لیں، سورج کے نکلنے کے ساتھ کیا لازم ہے؟ دن کا ہونا۔ اس وقت دن ہے، اور جس وقت دن ہوتا ہے تو اس کمرے میں روشنی ہوتی ہے۔ دیکھو بات وہی ہے، نتیجہ پھر وہی آیا ہے یا نہیں بھئی؟ تو عکس کے اصل کے ذریعے ہو یا اس کے عکس کے ذریعے، دونوں وہ اس کے ساتھ لازم ہے، جب لازم ہے تو اس کے ذریعے بھی وہی بات، نتیجہ وہی آئے گا بھئی۔ یہ دلیل ہے دیکھیں دونوں کے یعنی عکس کے ذریعے نتیجہ آئے تو یہ بھی دراصل اسی کی طرح ہوتا ہے بھئی، کیونکہ عکس کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم ہوا کرتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لازم اور ملزوم کا پتہ چل گیا؟ تو دیکھیے اب بھئی، تو کہتے ہیں شکل ثانی جو ہے اس کی نتیجہ دینے والی ضربیں بھی چار ہیں: "أحدها من الكليتين والصغرى موجبة" ان دو میں سے احدہا ان چار میں سے ایک ضرب جو ہے وہ کلیتین سے مرکب ہے یعنی صغریٰ بھی کلیہ اور کبریٰ بھی کلیہ، "والصغرى موجبة" اور صغریٰ کیا ہے؟ موجبة۔ تو پتہ چل گیا کبریٰ کیا ہے؟ سالبہ۔ "ينتج سالبة كلية" تو یہ کیا نتیجہ دے گا؟ سالبہ کلیہ۔ آپ نے وہ نقشہ بنایا تھا اس نقشے میں آپ نے دیکھا تھا کہ نتیجے جو چار نتیجے آئے تھے دو سالبہ کلیہ تھے اور دو سالبہ جزئیہ تھے۔ تو سالبہ کلیہ آئے گا "كقولنا: كل ج ب، ولا شيء من أ ب، فلا شيء من ج أ" جیسے کہ ہمارا قول "كل ج ب، ولا شيء من أ ب، فلا شيء من ج أ"۔ جی، اب یہاں لفظ لائیے بھئی "كل ج ب" کی جگہ، "كل انسان حيوان"، کوئی ایک دو کوئی جیم کی جگہ کوئی لفظ لے آئیں، با کی جگہ دنیا کا کوئی لفظ لے آئیں لیکن صادق ہونا چاہیے۔ تو آسان کیا ہے؟ "كل انسان حيوان"۔ لیکن یاد رکھنا پھر، ایک جیسے حرف ایک جگہ جو لفظ لائے ہیں آگے بھی پھر وہی لانا ہے۔ با کی جگہ حیوان لائے ہیں نا آپ، تو آگے بھی اگر با آئے تو حیوان ہی لانا پڑے گا۔ جیم کی جگہ انسان لائے ہیں، اگر آگے بھی ایسی صورت آئے کہ آگے پھر جیم آ رہا ہو دو جگہ آ رہا ہو چاہے تین جگہ آ رہا ہو، سب جگہ وہی لفظ لے کر آنا ہے بھئی۔ تو "كل ج ب"، "كل انسان حيوان"، آگے "ولا شيء من أ ب"، "ولا شيء من الحجر حيوان"۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ "فلا شيء من ج أ"، جیم کی جگہ کیا لائے تھے اوپر؟ انسان۔ الف کی جگہ کیا لائے تھے؟ حجر۔ تو "لا شيء من الإنسان بحجر" نتیجہ آیا۔ "والدليل على هذا الإنتاج عكس الكبرى" اور اس نتیجہ دینے پر دلیل جو ہے وہ عکسِ کبریٰ ہے۔ "فإنك إذا عكست الكبرى صار" پس جب بلاشبہ آپ عکس کریں کبریٰ کا صار تو یہ بن جائے گا، کبریٰ کیا تھا پہلے؟ "لا شيء من أ ب"، اب کیا بن گیا؟ "صار لا شيء من ب أ"۔ تو اب کیا، پہلے ہم نے بنایا تھا "لا شيء من الحجر بحيوان"، اب کیا بن جائے گا؟ "لا شيء من الحيوان بحجر"۔ "وبانضمامه إلى الصغرى" اور اس کو صغریٰ کے ساتھ ملانے سے، اس کبریٰ کو کے عکس کو صغریٰ کے ساتھ ملانے سے "انتظم الشكل الأول" شکل اول مرتب ہو جائے گی یعنی شکل اول بن جائے گی، "وينتج النتيجة المطلوبة" اور وہ مطلوب نتیجہ دے دے گی۔ "الضرب الثاني" دوسری ضرب شکل ثانی کی جو نتیجہ دینے والی ہے، تو کہتے ہیں: "الضرب الثاني من موجبة كلية كبرى وسالبة كلية صغرى" کہ کبریٰ کیا ہو؟ موجبة کلیة۔ اور صغریٰ کیا ہو؟ سالبة کلیة۔ "كقولنا" جیسا ہمارا قول: "لا شيء من ج ب، وكل أ ب، ينتج لا شيء من ج أ"۔ جی، اب اس میں لائیے لفظ بھئی۔ "لا شيء من ج ب"، "لا شيء من الحجر بحيوان"، "لا شيء من الحجر بحيوان"۔ جی آگے "وكل أ ب"، "كل انسان حيوان"۔ پہلے بھی با کی جگہ حیوان آیا تھا، ابھی کیا آیا؟ حیوان۔ "ينتج" نتیجہ آئے گا "لا شيء من ج أ"، جیم کی جگہ کیا لائے تھے اوپر؟ حجر۔ الف کی جگہ انسان۔ "لا شيء من الحجر بإنسان"، کوئی بھی پتھر انسان نہیں ہے۔ "والدليل على الإنتاج عكس الصغرى" اور دلیل اس نتیجہ دینے پر صغریٰ کا عکس ہے بھئی، یہ دیکھیے عکسِ صغریٰ کو اب دلیل ذکر کریں گے اس ضرب میں، صغریٰ کا عکس۔ اس دلیل کو کیا کہتے ہیں؟ عکسِ صغریٰ۔ اب اس میں دو پہلے عکسِ کبریٰ میں ہم نے کیا کیا تھا؟ صرف کبریٰ کا عکس بنا کر باقی کسی چیز کو نہیں چھیڑا تھا۔ یہاں دو تین عمل کرنا پڑیں گے عکسِ صغریٰ کے اندر، جو کہ دلیل ہے۔ کس طرح؟ عکسِ صغریٰ۔ "والدليل على الإنتاج" اور نتیجے پر دلیل جو ہے "عکس الصغرى" صغریٰ کا عکس کرنا، "وجعلها كبرى" پھر اس صغریٰ کو کبریٰ بنا دینا، یعنی صغریٰ کبریٰ کی جگہ بدل دینی ہے، جو کبریٰ تھا اس کو اٹھا کر صغریٰ کی جگہ لے آئیں، اور یہ جو صغریٰ کا عکس نکالا ہے اس کو کہاں لے جائیں؟ کبریٰ کی جگہ۔ پھر نتیجہ نکال لیں۔ پھر جب نتیجہ آ جائے "ثم عکس النتيجة" پھر اس نتیجے کا عکس کر لیں بھئی۔ تین عمل کرنے پڑیں گے یہاں عکسِ صغریٰ میں، پہلے کیا؟ صغریٰ کا عکس کر لیں۔ پھر؟ پھر صغریٰ کو اٹھا کر کبریٰ کی جگہ لے جائیں اور کبریٰ کو اٹھا کر صغریٰ۔ پھر تیسرا عمل کیا؟ جب نتیجہ بنا لیں تو اس نتیجے کا پھر عکس کر دیں تو وہ مطلوبہ نتیجہ ہو گا بھئی۔ پھر کیا ہو گا؟ مثلاً دیکھیے بھئی، کیا تھا یہاں؟ وہ لفظ لگا دیں اس کی جگہ، "لا شيء من الحجر بحيوان"، اس کا عکس کریں "لا شيء من الإنسان..." پہلے کیا تھا؟ اصل کیا ہے؟ "لا شيء من الحجر بحيوان"، حجر کی جگہ حیوان کر دیں، حیوان کی جگہ حجر کر دیں، یہ عکسِ صغریٰ ہو جائے گا۔ "لا شيء من الحيوان بحجر"، "لا شيء من الحيوان بحجر"، یہ عکسِ صغریٰ۔ اب اس کو لے جائیں کبریٰ کی جگہ، کبریٰ، اور کبریٰ کو لے آئیں صغریٰ کی جگہ۔ کبریٰ کیا تھا پہلے؟ "كل أ ب"، کیا تھا یہاں؟ کیا لفظ رکھے تھے آپ نے؟ "كل انسان حيوان"، یہ بن گیا اب صغریٰ۔ "كل انسان" اس کو اٹھا کر ہم صغریٰ کی جگہ لے آئے، اور کبریٰ ابھی کیا تیار کیا ہم نے صغریٰ کا عکس کر کے اسے کبریٰ کی جگہ لے آئے ہیں؟ "لا شيء من الحيوان بحجر"۔ تو قیاس کیا بنا؟ "كل انسان حيوان" 2 اور لا شيء من الحيوان کیا تھا؟ صغریٰ کیا؟ لا شيء من الحيوان بحجر اور کبریٰ ہے اب کیا بنا کبریٰ؟ لا شيء من الحيوان بحجر صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ لکھ رہے ہیں کہ نہیں لکھ رہے؟ ایسے تو ذہن میں نہیں رہے گا بھئی۔ کبرا کو اٹھا کر صغریٰ کی جگہ لے آئے، کیا بن گیا؟ بھئی کتاب میں کبریٰ کیا دیا ہے؟ کل أ ب کل أ ب کیا لفظ رکھیں اس کی جگہ؟ کل انسان حيوان اس کو کبریٰ رکھتے ہیں ہم، اس کو ہم نے پہلا عمل کر لیا بھئی۔ دوسرا بھی عمل بلکہ کر لیا۔ کل انسان حيوان اس جو شکل ثانی میں جو کبریٰ تھا اس کو اٹھا کر کیا بنا دیا ہم نے؟ صغریٰ۔ اور صغریٰ کا عکس اٹھا کے کبریٰ کی جگہ لے جائیں۔ صغریٰ کیا تھا اصل میں؟ لا شيء من الحجر بحيوان اس کا عکس کیا بنایا تھا؟ لا شيء من الحيوان بحجر یہ اب کبریٰ کی جگہ رکھ دیں۔ تو پورا قیاس کیا بنا؟ جی ہاں کل انسان حيوان ولا شيء من الحيوان بحجر حد وسط صغریٰ میں کہاں آیا؟ محمول کی جگہ اچھا اور کبریٰ میں کہاں آیا؟ موضوع کی جگہ، شکل اول بن گئی یا نہیں بن گئی بھئی؟ یہاں پھر دیکھو ہم شکل اول کی طرف لے گئے ہیں، یہ شکل اول بن گئی۔ نتیجہ کیا آئے گا بھئی؟ لا شيء من الإنسان بحجر جی؟ لا شيء یہی نتیجہ ہے نا؟ لا شيء من الإنسان بحجر کوئی انسان حجر نہیں، یہ نتیجہ آیا۔ اب تیسرا عمل کریں، اس نتیجے کا عکس کر دیں۔ لا شيء من پہلے کیا تھا؟ نتیجہ کیا آیا؟ لا شيء من الإنسان بحجر اب انسان کو حجر کی جگہ لے جاؤ، حجر کو انسان کی جگہ۔ لا شيء من الحجر بإنسان اور پہلے تو یہ وہی نتیجہ ہوگا جو اوپر نکلا تھا، کیا تھا؟ ينتج لا شيء من ج أ لا شيء من ج أ أ کی جگہ کیا رکھا تھا کل أ ب میں دیکھ لیں۔ أ کی جگہ انسان رکھا تھا نا؟ اور ج کی جگہ معلوم ہوا کیا رکھا تھا؟ حجر تو نتیجہ کیا ہے؟ لا شيء من الحجر بإنسان ابھی ہم نے جو نتیجہ پہلے نکالا بھئی وہ کیا نکالا تھا؟ لا شيء من الإنسان بحجر اس کا عکس کیا تھا تو کیا آیا؟ لا شيء من الحجر بإنسان دیکھو بعینہٖ یہ وہی نتیجہ نکل آیا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے نتیجہ جو نکل ہم اس کو شکل اول کی طرف لے گئے اور شکل اول سے جو نتیجہ آیا اس نتیجے کا عکس بعینہٖ وہی پہلے والا نتیجہ ہوگا بھئی۔ اور عکس تو اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ شکل اول بنائی شکل اول، تو نتیجے میں ملزوم آیا اور ملزوم آیا تو ساتھ اس کے لازم خود بخود آ جاتا ہے۔ یوں سمجھو سورج کا نکلنا ہے ملزوم اور دن کا ہونا لازم دن کا ہونا لازم یوں سمجھو، پہلے میں نتیجہ کیا آیا؟ کہ سورج طلوع ہے، پہلے میں گویا نتیجہ کیا آیا؟ سورج طلوع ہے۔ اور دوسرے میں نتیجہ آیا کہ اس وقت دن ہے۔ اس وقت اور دوسرے میں جب نتیجہ آیا اس وقت دن ہے، خود بخود ثابت ہو گیا یا نہیں کہ سورج بھی اس وقت نکلا ہوا ہے۔ تو دوسرے میں نتیجہ آیا لازم یعنی عکس، عکس کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم، جس طرح دن کا ہونا سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ لازم، تو یہ جو ہم نے صورت بدلی تو نتیجہ جو آیا وہ اصل نتیجے کا عکس ہے نا؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اصل نتیجے کا عکس آیا ہے، اسی کو پھر ہم عکس کریں گے تو کیا آ جائے گا؟ اصل آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ اور عکس کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ۔ تو گویا سورج کے نکلنے اور دن کے ہونے میں اصل کون ہے؟ سورج کا نکلنا، اور دن کا ہونا اس کے ساتھ لازم ہے۔ تو گویا یوں سمجھو، پہلے میں نتیجہ آیا تھا اصل اور وہ کیا تھا؟ فرض کریں نا، سمجھانے کے لیے آپ کو لازم و ملزوم سمجھا رہا ہوں، پہلے میں گویا نتیجہ کیا تھا؟ سورج نکلا ہوا ہے، کیا نتیجہ تھا؟ اور دوسرے میں آیا اس کا عکس نتیجہ اور عکس یعنی اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے یعنی جس میں لازم آیا نتیجہ، لازم کیا ہے؟ دن موجود ہے، تو پہلے میں تھا نتیجہ سورج نکلا ہوا ہے، دوسرے میں گویا نتیجہ آیا دن موجود ہے، اور جب کہہ دیا دن موجود ہے تو خود بخود کیا ثابت ہو گیا؟ سورج بھی نکلا ہوا ہے، یعنی جب لازم آیا تو ملزوم اسی کا لازم کا عکس کیا تھا؟ اصل وہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ جی؟ یہ بتلانا مقصد یہ ہے کہ یہ جو عکس عکس ہوتا ہے نا یہ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ عکس جو ہوتا ہے اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے، اور شکل ثانی میں جو نتیجہ آ رہا تھا شکل ثانی میں جو نتیجہ آ رہا تھا اسی کو ہم جب شکل اول کی طرف لے گئے تو نتیجہ اس نتیجے کا عکس آیا اس نتیجے کا یعنی اس کا لازم آیا نتیجے میں، عکس کیا ہوتا ہے؟ لازم ہوتا ہے۔ یہ لازم آیا نتیجے میں اور اس کا پھر ہم نے عکس کیا تو وہ پہلے والا نتیجہ آ گیا بھئی۔ کیا آ گیا؟ پہلے والا نتیجہ آ گیا بھئی۔ یوں سمجھیں بھئی، یہ دیکھیں۔ یہ ہے اصل یہ ہے اس کا لازم کیا معنیٰ لازم کا؟ دوسرے لفظوں میں کیا کہو؟ عکس بھی تو لازم ہوتا ہے، تو یہاں یہ عکس ہے بھئی۔ تو اگر یہ ایک ثابت ہو تو عکس ثابت ہو جاتا ہے، عکس ثابت ہوا تو یہ ثابت ہو جائے گا کیونکہ یہ بھی اس کا عکس ہے بھئی، یہ اس کا دوسرا پہلے کا عکس ہے اور پہلا دوسرے کا عکس ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی تو یہاں اس طرح یہ نتیجہ جو آیا اس کا عکس کیا تو وہی پہلا نتیجہ آ گیا اور عکس تو لازم ہوتا ہے معلوم ہوا وہ نتیجہ اس کے ساتھ لازم ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ عکس سے صغریٰ سمجھ میں آیا؟ کیا کتنے عمل کرنا پڑتے ہیں اس میں؟ تین عمل، پہلے صغریٰ کا عکس کرنا پڑتا ہے پھر صغریٰ اور کبریٰ کی جگہ بدلنی ہوتی ہے پھر پھر جو نتیجہ آئے اس کا عکس کرنا پڑتا ہے تو وہ پہلے والا مطلوبہ نتیجہ آ جائے گا بھئی۔ پہلے کیا نتیجہ آیا تھا؟ لا شيء من الحجر بإنسان کوئی حجر انسان نہیں ہے۔ دوبارہ شکل اول بنائی کیا نتیجہ آیا؟ پہلے کیا تھا نتیجہ؟ کوئی پتھر انسان نہیں ہے۔ دوبارہ جب عکس کیا صغریٰ عکس سے صغریٰ، کیا نتیجہ آیا؟ ہاں، کوئی انسان پتھر نہیں ہے۔ جب کوئی انسان پتھر نہیں تو اس کے ساتھ کیا لازم ہے؟ کوئی پتھر بھی جب کوئی انسان پتھر نہیں ہے تو کوئی پتھر بھی انسان نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں بھئی۔ الضرب الثالث من موجبة جزئية صغرى وسالبة كلية كبرى اور تیسری قسم، تیسری ضرب جو ہے وہ صغریٰ موجبہ صغریٰ صغریٰ جو ہے موجبہ جزئیہ ہو اور اور کبریٰ سالبہ کلیہ ہو۔ ينتج سالبة جزئية یہ کیا نتیجہ دے گا؟ سالبہ جزئیہ نتیجہ دے گا، كقولك جیسے کہ آپ کا قول: بعض ج ب ولا شيء من أ ب فليس بعض ج أ جی، لفظ لگائیے بھئی ج، ب وغیرہ کی جگہ، بعض ج ب بعض الحيوان إنسان بعض الحيوان إنسان اچھا آگے بھئی، ولا شيء من أ ب ب کی جگہ پہلے انسان لگایا تھا تو اب بھی انسان لگانا، لا شيء من من الحجر بإنسان تو قیاس کیا بن گیا؟ بعض الحيوان إنسان ولا شيء من الحجر بإنسان انسان، انسان جو حد وسط تھا اس کو گرا دیا، تو نتیجہ آیا فليس بعض ج أ فليس بعض ہاں، ج کی جگہ کیا لگایا تھا؟ حیوان أ کی جگہ کیا لگایا تھا؟ حجر فليس بعض الحيوان بحجر بعض حیوان حجر یعنی پتھر نہیں ہیں۔ صادق ہے کہ صادق نہیں ہے؟ شاباش بھئی، کیونکہ میں نے بعض کی بات کی ہے کہ وہ بعض حیوان حجر نہیں ہے، باقیوں کا میں نے یہ نہیں کہا کہ وہ حجر ہیں، ان کے بارے میں میں نے سکوت کیا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ضابطہ ہمیشہ یاد رکھنا یہ آگے ورنہ آپ کو پریشان کرے گا کتابوں کے اندر اس طرح کی بات آئے گی، آپ کہیں گے اس میں تو کہا ہوا ہے بعض حیوان پتھر نہیں ہیں، کیا باقی بعض پتھر ہیں؟ تو یہ آپ کو پہلے سے علم ہونا چاہیے کہ بھئی منطقی قوانین کے مطابق ہم نے بعض کی بات کی ہے، باقی بعض کی ہم نے ذکر ہی نہیں کیا، ہم نے تو صرف اتنا کہا بعض حیوان پتھر نہیں ہیں۔ ہم نے یہ کب کہا کہ باقی کے بعض پتھر ہیں، ان کا تو ہم نے ذکر ہی نہیں کیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ الضرب الرابع، چوتھی ضرب جو ہے شکل ثانی کی، من سالبة جزئية صغرى صغریٰ سالبہ جزئیہ صغریٰ وموجبة كلية كبرى وہ سالبہ جزئیہ صغریٰ اور موجبہ کلیہ کبریٰ میں سے ہوگی ينتج سالبة جزئية اور یہ کیا نتیجہ دے گی؟ سالبہ جزئیہ نتیجہ دے گی، تقول آپ کہتے ہیں: بعض ج ليس ب وكل أ ب فبعض ج ليس أ جی صغریٰ کیا ہے؟ بعض ج ليس ب، جی بنائیے بھئی، کوئی لفظ لے آئیں ج کی جگہ، کوئی لفظ لے آئیں ب کی جگہ، لیکن صادق ہونا چاہیے۔ بعض الحيوان ليس بناطق بعض الحيوان ليس بناطق ب کی جگہ ناطق لایا تو آگے بھی ناطق لائیں گے، تو بعض الحيوان ليس بناطق وكل أ ب وكل إنسان ناطق تو ناطق، ناطق کو گرا دیا۔ کیا آیا؟ فبعض ج ليس أ أ کی جگہ کیا آیا تھا؟ انسان فبعض الحيوان ليس بإنسان بعض حیوان انسان نہیں ہیں، دیکھا یہ نتیجہ آیا۔ فصل شرط إنتاج الشكل الثالث جی، اب شکل ثالث آ گئی بھئی۔ کہتے ہیں شرط إنتاج الشكل الثالث شکل ثالث کے نتیجہ دینے کی شرط كون الصغرى موجبة صغریٰ کا موجبہ ہونا ہے شکل ثالث کی پہلی شرط کیا؟ صغریٰ کو موجبہ ہونا وكون إحدى المقدمتين كليّة إحدى ہونا چاہیے بھئی، أحد کے بعد یا ہے؟ جی؟ نہیں دو مقدمے، مقدمة مؤنث ہیں نا آخر میں گول تا لگی ہوئی ہے تو یہاں إحدى ہونا چاہیے كون إحدى المقدمتين كليّة دونوں مقدموں میں سے کسی ایک کا کلی ہونا دو شرطیں ہیں شکل ثالث کی بھئی، پہلی شرط: صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے۔ صغریٰ کیا ہو؟ موجبہ ہو۔ اور دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے صغریٰ اور کبریٰ میں سے پہلی شرط کیا؟ ایجاب صغریٰ صغریٰ موجبہ ہو یعنی ایجاب صغریٰ اور دونوں میں سے کسی ایک کا کلیہ ہونا، یہ دوسری شرط ہے۔ یہ ہیں شکل ثالث کی شرطیں۔ ذرا پھر سب شکلیں اور ان کی شرطیں دہرا لیں، یہ میں بار بار دہرا رہا ہوں کیونکہ قیاس کی بات میں نے بتلایا منطق کی روح ہے بھئی، اصل ہے، یہ آپ کے ذہن میں اچھی طرح ہونی چاہیے بھئی۔ شکل اول کے اندر حد وسط کہاں آتا تھا؟ صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ شکل ثانی میں حد وسط دونوں کے اندر محمول کی جگہ شکل ثالث میں حد وسط دونوں میں موضوع کی جگہ ہے، دونوں میں موضوع کی جگہ آئے گا، آپ مثالیں دیکھ لیں گے۔ اور شکل اول کی کتنی شرائط تھیں؟ دو شرطیں پہلی شرط: ایجاب صغریٰ، دوسری شرط: کلیات کبریٰ شکل ثانی کی بھی دو شرطیں تھیں کون کون سی؟ اختلاف کیف، دونوں میں ایک موجبہ اور دوسرا سالبہ ہو، اور دوسری شرط: کلیات کبریٰ، کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے شکل ثالث کی اب دو شرطیں بیان کیں، پہلی شرط: ایجاب صغریٰ، صغریٰ موجبہ ہو، اور دوسری شرط: دونوں میں سے ایک کلیہ ہونا چاہیے، چاہے صغریٰ کلیہ ہو چاہے کبریٰ کلیہ ہو، معلوم ہوا دونوں جزئیہ ہوں تو نتیجہ صحیح نہیں ہے، یا صغریٰ سالبہ ہو تو نتیجہ صحیح نہیں آئے گا بھئی۔ نتیجہ صحیح نہیں آئے گا بھئی۔ اب آئیے ذرا بھئی وہ جو نقشہ بنایا تھا ذرا جلدی سے اس پہ آ جائیے۔ بھئی وہ جو نقشہ بنایا تھا، شکل ثالث والا خانہ خالی ہوگا، اب ہم اس کو حل کرتے ہیں بھئی۔ نمبر ایک میں، صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ بھی ہے موجبہ کلیہ پہلی شرط پوری ہے یا پوری نہیں؟ ایجاب صغریٰ ہے یہاں کہ نہیں؟ ایجاب صغریٰ ہے دوسری شرط: دونوں میں سے ایک کلیہ ہونا چاہیے دونوں میں سے ایک کلیہ، ہے یا نہیں؟ دونوں ہوں تو بطریق اولیٰ بھئی، ایک کلیہ ہونا ضروری ہے، دونوں ہو جائیں تو اور اچھی بات ہے، اس میں ہم نے تو نہیں کہا کہ دونوں نہیں ہونے چاہئیں، ایک کا کم از کم کلیہ ہونا ضروری ہے، تو یہاں کلیہ دونوں ہی کلیہ ہیں، معلوم ہوا یہ ضرب نتیجہ دے گی بھئی، یہ ضرب نتیجہ دے گی، اس کے آگے لکھ لیں شکل ثالث میں ينتج ينتج 3 آچھا، نتیجہ دے گی۔ اب مجھے بتائیے کون سا نتیجہ آئے گا، نتیجہ کیا آئے گا؟ نتیجہ کیا آئے گا؟ دونوں موجبہ ہیں تو موجبہ ہوگا اور دونوں کلیہ ہیں؟ جی۔ میں نے کہا تھا شکلِ ثالث اور رابع میں نتیجہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا۔ وہ تو ساری باتیں ذہن میں رکھو بھئی، کہیں انشاءاللہ غلطی نہیں ہوگی۔ شکلِ اول اور ثانی میں نتیجہ کلیہ آ سکتا ہے اور وہاں کلیہ آئے گا اگر وہ یہ صورت جائز ہوتی ہے اور باقی کسی صورت، باقیوں ثالث اور رابع میں نتیجہ ہمیشہ کیا آتا ہے؟ جزئیہ۔ تو یہ بات تو طے ہے قطعی طور پر بھئی کہ جزئیہ آئے گا، باقی صرف آپ نے موجبہ اور سالبہ دیکھنا ہے۔ تو یہاں کیا آیا؟ موجبہ جزئیہ آیا نتیجہ، لکھ لیجیے بھئی۔ ینتج موجبہ جزئیہ۔ جی، اگلا دوسرے نمبر پر آئیے۔ صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ پہلی شرط کیا تھی؟ ایجابِ صغریٰ، موجود ہے یا نہیں؟ یہ شرط پوری ہے کہ نہیں؟ شرط پوری ہے۔ دوسری شرط، دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے؟ یہ شرط بھی پوری، تو یہ بھی نتیجہ دے گی، دوسری کے آگے بھی شکلِ ثالث میں لکھیں ینتج، ینتج۔ آچھا بھئی، کیا نتیجہ آئے گا؟ دونوں موجبہ ہیں، تو نتیجہ موجبہ ہی آئے گا اور کلیہ اور جزئیہ میں سے تو طے ہے کہ کیا آنا ہے؟ جزئیہ، تو یہاں بھی نتیجہ آئے گا موجبہ جزئیہ، موجبہ جزئیہ۔ تیسری ضرب میں آئیے۔ صغریٰ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، کبریٰ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ۔ جی، پہلی شرط ایجابِ صغریٰ موجود ہے؟ جی، وہ پائی جا رہی ہے۔ دوسری شرط، دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے؟ وہ بھی پائی جا رہی ہے، دونوں ہی کلیہ ہیں۔ تو یہ بھی نتیجہ دے گی بھئی، تیسری سطر میں بھی لکھیں تین نمبر والی لائن میں شکلِ ثالث میں ینتج۔ آچھا، ایک موجبہ ہے ایک سالبہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ۔ اور ایک کلیہ ہے تو دوسرا بھی کلیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ ہی آنا ہے یہاں پر ہر حال میں، تو نتیجہ کیا آیا؟ سالبہ جزئیہ آیا بھئی، سالبہ جزئیہ۔ چوتھی سطر میں آئیے چار نمبر پر۔ صغریٰ ہے موجبہ کلیہ اور کبریٰ ہے سالبہ جزئیہ۔ ایجابِ صغریٰ ہے؟ موجود ہے ایجابِ صغریٰ۔ دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہے؟ یہ دوسری شرط بھی پوری، یہ بھی نتیجہ دے گی ینتج، ینتج۔ آچھا، ایک موجبہ ہے ایک سالبہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ۔ اور کلیہ یا جزئیہ؟ جزئیہ ہی آنا ہے ہر حال میں، تو نتیجہ کیا آیا؟ سالبہ جزئیہ بھئی، سالبہ جزئیہ۔ جی، پانچ نمبر سطر میں آئیے، کیا لکھا؟ موجبہ جزئیہ۔ صغریٰ ہے موجبہ جزئیہ جی، اور کبریٰ ہے کیا؟ موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ۔ جی، ایجابِ صغریٰ والی شرط پوری ہے؟ پہلی شرط پوری ہے۔ دوسری شرط، دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہے؟ یہ بھی شرط پوری ہے، یہ بھی نتیجہ دے گی جی، آگے لکھ لیں ینتج۔ آچھا، دونوں موجبہ ہیں، نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبہ، اور کلیہ اور جزئیہ میں سے؟ جزئیہ ہی آنا ہے وہ طے ہے، تو نتیجہ آیا موجبہ جزئیہ بھئی۔ اگلی شکل میں آئیے چھ، اگلی ضرب میں چھ نمبر میں۔ صغریٰ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ، کبریٰ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ۔ پہلی شرط پوری ہے ایجابِ صغریٰ؟ پوری ہے۔ دوسری شرط، دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہے؟ نہیں ہے کوئی ایک بھی کلیہ، یہ ضرب نتیجہ نہیں دے گی۔ اگلی ضرب میں آئیے، سات نمبر میں۔ صغریٰ کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ، کبریٰ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ۔ ایجابِ صغریٰ ہے یہاں پر؟ ایجابِ صغریٰ ہے، موجبہ ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہے؟ کلیہ بھی ایک ہے کبریٰ بھئی، یہ بھی نتیجہ دے گی بھئی ینتج۔ آچھا، ایک موجبہ ہے ایک سالبہ، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ، اور کلیہ اور جزئیت میں سے؟ جزئیہ ہی آنا ہے ہر حال میں، تو ینتج سالبۃ جزئیۃ بھئی۔ اگلی ضرب میں آئیے آٹھ نمبر میں۔ صغریٰ ہے موجبہ جزئیہ، کبریٰ ہے سالبہ جزئیہ۔ پہلی شرط پوری ہے ایجابِ صغریٰ؟ پہلی شرط پوری ہے۔ دوسری شرط، دونوں میں سے کوئی ایک کلیہ ہو، یہ پوری ہے شرط؟ یہ شرط پوری نہیں، یہ ضرب نتیجہ نہیں دے گی بھئی۔ آگے بھئی، سالبہ کلیہ کی چار صورتیں ہیں۔ اس میں تو پہلی شرط ہی نہیں پوری ہو رہی، صغریٰ کیا ہے؟ سالبہ کلیہ، اور ہم نے کیا کہا تھا صغریٰ موجبہ ہونا چاہیے بھئی۔ ان چاروں میں نتیجہ نہیں آئے گا۔ اگلی میں چلے جائیں، سالبہ جزئیہ ہے صغریٰ بھئی، 13 نمبر پر سالبہ جزئیہ۔ یہاں پر بھی دیکھیں صغریٰ سالبہ ہے، ہم نے تو پہلی شرط ہی کیا لگائی تھی؟ ایجابِ صغریٰ، تو یہاں بھی چاروں میں پہلی شرط ہی نہیں پوری ہو رہی تو یہاں بھی نتیجہ نہیں آئے گا۔ کتنے میں نتیجہ آیا؟ چھ میں نتیجہ آیا بھئی چھ میں، اور ان چھ میں آپ دیکھیں تین میں موجبہ جزئیہ ہے نتیجہ، تین میں سالبہ جزئیہ ہے نتیجہ بھئی۔ موجبہ جزئیہ اور؟ جیسے ضربِ ثانی میں دو نتیجے سالبہ کلیہ تھے اور دو سالبہ جزئیہ، پھر شکلِ ثانی میں نتیجہ ہمیشہ سالبہ آتا تھا۔ یہ موٹی موٹی باتیں ہر وقت ذہن میں ہونی چاہئیں۔ شکلِ ثانی میں دو نتیجے سالبہ کلیہ تھے اور دو سالبہ جزئیہ، اور نتیجہ سارے کے سارے سالبہ تھے، موجبہ کوئی بھی نہیں تھا۔ یہاں پر آپ دیکھ رہے ہیں تین موجبہ نتیجے ہیں اور تین سالبہ ہیں، اور شکلِ اول میں بھی چار نتیجے تھے، وہ کس قسم کے تھے؟ وہ سارے چاروں محصورہ کی قسمیں تھیں، موجبہ کلیہ بھی، موجبہ جزئیہ بھی، سالبہ کلیہ بھی اور سالبہ جزئیہ بھی تھا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 81 of 108