Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-031

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 31 1 فصلٌ إن كان اللفظ متعدداً والمعنى واحدًا يسمى مرادفاً كالأسد والليث والغيم والغيث. بإسته پہلے آپ نے پڑھا کہ کبھی کبھار لفظ ایک ہوگا اور اس کا معنی بھی ایک ہی ہوگا اور اسے متحد المعنی کہتے ہیں. پھر اس کے بعد دوسری قسم پڑھی کہ کبھی کبھار لفظ ایک ہوتا ہے لیکن معانی متعدد ہوتے ہیں اور اسے کیا کہتے ہیں متکثر المعنی. آج یہ تیسری قسم بیان کر رہے ہیں کہ کبھی کبھار لفظ متعدد ہوتے ہیں اور معنی ایک ہی ہے اس سے پچھلی قسم میں تو تھا لفظ ایک تھا اور معنی کیا تھے متعدد اور اب لفظ متعدد ہے اور معنی ایک ہی ہے. تو اگر لفظ متعدد ہوں اور معنی ایک ہی ہو تو ان کو مرادف کہا جاتا ہے کیا کہا جاتا ہے مرادف کہا جاتا ہے. جیسے اسد کا معنی بھی شیر ہے اور لیس کا معنی بھی شیر ہے تو دیکھو لفظ دو ہیں اور معنی ایک ہی ہے اسد کا معنی بھی شیر اور لیس کا معنی بھی شیر ہے. تو جب لفظ متعدد ہوں اور معنی ایک ہو تو ان کو کیا کہتے ہیں مرادف کہا جاتا ہے مرادف. مرادف یہ ماخوذ ہے مرادف سے. مرادف اس کو کہتے ہیں کہ ایک سوار ایک سواری پر ہی ایک سوار دوسرے کے پیچھے سوار ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں مرادف. ایک سواری پر ایک سوار کے پیچھے دوسرا سوار ہو، مثلاً ایک ہی گھوڑا ہے اور اس پر زید بھی سوار ہے اور عمر بھی سوار ہے تو یہ جو عمر زید کے پیچھے ایک ہی سواری پر سوار ہے اس سواری پر دوسری سواری کے پیچھے سوار ہونے کو کیا کہتے ہیں مرادف. یہ جو پیچھے والا سوار ہوتا ہے اس کو ردیف کہا جاتا ہے کیا کہا جاتا ہے ردیف تو یہ دیکھو ایک ہی سواری پر ہے اور ایک سوار دوسرے کے پیچھے ہے تو یہ جو پیچھے والا ہے اس کو ردیف کہا جاتا ہے. اور یہ پیچھے سوار ہونا کیا کہلاتا ہے مرادف بھئی. تو یہاں پر بھی یہ مرادف ماخوذ ہے مرادف سے جس طرح ایک سواری پر دو سوار ہوتے ہیں اسی طرح یہاں ایک ہی معنی پر گویا کہ دو لفظ سوار ہیں. ایک ہی معنی پر دو لفظ سوار ہیں اس لیے ان کو مرادف کہا جاتا ہے بھئی معنی سمجھ میں آگیا بھئی مرادف کا. دیکھیے بھئی کتاب پر فصلٌ ای ھٰذا فصلٌ یہ فصل ہے إن کان اللفظ متعدداً اگر لفظ متعدد ہوں والمعنی واحدًا اور معنی ایک ہی ہو یسمی مرادفاً تو اسے مرادف کہا جاتا ہے کالأسد والليث جیسے کہ اسد اور لیس. اسد کا معنی بھی شیر بھئی وہ حیوان مفترس ہے وہ خون خوار جانور تو اسے اسد کہا جاتا ہے اسی طرح لیس کا معنی بھی شیر ہے تو دونوں لفظ دو ہیں اور معنی ایک ہی ہے. والغیم والغیث. یہ دوسری مثال مصنف نے ذکر کی بھئی. لیکن عام لغت عام عربی کے جو لغات ہیں ان کے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے. کہ غیم کا معنی الگ ہے غیث کا معنی الگ ہے بھئی تو انہیں مرادف کی مثال کے طور پر اس اعتبار سے ذکر کرنا صحیح نہیں بھئی. غیم کہتے ہیں بادل کو بھئی اور غیث کہتے ہیں بارش کو. اور یہاں تو وہ مثالیں ہم پڑھ رہے ہیں کہ جن کا معنی ایک ہی ہو بھئی لفظ متعدد ہوں اور معنی ایک تو ان دونوں کا معنی الگ الگ ہے بھئی. ہو سکتا ہے اگر کسی لغت میں ایک ہی معنی ہو. کسی لغت والے نے لکھا ہو پھر تو یہ مثال ٹھیک ہو جائے گی کہ غیم بھی بارش کو کہیں اور غیث بھی کس کو کہے بارش کو کہیں. لیکن عام لغت سے معلوم ہوتا ہے کہ غیم جو ہے بارش کو نہیں کہتے بلکہ بادل ہی کو کہتے ہیں جبکہ غیث جو ہے وہ بارش کو کہتے ہیں. تو اگر ان لغات کے اعتبار سے یہ جو عام رائج لغات ہیں بھئی المنجد وغیرہ تو ان سے پھر اس کی دوسری مثال بنانا پڑے گی بھئی غیم بھی بارش کو کہتے ہیں. غیم بھی بارش کو غیم بادل کو کہتے ہیں اور اسی طرح سحاب سین حا الف با سحاب سحاب بھی بادل کو کہتے ہیں تو پھر یہ مثال بنے گی مرادف کی بھئی غیم کا معنی بھی بادل اور سحاب کا معنی بھی بادل اور غیث کے ساتھ پھر مطر کا لفظ لگا لیں بھئی غیث کا معنی بھی بارش مطر طاء کے ساتھ مطر کا معنی بھی بارش بھئی تو یہ دونوں مثالیں ہو جائیں گی مرادف کی بھئی. جی یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگیا. فصلٌ المركب قسمان احدهما المركب التام وھو مایصح السکوت علیہ کزید قائم وثانیھما المرکب الناقص وھو ما لیس كذلك. بھئی یہ تو مفرد کی تقسیم چل رہی تھی ابھی تک کہ مفرد یا متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی ہوگا یا مرادف ہوگا بھئی. اب مرکب کے بارے میں بتلانے لگے ہیں مرکب کی تقسیم کرنے لگے ہیں مرکب کسے کہتے تھے کہ لفظ کے جز سے معنی کے جز پر دلالت کا ارادہ کیا. تو اسے مرکب کہا جاتا ہے جیسے رامی السہم بھئی تیر چلانے والا تیر پھینکنے والا. تو رامی پھینکنے والا اور سہم تیر بھئی تو دیکھو لفظ ہر لفظ کا الگ معنی ہے اور ہر لفظ سے اس کا اپنا ہی معنی مراد ہے تو جز لفظ دلالت کر رہا ہے کس پر جز معنی پر. اب اس مرکب کی تقسیم کرنے لگے ہیں کہ یہ مرکب دو قسم پر ہے ایک مرکب تام ہے اور ایک مرکب ناقص ہے بھئی. پہلی قسم کیا مرکب تام بھئی یہ میم مشدد ہے مرکب تام اور دوسری قسم ہے مرکب ناقص. تام کا معنی ہے پورا کامل. اور ناقص نام ہی سے پتہ چل رہا ہے جس میں کمی ہو بھئی جو پورا نہ ہو تو مرکب دو قسم پر ہوا ایک مرکب تام اور ایک مرکب ناقص بھئی. مرکب تام یاد رکھیے اس مرکب کو کہتے ہیں. کہ. جس پر کہ جس میں بات پوری ہو بھئی سننے والے کو پوری بات سمجھ میں آجائے. اسے آگے کسی اور لفظ وغیرہ کا انتظار نہ ہو. مثلا میں آپ سے کہتا ہوں زید قائم. کیا معنی زید کھڑا ہے پوری بات سمجھ میں آگئی یا نہیں سمجھ میں آگئی پوری بات آپ کو سمجھ میں آگئی بھئی آپ کسی اور لفظ کا انتظار نہیں کر رہے. اسی طرح میں کہتا ہوں زید عالم کیا معنی زید عالم ہے. دیکھو پوری بات ہو گئی بھئی. پوری بات ہو گئی آپ کسی اور لفظ کا انتظار نہیں کر رہے اس میں دوسرے کو پوری بات سمجھ میں آجاتی ہے. یا میں آپ سے کہتا ہوں. अزید قائم کیا زید کھڑا ہے. آپ کو پوری بات میری سمجھ میں آگئی کہ نہیں آئی. پوری بات آپ کو سمجھ میں آگئی کہ میں ایک چیز کا سوال پوچھ رہا ہوں آپ سے کیا زید کھڑا ہے یا کھڑا نہیں ہے ا زید قائم کیا زید کھڑا ہے. اسی طرح میں آپ سے کہتا ہوں بھئی. جائنی زید کیا ترجمہ ہوگا میرے پاس زید آیا. بات پوری ہو گئی یا نہیں ہو گئی ایک بات پوری ہو گئی آپ کو سمجھ میں آگئی تو اسے کیا کہیں گے مرکب تام اس کے مقابلے میں مرکب ناقص ہے جو پورا نہ ہو جس میں کمی ہو بھئی. مثلا میں آپ سے کہتا ہوں. زید العالم. زید العالم. جبکہ زید موصوف ہے اور العالم اس کی صفت ہے تو زید العالم کا کیا معنی ہوا وہ زید جو کہ عالم ہے. آپ کو کیا بات پوری سمجھ میں آگئی وہ زید جو کہ عالم ہے. بات پوری نہیں ہوئی بھئی آپ کہیں گے اس کو کیا ہوا بات تو پوری کریں آپ. وہ زید جو کہ عالم ہے دیکھو بات پوری نہیں ہو رہی. یا میں آپ سے مثلا کہتا ہوں رجل شجاع بہادر آدمی. دیکھو بہادر آدمی. کوئی بات پوری سمجھ میں آئی آپ کو کہ میں اس کے بارے میں کوئی سوال کر رہا ہوں یا اس کی کوئی بات بتلا رہا ہوں یہ کچھ بھی نہیں ہے یہاں پر بھئی. ادھوری بات ہے تو اس کو کہیں گے مرکب ناقص کہیں گے. مرکب تام جو ہوتا ہے اس میں مسند اور مسند الیہ دونوں ہوتے ہیں بھئی. اس میں مسند اور مسند الیہ دونوں ہوتے ہیں. اور مسند اور مسند الیہ جملہ اسمیہ ہو تو مسند الیہ کو کیا کہتے ہیں مبتدا اور مسند کو کیا کہتے ہیں خبر. اور اگر جملہ فعلیہ ہو تو فعل کو کیا کہتے ہیں مسند اور فاعل کو کیا کہتے ہیں مسند الیہ بھئی. تو جب مسند اور مسند الیہ کسی جملے کے اندر دونوں موجود ہوں یعنی اگر جملہ اسمیہ ہے تو وہ مبتدا اور خبر یعنی وہ دونوں موجود ہوں یا اگر جملہ فعلیہ ہے تو فعل کے ساتھ ساتھ فاعل بھی موجود ہو تو پھر وہ مرکب تام کہلائے گا ورنہ کیا کہلاۓ گا. ورنہ کیا کہلاۓ گا مرکب ناقص کہلاۓ گا بھئی جہاں مسند اور مسند الیہ دونوں نہ ہوں تو رجل شجاع رجل ہے موصوف شجاع ہے اس کی صفت موصوف صفت مل کر یا تو یہ مبتدا بنیں گے یا خبر بنیں گے ایک چیز بن سکتے ہیں دونوں نہیں بن سکتے تو لہذا یہ جہاں ہمارے پاس مسند اور مسند الیہ دونوں نہیں ہیں تو اسے کیا کہیں گے مرکب ناقص کہیں گے مرکب ناقص بھئی. یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی بھئی آسان سی بات ہے جہاں پوری بات آپ کو سمجھ میں آجائے چاہے میں دوسرا کوئی سوال پوچھ رہا ہو کسی چیز کا حکم مثلا میں آپ سے کہتا ہوں. اور مثال دیکھ لیں اضرب زیداً. کیا معنی کہ تو زید کی پٹائی کر. معنی پورا سمجھ میں آگیا یا نہیں آیا آپ کو پورا معنی سمجھ میں آگیا معلوم ہوا میں آپ کو حکم دے رہا ہوں زید کی پٹائی کرنے کا. تو لہذا یہ پورا جملہ ہے تو یہ مرکب تام کہلائے گا اسی طرح میں مسلماً میں آپ سے کہتا ہوں لا تضرب زیداً. زید کی پٹائی مت کر. تو یہ آپ کو پوری بات سمجھ میں آگئی کہ میں کیا کر رہا ہوں آپ کو زید کی پٹائی سے روک رہا ہوں منع کر رہا ہوں تو آسان سی بس بات ہے جہاں پوری بات سمجھ میں آجائے یعنی مسند اور مسند الیہ دونوں ہوں تو وہ جملہ جملہ وہ مرکب تام کہلائے گا اور اگر پوری بات سمجھ میں نہ آئے تو وہ مرکب ناقص کہلائے گا ہم مثلاً بھئی مثال میں آپ کے سامنے ذکر کرتا ہوں آپ مجھے بتائیے یہ مرکب تام ہے یا مرکب ناقص. وہ آدمی جس سے کل آپ کی ملاقات ہوئی تھی. شاباش شاباش دیکھو حالانکہ بظاہر یوں لگ رہا ہے تھی کا لفظ بھی آخر میں آرہا ہے شاید پوری بات ہو رہی ہے نہیں بھئی آپ خود غور کریں یہ تو ابھی میں آپ کو صرف اس کی پہچان کروا رہا ہوں وہ آدمی جس سے آپ کی کل ملاقات ہوئی تھی. آپ کہیں گے بھئی بات تو پوری کریں اس کو کیا ہوا کیا وہ پھر آیا ہے یا وہ مر گیا ہے یا وہ زندہ ہے بات تو پوری کریں آپ تو جب اس کے ساتھ میں ایک اور لفظ جوڑوں گا تب یہ بات پوری ہوگی اور مرکب تام بنے گا مثلاً میں کیا کہتا ہوں وہ آدمی جس سے آپ کی کل ملاقات ہوئی تھی وہ عالم ہے. اب بات پوری ہو گئی بھئی. بات سمجھ میں آگئی سب کو جی تو آپ نے خود غور کر لینا ہے جہاں بات پوری ہو رہی ہو وہ مرکب تام ہے اور جہاں بات پوری نہ ہو رہی ہو وہ مرکب ناقص ہے بھئی. اب دیکھیے کتاب پر. فصلٌ المركب قسمان فصلٌ ای ھٰذا فصلٌ یہ فصل ہے المركب قسمان مرکب دو قسم پر ہے. قسمانی تثنیہ ہے نا قسم کی مرکب دو قسم پر ہے احدهما المركب التام ان دو میں سے ایک جو ہے وہ مرکب تام ہے وهو ما يصح السكوت عليه وہ مرکب ہے کہ صحیح ہو اس پر سکوت کرنا (یعنی اس پر خاموشی کر لینا اس پر خاموشی کرنا صحیح ہو یعنی. بات پوری دوسرے کو سمجھ میں آجائے اس پر خاموش ہو جائے وہ بول کر پھر بھی دوسرے کو کسی اور لفظ کا انتظار نہیں رہتا وہ مطمئن ہو جاتا ہے کہ بات پوری ہو گئی یہ شخص یہ کہنا چاہتا ہے بھئی. تو یہ معنی ہے کہ مرکب تام ہوا ما یصح السکوت علیہ وہ ہے کہ صحیح ہو اس پر سکوت کرنا سکوت کا کیا معنی. خاموشی کر لینا خاموش ہو جانا. کزید قائم جیسے کہ زید قائم. بھئی دیکھیے یہ کاف جارہ داخل ہو رہا ہے لیکن پھر بھی آپ نے زید قائم بھئی رفع کے ساتھ ہی پڑھنا ہے. اس لیے کیونکہ زید مبتدا ہے قائم اس کی خبر ہے اور مبتدا خبر مل کر یہ پورا جملہ ہوا اور پھر اس پر کاف داخل ہوا. اور جملہ مبنی ہوا کرتا ہے بھئی اور مبنی پر آپ نے پڑھا ہے کہ اعراب ظاہر نہیں ہوتا تو یہ جملہ محلا مجرور ہے کس کی وجہ سے کاف کی وجہ سے لیکن لفظوں کے اعتبار سے یہ مجرور نہیں کیونکہ یہ مبنی ہے اور مبنی پر لفظوں میں کوئی اثر نہیں پڑتا بھئی عامل کی وجہ سے. کزید قائم جیسے کہ زید قائم وثانيهما المركب الناقص اور مرکب کی دو قسموں میں سے دوسرا جو ہے وہ مرکب ناقص ہے وہو ما ليس كذالك اور وہ. ما ما سے مراد مرکب وہ مرکب ہے ليس کذٰلک کا جو ایسا نہ ہو. یعنی جس پر سکوت کرنا اور خاموشی کرنا صحیح نہ ہو اگر سکوت کر لیں گے تو دوسرے کو بات پوری سمجھ میں نہیں آئے گی. وہ منتظر رہے گا آگے کوئی اور لفظ آئے اور جس سے بات پوری ہو جائے. یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی. اب آگے دیکھیے فصلٌ المركب التام ضربان يقال لأحدهما الخبر والقضية. اب مرکب تام کی تقسیم کرنے لگے ہیں بھئی پھر آگے جا کر پھر مرکب ناقص کی تقسیم کریں گے مرکب تو بتا دیا دو قسم پر ہے ایک مرکب تام اور ایک مرکب ناقص. اب مرکب تام کی تقسیم کرنے لگے ہیں کہ مرکب تام دو قسم پر ہے ایک کو کہتے ہیں خبر اور قضیہ. کیا کہتے ہیں کہ دو نام ہیں بھئی خبر بھی کہتے ہیں اور قضیہ بھی کہتے ہیں بھئی. قضیہ یہ یا مشدد ہے یاد رکھنا بھئی. قضیۃً بھئی. سمجھ میں آیا جو جو لفظ آئیں ان کا تلفظ بھی صحیح کرتے چلے جائیں بھئی. تو خبر اور قضیہ کہتے ہیں بھئی خبر اور قضیہ اور دوسری قسم کو انشا کہتے ہیں. پہلی قسم کو کیا کہتے ہیں مرکب تام کی. خبر اور قضیہ اور دوسری قسم کو انشا کہتے ہیں. خبر یا قضیہ اس مرکب تام کو کہتے ہیں. 2 جسمیں کسی واقعے کی خبر دی جائے، کسی واقعے کو بیان کیا جائے بھئی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ توجہ ہے سب کی طرف؟ جی۔ خبر اور قضیہ کس مرکب تام کو کہتے ہیں؟ جس میں کسی واقعے کی خبر دی جائے، کسی واقعے کو بیان کیا جائے کہ ایسا ہے یا ایسا نہیں ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زید کھڑا ہے۔" تو ایک واقعے کی میں خبر دے رہا ہوں، ایک چیز جو کہ ہے اس کی خبر دے رہا ہوں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جی۔ یا میں آپ سے کہتا ہوں: "زید عالم ہے۔" تو دیکھو، ایک واقعے کی خبر دے رہا ہوں۔ ایک واقعے کی خبر دے رہا ہوں۔ اردو والا واقعہ نہیں مراد بھئی۔ واقعہ کوئی حادثہ یا کوئی بات پیش آجائے تو اس کو اردو میں واقعہ کہتے ہیں۔ واقعہ کا معنی ہے: کوئی چیز جو ہے اس کے بارے میں کیا کیا جا رہا ہو؟ خبر دی جا رہی ہے کہ یہ چیز اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے۔ مثلاً "زید کھڑا ہے" یا میں کہتا ہوں "زید کھڑا نہیں ہے۔" میں کہتا ہوں "زید عالم ہے" یا مثلاً میں کہتا ہوں "زید عالم نہیں ہے۔" تو یہ جو ایک واقعے کی، ایک بات کی میں آپ کو خبر دے رہا ہوں، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ خبر اور قضیہ۔ اس کے مقابلے میں انشاء ہے بھئی۔ انشاء کے اندر خبر نہیں دی جاتی، انشاء کے اندر۔ مثلاً میں آپ سے سوال پوچھتا ہوں: "أَزَیْدٌ قَائِمٌ؟" (کیا زید کھڑا ہے؟) تو کیا میں نے کسی واقعے کی خبر دی یا واقعہ پوچھا آپ سے؟ پوچھا۔ یہاں واقعہ میں آپ سے پوچھ رہا ہوں، خبر نہیں دے رہا۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ انشاء، انشاء۔ تو یہ سوال ہے، معلوم ہوا استفہام یعنی سوال، یہ انشاء کی قسم ہے بھئی۔ اسی طرح مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: "إِضْرِبْ زَیْدًا" (تو زید کی پٹائی کر)۔ تو یہ، یہاں میں کوئی خبر دے رہا ہوں یا کوئی حکم دے رہا ہوں بھئی؟ حکم دے رہا ہوں۔ حکم دے رہا ہوں، کسی بات کی آپ کو اطلاع یا خبر نہیں دے رہا، کوئی واقعہ نہیں بیان کر رہا بلکہ آپ کو حکم دے رہا ہوں۔ تو معلوم ہوا تو یہ امر ہے، معلوم ہوا امر یہ کس کی قسم ہے؟ انشاء کی قسم ہے۔ تو بات سمجھ میں آگئی بھئی کہ مرکب تام کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے۔ پہلی قسم کو خبر بھی کہتے ہیں اور قضیہ بھی کہتے ہیں بھئی۔ اور دوسری قسم کو انشاء کہتے ہیں۔ خبر اور قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں کسی بات کو بیان کیا جائے، کسی واقعے کو بیان کیا جائے، یا یوں کہیں کسی واقعے کی حکایت کی جائے، حکایت وہی معنی ہے بیان کیا جائے، کسی واقعے کی حکایت کی جائے۔ آسان اس کی سمجھنے کے لیے دوسری تعریف بھی کرتے ہیں کہ خبر اور قضیہ وہ مرکب تام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ خبر یا قضیہ وہ مرکب تام ہے جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ مثلاً میں نے آپ سے کہا: "زَیْدٌ قَائِمٌ" (زید کھڑا ہے)۔ تو اس کے کہنے والے کو سچا بھی کہا جا سکتا ہے اور جھوٹا بھی کہا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بات واقع کے مطابق ہوئی، اس نے بھی کہا زید کھڑا ہے اور واقع میں بھی زید کھڑا تھا، تو ہم کیا کہیں گے یہ سچا ہے۔ اور اگر زید بیٹھا تھا اور اس نے کہا "زَیْدٌ قَائِمٌ" تو اب ہم اسے کیا کہیں گے کہنے والے کو؟ جھوٹا کہیں گے۔ تو خبر اور قضیہ جو ہے اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔ یعنی اس میں ان دونوں کا احتمال ہوتا ہے، کس کا؟ ان دونوں کا احتمال ہوتا ہے، سچ کا بھی اور جھوٹ کا بھی۔ سچ کا بھی احتمال ہوتا ہے اور جھوٹ کا بھی۔ چاہے وہ مثبت ہو، چاہے منفی ہو۔ مثلاً میں کہتا ہوں "زید عالم ہے"، اس میں سچ کا بھی احتمال اور اس میں جھوٹ کا بھی احتمال۔ یا میں کہتا ہوں "زید عالم نہیں ہے"، اس میں بھی سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال۔ جبکہ انشاء میں ایسا نہیں ہوتا، اس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا۔ میں نے آپ سے پوچھا: "أَزَیْدٌ قَائِمٌ؟" (کیا زید کھڑا ہے؟) کیا زید کھڑا ہے؟ کوئی آپ سے اس طرح سوال پوچھے، آپ اس کو کبھی کہہ سکتے ہیں تم جھوٹ بول رہے ہو؟ نہیں۔ یا آپ اسے کہہ سکتے ہیں تم سچ بول رہے ہو؟ بھئی وہ تو کوئی بات بیان ہی نہیں کر رہا، آپ کس اعتبار سے اسے سچا یا جھوٹا کہہ رہے ہیں؟ وہ تو آپ سے خود ایک سوال پوچھ رہا ہے۔ تو انشاء میں کسی کو سچا یا جھوٹا نہیں کہا جا سکتا، اس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک آدمی نے آپ سے کہا: "إِضْرِبْ زَیْدًا" (تو زید کی پٹائی کر)۔ کیا آپ اسے، کوئی اسے یہ کہہ سکتا ہے تو جھوٹ بول رہا ہے؟ نہیں۔ نہیں۔ کیونکہ اس نے تو کوئی بات بیان ہی نہیں کی جس پر ہم کہیں وہ سچ بول رہا ہے یا جھوٹ بول رہا ہے۔ مثالیں سمجھ میں آرہی ہیں؟ جی۔ تو خبر اور قضیہ جو ہے، جس میں کسی بات کی، حکایت کی جائے اور اس میں صدق کا بھی احتمال ہوتا ہے اور کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے، جبکہ انشاء میں ایسا نہیں ہوتا بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آگئی؟ جی۔ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ فَصْلٌ، أَیْ هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلْمُرَكَّبُ التَّامُّ ضَرْبَانِ، مرکب تام جو ہے دو قسم پر ہے۔ التام میں م مشدد ہے بھئی۔ اَلْمُرَكَّبُ التَّامُّ ضَرْبَانِ، مرکب تام جو ہے دو قسم پر ہے۔ یُقَالُ لِأَحَدِهِمَا الْخَبَرُ وَالْقَضِیَّةُ، ان دو میں سے ایک کو جو ہے خبر اور قضیہ کہتے ہیں۔ وَهُوَ مَا قُصِدَ بِهِ الْحِكَایَةُ، اور وہ مرکب تام ہے۔ "ما" سے کیا مراد ہے؟ مرکب تام۔ وَهُوَ مَا، اور وہ خبر، یہ "ہو" ضمیر راجع ہے خبر کو بھئی، اور قضیہ کو بھئی۔ اور خبر اور قضیہ جو ہے "ما" وہ مرکب تام ہے قُصِدَ بِهِ الْحِكَایَةُ، کہ ارادہ کیا جائے اس کے ذریعے حکایت کا، یعنی کسی بات کی، کسی بات کی حکایت کا، کسی واقعے کی حکایت کا۔ یعنی حکایت کا معنی بیان کرنا، بیان، اس میں کسی بات کو بیان کیا جائے۔ وَیَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، اور وہ صدق اور کذب یعنی جھوٹ کا احتمال رکھتا ہے۔ وَیُقَالُ لِقَائِلِهٖ إِنَّهٗ صَادِقٌ فِیْهِ أَوْ كَاذِبٌ، اور کہا جاتا ہے اس کے کہنے والے کو، جو خبر اور قضیہ کہنے والا ہے اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ إِنَّهٗ صَادِقٌ فِیْهِ أَوْ كَاذِبٌ، کہ وہ اس خبر میں سچا ہے یا جھوٹا ہے۔ نَحْوُ: اَلسَّمَآءُ فَوْقَنَا، جیسے ہم کیا کہیں مثال کے طور پر؟ اَلسَّمَآءُ فَوْقَنَا، آسمان ہمارے اوپر ہے۔ وَالْعَالَمُ حَادِثٌ، اور یہ جہان حادث ہے۔ تو اَلسَّمَآءُ فَوْقَنَا، آسمان ہمارے اوپر ہے، اس میں کہنے، اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال۔ آپ کہیں گے بھئی آسمان تو ہے ہی ہمارے اوپر، تو یہ تو سچ ہی سچ ہے، اس میں جھوٹ کا احتمال کہاں سے آیا؟ بھئی خارج اور واقعے کو نہیں دیکھنا آپ نے، آگے اس کا ایک اعتراض بھی اسی طرح کا آنے والا ہے اور اس کا جواب بھی۔ واقعے کو نہ دیکھیں، حقیقت کو نہ دیکھیں کہ حقیقت میں تو واقعتاً آسمان اوپر ہے اور آپ نے تو کیا کہا؟ خبر اور قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال ہو، سچ کا بھی احتمال ہو تو جھوٹ کا بھی احتمال ہو۔ اور اَلسَّمَآءُ فَوْقَنَا، آسمان ہمارے اوپر ہے، آپ کہیں گے یہ تو سچ ہی سچ ہے، اس میں تو جھوٹ کا احتمال نہیں اور آپ نے تو تعریف یہ کی تھی کہ اس میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال ہو۔ تو جواب یہ، بھئی محض لفظ کے، اس جملے کے مفہوم پر نظر رکھیں تو اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال، واقعے کو اور خارج کو نہ دیکھیں۔ یعنی حقیقت کو نہ دیکھیں کہ حقیقت میں تو ہے ہی آسمان اوپر، صرف ان لفظوں کی طرف غور کیا جائے بھئی۔ ان لفظوں کا جو مفہوم ہے، وہ اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو واقعے اور حقیقت کو نہیں دیکھنا بلکہ صرف کس اعتبار سے یہ بات ہو رہی ہے؟ لفظوں کے مفہوم کے اعتبار سے۔ یا اسی طرح اَلْعَالَمُ حَادِثٌ، اَلْعَالَمُ حَادِثٌ۔ بھئی ہاں، یہ پیچھے والی بات تھوڑی اور سمجھ لیں، دیکھیں۔ میں نے کہا "اَلسَّمَآءُ فَوْقَنَا" (آسمان ہمارے اوپر ہے)۔ آپ کہیں گے یہ تو سچ ہی سچ ہے، اس میں تو جھوٹ کا احتمال ہی نہیں۔ تو جواب میں نے بتا دیا کہ لفظ کے مفہوم کو دیکھیں آپ، واقعے کو نہ دیکھیں بھئی، حقیقت کو نہیں دیکھنا، لفظ کے مفہوم میں دونوں احتمال ہیں۔ چنانچہ بھئی، کفار منکرینِ اسلام، وہ آسمان کو مانتے ہی نہیں ہیں، وہ کہتے ہیں اوپر کچھ بھی نہیں ہے۔ اوپر ہم نے دوربینوں سے دیکھا ہے، کروڑوں عربوں میل تک ہم دیکھ رہے ہیں، کوئی آسمان نہیں ہے، ستارے ہی ستارے ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ دیکھو، معلوم ہوا اس میں جھوٹ کا احتمال ہے جبھی تو وہ اس کو نہیں مان رہے، اگر احتمال ہی نہ ہوتا تو وہ کبھی ایسی بات کرتے؟ وہ کبھی بھی ایسی بات، وہ بھی مانتے۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ اسی طرح ہم کہتے ہیں "اَلْعَالَمُ حَادِثٌ" (یہ جہان حادث ہے)۔ حادث کا کیا معنی؟ جس پر پہلے عدم آیا ہو۔ ہم کہتے ہیں "اَلْعَالَمُ حَادِثٌ" (یہ عالم حادث ہے) اور واقعہ بھی ایسا ہی ہے، عالم کیا ہے؟ حادث ہے۔ تو یہ بھی، یہ بھی سچ ہی سچ ہے، اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں، آپ کہیں گے اس میں تو جھوٹ کا احتمال نہیں اور آپ نے تو ہمیں بتایا کہ قضیہ اور خبر اس میں سچ کا بھی احتمال ہوتا ہے اور جھوٹ کا بھی احتمال ہوتا ہے، تو وہی جواب کہ واقعے کو نہ دیکھیں، حقیقت کو نہ دیکھیں، واقعے اور حقیقت میں تو یہ سچ ہی سچ ہے، لیکن صرف ان لفظوں کے مفہوم کو مدنظر رکھیں، قطعِ نظر حقیقت سے، لفظوں کے مفہوم کے اعتبار سے یہ جملہ، یہ کلام اَلْعَالَمُ حَادِثٌ سچ کا بھی احتمال رکھتا ہے اور جھوٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے، جبھی تو منکرینِ اسلام عالم کو قدیم مانتے ہیں، حادث نہیں مانتے۔ اگر اس میں جھوٹ کا احتمال ہی نہ ہوتا تو وہ، وہ بھی کہتے "اَلْعَالَمُ حَادِثٌ"، لیکن وہ تو کیا کہتے ہیں؟ "اَلْعَالَمُ قَدِیْمٌ"۔ معلوم ہوا یہ کلام جو ہے قطعِ نظر خارج سے، یہ سچ کا بھی احتمال رکھتا ہے اور جھوٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ یہ اسی طرح ہے جیسے زید میرے سامنے کھڑا ہو اور میں کہوں "زَیْدٌ قَائِمٌ" (زید کھڑا ہے)۔ "زَیْدٌ قَائِمٌ"، تو آپ کہیں بھئی یہ خبر اور قضیہ تو نہیں ہے کیونکہ یہ تو سچ ہی سچ ہے، زید سامنے کھڑا ہوا ہے باقاعدہ، معلوم ہوا یہ بات ہر، یقیناً یقیناً سچی ہے، اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں اور قضیہ اور خبر تو وہ ہوتا ہے جس میں سچ ہونے کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال ہو، دونوں احتمال اس میں ہوا کرتے ہیں۔ اور زید یہاں سامنے کھڑا ہے، واقعی نظر بھی آرہا ہے، سب اس کو دیکھ بھی رہے ہیں، تو "زَیْدٌ قَائِمٌ" کا جملہ سچ ہی سچ ہے، اس میں تو جھوٹ کا احتمال ہی نہیں۔ تو جواب وہی بھئی، واقعے اور خارج کو نہیں دیکھنا، کس کو دیکھیں؟ صرف اس لفظوں کے مفہوم کو دیکھیں، مفہوم کے اعتبار سے اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ، اگر زید آپ کو دکھائی نہ دے رہا ہوتا تو پھر آپ دیکھتے کہ اس میں اب واقعی سچ کا بھی احتمال ہے اور جھوٹ کا بھی، اگر زید واقعی کھڑا ہے تو ہم کہیں گے یہ سچ ہے، اگر زید کھڑا نہ ہو تو ہم کہیں گے یہ جھوٹ ہے۔ تو زید کو نہ دیکھیں، زید کو یہاں سے ذرا غائب کر دیں، اب دیکھیں اس پر غور کریں بھئی۔ تو اس میں سچ کا بھی احتمال ہے، اگر زید واقعی کھڑا ہوا تو ہم کہیں گے سچ ہے، اور اس میں جھوٹ کا بھی احتمال ہے، اگر زید کھڑا نہ ہوا تو ہم کیا کہیں گے یہ جھوٹ ہے بھئی۔ مثال سے بات سمجھ میں آگئی؟ فَإِنْ قِیْلَ، اگر یہ اعتراض کیا جائے۔ میں نے بتلایا تھا "فَإِنْ قِیْلَ" وغیرہ کے ذریعے اعتراض ذکر کیا جاتا ہے اور آگے "قُلْتُ" اور "قُلْنَا" وغیرہ کے لفظوں کے ساتھ اس کا جواب ذکر کیا جاتا ہے۔ بھئی یہ اعتراض اور جواب پہلے یہی سمجھ لیں، وہی بات جو میں ابھی بیان کر رہا تھا وہی، وہ مصنف اپنے لفظوں میں اب اس کو ذکر کر رہے ہیں۔ اعتراض یہ کریں گے کہ بھئی آپ نے ہمیں کیا بتلایا کہ خبر اور قضیہ اس کو کہتے ہیں جس میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال ہو، یعنی دونوں احتمال اس میں ہوں بھئی۔ ایک ہی وقت میں اس کے سچ ہونے کا بھی احتمال اور جھوٹ ہونے کا بھی احتمال، پھر واقعے کو دیکھا جاتا ہے، اگر واقعے کے مطابق ہو تو کہتے ہیں یہ سچ ہے، واقعے کے مطابق نہ ہو تو کہتے ہیں یہ جھوٹ ہے۔ تو ل، تو نفسِ مفہوم کے اعتبار سے اس میں دونوں احتمال ہوتے ہیں۔ تو مصنف کہتے ہیں اگر کوئی شخص مثلاً یہ اعتراض کرتا ہے کہ آپ نے کہا خبر اور قضیہ تو وہ ہے جس میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال ہوتا ہے، لیکن ہم آپ کو دکھاتے ہیں ایک قضیہ ہے، ایک خبر ہے لیکن اس، وہ سچ ہی سچ ہے، اس میں جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں، مثلاً ہم کہتے ہیں: "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔ "لَا إِلٰهَ" (کوئی معبود نہیں ہے) "إِلَّا اللّٰهُ" (سوائے اللہ کے)۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ آپ کہتے ہیں دیکھو، یہ سچ ہی سچ ہے، اس میں جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں۔ تو جواب دے رہے ہیں بھئی، آگے جواب بھی دیں گے کہ بھئی وہی بات جو ابھی میں نے پہلے بیان کر دی کہ واقعے کو نہ دیکھیں، نفسِ مفہوم کے اعتبار سے یہ کلام سچ اور جھوٹ دونوں کا احتمال رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، یہ دونوں کا احتمال کس سے قطعِ نظر کرتے ہوئے؟ واقعے سے قطعِ نظر کرتے ہوئے بھئی، حقیقت سے قطعِ نظر صرف لفظ کے مفہوم کو دیکھا جائے تو اس میں دونوں احتمال ہیں، سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال۔ بھئی آپ دیکھتے نہیں، جھوٹ کا احتمال ہے جبھی تو کفار اس بات کو نہیں مانتے، ہمیں دلائل دینے پڑتے ہیں کہ اللہ ایک ہے بھئی۔ اگر جھوٹ کا احتمال نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی ایسی بات نہ کرتے۔ معلوم ہوا اس مفہوم کے اعتبار سے اس میں سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال ہے، البتہ واقعے کے اعتبار سے اگرچہ یہ سچ ہی سچ ہے۔ تو واقعے کو نہیں دیکھنا، صرف کس پر نظر کرنی ہے؟ مفہوم پر بھئی، کس پر؟ مفہوم پر بھئی۔ فَإِنْ قِیْلَ، اگر یہ کہا جائے: قَوْلُنَا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ قَضِیَّةٌ وَخَبَرٌ، کہ ہمارا قول "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" یہ قضیہ اور خبر ہے، مَعَ أَنَّهٗ لَا یَحْتَمِلُ الْكَذِبَ، باوجودیکہ یہ احتمال نہیں رکھتا جھوٹ کا، یہ تو ہر حال میں سچ ہی سچ ہے اور آپ نے تو کہا تھا کہ یہ سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے قضیہ اور خبر۔ قُلْتُ، جواب دے رہے ہیں، میں کہتا ہوں: مُجَرَّدُ اللَّفْظِ یَحْتَمِلُهٗ، کہ محض لفظ اس کا احتمال رکھتے ہیں۔ مجرد بھئی، "اللفظ" سے پہلے "مفہوم" کا لفظ مضاف محذوف ہے: مُجَرَّدُ مَفْهُوْمِ اللَّفْظِ یَحْتَمِلُهٗ، محض لفظ کا جو مفہوم ہے وہ اس کا احتمال رکھتا ہے۔ واقعے سے قطعِ نظر، لفظ کا جو مفہوم ہے وہ اس کا احتمال رکھتا ہے بھئی۔ وَإِنْ كَانَ بِالنَّظَرِ إِلٰى خُصُوْصِیَّةِ الْحَاشِیَتَیْنِ غَیْرَ مُحْتَمَلٍ لِلْكَذِبِ، اگرچہ نظر کرتے ہوئے "إِلٰى خُصُوْصِیَّةِ الْحَاشِیَتَیْنِ" (دو کناروں کی خصوصیت کی طرف)، حاشیہ کہتے ہیں کنارے کو، حاشیتین: دو کنارے، تثنیہ کا ہے بھئی۔ اگرچہ نظر کرتے ہوئے دو کناروں کی خصوصیت کی طرف "غَیْرَ مُحْتَمَلٍ لِلْكَذِبِ" یہ جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا۔ بھئی، وہی اسی اعتراض کا جواب ذکر ہو رہا ہے، اعتراض یہ کیا تھا کہ آپ نے کہا تھا کہ قضیہ اور خبر وہ ہے جو سچ کے ساتھ ساتھ جھوٹ کا بھی احتمال رکھے، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ایک خبر ہے اور وہ سچ ہی سچ ہے، اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں جیسے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ"۔ تو جواب اس کا دے رہے ہیں کہ بھئی 3 دو کناروں کی خصوصیت پر نظر کرتے ہوئے، دو کنارے کون سے بھئی؟ بھئی ایک کنارہ ہے واقعہ اور ایک کنارہ ہے متکلم، بات کرنے والا۔ بھئی دیکھیے، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں زید قائم، زید میرے سامنے کھڑا ہوا ہے اور اب میں آپ سے کیا کہتا ہوں زید قائم۔ زید میرے سامنے کھڑا ہے اور میں آپ سے کیا کہتا ہوں؟ زید قائم تو ایک تو ہیں یہ میرے لفظ، ان لفظوں کا میرے ساتھ بھی تعلق ہے کیونکہ میں کہنے والا ہوں۔ اور ان کا زید سے بھی تعلق ہے کیونکہ زید کے بارے میں کہہ رہا ہوں۔ تو زید قائم یہ جو لفظ ہے اس کے گویا کہ دو کنارے ہو گئے۔ ایک کنارہ کون؟ متکلم بات کرنے والا اور دوسرا کنارہ کونسا؟ جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں یہ دو کنارے ہو گئے کلام کے۔ ایک کہنے والا ہوگا اور ایک جس کے بارے میں کہی جائے بھئی تو یہ دو کنارے ہوئے۔ تو کہتے ہیں یہ کلام جو ہے لا الہ الا اللہ یہ اگر یہ مفہوم لفظ کے اعتبار سے یہ سچ کا بھی احتمال رکھتا ہے اور جھوٹ کا بھی احتمال رکھتا ہے، اگرچہ دونوں کناروں کی خصوصیت کی طرف نظر کرتے ہوئے یہ جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا۔ دونوں کناروں یعنی متکلم کا اعتبار کرتے ہوئے اور جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے یعنی ذات باری تعالی کے لحاظ کرتے ہوئے کہ اللہ تو ایک ہی ہے بھئی، واقع کے اعتبار اعتبار سے تو متکلم اور واقع کے اعتبار سے اگرچہ یہ جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا، متکلم کہنے والا جب مومن ہو، ایمان والا ہو تو اس کا یقین اور اعتقاد کیا ہے؟ کہ اللہ ایک ہیں۔ متکلم کا بھی یہ اعتقاد اور واقعے میں بھی اللہ کی ذات ایک ہی ہے۔ تو دیکھو متکلم اور واقع کے اعتبار سے اگرچہ جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا، متکلم بھی کہتا ہے یہ قطعی طور پر سچ ہے اس میں ایک ذرہ بھی جھوٹ کا احتمال نہیں اور واقع کے اعتبار سے بھی یہ پورا کا پورا سچ ہے ایک ذرہ بھی اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں۔ تو خصوص ان دو حاشیوں کے خاص طور پر ان دو حاشیوں ان دو کناروں کے اعتبار سے اگرچہ اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں ہے۔ متکلم کے اعتقاد کے اعتبار سے بھی اور واقعے کے اعتبار سے بھی، ہاں لیکن ہم ان دو کی بات ہی نہیں کر رہے، ہم نے واقعہ یا متکلم کی بات ہی نہیں کی قضیہ اور خبر میں، ہم نے تو کہا تھا محض مفہوم پہ نظر رکھنا، تو محض مفہوم کے اعتبار سے اس میں سچ کا بھی احتمال ہوتا ہے اور جھوٹ کا بھی، تو لا الہ الا اللہ کے اندر بھی اسی طرح اگر محض مفہوم کو دیکھا جائے تو اس میں سچ کا بھی احتمال اور جھوٹ کا بھی احتمال، لیکن اگر اس طرف نظر کی جائے کہ کہنے والا ہے مومن اور واقعہ بھی اسی طرح کا ہے تو پھر تو اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں، ان دو کناروں کے اعتبار سے، لیکن ہم ان کی بات نہیں کر رہے، ہم صرف مفہوم کے اعتبار سے بات کر رہے ہیں کہ مفہوم کے اعتبار سے جو بھی خبر ہوگا، جو بھی خبر ہوگی اور جو بھی قضیہ ہوگا، اس میں سچ کا بھی احتمال ہوگا اور جھوٹ کا بھی احتمال ہوگا۔ تو یہی جواب دے رہے ہیں دوبارہ دیکھیے جواب۔ قلت مجرد اللفظ يحتمله اي مجرد المفهوم اللفظ يحتمله، تو میں کہتا ہوں کہ محض لفظ کا جو مفہوم ہے وہ اس کا احتمال رکھتا ہے۔ وان كان بالنظري الى خصوصية الحاشيتين غير محتمل للكذب، اگرچہ نظر کرتے ہوئے دو حاشیوں کی خصوصیت کی طرف، دو حاشیوں کی خصوصیت کی طرف غیر محتمل للكذب، یہ جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا۔ دو حاشیے کون سے؟ ایک متکلم اور ایک واقعہ بھئی۔ متکلم اور واقعہ۔ ويقال لسان القسمين الانشاء، اور دو قسموں میں سے دوسری کو جو ہے انشا کہا جاتا ہے۔ مرکب تام کی پہلی قسم نہ خبر اور قضیہ تھی اور دوسری قسم کیا ہے؟ انشا۔ والإنشاء اقسام، اور انشا کئی قسم پر ہے۔ امر، ایک امر ہے جیسے کسی سے کہیے اضرب، اور و نہی اور ایک نہی ہے جیسے کسی سے کہا جائے لا تضرب زیدا، زید کی پٹائی نہ کر۔ و تممن، اور ایک تمنا ہے بھئی۔ تمنا بھئی کسی چیز کا، تمنا کسے کہتے ہیں کہ کسی چیز کو کے حصول کی طلب کرنا محبت کے ساتھ۔ مثلاً ایک شخص بوڑھا ہو گیا اور وہ کہتا ہے کاش کہ میں جوان ہوتا۔ کاش جوانی لوٹ آئے، کاش جوانی لوٹ آئے تو دیکھو محبت کے طور پر ایک چیز کے حصول کو طلب کر رہا ہے، چاہے وہ ممکن ہو، چاہے ممکن نہ ہو، اگرچہ اور جیسے یہاں مثلاً اس مثال میں ممکن نہیں ہے بھئی۔ تو اس کو تممنا کہتے ہیں۔ ممکن بھی ہو سکتی ہے بھئی، کاش کہ زید آج ہم سے ملنے آ جائے، تو ہو سکتا ہے وہ واقعے اپ سے ملنے آ جائے، آپ کا کوئی ساتھی ہے، مثلاً اس کا نام کیا ہے؟ زید اور آپ کہیں کاش آج زید ہم سے ملنے آ جائے، تو ممکن ہے یا نہیں ممکن بھئی؟ تو تممنی ممکن کی بھی ہو سکتی ہے، تممنا اور محال کی بھی ہو سکتی ہے۔ وترجی، اور ایک انشا کی قسم ترجی ہے جس میں امید ہوتی ہے۔ سمجھ میں آئی بات؟ امید بھئی تو یہ انشا کی قسمیں چل رہی ہیں، ان کے کہنے والے کو سچا اور جھوٹا نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً آپ کہتے ہیں شاید زید آج آ جائے۔ کوئی آپ کو نہیں کہہ سکتا آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ نے کوئی خبر تو نہیں دی، آپ نے تو ایک امید ظاہر کی ہے کہ شاید زید آج آ جائے۔ ہاں اگر آپ یہ کہیں زید آج آئے گا، اب آپ کو ہم سچا یا جھوٹا کہہ سکتے ہیں اس بات میں۔ و استفهام، اور ایک قسم استفهام ہے انشا کی، کسی سے سوال پوچھا جائے، مثلاً ازید قائم کیا زید کھڑا ہے؟ ونیداء اور ایک ندا ہے، دوسرے کو آواز دی جائے، مثلاً میں کہتا ہوں یا زید، اے زید، دوسرے کو متوجہ کرنے کے لیے۔ اب میں نے آواز دی یا زید، آپ اس میں کہنے والے کو سچا یا جھوٹا نہیں کہہ سکتے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، بھئی اس نے کوئی بات تو کی ہی نہیں، اس نے تو صرف کیا کی ہے؟ ندا دی ہے، آواز دی ہے، یا زید۔ تو یہ چھ قسمیں بنائیں انشا کی، بھئی۔ کتنی قسمیں؟ چھ۔ چھ قسمیں ہیں، بھئی۔ مناطقہ کہ ہاں یہی چھ قسمیں ہیں انشا کی، بھئی، اگرچہ اور کتابوں میں، نحو وغیرہ میں آپ 10 قسمیں پڑھ چکے ہیں۔ جی، یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ حل ہو گیا بھئی، اچھی طرح؟ چلیے، بس! وھذا ہو المرام۔ واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 31 of 108