LESSONS NO. 52
1
فصل قد جرت عادة الميزانيين أنهم يعبرون عن الموضوع بج وعن المحمول ب ب فمتى فمتى أرادوا التعبير عن الموجبة الكلية يقولون كل ج ب ومقصودهم من ذلك الإيجاز ودفع توهم الانحصار
یہاں سے مناطقہ کی ایک خاص عادت کو مصنف بیان کر رہے ہیں بھئی۔
مناطقہ کی عادت ہے بھئی کہ وہ موضوع کو ج کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔
موضوع کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ ج۔ ج۔ ج جیم پر صرف زبر پڑھیں بھئی۔ مناطقہ العبارۃ میں انہم يعبرون عن الموضوع بج یعنی یہ ج جو ہے ج جیم پر زبر۔ ج، یہ اس کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں موضوع کو۔
اور محمول کو ب کے ساتھ بھئی، ب پر زبر پڑھیں بس۔
تو موضوع کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ ج کے ساتھ اور محمول کو؟ ب کے ساتھ بھئی۔ ب کے ساتھ۔
چنانچہ جب وہ موجبہ کلیہ بتلانا چاہتے ہوں تو یوں کہتے ہیں کل ج ب۔ ہر ج ب ہے۔ جیسے آپ نے کہا تھا كل إنسان حيوان
تو موضوع کیا تھا؟ انسان۔ اور محمول کیا تھا؟ حیوان۔ تو وہاں یہ اب یہ تو ایک خاص مثال تھی۔ یہاں وہ ج اور ب لے آتے ہیں مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک تو مختصر ہو جائے کلام۔ انسان دیکھو لفظ کافی لمبا، ادھر صرف ج کہا مختصر سا۔ ادھر حیوان تھا بھئی تو یہ اس کی جگہ صرف ب لے آئے بھئی، تو یہ دیکھو کتنا مختصر ہو گیا کل ج ب۔ ہر ج ب ہے۔
تو ایک تو اختصار آ جاتا ہے کلام کے اندر بھئی۔ کلام کے اندر اختصار۔
اور دوسرا اس وہم کو دور کرنے کے لیے کہ بھئی مناطقہ عموماً مثالوں کے اندر انسان اور حیوان کو ذکر کرتے ہیں، مثلاً سالبہ کلیہ کی جب بھی وہ مثال ذکر کریں گے وہ سالبہ موجبہ کلیہ، موجبہ مثلاً موجبہ کلیہ کی جب بھی وہ مثال عموماً ذکر کریں گے کون سی ذکر کرتے ہیں؟ كل إنسان حيوان تو معلوم یوں شبہ پڑتا ہے اس سے کہ شاید یہی ایک مثال ہے اس کی۔
موجبہ کلیہ شاید اسی میں بند ہے، یہی ایک مثال ہے اور اس کی کوئی مثال نہیں۔ تو وہ ج اور ب کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں کہ نہیں بھئی۔
اس ج کی جگہ جو بھی آپ دنیا کا لفظ لانا چاہتے ہیں لے آئیں۔ اس ب کی جگہ کوئی بھی محمول دنیا کا آپ لانا چاہتے ہیں لے آئیں بشراطیکہ کلام صحیح ہو۔ کل ج ب۔ ج کی جگہ آپ کوئی بھی لفظ لا سکتے ہیں اور ب کی جگہ آپ اب آپ کوئی اور لفظ لے آئیں۔
ج کی جگہ جملہ صحیح ہونا چاہیے بس۔ کوئی لفظ ج کی جگہ کوئی لفظ لے آئیں، مثلاً مثلاً ج کی جگہ لے آئیں حجر، پتھر لے آئیں۔ اچھا اور ب کی جگہ پھر کیا لائیں گے؟ جماد، بے جان۔ كل حجر جماد، ہر پتھر بے جان ہے، جملہ صحیح ہے یا نہیں بھئی؟ ہاں جملہ صحیح ہونا چاہیے، آپ پھر جو بھی اس کی جگہ لا سکتے ہیں۔ تو یہ بتلانے کے لیے کہ بھئی یہ جو ہم كل إنسان حيوان کہتے ہیں موجبہ کلیہ اسی کے اندر بند نہیں ہے، اس کوئی بھی آپ کسی بھی علم کے اندر کسی بھی فن کے اندر کوئی سے بھی دو لفظ اس طرح لے آئیں کہ اس پر یہ کل کا لفظ داخل ہو اور جملہ صحیح ہو تو وہ موجبہ کلیہ کی مثال ہوگا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، یہ تو موج ہر ایک میں موضوع اور محمول کو اسی طرح کر سکتے ہیں آپ، جیسے دوسری مثال کیا تھی؟
موجبہ جزئیہ، کیا تھی موجبہ جزئیہ کی مثال؟ بعض الحيوان إنسان
آپ اس کی جگہ کیا کہیں گے؟
انسان بعض الحيوان إنسان موضوع کیا؟ حیوان، اس کی جگہ ج لے آئیں۔ اور محمول کیا؟ انسان، اس کی جگہ ب لے آئیں۔ بعض ج ب
ہاں اب اس ج کی جگہ کوئی لفظ آپ لا سکتے ہیں بتلانا یہ مقصد ہے، یہ کوئی متعین نہیں ہے۔ اور ب کی جگہ کوئی محمول آپ لا سکتے ہیں، یہ کوئی متعین نہیں لیکن شرط یہ ہے کلام صحیح ہونا چاہیے آپ کا بھئی۔
مثلاً اب یہاں کیا لا سکتے ہیں ہم؟ کوئی اور مثال بنا لیں۔ بعض، بعض کے ساتھ۔
بعض دیکھیے بعض المسلمين پاکستانیون بعض مسلمان کیا ہیں؟ پاکستانی ہیں بھئی۔
اور کوئی مثال بنا لیں۔ جی؟ ہاں بعض الإنسان أبيض بعض الإنسان أبيض اسی طرح بعض الإنسان أسود تو دیکھو موضوع کی جگہ آپ کوئی بھی لفظ لا سکتے ہیں۔ محمول ب ہے، اس کی جگہ کوئی بھی لفظ لا سکتے ہیں لیکن کلام کیا ہونا چاہیے؟ درست ہونا چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس سے دو فائدے حاصل ہوئے بھئی، ایک تو یہ کہ کلام مختصر ہو گیا، جہاں بھی وہ کہیں گے بھئی موجبہ کلیہ اور پھر فوراً اس کی اگر مثال دینا چاہتے ہیں اگر وہ کہیں جی بعض موجبہ کلیہ کل انسان حیوان بڑی لمبی بات ہو جائے گی بھئی، جگہ جگہ استعمال ہو اور مختصراً کہہ دیا کل ج ب، بات مختصر ہو گئی بھئی۔
اور نیز وہ وہم بھی ختم ہو گیا کہ شاید موجبہ کلیہ اسی ایک کے اندر بند ہے یا موجبہ جزئیہ شاید اسی کے اندر بند ہے، نہیں بھئی ج کی جگہ آپ کوئی موضوع لا سکتے ہیں ب کی جگہ آپ کوئی محمول لا سکتے ہیں۔ صورت اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ سب کے اندر آپ اس طرح کر سکتے ہیں اوپر جتنی مثالیں گزریں موضوع کی جگہ ج لے آئیں اور محمول کی جگہ ب لا سکتے ہیں بھئی۔
فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ قد جرت عادت الميزانيين تحقیق جاری ہے جاری ہوئی ہے مناطقہ کی عادت۔ میزانیین بھئی مناطقہ، آپ نے پڑھا تھا علم منطق کا ایک نام کیا ہے؟ علم میزان بھی ہے بھئی۔ میزان بھی ہے کیونکہ یہ یہ علم ترازو ہے میزان ہے یعنی ترازو ہے درست اور فاسد فکر کے لیے، اس کے لیے پتہ چلے گا کون سی نظر و فکر صحیح ہے اور کون سی صحیح نہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں جب قد جرت عادت الميزانيين تحقیق جاری ہوئی ہے مناطقہ کی عادت کہ أنهم يعبرون عن الموضوع بج کہ وہ تعبیر کرتے ہیں موضوع کو ج کے ساتھ اور تعبیر کرتے ہیں محمول سے ب، کس کے ساتھ؟ ب کے ساتھ۔ فمتى أرادوا التعبير عن الموجبة الكلية پس جب وہ ارادہ کریں موجبہ کلیہ سے تعبیر کا، یعنی جب وہ موجبہ کلیہ کی تعبیر کا ارادہ کریں، يقولون تو یوں کہتے ہیں کل ج ب، ہر ج ب ہے۔
اچھا ومقصود ان کا مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں ومقصودهم من ذلك الإيجاز اور ان کا مقصود من ذلک اس سے الإيجاز وہ اختصار ہے۔ ایجاز کسے کہتے ہیں؟ اختصار کہ کلام مختصر ہو جائے۔ ودفع توهم الانحصار اور نیز انحصار کے وہم کو دفع کرنا دور کرنا، اس کو ختم کرنا۔
انحصار یعنی بند ہونا تاکہ سننے والے پڑھنے والے یہ نہ سمجھیں کہ موجبہ کلیہ صرف اسی ایک کے اندر بند ہے یا دو کے اندر بند ہے، موجبہ جزئیہ کی یہی ایک دو مثالیں ہیں، نہیں بھئی، یہ انحصار کے وہم کو بھی کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ختم کرنا چاہتے ہیں کہ ان میں بند نہیں ہے، کوئی آپ موضوع کی جگہ لفظ لا سکتے ہیں کوئی لفظ آپ محمول کی جگہ لا سکتے ہیں بشرطیکہ کلام کیا ہونا چاہیے؟ درست ہو تو یہ موجبہ کلیہ ہی کہلائے گا۔
یہ معنی ہے ومقصودهم من ذلك الإيجاز ودفع توهم الانحصار اور ان کا مقصود اس کے لیے جو ہے وہ اختصار ہوتا ہے اور انحصار کے وہم کو دور کرنا۔
اور انحصار کے وہم کو دور کرنا، یہ ان کا مقصد ہوتا ہے۔
تو عموماً یہ استعمال کرتے ہیں بھئی۔
جہاں اور ضرورت پیش آئے اور بھی حروف پھر ساتھ ملا لیتے ہیں بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ اوروں کو بھی حروف کو ساتھ ملائیں گے۔
بائی ویسے کہ سوال یہ کہ حروف تہجی میں سے ج اور ب لیے ہیں نا تو یہ الف اور ب کو کیوں نہیں لیا؟
شروع والے لے لیتے، الف اور ب کو لے لیتے تو بھئی الف تو اس لیے نہیں لیا کیونکہ الف ساکن ہوتا ہے اور یہاں ہم نے اس پر زبر پڑھنی ہے جیسے ج اور ب پر کیا پڑھی؟ زبر پڑھی، کل ج ب، تو یہ الف پر بھی زبر پڑھنا پڑتی اور الف تو آپ نے پڑھا ہے کہ ساکن ہوتا ہے، اگر اس پر اس پر حرکت پڑھی جائے تو وہ دراصل صورتاً تو الف ہے لیکن دراصل وہ کیا ہے؟ وہ ہمزہ ہے دراصل بھئی، تو وہ الف رہتا ہی نہیں ہمزہ بن جاتا ہے، اس وجہ سے الف کو استعمال نہیں کیا، ب کو استعمال کیا اور ت اور ث کو بھی چھوڑ دیا پھر، اس کے بعد ج کو استعمال کیا، ت اور ث کو اس لیے چھوڑ دیا کہ ت اور ث کی صورت ب کی طرح ہے تاکہ پوری طرح فرق ہو جائے واضح طور پر بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ت اور ث کو چھوڑ دیا اور ج کو لے لیا۔ پھر یہ ج کو مقدم کیوں کیا اور ب کو مؤخر کیوں کیا؟ یوں کہتے کل ب ج لیکن اس کے بجائے کیا کیا؟ ج کو سے عموماً موضوع کو تعبیر کرتے ہیں اور ب کے ذریعے محمول کو تعبیر کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
وجہ اس کی یہ کہ بھئی اگر ب پہلے ہی ہو اور ج بعد میں ہو تو شبہ پڑ سکتا ہے شاید یہ کیا کر رہا ہے؟ حروف تہجی کو شمار کر رہا ہے ان کو گنوا رہا ہے یا وہ حروف تہجی مراد ہیں، تو بتلایا نہیں بھئی حروف تہجی مراد نہیں ان کو صرف تعبیر کے طور پر ذکر کر دیا کلام کو مختصر کرنے کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی ہے اچھی طرح؟
فصل الحمل في اصطلاحهم اتحاد المتغايرين في المفهوم بحسب الوجود
بھئی اس فصل میں حمل کے بارے میں آپ کو بتائیں گے بھئی۔
آپ نے پڑھا بھئی کہ قضیے کا پہلا جز اسے موضوع کہتے ہیں اور دوسرے جز کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ محمول کو محمول اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا حمل کیا جاتا ہے موضوع پر، کیا کیا جاتا ہے؟ حمل۔ حمل کا معنی ہے ویسے تو لادنا بوجھ لادنا کسی پر بھئی، تو یہاں بھی دیکھیے مثلاً میں نے کہا زيد کاتب جب میں نے کہا زيد کاتب تو گویا میں نے کاتب کا حکم لگایا زید پر یعنی کاتب کو میں نے لاد دیا کس پر؟ زید پر۔
اچھا یہ تو ویسے لفظی معنی کے اصطلاح میں کسے کہتے ہیں؟ با قاعدہ وہ لفظوں میں اس کی تعریف ذکر کر رہے ہیں۔
کہتے ہیں الحمل في اصطلاحهم حمل جو ہے مناطقہ کی اصطلاح میں اتحاد المتغايرين في المفهوم
بھئی دیکھیے مثلاً میں نے کہا زيد کاتب زید کا الگ مفہوم ہے، کاتب کا الگ مفہوم ہے، زید کا کیا مفہوم ہے بھئی؟ زید کہتے ہی کیا وہ شخص معین کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی بھئی۔
تو یہ ہے زید کا مفہوم بھئی، اور کاتب، کاتب کسے کہتے ہیں؟ لکھنے والے کو، تو مفہوم کے اعتبار سے یہ دونوں الگ الگ ہیں۔ متغائر ہیں ایک دوسرے سے بھئی۔
مفہوم کے اعتبار سے موضوع کا الگ معنی ہے اور محمول کا الگ معنی ہے۔
تو یہ جو متغائرین فی المفہوم تھے یہ دو، کون کون؟ موضوع اور محمول، یہ متغائرین فی المحمول جو تھے ان کو وجود ان کا وجود میں متحد ہو جانا کس میں؟ مفہوم میں تو یہ متغائر ہیں لیکن وجود میں پھر ان کا اتحاد آنا، متحد ان کا ہونا یہ ہے حمل بھئی۔
کیسے؟
بھئی زید کا الگ مفہوم کاتب کا الگ مفہوم، تو یہ کیا ہوئے؟ متغائرین فی المفہوم، مفہوم کے اعتبار سے یہ دونوں متغائر ہیں اور پھر جب میں نے کہا زيد کاتب، زید پر کیا حکم لگا دیا؟ کاتب ہونے کا حکم، تو یہ جو دو متغائر تھے مفہوم کے اعتبار سے جو دو لفظ بھئی ان کو میں نے وجود میں ملا دیا، متحد کر دیا۔
اب آپ مجھے بتائیے زید بھئی مثلاً سامنے کھڑا تھا، میں نے کہا زيد کاتب اچھا تو دیکھیے دو متغائر متغائر فی المفہوم جو ہیں ان کا میں نے وجود کے اعتبار سے کیا کر دیا؟ ان میں اتحاد آ گیا بھئی، وہ متحد ہو گئے۔ اب آپ سے میں پوچھتا ہوں زید کون؟ آپ اشارہ کریں گے یہ زید ہے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کاتب کون؟ آپ اسی کی طرف اشارہ کریں گے یہ کاتب ہے بھئی۔
کیا کریں گے؟ بھئی دو متغائر مفہوم تھے لیکن وجود میں دونوں میں کیا ہے؟ کیا آ گیا؟ اتحاد آ گیا، جو زید ہے وہی کاتب ہے اور جو کاتب ہے وہی زید ہے بھئی، تو دیکھو وجود مفہوم میں دونوں میں تغائر تھا لیکن وجود میں دونوں میں کیا ہے؟ اتحاد ہے بھئی، اتحاد ہے۔ یا میں جیسے آپ سے کہتا ہوں عمرو شاعر، عمرو کیا ہے؟ شاعر ہے، اب میں آپ سے پوچھتا ہوں بھئی عمرو کون؟ آپ کہتے ہیں یہ سامنے جو کھڑا ہے یہ عمرو ہے۔ میں نے آپ سے پوچھا شاعر کون؟ آپ پھر اسی کی طرف اشارہ کریں گے یہ شاعر ہے۔ بھئی یہ عمرو اس کا تو مفہوم الگ تھا، شاعر اس کا تو مفہوم الگ تھا لیکن وجود کے اعتبار سے ان میں اب کیا آ گیا؟ اتحاد آ گیا بھئی، جو زید ہے وہی کاتب ہے، جو کاتب ہے وہی زید جو عمرو ہے وہی شاعر ہے اور جو شاعر ہے وہی عمرو ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہ ہے اتحاد المتغايرين في المفهوم بحسب الوجود
تو دیکھیے کہتے ہیں فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے۔ الحمل في اصطلاحهم حمل جو ہے مناطقہ کی اصطلاح میں اتحاد المتغايرين في المفهوم بحسب الوجود
وہ دو وہ مفہوم کے اعتبار سے دو ترجمہ سننا بھئی، مفہوم سے ترجمہ شروع کریں گے۔
وہ مفہوم کے اعتبار سے دو متغائر چیزوں کا اتحاد ہے بحسب الوجود، وجود کے اعتبار سے۔
وہ متغائرین فی المفہوم کا اتحاد ہے توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ متغائرین فی المفہوم کا اتحاد ہے، کس اعتبار سے اتحاد ہے؟ بحسب الوجود، وجود کے اعتبار سے بھئی۔
ففي قولك زيد كاتب وعمرو شاعر پس آپ کے اس قول کے اندر مثلاً آپ کیا کہتے ہیں زيد كاتب، یہ قول، اور اسی طرح دوسرا قول آپ کا عمرو شاعر فمفهوم زيد مغاير لمفهوم كاتب زید کا مفہوم جو ہے وہ غیر ہے کس سے؟ کاتب کے مفہوم سے، زید کا معنی اور کاتب کا معنی اور۔ لكنهما موجودان بوجود واحد لیکن یہ دونوں موجود ہیں ایک ہی وجود کے ساتھ۔ وكذا مفهوم عمرو وشاعر متغاير اور اسی طرح عمرو اور شاعر جو ہیں ان کا مفہوم متغائر ہے ایک دوسرے سے جدا ہے الگ ہے وقد اتحدا في الوجود اور تحقیق یہ دونوں متحد ہو گئے کس کے اندر؟ وجود کے اندر۔
ثم الحمل على قسمين پھر کہتے ہیں حمل دو قسم پر ہے۔
حمل کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر بھئی، حمل کیا جاتا ہے نا محمول کا کس پر حمل کیا جاتا ہے؟ موضوع پر۔ تو کہتے ہیں لأنه إن كان بواسطة في أو ذو أو اللام
تو اگر یہ کس کے واسطے سے ہو حمل؟ في کے واسطے سے أو ذو یا کس کے واسطے سے؟ ذو کے واسطے سے أو اللام یا کس کے واسطے سے؟ لام کے واسطے سے
تو اس کو یاد رکھیے آگے بتائیں گے حمل بالاشتقاق
2
سیدھا حمل کروں بات نہیں بنے گی۔ زیدٌ دارٌ، زید گھر ہے، بھئی زید کوئی گھر ہے؟ نہیں! ہاں اب مجھے مدد لینا پڑے گی کسی اور لفظ کی مثلاً پھر میں 'فی' کی مدد لیتا ہوں۔ زیدٌ فی الدارِ، زید گھر میں ہے، اب حمل صحیح ہو گیا۔ پہلے حمل صحیح نہیں تھا۔
یا جیسے 'زید' ہے اور اس پر میں 'مال' کا حمل کرنا چاہتا ہوں، تو میں کہوں مثلاً بغیر کسی لفظ کے، زیدٌ مالٌ، زید مال ہے، کوئی بات درست ہے؟ نہیں! تو لہٰذا مجھے کسی اور لفظ کی مدد لینا پڑے گی مثلاً 'ذو' کی یہاں مدد لیتا ہوں۔ زیدٌ ذو مالٍ، زید مال والا ہے، دیکھو اب 'ذو' کے ذریعے مدد سے حمل صحیح ہو گیا۔
یا جیسے میں کہتا ہوں کہ المالُ، مال کے لیے پر میں 'زید' کا حمل کرنا چاہتا ہوں، المالُ زیدٌ، مال کیا ہے؟ زید، حمل درست نہیں بن رہا بھئی، پھر میں کسی حرف کی مدد لوں گا، میں 'لام' کی مدد لیتا ہوں، المالُ لِزیدٍ، مال زید کے لیے ہے، اب حمل کیا ہوا؟ صحیح ہو گیا، تو یہاں وہ حمل جس میں ہم کسی حرفِ جار کے محتاج ہوتے ہیں یا کسی اور کسی کسی واسطے کے محتاج ہوتے ہیں حمل میں، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالاشتقاق کہتے ہیں بھئی، اشتقاق۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور اس کو حمل بالاشتقاق کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ جس طرح مشتق محتاج ہوتا ہے مشتق منہُ کا، مشتق منہُ جس سے اشتقاق کیا جائے، مصدر سے کیا کیا جاتا ہے؟ فعل وغیرہ کا اشتقاق، فعل وغیرہ اس سے بنتے ہیں۔ تو مصدر ان کے لیے وہ مصدر کے وہ محتاج ہوئے۔ مصدر کے کیا مشتق اس کا محتاج ہوا؟ فعل، فعل کس کا محتاج ہوا؟ مصدر کا، یعنی یہ مشتق محتاج ہے کس کا؟ مشتق منہُ کا، کہ اس سے یہ بنتا ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی یہ حمل، یہ جو حمل کیا جا رہا ہے، یہ محتاج ہے ان واسطوں کا، 'فی'، 'ذو' یا 'لام' کا بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لانکـ... جی، 'لانہ ان كان بواسطة فی او ذو او اللام'، اسی کیونکہ اگر وہ 'فی'، 'ذو' یا 'لام' کے واسطے سے ہو حمل 'كما فی قولك'، جیسے کہ آپ کے اس قول کے اندر 'زیدٌ فی الدارِ'، زید گھر میں ہے، 'والمالُ لِزیدٍ'، مال کس کے لیے ہے؟ زید کے لیے ہے، 'وخالدٌ ذو مالٍ'، اور خالد مال والا ہے، 'یسمی الحمل بالاشتقاق'، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالاشتقاق کہتے ہیں بھئی۔ وجہ سمجھ میں آ گئی کیوں حمل بالاشتقاق کہتے ہیں؟ کیونکہ یہاں پر بھی یہ حمل کس کا محتاج ہے؟ 'ذو'، 'فی' وغیرہ کا محتاج ہے، جس طرح مشتق محتاج ہوتا ہے کس کا؟ مشتق منہُ کا بھئی۔
حمل دو قسم پر ہے کہ حمل یا تو 'فی'، 'ذو' اور 'لام' کے واسطے سے ہو گا یا ان کے واسطے کے بغیر ہو گا۔ اگر ان کے واسطے سے ہو تو اس کو کہتے ہیں حمل بالاشتقاق، اور اس کو حمل بالاشتقاق کیوں کہتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ جس طرح مشتق وہ محتاج ہوتا ہے مشتق منہُ کا، فعل کیا ہے؟ مشتق ہے بھئی، اور مصدر کیا ہے؟ مشتق منہُ، تو مصدر... فعل جو ہے وہ مشتاق... فعل جو ہے وہ محتاج ہوتا ہے مشتق منہُ یعنی مصدر کا، کیونکہ یہ کس سے بنتا ہے؟ مصدر سے بنتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ حمل محتاج ہے ان واسطوں کا، حمل کس کا محتاج ہے؟ ان واسطوں کا، درمیان میں 'فی' لائیں گے تو پھر ہی حمل صحیح ہو سکے گا، 'لام' لائیں گے تو پھر ہی حمل صحیح ہو سکتا ہے، یا 'ذو' لائیں گے، تو 'فی'، 'ذو' یا 'لام' میں سے کوئی چیز لائیں تو پھر ہی حمل صحیح ہو سکے گا ورنہ حمل صحیح نہیں، تو اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالاشتقاق بھئی۔
جی، تو کہتے ہیں 'وان لم يكن كذلك'، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی حمل بواسطة 'فی' یا 'ذو' یا 'لام' کے نہ ہو، 'بل يحمل شيء على شيء بلا واسطة هذه الوسائط'، بلکہ حمل کیا جائے ایک شے کا دوسری شے پر بغیر واسطہ کے ان وسائط کے، ان واسطـ... ان واسطوں کے... ان واسطوں کے بغیر اگر حمل کیا جائے ایک شے کا دوسری شے پر، 'فيقال له الحمل بالمواطاة'، تو اس کو حمل بالمواطاة کہتے ہیں بھئی۔
'نحو عمروٌ طبيبٌ'، جیسے آپ کیا کہتے ہیں 'عمروٌ طبيبٌ'، عمرو طبیب ہے۔ 'وبكرٌ فصيحٌ'، اور بکر کیا ہے؟ فصیح ہے، فصیح بھئی۔
فصیح کا معنیٰ ہے صاف زبان والا ہونا بھئی عام معنیٰ جو ہے۔ ایک تو فصیح، فصیح و بلیغ ہونا یعنی کلام میں فصاحت و بلاغت ہونا کہ یعنی یوں سمجھو آسان لفظوں میں بھئی اعلیٰ درجے کا کلام کرنے والا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ فصیح بھئی، بہترین کلام کرنے والا۔ جی، جو موقع و محل کے مطابق اور بہترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے کلام کرنے والا ہو، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ فصیح۔ جی، اور اسی طرح یہ عام معنیٰ صاف زبان والے کو بھی فصیح کہہ دیا کرتے ہیں۔
سمجھ میں آئی بات؟ تو عمرو... آپ نے کیا کہا؟ بکر فصیح ہے۔ بکر فصیح ہے بھئی، یعنی اعلیٰ درجے کا کلام کرنے والا ہے، موقع و محل کے مطابق اور بہترین الفاظ استعمال کرتا ہے اپنی گفتگو کے اندر بھئی۔
جیسے بھئی آپ مقررین کو سنتے ہیں، بعضوں کی تقریر عجیب الفاظ وہ استعمال کرتے ہیں، فصاحت و بلاغت کے ساتھ ان کا بیان ہوتا ہے اور لوگوں پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ جیسے حضرت مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہم العالی بھئی، اللہ نے ان کو عجیب فصاحت و بلاغت نصیب فرمائی ہے، اور عجیب اللہ نے مقبولیت نصیب فرمائی کہ انسان حیران ہوتا ہے، پوری دنیا کے اندر مقبولیت بھئی، اور یہ عند اللہ مقبولیت کی علامت ہے بھئی مؤمنین کے لیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو آپ مثلاً کہتے ہیں 'عمروٌ طبيبٌ'، دیکھو... تو دیکھیے آپ نے طبیب کا حمل کیا عمرو پر، اور درمیان میں 'ذو' لائے؟ نہیں! 'لام' بھی نہیں لائے، 'فی' بھی نہیں لائے، تو بغیر ان واسطوں کے آپ نے حمل کر دیا۔ اسی طرح 'بكرٌ فصيحٌ' کہا، تو بکر پر فصیح کا آپ نے حمل کر دیا بھئی، حمل کر دیا۔ اور تو یہ نہ 'فی' کی ضرورت پڑی، نہ 'ذو' کی اور نہ 'لام' کی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالمواطاة۔
تو اگر 'فی' یا 'ذو' یا 'لام' کی ضرورت ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالاشتقاق، اور اگر ان چیزوں کے واسطے کے بغیر ہی حمل صحیح ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حمل بالمواطاة۔ مواطاة کا معنیٰ ہے موافقت، موافقت۔ موافقت بھئی، تو اس کو بھی حمل بالمواطاة اس لیے کہتے ہیں کہ دونوں موافق ہیں ایک دوسرے کے، موضوع اور محمول، چنانچہ آپ محمول کا حمل اس پر سیدھا براہِ راست کر دیتے ہیں، کسی واسطے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی، دونوں میں موافقت ہے۔ اگر موافقت نہ ہوتی تو پھر آپ کو 'فی'، 'ذو' یا 'لام' وغیرہ کسی چیز کی ضرورت پڑتی، حمل درست نہ ہوتا، لیکن دونوں میں یہاں کیا ہے؟ موافقت ہے بھئی، موافقت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس لیے اس کو حمل بالمواطاة کہتے ہیں۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا سب کو؟
تو کہتے ہیں 'وان لم يكن كذلك'، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی ان واسـ... یہ ان واسطوں کے ساتھ حمل نہ ہو، 'بل يحمل شيء على شيء'، بلکہ حمل کیا جائے ایک چیز کا دوسری چیز پر، 'بلا واسطة هذه الوسائط'، ان واسطوں کے بغیر ہی، 'فيقال له الحمل بالمواطاة'، تو اس کو حمل بالمواطاة کہتے ہیں، 'نحو عمروٌ طبيبٌ وبكرٌ فصيحٌ'، جیسے کہ عمروٌ طبيبٌ اور بكرٌ فصيحٌ۔ دیکھو طبیب کا حمل ہوا عمرو پر اور فصیح کا حمل ہوا بکر پر، اور کسی 'ذو' یا 'فی' یا 'لام' کی ضرورت نہیں بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله اعلم بحقيقة الكلام۔