Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-085

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 85 1 فإن كانت الشرطية متصلة فاستثناء عين المقدم ينتج عين التالي واستثناء نقيض التالي ينتج رفع المقدم كما تقول كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا لكن الشمس طالعة ينتج فالنهار موجود لكن النهار ليس بموجود ينتج فالشمس ليست بطالعة گزشتہ سبق میں ہم نے قياس استثنائی کی بحث شروع کی تھی۔ قياس استثنائی کی۔ اور صاحبِ کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ قياس استثنائی جو ہے وہ دو قسم کے وہ قياس استثنائی جو ہے وہ مرکب ہوتا ہے دو قضیوں سے بھئی۔ ان دو میں سے پہلا قضیہ شرطیہ ہوتا ہے اور دوسرا قضیہ حملیہ ہوتا ہے جن کے درمیان کلمہ استثناء إلا یا اس کے مشابہ کوئی حرف یعنی لیکن وغیرہ آتا ہے اور اسی وجہ سے اس کو قياس استثنائی کہتے ہیں استثنائی۔ تو قياس استثنائی میں معلوم ہوا کہ پہلا قضیہ شرطیہ ہوگا۔ اور شرطیہ پھر دو قسم پر ہو سکتا ہے، متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی۔ اور منفصلہ میں پھر وہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے اور مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے بھئی مانعۃ الخلو بھی۔ گویا قضیہ شرطیہ جو پہلا مقدمہ ہوگا قياس استثنائی کا قياس استثنائی میں دو مقدمے ہیں نا پہلا کیا ہے قضیہ شرطیہ اور دوسرا حملیہ بھئی اس قضیہ شرطیہ جو پہلا مقدمہ ہے اس میں چار احتمال ہو گئے بھئی چار احتمال۔ یا وہ کیا ہوگا شرطیہ متصلہ ہوگا یا منفصلہ حقیقیہ ہوگا یا منفصلہ مانعۃ الجمع ہوگا یا منفصلہ مانعۃ الخلو ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو چار احتمال آ گئے بھئی، چار احتمال۔ قياس استثنائی بھئی قياس استثنائی میں یاد رکھیے کبریٰ باہر سے نہیں آتا بھئی۔ صغریٰ صغریٰ تو چار قسم پر ہو سکتا ہے بھئی ابھی میں نے آپ کو بتایا۔ صغریٰ تو شرطیہ ہے اور کبریٰ کیا ہے حملیہ۔ تو صغریٰ جو شرطیہ ہے اس میں چار صورتیں میں نے بتا دیں۔ یا وہ شرطیہ متصلہ ہوگا یا شرطیہ منفصلہ اور اس منفصلہ میں تین صورتیں بن گئیں تو کل چار صورتیں آ گئیں صغریٰ میں یا شرطیہ متصلہ ہوگا یا شرطیہ منفصلہ حقیقیہ ہوگا یا شرطیہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہوگا یا شرطیہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہوگا بھئی چار صورتیں آ گئیں بھئی کس کے اندر؟ صغریٰ کے اندر اور کبریٰ تو ہے قضیہ حملیہ اور درمیان میں کیا آنا ہے صغریٰ اور کبریٰ کے؟ حرفِ استثناء إلا یا لیکن آئے گا بھئی۔ تو یہ جو کبریٰ ہے یعنی قضیہ حملیہ قياس استثنائی میں یہ باہر سے نہیں آتا یہ صغریٰ ہی سے آتا ہے۔ کہاں سے آتا ہے؟ صغریٰ ہی سے آتا ہے اور اس میں چار احتمال ہیں توجہ ہے سبق کی طرف؟ کبریٰ کہاں سے آتا ہے؟ صغریٰ ہی سے آتا ہے صغریٰ ہی سے آتا ہے۔ اور صغریٰ کیا تھا؟ شرطیہ تھا اور شرطیہ کے اندر دو حصے ہوتے ہیں دو جز ہوتے ہیں پہلے کو مقدم کہتے ہیں دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔ تو کبریٰ انہی سے آئے گا مقدم یا تالی سے کبریٰ آئے گا۔ تو کبریٰ کبھی عینِ مقدم ہوگا کبھی عینِ تالی ہوگا کبھی نقیضِ مقدم ہوگا کبھی نقیضِ تالی ہوگا چار احتمال ہیں بھئی یہاں پر۔ کبریٰ نے کہاں سے آنا ہے؟ صغریٰ سے اور صغریٰ کیا ہے قضیہ شرطیہ ہے اور شرطیہ کے کتنے جز؟ دو جز ایک مقدم ایک تالی انہی سے اس نے بننا ہے بھئی انہی سے۔ تو وہ ہو سکتا ہے کبھی عینِ مقدم ہوگا جو مقدم ہے بعینہٖ وہی کبریٰ ہے یا جو تالی ہے بعینہٖ وہی کیا ہے؟ کبریٰ۔ تو کبریٰ کبھی عینِ مقدم ہوگا کبھی عینِ تالی ہوگا کبھی ان کی نقیض ہوگا یعنی نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی تو کبریٰ میں چار احتمال ہو گئے یا وہ عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی ہوگا یہ کس میں چار احتمال ہو گئے؟ کبریٰ میں۔ نتیجہ بھی اس قياس استثنائی میں باہر سے نہیں آتا نتیجہ بھی اس کا صغریٰ ہی سے آئے گا بھئی اور وہاں بھی یہی چاروں احتمال کہ نتیجہ یا تو عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی ہوگا صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ قياس استثنائی جو مرکب ہوتا ہے دو قضیوں سے پہلا قضیہ ہمیشہ کیا ہوگا؟ شرطیہ دوسرا کیا ہوگا؟ حملیہ اور پہلا صغریٰ جو شرطیہ ہے وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے منفصلہ مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے منفصلہ مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے اور کبریٰ وہ باہر سے نہیں آئے گا وہ اسی صغریٰ سے لیا جاتا ہے اور صغریٰ میں تو قضیہ شرطیہ ہے اور اس میں شرطیہ میں دو جز ہوتے ہیں پہلے کو مقدم کہتے ہیں دوسرے کو تالی تو کبریٰ انہی سے لیا جائے گا تو کبریٰ یا تو عینِ مقدم ہوگا یا کبریٰ عینِ تالی ہوگا یا کبریٰ نقیضِ مقدم ہوگا یا کبریٰ نقیضِ تالی ہوگا چار قسمیں بھئی چار احتمال اور نتیجہ بھی یہاں پر باہر سے نہیں آتا نتیجے میں بھی وہی چار احتمال یا وہ عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی ہوگا بھئی صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو اس کے لیے ایک نقشہ بنا لیجیے بھئی ایک نقشہ بنا لیجیے۔ الگ صفحے پر بنائیے بھئی، پورے صفحے پر بنے گا یہ نقشہ۔ اوپر لکھ لیجیے: نقشہ قياسِ استثنائی نقشہ قياسِ استثنائی نقشہ قياسِ استثنائی متصل و منفصل جلدی جلدی لکھیے بھئی نقشہ قياسِ استثنائی متصل و منفصل بھئی دیکھیے، میں نے کیا لکھوایا؟ نقشہ قياسِ استثنائی متصل و منفصل بھئی قياسِ استثنائی کتنے قضیوں سے مرکب ہوگا؟ دو سے ان دو میں سے پہلا ہمیشہ کیا ہوگا؟ شرطیہ ہوگا اور شرطیہ پھر وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ یاد رکھو، اگر صغریٰ شرطیہ متصلہ ہو کیا ہو؟ شرطیہ متصلہ ہو تو اس کو قياسِ استثنائی متصل کہتے ہیں کیا کہتے ہیں؟ قياسِ استثنائی متصل کب کہتے ہیں؟ جب صغریٰ کیا ہو شرطیہ متصلہ ہو اور اگر صغریٰ کیا ہو؟ شرطیہ منفصلہ ہو جس میں تین صورتیں تھیں حقیقیہ، مانعۃ الجمع یا مانعۃ الخلو تو اگر صغریٰ شرطیہ منفصلہ ہو تو اس کو قياسِ استثنائی منفصل کہتے ہیں بھئی کیا کہتے ہیں؟ قياسِ استثنائی منفصل کب کہتے ہیں؟ جب صغریٰ منفصلہ ہو اور اگر صغریٰ متصلہ ہو تو پھر کیا کہتے ہیں؟ قياسِ استثنائی متصل بھئی بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا، نیچے بھئی یہ آپ نے عنوان اوپر دے دیا نقشہ قياسِ استثنائی متصل و منفصل بھئی اب نیچے نشان لگائیے جیسے میں کہہ رہا ہوں ویسے کرتے جائیں اس سے آگے جو چیز ابھی میں نے نہ بتائی ہو وہ آپ نے نہیں کرنی بھئی بات سمجھ میں آئی؟ جہاں میں لکیر کہوں گا وہاں کھینچنی ہے پہلے نہیں کھینچ دینی آپ نے لکیر دیکھیے نیچے ہمیں سات خانے چاہئیں۔ کتنے؟ ابھی لکیر نہ کھینچنا یوں کرو چھ لکیروں کے نقطے لگا دو جہاں سے ہم نے لکیر شروع کرنی ہے اوپر اوپر چھ برابر ایک ایک نقطہ لگائیں چھ خانوں کی جگہ بن جائے خانے سات چاہئیں ہمیں چھ لکیریں لگاؤ گے تو سات بھئی نہیں، میں إنا لله میں کہہ رہا ہوں صرف نقطے لگانے ہیں، لکیریں نہیں کھینچنی ہیں ابھی نیچے کی طرف لکیر نہیں کھینچنی سب سے اوپر صرف ایک ایک نقطہ لگاؤ سب سے اوپر ایک ایک نقطہ کہ اس نقطے سے نیچے کی طرف پھر ہم لکیر کھینچیں گے لیکن ابھی آپ نے لکیر کھینچنی نہیں ہے بس اوپر پہلی سطر میں ایک ایک نقطہ لگاتے جاؤ بس چھ نقطے لگا دیے بھئی؟ برابر فاصلے پر چھ نقطے لگائے تو کتنے خانے بن رہے ہیں ذرا گنو بیچ میں؟ بھئی چوڑائی کے رخ میں چوڑائی کے رخ میں سات خانے ہمیں چاہیے ہوں گے اوپر سے پھر نیچے اس نقطے سے پھر ہم لکیر نیچے کی طرف کھینچیں گے لیکن ابھی آپ نے کھینچنی نہیں ہے لکیر صورت سمجھ میں آ گئی؟ اوپر کتنے نقطے لگا لیے؟ چھ نقطے لگا لیے اور خانے یہ کتنے بنیں گے؟ سات خانے نیچے کی طرف لمبائی میں بن جائیں گے؟ اچھا، اب یوں کرو پہلا نقطہ جہاں لگایا اس کی لکیر کھینچ کے نیچے لے جائیں پہلا نقطہ جہاں لگایا تھا اس کی لکیر کھینچ کر نیچے لے جائیں بھئی یہ ایک خانہ پہلا بنا لیں پہلا خانہ بنا لیں اوپر سے نیچے کی طرف لکیر کھینچ دیں اب اس نقطے پر ٹھیک ہے بھئی؟ اوپر سے نیچے کی طرف پورے صفحے پہ لکیر کھینچ کے لے جائیں یہ پہلا خانہ بن گیا بھئی بن گیا پہلا خانہ؟ اچھا، دوسرا بھی بنا لیں اس کی بھی لکیر کھینچ لیں دوسرا بھی بنا لیں بھئی بنا لیا دوسرا خانہ؟ جی، تیسرا بھی بنا لیں تین خانے لمبائی میں بن گئے بھئی تین بن گئے بھئی؟ اچھا، چوتھے نقطے کو چھوڑ دیں پانچویں کی لکیر نیچے لے جائیں پانچویں کی لکیر نیچے لے جائیں بھئی چوتھے کی جگہ چھوڑ دیں لے گئے بھئی؟ چھٹے کی بھی لکیر نیچے لے جائیں بس بھئی دیکھا، یہ نقشہ ذرا الگ صورت بنوانی تھی اس لیے میں نے کہا لکیریں نہ کھینچیں یہاں ہمیں چاہیے تھے چھ خانے کتنے چاہیے تھے؟ اصل میں ہمیں چھ خانے چاہیے تھے لیکن اس میں سے چوتھا خانہ بڑا چاہیے تھا ہمیں ذرا وہ بڑا بن گیا یا نہیں بھئی یہ خانہ؟ یہ ایک خانہ بڑا بن گیا پہلا بھی چھوٹا خانہ، اوپر سے نیچے کی طرف لکیریں لگائیں آپ نے پہلا خانہ بھی چھوٹا، دوسرا خانہ بھی چھوٹا، تیسرا خانہ بھی چھوٹا، چوتھا خانہ بڑا ہے بھئی پانچواں اور چھٹا پھر چھوٹا خانہ ہے اچھا، پہلے خانے پر لکھیے صغریٰ صغریٰ صغریٰ دوسرے خانے پر لکھیے کبریٰ دوسرے پر لکھیے کبریٰ تیسرے پر لکھیے نتیجہ نتیجہ چوتھا جو بڑا خانہ تھا اس کے اوپر لکھ لیجیے مثالِ صغریٰ بڑے خانے کے اوپر آ جائے گا مثالِ صغریٰ پانچویں خانے پر لکھ لیں مثالِ کبریٰ کبریٰ کی مثال بھئی مثالِ کبریٰ اور آخری خانے پر لکھ لیں مثالِ نتیجہ یعنی نتیجے کی مثال بھئی مثالِ نتیجہ بنا لیا بھئی؟ پہلے خانے پر آیا صغریٰ، دوسرے پر کبریٰ، تیسرے پر نتیجہ، چوتھے پر مثالِ صغریٰ یعنی صغریٰ کی مثال پانچویں پر مثالِ کبریٰ یعنی کبریٰ کی مثال، چھٹے پر ہے مثالِ نتیجہ یعنی نتیجے کی مثال اب اس کے نیچے ان کے نیچے لکیر کھینچ دیں ایک یہ صغریٰ سے لے کر مثالِ نتیجہ تک اس سارے کے نیچے لکیر کھینچ دیں یہ عنوان ہے اوپر کا بھئی تاکہ اب ہم جو نیچے لکھیں یہ اس سے الگ ہو جائے بھئی دائیں سے بائیں لکیر کھینچیں ان کے نیچے ان کے ساتھ ہی ملا کر کھینچیں بھئی بہت زیادہ فاصلہ نہ کریں یہ عنوان بن گیا دیکھو اب یہ اوپر والا حصہ الگ ہو گیا اب نیچے خانے ہیں ان میں ہم صغریٰ، کبریٰ بناتے چلے جائیں گے اچھا، اب یہ جو صغریٰ کا خانہ ہے پہلا اس میں اس خانے کو خالی رکھنا ہے بھئی اس میں بائیں کنارے، بالکل کنارے پر، لکیر کے بالکل شروع میں، پہلی سطر میں لکھ لیں 1 شروع میں شروع میں، بالکل شروع میں کنارے پر 1 لکھ لیں چھوٹا سا اس کے نیچے لکھ لیں 2 الگ الگ سطر میں، ٹھیک ہے؟ ایک ایک سطر میں ایک ایک نمبر دیتے جائیں تیسری میں لکھیں 3 تیسری لکیر میں 3 چوتھی میں اس کے نیچے لکھیں 4 یہ لے جائیں بھئی عدد 16 تک لے جائیں بھئی کنارے پر 1، 2، 3، 4، 5، 6، 16 تک بھئی لکھ لیے بھئی 16 عدد بھئی؟ 16 عدد 16 عدد بھئی صورت سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ 16 ضربیں یہاں بنیں گی بھئی جیسے پچھلے نقشے میں بنی تھیں بعینہٖ اسی طرح ہے یہ بھی اچھا بھئی، نمبر 1 جہاں جس خانے میں آپ نے لکھا، پہلی سطر میں وہاں صغریٰ میں لکھو 1 کے سامنے: شرطیہ متصلہ 1 نمبر کے سامنے لکھ دو شرطیہ متصلہ چھوٹا سا کر کے لکھ دیں ایک لائن میں نہیں آتا تو اوپر نیچے لکھ دیں: شرطیہ متصلہ لکھ لیا بھئی؟ اچھا بھئی، یہ ہے دیکھو اب وہی قياسِ استثنائی ہے قياسِ استثنائی میں کیا تھا؟ پہلا قضیہ یعنی صغریٰ کیا ہوتا تھا؟ شرطیہ اور اس میں پہلی کیا صورت تھی؟ شرطیہ متصلہ ہوگا یہ شرطیہ متصلہ صغریٰ آ گیا اور کبریٰ میں کتنے احتمال تھے؟ کبریٰ باہر سے نہیں آتا تھا کبریٰ صغریٰ سے ہی لیتے تھے تو اس میں کتنے احتمال تھے؟ چار عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی تو لہذا کبریٰ میں یہ پہلی لکیر کے سامنے لکھیں: عینِ مقدم 2 عينِ مقدم لكھ ليا بھئی؟ اس کے نيچے عینِ مقدم کے نيچے لكھیں دوسری لکیر میں كبرٰی میں: عينِ تالی۔ كبرٰی میں ہی لكھیں دوسری لکیر کے سامنے، دو نمبر کے سامنے: عينِ تالی۔ تين نمبر لکیر کے سامنے كبرٰی کے اندر ہی لكھیں: نقيضِ مقدم۔ نقيضِ مقدم۔ چار نمبر لکیر میں كبرٰی والے خانے میں لكھیں، چار نمبر جس کے آگے ہے اور كبرٰی والا خانہ ہو: نقيضِ تالی۔ نقيضِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ اب نتیجے والے خانے میں آئیے تیسرے میں، اور پہلی لکیر کے سامنے، نتیجے والا خانہ ہو اور ایک نمبر والی لکیر ہو، وہاں لکھیں نتیجے میں: عینِ تالی۔ ایک نمبر لکیر کے، نمبر کے سامنے، نتیجے والا تیسرا خانہ: عینِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ اچھا، نیچے والی لکیر میں آئیں اسی خانے میں نتیجے والے میں، دو نمبر کے سامنے لکھیں، دو نمبر والا، دو نمبر والی لکیر، اور خانہ کون سا؟ نتیجے والا، یہاں چھوٹا سا کاٹا ڈال دیں بھئی، اس کا نتیجہ نہیں آتا۔ چھوٹا سا کاٹا لگا دیں، یہاں نتیجہ نہیں آتا۔ اس سے نیچے آئیے اسی نتیجے والے خانے میں تیسری لکیر میں، یہاں بھی چھوٹا سا کاٹا ڈال دیں بھئی، یہ اس کا بھی نتیجہ نہیں آتا۔ چوتھے خانے میں آئیے بھئی، چوتھی لکیر کے سامنے۔ نہیں، خانہ تیسرا ہی ہو، نتیجے والا ہی، چوتھی لکیر میں نتیجے والے خانے میں لکھیں: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ لكھ ليا بھئی؟ دیکھیے، غور کیجیے ذرا۔ صغرٰی ہے شرطیہ متصلہ۔ صغرٰی کیا ہے؟ چاروں شکلوں میں، ضربوں میں صغرٰی شرطیہ متصلہ ہی ہے، اس لیے صغرٰی کے خانے میں میں نے اور پھر کچھ نہیں لکھوایا، وہ یہی شرطیہ متصلہ ہے۔ صغرٰی ہو شرطیہ متصلہ، تو كبرٰی میں چار احتمال ہیں: وہ عینِ مقدم ہوگا، یا عینِ تالی ہوگا، یا نقیضِ مقدم ہوگا، یا نقیضِ تالی ہوگا۔ اس میں سے دو کے اندر نتیجہ آتا ہے۔ ایک پہلی صورت میں جہاں صغرٰی ہے شرطیہ متصلہ اور كبرٰی ہے، صغرٰی ہے شرطیہ متصلہ اور كبرٰی کیا ہے پہلے میں؟ عینِ مقدم، اس کے سامنے نتیجہ ہے: عینِ تالی۔ اگلی دو ضربوں میں نتیجہ نہیں آتا، چوتھی ضرب میں صغرٰی کیا ہے؟ صغرٰی، شرطیہ متصلہ ہی ہے، اور كبرٰی کیا ہے؟ نقیضِ تالی ہے، نتیجہ کیا آیا؟ نتیجہ آیا نقیضِ مقدم، شاباش بھئی۔ اچھا، پانچویں لکیر میں اب آ جائیے۔ صغرٰی کے اندر پہلے خانے میں، پانچ نمبر کے سامنے لکھیں: منفصلہ حقیقیہ۔ منفصلہ حقیقیہ۔ لكھ ليا بھئی؟ اب كبرٰی والے خانے میں آئیے۔ پانچ نمبر کے سامنے كبرٰی والے خانے میں، یعنی منفصلہ حقیقیہ کے بالکل سامنے لکھنا ہے كبرٰی کے خانے میں: عینِ مقدم۔ عینِ مقدم۔ اس سے نیچے كبرٰی ہی کے خانے میں، اسی کے نیچے لکھ لیں اگلی لکیر میں، یعنی چھ نمبر کے سامنے كبرٰی والے خانے میں: عینِ تالی۔ عینِ تالی۔ اس عینِ تالی سے نچلی لکیر میں لکھ لیں: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ ہاں ہاں، سات نمبر میں، سات نمبر لکیر میں كبرٰی والے خانے میں: نقیضِ مقدم۔ آٹھ نمبر لکیر میں كبرٰی والے ہی خانے میں لکھ لیں: نقیضِ تالی۔ نقیضِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ اب نتیجے والے خانے میں آئیے بھئی۔ پانچ نمبر لکیر کے سامنے لکھیں بھئی۔ پانچ نمبر لکیر میں كبرٰی میں کیا تھا؟ عینِ مقدم، اسی لکیر میں پانچ نمبر میں نتیجے والے میں لکھیں: نقیضِ تالی۔ نقیضِ تالی۔ نتیجے والا خانہ ہے، پانچ نمبر لکیر ہے: نقیضِ تالی۔ اس سے نچلی لکیر میں آئیے اسی خانے میں نتیجے میں، چھ نمبر لکیر کے سامنے نتیجے والے خانے میں لکھیں: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ سات نمبر کے سامنے نتیجے والے خانے میں لکھیں: عینِ تالی۔ عینِ تالی۔ آٹھ نمبر کے سامنے نتیجے والے ہی خانے میں لکھیں: عینِ مقدم۔ عینِ مقدم۔ لكھ ليا بھئی؟ دیکھیے، یہاں پانچ نمبر میں صغرٰی تھا منفصلہ حقیقیہ، كبرٰی کیا تھا؟ عینِ مقدم، نتیجہ کیا آیا؟ نقیضِ تالی۔ اگلے چھ نمبر میں صغرٰی وہی منفصلہ حقیقیہ تھا اور كبرٰی کیا تھا؟ عینِ تالی، نتیجہ کیا آیا؟ نقیضِ مقدم۔ سات نمبر خانے میں صغرٰی وہی تھا منفصلہ حقیقیہ اور كبرٰی کیا تھا؟ نقیضِ مقدم، اور نتیجہ کیا آیا؟ عینِ تالی۔ آٹھ نمبر خانے میں صغرٰی وہی منفصلہ حقیقیہ ہے اور كبرٰی کیا ہے؟ نقیضِ تالی، نتیجہ کیا آیا؟ عینِ مقدم آیا۔ اب نو نمبر لکیر پر آئیے بھئی۔ پہلے یعنی صغرٰی والے خانے میں لکھیں نو نمبر لکیر میں: مانعۃ الجمع۔ مانعۃ الجمع۔ یا چاہیں تو اس کے ساتھ منفصلہ کا لفظ بھی بڑھا سکتے ہیں: منفصلہ مانعۃ الجمع لکھ لیں۔ لیکن یہ تو آپ کو پتا ہی ہے یہ منفصلہ کی قسم ہے۔ تو نو نمبر میں کیا لکھ دیا؟ مانعۃ الجمع لکھ لیں یا منفصلہ مانعۃ الجمع لکھ لیں۔ اچھا، اس سے اگلے خانے میں یعنی كبرٰی میں اس کے سامنے لکھیں، یعنی نو نمبر لکیر ہی میں كبرٰی میں لکھیں: عینِ مقدم۔ عینِ مقدم۔ دس نمبر لکیر میں كبرٰی میں لکھیں، كبرٰی میں: عینِ تالی۔ عینِ تالی۔ گیارہ نمبر لکیر پر كبرٰی والے خانے میں لکھیں: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ بارہ نمبر خانے میں كبرٰی کے خانے میں لکھیں: نقیضِ تالی۔ نقیضِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ اچھا، اب نو نمبر لکیر پر پھر آئیے۔ نتیجے والے خانے میں لکھیے بھئی، نو نمبر لکیر، نتیجے والا خانہ: نقیضِ تالی۔ نقیضِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ دس نمبر لکیر میں آئیے، اسی نتیجے والے خانے میں لکھیے: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ اور یہ جو نتیجے والا خانہ ہے، اس میں گیارہ اور بارہ دونوں میں کاٹے کا نشان لگا دیں، یہاں نتیجہ نہیں آئے گا۔ گیارہ اور بارہ، نتیجے والا خانہ۔ دیکھیے، نو نمبر میں صغرٰی کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الجمع، اور كبرٰی کیا ہے؟ عینِ مقدم، نتیجہ کیا آیا؟ نقیضِ تالی۔ دس نمبر میں بھی صغرٰی کیا ہے؟ صغرٰی، صغرٰی، ہاں، منفصلہ مانعۃ الجمع، كبرٰی کیا ہے؟ عینِ تالی، نتیجہ کیا آیا؟ نقیضِ مقدم۔ اور گیارہ اور بارہ میں نتیجہ ہی نہیں آئے گا۔ تیرہ نمبر پر آ جائیے۔ صغرٰی میں لکھیے: منفصلہ مانعۃ الخلو۔ منفصلہ مانعۃ الخلو۔ تیرہ نمبر لکیر ہے، صغرٰی کا خانہ ہے: منفصلہ مانعۃ الخلو۔ اب كبرٰی والے خانے میں اسی کے سامنے، یعنی تیرہ نمبر لکیر، كبرٰی والا خانہ: عینِ مقدم۔ عینِ مقدم۔ لكھ ليا بھئی؟ چودہ نمبر لکیر پر آئیے كبرٰی ہی کے خانے میں، چودہ نمبر لکیر کے سامنے لکھیں: عینِ تالی۔ عینِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ پندرہ نمبر خانے میں آئیے، پندرہ نمبر لکیر پر آئیے۔ كبرٰی والے خانے میں لکھیں: نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم۔ لکیر نمبر ہے پندرہ، خانہ ہے كبرٰی کا، کیا لکھا؟ نقیضِ مقدم۔ سولہ نمبر لکیر پر كبرٰی والے خانے میں لکھیں: نقیضِ تالی۔ نقیضِ تالی۔ لكھ ليا بھئی؟ اچھا، اب پھر تیرہ نمبر لکیر پر آئیے نتیجے والے خانے میں بھئی۔ نتیجے والے خانے میں تیرہ اور چودہ دونوں لکیروں پر کاٹے کا نشان لگا دیں، یہاں نتیجہ نہیں آتا۔ نتیجے کا خانہ ہے تیرہ اور چودہ نمبر لکیر، دونوں جگہ کاٹے کا نشان۔ پندرہ نمبر لکیر پر آئیے، نتیجے والا خانہ ہے، عینِ تالی لکھیں بھئی۔ عینِ تالی۔ سولہ نمبر خانے میں آئیے، سولہ نمبر لکیر پر، نتیجے کا خانہ ہے، لکھ لیجیے: عینِ مقدم۔ عینِ مقدم۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو دیکھیے، تیرہ نمبر خانے پر اب آئیے، صغرٰی کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلو، كبرٰی کیا ہے؟ عینِ مقدم، نتیجہ؟ نہیں آئے گا نتیجہ، شاباش۔ چودہ نمبر میں صغرٰی کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلو، واؤ مشدد ہے، الخلو۔ اور كبرٰی کیا ہے؟ عینِ تالی، نتیجہ؟ نتیجہ نہیں آئے گا۔ پندرہ نمبر میں صغرٰی کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلوِ، اور كبرٰی کیا ہے؟ نقیضِ مقدم، نتیجہ کیا آیا؟ عینِ تالی۔ سولہ نمبر میں صغرٰی کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلوِ ہی ہے، اور كبرٰی؟ نقیضِ تالی، نتیجہ کیا آیا؟ عینِ مقدم آیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے، کتنوں میں، کتنی ضربوں میں نتیجہ نہیں آ رہا؟ چھ، چھ ضربوں میں نتیجہ نہیں آ رہا، یہ عقیمہ ہیں، عقیمہ۔ عقیمہ کا معنیٰ میں نے بتایا تھا بانجھ، بانجھ بھئی۔ تو یہ نتیجہ نہیں دیتیں، اور کتنی باقی رہ گئیں؟ دس، سولہ میں سے چھ نتیجہ نہیں دیتیں تو دس ہیں جو نتیجہ دیتی ہیں، اور وہ میں نے نتیجے لکھوا دیے- اب ان کی مثالیں رہ گئیں بھئی، مثالیں۔ جی، مثال، اب آئیے بھئی چوتھے خانے میں یعنی جس کے اوپر آپ نے لکھا تھا مثالِ صغرٰی۔ اس میں پہلی لکیر میں لکھیے: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجودٌ۔ یہ سارا پہلی سطر میں کوشش کریں پورا آ جائے۔ چھوٹا چھوٹا لکھیں، صرف اتنا ہی ہے جو میں نے بول دیا۔ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجودٌ۔ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجودٌ۔ یہ سارا صغرٰی ہے، یہ صغرٰی کی مثال آ گئی بھئی۔ یہ کیا آ گئی؟ صغرٰی کی مثال بھئی۔ مقدم کیا ہے اس میں؟ صغرٰی بھئی قضیہ شرطیہ ہے نا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ صغرٰی قضیہ شرطیہ ہے، اور کون سا ہے شرطیہ؟ متصلہ، اس میں ایک مقدم ہوگا ایک تالی ہوگا، مقدم کیا؟ إن كانت الشمس طالعة، یہ ہے مقدم۔ تالی کیا ہے؟ فالنهار موجودٌ۔ اچھا۔ بھا‏ئی اب ہمیں كبرٰی چاہیے كبرٰی، آگے كبرٰی کی مثال ہے، کا خانہ ہے۔ پیچھے آؤ بھئی اسی لکیر میں، كبرٰی کیا تھا؟ عینِ مقدم۔ بناؤ كبرٰی لكنَّ کے ساتھ۔ عینِ مقدم کیا ہے؟ الشمس طالعةٌ ہے نا؟ جی؟ تو لكنَّ کے ساتھ اسی کو ذکر کر دیتے ہیں بس، عینِ مقدم کو۔ پیچھے كبرٰی کے خانے میں کیا لکھا تھا؟ عینِ مقدم نا، مطلب عینِ مقدم ہی کو كبرٰی ہم نے بنانا ہے، نقیض نہیں بنانی اس کی بلکہ عین کو بنانا ہے، تو لكنَّ کے ساتھ ذکر کر دو اسی کو، کیسے کہیں گے؟ لكن الشمس طالعةٌ۔ یہ مثالِ كبرٰی میں لکھیں اب یہ۔ مثالِ كبرٰی کا جو خانہ ہے، اس میں پہلی لکیر میں لکھیں: لكن الشمس طالعةٌ۔ اچھا، پیچھے دیکھیے اب نتیجہ کیا آیا تھا؟ عینِ تالی تھا۔ یہاں کیا ہے تالی؟ فالنهار موجودٌ، یہی نتیجہ ہے، عینِ تالی نتیجہ ہے۔ تو آخری خانہ جو ہے مثالِ نتیجہ، اس میں لکھ لیں یہی: فالنهار موجودٌ۔ فالنهار موجودٌ۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ جی؟ کس طرح صغرٰی ہوتا ہے، صغرٰی تو پورا آئے گا، كبرٰی بھی اسی سے لینا ہے، نتیجہ بھی اسی سے لینا ہے۔ بھئی دوسری لکیر میں، اس کا تو نتیجہ ہی نہیں آتا، تیسری کا بھی نتیجہ ہی نہیں آتا، چوتھی لکیر میں آ جائیں۔ چوتھی لکیر میں صغرٰی کیا بنانا ہے؟ شرطیہ متصلہ۔ جی، مثالِ صغرٰی والے خانے میں آ جائیں چوتھی لکیر میں۔ جی، یہاں برابر کے نشان ڈال دیں، وہی اوپر والی مثال ہے۔ وہ جو إن كانت الشمس طالعةً تھا نا، بعینہِ وہی اسی کو یا پورا لکھ لیں، چوتھی لکیر میں بھی اس کو دوبارہ لکھ لیں یا برابر کے نشان ڈال دیں کہ یہ اوپر جو ہے یہی یہاں پر بھی مثال ہے۔ جی؟ نہیں نہیں، چاروں میں نہیں، دو میں تو دوسرے اور تیسرے میں تو نتیجہ ہی نہیں آتا، اس کو خالی چھوڑ دیں، چوتھی لکیر میں آ جائیں۔ ہاں، جن میں نتیجہ نہیں آ رہا ان کو ہم چھوڑتے جائیں گے۔ چوتھی لکیر ہے، خانہ ہے مثالِ صغرٰی والا، اور اس میں آپ یہی جو اوپر پہلی لکیر میں کیا لکھا تھا مثالِ صغرٰی میں؟ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجودٌ، یہی مثال چوتھی لکیر میں بھی لکھ لیں یا برابر کے نشان ڈال لیں، کہ اوپر جو ہے وہی یہاں بھی مثال سمجھیں بھئی، یہی مثال ہے یہاں بھی۔ 3 نشان لگا لیے بھئی؟ یا نشان لگا لیں یا پورا لکھ لیں، جیسے آپ کو آسانی ہو۔ اب نتیجے میں آئیے بھئی! کبرا والی مثال، بھئی! اس طرح چار نمبر میں کبرا دیکھیں کیا بنایا تھا ہم نے شروع میں؟ نقیض تالی۔ تالی کیا ہے یہاں پر؟ تالی اس پورے "فالنہار موجود" یہ صغریٰ پہ نظر رکھو۔ تالی کیا ہے؟ "فالنہار موجود" یہ ہے تالی۔ ہمیں کیا چاہیے؟ نقیض تالی چاہیے۔ تو کیا ہوگی نقیض تالی؟ بھئی! تالی میں کیا ہے؟ دن کے موجود ہونے کا ذکر ہے یا نہ ہونے کا ذکر ہے؟ ہونے کا ذکر ہے، تو نقیض اس میں نہ ہونے کا ذکر ہوگا۔ نقیض میں کیا ہوگا؟ اگر نقیض اسی کا وہ کرلو، طریقہ آپ جان چکے ہیں۔ مثبت کو منفی سے بدل دو، منفی کو مثبت سے بدل دو۔ تو یہاں پر کیا ہے؟ "فالنہار موجود" صغریٰ کے، صغریٰ پہ نظر رکھنی ہے، کبرا اسی سے بنانا ہے۔ اس میں مقدم کیا ہے؟ "الشمس طالعۃ" تالی کیا ہے؟ "فالنہار موجود" اس کی نقیض تیار کر لیں۔ نقیض تالی۔ "لیکن" کے ساتھ۔ "لیکن" کے ساتھ، کیونکہ "لیکن" تو ضرور لانا ہے بیچ میں۔ شاباش! "لیکن النهار ليس بموجود" یہ مثالِ کبرا میں لکھ لیں۔ "لیکن النهار ليس بموجود" لکھ لیا بھئی؟ کبرا کی مثال لکھ لی چوتھے خانے میں؟ "لیکن النهار ليس بموجود" نتیجہ کیا آنا چاہیے تھا؟ پیچھے ہم نے ذکر کر دیا ہے۔ کیا نتیجہ آئے گا؟ نقیض مقدم، اور مقدم کیا ہے؟ "الشمس طالعۃ" طلوعِ شمس کا ذکر ہے یا طلوعِ شمس کی نفی ہے؟ طلوعِ شمس کا ذکر ہے، تو اس کی نقیض بنا لو۔ طلوعِ شمس کی نفی کر دو بھئی۔ "فالشمس ليست بطالعۃ" یہ مثالِ نتیجہ ہے بھئی۔ تو یہ چوتھے خانے میں مثالِ نتیجہ والے خانے میں جو آخری ہے، اس کے اندر لکھیں چوتھی لکیر میں، چوتھی لکیر میں: "فالشمس ليست بطالعۃ" "فالشمس ليست بطالعۃ" صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ بھئی صغریٰ، اب پھر نظر رکھو بھئی ساری لکیروں پر۔ صغریٰ اگر شرطیہ متصلہ ہو اور کبرا کیا آجائے؟ عینِ مقدم آجائے۔ نتیجہ کیا آئے گا؟ عینِ تالی آئے گا۔ مثال ذکر کر دی اور صغریٰ کی بھی اور کبرا کی بھی۔ اب اس کو ملا کر پڑھیں: "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود لكن الشمس طالعة" نتیجہ کیا آیا آگے؟ "فالنهار موجود" پھر چوتھی صورت کے اندر چوتھی ضرب میں، شرطیہ متصلہ، صغریٰ شرطیہ متصلہ تھا، کبرا کیا تھا؟ نقیضِ تالی۔ نتیجہ کیا دے گا؟ نقیضِ مقدم بھئی، چوتھی لکیر میں۔ اور صغریٰ اور کبرا کو اب ذرا ملا کر پڑھیں: "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود لكن النهار ليس بموجود" نتیجہ کیا آیا؟ "فالشمس ليست بطالعۃ" بھئی۔ انہوں نے کہا: دیکھو ترجمے پہ بھی غور کر لو پہلی مثال پہ۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ لیکن سورج تو طلوع ہے۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، لیکن سورج تو طلوع ہے۔ کیا معنیٰ؟ دن بھی موجود ہے۔ آخری مثال: اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، لیکن دن تو موجود نہیں۔ اگر سورج موجود ہو تو دن بھی موجود ہوتا ہے، لیکن دن تو موجود نہیں۔ معلوم ہوا؟ سورج بھی طلوع نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ جی، باقی مثالیں پھر کل انشاء اللہ ہم کر لیں گے۔ آدھا نقشہ ہو گیا، آدھے سے زیادہ، کچھ تھوڑا سا رہ گیا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 85 of 108