LESSONS NO. 4
جی علم منطق کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت لکھ لیجیے بھئی۔
علم منطق کی تعریف: علم منطق کی تعریف: هُوَ عِلْمٌ بِقَوَانِيْنَ (قوانین دو نقطوں والا قاف، قاف کے ساتھ ملا کر با لکھنا ہے) هُوَ عِلْمٌ بِقَوَانِيْنَ تَعْصِمُ (تا دو نقطوں والی، عین، ص، م) تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذِّهْنَ (ذال سے) عَنِ الْخَطَإِ (خ، ط، الف اور الف کے اوپر ہمزہ لکھنا ہے، الف کے بعد نہیں بھئی، یہ الف فی الدرصل ہمزہ ہے) عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
لکھ لیا بھئی؟ دوبارہ سن لیں ایک دفعہ: هُوَ عِلْمٌ بِقَوَانِيْنَ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذِّهْنَ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
اعراب بھی غور سے لگا لیں، اس کو اسی طرح آپ نے یاد کرنا ہے۔ هُوَ عِلْمٌ، یہ عِلمٌ تھا، یہ نون کو میم سے بدل کر تو عِلْمٌ پڑھیں گے کیونکہ با سے قبل نونِ ساکنہ ہے تو اس کو کس سے بدلتے ہیں؟ میم سے، قرآن میں بھی آپ دیکھتے ہیں جگہ جگہ بھئی۔ هُوَ عِلْمٌ بِقَوَانِيْنَ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذِّهْنَ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
جی، معنی بھی اس کا لکھ لیجیے: علم منطق ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جن کی رعایت رکھنا فکر و نظر میں ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے۔
معنی لکھ لیا؟ تو دوبارہ سن لیں: علم منطق ان قوانین کے جاننے کا نام ہے جن کی رعایت رکھنا فکر و نظر میں ذہن کو غلطی سے بچاتا ہے۔
علم منطق چند قوانین کا نام ہے بھئی، جسے آپ یاد کر لیں اور پھر ان کی رعایت رکھیں، ان قوانین کو پیش نظر رکھیں، ان کے مطابق چلیں تو یہ کیا کرے گا؟ آپ کے ذہن کو غلطی سے بچائے گا فکر و نظر میں بھئی۔
آگے موضوع لکھ دیجیے بھئی، علم منطق کا موضوع: مَوْضُوْعُ الْمَنْطِقِ الْمَعْلُوْمَاتُ التَّصَوُّرِيَّةُ (ص کے ساتھ) وَالتَّصْدِيْقِيَّةُ مِنْ حَيْثُ (حیث میں ثا ہے آخر میں) مِنْ حَيْثُ أَنَّهَا مُوْصِلَةٌ (موصلۃ ص ہے درمیان میں) مُوْصِلَةٌ إِلَى الْمَجْهُوْلِ التَّصَوُّرِيِّ (یا مشدد ہے بھئی) إِلَى الْمَجْهُوْلِ التَّصَوُّرِيِّ وَالتَّصْدِيْقِيِّ۔
لکھ لیا بھئی؟ جی، یہ موضوع مکمل ہوا۔ دوبارہ اس کو سن لیجیے اور اعراب وغیرہ بھی لگا لیجیے: مَوْضُوْعُ الْمَنْطِقِ الْمَعْلُوْمَاتُ التَّصَوُّرِيَّةُ وَالتَّصْدِيْقِيَّةُ مِنْ حَيْثُ أَنَّهَا مُوْصِلَةٌ إِلَى الْمَجْهُوْلِ التَّصَوُّرِيِّ وَالتَّصْدِيْقِيِّ۔
لکھ لیا بھئی؟ جی، اس کا معنی بھی لکھ لیجیے: علم منطق کا موضوع معلوم تصورات اور تصدیقات ہیں اس حیثیت سے کہ وہ مجهول تصور اور مجهول تصدیق تک پہنچا دیں۔
لکھ لیا بھئی؟ دوبارہ سن لیں: علم منطق کا موضوع معلوم تصورات اور تصدیقات ہیں اس حیثیت سے کہ یہ مجهول تصور اور مجهول تصدیق تک پہنچا دیں۔
جی، علم منطق کی غرض اور مقصد: علم منطق کی غرض (غرض ضاد آئے گا آخر میں) علم منطق کی غرض اور مقصد صِيَانَةُ الذِّهْنِ (صیانت ص سے ہے) صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ، یعنی فکر و نظر میں ذہن کو غلطی سے بچانا۔
لکھ لیا بھئی؟ بس بھئی، علم منطق کی تعریف بھی آ گئی، موضوع بھی اور غرض بھی۔ یہ اگرچہ کتاب میں بھی آ جائے گا کافی کئی صفحات کے بعد، لیکن میں نے سوچا یہی آپ یاد کر لیں خوب اچھی طرح اور مزید تفصیل اس کی اور وضاحت ان کی آگے آ جائے گی، لیکن تعریف کم از کم آپ کو یاد ہونی چاہیے بھئی۔
اور جس طرح میں نے آپ کے سامنے پڑھا اعراب وغیرہ کے ساتھ، اسی طرح آپ نے یاد کرنا ہے بھئی۔ ایک مرتبہ پھر جلدی جلدی سارے سن لیں:
تعریف بھئی: المنطق جو ہے هُوَ عِلْمٌ بِقَوَانِيْنَ تَعْصِمُ مُرَاعَاتُهَا الذِّهْنَ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
موضوع المنطق: مَوْضُوْعُ الْمَنْطِقِ الْمَعْلُوْمَاتُ التَّصَوُّرِيَّةُ وَالتَّصْدِيْقِيَّةُ مِنْ حَيْثُ أَنَّهَا مُوْصِلَةٌ إِلَى الْمَجْهُوْلِ التَّصَوُّرِيِّ وَالتَّصْدِيْقِيِّ۔
غرض اور مقصد: صِيَانَةُ الذِّهْنِ عَنِ الْخَطَإِ فِي الْفِكْرِ۔
چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔