Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-027

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 54
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 27 1 والثاني إما لا يكون معناه الواحد مشخصا بل يكون له أفراد كثيرة وهو ضربان. أحدهما أن يكون صدق ذلك المعنى على سائر أفراده على سبيل الاستواء من غير أن يتفاوت بالأولية أو الأولوية أو الأشدية أو الأزدية، ويسمى هذا القسم بالمتواطئ. بھئی، آپ نے پڑھا تھا کہ مفرد جو ہے، وہ دو قسم پر ہے۔ یا تو وہ متحد المعنی ہوگا، یا متکثر المعنی। متحد المعنی، یعنی جس کا ایک ہی معنی ہو اور متکثر المعنی، جس کے جس کے کئی معانی آئیں بھئی۔ جیسے لفظ عين کا معنی گھٹنے کے بھی آتے ہیں، چشمے کے بھی آتے ہیں، آنکھ وغیرہ کے بھی اس کے معانی آتے ہیں۔ تو کئی معانی ہو گئے ایک لفظ کے، یہ ہے متکثر المعنی। اس کی بحث تو آگے جا کر کریں گے۔ یہاں پھر انہوں نے متحد المعنی کے بارے میں بتلانا شروع کیا اور بتلایا کہ جس مفرد کا معنی ایک ہی ہے، وہ دو قسم پر ہے۔ یا اس کا معنی متعین اور مشخص ہوگا، کیا معنی؟ یعنی وہ کثیرین پر صادق نہیں آئے گا، بلکہ کسی متعین ذات کے لیے بولا جائے گا۔ اسے اس کا نام انہوں نے علم رکھا بھئی، کیا نام رکھا؟ علم رکھا، جیسے زيد، هذا اور هو۔ تو اس میں علم بھی آ گئے، اسماء اشارہ بھی اور ضمیریں بھی اسی کے اندر داخل ہیں۔ تو صاحب مرقاة فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے اس قسم کا نام کیا رکھا جائے؟ جزئی حقیقی۔ جزئی حقیقی، اس کے مقابلے میں ایک جزئی اضافی ہے بھئی۔ جزئی حقیقی، یہی تعریف جو ابھی اوپر گزری علم کی کہ جو کسی متعین ذات پر بولا جائے، جس کا معنی متعین اور مشخص ہو، جس میں شرکت نہ ہو سکے۔ اور دوسرا اس کے مقابلے میں جزئی اضافی ہے بھئی۔ جزئی اضافی، وہ ہر اخص تحت العام کو کہتے ہیں، ہر اخص تحت العام۔ ہر وہ خاص جو عام کے تحت ہو بھئی۔ ایک ہے خاص، ایک ہے عام بھئی۔ بھئی، دیکھیے مثلاً حیوان ہے اور ایک ہے انسان۔ انسان، اب حیوان جو ہے، اس کے تحت انسان بھی آتا ہے، وہ انسان پر بھی بولا جاتا ہے، انسان بھی حیوان ہے اور یہ جو جانور ہیں، جاندار ہیں، ان پر بھی بولا جاتا ہے، گائے بھی حیوان ہے، بکری بھی حیوان ہے۔ تو حیوان انسان پر بھی بولا جاتا ہے، گائے، بکری وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے، تو یہ عام ہوا۔ یہ کیا ہوا؟ یہ عام ہوا اور انسان صرف زید، عمر، بکر وغیرہ جس کے افراد ہیں، ان پر بولا جاتا ہے۔ اور یہ حیوان کے تحت آ گیا، کیا ہوا؟ مثلاً حیوان، فرض کرو، فرض کرو، 10 چیزوں پر بولا جاتا ہے، ان میں سے ایک انسان بھی ہے۔ ایک انسان، حیوان انسان پہ بھی بولا جاتا ہے اور 9 فرض کر لیں ویسے ہی، 9 اور چیزوں پر بھی بولا جاتا ہے، قسمیں تو ورنہ جانوروں کی بہت زیادہ ہیں بھئی، ہزار ہا قسمیں ہیں۔ تو دیکھیے، عموم کس میں زیادہ ہے؟ حیوان اور خصوص کس میں ہے؟ انسان میں۔ تو انسان اخص ہوا تحت العام، عام کے نیچے۔ تو انسان کو کیا کہیں گے؟ حیوان کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جزئی کہیں گے کہ یہ حیوان کی جزئی ہے۔ حیوان کی جزئی ہے، جزئی فرد کو کہتے ہیں بھئی، اصل میں کس کو کہتے ہیں؟ فرد۔ تو یہ حیوان کے افراد میں سے ایک فرد ہے، یہ بھی حیوان ہے، گائے بھی حیوان ہے، بکری بھی حیوان ہے، گھوڑا، گدھا وغیرہ سب حیوان ہیں۔ تو ان تمام افراد میں سے ایک فرد کیا ہوا؟ انسان ہوا بھئی۔ تو انسان جزئی ہوئی حیوان کی، لیکن کون سی جزئی ہے؟ جزئی اضافی ہے، جزئی حقیقی۔ تو جہاں کہیں یہ آ جائے کہ انسان جزئی ہے حیوان کی، تو اس کا معنی آپ خود بخود سمجھ جائیں کہ یہ کون سی جزئی مراد ہے؟ جزئی اضافی مراد ہے، کیونکہ جزئی حقیقی تو اس کو کہتے ہیں جو کسی متعین پر صادق آئے اور انسان یہ کسی متعین پر صادق نہیں آتا، یہ بلکہ ہر جو بھی حیوان ناطق ہے، سب پر یہ صادق آتا ہے بھئی۔ اسی طرح دیکھو، پھر میں نے آپ کو بتایا تھا، حیوان جو ہے، یہ جسم نامی کے تحت ہے بھئی۔ جسم نامی، بڑھنے والا جسم، جسم نامی کا کیا معنی؟ بڑھنے والا جسم۔ اب بڑھنے والا جسم حیوانات کا بھی ہے اور بڑھنے والا جسم پودوں اور درختوں کا بھی ہے۔ تو معلوم ہوا، جسم نامی کے دو افراد ہو گئے۔ کتنے ہو گئے؟ دو افراد۔ ایک درخت، پودے وغیرہ اور دوسرے حیوانات۔ تو حیوان میں خصوص ہوا اور جسم نامی میں عموم ہوا۔ حیوانات، جسم نامی میں کیا ہوا؟ عموم، دو قسم کی چیزوں پر بولا جاتا ہے نا، حیوانات پر بھی، یہ جاندار جو حرکت کرنے والے ہیں، ان پر بھی بولا جاتا ہے اور درختوں، پودوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور حیوان تو صرف یہ حرکت کرنے والی چیزوں پر بولا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہ جو حیوان ہے، اس میں خصوص ہے اور جسم نامی میں عموم ہے۔ تو یہ جسم نامی کے تحت ہوا، یعنی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہوا، جسم نامی کے گویا کہ دو قسم کے افراد ہو گئے، ایک حیوانات اور دوسرے درخت اور پودے وغیرہ۔ تو دو قسم کے میں سے یہ ایک قسم ہے، تو یہ خاص ہے اور وہ کیا ہے؟ عام ہے، اس کو بھی شامل ہے، اس کے علاوہ اور چیزوں کو بھی شامل ہوا، وہ عام ہوا بھئی۔ ان سب پر بولا جاتا ہے۔ تو حیوان جسم نامی کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا ہے؟ جزئی ہے، کیا ہے؟ جزئی ہے، یعنی اس کے افراد میں سے ایک فرد ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جزئی اضافی ہوا۔ اسی طرح انسان جو ہے، اب نیچے کی طرف آ جائیں، انسان کے تحت بہت سارے افراد ہیں، زید، عمر، بکر، خالد وغیرہ تمام افراد ہیں۔ تو یہ جو زید، عمر، بکر ہیں، یہ انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے خاص ہیں۔ کیونکہ انسان کے صرف یہی افراد نہیں ہیں، ان کے علاوہ بھی بہت سارے افراد ہیں۔ تو انسان ہوا عام اور یہ کیا ہوئے؟ خاص۔ تو یہ جزئی ہیں، انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے، انسان کی طرف نسبت کرتے ہوئے، تو یہ جزئی اضافی ہوئے، کیا ہوئے؟ اور یہ جزئی حقیقی بھی ہیں، آپ جانتے ہیں بھئی، زید، عمر، بکر وغیرہ۔ تو زید، عمر، بکر وغیرہ جزئی حقیقی بھی ہیں، کیونکہ یہ متعین پر بولے جاتے ہیں اور جزئی اضافی بھی ہیں، کیونکہ یہ اخص تحت العام ہیں۔ جبکہ انسان حیوان کے تحت ہے، تو انسان صرف جزئی اضافی ہے، جزئی حقیقی نہیں، کیونکہ جزئی حقیقی تو اسے کہتے ہیں جو متعین پر بولا جائے، انسان تو کسی متعین فرد پر نہیں بولا جاتا، سب پر بولا جاتا ہے، ہر حیوان ناطق پر۔ تو انسان جزئی اضافی تو ہوا، لیکن جزئی حقیقی نہیں۔ معلوم ہوا، ہر جزئی حقیقی جو ہے، وہ جزئی اضافی ضرور ہے، لیکن ہر جزئی اضافی جزئی حقیقی نہیں بھئی۔ مثال سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ اس کے بعد بتلایا تھا کہ کلی جو ہے، جو کثیرین پر صادق آئے، جس کے افراد بہت سے ہوں، وہ پھر دو قسم پر ہے، ایک کلی متواطی، ایک کلی مشکک۔ کلی متواطی وہ ہے، جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے۔ جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے، جیسے انسان زید پہ بھی صادق آتا ہے، آپ کہتے ہیں، زید انسان ہے۔ تو صادق آیا یا نہیں؟ جی، اسی طرح آپ کہتے ہیں، عمر انسان ہے، بکر انسان، تو دیکھو یہ، یہ جو آپ جملہ بنا رہے ہیں نا اور اس کی خبر انسان کو بنا رہے ہیں، زید انسان ہے، تو یہ انسان کا حمل کس پر کر رہے ہیں؟ زید پر، عمر انسان ہے، تو انسان کا حمل کس پر کر رہے ہیں؟ عمر پر، تو دیکھو، یعنی حمل کرنے کا معنی ہے، یہ اب اس پر صادق آ رہا ہے۔ جبھی آپ کہہ رہے ہیں یہ کلام، ورنہ یہ کلام غلط ہوتا، درست نہ ہوتا بھئی۔ تو ان پر انسان صادق آ رہا ہے اور برابری کے ساتھ صادق آ رہا ہے، یہ نہیں کہ انسان کے کچھ افراد جو ہیں، ان میں یہ انسان ہونے کا معنی زیادہ ہو اور بعض میں کم ہو، ایسا نہیں ہے، سب پر برابری کے ساتھ انسان صادق آتا ہے۔ چاہے جوان ہو، چاہے بچہ ہو، چاہے بوڑھا ہو، چاہے معذور ہو، چاہے اندھا ہو، چاہے صحیح ہو، ہر ایک کیا ہے؟ انسان ہونے میں برابر ہے، ہر ایک کو انسان کہیں گے۔ تو اس کو کہتے ہیں کلی متواطی، جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے بھئی۔ اور کلی مشکک وہ ہے، جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے، کسی پر زیادہ صادق آئے اور کسی پر کم، یعنی کمی بیشی، کمی اور زیادتی کے ساتھ صادق آئے، جیسے اس کی مثال ذکر کی تھی، سفیدی بھئی، سفیدی۔ اب سفیدی بعض چیزوں میں زیادہ ہوتی ہے، آپ بھی جانتے ہیں اور دیکھتے رہتے ہیں، بعض چیزوں میں سفیدی کم ہے۔ تو بہرحال، ہے تو وہ سفیدی، چاہے کم ہو، چاہے زیادہ، تو یہاں افراد میں برابری نہیں، بعض میں سفیدی زیادہ ہے اور بعض میں سفیدی کم ہے۔ اسی طرح بھئی، سیاہی، کالا ہونا، بعض چیزیں زیادہ کالی ہیں، بعض چیزوں میں کالا رنگ کم ہے، تو ہے تو سب کالی چیزیں، تو وہ سب اس کے افراد میں سے ہیں، تو لیکن کمی بیشی کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ تو کلی متواطی وہ ہوئی جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے اور کلی مشکک وہ ہے جو اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے۔ پھر ان کے نام کیوں کلی متواطی اور کلی مشکک ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا، کلی متواطی کس لفظ سے ہے؟ تواطؤ تفاعل باب ہے، تواطؤ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تواطؤ بھئی، تواطؤ یہ ہمزہ ہے آخر میں، تو یہ تواطؤ سے ہے اور تواطؤ کے معنی ہیں توافق کے بھئی، باہم ایک دوسرے کے موافق ہونا، یعنی ایک دوسرے جیسا ہونا، ایک دوسرے جیسا ہونا، تو یہ اس کے افراد کلی متواطی کے افراد ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں، کس چیز میں؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ کس چیز میں؟ اس کلی کے صادق آنے میں، اس کلی کے صادق آنے میں اس کے افراد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ویسے ایک جیسے نہیں بھئی، زید الگ ہے، عمر الگ ہے، بکر الگ شکل و صورت ہر اعتبار سے الگ ہیں، لیکن کلی کے صادق آنے کے اعتبار سے سب ایک جیسے ہیں، جیسے ایک پر انسان صادق آ رہا ہے، دوسرے پر بھی اسی طرح انسان صادق آ رہا ہے، تیسرے پر بھی اسی طرح انسان صادق آ رہا ہے، کسی میں انسان ہونے کے معنی کی کمی بیشی نہیں۔ تو کلی متواطی کو متواطی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد ایک دوسرے کے، ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کے موافق ہوتے ہیں، کس چیز میں؟ اس کلی کے صادق آنے میں۔ جبکہ کلی مشکک کو مشکک اس لیے کہتے ہیں کہ یہ شکک یشکک تشکیک سے ہے، شکک یشکک تشکیک کے معنی ہیں، دوسرے کو شک میں ڈالنا، تو کلی مشکک بھی اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے، وہ سمجھتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے یا مشترک ہے، یا کیا ہے؟ مشترک کسے کہتے تھے؟ کہ ایک لفظ کے کئی معنی ہوں، متکثر المعنی جو ہو، جیسے عين کا لفظ گھٹنے کے لیے بھی وضع ہے، گھٹنے کو بھی عين کہتے ہیں، آنکھ کو بھی عين کہتے ہیں، سونے کو بھی عين کہتے ہیں، سورج کو بھی عين کہتے ہیں، جاسوس کو بھی عين کہتے ہیں، وغیرہ، تو یہ بہت سے معانی اس کے آ گئے بھئی، تو یہ عين کا لفظ مشترک ہے، ان تمام معانی کے اندر بھئی، ان سب پر یہ بولا جاتا ہے۔ تو کلی مشکک میں اس کلی کو دیکھنے والا شک میں پڑ جاتا ہے، یہ کلی اس کو شک میں ڈال دیتی ہے، وہ سمجھتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے یا مشترک ہے۔ کلی متواطی اس اعتبار سے کہ اصل معنی میں تمام، اصل معنی تمام افراد میں پایا جا رہا ہے، سفیدی، سفیدی ایک میں بھی ہے، سفیدی دوسری چیز میں بھی ہے، تو اس اعتبار سے وہ اصل معنی کی طرف نظر کرتا ہے، تو اسے لگتا ہے یہ سب افراد شاید برابر ہیں اس کلی کے صادق آنے میں، اس میں بھی سفیدی ہے، دوسری چیز میں بھی سفیدی ہے، تیسری چیز میں بھی سفیدی ہے، تو اس اعتبار سے اسے متواطی ہونے کا وہم ہوتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ دیکھتا ہے، تو ان میں سفیدی تو ہے، لیکن ایک جیسی نہیں ہے، کمی بیشی ہے، تو وہ سمجھتا ہے، شاید یہ کم سفیدی یہ الگ معنی ہے، یہ زیادہ سفیدی یہ الگ معنی ہے، اس سے زیادہ سفیدی وہ الگ معنی ہے، تو گویا ایک ہی لفظ کئی معنی کے لیے وضع ہے، تو سمجھتا ہے، شاید یہ مشترک ہے، یہ کیا ہے؟ مشترک ہے، لیکن ایسا نہیں، نہ وہ مشترک ہوتا ہے، نہ متواطی ہوتا ہے، بلکہ وہ تو کیا ہے؟ کلی مشکک ہے بھئی۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہا کہ وہ کلی متواطی وہ ہے کہ وہ صادق آئے، وہ معنی اپنے تمام افراد پر علی سبیل الاستواء برابری کے طریقے پر، من غیر أن يتفاوت بغیر اس کے کہ فرق ہو ان میں، تفاوت کا معنی فرق بھئی، من غير أن يتفاوت بغیر اس کے کہ ان میں فرق ہو باالأولية أو الأولوية أو الأشدية أو الأزدية۔ الأزدية، دال سے پہلے یا ہونی چاہیے بھئی۔ اچھا، ان میں فرق ہو یا تو او، میں نے بتایا تھا، صفت کے صیغے کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا کر اس سے مصدر بنا لیا جاتا ہے، تو اول کا معنی تھا پہلا، لیکن اولیت کا کیا معنی ہے؟ پہلا ہونا۔ اولا کا معنی تھا زیادہ لائق، زیادہ قابل کسی چیز کے، تو لیکن اس کے ساتھ یائے مشدد، تا ملائی اول، تو وہ آخر میں اولا کے آخر میں یا تھی، وہ واؤ سے بدل گئی، اولویت ہوا بھئی، تو یہ اولویت کا معنی اولا ہونا، زیادہ قابل ہونا۔ اشدیت کا کیا معنی ہے؟ زیادہ شدید ہونا، ازدیت کا معنی ہے، زیادہ ہونا بھئی، ایک کے مقابلے میں دوسرے کا زیادہ ہونا بھئی، زیادہ ہونا۔ تو یہ فرق جو ہیں، یہ چار صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ پہلے ایک جو ہے، پہلے ہونے کے اعتبار سے، اولا ہونے کے اعتبار سے، شدید ہونے کے اعتبار سے اور مقدار میں زیادہ ہونے کے اعتبار سے، تو وہ چار قسمیں تھیں، ان سب کو یہاں انہوں نے ذکر کر دیا بھئی۔ اچھا، ان کا معنی سمجھنے سے پہلے ایک، دو اور چیزیں سمجھ لیں بھئی۔ ایک ہے علت، ایک ہے معلول۔ ایک علت اور ایک معلول۔ علت اسے کہتے ہیں کہ اس پر دوسری چیز کا وجود موقوف ہو، یہ علت ہے تو وہ دوسری چیز بھی ہے، یہ علت نہیں تو دوسری چیز بھی نہیں، تو یہ جس کی وجہ سے ہے، اس کو کہتے ہیں علت اور وہ دوسری چیز جس کا وجود اس پر موقوف ہے، اس کو کہتے ہیں معلول بھئی، کیا کہتے ہیں؟ معلول، جیسے سورج یہ علت ہے دن کے لیے، سورج ہے تو دن ہے، سورج نہیں تو دن بھی نہیں، تو سورج علت اور دن کیا ہوا؟ معلول۔ سورج جس جس کی وجہ سے ہو، وہ کہلاتا ہے علت اور جس کا وجود ہو، وہ کیا کہلاتا ہے؟ معلول بھئی۔ تو سورج جو ہے، یہ علت ہے دن کے لیے، معنی سمجھ میں آ رہا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ وہ چیز جس پر دوسری کا وجود موقوف ہو، اسے کیا کہا جاتا ہے؟ علت کہتے ہیں بھئی، وہ چیز جس پر دوسری کا وجود موقوف ہو، وہ علت، جیسے دن کا وجود 2 یا اسی کی مثال اور دیکھ لیں، چابی کا گھمانا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے۔ چابی گھمائیں گے تو تالا کھلے گا، ورنہ تالا ویسے نہیں کھلے گا۔ تو ایک چیز کی وجہ سے دوسری چیز کا وجود ہے، تو جس کی وجہ سے وجود ہے، اسے کہتے ہیں علت، اور جس کا وجود اس دوسری چیز [معلول] اسے کیا کہتے ہیں؟ معلول کہتے ہیں بھئی۔ اب ایک اور دو لفظ سمجھ لیں، ایک ہے واجب، ایک ہے ممکن۔ ایک واجب اور ایک ممکن۔ واجب الوجود یاد رکھیے، واجب الوجود اللہ تعالیٰ ہیں بھئی، اور اس کے علاوہ تمام چیزیں جو ہیں ان کو ممکنات کہا جاتا ہے۔ ایک ہے واجب اور ایک ہے ممکن۔ واجب الوجود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور اس کے علاوہ کہ اللہ کے علاوہ تمام چیزیں وہ کیا ہیں؟ ممکن بھئی۔ اچھا، واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ یہ معنی سمجھ لیں۔ واجب الوجود وہ ذات جس کا ہونا واجب ہو، نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، جس کا ہونا کیا ہو؟ واجب ہو یعنی ضروری ہو۔ جو اپنے وجود میں کسی کے کی محتاج نہ ہو بھئی۔ جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو وہ ذات بھئی۔ تو واجب وہ ذات جس کا ہونا ضروری ہو، ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس کا وجود نہ ہو کیونکہ نام ہی بتلا رہا ہے، واجب الوجود جس کا وجود واجب ہے، ضروری ہے۔ اور جو اپنے وجود میں کسی دوسرے کی محتاج نہ ہو اور خود بخود ہو بھئی، خود بخود ہو۔ اسے کہتے ہیں واجب الوجود، اور ممکن اسے کہتے ہیں جو اپنے وجود میں دوسرے کی محتاج ہو جو چیز۔ تو واجب الوجود جو اپنے وجود میں کسی کی محتاج نہ ہو، اور ممکن الوجود جو اپنے وجود میں کسی دوسرے کی محتاج ہو، محتاج ہو۔ اب یاد رکھیے بھئی، یہ جو واجب الوجود آیا، یاد رکھیے یہ کلی ہے، کیا ہے؟ کلی ہے۔ کلی کس کو کہتے تھے؟ جس میں شرکت ہو سکے بھئی، اور جزئی کس کو کہتے تھے؟ جس میں شرکت نہ ہو سکے۔ اب یہ جو واجب الوجود ہے یہ کلی ہے، آپ کہیں گے اللہ تعالیٰ تو ایک ہیں، کلی تو اسے کہتے ہیں جو کثیرین پر بولی جائے، جس میں شرکت ہو سکے۔ جواب یہ کہ ہاں، وہ ذات تو ایک ہی ہے، اس ذات وہ ذات تو ایک ہی ہے، ہماری اس وقت بحث چل رہی ہے لفظ واجب الوجود کی، کس کے؟ لفظ، توجہ سے سننا، لفظ واجب الوجود، واجب الوجود کا کیا معنی ہم نے کیا؟ جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو، جو اپنے وجود میں کسی دوسرے کا محتاج نہ ہو۔ اب یہ مفہوم، یہ مفہوم عام ہے بھئی، مفہوم عام ہے۔ یعنی اگر اس طرح اور کوئی پائی جائے ذات تو یہ اس پہ اسی طرح صادق آئے گا بھئی مفہوم کو، جو خود بخود ہو۔ جو جو جس کا ہونا ضروری ہو، جو اپنے وجود میں کسی اور کے محتاج نہ ہو، تو نفسِ مفہوم کے اعتبار سے اس میں شرکت ہو سکتی ہے، وہ الگ بات ہے کہ اس کلی کا ایک ہی فرد اللہ تعالیٰ ہیں بھئی اور کوئی فرد، لیکن مفہوم تو اس کا عام ہے، یہ کثیرین پر بولا جا سکتا ہے بھئی۔ یہ کیا ہے کثیرین پر؟ ہاں، اس کے مفہوم پہ نظر رکھیں، مفہوم کے اعتبار سے فرض کرو ایک اور ذات ہوتی اور اس میں یہی باتیں ہوتیں، کیا؟ خود بخود ہوتی، ہونا اس کا ضروری ہوتا اور وہ اپنے وجود میں کسی کے محتاج نہ، تو یہ لفظ اس پر صادق آتا یا نہ آتا؟ یہ لفظ اس پہ سارے یہ والے معنی جب اس کے اندر پائے جا رہے ہیں تو یہ اس پر بھی صادق آتا، ایک اور ذات ہوتی، اس میں بھی یہی معانی ہوتے تو اس پر بھی صادق آتا۔ معلوم ہوا کلی اور جزئی ہونا مفہوم کے اعتبار سے ہے، افراد کو نہیں دیکھنا، مفہوم میں شرکت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ یہ مفہوم اوروں پر صادق آ سکتا ہے یا نہیں؟ جب یہ مفہوم اوروں پر صادق آ سکتا ہے تو معلوم ہوا یہ کلی ہے، اس میں شرکت ہو سکتی ہے، یہ اس جیسا اور کوئی فرد پایا، وہ تو الگ بات ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ایک ہی ہے اور کوئی معبود نہیں ہے اللہ کے علاوہ۔ اس سے قطعِ نظر خارج کو آپ نہ دیکھیں، آپ صرف لفظ کے معنی پر غور کریں، لفظ کا معنی کیا ہے؟ واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ جس کا ہونا ضروری ہے، جو خود بخود ہو، جو اپنے وجود میں کسی کے محتاج نہ ہو۔ تو یہ معنی عام ہے بھئی، معلوم اس جیسا معلوم ہوا فرض کرو، فرض ویسے کوئی اور ذات ہوتی تو اس پہ بھی یہی معنی بعینہٖ صادق آتے، یہ صفات اس میں ہوتیں، تو معلوم ہوا یہ واجب الوجود جو ہے، یہ کلی ہے، جزئی نہیں بھئی۔ اسی طرح ممکنات بھئی، ممکن، اللہ نے تمام چیزیں پیدا فرمائیں تو یہ تمام چیزیں اپنے وجود میں اللہ کی محتاج ہوئیں۔ اللہ نے پیدا کیا تو یہ ہیں، اللہ پیدا نہ فرماتے تو ان کا وجود بھی نہ ہوتا، تو ان باقی چیزوں کو ممکن الوجود کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ممکن الوجود بھئی، اور ممکن وہ ذات، تعریف یاد رکھیں، ممکن وہ چیز جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو۔ ممکن کسے کہتے ہیں؟ تعریف بھی یاد رکھنا، ممکن کوئی آپ سے پوچھ لے کسے کہتے ہیں؟ آپ کیا کہیں گے؟ وہ چیز جو اپنے وجود میں غیر کی محتاج ہو، اور تمام چیزیں اپنے وجود میں کس کی محتاج ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی، واجب الوجود کی محتاج ہیں، تو یہ تمام چیزیں ممکنات ہیں بھئی۔ تو ایک ہوا واجب الوجود، ایک ہوا ممکن الوجود، معنی سمجھ میں آ گیا؟ علت اور معلول کا معنی بھی سمجھ میں آ گیا؟ علت کسے کہتے ہیں؟ جس پر دوسری چیز کا وجود موقوف ہو بھئی، تو اسے علت کہتے ہیں، اور جس چیز کا وجود اس پر موقوف تھا اسے معلول، جیسے دن کا دن کا ہونا یہ معلول ہے کس چیز کے لیے؟ سورج کے نکلنے کے لیے، تو سورج کا نکلنا ہوا علت اور دن کیا ہوا؟ معلول۔ اب آئیے بھئی وہ جو فرق بیان کیے تھے چار، وہ فرق سمجھ لیں بھئی۔ وہ فرق سمجھ لیں۔ انہوں نے کہا تھا: من غير أن يتفاوت بأولية أو اولوية أو أشدية أو أزديدية. اولیت، اولیت اسے کہتے ہیں، کوئی لکھ لے بھئی جو تیزی سے لکھ سکے جلدی جلدی۔ اولیت، بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت، بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت علت ہو دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے، دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ تعریف لکھ لی بھئی؟ اولیت کا کیا معنی؟ اول ہونا، کیا معنی؟ پہلے ہونا، یعنی بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت پہلے ہوگا اور وہ علت ہوگا دوسرے افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ مفہوم سمجھ میں آ رہا ہے؟ نظر رکھنا تعریف پہ، بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت یہ علت ہو دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ یعنی بعض افراد کے لیے اس کلی کا ثبوت ہوگا تو پھر دیگر افراد کے لیے بھی کلی کا ثبوت ہو سکتا ہے، اس لیے کیونکہ ان بعض افراد میں کلی کا ثبوت یہ علت ہے دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ تو باقی افراد میں کلی کا ثبوت وہ ہے معلول، اور بعض افراد میں کلی کا ثبوت کیا ہے؟ توجہ ہے؟ بعض افراد میں کلی کا ثبوت علت ہے، ان میں یہ کلی پائی جائے گی تو باقیوں میں بھی کلی یہ والی پائی جائے گی۔ تو بعض افراد میں کلی کا ثبوت یہ ہے علت، باقی افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ ان افراد میں کلی کا ثبوت ہوگا تو باقی افراد میں بھی کلی کا ثبوت ہو سکے گا، اگر ان کے لیے کلی کا ثبوت نہیں تو باقیوں کے لیے بھی کلی کا ثبوت نہیں، کیونکہ یہ اس کے لیے علت ہے، علت ہوتی ہے تو معلول ہوتا ہے، سورج ہے تو دن ہے، سورج نہیں تو دن بھی نہیں۔ تو ان بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت ہوگا تو باقی افراد کے لیے بھی کلی کا ثبوت ہوگا، کیونکہ ان کے لیے کلی کا ثبوت وہ علت ہے باقی افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے، جیسے بھئی، وجود۔ اس وجود کا ثبوت واجب الوجود کے لیے ہوگا تو ممکنات کے لیے بھی ہو سکے گا۔ جیسے کہ بھئی، واجب الوجود سب چیزوں کو پیدا کرنے والے ہیں۔ واجب، جس واجب جس کا ہونا ضروری، اب وجود کا لفظ ذرا ہٹا دیں، بس معنی وہی، واجب اور ایک ہے ممکن، ایک ہے واجب اور ایک ممکن، تو واجب کے لیے وجوب کا ثبوت ہوگا، وجود واجب الوجود کے لیے وجود ہوگا تو باقی ممکنات کے لیے بھی وجود ہوگا، کیونکہ واجب ہی تو باقیوں کو پیدا کرنے والے ہیں، اگر واجب کے لیے وجود نہ نہ مانا جائے تو باقی چیزوں کے لیے بھی وجود کا اثبات نہیں، باقی چیزیں بھی نہیں ہو سکتیں بھئی۔ معنی سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ منطق ہے بھئی منطق، گہری باتیں آئیں گی، دماغ کو بیدار رکھیں، توجہ سے بیٹھیں، انشاءاللہ کوئی مشکل نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھیے، وجود بھئی وجود، وجود جیسے واجب الوجود کا ہے اسی طرح ممکنات کا بھی وجود ہے۔ چیزوں کا وجود ہے یا نہیں بھئی؟ وجود ہے۔ لیکن یہ وجود اولاً ثابت ہے کس کے لیے؟ واجب الوجود کے لیے، اور اس کے بعد ثابت ہے کس کے لیے؟ ممکنات کے لیے۔ اولاً کس کے لیے؟ واجب الوجود کے لیے، اور اس کے بعد ممکنات کے لیے۔ اولاً کیوں؟ کیونکہ واجب الوجود ہی تو دوسری چیزوں کو وجود دینے والے ہیں، تو پہلے کس کا ہونا ضروری؟ واجب الوجود کا، اس کے بعد باقی چیزوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو واجب الوجود کے لیے وجود کا ثبوت، یہ وجود کلی ہے نا، آپ کا بھی وجود ہے، کتاب کا بھی وجود ہے، قلم کا بھی وجود ہے، دیکھو سب پہ صادق آ رہا ہے، سب پہ یہ لفظ صادق آ رہا ہے، تو یہ کلی ہوئی بھئی۔ اب اس وجود کا ثبوت اولاً کس کے لیے ہوگا؟ واجب الوجود کے لیے، اور اس کے بعد کس کے لیے ہوگا؟ ممکنات کے لیے۔ تو دیکھو واجب الوجود کے لیے وجود کا ماننا، وجود کا ثبوت یہ علت ہے باقی چیزوں میں وجود کے ثبوت کے لیے، واجب الوجود کے لیے وجود مانیں گے تو باقی چیزوں میں بھی وجود پھر مانیں گے، کیونکہ اللہ نے ان کو پیدا کیا، واجب الوجود نے واجب الوجود نے انہیں پیدا کیا۔ بات سمجھ میں بھی آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ اچھی طرح؟ کیا تعریف کی تھی؟ کہ بعض افراد میں کلی کا ثبوت یہ علت ہو باقی افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ یہ وجود ثابت ہے، اس کا ثبوت ہے۔ 3 واجب الوجود کے لیے بھی اور ممکن الوجود کے لیے بھی لیکن واجب الوجود کے لیے کلی کا یعنی اس وجود کا ثبوت یہ علت ہے ممکن الوجود میں کلی اس وجود کے ثبوت کے لیے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اچھی طرح؟ دوسرا لکھیں، لکھیں بھی اولویت۔ اولویت۔ کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے تو کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے تو بالذات ہو۔ کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے تو بالذات ہو۔ بالذات ذال کے ساتھ ہے، بالذات ہو۔ اور دیگر افراد کے لیے بالتبع۔ بالتبع، تا دو نقطوں والی، با اور عین، بالتبع۔ دوسروں کے لیے کیا ہو؟ بالتبع ہو یعنی غیر کے واسطے سے ہو۔ یعنی غیر کے واسطے سے ہو۔ یعنی دوسروں کے تا اس اول کے تابع ہو۔ بھئی کیا تعریف کی اولویت کی؟ کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے تو بالذات ہے یعنی ان کی ذات ہی کے اعتبار سے ہے اور بعض کے لیے ان کے، بعض کے لیے بالتبع ہو بھئی۔ جیسے دیکھیے بھئی وجود، یہی مثال دوبارہ دیکھ لیں۔ وجود کا ثبوت اللہ کے لیے بالذات ہے کیونکہ واجب کہتے ہی کس کو تھے؟ کیا معنی تھا؟ جو خود بخود ہو تو اس کے لیے معلوم ہوا اس واجب کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کا وجود ہونا چاہیے بھئی۔ واجب کا کیا معنی کیا؟ جو خود بخود ہو، جس کا ہونا ضروری ہو۔ تو واجب کی اپنی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ اس کے لیے کیا माना جائے؟ وجود ہو، وجود माना جائے، وجود کا ثبوت ہو۔ اور باقی چیزیں جو ممکن ہیں، ان میں وجود کا ثبوت بالتبع ہے۔ واجب کا، کیونکہ ان کو اللہ نے بنایا بھئی، واجب الوجود نے بنایا۔ تو ان میں وجود آیا واجب کے واسطے سے۔ واجب الوجود ہے تو اور چیزوں کا وجود ہے، واجب الوجود اگر نہ ہوتے تو اور چیزوں کا وجود بھی نہ ہوتا۔ تو دیکھو واجب کسے کہتے ہیں؟ جس کا ہونا ضروری، جو خود بخود ہو۔ تو اس جو جس کا ہونا خود بخود، جو خود بخود ہے، جس کا ہونا ضروری ہے تو معلوم ہوا اس کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے لیے وجود کو माना جائے۔ تو دیکھو وجود کا ثبوت کلی کے لیے بالذات ہوا۔ اور باقیوں کے لیے بالتبع، طبعاً، غیر کے واسطے سے، یعنی ان کو اللہ نے واجب الوجود نے پیدا فرمایا بھئی۔ تو ان کے لیے بھی وجود کا ثبوت ہے، ان کا بھی وجود ہے ممکنات کا۔ لیکن خود بخود ہے یا بالتبع ہے؟ بالتبع ہے بھئی، تابع، تابع ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ جی۔ اسی طرح روشن، روشن بھئی۔ روشن سورج بھی ہے اور دن کا وقت ہو تو زمین بھی روشن ہے بھئی۔ سورج بھی روشن اور زمین بھی روشن بھئی دن کے وقت میں۔ لیکن سورج کے لیے روشن ہونے کا ثبوت اپنی ذات کے اعتبار سے ہے۔ کیونکہ سورج کا کہتے کس کو تھے؟ وہ روشن چمکدار جسم، جو چمکدار ہوگا تو روشن ہوگا یا نہیں ہوگا؟ تعریف ہی معلوم، اگر وہ روشن ہی نہیں ہے تو پھر تو سورج ہو ہی نہیں سکتا۔ تو سورج کی ذات ہی، سورج کا کیا معنی کیا تھا؟ چمکدار جسم، آسمان میں موجود چمکدار جسم۔ تو جب یہ تعریف ہوگی تو وہ معلوم ہوا اس کی ذات ہی کیا تقاضا کر رہی ہے؟ اسے کیا ہونا چاہیے؟ روشن ہونا چاہیے، چمکدار ہونا چاہیے۔ اس کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے۔ تو سورج کی اپنی، سورج اپنی ذات کے اعتبار سے روشن ہے اور زمین؟ زمین سورج کی وجہ سے روشن ہے، سورج کی روشنی آتی ہے۔ تو زمین کا روشن ہونا ہے بالتبع، سورج کے تابع ہے بھئی۔ اور سورج کا روشن ہونا اپنی ذات کے اعتبار سے ہے اور زمین کا روشن ہونا سورج کے تابع ہے، یعنی اس کے واسطے سے ہے بھئی۔ یہ دوسری مثال بھی آ گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو؟ اول ہونا اور چیز ہے، اولیٰ ہونا اور چیز ہے بھئی۔ تو اولیٰ ہونے کا کیا معنی؟ زیادہ لائق ہے۔ وجود کا ثبوت زیادہ، یہ زیادہ لائق ہے کہ کس کے لیے ثابت ہو؟ واجب تعالیٰ کے لیے ثابت ہو۔ اور غیر اولیٰ ہے کس کے لیے ثابت ہو؟ ممکن کے لیے ہو۔ اور اسی طرح وجود اولاً کس کے لیے ثبوت मानना پڑے گا؟ واجب کے لیے۔ اور ثانیاً کس کے لیے ثبوت मानना پڑے گا؟ ممکن کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ فرق ہے بھئی۔ آگے آیا بھئی اشدیت بھئی۔ اشدیت کے بارے میں لکھ لیں بھئی کہ کلی کا ظہور بلحاظ کیفیت کلی کا ثبوت بلحاظ کیفیت کلی کا ظہور، کلی کا ظہور، ظ کے ساتھ ہے، ظ، و۔ کلی کا ظہور بلحاظ کیفیت کلی کا ثبوت، کلی کا ظہور بلحاظ بلحاظ کیفیت بعض افراد میں دوسروں کی نسبت زیادہ ہو۔ بعض افراد میں دوسروں کی نسبت زیادہ ہو۔ کلی کا ثبوت بلحاظ کیفیت بعض افراد میں دوسروں کی نسبت زیادہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی، لکھ لیا؟ یہ کلی کا ظہور بلحاظ کیفیت بعض افراد میں زیادہ ہے، بعض میں کم بھئی۔ اس کی مثال وہ سفیدی بھی ہے بھئی۔ اس کی مثال سفیدی ہے تو دیکھیے بعض افراد میں سفیدی بعض چیزوں میں سفیدی زیادہ تھی اور بعض میں کم تھی اور یہ کیفیت کے اعتبار سے تھی، کس اعتبار سے؟ کیفیت کے اعتبار سے تھی کہ بعض تو بعضوں میں سفیدی شدید تھی، بعض چیزوں میں سفیدی شدید ہوتی ہے، بعض چیزوں میں ضعیف یعنی کم ہوتی ہے۔ چوتھا ہے بھئی ازدیت بھئی۔ ازدیت، کہ کلی کا ظہور بلحاظ کمیت کلی کا ظہور بلحاظ کمیت، کمیت کاف چھوٹا ہے بھئی۔ کاف، میم، یا اور تا، کمیت، یا مشدد ہے۔ کلی کا ظہور بلحاظ کمیت بعض افراد میں بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ مثلاً بھئی ایک طرف بھی گندم پڑی ہے مثلاً وہ دو من ہے اور دوسری طرف گندم ہے وہ 20 من گندم پڑی ہے۔ تو یہ بھی گندم، وہ بھی گندم ہے لیکن بلحاظ کمیت بھئی، کمیت کہتے ہیں مقدار کو بھئی۔ مقدار کے اعتبار سے مقدار کے اعتبار سے دیکھو ایک میں مقدار زیادہ ہے اور ایک میں کم ہے بھئی۔ تو دیکھو یہ ہے کہ مقدار کے اعتبار سے وہاں فرق آتا ہے۔ تو ایک میں اول ہونے کے اعتبار سے پہلی قسم تھی۔ فرق کس اعتبار سے تھا؟ اول ہونے کے اعتبار سے جیسے کہ وجود کی مثال ذکر کی بھئی، وجود واجب تعالیٰ کے لیے اول ہے اور باقیوں کے لیے بعد میں۔ اور اس کے بعد اولویت کے اعتبار سے ایک فرق تھا کہ بعض چیزوں کے لیے کلی کا ثبوت اولیٰ ہو بعض دوسری چیزوں کی بنسبت۔ تو واجب تعالیٰ کے لیے وجود کا ثبوت یہ اولیٰ ہے باقی چیزوں کی بنسبت۔ اور اشدیت کہ بعض چیزوں میں کلی زیادہ ہو باعتبار کیفیت کے بھئی۔ کس اعتبار سے؟ کیفیت، سفیدی کے اعتبار سے، تو یہاں کوئی مقدار نہیں بڑھ رہی، صرف کیفیت ہے۔ ایک میں سفیدی کی کیفیت زیادہ ہے، ایک ایک میں سفیدی کی کیفیت کم ہے بھئی۔ اور مثلاً ایک طرف دو من گندم ہے، دوسری طرف 20 من گندم ہے تو یہاں مقدار کے لحاظ سے فرق آیا بھئی۔ ایک میں کلی کا ظہور بلحاظ مقدار کے زیادہ ہے اور ایک میں کلی کا ظہور باعتبار مقدار کے کم ہے بھئی، کم ہے۔ تو یہ بھی گندم ہے، وہ بھی گندم ہے لیکن وہ مقدار کے اعتبار سے زیادہ ہے بھئی۔ تو یہ تھے فرق بھئی چار قسم کے۔ اچھی طرح سمجھ میں آ گئے؟ تو بات یہ چل رہی تھی اب دوبارہ دیکھیے کتاب پر۔ انہوں نے کیا کہا؟ کہ وہ کلی متواطی جو ہے وہ کہ يصدق ذلك المعنى على سائر أفراده اپنے تمام افراد پر على سبيل الاستواء برابری کے طریقہ پر من غير أن يتفاوت بأولية بغیر اس کے کہ ان میں فرق ہو اولیت کے اعتبار سے أو أولوية یا اولیٰ ہونے کے اعتبار سے أو أشدية یا اشد ہونے کے اعتبار سے أو أزيدية یا زیادہ ہونے کے اعتبار سے کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں ہونا چاہیے، سب پر برابری کے ساتھ صادق آئے تو یہ ہے کلی متواطی بھئی۔ یہ ہے کلی متواطی۔ ويسمى هذا القسم بالمتواطئ اب وجہ ذکر کر رہے ہیں اس کو متواطی کیوں کہتے ہیں۔ ويسمى هذا القسم بالمتواطئ اور اس قسم کو موسوم کیا جاتا ہے متواطی کے ساتھ یعنی اس قسم کا نام متواطی رکھا جاتا ہے لتواطؤ أفراده وتوافقها دیکھو وہی تواطؤ کا معنی توافق کے ذریعے کر دیا۔ اس کو کہتے ہیں عطف تفسیری بھئی کہ معطوف تفسیر بیان کرتا ہے معطوف علیہ کی بھئی۔ لتواطؤ أفراده اس کے بوجہ اس کے افراد کے باہم موافق ہونے کے وتوافقها یہ بھی وہی معنی، ان کے افراد کیا ہوتے ہیں آپس میں؟ موافق ہوتے ہیں یعنی ایک دوسرے جیسے ہوتے ہیں في تصادق ذلك المعنى العام اس عام معنی یعنی اس کلی کے صادق آنے میں، اس عام معنی کے صادق آنے میں یعنی کلی کے صادق آنے میں۔ کلی عام ہوتی ہے نا، بہت سے افراد پر بولی جاتی ہے، اس لیے اس کو معنی عام کے ساتھ ذکر کیا۔ اس معنی عام کے صادق آنے میں كالإنسان بالنسبة إلى زيد وبكر وعمرو جیسے کہ انسان نسبت کرتے ہوئے زید، عمرو اور بکر کی طرف۔ زید، عمرو اور بکر کی طرف انسان کی نسبت کی جائے، دیکھو ہر ایک پہ انسان برابری کے ساتھ صادق آ رہا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک زیادہ انسان ہے یا ایک کم انسان ہے۔ ان میں کسی بھی اعتبار سے فرق نہیں ہے بھئی، زید، عمرو، بکر وغیرہ میں۔ نہ اولویت کے اعتبار سے، نہ اولیت کے اعتبار سے، نہ اولویت کے اعتبار سے، نہ اشدیت کے اعتبار سے اور نہ ازدیت کے اعتبار سے۔ وثانيهما اور دوسری قسم ان دو میں سے أن لا يكون صدق ذلك المعنى العام في جميع أفراده على وجه الاستواء وہ دوسری قسم یہ ہے کہ صدق نہ ہو اس معنی عام کا في جميع أفراده اپنے تمام افراد میں على وجه الاستواء برابری کے طریقہ پر۔ دوسری کلی مشکک بیان ہونے لگی ہے کہ اس وہ معنی عام، معنی عام سے مراد کیا ہے؟ وہ کلی، یعنی کہ وہ کلی کا صدق جو ہے تمام افراد میں برابری کے طریقہ پر نہ ہو۔ سفیدی، ایک چیز زیادہ سفید ہے، ایک کم سفید ہے تو دیکھو برابری کے طریقے سے ان میں سفیدی نہیں ہے بھئی۔ تو سفیدی ان پر برابری کے طریقے سے صادق نہیں آ رہی بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ وثانيهما ان دو میں سے دوسرا یہ ہے أن لا يكون صدق ذلك المعنى العام کہ اس معنی عام کا صدق نہ ہو في جميع أفراده على وجه الاستواء اپنے تمام افراد میں برابری کے طریقہ پر بل يكون صدق ذلك المعنى بلکہ اس معنی یعنی اس کلی کا صدق جو ہے على بعض الأفراد بالأولية بعض افراد پر کس طریقہ پر ہوگا؟ اولیت کے طریقہ پر أو الأشدية یا شدت کے طریقہ پر، زیادہ شدید ہونے کے اعتبار سے أو الأولوية یا زیادہ اولیٰ ہونے کے اعتبار سے ہوگا۔ ازدیت کو نہیں ذکر کیا مقدار میں کمی یا زیادتی بھئی، کیونکہ کلی مشکک میں یہ معتبر نہیں ہے بھئی۔ ایک طرف ایک من گندم ہے، دوسری طرف 10 من گندم ہے تو آپ یہاں پر اگرچہ مقدار میں فرق ہے لیکن ہیں تو دونوں گندم ہی، تو لہذا اس کو کلی مشکک نہیں کہیں گے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ کلی مشکک ہے کیونکہ یہ ہیں سب گندم ہی بھئی تو کمی بیشی کا اس میں اعتبار نہیں۔ تو فرق کرنے کی تو وہی چار صورتیں تھیں۔ فرق کس طرح ہوگا؟ کبھی اولیت کے اعتبار سے، کبھی اولویت کے اعتبار سے، کبھی اشدیت کے اعتبار سے اور کبھی ازدیت کے اعتبار سے۔ لیکن کلی مشکک میں کون سے فرق معتبر ہیں؟ کلی مشکک تو وہ ہے نا جو برابری سے صادق نہ آئے، فرق ہو۔ افراد میں کیا ہو؟ فرق ہو۔ لیکن کون کون سے فرق معتبر ہیں؟ اولیت، اولویت اور اشدیت، یہ تین معتبر ہیں، ازدیت معتبر نہیں اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ وصدقها على بعض الآخر بأضداد ذلك تو کلی دیکھیے کیا کہا کہ وہ دوسری قسم وہ ہے، دوبارہ ترجمہ دیکھیں، کہ اس معنی عام کا صدق تمام افراد پر برابری کے طریقہ پر نہ ہو بل يكون صدق ذلك المعنى على بعض الأفراد بلکہ اس معنی کا صدق بعض افراد پر اولیت کے ساتھ ہوگا یا اشدیت کے ساتھ یا اولویت کے ساتھ وصدقها على بعض الآخر بأضداد ذلك اور بعض دوسرے افراد پر جو ہے اس کا صدق ان کی ضدوں کے ساتھ ہوگا۔ ان کی بھئی ایک پر ایک زیادہ سفید ہے، ایک کم سفید ہے۔ تو جو زیادہ سفید ہے اس پر بھی سفیدی کا لفظ بولتے ہیں، جو کم سفید ہے اس پر بھی سفیدی کا لفظ بولتے ہیں۔ لیکن جو زیادہ سفیدی ہے، اس پر سفیدی کا صدق ہے اشدیت کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ اشدیت کے اعتبار سے اس پر سفیدی بول رہے ہیں اور دوسری میں اشد کا ضد کیا ہے؟ شدید کی ضد کیا ہے؟ ضعیف بھئی۔ تو اس پر اضعفیت کے ساتھ یعنی زیادہ ضعف کے ساتھ اس پر سفیدی کا لفظ بول رہے ہیں۔ ایک پر کس اعتبار سے؟ اشدیت کے اعتبار سے ہے تو دوسرے پر اضعفیت کے اعتبار سے ہے۔ کس اعتبار سے ہے؟ اضعفیت کے کہ اس میں کم ہے سفیدی۔ جیسے بھئی وجود بھئی، وجود یہ اس کا ثبوت ذات باری تعالیٰ کے لیے بھی ہے اور ممکن کے لیے بھی ہے۔ لیکن ذات باری تعالیٰ کے لیے اولیت کے طریقہ پر ہے اور ممکن کے لیے غیر اولیت، وہ جو اولویت کی، اولیت کے اولیت کی جو ضد ہے یعنی غیر اولیت کے طریقہ پر ہے۔ اسی طرح وجود کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے لیے بالذات ہے تو اس یہاں کلی کا ثبوت ہوا واجب تعالیٰ کے لیے اولویت کے طریقہ پر اور ممکن کے لیے وجود کا ثبوت غیر اولویت کے طریقہ پر ہوگا یعنی اس کی ضد کے طریقہ پر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ وصدقها على بعض الآخر بأضداد ذلك اور اس کلی کا صدق اس معنی کا صدق جو ہے بعض دوسرے افراد پر اس کی ان کی ضدوں کے ساتھ ہوگا كالوجود بالنسبة إلى الواجب جل مجده وبالنسبة إلى الممكن جیسے کہ وجود نسبت کرتے ہوئے واجب جل مجده کی طرف بھئی، یعنی واجب تعالیٰ کی طرف۔ جل کا معنی بڑا ہونا، بزرگ ہونا، فعل ہے۔ مجده یہ فاعل ہے جل کے لیے، مجده۔ مجد کہتے ہیں بزرگی اور عظمت کو۔ بزرگی اور عظمت۔ جیسے بھئی لفظ اللہ کے ساتھ ہم تعالیٰ کہہ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اللہ جل جلالہ نے 4 جس کے، ہاں عظمت بہت بڑی ہے، بہت اونچی ہے بھئی۔ وبالنسبة الى الممكن، اور کس کی طرف نسبت کرتے ہوئے؟ ممکن کی طرف۔ تو وجود کی نسبت واجب تعالٰی اور ممکن کی طرف نسبت کرتے ہوئے، تو واجب تعالٰی پر وجود صادق آتا ہے، کس اعتبار سے؟ اولیت اور اولویت کے طریقے پر۔ اور ممکن پر وجود صادق آتا ہے، کس طریقے پر؟ غیر اولیت اور غیر اولویت کے طریقے پر۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ یعنی ایک میں ایک کے لیے اولاً ہے، باقیوں کے لیے تبعاً ہے بھئی۔ یا جیسے سفیدی، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ سفیدی جیسے بھئی، سفیدی کی مثال لے لیں۔ سفیدی جو چیز زیادہ سفید ہے اس پر بھی سفیدی صادق، جو کم سفید ہے اس پر بھی سفیدی صادق۔ لیکن زیادہ شدت کے ساتھ کس پر صادق آ رہی ہے؟ جس میں زیادہ سفیدی ہے۔ اور کمی کے ساتھ کس پر صادق آ رہی ہے؟ تو دیکھو ایک میں زیادی کے اعتبار سے صادق آ رہی ہے، ایک میں کمی کے اعتبار سے یعنی شدت، وہ کیفیت میں کمی زیادی مراد ہے۔ تو یہ معنی سب پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتی کیونکہ کلی مشکک کی بات چل رہی ہے۔ وكان البياض بالنسبة الى الثلج والعاج، اور جیسے سفیدی نسبت کرتے ہوئے برف— ثلج کہتے ہیں برف کو، اور عاج کہتے ہیں ہاتھی دانت کو بھئی۔ ہاتھی کے جو دانت آپ نے دیکھے ہوں گے سفید بڑے بڑے، تو ثلج کہتے ہیں برف اور ہاتھی دانت، اس کو عاج کہتے ہیں ہاتھی دانت کو بھئی۔ تو دیکھیے سفیدی برف میں بھی ہے اور سفیدی ہاتھی کے دانت میں بھی ہے، لیکن برف میں سفیدی زیادہ ہے اور ہاتھی کے دانت میں سفیدی کم ہے۔ برف میں سفیدی زیادہ ہے اور ہاتھی کے دانت میں سفیدی کم ہے۔ بھئی یہ برف نہیں مراد یہ جو آپ بازار سے لے کر آتے ہیں، اس میں تو سفیدی ہے ہی نہیں، یہ تو شفاف سی ہوتی ہے بھئی۔ ہو گی بھی تو کم درجے کی سفیدی۔ وہ جو برف باری سے برف گرتی ہے وہ بھئی بڑی سفید ہوتی ہے آپ نے دیکھا ہوگا تصاویر وغیرہ میں کم از کم دیکھا ہوگا، جس علاقے میں برف باری ہوئی ہے پورا علاقہ ہی سفید رنگ کا ہو جاتا ہے بھئی۔ تو وہ مراد ہے، اس میں بہت سفیدی ہوتی ہے اور ہاتھی دانت میں بھی سفیدی ہے لیکن اس درجے کی سفیدی نہیں ہے بھئی۔ اب فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو سفیدی دونوں پر صادق آ رہی ہے لیکن ایک پر شدت کے ساتھ اور ایک پر ضعف کے ساتھ بھئی۔ تو یہ معنی ہے وكان البياض بالنسبة الى الثلج والعاج، جیسے کہ سفیدی ہے نسبت کرتے ہوئے برف اور ہاتھی کے دانت کی طرف۔ ويسمى هذا القسم مشككا، اور اس قسم کو مشکک کہتے ہیں۔ میں نے کیا بتایا تھا؟ مشکک اسمِ فاعل ہے، کیا معنی؟ شک میں ڈالنے والا۔ تو یہ کلی بھی کیا کرتی ہے؟ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈالتی ہے۔ وہ سمجھتا ہے شاید یہ کلی متواطی ہے یا مشترک ہے۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں، لانه يوقع الناظر، اسی کیونکہ یہ واقع کر دیتی ہے یعنی ڈال دیتی ہے الناظر دیکھنے والے کو فی الشک، کس میں؟ شک میں ڈال دیتی ہے، في كونه متواطئا او مشتركا، اس کے متواطی اور مشترک ہونے میں۔ یہ اپنے دیکھنے والے کو شک میں ڈال دیتی ہے فی كونه متواطئا او مشتركا، اپنے متواطی یا مشترک ہونے میں شک میں، وہ سمجھتا ہے شاید یہ متواطی ہے یا ہے شاید متواطی ہے اصلِ معنی کے اعتبار سے اور مشترک ہے افراد کے کمی بیشی کے اعتبار سے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 27 of 108