LESSONS NO. 105
1
اُغْلُوطَةٌ. ”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ، وَكُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ صَدَقَ نَقِيضُهُ—أَعْنِي: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ—يُنْتِجُ: كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ صَدَقَ زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“، مَعَ أَنَّهَا قَضِيَّةٌ مِنَ الْقَضَايَا.
آج ایک اور مغالطہ ذکر کر رہے ہیں۔ اغلوطہ مغالطے کو کہتے ہیں بھئی، اغلوطۃ ای ہذہ اغلوطۃ، یہ ایک مغالطہ۔ تو مغالطوں میں سے ایک مغالطہ آج بیان کر رہے ہیں۔
وہ مغالطہ کیا؟ دیکھیے بھئی، کوئی مثلاً آپ کے سامنے قیاس پیش کرتا ہے اس طریقے سے: ”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، لو لم یصدق قضیۃ، اگر کوئی بھی قضیہ صادق نہ آئے—اگر توجہ سے سننا بھئی، بڑا مشکل سبق ہے بھائی—”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، اگر کوئی بھی قضیہ صادق نہ آئے تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں آئے گا۔
اگر کوئی بھی قضیہ صادق نہ آئے تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں آئے گا کیونکہ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی ایک قضیہ ہے، اور ہم نے کہا اگر کوئی بھی صادق نہ آئے تو لازمی بات ہے یہ بھی صادق نہیں آئے گا۔
”وَكُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، اور جب بھی زید صادق، ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں آئے گا تو ”صَدَقَ نَقِيضُهُ“، تو اس کی نقیض صادق آئے گی۔ زید کھڑا ہے، زید کھڑا نہیں ہے۔ دونوں میں سے ایک تو ضرور صادق آئے گا۔ آپ نے کہا زید کھڑا ہے یہ صادق نہیں آ رہا، تو پھر کون سا صادق آئے گا؟ زید کھڑا نہیں ہے، دو صورتوں میں سے ایک تو ضرور ہو گی۔
تو لہٰذا ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، جب بھی ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں آئے گا تو ”صَدَقَ نَقِيضُهُ“، تو پھر اس کی نقیض صادق آئے گی۔ وہ نقیض کیا ہے؟ اعنی ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“، اعنی متکلم کا صیغہ ہے، میری مراد کہتے ہیں کہ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ ہے کہ یہ صادق آئے گا۔
صغریٰ، کبریٰ سمجھ میں آئے؟ صغریٰ کیا؟ اگر کوئی بھی قضیہ صادق نہ آئے تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں ہے، اور کبریٰ ہے: جب بھی ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں آئے گا تو اس کی نقیض صادق آئے گی، یہ ہے کبریٰ۔
ینتج، نتیجہ دے گا: ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ“، جب بھی... دیکھو، صغریٰ، کبریٰ میں ذرا دیکھیں۔ نتیجہ خود دیکھ لیتے ہیں پہلے۔
”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، یہ ہے صغریٰ۔ ”وَكُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ صَدَقَ نَقِيضُهُ“، یہ ہے کبریٰ۔ حد اوسط کیا ہے؟ لم یصدق زید قائم، اس کو ہٹا دو، کیا رہ گیا؟ ”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ صَدَقَ نَقِيضُهُ“، ای صدق ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“۔
تو نتیجہ کیا آیا بھئی؟ ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ صَدَقَ نَقِيضُهُ“، صَدَقَ نقیض، نقیض کی جگہ نقیض اٹھا کے رکھ دیں، کیا تھی نقیض؟ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“۔ تو نتیجہ کیا آیا؟ ”يُنْتِجُ كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ“، جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں آئے گا، ”صَدَقَ زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“، تو ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ صادق آئے گا۔
جب بھی... توجہ ہے سبق پہ؟ جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں آئے گا تو کیا صادق آئے گا؟ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ یہ قضیہ صادق آئے گا۔ تو حالانکہ یہ نتیجہ غلط ہے، یہ نتیجہ کیا ہے؟ غلط ہے۔ کیوں؟ کیونکہ کیا... جب بھی انہوں نے کہا جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں آئے گا تو کیا صادق آئے گا؟ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“، اور ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ تو کیا ہے؟ قضیہ ہے، یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ ہے۔
تو گویا نتیجہ یہ ہوا، یہ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ کی جگہ ذرا قضیہ کا لفظ اٹھا کے رکھ دو، گویا یوں نتیجہ آیا: ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ صَدَقَ قَضِيَّةٌ“، جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں آئے گا تو ایک قضیہ صادق آئے گا۔ حالانکہ یہ تو اجتماع نقیضین ہے، اجتماع نقیضین ہے۔
اجتماع نقیضین ہے، ایک طرف کہہ رہے ہیں کوئی قضیہ صادق نہیں، دوسری طرف کہہ رہے ہیں ایک قضیہ صادق ہے۔ یہ تو نہیں، یا تو کوئی بھی صادق نہیں ہوگا یا ایک کیا ہوگا؟ صادق ہوگا۔ خرابی سمجھ میں آئی بھئی؟ جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ کیا ہوگا؟ صادق، تو گویا ایک قضیہ صادق ہوگا۔ تو گویا یہ کہا گیا: جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ایک قضیہ صادق ہوگا، حالانکہ یہ تو درست نہیں۔
جب آپ نے کہہ دیا کوئی قضیہ صادق نہیں، تو پھر ایک قضیہ کیسے صادق آ سکتا ہے؟ اور اگر ایک قضیہ صادق ہے تو پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کوئی بھی قضیہ صادق نہیں ہے؟ تو یہ تو اجتماع نقیضین ہوا، اجتماع متنافیین ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں یہ نتیجہ آئے گا: ”مَعَ أَنَّهَا قَضِيَّةٌ مِنَ الْقَضَايَا“، با وجود اس کے کہ یہ قضیوں میں سے ایک قضیہ ہے۔
والحل، حل ذکر کر رہے ہیں۔ حل اس کا یہ... پہلے سمجھ لیجیے بات کو بھئی، کہ ایک ہے صغریٰ، ایک ہے کبریٰ۔ صغریٰ کیا تھا؟ ”لَوْ لَمْ يَصْدُقْ قَضِيَّةٌ لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، جب کوئی بھی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں ہوگا۔
اور کبریٰ کیا ہے؟ ”وَكُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ...“، تو دیکھیے، جب کوئی بھی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں ہوگا۔ یہاں دیکھو دو صورتیں بنتی ہیں۔ ایک ہے واقعے کے اعتبار سے، ایک ہے فرضی، ویسے ہی فرض کر لو۔ ایک کس اعتبار سے؟ واقعے کے اعتبار سے، ایک فرضی۔
دیکھو صغریٰ میں فرضی حالت ذکر ہو رہی ہے، فرض کر لیا آپ نے۔ کوئی بھی قضیہ صادق نہ ہو تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں ہوگا، تو یہ آپ نے فرض کیا ہے، ورنہ حقیقت میں تو کتنے ہی قضیے صادق ہیں۔ یہ کتاب موجود ہے، یہ صادق ہے یا نہیں؟ یہ قلم موجود ہے، قضیہ صادق ہے یا نہیں؟ یہ درسگاہ موجود ہے، قضیہ صادق ہے یا نہیں؟ کتنے ہی قضیے صادق ہیں!
تو اس کا تعلق واقعے سے نہیں ہے، فرض کر لیا ہم نے، کہ فرض کرو کوئی بھی قضیہ صادق نہیں تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں، معلوم ہوا۔ توجہ ہے بھئی؟ معلوم ہوا صغریٰ میں ایک فرضی حالت ذکر ہو رہی ہے۔ صغریٰ میں کیا ذکر ہو رہی ہے؟ ہم نے فرض کر لیا ہے، ایک امر فرضی ذکر ہو رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت کے اندر تو بہت سے قضایا صادق ہیں بھئی۔
اور کبریٰ میں کیا کہا؟ کبریٰ کیا تھا؟ ”وَكُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ زَيْدٌ قَائِمٌ“، جب بھی ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں آئے گا، ”صَدَقَ نَقِيضُهُ“، اس کی نقیض یعنی ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ وہ صادق آئے گا۔
کبریٰ کے اندر یاد رکھیے امر واقعی کا ذکر ہے، واقعے کے اعتبار سے بھئی۔ واقعے کے اندر، نفس الامر میں، جب زید کی دو ہی حالتیں ہیں: یا وہ قائم ہوگا یا ”لَيْسَ بِقَائِمٍ“ ہوگا۔ کوئی تیسری حالت ہو سکتی ہے؟ نہیں۔ ان دو میں سے وہ باہر نہیں، یا وہ قائم ہے یا ”لَيْسَ بِقَائِمٍ“ ہے۔
توجہ ہے سبق کی طرف؟ ادھر دیکھیے بھئی، کتاب پر کیوں دیکھ رہے ہیں؟ یا ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ ہے یا ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ ہے۔ جب ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ نہیں صادق، تو کیا صادق ہوگا؟ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ صادق ہوگا۔ یہ واقعے کے اعتبار سے ہے، کس کے اعتبار سے؟ تو صغریٰ میں جو حکم لگایا گیا وہ ہے فرض کے اعتبار سے، فرض کیا گیا۔ کبریٰ میں جو حکم لگایا گیا وہ واقعے کے اعتبار سے ہے، واقعے کے اندر زید یا تو قائم ہوگا یا ”لَيْسَ بِقَائِمٍ“ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا، تو حل ذکر کر رہے ہیں۔ حل یہ کہ دیکھیے کبریٰ کے اندر یا تو واقعہ مراد ہے یا عام ہے، یا کبریٰ کیا ہے؟ عام ہے، چاہے فرضی حالت ہو چاہے واقعی حالت ہو۔ چاہے فرضی حالت ہو چاہے واقعی حالت ہو۔
تو کبریٰ میں دو حال ممکن، دو صورتیں بن سکتی ہیں۔ یا تو کبریٰ میں جو آپ نے کہا... توجہ ہے ادھر بھئی؟ کبریٰ ذہن میں ہے؟ کیا کبریٰ کیا تھا؟ جب بھی ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں ہوگا تو اس کی نقیض صادق ہوگی، یہ ہے کبریٰ۔ کبریٰ یا تو اس کے اندر تقادیر واقعیہ ذکر ہیں یا اس کے اندر تقادیر... یا اس کے... یہ عام ہے، تقادیر فرضیہ کو بھی شامل، تقادیر واقعیہ کو بھی شامل، کسی بھی اعتبار سے، دونوں صورتیں اس میں داخل ہیں۔
تو کبریٰ کے اندر کتنے احوال؟ دو احوال۔ یا تو اس میں کیا... کون سی حالت بیان ہو رہی ہے؟ واقعے کی، یا اس میں کیا مراد ہیں؟ دونوں، دونوں، واقعہ ہو چاہے فرضی ہو، کسی بھی صورت میں ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں اگر کبریٰ سے واقعی... تقادیر واقعیہ مراد ہیں، کون سی؟ تقادیر واقعیہ۔ یعنی واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ واقعے میں جب زید کھڑا... ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ یہ صادق نہیں، تو لازمی بات ہے پھر کیا صادق آئے گا؟ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“۔ پھر تو ہمیں کبریٰ تسلیم ہے، ٹھیک ہے، کبریٰ ٹھیک ہے۔ جب زید کھڑا نہیں ہوگا، زید سے جب زید کے لیے جب قیام ثابت نہیں تو لازمی بات ہے پھر زید سے قیام کی نفی ہوگی، لازمی بات ہے۔ اگر کبریٰ سے... میں تقادیر واقعیہ ذکر ہیں پھر تو ہمیں تسلیم کہ کبریٰ ٹھیک ہے، لیکن پھر قیاس ہی نہیں رہتا۔
کیوں؟ کیونکہ صغریٰ کے اندر جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ ایک فرضی حالت کے اعتبار سے ہے اور کبریٰ میں واقعے کے اعتبار سے ہے، تو دونوں ایک چیز رہی نہیں، الگ الگ ہو گئیں۔ صغریٰ میں کس اعتبار سے حکم لگایا گیا؟ فرضی حالت سے، تقادیر فرضیہ ہیں وہاں پر، اور کبریٰ کے اندر تقادیر واقعیہ ذکر ہیں، تو لہٰذا اصغر، اکبر کے تحت نہ رہا۔
اصغر، اصغر کون؟ صغریٰ کا... صغریٰ کے اندر جو آیا، نتیجے کا موضوع، اور اکبر کیا؟ جو کبریٰ میں آیا، نتیجے کا محمول۔
تو اکبر کے اندر کون سی حالت بیان ہوئی تھی؟ واقعی، کبریٰ میں آیا نا، کبریٰ میں واقع... کبریٰ اگر اس میں واقعہ مراد ہے، تقادیر واقعیہ مراد ہیں، پھر تو ہمیں کبریٰ تسلیم ہے کہ جب زید کے لیے قیام ثابت نہیں تو پھر زید سے قیام کی نفی ہوگی، یہ تو ہمیں تسلیم ہے، واقعے کے اعتبار سے ایسے ہی ہے، واقعے میں ان دو میں سے ایک چیز ضرور ہوگی، جب ایک نہیں ہے تو دوسری ضرور ہوگی۔
لیکن صغریٰ کے اندر کون سی حالت مراد تھی؟ فرضی حالت۔ تو لہٰذا صغریٰ سے لیتے ہیں موضوع، اور کبریٰ سے کیا لیا؟ محمول لیا، اور محمول کا حکم لگانا ہے کس پر؟ موضوع پر، اور محمول کے اندر کون سے امور، کون سی تقدیریں ہیں؟ واقعیہ، اور موضوع میں کون سی تقدیریں تھیں؟ فرضیہ، تو اس محمول کا حکم موضوع پر نہیں لگایا جا سکتا، یعنی اصغر، اکبر کے تحت داخل نہیں، اکبر میں تقادیر واقعیہ ملحوظ تھیں اور اصغر کے اندر تقادیر فرضیہ ملحوظ تھیں، لہٰذا اکبر کا حکم اصغر پر نہیں لگایا جا سکتا۔ یوں کہو آسان لفظوں میں: اصغر، اکبر کے تحت داخل نہیں۔ اصغر، اکبر کے تحت داخل نہیں۔
صورت سمجھ میں آئی؟ دوبارہ سنو۔ کسی شخص نے آپ کے سامنے قیاس ذکر کیا اور اس نے کہا کہ جب بھی ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ کا قضیہ... جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ بھی صادق نہیں ہوگا، اور کبریٰ ہے: جب ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں تو ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ صادق ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ صادق ہوگا، حالانکہ یہ تو اجتماع نقیضین ہے، اجتماع متنافیین ہے، اور اجتماع نقیضین محال ہے، ممکن ہی نہیں ہے۔ یا زید کھڑا ہو اور کھڑا نہ ہو، ایک ہی وقت میں یہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی، یہ اجتماع نقیضین ہے۔
تو اس کا حل ذکر کر رہے ہیں۔ حل یہ کہ دیکھیے کبریٰ کے اندر تقادیر واقعیہ مراد ہیں یا کبریٰ عام ہوگا؟ دو صورتیں ہیں۔ کیا ہوگا؟ تقادیر واقعیہ مراد ہیں یا کبریٰ کیا ہوگا؟ عام ہوگا۔ اگر تقادیر واقعیہ مراد ہیں، واقعے کے اندر جب زید کے قائم نہیں ہے تو زید کے لیے قیام ثابت نہیں ہے تو لازمی بات ہے زید کے لیے... زید سے قیام کی نفی ہوگی، پھر تو ہمیں تسلیم ہے، کبریٰ ٹھیک ہے، لیکن پھر قیاس ہی نہیں صحیح رہتا۔ قیاس کیوں نہیں صحیح رہتا؟ کیونکہ صغریٰ کے اندر تقادیر فرضیہ ذکر، اور کبریٰ کے اندر تقادیر واقعیہ ذکر، تو لہٰذا اصغر، اکبر کے تحت داخل نہیں ہوتا، اس پر وہ حکم نہیں لگایا جا سکتا۔
یہ... یہ تو ایک صورت تھی جب ہم نے کبریٰ سے کون سی تقادیر مراد دیں کبریٰ میں؟ تقادیر واقعیہ۔ اور اگر کبریٰ کی تقادیر عام ہیں، چاہے وہ واقعیہ ہوں چاہے فرضیہ ہوں، دونوں صورتوں کو یہ شامل ہے، یہ عام ہے۔ پھر... پھر ہمیں کبریٰ... پھر کبریٰ ہی درست نہیں۔
پھر کبریٰ ہی درست نہیں، کیوں نہیں درست؟ اس لیے کیونکہ کبریٰ میں کلما، کلی حکم لگایا گیا ہے۔ ہمیں کبریٰ کا پھر کلی حکم ختم کرو، پھر ٹھیک رہ جائے، پھر ٹھیک ہو جائے گا، لیکن یہاں تو کیا حکم لگایا گیا؟ کلی، ”كُلَّمَا لَمْ يَكُنْ...“ ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ“ بھئی۔ ”كُلَّمَا لَمْ يَصْدُقْ“، کلی حکم لگایا گیا، ہمیں پھر... پھر کلی حکم نہ لگاؤ، پھر غلط ہو جاتا ہے اگر کلی حکم لگاتے ہو۔
کیوں غلط کیوں ہوتا ہے؟ دیکھیے۔ کون سی صورت ہم ذکر کر رہے ہیں؟ کبریٰ عام ہو، تقادیر واقعیہ کو بھی شامل اور تقادیر فرضیہ کو بھی شامل۔ اچھا، یہ دیکھو، ادھر دیکھیے، یہ ہیں تقادیر واقعیہ، یہ ہیں تقادیر فرضیہ، کبریٰ دونوں کو شامل ہے۔ تقادیر واقعیہ کو شامل ہے پھر تو بات ٹھیک بن جاتی ہے: جب بھی زید کے لیے قیام ثابت نہیں ہوگا تو زید کے... زید سے قیام کی نفی ہوگی، یہ اب تو ٹھیک ہے، لیکن تقادیر فرضیہ کی صورت میں یہ بات درست نہیں رہتی، کیوں؟
اس لیے کیونکہ فرض کرنے کی صورت میں، جب ایک چیز کو آپ فرض کر رہے ہیں تو فرض تو محال چیز کو بھی کیا جا سکتا ہے، فرض تو محال چیز کو بھی فرض کیا جا سکتا ہے۔ تو لہٰذا آپ نے کیا کہا تھا؟ کیا... کبریٰ کیا تھا؟ جب ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق نہیں تو پھر کیا صادق ہوگا؟ اس کے... نقیض صادق ہوگی۔ نہیں، ہم فرض کر لیتے ہیں: نہ ”زَيْدٌ قَائِمٌ“ صادق ہے، نہ ”زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ“ صادق ہے، فرض کرنے میں کیا ہے؟ فرض تو محال چیز کو بھی کیا جا سکتا ہے، فرض تو محال چیز کو بھی کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا کبریٰ... اگر کبریٰ میں تقادیر عام رکھیں کہ واقعی... تقادیر واقعیہ کو بھی یہ شامل اور تقادیر فرضیہ... ٹھیک ہے، دونوں کو ملا کر دونوں کے اعتبار سے یہ، پھر تو حکم ٹھیک لگ رہا ہے کہ دو صورتیں آ گئیں نا، واقعیہ اور... واقعیہ کے اعتبار سے تو حکم ٹھیک بن جائے گا: زید جب قائم... زید کے لیے جب قیام ثابت نہیں تو زید سے قیام کی نفی، واقعیہ... لیکن فرضیہ کے اعتبار سے یہ بات ٹھیک نہیں بنتی۔
لہٰذا جب آپ اس کو کلی کہتے ہیں، ہر حال میں کہتے ہیں، تو ہر حال کے اندر تو تقادیر واقعیہ بھی آ گئیں اور تقادیر فرضیہ... پھر دونوں صورتوں کے اندر جب زید کے لیے قیام ثابت نہیں... زید کے قیام کے لیے قیام ثابت نہیں تو زید سے قیام کی نفی ضروری ہے۔ تقادیر واقعیہ پر تو یہ بات ٹھیک ہو جاتی ہے، تقادیر فرضیہ پر یہ بات ٹھیک نہیں بیٹھتی۔
میرا خیال بات سمجھ میں نہیں آئی؟ بات واضح ہے، ذرا سمجھانا مشکل ہے آپ کے لیے بھئی، آپ مبتدی طلباء ہیں۔
دیکیھیے بھئی! کبریٰ میں ہم نے پہلے کون سی صورت فرض کی تھی؟ تقادیر واقعیہ۔ یا یوں کرو، کبریٰ میں تین حالتیں بناؤ، کبریٰ میں کتنی حالتیں؟ تین حالتیں: یا تو کبریٰ میں...
2
واقعی حالت مراد ہے، یا فرضی حالت مراد ہے، یا عام ہے چاہے فرضی ہو چاہے واقعی ہو۔ تین صورتیں بنیں۔ کبریٰ کے اندر کتنی؟ تین۔ اول کیا؟ واقعی۔ دوسری کیا؟ فرضی۔ تیسری کیا؟ عام ہو۔ عام ہو چاہے واقعی ہو چاہے بس کسی طرح اس کو صادق آنا چاہیے چاہے واقعی کے اعتبار سے ہو چاہے فرض کے۔ یہ تیسری صورت ہے۔
پہلی صورت کون سی بنی؟ واقعی کے اعتبار سے۔ واقعی کے اعتبار سے اگر کبریٰ پہ نظر کریں تو کبریٰ بالکل ٹھیک ہے۔ واقعی کے اعتبار سے کیا ہے؟ کبریٰ کیا ہے؟ کیا کبریٰ تھا آپ نے کیا پڑھا؟ جب زید قائم صادق نہیں تو زید ليس بقائم صادق۔ واقعی کے اعتبار سے بالکل ٹھیک ہے، واقعی میں جب زید قائم نہیں ہوگا تو زید ليس بقائم ہوگا۔ پہلی صورت کبریٰ اس صورت میں تو کبریٰ ٹھیک بن جاتا ہے۔ لیکن میں نے بتایا اس صورت میں قیاس صحیح نہیں رہتا۔ اس صورت میں قیاس صحیح نہیں رہتا۔
دوسری صورت لے لو کبریٰ میں کون سی حالت آگئی؟ فرضی حالت۔ اگر فرضی حالت کبریٰ میں فرض کرو تو کبریٰ ٹھیک نہیں رہتا۔ کیوں؟ کبریٰ کیا تھا؟ اگر زید قائم صادق نہیں تو کیا صادق ہے؟ زید ليس بقائم صادق ہے۔ حالانکہ یہ ضروری تو نہیں۔ جب ایک چیز آپ فرض کر رہے ہیں تو فرض تو محال چیز کو بھی کیا جا سکتا ہے، ناممکن چیز کو بھی انسان فرض کر سکتا ہے۔ فرض کرنے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں۔ تو آپ فرض کر لیں۔ زید قائم یہ بھی صادق نہیں اور زید ليس بقائم بھی صادق نہیں۔ فرض تو کر سکتے ہیں یا نہیں؟ اور انہوں نے تو کیا کہا؟ جب زید قائم صادق نہیں ہوگا تو زید ليس بقائم صادق۔ نہیں۔ ہم فرض کر لیتے ہیں ایک بھی نہیں صادق۔
تو کبریٰ غلط ہو گیا یا نہیں ہو گیا؟ انہوں نے تو کہا جب ایک صادق نہیں ہوگا تو دوسرا ضرور صادق ہوگا۔ ہم کہتے ہیں نہیں دوسرا بھی نہیں صادق۔ فرض کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ تو کبریٰ پھر غلط غلط ہو گیا یا نہیں بھئی؟ انہوں نے تو کہا تھا دوسرا ضرور صادق ہوگا۔ ہم نے کہا بھئی فرضی بات ہے، فرض کرنے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم فرض کر لیتے ہیں زید قائم بھی صادق نہیں اور زید ليس بقائم بھی دونوں نہیں صادق۔ اور کبریٰ میں کیا کہا جا رہا ہے؟ جب زید قائم نہیں صادق تو زید ليس بقائم صادق ہے اور ہم نے تو کیا کہا؟ دونوں ہی نہیں صادق۔ تو غلط ہو گیا یا نہیں؟ تو اگر اس میں تقادیر فرضیہ مراد ہوں تو کبریٰ صحیح نہیں رہتا۔
دو صورتیں آگئیں، دونوں میں کبریٰ نہیں۔ پہلی صورت میں قیاس ہی صحیح نہیں رہتا کیونکہ صغریٰ میں ہے کیا؟ تقادیر فرضیہ۔ کبریٰ میں کیا ہے تقادیر؟ واقعیہ۔ تو قیاس صحیح نہیں رہتا۔ دوسری صورت لی ہم نے۔ صغریٰ میں بھی تقادیر فرضیہ، کبریٰ میں بھی کون سی تقادیر ہے؟ فرضی، لیکن پھر کبریٰ صحیح نہیں رہتا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تیسری صورت، کبریٰ عام ہے۔ کسی بھی اعتبار سے صادق ہونا چاہیے چاہے واقعی کے اعتبار سے ہو چاہے فرض کے اعتبار سے۔ تو دیکھو عام ہے کسی بھی اعتبار سے صادق ہونا چاہیے اور کسی اعتبار سے کبریٰ صادق ہے یا نہیں؟ واقعی کے اعتبار سے تو صادق ہے۔ واقعی کے اعتبار سے صادق۔ لیکن پھر اس کا کلی ہونا تسلیم نہیں ہمیں- یہ تو آپ کہہ سکتے ہو زید قائم صادق نہیں ہے اس لیے زید ليس بقائم صادق ہے، لیکن آپ کہیں جب بھی زید قائم صادق نہیں ہوگا تو زید ليس بقائم بھی صادق ہوگا۔ جب بھی! یہ تو آپ نے ساری حالتیں کر دیں۔ جب بھی زید قائم صادق نہیں آئے گا تو کیا صادق آئے گا؟ زید ليس بقائم صادق آئے گا۔ اور کون سی حالت ہم فرض کر رہے ہیں؟ عام ہے۔ چاہے واقعی کے اعتبار سے ہو چاہے فرض۔ واقعی کے اعتبار سے تو یہ بات ٹھیک بن جائے گی لیکن آپ نے کلی بات کی ہے ہر حالت میں، تو اس میں تو فرضی بھی آگئے۔ اور فرض کی صورت میں تو دونوں ہی صادق نہ آئیں، یہ ہو سکتا تھا یا نہیں؟ تو کبریٰ غلط ہو گیا یا نہیں بھئی؟
صورت سمجھ میں آگئی؟ اب بات سمجھ میں آئی؟ کہ کبریٰ کے اندر تین احوال ہیں، یا تو اس میں تقادیر واقعیہ مراد ہیں یا تقادیر فرضیہ مراد ہیں یا کبریٰ میں تقادیر عام ہیں۔ اگر اس میں تقادیر واقعیہ مراد ہیں تو پھر اس صورت میں اصغر اکبر کے تحت داخل نہیں ہوتا۔ کبریٰ تو ٹھیک ہے لیکن اصغر اکبر کے تحت داخل نہیں کیونکہ صغریٰ میں امور فرضیہ بیان ہوئے اور کبریٰ میں امور واقعیہ بیان ہوئے تو قیاس ہی صحیح نہ رہا بھئی۔
اور اگر آپ کیا مراد لیتے ہیں کبریٰ سے؟ تقادیر فرضیہ ہیں کبریٰ کے اندر، تو پھر تو کبریٰ ہی صحیح نہیں۔ کبریٰ ہی نہیں۔ ہاں آپ نے کہا زید قائم صادق نہیں تو زید ليس بقائم صادق ہوگا۔ ہم فرض کر لیتے ہیں دونوں ہی نہیں صادق، تو کبریٰ تو غلط ہو گیا۔ آپ نے تو کہا تھا ضرور صادق ہوگا زید ليس بقائم، ہم نے کہا نہیں وہ بھی نہیں صادق۔ تو اگر امور تقادیر فرضیہ مراد ہیں تو کبریٰ پھر غلط۔ اور اگر تقادیر عام ہیں چاہے فرضیہ ہوں چاہے کسی اعتبار سے کبریٰ کو سچا ہونا چاہیے، پھر کبریٰ سچا تو بن جاتا ہے لیکن کلی نہیں بنا سکتے آپ اس کو۔ کلی نہیں بنا سکتے کیونکہ کلی کے اندر دو صورتیں آئیں گی، واقعی بھی اور فرضی بھی۔ واقعی کی صورت میں تو یہ بن جائے گا، فرضی کی صورت میں صحیح نہیں بنے گا، لہٰذا کلی ہونا پھر اس کا درست نہ رہے گا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
تو یہ تھا حل بھئی، سمجھ میں آگیا؟ کہ یہ قیاس صحیح نہیں ہے۔ اس کے اندر اولاً اگر کبریٰ کے اندر وہ امور تقادیر واقعیہ تسلیم کریں تو کبریٰ تو صحیح بن جائے گا لیکن قیاس صحیح نہ رہے گا۔ اور اگر کبریٰ کے اندر تقادیر فرضیہ مانیں تو کبریٰ سرے سے درست ہی نہیں رہتا، اور اگر کبریٰ کے اندر تقادیر عام مانیں تو پھر کبریٰ کا کلی ہونا، آپ نے تو کلی ذکر کیا، تو کلی ہونا غلط ہے، کلی ہونے کے اعتبار سے کبریٰ صحیح ہی نہیں رہتا۔ صحیح نہیں رہتا، تو اس وجہ سے یہ قیاس غلط ہوا کہ صغریٰ کے اندر تقادیر فرضیہ ہیں اور کبریٰ میں تقادیر کوئی سی بھی لے لیں تو یا تو کبریٰ ہی غلط ہو جائے گا یا قیاس ہی صحیح نہیں رہے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح سب کو بھئی؟
والحل اور حل اس کا یہ ہے کہ ان التقادير المأخوذة في الكبرى کہ وہ تقدیریں جو ماخوذ ہیں کبریٰ میں یعنی جو ملحوظ ہیں کس کے اندر؟ کبریٰ میں، وہ تقدیریں جو ملحوظ ہیں کبریٰ میں، اعني قولك یعنی کہ آپ کا یہ قول، کبریٰ ذکر کر رہے ہیں یعنی آپ کا یہ قول یہ جو کبریٰ ہے، کیا کبریٰ ہے؟ كلما لم يصدق زيد قائم صدق نقيضه کہ جب بھی زید قائم صادق نہیں آئے گا تو اس کی نقیض صادق آئے گی، اعني زيد ليس بقائم، میری مراد ہے زید ليس بقائم یہ صادق آئے گا، ان كانت واقعية اگر وہ جو تقدیریں ملحوظ ہیں کبریٰ میں اگر وہ کون سی تقدیریں ہوں؟ ان كانت واقعية اگر وہ واقعی تقدیریں ہیں، فصدقها مسلم تو پھر ان کا صادق ہونا مسلم ہے۔ ان کا صادق ہونا مسلم ہے، ثابت شدہ ہے، تسلیم شدہ ہے، ولكن لا اندراج لیکن اس صورت میں داخل ہونا نہیں، اندراج نہیں۔ کیا معنی؟ کس کا کس کے تحت اندراج نہیں؟ اصغر کا اکبر کے تحت اندراج نہیں، اصغر اکبر کے تحت داخل نہیں، اذ الحكم في الصغرى اس لیے کیونکہ جو حکم لگایا گیا صغریٰ کے اندر، انما هو على التقادير الفرضية غير الواقعية وہ جن تقدیروں پر ہے، وہ تقدیریں جو فرضی ہیں غیر واقعی ہیں، واقع ہونے والی نہیں ہیں۔
ضرورة ان عدم صدق قضية من القضايا من الممتنعات، بھئی صغریٰ کے اندر حکم فرضی کیوں قرار دیا آپ نے؟ آپ نے کہا صغریٰ میں کون سا حکم ہے؟ فرضی تقدیروں پر ہے، کیوں؟ بھئی وجہ یہ آپ خود غور کر لیں، صغریٰ میں کیا کہا گیا؟ اگر کوئی بھی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو زید قائم بھی صادق نہ ہوگا۔ کوئی بھی قضیہ اگر صادق نہ ہو، اور حالانکہ قضیے صادق ہیں یا نہیں؟ قضیے واقعی کے اعتبار سے یہ حکم لگ ہی نہیں سکتا، واقعی میں یہ کہا ہی نہیں جا سکتا کوئی قضیہ صادق نہیں۔ تو لازمی بات ہے کہنا پڑے گا کہ صغریٰ میں کون سا حکم ہے؟ کس اعتبار سے ہے؟ فرضی ہے، ہم نے فرض کر لیا۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
ضرورة ان جی، کیا پیچھے بتلایا؟ اذ الحكم في الصغرى انما هو على التقادير الفرضية غير الواقعية اس لیے کیونکہ حکم جو ہے صغریٰ میں وہ تو ان تقدیراتِ فرضیہ غیر واقعیہ پر ہے، ضرورت ضرورت کا معنی بدیہی اور یقینی کے، ضرورة ان عدم صدق قضية من القضايا من الممتنعات اس بات کے یقینی ہونے کی وجہ سے کہ قضیوں میں سے کسی قضیے کا صادق نہ آنا، قضايا سے ترجمہ کر رہا ہوں پیچھے کی طرف، قضیوں میں سے کسی قضیے کا صادق نہ آنا، من الممتنعات یہ کس میں سے ہے؟ ممتنعات، یہ ممکن ہی نہیں ہے، یہ ناممکنات میں سے ہے کہ قضیوں میں سے کوئی بھی قضیہ صادق نہ آئے، ضرورة ان قولنا الواجب موجود اس بات کے یقینی ہونے کی بنا پر کہ ہمارا قول الواجب موجود او سميع یعنی الواجب سميع او بصير یعنی کہ الواجب بصير واجب الصدق ان کا صادق ہونا تو واجب ہے۔
اور کچھ بھی نہ ہو واجب الوجود کا موجود ہونا واجب ہے یا نہیں؟ واجب ہے۔ واجب الوجود کا سمیع یعنی سننے والا ہونا واجب ہے، واجب الوجود کا بصیر ہونا یعنی دیکھنے والا ہونا واجب ہے۔ اور کچھ بھی نہیں، کم از کم واجب الوجود کا موجود ہونا، واجب الوجود کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس کا وجود واجب ہے، ضروری ہے۔ تو واجب الوجود کا ہونا تو ضروری ہے تو یہ قضیہ تو صادق ہوگا۔ آپ نے کہا کوئی قضیہ صادق نہیں تو زید قائم بھی صادق نہیں، ہم نے کہا یہ ایک فرضی بات ہے، حقیقت سے اس کا تعلق نہیں، اس لیے کیونکہ حقیقت میں تو بہت سے قضیے صادق ہیں، کم از کم یہ تو ضرور صادق ہے کہ الواجب موجود وہ موجود ہے۔ یا الواجب سمیع وہ سننے والا ہے، یا الواجب بصیر وہ دیکھنے والا ہے، تو ان کا صدق تو واجب ہے۔
فيكون عدم صدقها محالا تو ان قضیوں کا صادق نہ ہونا محال، یہ کیا ہے؟ محال، یہ قضیے تو ضرور صادق آئیں گے، ان کا صادق نہ آنا محال ہے۔ وان كانت تقادير الكبرى اعم اور اگر کبریٰ کی تقدیریں عام ہیں، منعنا الكلية تو ہم منع کرتے ہیں اس کے کلی ہونے کا، ہمیں اس کے کلی ہونا تسلیم نہیں، اگر کبریٰ کیا ہو؟ کبریٰ میں کون سی تقدیریں ہوں؟ اعم، عام تقدیریں ہوں چاہے واقعی ہوں چاہے فرضی، منعنا الكلية تو ہم انکار کرتے ہیں اس کے کلی ہونے کا، اذ كذب الشيء انما يستلزم صدق صدق نقيضه کہ کسی چیز کا جھوٹا ہونا، یہ مستلزم ہے اس کی نقیض کے صادق آنے کو، بحسب الواقع واقعی کے اعتبار سے۔
توجہ ہے سبق کی طرف؟ کبریٰ کیا تھا؟ جب بھی زید قائم صادق نہیں، صادق نہ آئے تو کیا معنی؟ کاذب ہے۔ کاذب، تو اس کا کاذب ہونا اس کی نقیض کے صادق اس کو مستلزم ہے۔ جب زید قائم کاذب ہوگا تو کیا صادق ہوگا؟ زید ليس بقائم، یہ واقعی کے اعتبار سے ہے یا فرض کے اعتبار سے؟ یہ واقعی کے اعتبار سے ہے، صورت سمجھ میں آگئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، اس لیے کیونکہ کسی اذ كذب الشيء کسی چیز کا جھوٹا ہونا، کسی قضیے کا جھوٹا ہونا، انما يستلزم صدق نقيضه یہ اس کے نقیض کے سچا ہونے کو مستلزم ہے، بحسب الواقع کس اعتبار سے؟ واقعی کے اعتبار سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جب زید قائم نہیں ہے تو زید ليس بقائم صادق ہے۔
فانه جاز على تقدير المحال اس لیے کیونکہ محال کی تقدیر پر جائز ہے، ان يكذب النقيضان معا کہ دونوں ہی نقیضیں کیا ہوں؟ کاذب ہو جائیں، دونوں ہی نقیضیں نہ زید کے لیے قیام ثابت ہو نہ زید سے قیام کی نفی، تو فرض کرنے میں تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ جاز على تقدير المحال محال یعنی ناممکن کی تقدیر پر ان يكذب النقيضان معا دونوں نقیضیں اکٹھی ہی کاذب ہو جائیں، نہ زید قائم صادق آئے اور نہ زید ليس بقائم صادق آئے، دونوں ہی کاذب ہو جائیں۔ یہ تصور کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو محال کی صورت میں تو یہ دونوں کاذب ہو سکتے ہیں۔ لان المحال جاز ان يستلزم محالا آخر اس لیے کیونکہ ایک محال جو ہے وہ جائز ہے کہ وہ مستلزم ہو دوسرے محال کو۔
ایک محال سے اگر دوسرا محال لازم آئے تو اس میں کوئی خرابی نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ ہم نے بھی ایک محال چیز فرض کی تھی، تو اس سے اگر ایک اور محال لازم آیا اجتماعِ نقیضین آیا تو کیا خرابی ہوئی؟ ہم نے بھی تو فرض کیا نا، حقیقت سے تو اس کا تعلق نہیں، تو فرض کرنا تو محال کا ممکن ہے، تو ایک محال سے دوسری محال چیز لازم آ جائے کوئی حرج نہیں۔ کیا محال کی کیا خرابی لازم آرہی تھی؟ اجتماعِ نقیضین کی، تو فرض کرنے میں تو کوئی مشکل نہیں ہے، اگر یہ محال لازم آئے بھی ایک محال سے دوسرا محال تو اس میں کوئی خرابی لازم نہیں آتی بھئی۔
بات سمجھ میں آگئی؟ خلاصہ سن لو بھئی، بات مکمل ہوئی، سبق مکمل ہوا۔ صرف اب خلاصہ سن لو۔ ایک شخص نے آپ کے سامنے قیاس ذکر کیا کہ جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو زید قائم بھی صادق نہیں، یہ ہے صغریٰ۔ اور کبریٰ: جب بھی زید قائم صادق نہیں تو زید ليس بقائم صادق ہوگا، نتیجہ کیا نکلا؟ جب بھی کوئی قضیہ صادق نہیں ہوگا تو زید ليس بقائم صادق ہوگا، حالانکہ یہ تو اجتماعِ نقیضین ہے۔ یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ بھئی یہ قیاس درست نہیں اور اس میں غلطی آئی، غلطی کی وجہ یہ کہ یہاں پر کبریٰ جو ہے کبریٰ، کبریٰ کے اندر تین صورتیں بنتی ہیں اور تین دو صورتوں کے اندر کبریٰ ہی صحیح نہیں رہتا اور ایک صورت کے اندر قیاس صحیح نہیں رہتا۔
اگر کبریٰ کے اندر یا تو تقادیر واقعیہ مراد ہیں یا تقادیر فرضیہ مراد ہیں یا اس میں تقادیر عام ہیں۔ اگر تقادیر واقعیہ مراد ہیں تو پھر قیاس صحیح نہیں کیونکہ صغریٰ کے اندر تقادیر فرضیہ، کبریٰ کے اندر تقادیر واقعیہ، تو لہٰذا اصغر اکبر کے تحت داخل ہی نہیں، اس پر اصغر پر اکبر کا حکم لگایا ہی نہیں جا سکتا، صورت سمجھ میں آگئی؟ دوسری صورت یہ ہے کہ کبریٰ کے اندر اگر کون سی صورت مراد ہے؟ فرضی، تو فرضی کی صورت میں کبریٰ ہی صحیح نہیں ہے، آپ نے تو کیا کہا تھا؟ اگر زید قائم زید کے لیے قیام ثابت نہیں تو پھر زید سے قیام کی نفی ضروری ہے، ہم فرض کر لیتے ہیں جب قیام نہیں ثابت نفی بھی ضروری نہیں، فرض تو کر سکتے ہیں یا نہیں؟ تو فرض کرنے کی صورت میں کبریٰ ہی صحیح نہیں رہتا، ہم نے تو دونوں فرض کر سکتے ہیں نہ قیام ثابت ہو نہ قیام کی نفی ہو۔
اور تیسری صورت یہ ہے کہ کبریٰ کو کیا کیا جائے؟ عام فرض کیا جائے، چاہے تقادیر واقعیہ ہوں چاہے تقادیر فرضی، پھر اس صورت میں کبریٰ کا کلیہ ہونا درست نہیں بھئی، آپ نے تو کلیہ ذکر کیا، شکل اول بنائی نا؟ شکل اول میں تو شرط کیا تھی؟ کبریٰ کلی ہونا چاہیے، ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ، تو یہاں کلیتِ کبریٰ نہیں، کلی نہیں، کیونکہ کبریٰ میں آپ نے کون سی حالت فرض کی ہے؟ عام، چاہے واقعی ہو چاہے فرضی، عام حالت واقعی حالت میں تو کبریٰ ٹھیک ہو جائے گا لیکن فرضی حالت میں ٹھیک نہیں، اور حالانکہ آپ نے تو کہا تھا ہر حالت میں کبریٰ کیا ہے؟ کلی حکم لگایا نا، تو اس کو تو واقعی طور پر بھی صحیح ہونا چاہیے اور فرضی طور پر بھی صحیح ہونا چاہیے، لیکن واقعی طور پر تو یہ صحیح رہتا ہے لیکن فرضی طور پر صحیح نہیں رہتا، لہٰذا کبریٰ کا کلیہ ہونا صحیح نہ رہا۔
بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ پھر انہوں نے بس مسئلہ میں نے سمجھا دیا، کتاب کی ذرا عبارت انہوں نے پیچیدہ ذکر کی ہے، آپ کے لیے ذرا مشکل ہے کہ دیکھیے کہ اگر تقادیر واقعیہ کبریٰ کے اندر ذکر ہیں پھر تو کبریٰ ٹھیک، پھر تو کبریٰ ٹھیک ہے، قیاس صحیح نہیں ہے بھئی، اور اگر تقادیر
3
یا فرضیہ مانیں، تو پھر تو، پھر کبریٰ ہی صحیح نہیں ہے، کیونکہ فرض کرنے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایک محال سے اگر دوسرا محال یعنی اجتماعِ نقیضین، آپ نے بھی فرض کیا، اور اس فرض کی وجہ سے کیا لازم آیا؟ اجتماعِ نقیضین، تو کوئی حرج نہیں۔ اجتماعِ نقیضین کو فرض کیا جا سکتا ہے۔ فرض تو اجتماعِ نقیضین کو بھی کیا جا سکتا ہے، ارتفاعِ نقیضین کو بھی کیا جا سکتا ہے بھئی۔
چلیے، بس بھئی۔ هذا هو المراد، والله أعلم بحقيقة الكلام۔