LESSONS NO. 3
آگے لکھیے بھئی، علم منطق اگرچہ یونانی فلسفیوں کا وضع کیا ہوا علم ہے، لیکن علمائے اسلام نے اس فن کی تہذیب کی۔ تہذیب ”ذ“ کے ساتھ ہے تہذیب کی، اور اس سے تمام خلاف شرع چیزوں کو نکال دیا۔
چنانچہ اس وقت منطق کی جتنی کتابیں پڑھی پڑھائی جاتی ہیں، وہ سب علمائے اسلام کی لکھی ہوئی ہیں۔
آسان لفظوں میں یوں سمجھیے کہ اب والی منطق خالص اسلامی منطق ہے جس کا مقصد طلباء میں ذہانت (آگے کاما لگائیں، الٹا نشان بھئی، جس کا مقصد طلباء میں ذہانت)، بات کرنے اور سمجھنے کی قوت (پھر کاما لگائیں بھئی)، افہام و تفہیم کا ملکہ اور علوم میں گہرائی پیدا کرنا ہے۔
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”من لم یعرف المنطق فلا ثقة له فی العلوم“ (ذرا اس کو اس طرح پڑھنا ہے، اعراب لگا لیں بھئی: ”من لم یعرف المنطق فلا ثقة له فی العلوم“۔ یہ نون جو ہے یہ بھی لام ہو جائے گا بھئی: ”من لم یعرف المنطق فلا ثقة له فی العلوم“)؛ یعنی جو منطق نہیں جانتا، اس کے علوم میں پختگی نہیں۔
نیز جس طرح علم صرف (صاد سے)، علم نحو، علم بلاغت وغیرہ کا مقصد قرآن و حدیث کو اچھی طرح سمجھنا ہے، اسی طرح علم منطق کا مقصد بھی قرآن و حدیث کے علم میں گہرائی پیدا کرنا (الٹا نشان لگائیں)، دشمنانِ اسلام کا مقابلہ کرنا اور انہیں عقلی دلائل کے ذریعہ جوابات دینا اور اسلام کا دفاع کرنا ہے۔
چنانچہ منطق کے پڑھنے اور پڑھانے کا وہی اجر و ثواب ہے جو علوم شرعیہ کے پڑھنے پڑھانے کا ہے۔
چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ، رسالہ ”النور“ (الف لام اور نور آگے اوپر) ”النور“، ماہ ربیع الاول 1361 ہجری (سن 1361 ہجری، 1361، 1 3 6 1 بھئی، 1361 ہجری) میں فرماتے ہیں کہ ”ہم تو صحیح بخاری کے مطالعہ میں جیسے اجر سمجھتے ہیں، میر زاہد (میر، میم یا را اور آگے زاہد، زا کے ساتھ، میر زاہد) اور امور عامہ (امور اور عامہ، عین الف میم ہ، امور عامہ) کے مطالعہ میں بھی ویسا ہی اجر و ثواب سمجھتے ہیں۔“ (اچھا یہ جو بات شروع ہوئی ”ہم تو“، یہ ”ہم“ سے پہلے دو الٹے نشان لگائیں بھئی، دو الٹے کامے لگائیں، یہاں سے مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی بات شروع ہوئی ہے تو دو الٹے نشان لگائیں بھئی اور آخر میں پھر دو الٹے نشان تاکہ واضح ہو جائے کہ یہ ان کا جملہ ہے بھئی۔ ”ہم تو صحیح بخاری“ سے پہلے بھئی، ”ہم“ جو آیا تھا وہاں دو نشان، دو کامے لگائیں اور آخر میں ”سمجھتے ہیں“ اس کے بعد بھی دو کامے لگائیں۔)
میر زاہد اور امور عامہ، یہ منطق کی کتابیں ہیں۔
بس بھئی! تو دیکھو، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کا قول بھی آپ نے پڑھ لیا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ان کے مطالعہ میں بھی ہم ویسا ہی اجر و ثواب سمجھتے ہیں منطق کی کتابوں کے مطالعہ میں، جیسا کہ صحیح بخاری کے مطالعہ میں سمجھتے ہیں۔
اور وجہ وہی میں نے پیچھے تفصیل سے ذکر کر دی، کیونکہ یہ علوم ان کا مقصد یہ منطق کے سمجھنے کا مقصد، پڑھنے کا مقصد کیا ہے؟ یہی قرآن و حدیث کے علوم میں گہرائی پیدا کرنا ہے بھئی، انہی کو اچھی طرح سمجھنا ہے اور اسلام کا دفاع کرنا ہے۔
تو منطق نہایت ضروری علم ہے اور افسوس کی بات ہے کہ آج کل بہت سے علماء اس کے مخالف ہو چکے ہیں بھئی۔
لیکن ایک بات، جو استاد منطق کا ماہر ہو گا، منطق خوب اچھی طرح جاننے والا ہو گا، اس کے سبق کا انداز ہی اور ہوتا ہے، بڑا ہی مرتب سبق ہوتا ہے، بہترین انداز سے سبق سمجھانے والا، پڑھانے والا، اس کی باتوں میں ربط ہوتا ہے دلائل وغیرہ، اور کتابوں کے اندر اس کی بے انتہا مہارت ہوتی ہے بھئی۔
سمجھ میں آیا بھئی؟ تو منطق انسان سیکھتا ہے، مہارت ہوتی ہے منطق میں، تو پھر بھی وہ کتابوں میں غور و فکر کر کے اپنی طرف سے نئے نئے نکات بیان کرتا ہے۔
اور جو منطق نہیں جانتا، عموماً وہ صرف باقی کتابوں سے مطالعہ تو کر لے گا، سبق تو اچھی طرح پڑھا لے گا، لیکن اپنی طرف سے کوئی نقطہ بیان کرنا یہ صرف جو علم منطق کا ماہر ہو عموماً انہی میں اس طرح کی بہترین خوبیاں دکھائی دیتی ہیں بھئی۔