LESSONS NO. 66
1
فصل: وإذ قد فرغنا عن بيان القضايا وذكر أقسامها الأولية والثانوية، فحانه لنا أن نذكر شيئا من أحكامها فنقول: من أحكامها التناقض والعكوس، فلنعقد لبيانها فصولا ونذكر فيها أصولا.
وإذ قد فرغنا عن بيان القضايا، مصنف رحمہ الله فرماتے ہیں کہ وإذ قد فرغنا عن بيان القضايا اور جب ہم تحقيق فارغ ہو گئے قضايا کے بيان سے، وذكر أقسامها اور ان کی اقسام کے بيان سے، الأولية والثانوية اقسام اولیہ اور اقسام ثانوية.
اقسام اولیہ بھئی جو ابتداء میں تقسيم کی تھی کہ قضيہ دو قسم پر ہے، ایک حملیہ ہوگا يا شرطیہ ہوگا۔ اور اقسام ثانوية پھر آگے جو حملیہ کی تقسيم کی تھی اور شرطیہ کی تقسيم کی گئی، جیسے وہ مخصوصہ، طبعیہ، محصورہ، اور مہملہ وغيرہ بھئی۔
فحانه لنا، حان کا معنی ہوتا ہے وقت ہونا، فحانه لنا پس ہمارے لیے وقت ہو گیا أن نذكر شيئا من أحكامها کہ ہم ذکر کریں کچھ چیزیں من أحكامها ان کے احکام میں سے، ہم ذکر کریں کچھ ان کے احکام میں سے، فنقول پس ہم کہتے ہیں: من أحكامها التناقض والعكوس کہ قضايا کے احکام میں سے تناقض اور عکسیں ہیں، فلنعقد لبيانها فصولا پس ہمیں چاہیے کہ ہم منعقد کریں ان کے بيان کے لیے کچھ فصلیں، ہم ان کے بيان کے لیے کچھ فصلیں منعقد کریں، ونذكر فيها أصولا تاکہ ذکر کریں ہم اس میں اصول کو بھئی، اس میں ہم کچھ اصول ذکر کریں ان کے بھئی قضايا کے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تو تمہید باندھ رہے تھے اگلی بات کے لیے۔
فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ التناقض هو اختلاف القضيتين بالإيجاب والسلب بحيث يقتضي لذاته صدق إحداهما كذب الأخرى أو بالعكس.
بھئی آگے تناقض کے بارے میں بتلائیں گے آپ کو۔ یاد رکھیے تناقض، تناقض نقض سے ہے، نقض۔ نقض کا معنی ہوتا ہے باطل کرنا۔ نقض کا کیا معنی ہے؟ باطل کرنا۔ اور اسی سے یہ باب تفاعل ہے، تناقض۔ اور آپ جانتے ہیں باب تفاعل جانبین سے فعل کو چاہتا ہے بھئی۔ تضارب کا کیا معنی ہوتا ہے؟ آپس میں دونوں کا ایک دوسرے کی پٹائی کرنا، تو دیکھو ایک نے دوسرے کی پٹائی کی اور دوسرے نے پہلے کی پٹائی کی، تو دیکھو جانبین سے فعل آتا ہے باب تفاعل کے اندر۔
تو یہاں بھی نقض کا معنی ہے باطل کرنا، اور تناقض کا کیا معنی ہوا؟ باہم ایک دوسرے کو باطل کرنا بھئی۔ یعنی دو قضیے ہیں، ان میں سے پہلا تقاضا کرتا ہے کہ یہ دوسرا قضیہ باطل ہے، یہ غلط ہے، اور دوسرا تقاضا کرتا ہے کہ یہ پہلا باطل ہے اور غلط ہے۔ یعنی دونوں میں سے ایک وقت میں ایک ہی کو سچا مان سکتے ہیں، ہم دونوں کو سچا نہیں مان سکتے۔ ایک کو سچا مانتے ہیں تو وہ تقاضا کرتا ہے دوسرے کو جھوٹا ماننا پڑے گا۔ دوسرے کو سچا مانتے ہیں تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ پہلے کو اب کیا کرنا پڑے گا؟ جھوٹا ماننا پڑے گا بھئی۔ تو ان کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ ذات ہی تقاضا کرتی ہے، تو اس کو تناقض کہتے ہیں بھئی تناقض۔ یہ جو دونوں کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے ایک دوسرے کے باطل ہونے کا بھئی۔
اور یہ جو قضیے ہیں، ان کو ایک دوسرے کی پھر نقیض کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ نقیض۔ پہلا قضیہ مثلاً دوسرے کی نقیض ہے، دوسرا پہلے کی نقیض ہے، تو دونوں نقیضین ہیں بھئی نقیضین۔ جیسے مثلاً آپ کہتے ہیں زید قائم، یہ ایک قضیہ ہوا۔ دوسرا قضیہ ہے زید ليس بقائم، زید کھڑا نہیں ہے۔ اب زید قائم اور زید ليس بقائم، دونوں میں سے ایک ہی سچا ہو سکتا ہے، دونوں سچے نہیں ہو سکتے بھئی۔ یا تو اگر زید قائم سچا ہے، تو زید ليس بقائم سچا نہیں، زید یا تو کھڑا ہوگا یا کھڑا نہیں ہوگا، دونوں میں سے ایک ہی بات ہو سکتی ہے، دونوں نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو ایک اگر سچا مانیں گے تو دوسرے کو کیا ماننا پڑے گا؟ جھوٹا، اور اگر دوسرے کو سچا مانتے ہیں تو پہلے کو جھوٹا ماننا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو یہ ہے تناقض بھئی۔ تو تناقض کا لغوی معنی عربی زبان میں تناقض کا کیا معنی ہوا؟ میں نے بتلا دیا کہ باہم ایک دوسرے کا ابطال کرنا، ایک دوسرے کو باطل کرنا۔ اور اصطلاحی تعریف وہ مصنف بیان کر رہے ہیں کہ ایک کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے کہ اگر وہ سچا ہے تو دوسرا جھوٹا ہے بھئی۔ یہ ہے تناقض بھئی۔ دیکھیے بھئی:
فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ التناقض هو اختلاف القضيتين تناقض جو ہے وہ دو قضیوں کا اختلاف ہے بالإيجاب والسلب ایجاب اور سلب کے ساتھ، یعنی ایک موجبة ہے تو دوسرا سالبة ہے۔ بحيث يقتضي لذاته اس حیثیت سے کہ تقاضا کرتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، کون تقاضا کرتا ہے؟ صدق إحداهما، یہ فاعل ہے يقتضي کا، کہ تقاضا کرتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہی صدق إحداهما ان دونوں میں سے ایک کا سچا ہونا، كذب الأخرى دوسرے کے جھوٹا ہونے کا، أو بالعكس یا اس کا عکس بھئی۔ یعنی دوسرے کا سچا ہونا تقاضا کرتا ہے پہلے کے جھوٹے ہونے کا۔ کقولنا: زید قائم وزید ليس بقائم، جیسے کہ ہمارا قول زید قائم وزید ليس بقائم بھئی، یہ دونوں ان دونوں میں تناقض ہے اور یہ دونوں قضیے ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ ایک کو مانیں گے تو دوسرے کو غلط ماننا پڑے گا، اور دوسرے کو صحیح مانیں گے تو پہلے کو غلط۔
بھئی یاد رکھیے تناقض جس طرح دو قضیوں میں ہے، اسی طرح مفرد میں بھی تناقض ہوتا ہے مفرد میں بھی۔ اور ان کو بھی ایک دوسرے کی نقیض کہیں گے، نقیض کہیں گے۔ تو نقیضین دو جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایک کو مانو گے تو دوسری غلط ہوگی، دوسری کو مانو گے تو پہلی غلط ہوگی، دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔
یاد رکھو ایک قیمتی بات، ایک تو ہے نقیضین اور ایک ہے ضدین، دونوں میں فرق ہے۔ نقیضین جو ہوتی ہیں، نہ ان دونوں کا اٹھنا صحیح ہوتا ہے، یعنی دونوں کا غلط ہونا یہ بھی نہیں ہو سکتا، اور دونوں صحیح ہو جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ دونوں غلط ہو سکتے ہیں اور نہ دونوں صحیح، ایک کو صحیح ماننا پڑے گا اور دوسرے کو غلط۔ اسی طرح مفرد کے اندر بھی ایک کو مانو گے، ایک ہے تو دوسرا نہیں ہوگا، دوسرا ہے تو پہلا نہیں ہوگا۔ تو نقیضین میں نہ دونوں کا ارتفاع ممکن ہوتا ہے، نہ دونوں کا اجتماع ممکن ہوتا ہے بھئی، نہ ارتفاع ممکن اور نہ... جبکہ ضدین جو ہیں، ان کا جمع ہونا تو ممکن نہیں ہوتا لیکن ارتفاع ممکن ہوتا ہے، ارتفاع ممکن ہوتا ہے۔
مثلاً دیکھیے، سفید کی ضد کیا ہے؟ سیاه۔ سفید اور کالا، یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، لیکن ایک دوسرے کی نقیض نہیں۔ سفید اور سیاہ جمع نہیں ہو سکتے، ایک چیز سفید ہے تو وہ سیاہ نہیں، جو سیاہ ہے وہ سفید نہیں۔ تو ان دونوں کا جمع ہونا درست... جمع نہیں ہو سکتے۔ ہاں، دونوں اٹھ سکتے ہیں، ایک چیز نہ سفید ہو اور نہ سیاہ ہو، نیلی ہو، پیلی ہو، سبز ہو، سرخ ہو، تو دونوں کا دیکھو جمع ہونا ممکن نہیں تھا لیکن دونوں کا ارتفاع ممکن ہے۔ تو سمجھ جائیں جہاں اس طرح ہو وہاں سمجھ جائیں یہ دونوں نقیضین نہیں ہیں بلکہ کیا ہیں؟ ضدین ہیں۔ جبکہ نقیضین میں دونوں کا اٹھنا ہی ممکن نہیں، جیسے جمع ہونا ممکن نہیں ہو سکتا اسی طرح اٹھنا بھی ممکن نہیں۔ جیسے قلم اور اس کی نقیض ہے لا قلم۔ ایک چیز یا تو قلم ہوگی یا لا قلم ہوگی، دونوں میں سے ایک ضرور اس پر صادق آئے گا۔ اگر قلم ہے تو لا قلم نہیں، اور اگر لا قلم ہے تو قلم نہیں۔ اور یہ دونوں تو معلوم ہوا جمع نہیں ہو سکتے، اور اٹھ بھی نہیں سکتے، ایک چیز نہ قلم ہو اور نہ لا قلم ہو، کیونکہ لا قلم میں دنیا بھر کی چیزیں آ گئیں قلم کے علاوہ: گاڑی، موٹر سائیکل، یہ کتاب، کاپی، یہ تپائی، سب کچھ کس میں آ گیا؟ لا قلم۔ تو ایک چیز کو یا تو قلم ماننا پڑے گا یا لا قلم، یہ نہیں ہو سکتا نہ قلم ہو اور نہ لا قلم۔ تو یہ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے، قلم اور ہو بھی ہو اور لا قلم ہو یہ بھی نہیں ہو سکتا، اور دونوں اٹھ بھی نہیں... جیسے انسان، لا انسان، یہ کیا ہے ایک دوسرے کی؟ نقیض۔ کتاب، لا کتاب، یہ دونوں آپس میں کیا ہیں ایک دوسرے کی؟ نقیض۔ تو نقیضین کا نہ جمع ہونا ممکن ہوتا ہے اور نہ اٹھنا ممکن ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو نقیضین۔
تو اسی طرح قضايا کے اندر بھی، دو قضیے جب ایک دوسرے کی نقیض ہیں تو نہ ان کا جمع ہونا ممکن اور نہ ان کا اٹھنا ممکن۔ زید قائم اور زید ليس بقائم، دونوں نہیں اٹھ سکتے بھئی، یا تو زید کھڑا ہوگا یا کھڑا نہیں ہوگا، کھڑا نہ ہونے کے اندر باقی ساری حالتیں آ گئیں بھئی، بیٹھا ہو، لیٹا ہو، تو وہ سب اس کے اندر آ گئیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فرق سمجھ میں آیا ضدین میں اور نقیضین میں؟
تو کہتے ہیں جیسے زید قائم اور زید ليس بقائم۔ وشرط لتحقق التناقض بين القضيتين المخصوصتين وحدات ثمانية، اور شرط لگائی گئی ہے تناقض کے پائے جانے کے لیے دو قضیہ مخصوصہ کے درمیان، کون سے دو قضیہ؟ مخصوصہ۔ قضیہ مخصوصہ کس کو کہتے تھے؟ جس کا موضوع شخص معین ہو، معین ذات ہو۔ تو دو مخصوص قضیوں کے درمیان تناقض کے پائے جانے کے لیے شرط لگائی گئی ہے وحدات ثمانية، کیا شرط ہے بھئی؟ وحدات ثمانية، آٹھ وحدتوں کا ہونا شرط ہے بھئی۔ آٹھ چیزوں میں اتحاد ضروری ہے تب دو قضیوں میں تناقض ہوگا بھئی، کتنی چیزوں میں اتحاد ہو؟ آٹھ چیزوں میں اتحاد، جن کو وحدات ثمانية کہتے ہیں بھئی۔ فلا يتحقق بدونها، پس تناقض نہیں پایا جائے گا بدونها ان آٹھ وحدتوں کے بغیر۔
اب کون کون سی ہیں وہ آٹھ وحدتیں؟ دیکھیے گنوا رہے ہیں: وحدت الموضوع، موضوع کی وحدت، یعنی دونوں قضیوں کا موضوع کیا ہونا چاہیے؟ ایک۔ وحدت المحمول، اور دوسرا کیا ہے؟ وحدت محمول، محمول دونوں کا ایک ہو۔ وحدت المكان، دونوں کا مکان ایک ہو۔ وحدت الزمان، دونوں کا زمانہ ایک ہو۔ وحدت القوة والفعل، قوت اور فعل میں بھی وحدت ہو بھئی۔ وحدت الشرط، شرط میں بھی وحدت ہو۔ وحدت الجزء والكل، جزو اور کل میں وحدت ہو۔ وحدت الإضافة، اضافت کی بھی وحدت ہو۔ وقد اجتمعت في هذين البيتين، اور تحقیق جمع ہیں وہ آٹھ وحدتیں ان دو شعروں میں:
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت جز و کل
قوت و فعل است در آخر زماں
در تناقض، تناقض میں، ہشت وحدت، ہشت وہی بھئی آٹھ ہے، اس کا معنی اوپر ثمانية جو آیا، ہشت وحدت آٹھ وحدتیں، شرط داں، داں کا مطلب جان لے۔ در تناقض ہشت وحدت شرط داں، تناقض میں آٹھ وحدتیں شرط جان لے: وحدت موضوع و محمول و مکاں، موضوع کی وحدت، محمول کی وحدت، اور مکان کی وحدت۔ وحدت شرط و اضافت جز و کل، شرط کی وحدت، اضافت کی وحدت، اور جزو اور کل کی وحدت۔ قوت و فعل است، اور قوت اور فعل ہے، در آخر زماں، اور آخر میں زمانہ۔ آخر میں زمانہ، یہ بموجب شعر کے طور پر در آخر لے آیا، یہ معنی نہیں زمانہ سب سے آخر میں دیکھنا ہے، بس یعنی ان میں سے آخری کیا ہے؟ زمانہ ہے، یعنی یہ آٹھ ہیں بھئی، سات گزر گئیں اور آخری یہ ہے۔
تو کہتے ہیں دیکھیے دوبارہ شعر بھئی: شعر کس طرح پڑھنا ہے، یہ بھی اسی طرح یاد بھی اسی طرح کرنا بھئی، تلفظ بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لیں بھئی:
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
وحدت موضوع و محمول و مکاں
یو نہیں پڑھنا وحدت موضوع و محمول، واؤ کو الگ نہیں پڑھتے بھئی، واؤ کو ساتھ ملا کر ہی پڑھتے ہیں۔
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت جز و کل
قوت و فعل است در آخر زماں
طریقہ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ واؤ اکثر طلباء غلطی کرتے ہیں، بالکل الگ پڑھتے ہیں: وحدت موضوع و محمول و مکان، نہیں بھئی، اسی کے ساتھ ملا کر پڑھا جاتا ہے۔
در تناقض ہشت وحدت شرط داں
وحدت موضوع و محمول و مکاں
وحدت شرط و اضافت جز و کل
قوت و فعل است در آخر زماں
فإذا اختلفتا فيها، جب دو قضیے مختلف ہو جائیں فيها ان وحدتوں میں، ان آٹھ وحدتوں میں، لم تتناقضا، تو پھر وہ ایک دوسرے کے ان میں تناقض نہیں ہوگا، وہ آپس میں ایک دوسرے کے نقیض نہیں ہوں گے بھئی۔
نحو: زید قائم وعمرو ليس بقائم، بھئی یہ دیکھیے موضوع بدل گیا، ایک کیا ہے قضیہ؟ زید قائم، دوسرا قضیہ کیا ہے؟ عمرو ليس بقائم۔ اب آپ سے کوئی کہے بھئی ان میں تناقض ہے؟ آپ فوراً کیا کہیں گے؟ نہیں، کیوں؟ کیونکہ موضوع بدل گیا۔ بھئی تناقض میں تو دونوں کا اٹھنا ممکن... دونوں کا نہ جمع ہونا ممکن ہوتا ہے اور نہ اٹھنا، اور زید کھڑا ہو اور عمر بیٹھا ہو، کھڑا نہ ہو، یہ جمع ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ ہو سکتے ہیں، معلوم ہوا ان میں تناقض نہیں، کیوں نہیں تناقض اب وجہ کیا ہے اس کی؟ موضوع الگ، ایک کا موضوع ہے زید تو دوسرے کا موضوع ہے عمر۔
آگے بھئی: وزید قاعد وزید ليس بقائم، زید قاعد، زید بیٹھا ہے، اور زید ليس بقائم، زید کھڑا نہیں ہے۔ بھئی زید بیٹھا ہے اور زید کھڑا نہیں ہے، دونوں جمع ہو سکتے ہیں یا نہیں؟ جی؟ ہو سکتے ہیں بھئی، جب بیٹھا ہے تو اسی حالت میں آپ کہہ سکتے ہیں زید قاعد اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں زید ليس بقائم۔ تو یہاں کیوں آیا بھئی تناقض کیوں نہیں ہے؟ محمول ایک نہیں، ایک کا محمول ہے قاعد اور دوسرے کا قائم۔
وزید موجود أي في الدار وزید ليس بموجود أي في السوق، بھئی دیکھیے: زید موجود، ایک قضیہ، زید ليس بموجود، یہ دوسرا قضیہ۔ اگر جگہ ایک ہے پھر تو ان میں تناقض ہے۔ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں زید موجود نہیں یعنی اس وقت ہمارے پاس، اور آپ کہتے ہیں زید... پہلا کیا کہا؟ زید موجود، آپ کہتے ہیں زید کہاں موجود ہے؟ ہمارے پاس، اور پھر کہتے ہیں زید ليس بموجود، زید ہمارے پاس موجود نہیں۔ اب دیکھو جگہ ایک ہے، اب تناقض ہے۔ لیکن اگر جگہ مختلف ہو، آپ کہتے ہیں زید موجود، زید موجود ہے، بھئی کہاں موجود ہے؟ کہاں پر؟ فی الدار، اپنے گھر میں۔ اور آپ کہتے ہیں زید ليس بموجود، زید موجود نہیں ہے، ای فی السوق یعنی بازار میں۔ تو دیکھو جگہ الگ الگ ہو گئیں۔ جب جگہ الگ ہو گئیں اب تناقض نہ رہا، اب دونوں سچے ہیں۔ آپ نے کیا کہا؟ زید کدھر موجود ہے؟ گھر میں، اور تو جب گھر میں ہے تو بازار میں ہے؟ نہیں ہے، تو زید گھر میں موجود ہے اور بازار میں موجود نہیں، تو معلوم ہوا ان میں بھی تناقض نہیں۔ تو یہاں کیوں نہیں ہے تناقض؟ مکان مختلف ہیں بھئی، مکان کیا ہیں؟ مختلف۔
2
تو یہ معنی، زید موجود ای فی الدار زید موجود ہے، یعنی کہ اس گھر میں، وزید لیس بموجود ای فی السوق اور زید موجود نہیں ہے، یعنی بازار میں، وزید نائم ای فی اللیل وزید لیس بنائم ای فی النهار، بھئی، آپ نے کہا زید نائم زید سویا ہوا ہے، اور پھر آپ کہتے ہیں، زید لیس بنائم، زید سویا ہوا نہیں ہے۔
اگر یہ زمانہ ایک ہو، تو ایک ہی زمانے میں زید سویا ہو، اور ایک اسی زمانے میں زید نہ سویا ہو، یہ نہیں ہو سکتا بھئی، ایک وقت میں ایک ہی ہو سکتا ہے۔ تو زمانہ الگ ہو، پھر دونوں سچے ہیں، آپ نے کہا زيد نائم، زید سویا ہوا ہے، بھئی کس وقت سویا ہے؟ آپ نے کہا رات کے وقت بھئی، اور پھر آپ فوراً ہی بولے، زيد ليس بنائم، زید سویا ہوا نہیں ہے، بھئی کس وقت نہیں سویا؟ بھئی دن میں نہیں سویا، تو اس، تو دیکھو زمانہ مختلف ہوا، تو بھی تناقض کیا ہوا؟ ختم، دونوں سچے ہو، دونوں سچے ہیں بھئی۔
زيد نائم ای فی اللیل، زید سویا ہے، یعنی رات سویا ہوا ہے رات میں، وزید لیس بنائم ای فی النهار، یہ دن، دن میں ہے، تو یہاں کیوں نہیں تناقض بھئی؟ کیونکہ زمانہ، زمانہ مختلف ہے، شاباش! وزید متحرک الاصابع، اور زید جو ہے، انگلیوں کو حرکت دینے والا ہے۔
یعنی زید کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں، ای بشرط کونہ کاتباً، یعنی اس کے کاتب ہونے کی شرط پر، وزید لیس بمتحرک الاصابع، اور زید کی انگلیاں حرکت نہیں کرتی ہیں، ای بشرط کونہ غیر کاتب، یعنی اس کے غیر کاتب ہونے کی شرط پر، تو دیکھو شرط بدل دی، ایک ہے زید متحرک الاصابع، دوسرا ہے زید لیس بمتحرک الاصابع، اگر شرط ایک ہو، پھر دونوں نہیں ہو سکتے، کاتب ہونے کی حالت میں زید متحرک الاصابع بھی ہو، اور متحرک الاصابع نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا، لیکن اگر شرط بدل دی، کہ متحرک الاصابع کس وقت ہے؟ جب کتابت کرتا ہے، اور متحرک، غیر متحرک الاصابع ہے، وہ کس وقت ہے؟ جب کتابت نہیں، تو دونوں میں شرط الگ الگ ہے، تو دونوں سچے ہو سکتے ہیں بھئی اس صورت میں بھئی، تو یہاں کیوں نہیں تناقض بھئی؟ کیونکہ شرط، شرط مختلف ہے، شاباش!
تو یہ معنی وزید متحرک الاصابع، زید جو ہے زید کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں، ای بشرط کونہ کاتباً، یعنی اس کے کاتب ہونے کی شرط پر، وزید لیس بمتحرک الاصابع، اور زید متحرک الاصابع نہیں ہے، ای بشرط کونہ غیر کاتب، یعنی اس کے کاتب نہ ہونے کی شرط پر۔
والخمر فی الدن مسکر، دن نون مشدد ہے بھئی، یہ مٹکے کو کہتے ہیں، دن، مسکر نشہ آور بھئی، والخمر فی الدن مسکر، مٹکے میں جو شراب ہے، وہ شراب جو مٹکے میں ہے مسکر، وہ نشہ آور ہے۔ دوسری طرف آپ کہتے ہیں والخمر فی الدن لیس بمشکر، وہ شراب جو مٹکے میں ہے، وہ نشہ آور نہیں ہے۔
اب یہاں دیکھیے، اب آپ سے کسی نے کیا کہا، بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ مٹکے میں ہو، وہ نشہ آور بھی ہو اور نشہ آور نہ بھی ہو؟ آپ کیا کہتے ہیں؟ بھئی، میرا مطلب یہ ہے کہ نشہ آور ہونے کا مطلب یہ ہے اس میں نشہ کی صلاحیت ہے، اس میں کس کی صلاحیت ہے؟ صلاحیت ہے، یعنی اگر اس کو کوئی پی لے گا، تو اس کو ضرور نشہ چڑھے گا۔
اچھا، بھئی آپ نے کہا کہ مٹکے میں وہ شراب جو مٹکے میں ہے، وہ نشہ آور نہیں ہے، وہ کس اعتبار سے؟ بھئی، جب تک مٹکے میں ہے، اس وقت تک نشہ آور نہیں، جب کوئی پیئے گا، تب نشہ آور ہوگی بھئی، تو دیکھو، یہاں پر بھی ایک فرق آیا، تناقض نہ رہا کس وجہ سے؟ کیونکہ قوت اور فعل میں آپ نے، ایک ہوتا ہے بالقوۃ چیز کا، کہ اس میں چیز، اس میں صلاحیت ہو، اور ایک کیا ہے؟ بالفعل ہو، کہ وہ کیا کرے؟ عمل میں ہو بھئی، یعنی صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
تو کہتے ہیں والخمر فی الدن مسکر، وہ شراب جو مٹکے میں ہے مسکر، وہ نشہ آور ہے، ای بالقوۃ، یعنی بالقوۃ وہ نشہ آور ہے، یعنی اس میں صلاحیت ہے نشہ کی، والخمر لیس بمسکر فی الدن، اور وہ شراب، اور شراب نشہ آور نہیں ہے فی الدن، کس میں؟ مٹکے میں، ای بالفعل، یعنی بالفعل اس وقت وہ نشہ آور نہیں ہے بھئی، اس وقت اس کی وجہ سے کسی کو نشہ نہیں، کیونکہ وہ کہاں موجود ہے ابھی؟ مٹکے میں ہے۔
آگے دیکھیے بھئی، والزنجی اسود، ای کلہ، یعنی کہ سارا کا سارا، زنجی حبشی بھئی، حبشی کالا ہے، ای کلہ، یعنی کہ وہ سارا، والزنجی لیس باسود، اور حبشی کالا نہیں ہے، ای جزؤہ، یعنی اس کا جز، أعنی اسنانہ، یعنی اس کے دانت۔
آپ کہتے ہیں بھئی، الزنجی اسود، اور ساتھ ہی کہتے ہیں الزنجی لیس باسود، اور کہتے ہیں بھئی دونوں باتیں درست ہیں، کس اعتبار سے درست ہیں؟ آپ نے جب کہا الزنجی اسود، تو مراد کیا ہے اس کا سارا بدن، اور جب آپ نے کہا الزنجی لیس باسود، زنجی حبشی کالا نہیں ہے، آپ نے کیا مراد دیا؟ جز، یعنی اس کے دانت کالے نہیں ہیں، تو دیکھو یہ تو تناقض اس لیے نہ رہا کہ جز اور کل میں دونوں میں اختلاف آیا، اگر دونوں جز میں ہوتے یا دونوں کل میں، تو پھر اس صورت میں تناقض ہوتا بھئی، تو اسنان دانتوں کو کہتے ہیں۔
وزید ابو، زید باپ ہے، ای لبکر، یعنی بکر کا، وزید لیس بابی، اور زید باپ نہیں ہے، ای لخالد، یعنی خالد کا، اب آپ کہتے ہیں بھئی وزید ابو، اور ساتھ ہی کہتے ہیں وزید لیس بابی، کہنے والا کہتا ہے بھئی، یہ کیسے ہو سکتا ہے باپ ہو بھی اور باپ نہ بھی ہو؟ آپ کہتے ہیں بھئی، باپ میں نے کہا ہے کس اعتبار سے؟ بکر کا، یہ وہ باپ ہے کس کا؟ بکر کا، اور جو میں نے کہا کہ وہ باپ نہیں ہے، کس کا؟ خالد کا کہا تھا، تو دیکھو یہاں پر کس میں اختلاف آیا؟ اضافت میں اختلاف آیا، اس سے تناقض نہ رہا، اس میں اضافت میں اختلاف نہ ہوتا، صرف بکر کے اعتبار سے کہتے، پھر دونوں درست نہیں ہو سکتے تھے بھئی۔
وبعضہم اکتفوا بوحدتین، اور بعض منطقیوں نے اکتفاء کیا دو وحدتوں پر، بھئی، صاحبِ کتاب نے تو بتایا، بتایا کہ آٹھ وحدتیں ہوں گی تو پھر تناقض پایا جائے گا، بعض نے کہا بھئی، صرف وحدتِ موضوع و محمول ہو، بس، تو تناقض ہوگا، وحدتِ موضوع و محمول نہیں، تو تناقض بھی نہیں، بھئی یہ باقی کی چیزیں، انہوں نے کیوں نہیں شمار کیں؟ کہتے ہیں بھئی، وہ سب انہی میں آ جاتی ہیں، باقی سب انہی میں داخل ہیں۔
اگر آپ کہتے ہیں بھئی، زید ابو، زید باپ ہے، وزید لیس بابی، اور زید باپ نہیں، تو ٹھیک ہے، موضوع تو دونوں کا ہے زید، لیکن ایک کا موضوع کیا؟ محمول، اب، دوسرے کا محمول بھی اب، لیکن ایک میں اب کس اعتبار سے مراد ہے؟ بکر کے اعتبار سے، بکر کا باپ ہے، اور کس کا باپ نہیں ہے؟ خالد کا، تو جب اضافت معتبر ہے اس کے اندر، تو محمول تو ایک نہ رہا، چاہے ذکر آپ نہ کریں، لیکن مراد تو ہے آپ کی، جب آپ کی مراد ہے، تو محمول ایک رہا؟
آپ نے کہا باپ نہیں، یہ کس کے اعتبار سے کہا؟ خالد کے، اور آپ نے کہا باپ ہے، یہ کس اعتبار سے کہا؟ بکر کے اعتبار سے کہا، تو موضوع تو بدل گیا، محمول تو بدل گیا بھئی، بے شک آپ لفظوں میں آپ نے ذکر نہیں کیا، تو چنانچہ وہ کہتے ہیں، یہ ساری چیزیں سمٹ کر انہی کے اندر آ جاتی ہیں، تو لہذا صرف دو چیزوں میں وحدت ضروری ہے، کن دو چیزوں میں؟ موضوع اور محمول، ان میں اتحاد ہے، تو تناقض ہے، اگر یہ زمانے، مکان وغیرہ کسی چیز میں فرق آگیا، تو ہم یوں سمجھیں گے موضوع اور محمول میں اختلاف آگیا، صورت سمجھ میں آگئی؟
تو کہتے ہیں وبعضہم اکتفوا بوحدتین، انہوں نے اکتفاء کیا دو وحدتوں پر ہی، ای وحدۃ الموضوع والمحمول، یعنی موضوع اور محمول کی وحدت پر، لاندراج البواقی فیہما، بوجہ داخل ہونے باقیوں کے انہی کے اندر، اس وجہ سے کہ باقی انہی کے اندر درج ہیں، انہی میں داخل ہیں بھئی۔
وبعضہم قنعوا بوحدۃ النسبۃ فقط، اور بعضوں نے اکتفاء کیا، قناعت کی، وہی اکتفاء والا معنی، اور بعضوں نے اکتفاء کیا بوحدۃ النسبۃ فقط، صرف وحدتِ نسبت پر، بعضوں نے کہا بھئی موضوع و محمول کی وحدت کو بھی چھوڑو، بس ایک چیز میں وحدت ہونی چاہیے نسبت میں، جو محمول کی نسبت کی جا رہی ہے موضوع کی طرف، اس نسبت میں کیا ہونا چاہیے؟ یہ نسبت اس میں اتحاد ہونا چاہیے، جو ایک، جس نسبت کو ثابت کیا جا رہا ہے ایک قضیے میں، بعینہٖ اسی نسبت کی دوسرے میں نفی ہونی چاہیے، تو تناقض پایا جائے گا۔
بعینہٖ وہی نسبت، جس نسبت کو ایک کے اندر ثبوتی ہے، وہ بعینہٖ وہی نسبت دوسرے میں سلبی ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ تناقض پایا جائے گا، بھئی باقی چیزیں؟ کہتے ہیں وہ سب اسی میں آ گئیں، ایک میں بھی کہیں فرق آئے گا، تو ہم کہیں گے نسبت یہ وہ والی ہے ہی نہیں، یہ دوسری نسبت ہے بھئی، صورت سمجھ میں آرہی ہے؟
تو کہتے ہیں وبعضہم قنعوا بوحدۃ النسبۃ فقط، اور بعضوں نے اکتفاء کیا، قناعت کی بوحدۃ النسبۃ فقط، صرف نسبت کی وحدت پر، لان وحدتہا مستلزمۃ، لجميع الوحدات، اسی لیے کیونکہ نسبت کی جو وحدت ہے، یہ مستلزم ہے تمام وحدتوں کو، یعنی تمام وحدتیں اس کے ساتھ لازم ہیں بھئی۔
تمام نسبتیں اس کے، تمام وحدتیں ہوں گی اس نسبت میں، تو ہم کہیں گے نسبت ایک ہے، اگر تمام نہیں، تو ہم کیا کہیں گے؟ نسبت ایک ہی نہیں، بس، تو بس مختصر لفظوں میں کہتے ہیں، یوں کہو بس نسبت میں اتحاد ہونا چاہیے بھئی، یہ بعض مناطقہ کہتے ہیں بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی خوب اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔