Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-042

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 54
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 42 1 المقولات العرضية هي الكم والكيف والإضافة والأين والملك والفعل والانفعال والمتى والوضع. وتجمعها هذا البيت الفارسي: مرد دراز نکو دیدم بشهر امروز با خواسته نشسته از کرده خویش فیروز بگزشته سبق میں ہم نے مقولات عشرہ مکمل کر لیے تھے بھئی، مقولات عشرہ۔ یہ سارے اچھی طرح سمجھ میں آ گئے بھئی؟ بقال بھئی! فعل کا تعلق فاعل سے، انفعال کا تعلق مفعول جو اس کے اثر کو قبول کرے۔ فعل جو ہے اس کا تعلق فاعل سے اور انفعال کا تعلق مفعول سے۔ فاعل اثر ڈالنے والا، مفعول اثر کو قبول کرنے والا۔ تو اثر ڈالنا یہ ہے فعل، اور اثر کو قبول کرنا یہ ہے انفعال۔ جیسے اپ لکڑی کو کاٹتے ہیں اور لکڑی کٹ جائے، تو اپ کا فعل کیا ہے؟ لکڑی کاٹنا، اثر ڈالنا۔ اور لکڑی کیا کرتی ہے؟ اثر کو قبول کر لیتی ہے، کٹ جاتی ہے۔ تو اپ کا کاٹنا یہ ہے فعل، اور لکڑی کا کٹ جانا یہ ہے انفعال، اس کے اثر کو قبول کر لینا۔ تو یہ مقولات عشرہ یہ ہیں بھئی۔ وتجمعها هذا البيت الفارسي، اور جمع کرتا ہے ان مقولات عشرہ کو یہ والا فارسی شعر بھئی، یعنی اس میں یہ مقولات عشرہ جمع ہیں بھئی، یہ مقولات عشرہ۔ دیکھیے شعر کا معنی پہلے سمجھ لیجیے۔ مرد دراز نکو دیدم بشهر امروز مردے، ایک مرد۔ دراز، لمبا۔ نکو، نیک بھئی۔ دیدم، میں نے دیکھا۔ بشہرے، شہر میں۔ امروز، اج۔ اج میں نے شہر میں ایک لمبے نیک مرد کو دیکھا۔ اج شہر میں میں نے ایک لمبے اچھے مرد کو دیکھا، ایک نیک مرد کو دیکھا۔ نکو، نیک بھئی، اچھا، اچھا کر لیں۔ اج میں نے شہر میں ایک لمبے اچھے مرد کو دیکھا، ایک نیک مرد کو دیکھا۔ با خواسته نشسته خواستن کا معنی ہوتا ہے چاہنا، چاہنا۔ با خواسته، چاہے ہوئے کے ساتھ۔ نشسته، بیٹھا، بیٹھا تھا۔ با خواسته، ترجمہ سمجھ میں ارہا ہے بھئی؟ با خواسته، چاہے ہوئے کے ساتھ، نشسته، بیٹھا تھا۔ با خواسته، چاہے ہوئے کے ساتھ یعنی محبوب کے ساتھ۔ محبوب کے ساتھ نشسته، بیٹھا تھا، از کرده خویش۔ خویش کا معنی ہے اپنا، اپنا۔ از کا معنی ہے سے۔ از کرده خویش، اپنے کیے ہوئے سے، یعنی اپنے فعل سے، اپنے کیے ہوئے سے یعنی اپنے فعل سے، فیروز، کامیاب تھا یا خوش تھا۔ جو بھی ترجمہ اپ کر لیں۔ اپنے کیے ہوئے پر کامیاب تھا یا اپنے کیے ہوئے پر اپنے کیے ہوئے میں کامیاب تھا یا اپنے کیے ہوئے پر خوش تھا۔ مرد دراز نکو دیدم بشهر امروز، ایک لمبے نیک مرد کو اج میں نے شہر میں دیکھا۔ با خواسته نشسته، اپنے محبوب کے ساتھ بیٹھا ہوا، از کرده خویش فیروز، اپنے کیے ہوئے پر خوش تھا، اپنے کیے ہوئے پر خوش تھا یا اپنے کیے ہوئے پر کامیاب تھا۔ اب اس میں مقولات عشرہ جمع کر دیے گئے، اس ایک شعر ہی کے اندر بھئی۔ دیکھیے کس طرح؟ مردے، ایک مرد بھئی، مرد یہ ہے جوہر بھئی، اس کی اپنی ذات ہے بھئی۔ سمجھ میں ایا؟ اپنی ذات ہے، یہ اپنے وجود میں کسی محل کا محتاج نہیں، یعنی یہ خود یہ صفت نہیں کسی کی بلکہ یہ خود کیا ہوتا ہے؟ موصوف۔ تو یہ ہے جوہر بھئی۔ دراز، لمبا، یہ ہے کم بھئی، کم۔ لمبائی، چوڑائی وغیرہ مقداریں یہ کس میں اتی ہیں؟ کم میں۔ تو دراز ہے کم بھئی یہ۔ تو مردے یہ ہوا جوہر اور باقی نو مقولات وہ عرض کے ہیں بھئی، صفات کے ہیں، صفات۔ تو مردے، ایک مرد۔ دراز، لمبا۔ کتنے ہو گئے؟ دو۔ نکو، نیک بھئی، نیک۔ یہ ہے انفعال بھئی، یہ کیا ہے؟ انفعال۔ نیک ہونا بھئی، اثر قبول کرنا، دیکھو اس میں ہے۔ نیک ہو گیا یعنی اس نے نیکی کا اثر قبول کیا۔ تو یہ انفعال ہے بھئی۔ دیدم، دیدم میں اشارہ ہے کیف کی طرف بھئی، کیف کی طرف۔ کس کی طرف؟ کیف کی طرف بھئی۔ اس میں دیدم کے ذریعے اشارہ ہے کیف کی طرف۔ دیکھو دیکھنے کے ذریعے کیفیت کا پتہ چلتا ہے، کوئی چیز موٹی ہے، پتلی ہے، خوبصورت ہے، بدصورت ہے، یا مثلاً سفید ہے، سرخ ہے، سیاہ ہے، رنگ وغیرہ اور اس کی کیفیت کا پتہ کس کے ذریعے چلتا ہے؟ دیکھنے سے بھئی۔ تو اس میں اشارہ ہوا کس کی طرف؟ کیفیت کی طرف بھئی، کیفیت کی طرف۔ اور بعض نے علماء نے لکھا کہ یہ نکو جو ہے، یہ کیف ہے اور دیدم یہ انفعال ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ بعض نے یہ بھی لکھا کہ نکو کے ذریعے، نکو جو ہے یہ کیف ہے بھئی، اچھا ہونا۔ اچھا ہونا، یہ کیفیت ہے بھئی۔ کوئی چیز تھوڑی اچھی ہے، کوئی زیادہ نیک اچھا ہے، نیک ہے، زیادہ تو کوئی کم نیک ہے، تو یہ کیف ہے مولانا، کیفیت ہے۔ اور دیدم جو ہے، بعض کہتے ہیں یہ انفعال ہے بھئی، انفعال۔ دیکھو ہم کوئی چیز دیکھتے ہیں، کوئی چیز ہماری انکھوں کے سامنے اتی ہے تو انکھ اس کا اثر قبول کرتی ہے اور اس کی صورت ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ کوئی چیز ہمارے سامنے ائے گی، نگاہوں کے سامنے ائے گی تو انکھ اس کا اثر قبول کرتی ہے اور اس کی صورت ہمیں دکھائی دینے لگتی ہے بھئی، تو یہ کیا ہے؟ انفعال۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو بعضوں نے کیا کہا کہ یہ نکو سے کیا مراد ہے؟ یہ کیف مراد ہے، اور دیدم سے انفعال۔ جبکہ زیادہ عام شارحین نے جو لکھا، انہوں نے نکو کو انفعال بنایا اور دیدم کو کیف بنایا بھئی۔ بشہرے، شہر میں، یہ کیا ہے؟ یہ عین ہے، جگہ بھئی، جگہ۔ شہر کیا ہے؟ جگہ، عین بھئی۔ اور امروز، اج، یہ متىٰ ہے، شاباش۔ کتنے ہو گئے؟ چھ، چھ ہو گئے بھئی پہلے مصرعے کے اندر۔ با خواسته، محبوب کے ساتھ، یہ کیا ہے؟ اضافت، شاباش۔ یہ محبوب یہ کیا ہے؟ اضافت، کیونکہ محبوب کسے کہیں گے؟ محبوب جس سے محبت کی گئی اور اس کے لیے کیا چاہیے؟ محب چاہیے، محبت کرنے والا۔ محبوب کسے کہیں گے؟ جس کا کوئی محب ہو، محب کسے کہیں گے؟ جس کا کوئی محبوب ہو۔ تو دیکھو یہ اضافت ہے بھئی۔ نشسته، بیٹھا تھا، یہ وضع ہے، شاباش، وہ جو ہیئت اور حالت اپنے اجزاء کے اعتبار سے اور خارج کی نسبت سے بھئی، وضع ہے، شاباش۔ از کرده خویش، اپنے فعل سے، اپنے کیے ہوئے پر، اس میں کیا ہے؟ فعل ہے، اپنے کیے پر بھئی، تو کرد یہ جو ہے نا کرد، یہ ہے فعل بھئی۔ اور فیروز، یہ ملک ہے بھئی، یہی ملک اب رہ گئی تھی باقی سب پورے ہوئے۔ ملک کسے کہتے تھے بھئی؟ جی؟ ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ متصل ہو جائے، اس کا احاطہ کر لے، احاطہ کر لے۔ جیسے میں نے مثال دی اور اس کے ساتھ منتقل ہو وہ چیز جہاں منتقل ہو، اور اس کی مثال میں نے دی تھی جیسے کپڑے، کپڑے ہیں، پگڑی ہے، سر کا احاطہ کیا ہوا ہے، یا گھڑی ہے اس نے کلائی کا احاطہ کیا ہوا ہے، یا انگوٹھی ہے اس نے انگلی کا احاطہ کیا ہوا ہے، یا جرابیں ہیں اپ کے پاؤں کا احاطہ کیا ہوا ہے، یرحمک اللہ، یا جوتے ہیں بھئی وغیرہ بھئی۔ تو یہاں فیروز دیکھو وہ کامیاب تھا، یعنی کامیابی نے اس کا احاطہ کیا ہوا تھا، یا وہ خوش تھا یعنی خوشی نے اس کا احاطہ کیا ہوا تھا، تو یہ وہ ملک ہے بھئی، ملک بھئی۔ اچھی طرح سارے سمجھ میں اگئے بھئی؟ مردے، یہ کیا ہوا؟ جوہر۔ دراز، کم۔ نکو، انفعال۔ دیدم، کیف۔ اور بعضوں نے کہا نکو کیف ہے اور دیدم انفعال ہے۔ بشہرے، عین ہے۔ اور امروز، متىٰ۔ با خواسته، اضافت۔ نشسته، وضع۔ کرد، فعل۔ فیروز، ملک ہے بھئی۔ اچھی طرح سارے سمجھ میں اگئے بھئی؟ تو اس میں اس شعر کے اندر میں نے اپ کو بتلایا کہ نکو جو ہے، اکثر نے اس کو انفعال لکھا اور دیدم کو کیف لکھا ہے، اکثر علماء نے کیا لکھا ہے؟ نکو کو انفعال میں داخل کیا اور دیدم کو کیف میں داخل کیا، لیکن بعض علماء نے ذکر کیا کہ نکو یہ کیف ہے اور دیدم یہ انفعال ہے اور حق بھی یہی ہے مولانا، حق بھی یہی ہے کہ نکو یہ کیف کا نام ہے بھئی، کوئی زیادہ نیک ہے، کوئی متوسط درجے کا نیک ہے، کوئی کم درجے کا نیک ہے، تو یہ کیفیت ہے جس میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ جبکہ دیدم، دیکھنا یہ انفعال ہے جیسے کہ میں نے بتایا کہ کوئی چیز ہمارے سامنے اتی ہے تو انکھ اس کے اثر کو قبول کرتی ہے اور اس کی صورت انکھ میں بنتی ہے بھئی اور ہمیں وہ دکھائی دیتی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ دیدم کس قبیل سے ہے؟ یہ انفعال کی قبیل سے ہے اور نکو یہ کیف کی قبیل سے ہے بھئی، بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں اگئی بھئی؟ اگے دیکھیے بھئی، فصل في ترتيب الانواع اي هذا فصل في ترتيب الانواع، یہ فصل ہے انواع کی ترتیب میں۔ بھئی اس سے پہلے ایک فصل گزری تھی اس میں اجناس کی ترتیب انہوں نے بتلائی تھی اور بتلایا تھا سب سے اوپر جو جنس ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ جنس الاجناس اور جنس عالی، اور اس سب سے نیچے جو جنس ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ جنس سافل، اور جو درمیان والی ہیں ان کو جنس متوسط۔ بالکل یہی ترتیب انواع میں بھی ہے بھئی، انواع میں بھی۔ جو نوع سب سے نیچے ہے اسے کیا کہیں گے؟ نوع سافل، اور جو سب سے اوپر ہے کہ اس سے اوپر اور کوئی نوع نہیں اسے کیا کہیں گے؟ نوع عالی، اور جو درمیان میں ہیں انہیں کیا کہیں گے؟ نوع متوسط۔ لیکن فرق صرف اتنا ہے جنس سے کہ جنس میں جو سب سے اوپر جنس تھی اسے کہتے تھے جنس الاجناس، جبکہ انواع میں جو سب سے نیچے نوع ہوگی اس کو کہیں گے نوع الانواع، اس کو کیا کہیں گے؟ نوع الانواع تمام انواع کی نوع بھئی۔ وجہ اس کی یہ کہ جنس کے اندر جتنا عموم ہوگا وہ اتنا اس میں کمال ہے بھئی، اس میں عموم زیادہ سے زیادہ ہو تو وہ اس میں کمال ہے، تو جو سب سے زیادہ عموم سب سے اوپر والی جنس میں تھا تو اس کو ہم کیا کہتے تھے؟ جنس الاجناس۔ اور نوع کے اندر جتنا خصوص ہوگا اتنا اس میں کمال ہے، اور سب سے زیادہ خصوص کس کے اندر ہوگا؟ سب سے نیچے والی نوع کے اندر خصوص ہوگا بھئی، جوں جوں ہم اوپر جائیں گے اس میں عموم بڑھتا چلا جائے گا بھئی، بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو سب سے نیچے والی نوع کو کیا کہیں گے؟ نوع الانواع، نوع الانواع، نوع سافل اور نوع الانواع۔ مثلاً بھئی، اور یاد رکھیے یہ بھئی، یہ جو نوع کی ہم بات کر رہے ہیں، یہ نوع اضافی کی بات کر رہے ہیں بھئی، کس کی؟ نوع اضافی کی بھئی، نوع حقیقی نہیں بھئی۔ ہاں جو سب سے نیچے نوع ہوگی وہ نوع حقیقی بھی ہوگی، نوع حقیقی۔ نوع حقیقی کس کو کہتے تھے؟ وکلی مقول علی کثیرین متفقین بالحقائق فی جواب ما هو، اور نوع اضافی کس کو کہتے تھے؟ کہ ایک ماہیت اس کے ساتھ دوسری ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا ائے؟ جنس ائے بھئی۔ جی تو دیکھیے، نوع سافل سب سے نیچے والی نوع جو ہے وہ ہے انسان بھئی، وہ کیا ہے؟ انسان۔ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق اور حیوان ناطق، تو یہ انسان ایسے کثیرین پر بولا جاتا ہے کہ ان سب کی حقیقتیں ایک ہی ہیں، تو یہ نوع حقیقی بھی ہے، اور یہ نوع اضافی بھی ہے، یعنی اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں جنس واقع ہوتا ہے۔ مثلاً انسان کے ساتھ ہم نے فرس کو ملایا، الانسان والفرس ما هما؟ تو جواب میں کیا ائے گا؟ حیوان، دیکھو یہ حیوان جنس جواب میں ایا بھئی۔ اب یہ انسان تو تھا سب سے نیچے والی نوع، یہی نوع سافل ہے، یہی نوع الانواع ہے۔ اس سے اوپر جائیں، حیوان۔ حیوان کے ساتھ ہم کسی اور چیز کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں جنس ائے گا، کیسے؟ حیوان کے ساتھ ہم مثلاً شجر ملاتے ہیں۔ الحيوان والشجر ما هما؟ حیوان اور شجر کیا ہیں؟ جسم نامی بھئی، جسم نامی اور جسم نامی جنس ہے بھئی، تو دیکھو جواب میں جنس ایا، معلوم ہوا حیوان کیا ہے؟ نوع اضافی ہے۔ اچھا پھر جسم نامی جو ہے اس کے ساتھ ہم کوئی اور چیز ملائیں، جسم نامی میں کیا کیا داخل؟ حیوان اور شجر، درخت، پودے وغیرہ بھئی۔ تو اب میں اپ سے پوچھتا ہوں، الجسم النامي 2 بھئی زمانہ آپ استعمال کرتے ہیں، کوئی بھی کام بتلانے کے لیے کیا، میں نے یہ کام کل کیا، یا پرسوں کیا، یا یہ کام میں آج کر رہا ہوں، یا یہ کام میں کل کروں گا، یہ جو زمانے کے ساتھ بیان کرتے ہیں تو یہ کیا ہے؟ یہ متٰی ہے بھئی، بس یہ زمانہ آئے گا اس متٰی کے اندر بھئی، آسان بات ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ پانچ سال قبل مثلاً آپ چھوٹے تھے بھئی، اس زمانے میں آپ کی ہیئت اور تھی، آج کا زمانہ ہے، آج آپ بڑے ہو گئے بھئی، تو یہ زمانے کے اعتبار سے جو ہیئت ہو اسے کیا کہتے ہیں؟ متٰی بھئی، زمانے کے تعلق کے اعتبار سے۔ کوئی بھی چیز آپ بیان کرتے ہیں مثلاً آپ کہتے ہیں: میں نے سبق 10 منٹ میں یاد کر لیا۔ تو دیکھو یہ 10 منٹ جو آپ بیان کر رہے ہیں، اس 10 منٹ میں اپنی کیا حالت بیان کر رہے ہیں آپ؟ کیا کیا آپ نے اس میں؟ سبق یاد کیا۔ تو یہ زمانے کے اعتبار سے جو ہیئت ہے، جو حالت ہے، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ متٰی بھئی، متٰی۔ پھر یاد رکھیے یہ بھی دو قسم پر ہے: ایک متٰی حقیقی اور ایک متٰی غیر حقیقی۔ متٰی حقیقی وہ ہے جس میں وہ وجود یا وہ فعل پورے اس زمانے کا احاطہ کر لے۔ پورے اس زمانے کا کیا کر لے؟ وہ وجود، یا وہ فعل پورے زمانے کا احاطہ کر لے، مثلاً آپ روزہ رکھتے ہیں بھئی، روزہ صبح سے شام تک سارے وقت کا کیا کر لیتا ہے؟ احاطہ کر لیتا ہے۔ یا جیسے مثلاً آپ نماز پڑھتے ہیں تو چار رکعت فرض پڑھنے میں مثلاً آپ کو 5 منٹ لگتے ہیں تو دیکھو اس 5 منٹ کے اندر جو ہے، یہ ساری کی ساری، اس کیا کیا گیا اس میں؟ اس میں نماز پڑھی گئی، سارا نماز اس سارے وقت کے اندر موجود ہے، سارے وقت میں۔ کوئی بھی اس وقت کا حصہ نماز سے خالی نہیں، اس پورے 5 منٹ میں کیا کرتے رہے آپ؟ نماز پڑھتے رہے، تو اس نماز نے اس پورے 5 منٹ کو بھر دیا بھئی۔ کوئی حصہ اس کا خالی نہیں۔ یا آپ کہتے ہیں میں نے 10 منٹ میں سبق یاد کیا تو اس پورے 10 منٹ میں آپ نے اور کوئی کام نہیں کیا، آپ کے اس سبق یاد کرنے نے اس پورے 10 منٹ کو بھر دیا بھئی۔ یہ کیا ہے عینِ، متٰی حقیقی بھئی، متٰی حقیقی۔ اور ایک متٰی غیر حقیقی ہے، مثلاً آپ سے کوئی پوچھے آپ کی پیدائش کب ہوئی؟ آپ مثلاً کیا کہتے ہیں کہ میری پیدائش مثلاً 1990 میں ہوئی بھئی، 90۔ تو اب یہ متٰی غیر حقیقی ہے، آپ کی پیدائش پورے سال میں تو نہیں ہوئی، سال کے کسی ایک جز میں ہوئی، تو دیکھو اس پورے وقت کو اس نے نہیں بھرا بلکہ وقت کے صرف ایک جز کو بھرا ہے، تو لہٰذا یہ متٰی غیر حقیقی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا جیسے آپ سے کوئی پوچھے زید کب پیدا ہوا؟ آپ کہتے ہیں زید 1900، 19ء مثلاً 80 میں پیدا ہوا، بھئی زید تو 1980 کے کسی ایک جز میں پیدا ہوا ہوگا، پورا سال تو اس کے پیدائش کا عمل نہیں، تو یہ متٰی غیر حقیقی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ آخری مقولہ ہے بھئی وضع، وضع۔ غیر حقیقی بتلایا تو صحیح کہ وہ فعل پورے وقت کو نہ بھرے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں بھئی: آج میں نے تلاوت کی، آج میں نے، یہ آج کس چیز کا نام ہے؟ زمانے کا نام ہے نا، تو کیا آپ نے سارا دن تلاوت کی یا کسی ایک حصے میں کی؟ کسی ایک حصے میں، بس تو اس فعل نے پورے وقت کو نہیں بھرا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ متٰی غیر حقیقی، اور اگر پورے کو بھر لے تو یہ حقیقی ہے بھئی۔ تو ایک ہے عین بھئی، عین وہ جگہ کے اعتبار سے ہیئت ہے جو، اور متٰی زمانے کے اعتبار سے۔ البتہ فرق یہ ہے کہ ایک متٰی حقیقی میں بھئی، عینِ حقیقی میں، عینِ حقیقی میں وہ فضا جس کو کوئی چیز بھر دے، اس جگہ میں ایک ہی چیز ہو سکتی ہے، دوسری کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ بھئی جس فضا میں آپ کا جسم ہے اس میں صرف آپ کا جسم ہی آ سکتا ہے، کوئی اور چیز نہیں آ سکتی بھئی عینِ حقیقی کے اندر۔ لیکن متٰی حقیقی میں، اسی 10 منٹ میں جس میں آپ نے سبق یاد کیا، کوئی شخص گاڑی چلا رہا ہوگا، کوئی شخص کھیت میں ہل چلا رہا ہوگا، کوئی کچھ اور کام کر رہا ہوگا، تو اس متٰی حقیقی جو تھا آپ کے پڑھنے کا، تو اس میں بے شمار کام ہو سکتے ہیں لوگوں کے بدلنے کے اعتبار سے بھئی۔ لیکن کس میں؟ یہ متٰی حقیقی میں، ہاں عینِ حقیقی کے اندر ایک جگہ پر ایک ہی وجود سما سکتا ہے، دو یا زیادہ وجود نہیں سمائے جا سکتے۔ جی، اگلا کیا لکھ رہے ہیں؟ وضع، وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ نمبر ایک: بعض اجزاء کی بعض کی طرف نسبت، نمبر ایک: بعض اجزاء کی بعض کی طرف نسبت، اور نمبر دو: خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ اور نمبر دو: خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے، جیسے قیام و قعود وغیرہ، جیسے قیام و قعود وغیرہ۔ وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو، یرحمک اللہ۔ وضع وہ ہیئت ہے جو جسم کو دو نسبتوں سے حاصل ہو۔ پہلی کیا نسبت؟ بعض اجزاء کی بعض کی طرف، اور نمبر دو؟ خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔ مثال اس کی قیام اور قعود۔ بھئی دیکھیے! اس وقت جو آپ کی حالت ہے، آپ کی حالت ہے بھئی، بعض اجزاء بعض کی طرف کرتے ہوئے۔ آپ نے کیا کیا ہوا ہے؟ گھٹنوں کو موڑا ہوا ہے، زمین پر بیٹھے ہیں، اور ہاتھ آپ کے ہاتھوں کی آپ کے جسم کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے، ہاتھ مثلاً تپائی پر رکھا ہوا ہے آپ نے، اور یہ خاص ہیئت ہے آپ کی۔ کوئی آپ سے پوچھ، کوئی دیکھے گا تو یہی کہے گا: یہ شخص اس وقت بیٹھا ہوا ہے۔ کیا کہے گا؟ کیوں کہا اس نے بیٹھا ہوا؟ آپ کی ہیئت دیکھ کر، آپ کے جو اجزاء کی ایک دوسرے کی طرف نسبت ہے، اور نیز خارج، ارد گرد کے اعتبار سے۔ آپ کے اپنے اجزاء کی بھی ایک دوسرے کے ساتھ نسبت دیکھی، اور خارج کے اعتبار سے بھی آپ کو دیکھا۔ اسی اجزاء، اپنے اجزاء کو ذرا تبدیل کریں گے آپ بھئی، ذرا آپ کھڑے ہو جائیں بھئی، آپ کھڑے ہو جائیں۔ بھئی دیکھیے! اب ان کے اجزاء کی آپس میں ایک اور ہیئت ہے، پہلے گھٹنے مڑے ہوئے تھے، اب کھڑے ہیں تو گھٹنے کیا ہیں؟ سیدھے ہیں۔ ہاتھ ان کے سیدھے ہیں، تو ان اجزاء کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جو پہلے ہیئت تھی وہ کیا ہوئی؟ بدل گئی بھئی، اب آپ کو کوئی دیکھے گا ان کو کیا کہے گا؟ یہ کھڑے ہوئے ہیں۔ یہ کس اعتبار سے اس نے کہا یہ کھڑے ہوئے ہیں؟ ان کے اپنے اجزاء کی آپس میں بھی نسبت کو دیکھا کہ گھٹنے سیدھے ہیں، ہاتھ سیدھے ہیں، یہ اور خارج کے اعتبار سے بھی دیکھا۔ دو نسبتیں دیکھیں بھئی، اپنے اجزاء بھی آپس میں ان کی کیا نسبت ہے، اور خارج کے اعتبار سے بھی۔ تو اس وقت یہ کھڑے ہیں، بعینہٖ ان کے اپنے اجزاء کی ہیئت نہ بدلے، خارج سے صرف نسبت بدل جائے تو آپ کہیں گے یہ لیٹے ہوئے ہیں۔ مثلاً آپ فرض کریں، ابھی یہ، اب اپنے ہاتھ، ہاتھ آپ کے سیدھے، گھٹنے سیدھے، آپ ان کو ذرا بھی نہ ہلائیں، ہلنے نہیں دینا آپ نے ان کو اپنی جگہ سے، دو ساتھی آئیں، وہ آرام سے پکڑ کر آپ کو سیدھا کر دیں زمین پر۔ آپ کے اجزاء کی آپس میں نسبت نہیں بدلی، لیکن کیا خارج کے اعتبار سے کیا ہو گئی؟ بدل گئی، اب جب آپ نیچے پڑے ہوں گے ہم کیا کہیں گے یہ؟ یہ لیٹا ہوا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو اپنے، اب دونوں نسبتوں کا دیکھا لحاظ ہے، جب ان کو نیچے لٹایا تو ان کے اپنے اجزاء، انہوں نے اپنے ہاتھوں کو سیدھا رکھا، ذرا بھی نہیں ہلنے دیا، ہاتھوں کی ہیئت آپس میں ذرا بھی نہیں بدلی اجزاء کے اعتبار سے، لیکن خارج کے اعتبار سے کیا ہو گئی؟ حالت بدل گئی، پہلے صرف ان کے پاؤں زمین پر لگے ہوئے تھے، اب پورا دھڑ زمین پر لگا ہوا ہے، تو اب ہم کیا کہیں گے؟ یہ لیٹا ہوا ہے، تو دیکھو دونوں نسبتوں کا لحاظ ہوتا ہے۔ یہ کھڑے ہونے میں، بیٹھنے میں، لیٹنے میں وغیرہ بھئی، جو بھی آپ حرکت کرتے ہیں، تو یہ ساری اجزاء کی ایک دوسرے کی طرف نسبت کرتے ہوئے اور خارج کی طرف نسبت کرتے ہوئے، یہ اسے یہ جو ہیئت حاصل ہوئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ وضع کہتے ہیں، وضع بھئی، واؤ، ضاد، عین بھئی۔ جیسے کوئی انسان بیٹھا ہو، کھڑا ہو، لیٹا ہو، تو یہ اس کی مختلف حالتیں ہیں جو اس کے اپنے اعضاء، اپنے اجزاء کے اعتبار سے اور خارج کی نسبت سے اسے حاصل ہیں، اور اسی اعتبار سے ہم اسے کبھی کہتے ہیں وہ کھڑا ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں بیٹھا ہوا ہے، کبھی کہتے ہیں لیٹا ہوا ہے، تو یہ اس کے اعضاء کے اعتبار سے، اجزاء، اعضاء یعنی اجزاء کے اعتبار سے اور خارج کے اعتبار سے اسے جو نسبت حاصل ہے، اس اعتبار سے ہم یہ اسے کہتے ہیں۔ اسی طرح مثلاً کرسی کوئی پڑی ہوئی ہے، تو آپ کہتے ہیں کرسی سیدھی پڑی ہے۔ یہ کرسی اگر ایک طرف کو آپ گرا دیں تو پھر اب آپ کیا کہیں گے کہ کرسی گری ہوئی ہے۔ تو دیکھو یہ خارج کے اعتبار سے اس کی نسبت، اپنے اجزاء کے اعتبار سے تو اگرچہ اس کی نسبت نہیں بدلی، لیکن خارج کے اعتبار سے اس کی نسبت بدل گئی بھئی۔ تپائی مثلاً سیدھی پڑی ہے یا تپائی گری ہوئی ہے، یا تپائی کمرے کے درمیان میں پڑی ہے، یا ایک طرف پڑی ہے، یا کونے میں پڑی ہے، یا کنارے میں پڑی ہے، تو یہ دیکھو ساری نسبتیں اس کی خارج کے اعتبار سے اسے حاصل ہو رہی ہیں، اور اس کے بدلنے سے آپ بھی اس پر مختلف لفظ بول رہے ہیں کہ یہ تپائی مثلاً سیدھی پڑی ہے، یا یہ تپائی اس وقت گری ہوئی ہے، یا کمرے کے درمیان میں پڑی ہے یہ، اور اگر ہیئت بدلی کمرے کی دیوار کے پاس ہے تو آپ کہتے ہیں کنارے کے اندر تپائی پڑی ہوئی ہے وغیرہ بھئی، یہ سب کس میں داخل ہیں؟ وضع کے اندر داخل ہیں بھئی، وضع کے اندر۔ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقیقة الکلام۔
108 approved lectures · 42 of 108