Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-078

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 52
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 78 1 فصلٌ. ویشترط فی إنتاج الشکل الثانی بحسب الکیف، أي الإیجاب والسلب، اختلاف المقدمتین. فإن کانت الصغرى موجبةً کانت الکبرى سالبةً، وبالعکس. وبحسب الكم، أي الکلیة والجزئیة، کلیة الکبرى. وإلا یلزم الاختلاف الموجب لعدم الإنتاج، أي صدق القیاس مع إیجاب النتیجة تارةً ومع سلبها أخرى. بھئی ہم قیاس کی بحث پڑھ رہے تھے۔ قیاس آپ نے پڑھا کہ وہ ملانا ہے دو قضیوں کو اس طریقے پر کہ ان کے ساتھ ملانے سے لازم آتا ہو ایک تیسرا قضیہ بھئی، ایک تیسرا قضیہ جب ان دو قضیوں کو تسلیم کر لیا جائے۔ اور پھر یہ قیاس جو ہے دو قسم پر ہے، یا قیاس استثنائی ہوگا یا قیاس اقترانی۔ قیاس استثنائی وہ جس کے اندر نتیجہ یا نقیض نتیجہ قیاس کے اندر مذکور ہو۔ اور اس میں "لکن" کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ کر دیا جاتا ہے۔ جبکہ قیاس اقترانی جس میں حرف استثنا نہیں ہوگا بھئی۔ اور قیاس اقترانی کہ جو دو مقدمات ہیں ان میں سے آپ نے پڑھا اول کو صغریٰ کہتے ہیں اور ثانی کو کبریٰ کہتے ہیں۔ اور صغریٰ کو صغریٰ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں اصغر ہے یعنی نتیجے کا موضوع، اور کبریٰ کو کبریٰ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس میں اکبر ہے یعنی نتیجے کا محمول۔ اس سے یہ باتیں معلوم ہو گئیں کہ نتیجے کا موضوع ہمیشہ صغریٰ میں ہوگا، اور نتیجے کا محمول ہمیشہ کبریٰ کے اندر ہوگا بھئی کیونکہ ان کو صغریٰ اور کبریٰ کہتے ہی اسی وجہ سے ہیں۔ تو نتیجے کا موضوع ہمیشہ کہاں سے لیں گے؟ صغریٰ سے، اور محمول ہمیشہ کہاں سے لیں گے؟ کبریٰ سے۔ اور وہ جزء جو دونوں کے اندر مکرر ہو اس کو حد اوسط کہا جاتا ہے، حد اوسط۔ اور یہ حد اوسط آپ نے پڑھا کہ یہ دونوں میں موضوع کی جگہ بھی آ سکتا ہے دونوں مقدموں میں، دونوں مقدموں میں یہ محمول کی جگہ بھی آ سکتا ہے، پہلے میں موضوع کی جگہ ہو ثانی میں محمول کی جگہ، یا پہلے میں محمول کی جگہ اور ثانی میں موضوع کی جگہ ہو، تو یہ جو حد اوسط کے اعتبار سے یہ جو صورتیں بنیں ان کو شکل کہا جاتا ہے، کیا کہا جاتا ہے؟ شکل۔ اور آپ نے پڑھا شکلیں کل چار ہیں بھئی، شکلیں چار ہیں۔ شکل اول جس میں، جس میں جو حد اوسط ہے صغریٰ کے اندر، صغریٰ کے اندر حد اوسط بھئی، کہاں آئے گا؟ شکل اول میں محمول کی جگہ صغریٰ میں، اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، یہ ہے شکل اول۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ شکل اول جو ہے یہ سب سے افضل شکل ہے کیونکہ اس میں نتیجہ بدیہی ہوتا ہے، ذہن فوراً نتیجے کی طرف منتقل ہوتا ہے، اس میں غور و فکر کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، جبکہ باقی شکلوں کے اندر غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا یہ پہلی شکل بن گئی جس کے اندر حد اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ۔ اور شکل ثانی، کو ثانی اس لیے کہتے تھے کیونکہ اس کو دوسرا درجہ اس لیے دیا تھا کیونکہ وہ صغریٰ میں شکل اول کے مطابق تھی۔ صغریٰ اور کبریٰ میں سے اعلیٰ کون ہے؟ صغریٰ ہے۔ تو اعلیٰ کے ساتھ اس کی مشابہت تھی لہٰذا اس کو دوسرا درجہ دیا، اور شکل، یہ شکل ثانی۔ تو شکل ثانی میں حد اوسط دونوں میں محمول کی جگہ ہوگا۔ دونوں میں؟ تو صغریٰ میں بھی حد اوسط محمول کی جگہ آیا، تو یہ اس شکل اول کے صغریٰ کی طرح ہوا، اس میں بھی حد اوسط کہاں آتا تھا؟ محمول کی جگہ۔ اور تیسری شکل جو ہے اس کی کبریٰ کے ساتھ مشابہت ہوگی کہ یہاں پر حد اوسط دونوں میں کہاں آ رہا ہے؟ موضوع کی جگہ۔ جب دونوں میں موضوع کی جگہ ہے حد اوسط، تو کبریٰ میں بھی موضوع کی جگہ، تو اس کے کبریٰ کی مشابہت ہو گئی کس کے ساتھ؟ شکل اول کے کبریٰ کے ساتھ، کیونکہ اس میں بھی حد اوسط کبریٰ میں موضوع کی جگہ آتا تھا بھئی۔ جبکہ شکل رابع کا درجہ سب سے آخری ہے، جس میں حد اوسط صغریٰ میں موضوع کی جگہ اور کبریٰ میں محمول کی جگہ، تو اس کے صغریٰ اور کبریٰ میں سے کسی کی بھی مشابہت شکل اول کے صغریٰ اور کبریٰ کے ساتھ نہیں ہے اس لیے اس کو آخری درجہ دیا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ شکل اول کے نتیجہ دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ صغریٰ موجبه ہونا چاہیے اور کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں اور پھر بتلایا تھا یہاں کل 16 شکلوں، 16 ضربوں کا احتمال ہے۔ کتنی انواع کا؟ 16۔ 16 ضربوں کا انواع کا احتمال ہے، لیکن اس میں سے صرف چار نتیجہ دیں گی کیونکہ چار کے اندر یہ دونوں شرطیں پوری ہیں یعنی ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ، یہ صرف چار ضربوں کے اندر یہ دونوں شرطیں پوری ہیں، وہ نتیجہ دیں گی جبکہ باقیوں میں یہ شرطیں ہی پوری نہیں اس لیے وہ نتیجہ بھی نہیں دیں گی بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخص کے تابع ہوتا ہے۔ ارذل کا کیا معنیٰ؟ ادنیٰ، کم درجے والا۔ اخص، اخص ثن س مشدد ہے، یہ آخر میں س ہے ص نہیں ہے بھئی، اخص۔ یہ خسیس سے ہے، خسیس۔ خسیس بھی کس کو کہتے ہیں؟ ادنیٰ اور گھٹیا کو۔ تو نتیجہ ہمیشہ اخص و ارذل کے تابع ہوتا ہے، تو ایجاب اور سلب میں سے اخص کون ہے؟ سلب ہے۔ لہٰذا ایک مقدمہ موجبہ ہو، دوسرا مقدمہ سالبہ ہو، نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ آئے گا۔ اور کلیت و جزئیت میں سے اخص کیا ہے؟ جزئیت اخص ہے، کم درجے کی ہے، تو اگر ایک مقدمہ کلیہ ہو، ایک جزئیہ ہو، تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا۔ اور اگر دونوں مقدمے جزئیہ ہوں، تو پھر تو ظاہر سی بات ہے نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ۔ لیکن اگر دونوں مقدمے کلیہ ہوں بھئی، دونوں مقدمے کیا ہوں؟ کلیہ ہوں، تو پھر یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھنا کہ پھر ضروری نہیں کہ نتیجہ بھی کلیہ ہی آئے، نتیجہ پھر کلیہ بھی آ سکتا ہے اور جزئیہ بھی آ سکتا ہے۔ اگر دونوں مقدمے کیا ہوں؟ کلیہ ہوں، تو نتیجہ کلیہ بھی آ سکتا ہے اور جزئیہ بھی آ سکتا ہے بھئی، جزئیہ بھی آ سکتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تو بنیادی باتیں تھیں بھئی۔ اب شکل ثانی کی بحث کرنے لگے ہیں کہ اس کی کیا شرائط ہیں۔ دیکھیے بھئی کتاب پر، فصلٌ اي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ ویشترط فی إنتاج الشکل الثانی، اور شرط لگائی گئی ہے شکل ثانی کے نتیجہ دینے میں، انتج ينتج إنتاج کا کیا معنیٰ؟ نتیجہ دینا۔ شکل ثانی کے نتیجہ دینے میں شرط لگائی گئی ہے بحسب الکیف، کیف کے اعتبار سے۔ بھئی دو چیزیں تھیں نا، کیف کس کو کہتے تھے؟ ایجاب اور سلب کو، ایجاب اور سلب کو مناطقہ کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ کیف سے۔ اور کلیت اور جزئیت کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ کم کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں، شاباش بھئی۔ تو کہتے ہیں شرط لگائی گئی ہے شکل ثانی کے نتیجہ دینے میں بحسب الکیف، کیف کے اعتبار سے۔ خود معنیٰ کر رہے ہیں بھئی کیف کے اعتبار سے کیا معنیٰ؟ اي الإیجاب والسلب، یعنی ایجاب اور سلب کے اعتبار سے شرط لگائی گئی ہے شکل ثانی کے نتیجہ دینے کے لیے اختلاف المقدمتین، دونوں مقدموں کا مختلف ہونا۔ یعنی ایک اگر صغریٰ ہے، ایک اگر موجبہ ہے تو دوسرے کو سالبہ ہونا چاہیے، اور اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرے کو موجبہ ہونا چاہیے، یہ پہلی شرط ہے۔ فإن کانت الصغرى موجبةً کانت الکبرى سالبةً، پس اگر صغریٰ جو ہے وہ موجبہ ہوا تو کبریٰ سالبہ ہوگا، وبالعکس اور اس کا عکس ہوگا، یعنی اگر صغریٰ سالبہ ہو تو کبریٰ کیا ہوگا؟ موجبہ ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ صغریٰ اگر موجبہ ہو تو کبریٰ سالبہ، اور اگر صغریٰ سالبہ ہو تو کبریٰ موجبہ ہونا چاہیے۔ وبحسب الكم، اور کم کے اعتبار سے، کس کے اعتبار سے؟ پہلی شرط تو تھی کیف کے اعتبار سے، دوسری شرط بحسب الكم، کم کے اعتبار سے، اي الکلیة والجزئیة، یعنی کم کا کیا معنیٰ؟ کلیت اور تو کلیت اور جزئیت کے اعتبار سے دوسری شرط کلیة الکبرى، وہ کیا ہے؟ کبریٰ کا کلیہ ہونا، کبریٰ کو کلیہ ہونا چاہیے، جزئیہ نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ وإلا، وإلا اي وإن لم يكن كذلك، یاد رکھیے إلا سے پہلے واؤ آ جائے، إلا سے پہلے واؤ آ جائے، تو یہ وہ إلا حرف استثنا نہیں ہوتا، یہ ہمیشہ یاد رکھنا کام آئے گا جگہ جگہ آپ کے بھئی۔ إلا سے پہلے اگر واؤ آ جائے تو یہ وہ إلا استثنا والا نہیں ہے، یہ دراصل ان اور لا سے مرکب ہے، کس سے مرکب ہے؟ ان اور لا۔ ان وہ حرف شرط بھئی ان، اور لا نفی کے لیے، اور باقی عبارت محذوف ہوتی ہے، ان لا، عبارت محذوف ہے، اي إن لم يكن كذلك، إن لم يكن كذلك۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کہ ہم نے دو شرطیں ذکر کر دیں۔ شکل ثانی کے نتیجہ دینے کے لیے، کون سی دو شرطیں؟ کیف کے اعتبار سے صغریٰ اور کبریٰ کو مختلف ہونا چاہیے، پہلی شرط۔ اور کم کے اعتبار سے کبریٰ کو کلیہ ہونا چاہیے، وإلا اي وإن لم يكن كذلك، اگر ایسا نہ ہو، وإن لم يكن كذلك اگر ایسا نہ ہو، یعنی یہ دونوں شرطیں پوری نہ ہوں، چاہے ان میں سے ایک پوری نہ ہو، چاہے دونوں ہی پوری نہ ہوں، تو پھر؟ تو کہتے ہیں يلزم الاختلاف، تو لازم آئے گا اختلاف بھئی، کیا لازم آئے گا؟ اختلاف۔ الموجب، الموجب اي المثبت، موجب کس معنیٰ میں ہے؟ مثبت۔ یاد رکھیے یہ بات بھی یاد رکھنا، کتابوں میں عام استعمال ہوتا ہے، وجب بمعنیٰ ثبت کے، اوجب بمعنیٰ اثبت کے، موجب بمعنیٰ مثبت کے، وجب اور اوجب ثبت اور اثبت کے معنیٰ میں، اور موجب بمعنیٰ مثبت کے، اسی اثبت سے اسم فاعل آ گیا۔ تو موقع محل کے مطابق آپ دیکھ لیا کیجیے، ہمیشہ موجب کا معنیٰ واجب کرنے والا نہیں بلکہ ثابت کرنے والا۔ تو وإلا اور اگر ایسا نہ ہو، سمجھ میں آیا؟ تو یہ إلا کس سے مرکب ہے؟ ان اور لا۔ تو وہ نون کو بھی لام کر کے لام میں اس کا ادغام کر دیا گیا، يرملون والے قانون سے، کیونکہ آپ نے پڑھا يرملون یعنی یا، را، میم، لام، واؤ، نون، ان سے پہلے اگر نون ساکن آ جائے، تو اس نون کو بھی اسی حرف کی جنس سے بدل کر اس میں ادغام کرتے ہیں۔ ان لا، نون ساکن کے بعد کیا آیا؟ لام، اور لام کس میں سے ہے؟ حروف يرملون میں لام ہے یا نہیں؟ لام، تو اس نون کو بھی لام کر کے کیا کیا؟ لام نے ادغام کر دیا، تو إلا ہوا بھئی، إلا ہوا۔ تو کہتے ہیں وإلا اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی دونوں شرطوں میں سے کوئی ایک پوری نہ ہو یا دونوں ہی پوری نہ ہوں، تو پھر يلزم الاختلاف الموجب، تو لازم آئے گا وہ اختلاف الموجب اي المثبت جو ثابت کرنے والا ہے، کس چیز کو ثابت کرنے والا ہے؟ لعدم الإنتاج، عدمِ إنتاج کو، نتیجہ نہ دینے کو۔ اگر ان دونوں میں سے کوئی شرط بھی نہ پائی گئی یا دونوں ہی نہ پائی گئیں تو اس صورت میں ایسا اختلاف لازم آئے گا، کیا لازم آئے گا؟ نتیجے میں اختلاف آئے گا، کبھی نتیجہ کچھ ہوگا اور کبھی کچھ، نتیجے میں اختلاف آئے گا۔ ایسا اختلاف الموجب لعدم الإنتاج، جو ثابت کرنے والا ہے کس چیز کو؟ عدمِ إنتاج کو، عدم کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ نہ ہونا، عدمِ إنتاج یعنی نتیجہ نہ دینا، نتیجہ نہ یعنی اگر یہ دو شرطیں یا ان میں سے کوئی ایک نہ پائی گئی تو نتیجے میں ایسا اختلاف آئے گا جو نتیجہ نہ دینے کو ثابت کر دے گا، یعنی اس چیز وہ اختلاف بتلا دے گا کہ نتیجہ نہیں آتا، وہ اختلاف کیا بتلا دے گا؟ بھئی دیکھیے جب قیاس کی ایک صورت متعین صورت ملائیں، صورت بنائیں، خاص شکل بنائیں اور خاص ضرب بنائیں، شکل میں تو کس کو دیکھنا ہے؟ حد اوسط کو، کہاں کہاں ہے۔ اگر حد اوسط اگر حد اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ ہو، آپ فوراً سمجھ جائیں گے یہ کون سی شکل ہے؟ شکل اول ہے۔ اگر حد اوسط دونوں میں محمول کی جگہ ہو، تو آپ فوراً سمجھ جائیں گے یہ کون سی ہے؟ شکل ثانی ہے۔ تو یہ جو حد اوسط ہے اس کے ذریعے تو شکل کا پتہ لگتا ہے، اور باقی، باقی بھی تو چار صورتیں ہیں، صغریٰ کلیہ، موجبہ کلیہ ہو یا موجبہ جزئیہ ہوگا، یا سالبہ کلیہ ہوگا یا سالبہ جزئیہ ہوگا۔ اور اسی طرح کبریٰ میں بھی یہی چار صورتیں بنتی ہیں، تو اس اعتبار سے اسی ہر شکل کے اندر 16، 16 احتمال بنتے ہیں جیسے پہلی شکل میں بیان ہوئے، تو کہتے ہیں اس صورت میں ایسا اختلاف لازم آئے گا نتیجے میں جو ثابت کرنے والا ہوگا عدمِ إنتاج کو کہ نتیجہ نہیں آتا۔ بھئی حالانکہ جب ایک خاص شکل ہے اور خاص ضرب ہے، تو نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے۔ منطق کے اصول جو ہوتے ہیں کلی ہوتے ہیں ہمیشہ، جب ہم نے ایک ضابطہ بنا دیا، یہ یہ شکل ملاؤ گے، یہ یہ ضرب بناؤ گے، تو نتیجہ ہمیشہ مثلاً موجبہ کلیہ آئے گا، کیا آئے گا؟ تو پھر ہمیشہ موجبہ کلیہ ہی نتیجہ آنا چاہیے، تبھی ہماری یہ بات صحیح ہوگی، ہمارا یہ ضابطہ بنے گا۔ اگر کبھی نتیجہ موجبہ کلیہ کے بجائے سالبہ کلیہ آتا ہے، تو اس کا مطلب ہے ہماری یہ شکل صحیح نہیں ہے بھئی، نتیجہ تو ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے، موجبہ کلیہ آتا ہے تو ہمیشہ اس میں موجبہ کلیہ ہی آنا چاہیے، سالبہ جزئیہ کہیں پہ آ رہا ہے تو ہمیشہ سالبہ جزئیہ ہی آنا چاہیے، لیکن اگر کبھی نتیجہ موجبہ آ رہا ہے کبھی سالبہ آ رہا ہے، کبھی کلیہ آ رہا ہے کبھی جزئیہ آ رہا ہے، تو یہ دیکھو نتیجے میں اختلاف آ رہا ہے، کیا آ رہا ہے؟ ایک ہی قسم کے اندر نتیجے کے اندر اختلاف آ رہا ہے حالانکہ نتیجے میں تو اختلاف نہیں آنا چاہیے، جب بعینہٖ ساری چیزیں آپ اسی طرح رکھیں گے تو نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے، لیکن اگر نتیجے میں کبھی وہی شکل بنائی وہی ضرب بنائی اور نتیجہ کیا آ رہا ہے؟ مثلاً موجبہ کلیہ، پھر وہی قسم بنائی صرف آپ نے موضوع محمول وغیرہ کو بدل دیا، حجر کی جگہ فرس لے آئے، انسان کی جگہ حیوان لے آئے، شکل ساری وہی بنا دی، تو پہلے اگر نتیجہ سالبہ جزئیہ تھا تو اب بھی نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ سالبہ جزئیہ ہی آنا چاہیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن اگر شکل میں، اگر نتیجے میں اختلاف آتا ہے، کبھی کیا آتا ہے؟ موجبہ کلیہ، کبھی کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ آتا ہے، بعینہٖ شکل سارا کچھ وہی ہے، لیکن نتیجہ کبھی وہی موجبہ کلیہ دے دیتا ہے، دوسرے موقع پر وہی نتیجہ کیا دے دیتا ہے؟ سالبہ کلیہ مثلاً دے دیتا ہے، تو دیکھو نتیجے میں اختلاف آ رہا ہے، اور حالانکہ نتیجے میں تو اختلاف نہیں آنا چاہیے، تو نتیجے میں اختلاف آنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ والی صورت نتیجہ نہیں دیتی، نتیجے میں اختلاف آنا کیا بتلاتا ہے کہ یہ والی صورت نتیجہ نہیں دیتی ورنہ نتیجہ ایک جیسا 2 سا ہونا چاہیے تھا جب سارا کچھ اسی طرح ہے، صرف ہم نے موضوع و محمول کے لفظ بدلے ہیں، جگہ بھی نہیں بدلی، کلیت و جزئیت بھی نہیں بدلی، ایجاب و سلب کو بھی نہیں بدلا، تو پھر ایک جیسا ہونا چاہیے ہمیشہ نتیجہ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو کیا بتلایا انہوں نے؟ "وإلا" اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی کیف کے اعتبار سے اور کم کے اعتبار سے جو ہم نے شرطیں لگائیں، وہ پوری نہ ہوں، تو "يلزم الاختلاف الموجب لعدم الإنتاج" تو لازم آئے گا وہ اختلاف جو ثابت کرنے والا ہے نتیجہ نہ دینے کو، جو ثابت کرنے والا ہے نتیجہ نہ دینے کو۔ کیا معنی؟ نتیجہ نہ، وہی بات اب آگے کہیں گے "أي صدق القياس" یعنی قیاس کا سچا ہونا "مع إيجاب النتيجة تارة" ساتھ کبھی ایجابِ نتیجہ کے—تارةً کا مطلب ہے مرتبہ، مرتبہ—کہ بعض مرتبہ تو نتیجہ ایجاب والا موجبہ ہو گا۔ نتیجہ کیا ہو گا؟ موجبہ۔ "ومع سلبها أي سلب النتيجة" اور کبھی نتیجہ سالبہ ہو گا، "أخرى أي تارة أخرى" بھئی موصوف محذوف ہے۔ اخرى صفت ہے کس کی؟ تارةً کی۔ تارةً کا کیا معنی تھا؟ مرتبہ۔ تو تارةً اخرى کا کیا معنی؟ دوسری مرتبہ۔ تو ایک مرتبہ اسی صورت کو آپ بنائیں گے، تو کبھی وہ نتیجہ موجبہ دے دے گا۔ دوسری مرتبہ پھر وہی صورت ہے، صرف لفظوں کو آپ نے بدلا، تو نتیجہ کیا آرہا ہے؟ سالبہ آرہا ہے۔ معلوم ہوا نتائج میں اختلاف آرہا ہے۔ اور یہ اختلاف کیوں آرہا ہے؟ کیونکہ ہم نے وہ شرطوں کی رعایت نہیں کی تھی بھئی۔ تو شرطوں کی رعایت نہیں کریں گے، تو نتیجے میں ایجاب و سلب کے اعتبار سے اختلاف آئے گا۔ اور نتیجے میں اختلاف آنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ صورت، شکل، یہ صورت جو ہے، وہ نتیجہ نہیں دیتی بھئی، ورنہ نتیجے میں اختلاف نہیں آنا چاہیے تھا۔ یہاں تک بحث سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ معنی ہے "أي صدق القياس مع إيجاب النتيجة تارة ومع سلبها أخرى" یعنی قیاس کا سچا ہونا ساتھ نتیجے کے موجبہ ہونے کے ایک وقت میں اور نتیجے کے سالبہ ہونے کے دوسرے وقت میں۔ مثلاً دیکھیے بھئی! ہم دو قضیے، دو مقدمے ملاتے ہیں۔ پہلا مقدمہ: "كل إنسان حيوان"۔ "كل إنسان حيوان" موجبہ ہے یا سالبہ ہے؟ موجبہ۔ کلیہ ہے یا جزئیہ ہے؟ کلیہ ہے۔ "كل إنسان حيوان" موجبہ کلیہ۔ اچھا! "كل إنسان حيوان"۔ آگے شرط کیا تھی؟ پہلا اگر موجبہ ہو، دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ۔ آپ اگلا بھی موجبہ لے آئیں۔ کوئی ایک لے آئیں بھئی، کوئی ایک صادق قضیہ لے آئیں۔ پھر دوسری شرط پوری رکھیں۔ دوسری شرط کیا تھی؟ پہلی شرط تھی ایجاب و سلب میں صغریٰ، کبریٰ مختلف ہوں۔ ہم صرف اس شرط کی رعایت نہیں رکھیں گے۔ دوسری شرط کیا تھی؟ کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے۔ تو کبریٰ کلیہ ہی لے کر آؤ بھئی۔ پہلا کیا بنایا؟ "كل إنسان حيوان"۔ دوسرا بنائیے! کوئی، کوئی، کوئی نتیجہ، کوئی بھی قضیہ بنا لیں بھئی! موجبہ ہو، کلیہ ہو۔ "كل إنسان ناطق"۔ اب پہلا کیا بنایا؟ "كل إنسان حيوان"۔ دوسرا کیا بنایا؟ "كل إنسان ناطق"۔ ایک جیسا لفظ کون سا ہے؟ انسان۔ پہلے میں انسان کہاں آیا؟ موضوع۔ دوسرے میں انسان کہاں آیا؟ موضوع کی جگہ۔ یہ تو شکلِ ثالث بن گئی! ہم شکلِ ثانی میں بحث کر رہے ہیں بھئی، شکلِ ثانی میں۔ شکلِ ثانی میں حدِ اوسط کہاں آتا ہے دونوں میں؟ محمول کی جگہ۔ محمول کی جگہ ایک لفظ رکھنا ہے آپ نے بھئی، محمول کی جگہ۔ پہلا کیا تھا؟ "كل إنسان حيوان"۔ محمول کیا ہے؟ حیوان۔ دوسرے میں بھی محمول حیوان ہونا چاہیے۔ "كل فرس حيوان" بھئی! "كل إنسان حيوان" یا یوں کر لیں، ناطق لے آئیں، ناطق۔ "كل إنسان حيوان"، پہلا کیا بنایا؟ دوسرا کیا بنایا؟ "كل ناطق حيوان"۔ دیکھو! حیوان حیوان دونوں میں، یہ حدِ اوسط کا بہت خیال رکھنا ہے آپ نے بھئی، اسی کے مطابق تو شکل بنے گی۔ تو دونوں میں حدِ اوسط یعنی ایک جیسا لفظ محمول کی جگہ آرہا ہے، یہ شکلِ ثانی ہے بھئی۔ کیا ہوئی شکلِ ثانی؟ یہ کیا، کون، کیا بنائے ہم نے دو مقدمے؟ "كل إنسان حيوان" اور آگے "كل ناطق حيوان"۔ حیوان تو ختم ہوا۔ پہلے قضیے سے انسان آیا، دوسرے قضیے سے ناطق آگیا۔ اب نتیجہ بنا لو بھئی! "كل إنسان ناطق"۔ "كل إنسان ناطق" یہ نتیجہ آیا۔ یہ کون سی صورت ہے؟ ہم نے صرف پہلی شرط کی رعایت نہیں رکھی۔ پہلی شرط کیا تھی؟ صغریٰ اور کبریٰ ایجاب و سلب میں مختلف ہونے چاہئیں، ہم نے نہیں کیا۔ پہلا بھی موجبہ رکھا، دوسرا سالبہ ہونا چاہیے تھا، ہم نے اس کو بھی موجبہ بنا دیا۔ "كل إنسان حيوان" یہ موجبہ تھا، تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے تھا؟ سالبہ، لیکن ہم نے موجبہ ہی رکھا—"كل ناطق حيوان"۔ یہ پہلی شرط پوری ہم نے نہیں کی۔ دوسری شرط کیا تھی؟ کبریٰ کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے، دوسری شرط پوری ہے—"كل ناطق حيوان"، وہ دوسری شرط پوری ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ نتیجہ کیا آیا؟ "كل إنسان ناطق"، یہ نتیجہ آگیا۔ حیوان حیوان تو حدِ اوسط تھا، وہ گر گیا۔ "كل إنسان ناطق"۔ نتیجہ موجبہ آیا، سالبہ آیا؟ موجبہ آیا بھئی۔ نتیجہ کیا آیا؟ موجبہ۔ ہاں بھئی! یہ آپ اپنی جیب میں نتیجہ رکھیں، ابھی آپ سے واپس لیں گے۔ اب آئیے ہم، صرف کیا کرتے ہیں؟ پہلے صغریٰ کو وہی رکھو۔ صغریٰ کیا تھا؟ "كل إنسان حيوان"۔ کبریٰ کو بدل دو۔ کچھ بھی لے آؤ، صادق ہونا چاہیے۔ محمول کی جگہ کیا ہونا چاہیے؟ پہلے میں حیوان ہے، تو دوسرے میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ حیوان ہونا چاہیے۔ پہلی شرط اب پوری کرو، نہیں ابھی، ابھی پہلی ہی ضرب ہم کر رہے ہیں۔ "كل فرس حيوان"۔ تو یہاں صغریٰ اسی طرح ہے: "كل إنسان حيوان"، اور کبریٰ کیا ہے؟ "كل فرس حيوان"۔ یہ وہی ہے، جو ابھی ہم، جو پہلی صورت، پہلی ضرب بنائی تھی، بعینہِ یہ وہی ضرب ہے، صرف ہم نے ایک لفظ بدل دیا۔ پہلے کیا تھا؟ "كل ناطق حيوان" تھا کبریٰ، اب ہم نے کیا کر دیا؟ "كل فرس حيوان"۔ سارا کچھ وہی ہے۔ پہلے نتیجہ کیا آیا تھا؟ آپ کے پاس میں نے کیا امانت رکھوائی؟ ہاں، وہ کیا تھا؟ وہ نتیجہ تھا۔ کیا نتیجہ تھا؟ موجبہ کلیہ تھا۔ نتیجہ کیا تھا؟ موجبہ کلیہ۔ اب بھی کیا آنا چاہیے نتیجہ؟ موجبہ کلیہ، کیونکہ ہم نے، سارا کچھ وہی ہے۔ پہلا موجبہ کلیہ ہے صغریٰ، دوسرا کیا ہے؟ وہ بھی موجبہ کلیہ ہے۔ بعینہِ پہلی ضرب ہے، صرف ہم نے ایک لفظ بدلا ہے۔ تو نتیجہ کیا آئے گا بھئی؟ کیا ہوئے صغریٰ، کبریٰ؟ "كل إنسان حيوان" اور "كل فرس حيوان"۔ حیوان حیوان تو گر گئے۔ کیا رہ گئے ہیں؟ انسان اور فرس رہ گئے۔ اور انسان کو موضوع بنانا ہے، کیونکہ وہ صغریٰ سے لیا ہے ہم نے۔ اور فرس کو ہم نے محمول بنانا ہے، کیونکہ کبریٰ سے لیا ہے ہم نے۔ اب ملاؤ ان کو، بناؤ! "كل إنسان فرس" یہ تو صادق ہی نہیں آتا! صحیح کرو اس کو! "لا شيء من الإنسان بفرس"۔ نتیجہ صادق ہونا چاہیے نہ حضرت! تو اگر آپ کہتے ہیں "كل إنسان فرس" یہ تو صادق ہی نہیں ہے، غلط ہو گیا نتیجہ۔ تو سارے انسان فرس ہیں؟ ایک بھی فرس نہیں ہے۔ تو لہٰذا نتیجہ کیا آیا؟ "لا شيء من الإنسان بفرس"۔ بعینہِ وہی ضرب ہے، جو پچھلی تھی، لیکن وہاں نتیجہ تھا موجبہ کلیہ—"كل إنسان ناطق"۔ اب نتیجہ کیا آیا؟ "لا شيء من الإنسان بفرس"۔ اب سالبہ کلیہ آگیا بھئی! حالانکہ وہی ضرب ہے، نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے بھئی۔ تو کبھی نتیجہ کیا آرہا ہے؟ موجبہ۔ کبھی نتیجہ کیا آرہا ہے؟ سالبہ۔ یہ کس وقت؟ جب ہم نے پہلی شرط کی رعایت نہ کی۔ پہلی شرط کیا تھی؟ دونوں میں کیف میں اختلاف ہونا چاہیے، ایک موجبہ ہے تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ ہونا چاہیے۔ صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی؟ اب ذرا آئیں، دوسری، دوسری شرط کی ہم رعایت نہیں رکھتے، دوسری شرط کی۔ مثلاً بھئی، کیا بنائیں ہم؟ "كل إنسان ناطق"۔ "كل إنسان ناطق"۔ اچھا! یہ موجبہ ہے، سالبہ ہے؟ موجبہ۔ تو پہلی شرط ہم پوری کریں گے۔ دوسرے کو کیا بنائیں گے؟ سالبہ بنائیں گے۔ ہاں، دوسری شرط نہیں پوری کریں گے۔ کیا؟ کلیہ نہیں بنائیں گے کبریٰ کو، کیا بنائیں گے؟ جزئیہ بنائیں گے۔ اچھا! جزئیہ بناؤ! "بعض" لے کر آنا ہے۔ پہلے کے اندر محمول کیا ہے؟ "كل إنسان ناطق"۔ ناطق، دوسرے میں بھی ناطق لے کر آنا ہے۔ ناطق کو محمول بنانا ہے، اور نفی کے ساتھ لانا ہے۔ "بعض الحيوان ليس بناطق"۔ "بعض الحيوان ليس بناطق"۔ تو مقدمہ کیا بنا، دونوں مقدمے؟ "كل إنسان ناطق" و "بعض الحيوان ليس بناطق"۔ ہم نے دوسری شرط کی رعایت نہیں کی۔ نتیجہ کیا آئے گا؟ ایک موجبہ ہے، ایک سالبہ ہے۔ نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ، یہ تو طے ہو گیا۔ ایک پہلا کلیہ ہے، دوسرا جزئیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا۔ معلوم ہوا نتیجے میں "بعض" اور نفی کو لے کر آنا ہے۔ کس کو لانا ہے؟ بعض کو اور نفی کو۔ اچھا! اب موضوع و محمول لے کر آئیں۔ حدِ اوسط کیا تھا؟ ناطق دونوں کے اندر۔ کیا تھا، صغریٰ، کبریٰ کیا تھے؟ "كل إنسان ناطق وبعض الحيوان ليس بناطق"۔ تو ناطق گر گیا۔ موضوع کیا آیا نتیجے کا، صغریٰ سے لیں؟ انسان۔ محمول کیا آیا، کبریٰ سے لیں؟ حیوان۔ اچھا! یہ انسان اور حیوان کو ملاؤ! جزئیہ بناؤ! سالبہ بناؤ! "بعض الإنسان ليس بحيوان"۔ "بعض الإنسان ليس بحيوان"۔ سالبہ تو صحیح بن ہی نہیں رہا! بعض انسان حیوان نہیں ہیں، حالانکہ تمام انسان حیوان ہیں۔ چلو اس کو ایجاب سے بدل دو! "بعض الحيوان إنسان"، کیا آیا؟ "بعض الإنسان ليس بحيوان"، نہیں، بعض انسان کو موضوع بنائے بھئی! "بعض الإنسان ليس بحيوان" یہ تو غلط ہے، درست ہی نہیں ہے۔ لہٰذا کیا کر دو اس کو؟ موجبہ بناؤ۔ کیا آئے گا؟ "بعض الإنسان حيوان"۔ "بعض الإنسان حيوان"۔ صادق ہے، کاذب ہے؟ بعض انسان حیوان ہیں۔ صادق ہے۔ یہ بات کئی دفعہ میں کر چکا ہوں، آپ کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ سارے انسان حیوان ہیں، آپ تو کہہ رہے ہیں بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان۔ بھئی! میں نے باقیوں کی اس سے نفی تو نہیں کی حیوان ہونے کی، میں نے تو صرف بعض کی بات کی ہے۔ مجھے یہ بتاؤ بعض کے اعتبار سے یہ بات صحیح ہے یا نہیں؟ بعض انسان کیا ہیں؟ اور باقی کے بعض، میں نے ان سے کوئی حیوان ہونے کی نفی نہیں کی، ان کے بارے میں سکوت ہے۔ میں نے ان کو چھیڑا ہی نہیں، ان کا ذکر ہی نہیں کیا۔ ہوں، نہ ہوں، اس سے میری بحث ہی نہیں۔ میں نے تو صرف بعض کی بات کی ہے، اور بعض میں یہ بات صادق ہے یا نہیں؟ بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان۔ تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا منطق کے اندر، کہ جب بھی بعض کو ذکر کیا جائے تو باقیوں سے اس محمول کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ ان کے بارے میں سکوت ہوتا ہے، خاموشی ہوتی ہے۔ تو "بعض الإنسان حيوان" صادق ہے، کاذب ہے؟ صادق ہے۔ اچھا! اب اسی کو ذرا بدل لیں۔ صغریٰ کیا تھا؟ "كل إنسان ناطق"۔ اس کو، اور دوسرا کیا تھا؟ "بعض الحيوان ليس بناطق"۔ بس صرف حیوان کو ذرا بدل دو۔ مطلب فرس لے آؤ۔ "بعض الفرس ليس بناطق"۔ "بعض الفرس ليس بناطق"۔ اور ہم نے کسی چیز کلیت، جزئیت کو چھیڑا؟ نہیں۔ ایجاب و سلب کو چھیڑا؟ نہیں۔ سارا کچھ اسی طرح ہے۔ تو پہلے نتیجہ کیا آیا تھا؟ "بعض الإنسان حيوان"۔ موجبہ، موجبہ جزئیہ آیا تھا۔ اب بھی کیا آنا چاہیے؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ نتیجہ اب بھی کیا آنا چاہیے؟ موجبہ جزئیہ آنا چاہیے۔ پہلے کیا تھا؟ "بعض الإنسان حيوان"۔ اب ہم نے صرف قیاس کے اندر حیوان کی جگہ کیا لے آئے؟ فرس۔ قیاس کیا بن گیا؟ "كل إنسان ناطق وبعض الفرس ليس بناطق"۔ نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ وہی صورت بن رہی ہے۔ "كل إنسان ناطق" اور "بعض الفرس ليس بناطق"۔ نتیجہ پہلے کیا آیا تھا؟ اچھا، چلیں اس نتیجے کو چھوڑیں۔ أچھا! پہلا کیا ہے؟ "كل إنسان ناطق"۔ دوسرا کیا ہے؟ "بعض الفرس ليس بناطق"۔ پہلا کلیہ ہے، دوسرا جزئیہ ہے۔ نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ جزئیہ۔ پہلا موجبہ ہے، دوسرا سالبہ ہے۔ نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ سالبہ آنا چاہیے۔ معلوم ہوا نتیجہ سالبہ جزئیہ آئے گا۔ کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ۔ اب حدِ اوسط کیا تھا دونوں کے اندر؟ ناطق۔ حدِ اوسط ناطق ہے، اس کو گرا دیں۔ تو صغریٰ سے کیا آیا، موضوع کیا آیا نتیجے کا؟ انسان۔ کبریٰ سے محمول لیں—فرس۔ جی! انسان اور فرس کو جوڑیں، سالبہ جزئیہ بنائیں! "بعض الإنسان ليس بفرس"۔ "بعض الإنسان ليس بفرس"۔ بعض انسان فرس نہیں ہیں، صادق ہے، کاذب ہے؟ صادق ہے۔ اور تو یہ نتیجہ کیا آیا؟ سالبہ جزئیہ۔ اور پچھلے میں اسی شکل میں حیوان لفظ جب ہم لائے تھے فرس کی جگہ، تو نتیجہ کیا آیا تھا؟ وہ موجبہ جزئیہ آیا تھا—"بعض الإنسان حيوان" آیا تھا۔ اب کیا آرہا ہے؟ "بعض الإنسان ليس بفرس"۔ اب سالبہ! حالانکہ نتیجہ تو ہمیشہ ایک جیسا رہنا چاہیے بھئی۔ اگر پہلے سالبہ تھا تو اب بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ سالبہ۔ اگر پہلے موجبہ تھا تو اب بھی کیا ہونا چاہیے تھا؟ موجبہ۔ اگر پہلے کلیہ تھا تو اب بھی کلیہ، اگر پہلے جزئیہ تھا تو اب بھی—نتیجہ تو ایک جیسا رہنا چاہیے بعینہِ، کیونکہ ایک ہی ضرب ہے۔ ہم نے کسی چیز کو نہیں چھیڑا، نہ کلیت کو، نہ جزئیت کو، نہ ایجاب کو، نہ سلب کو، صرف کس کو بدلا؟ ایک لفظ موضوع یا محمول کو بدلا ہے۔ دس کو بدلیں، نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا آیا کرتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں یہ نتیجہ ہم نے دوسری شرط کا لحاظ نہیں رکھا، تو نتیجہ کبھی کیا ہوا؟ موجبہ، اور کبھی کیا ہوا؟ سالبہ۔ یہ کبھی موجبہ ہونا اور کبھی سالبہ آنا، یہ بتلا رہا ہے کہ نتیجہ نہیں آتا ہمیشہ، ورنہ تو ایک جیسا آنا چاہیے تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو انہوں نے دو شرطیں لگائیں شکلِ ثانی کے اندر، کہ دونوں قضیوں کو ایجاب و سلب میں مختلف ہونا چاہیے، اور ثانی یعنی کبریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ دونوں شرطیں یا دونوں میں سے ایک نہ پائی گئی، تو ایسا اختلاف آئے گا نتیجے میں جو ثابت کرے گا کس چیز کو؟ عدمِ إنتاج کو، کہ نتیجہ نہیں آتا۔ یعنی قیاس تو آپ کا صحیح ہو گا، لیکن نتیجہ... 3 کبھی موجبہ آئے گا اور کبھی سالبہ اور یہی نتیجے کا کبھی موجبہ اور کبھی سالبہ آنا بتلا دے گا کہ نتیجہ نہیں آتا ورنہ تو نتیجے کو ہمیشہ اگر آتا، پھر تو ہمیشہ ایک جیسا ہی آنا چاہیے تھا۔ صورت سمجھ میں آگئی سب کو اچھی طرح؟ یہ معنی ہیں، و إلا يلزم الاختلاف الموجب لعدم الإنتاج ورنہ لازم آئے گا وہ اختلاف جو ثابت کرنے والا ہے نتیجہ نہ دینے کو، أي صدق القياس مع إيجاب النتيجة تارة ومع سلبها أخرى، یعنی قیاس کا صادق ہونا ساتھ نتیجے کے کبھی موجبہ ہونے کے اور کبھی نتیجے کے سالبہ ہونے کے، ایک مرتبہ موجبہ ہونے کے اور دوسری مرتبہ میں سالبہ ہونے کے۔ ونتيجة هذا الشكل لا يكون إلا سالبة، کہتے ہیں اس شکل کا نتیجہ نہیں ہوگا مگر سالبہ ہی۔ اس شکل کا یعنی شکل ثانی کا نتیجہ ہمیشہ سالبہ آئے گا۔ کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ کیونکہ بتا تو دیا ہے انہوں نے کہ پہلی شرط ہی کیا ہے اس میں؟ ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ اور جب موجبہ اور سالبہ اکٹھے ہوتے ہیں نتیجہ کیا آتا ہے؟ سالبہ، تو یہی بات تو کر رہے ہیں کہ اس کا نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ، تو کہتے ہیں ونتيجة هذا الشكل لا يكون إلا سالبة، اس شکل کا نتیجہ نہیں آئے گا مگر سالبہ ہی۔ چلیے بس کریں بھئی بس، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 78 of 108