Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-073

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 53
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 73 1 وال موجبة الجزئية تنعكس إلى موجبة جزئية كقولنا: بعض الحيوان إنسان، ينعكس إلى قولنا: بعض الإنسان حيوان. وقد يورد على انعكاس الموجبة الجزئية كنفسها إيراد، وهو أن بعض الوتد في الحائط صادق، وعكسه، أعني: بعض الحائط في الوتد غير صادق. عکس مستوی کی بحث چل رہی ہے اور آپ نے پڑھا تھا عکس مستوی یا عکس مستقیم کسے کہتے ہیں؟ کہ موضوع کو محمول بنا دیا جائے اور محمول کو موضوع بنا دیا جائے اور ساتھ صدق اور کیف میں بقا ہونی چاہیے۔ صدق یعنی پہلا اگر صادق ہے تو جو عکس بنایا گیا ہو وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق۔ اور نیز کیف میں بھی بقا ہو، یعنی اگر پہلا موجبہ ہے تو دوسرا بھی موجبہ ہو، اور اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرا بھی سالبہ ہو۔ چنانچہ بتلا رہے ہیں کہ موجبہ جزئیہ جو ہے یہ منعکس ہوتا ہے موجبہ جزئیہ کی طرف۔ كقولنا: بعض الحيوان إنسان، جیسے کہ ہمارا قول: بعض حیوان انسان ہیں، یہ منعکس ہوتا ہے ہمارے قول: بعض الإنسان حيوان، بعض انسان حیوان ہیں، تو دیکھیے حیوان تھا اصل کے اندر موضوع اور انسان تھا محمول، اس کا عکس بنایا انسان کو موضوع بنا دیا گیا اور حیوان کو محمول بنا دیا گیا۔ تو دیکھیے سالبہ جزئیہ... موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی آیا۔ وقد يورد على انعكاس الموجبة الجزئية كنفسها إيراد، اور تحقیق وارد کیا گیا ہے موجبہ جزئیہ کے منعکس ہونے پر كنفسها اپنی ہی ذات کی طرح، یعنی موجبہ جزئیہ کا جو عکس اپنی ہی ذات کی طرح، یعنی موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے اس پر وارد کیا گیا ہے إيراد ایک اعتراض۔ کیا وارد کیا گیا ہے اس پر؟ اس پر ایک اعتراض کیا گیا ہے۔ وهو أن، اور وہ اعتراض یہ کہ بعض الوتد في الحائط صادق، یہ دیکھیے یہ اصل ہے بھئی! وتد یہ کیل کو کہتے ہیں، کیل بھئی! میخ۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو بعض الوتد في الحائط، اور حائط کہتے ہیں دیوار کو۔ بعض الوتد في الحائط، کیل کا کچھ حصہ دیوار میں ہے۔ کیا معنی ہوا بعض الوتد؟ بعض الوتد کچھ کیل، یعنی کیل کا کچھ حصہ في الحائط دیوار میں ہے۔ بھئی! دیوار میں کیل لگا ہوا ہے تو کچھ حصہ اس کا دیوار سے باہر ہے اور کچھ حصہ دیوار کے اندر ہے، تو یہی بتلا رہے ہیں کہ کیل کا کچھ... کچھ کیل جو ہے وہ دیوار کے اندر ہے۔ یہ صادق ہے بھئی! وعكسه، اور اس کا عکس... بھئی! عکس اب کیا کرنا تھا؟ موضوع کو محمول اور محمول کو موضوع بنانا ہے، اور صدق اور کیف کو برقرار رکھنا ہے، تو یہاں دیکھیے صدق برقرار نہیں رہے گا۔ وعكسه، اور اس کا عکس أعني، یعنی کہ بعض الحائط في الوتد۔ پہلے تھا: بعض الوتد في الحائط، اب کیا کر دیا؟ بعض الحائط في الوتد، کچھ دیوار... دیوار کا کچھ حصہ في الوتد کیل میں ہے۔ یہ اب صادق نہیں آ رہا، غير صادق، یہ صادق نہیں... کیل کا کچھ حصہ تو دیوار میں ہے یہ تو ٹھیک ہے، لیکن دیوار کا کچھ حصہ کیل میں ہے ایسا تو... ایسا تو نہیں ہے۔ تو دیکھیے آپ نے کہا تھا موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے، ہم نے بھی یہاں موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ بنایا لیکن وہ صادق ہی نہیں آ رہا! والجواب، جواب یہ ہے بھئی! جواب اس کا یہ دیں گے کہ آپ نے عکس ہی صحیح نہیں بنایا! عکس ہی صحیح نہیں بنایا! کس طرح؟ کہ دیکھیے اصل کیا تھا؟ بعض الوتد في الحائط، آپ نے وتد اس موضوع کو اٹھا کر محمول بنا دیا اور محمول کیا تھا؟ آپ نے الحائط کو اٹھایا اور اس کو کیا بنا دیا موضوع! حالانکہ محمول یہاں الحائط نہیں بلکہ في الحائط ہے بھئی! کیا ہے؟ في الحائط، حرف جار بھی اس کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس سمیت اٹھا کر آپ کو کیا کرنا چاہیے تھا؟ موضوع بنانا چاہیے تھا پھر یہ درست بنتا بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ آپ سمجھے کہ شاید یہاں صرف حائط یہ محمول ہے اور اس کے اعتبار سے آپ نے صرف الحائط کو مقدم کیا، حالانکہ في الحائط سارے کو مقدم کرتے تو پھر عکس صحیح بنتا بھئی! معلوم ہوا آپ نے عکس صحیح طریقے سے بنایا ہی نہیں۔ والجواب، اور جواب یہ ہے کہ أنا... والجواب یہ ہے کہ أنا لا نسلم أن عکس هذه القضية ما قلت، کہ أنا لا نسلم... ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ أن عکس هذه القضية ما قلت، کہ اس قضیہ کا عکس ما وہ ہے قلتا جو آپ نے کہا، جو آپ نے... ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے کہ اس قضیہ کا، یعنی بعض... وہ جو اصل تھا: بعض الوتد في الحائط، اس کا عکس جو ہے ما قلت وہ ہے جو آپ نے کہا، أعني، یعنی کہ بعض الحائط في الوتد، یہ جو عکس آپ نے کہا یہ ہمیں تسلیم ہی نہیں اس کا عکس ہے، بل عكسه، بلکہ اس کا عکس جو ہے بعض ما في الحائط وتد، بعض وہ جو دیوار میں ہے وتد وہ کیل ہے، میخ ہے۔ بعض وہ جو... بعض وہ جو دیوار میں ہے... بھئی! دیوار میں اور بھی بہت سی چیزیں ہیں، اینٹ ہے، سیمنٹ ہے وغیرہ، تو وہ جو چیزیں دیوار میں ہیں ان میں سے کچھ کیا ہے؟ کیل بھی ہے، کیل کا بھی کچھ حصہ ہے، وہ بھی کس میں ہے؟ دیوار... جیسے یہ اور چیزیں ہیں اسی طرح یہ کیل کا بھی کچھ حصہ دیوار میں ہے، تو یہ بعض ما في الـ... بعض ما في الحائط وتد، بعض وہ جو دیوار میں ہیں وتد وہ کیا ہے؟ وہ کیل ہے۔ اب سمجھ میں آیا معنی بھئی؟ اور یہ تو صادق ہے، تو یہ ہے اس کا عکس بھئی! اصل کیا تھا؟ بعض الوتد في الحائط، اور عکس کیا بنایا؟ بعض ما في الحائط وتد بھئی! بعض وہ جو دیوار میں ہے کیل ہے۔ ولا مرية في صدقه، مرية کہتے ہیں شک کو بھئی شک، ولا مرية في صدقه، اور کوئی شک نہیں ہے اس کے صدق میں، اس کے سچا ہونے میں کوئی شک نہیں ہے کہ بعض ما في الحائط وتد، بعض وہ جو دیوار میں ہے وہ کیل ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جواب اچھی طرح؟ وباقي مباحث العكوس من عکس الموجهات والشرطيات فمذكور في المطولات، اور عکسوں کی باقی بحثیں من عکس الموجهات والشرطيات، اور عکسوں کی باقی بحثیں یعنی کہ موجہات اور شرطیات کے جو عکس ہیں فمذكور في المطولات، پس وہ مذکور ہیں مطولات، بڑی کتابوں میں۔ وہ... تو انہوں نے مختصراً انہوں نے آپ کو عکس کی بحث بتلا دی قضیہ حملیہ سے کرتے ہوئے، اور چاروں صورتیں ذکر کر دیں: سالبہ کلیہ، سالبہ جزئیہ، موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ، اور جو ایک دو اعتراضات ہوتے تھے وہ بھی ساتھ ذکر کر دیے ان کے جوابات کے ساتھ۔ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آتا ہے، اور سالبہ جزئیہ کا عکس آتا ہی نہیں، وہ لازم نہیں ہے کیونکہ بعض صورتوں میں غلط ہو جاتا ہے، اور موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ دونوں کا عکس موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ موجبہ کلیہ کا عکس بھی موجبہ جزئیہ، اور موجبہ جزئیہ کا عکس بھی موجبہ جزئیہ ہی آتا ہے۔ اب آگے عکس نقیض کی بات آئے گی۔ عکس نقیض... بس اتنا یاد رکھیے بھئی! آسان سی بات ہے۔ عکس... عکس نقیض جو ہے نام سے ہی ظاہر ہے نقیض بھئی، نقیض آیا اس میں۔ اس میں یاد رکھیے اولاً دو طریقے ہیں: ایک متقدمین کا طریقہ ہے، ایک متاخرین کا۔ متقدمین بھئی! وہ جو پہلے گزرے ہیں فلاسفہ اور منطقہ، ان کا... وہ جو پرانے منطقہ اور فلاسفہ ہیں ان کا ایک طریقہ ہے، ایک جو بعد کے زمانے والے تھے ایک ان کا طریقہ ہے بھئی! ایک متقدمین کا اور ایک متاخرین کا۔ متقدمین جو پہلے والے تھے، متاخرین جو بعد والے ہیں زمانے کے اعتبار سے، تو دونوں کا الگ الگ طریقہ ہے۔ البتہ یہ صرف متقدمین کے طریقے کو ذکر کریں گے۔ متقدمین کا طریقہ... اور اس میں... بھئی! عکس مستوی میں تو آپ کیا کرتے تھے؟ موضوع کی جگہ محمول، اور محمول کی جگہ موضوع مع بقاء الصدق والكيف۔ اب موضوع کی جگہ... موضوع کو اٹھا کر مؤخر نہیں کرنا، بلکہ موضوع کو پہلے پکڑیں اس کی نقیض بنا لیں پھر اس کو مؤخر... نقیض کو مؤخر کر دیں۔ محمول کو پکڑیں اس کی نقیض بنا لیں اور پھر اس کی نقیض کو مقدم کر دیں۔ مع بقاء الصدق والكيف، باقی اسی طرح ہے۔ یہاں پہلے کیا کرنا پڑے گا؟ موضوع اور محمول کی نقیض نکالیں گے اور پھر ان کو مقدم و مؤخر کر دیں گے جیسے عکس مستوی میں تھا بھئی مقدم اور مؤخر، اور جہاں جیسے وہاں صدق اور کیف کی بقا ضروری تھی یہاں بھی صدق اور کیف کی بقا... یعنی پہلا اگر صادق ہے تو دوسرے عکس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق ہونا چاہیے، اور اگر پہلا موجبہ ہے تو دوسرا بھی موجـ... عکس بھی موجبہ ہو، اور اگر پہلا سالبہ ہے تو عکس بھی کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ، باقی سارا وہی، صرف... صرف اتنا فرق ہے کہ وہاں موضوع ہی کو اٹھا کر محمول بناتے تھے اور محمول کو اٹھا کر موضوع، یہاں پہلے کیا کرنا ہے؟ موضوع اور محمول کی نقیض بنا لیں گے اور پھر ان کی جگہ اسی طرح بدل دیں گے بھئی! تو مثلاً موضوع ہو انسان تو اس کی نقیض آئے گی لا انسان۔ موضوع اگر ہے حیوان تو اس کی نقیض آئے گی لا حیوان۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو نقیض وہی اس کے ساتھ "لا" کا لفظ لگا دیں تو نقیض اس کی تیار ہو جائے گی۔ قلم کی نقیض کیا آئے گی؟ لا قلم۔ کتاب کی نقیض کیا آئے گی؟ لا کتاب۔ لا انسان کی نقیض کیا آئے گی؟ انسان آئے گی بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ بس آسان سا طریقہ ہے بھئی! اور یہ فرق ہے بھئی! دوسـ... بھئی! عکس مستوی میں جو سالبہ کا حکم تھا وہ یہاں موجبہ کا ہوگا، اور وہاں جو موجبہ کا حکم تھا وہ یہاں سالبہ کا ہوگا۔ توجہ ہے؟ وہاں جو سالبہ کا حکم تھا یہاں موجبہ کا... اور وہاں جو موجبہ کا حکم تھا یہاں سالبہ کا۔ وہاں سالبہ کا کیا حکم تھا؟ کہ وہاں سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آتا تھا، اور سالبہ جزئیہ کا عکس آتا ہی نہیں تھا، یہاں وہی حکم موجبہ کا ہے۔ موجبہ کلیہ کا عکس یہاں موجبہ کلیہ آئے گا، اور موجبہ جزئیہ کا عکس نہیں آئے گا۔ اور وہاں پر عکس مستوی میں موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ دونوں کا عکس موجبہ جزئیہ آتا تھا۔ کس کا؟ موجبہ کلیہ اور موجبہ جزئیہ، دونوں کا عکس موجبہ جزئیہ۔ یہاں وہی بات سالبہ میں ہوگی، سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ کا عکس سالبہ جزئیہ آئے گا بھئی! سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ دونوں کا عکس سالبہ جزئیہ آئے گا بھئی! یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ بس باقی آسان بات ہے بھئی! فصل أي هذا فصل عکس النقيض، نقیض کا عکس... عکس نقیض بھئی! عکس النقيض، عکس نقیض هو جعل نقيض الجزء الأول من القضية ثانياً ونقيض... ونقيض الجزء الثاني أولاً مع بقاء الصدق والكيف، هو جعل نقيض الجزء الأول، وہ بنانا ہے جز اول کی نقیض کو، جز اول کیا ہے؟ موضوع، یعنی اس موضوع کی نقیض کو بنانا من القضية قضیہ میں سے ثانياً، کیا بنا دینا؟ ثانی، یعنی کیا بنا دینا؟ محمول۔ جز اول یعنی موضوع کی نقیض قضیہ میں سے موضوع کی نقیض کو ثانی بنا دینا یعنی محمول بنا دینا، ونقيض الجزء الثاني أولاً، اور جز ثانی یعنی محمول کی نقیض کو اول بنا دینا یعنی موضوع، مع بقاء الصدق والكيف، ساتھ بقائے صدق اور کیف کے کہ صدق اور کیف اسی طرح باقی ہو۔ هذا اسلوب المتقدمين، یہ متقدمین کا طریقہ ہے، فتنعکس الموجبة الكلية بهذا العكس كنفسها، پس منعکس ہوگا موجبہ کلیہ اس عکس کے ساتھ كنفسها اپنی ہی ذات کے جیسا، اپنے ہی ذات کے مثل وہ منعکس ہوگا، کون بھئی؟ موجبہ کلیہ، اپنی ہی ذات کی طرح اس کا عکس آئے گا یعنی کیا آئے گا؟ موجبہ کلیہ ہی آئے گا، كقولنا جیسے کہ ہمارا قول: كل انسان حیوان، جی بنائیے آپ! کل... ادھر دیکھیے بھئی! كل انسان حيوان، موضوع کیا؟ انسان، اس کی نقیض بنائیے۔ لا انسان۔ محمول کیا ہے؟ حیوان، اس کی نقیض بنائیے۔ لا حیوان۔ اب جگہ بدل دیں، موضوع تھا ادھر انسان اور محمول تھا حیوان... كل لا حيوان لا انسان، كل لا حيوان لا انسان، ہر لا حیوان لا انسان ہے۔ ہر لا حیوان... بھئی! حیوان کے علاوہ دنیا بھر کی جتنی چیزیں ہیں وہ لا حیوان میں داخل ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ قلم بھی کیا ہے؟ لا حیوان، کتاب بھی کیا ہے؟ لا حیوان، یہ پنکھا بھی کیا ہے؟ لا حیوان، گاڑی بھی کیا ہے؟ لا حیوان، تو حیوان کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں وہ کس میں آ گئیں؟ لا حیوان میں آ گئیں، اور کیا عکس بنا؟ کیا عکس بنا؟ کل لا حیوان لا انسان، یعنی جو بھی لا حیوان ہے وہ لا انسان ہے، اور صادق ہے یا نہیں؟ صادق ہے، کیونکہ انسان تو لا حیوان... جی؟ جو چیز بھی لا حیوان ہے وہ کیا ہے؟ لا انسان، محمول بھی تو لا انسان ہے، انسان کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں وہ کیا ہیں؟ لا انسان ہیں، انسان کے علاوہ جتنی چیزیں ہیں وہ کیا ہیں؟ لا انسان ہیں۔ تو جو بھی لا حیوان ہے کہتے ہیں وہ لا انسان بھی ہے بھئی! وہ کیا ہے؟ اچھا یہ بتائیے! لا حیوان عام ہے کہ لا انسان عام ہے؟ جی؟ یاد رکھو! صرف حیوان اور انسان کو دیکھو، حیوان عام ہے کہ انسان عام ہے؟ حیوان عام ہے، کیونکہ حیوان گدھے پر بھی صادق آ رہا ہے، گائے پر بھی، بکری پر بھی، انسان ان پر صادق نہیں آ رہا، تو حیوان ہوا عام، انسان ہوا خاص، نقیض میں اس کا عکس ہو جائے گا، جو عام تھا وہ خاص بن جائے گا اور جو خاص تھا وہ عام بن... اب دیکھیے لا... 2 لا انسان، لا، گدھا لا انسان ہے یا نہیں؟ وہ لا انسان ہے، گائے وہ لا انسان ہے، بکرے لیکن وہ لا حیوان نہیں دیکھو۔ وہ تو حیوان ہے، تو لا حیوان نہیں۔ تو لا انسان کا دائرہ وسیع ہو گیا اور لا حیوان کا دائرہ اس کے مقابلے میں کم ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: جیسے ہمارا قول ہے کل انسان حیوان ہر انسان حیوان ہے ينعكس إلى قولنا یہ منعکس ہوتا ہے ہمارے قول كل لا حیوان لا انسان ہر لا حیوان لا انسان ہے۔ والموجبة الجزئية لا تنعكس بهذا العكس اور موجبة جزئية وہ منعکس نہیں ہوتا اس عکس کے ساتھ لأن قولنا اسی کیونکہ ہمارا قول بعض الحيوان لا انسان۔ بعض حیوان کیا ہیں؟ لا انسان ہیں۔ بعض حیوان لا انسان ہیں۔ بکری ہے، یہ لا انسان ہے، گائے ہے، لا انسان ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض حیوان لا انسان ہے صادق یہ صادق ہے۔ وعكسه اور اس کا عکس جو ہے أعني یعنی کہ بعض الإنسان لا حيوان۔ بھئی ادھر موضوع کیا آیا تھا؟ حیوان۔ اس کی نقیض کیا تیار کیا آپ نے؟ لا حیوان، دیکھیے لا حیوان آ رہا ہے آگے عکس میں۔ اور پیچھے محمول تھا لا انسان، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ انسان۔ تو کیا بنا؟ بعض الإنسان لا حيوان۔ بعض انسان لا حیوان ہیں۔ یہ صادق نہیں، کیونکہ تمام انسان حیوان ہیں، کوئی لا حیوان نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں لأن قولنا بعض الحيوان لا انسان صادق اسی کیونکہ ہمارا قول بعض حیوان وہ لا انسان ہیں، یہ صادق ہے وعكسه اور اس کا عکس أعني یعنی کہ بعض الإنسان لا حيوان كاذب بعض انسان لا حیوان ہیں، یہ اس کا عکس جو ہے، یہ كاذب یہ کاذب ہے۔ والسالبة الكلية تنعكس إلى سالبة جزئية اور سالبة کلیة وہ منعکس ہوتا ہے سالبة جزئیة کی طرف، میں نے بتلایا تھا۔ سالبة کلیة اور سالبة جزئیة دونوں کا عکس کیا آئے گا؟ سالبة جزئیة۔ تو کہتے ہیں سالبة کلیة منعکس ہوگا سالبة جزئیة کی طرف۔ تقول آپ کہتے ہیں لا شيء من الإنسان بفرس۔ لا شيء من الإنسان بفرس، موضوع کیا ہے؟ الإنسان۔ محمول کیا ہے؟ فرس۔ اور دونوں کا اس کی دونوں کی نقیض نکالیں۔ انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان۔ فرس کی نقیض کیا؟ لا فرس۔ چنانچہ کہتے ہیں وتقول في عكسه بهذا العكس اور اس کے عکس میں آپ کہیں گے بهذا العكس، یہ عکس بھئی۔ اس کے عکس میں یہ عکس آپ کہیں گے بعض اللا فرس ليس بلا انسان، دیکھا لا فرس اور لا انسان لے آئے۔ بعض اللا فرس ليس بلا انسان۔ بعض لا فرس جو ہیں، بعض لا فرس ليس بلا انسان وہ لا انسان نہیں ہیں، بلکہ کیا ہیں؟ انسان۔ بھئی انسان فرس ہے یا لا فرس ہے؟ لا فرس ہے۔ تو یہ بھی یہی با، دیکھیے کتاب بھی لا فرس، انسان بھی لا فرس۔ معلوم ہوا، کچھ لا فرس انسان ہیں اور کچھ لا فرس انسان کے علاوہ ہیں۔ یہی بات کر رہے ہیں بعض اللا فرس ليس بلا انسان، بعض لا فرس لا انسان نہیں ہیں، بلکہ انسان ہیں۔ إلى جزئية، جزئیة کی طرف۔ بھئی اس، یہ عکس آپ کہیں گے جزئیة کی طرف یعنی جزئیة بنے گا بھئی۔ ولا تقول اور یہ نہیں کہیں گے۔ بھئی بات کیا چل رہی ہے؟ سالبة کلیة کا عکس سالبة جزئیة آئے گا، جیسے ابھی ہم نے بنایا۔ سالبة کلیة کا عکس سالبة کلیة نہیں آئے گا، جیسے آگے یہ مثال ذکر کر رہے ہیں سالبة کلیة کا عکس سالبة کلیة ہی بنائیں گے۔ اصل کیا تھا؟ لا شيء من الإنسان بفرس، یہ تو تھا سالبة کلیة۔ کہتے ہیں اس کا عکس، اس کے عکس میں ولا تقول آپ یہ نہیں کہیں گے لا شيء من اللا فرس بلا انسان۔ کوئی بھی لا فرس لا انسان نہیں ہے۔ کوئی بھی لا فرس لا انسان نہیں ہے۔ یہ کتاب کیا ہے؟ فرس ہے یا لا فرس ہے؟ لا فرس۔ اور انہوں نے کہا کوئی بھی لا فرس لا انسان نہیں ہے، بلکہ وہ کیا ہے معلوم ہے؟ انسان ہے۔ تو اب کتاب بھی لا فرس ہے۔ یہ انسان ہے یا لا انسان ہے؟ تو یہ لا فرس بھی ہے اور لا انسان بھی ہے۔ اور یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کوئی بھی لا فرس لا انسان نہیں ہے۔ حالانکہ یہ لا فرس کیا ہے؟ لا انسان ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اگن یہ نہیں کہیں گے کہ لا شيء من ال، تو سالبة کلیة کا عکس سالبة کلیة نہیں کہیں گے لصدق نقيضه، بوجہ اس کی نقیض کے صادق آنے کے۔ ادھر دیکھیے بھئی، ادھر! نقیض بناؤ، طریقہ یاد ہے یا بھول گیا؟ لا شيء من اللا فرس بلا انسان، یہ کلیة ہے یا جزئیة ہے؟ لا شيء من اللا فرس بلا انسان، کلیة ہے يا جزئیة ہے؟ کلیة ہے، لا شيء کے سور ہے سالبة کلیة کا بھئی۔ اچھا، اور موجبة ہے، سالبة ہے؟ سالبة ہے۔ نقیض میں کیا کرتے تھے؟ سالبة کو موجبة بناتے تھے اس کی نقیض اور موجبة کی سالبة۔ تو یہ سالبة ہے، نقیض کیا بنائیں گے؟ موجبة بنائیں گے۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا تھا کہ کم میں بھی اختلاف ہونا چاہیے۔ اگر ایک کلیة ہے تو دو نقیض کو کیا ہونا چاہیے؟ جزئیة۔ اور اگر اصل جزئیة ہے تو نقیض کو کیا ہونا چاہیے؟ کلیة۔ تو لہٰذا اس کی نقیض کیا آئے گی بھئی؟ نقیض نقیض بنائیے! عکس نہیں، عکس نہیں، جگہ نہیں بدلنی، نقیض کی بات کر رہا ہوں۔ ایجاب ایجاب لے کر آئیں! بعض اللا فرس لا انسان، دیکھا! آگے بتا رہے ہیں کہ نقيضه اس کی نقیض جو ہے أعني یعنی کہ بعض اللا فرس لا انسان بعض لا فرس لا انسان ہیں كالجدار جیسے کہ جدار دیوار ہے بھئی، دیوار۔ یہ لا فرس بھی ہے۔ فرس ہے، لا فرس ہے دیوار؟ لا فرس۔ اور انسان ہے یا لا انسان ہے؟ لا انسان۔ تو دیکھیے بعض لا فرس وہ کیا ہیں؟ لا انسان ہیں، جیسے دیوار کہ اس پر یہ دونوں صادق آ رہے ہیں لا فرس بھی اور لا انسان بھی۔ تو دیکھیے، بات یہ چل رہی ہے کہ سالبة کلیة کا عکس سالبة جزئیة آئے گا۔ سالبة کلیة کا عکس سالبة کلیة نہیں آئے گا، کیونکہ سالبة کلیة کی نقیض صادق آ رہی ہے۔ اور آپ پڑھ چکے کہ اصل اور نقیض دو قضیة ہوں اور اس کی نقیض ہو دونوں میں سے ایک صادق آ سکتا ہے، دونوں صادق نہیں آ سکتے بھئی۔ ایک صادق ہوتا ہے، ایک، تو یہاں اس کی نقیض صادق آ رہی ہے، معلوم ہوا اصل صادق نہیں آ رہا بھئی۔ بعض اللا فرس لا انسان یہ صادق آ رہی ہے۔ اور اس کی نقیض یہ جو پہلے ذکر ہوئی لا شيء من اللا فرس بلا انسان یہ صادق نہیں، کیونکہ نقیض اور اصل میں سے تو ایک ہی ہمیشہ صادق آ سکتا ہے، دونوں صادق نہیں آ سکتے بھئی۔ والسالبة الجزئية تنعكس إلى سالبة جزئية اور سالبة جزئیة منعکس ہوتا ہے کس کی طرف؟ سالبة جزئیة کی طرف۔ كقولك جیسے کہ آپ کا قول بعض الحيوان ليس بإنسان بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ جی، اس کا عکس بنائیے! حیوان سے کیا بنا لیں گے پہلے؟ نقیض، لا حیوان۔ اور انسان کی نقیض کیا بنا لیں گے؟ لا انسان۔ اچھا، تو جگہ بدل دیجیے اور سلب کو اسی طرح رکھیے! بعض اللا انسان ليس بلا حيوان۔ تو کہتے ہیں تنعكس یہ منعکس ہوتا ہے إلى قولك آپ کے قول کی طرف بعض اللا انسان ليس بلا حيوان کہ بعض لا انسان وہ لا حیوان نہیں ہیں۔ بعض لا انسان وہ لا حیوان نہیں ہیں۔ لا انسان، گائے انسان ہے یا لا انسان؟ لا انسان۔ اور یہ حیوان ہے یا لا حیوان؟ یہ کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو ہم بھی کیا کہہ رہے ہیں؟ گائے لا انسان بھی ہے اور حیوان ہے۔ تو بعض لا انسان وہ لا حیوان نہیں ہیں، بلکہ کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ تو کہتے ہیں كقولك بعض اللا انسان ليس بلا حيوان كالفرس جیسے کہ گھوڑا ہے یا گائے ہے۔ وعكوس الموجهات مذكورة في الكتب الطوال اور موجہات کے عکس وہ مذکور ہیں فی الكتب الطوال لمبی کتابوں میں یعنی بڑی کتابوں میں۔ وها هنا قد تم مباحث القضايا وأحكامها اور یہاں پر تحقیق پوری ہو گئیں قضايا اور ان کے احکام کی بحثیں، قضايا اور ان کے احکام کی بحثیں یہاں پر پوری ہو گئیں۔ مصنف رحمہ اللہ نے عکس نقیض کے اندر متقدمین کے طریقے کو تو ذکر کیا، لیکن متاخرین کا جو طریقہ ہے، اس کو ذکر نہیں کیا۔ وجہ یہ کہ اس کی بحث بڑی طویل ہے اور نیز اس کے بارے میں آگے چونکہ بحثیں نہیں کی جاتیں، اس وجہ سے اس کو ذکر نہیں کیا بھئی۔ اور مختصراً بس اتنا یاد رکھیں کہ متقدمین کے نزدیک تو عکس، عکس نقیض میں موضوع اور محمول دونوں کی نقیض بنا کر پھر ان کی جگہ تبدیل کی جاتی تھی۔ یہ تھا متقدمین کا طریقہ۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک موضوع کو اسی طرح رکھتے ہیں اور محمول کی نقیض بنا کر پھر ان دونوں کی جگہ بدل دیتے ہیں بھئی۔ موضوع کو اسی طرح جوں کا توں مؤخر کر دیتے ہیں، جبکہ محمول کی نقیض بنا کر اس کو مقدم کر دیا جاتا ہے مع بقاء صدقه، صدق کی بقاء کے ساتھ، کہ اگر پہلا صادق ہے تو یعنی اصل صادق ہے، تو اس کی عکس نقیض بھی کیا ہونی چاہیے؟ صادق ہونی چاہیے۔ اور متقدمین کے نزدیک تو تھا کہ کیف بھی اسی طرح کیف میں بھی بقاء ہو بھئی۔ اگر پہلا موجبة تھا تو دوسرا بھی موجبة ہو، پہلا سالبة تھا تو دوسرا بھی سالبة ہو عکس میں بھئی۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک کیف میں مخالفت ہوگی بھئی۔ اگر پہلا موجبة تھا تو دوسرا سالبة، اور اگر پہلا سالبة تھا تو دوسرا موجبة بنائیں گے بھئی۔ تو یہ دو فرق ہوئے بھئی متقدمین اور متاخرین کے عکس نقیض میں۔ متقدمین کے نزدیک دونوں کی نقیض بنائیں گے، جبکہ متاخرین کے نزدیک صرف محمول کی نقیض بنائیں گے بھئی۔ اور متقدمین کے نزدیک صدق کے ساتھ ساتھ کیف میں بھی بقاء ضروری، جبکہ متاخرین کے نزدیک صدق میں تو بقاء ہوگی، لیکن کیف میں مخالفت ہوگی بھئی۔ چلیے بس بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 73 of 108