LESSONS NO. 48
1
الباب الثاني في الحجة وما يتعلق بها.
فصل في القضايا.
القضية قول يحتمل الصدق والكذب، وقيل: هو قول يقال لقائله: إنه صادق فيه أو كاذب، وهي قسمان: حملية وشرطية.
آج ہم تصدیقات کی بحث شروع کریں گے۔
گزشتہ سبق میں بھی میں نے بیان کیا تھا کہ منطق کا موضوع جو ہیں وہ معلوم تصورات اور معلوم تصدیقات ہیں اس حیثیت سے کہ وہ مجهول تصورات اور مجهول تصدیقات تک پہنچا دیں۔
تو گزشتہ سبق میں وہ قول شارح کا ذکر آیا تھا معرف کا کہ دو معلوم تصوروں کو ترتیب دے کر نامعلوم تصور کو حاصل کیا جاتا ہے اور اس کی چار قسمیں آپ نے پڑھیں: حد تام، حد ناقص، رسم تام اور رسم ناقص، بھئی۔
تو اب تصدیقات کی بحث شروع ہونے لگی ہے اور تصدیقات کے اندر آپ جانتے ہیں کہ دو معلوم تصدیقوں کو ترتیب دے کر نامعلوم تصدیق کو حاصل کرنا یہ دلیل اور حجت کہلاتا ہے، بھئی۔ دلیل اور حجت کہلاتا ہے۔
تو اسی کا بیان آج شروع ہو رہا ہے، لیکن پہلے جیسے وہاں پر جو ضروری چیزیں تھیں جن کا سمجھنا ضروری تھا حجت سے پہلے، مصنف نے وہ بیان کیں۔ یہاں پر بھی پہلے جن ضروری چیزوں کا سمجھنا ضروری ہے حجت کے سمجھنے کے لیے، پہلے ان کو بیان کریں گے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو پہلے قضیہ و کسے تصدیق قضیہ کسے کہتے ہیں اور پھر کی اس کی اقسام وغیرہ وہ تفصیلات بیان کریں گے، بھئی۔
دیکھیے، بھئی! کہتے ہیں: الباب الثاني في الحجة وما يتعلق بها، دوسرا باب حجت کے بیان میں اور وہ جو اس سے متعلق ہیں اور وہ چیزیں جو اس سے متعلق ہیں، بھئی۔
پہلا باب تصور کے بیان میں تھا، وہ گزر گیا۔ یہ دوسرا باب ہے حجت کے بیان میں، بھئی۔ حجت کے بارے میں اور وما يتعلق بها اور وہ چیزیں جو حجت سے متعلق ہیں۔ بها کی ها ضمیر کس کو راجع ہے؟ حجت کو راجع ہے۔
تو وہ چیزیں جو حجت سے متعلق ہیں وہ سب بیان ہوں گی یہاں پر۔
تو یہ باب ثانی ہے۔ اب پھر اس باب کے اندر بھی بہت سی فصلیں آئیں گی جیسے کہ مصنف کا طریقہ ہے وہ چھوٹی چھوٹی فصلوں کے اندر مختلف جو ایک جیسی باتیں ہوتی ہیں ان کو جمع کرتے چلے جاتے ہیں۔
تو پہلی فصل ہے، بھئی! کہتے ہیں: فصل في القضايا، یہ فصل ہے قضايا کے بارے میں یعنی قضیوں کے بارے میں۔ یہ پہلی یہ فصل ہے قضیوں کے بارے میں۔
قضیہ کسے کہتے ہیں، بھئی؟ کہتے ہیں: القضية قول يحتمل الصدق والكذب، قضیہ وہ قول ہے جو احتمال رکھتا ہو صدق اور کذب کا۔
کس کا احتمال رکھتا ہو؟ صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو یعنی سچ اور جھوٹ کا۔
سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھتا ہو۔ کہ یہ قضیہ سچا ہے یا یہ قضیہ جھوٹا ہے، کہا جا سکے، بھئی۔
جو سچ اور جھوٹ کا احتمال رکھتا ہو۔
جی، یہ پہلی تعریف ہے۔ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ قول يحتمل الصدق والكذب، قضیہ اس قول کا نام ہے جو احتمال رکھتا ہو صدق اور کذب کا۔
وقيل اور کہا گیا ہے، یہ دوسری تعریف ذکر کرنے لگے ہیں قیل کے ساتھ: وقيل هو قول يقال لقائله: إنه صادق فيه أو كاذب، کہ وہ قول ہے کہ کہا جا سکے لقائله اس کے کہنے والے کو کہ إنه صادق فيه کہ یہ اس میں سچا ہے أو كاذب یا جھوٹا ہے، کہ یہ اس قول کے اندر سچا ہے یا اس قول کے اندر جھوٹا ہے، بھئی۔
تو دو تعریفیں ذکر کر دیں قضیے کی: ایک تو یہ تعریف ذکر کی کہ وہ قول جو صدق اور کذب کا احتمال رکھے۔
صدق اور کذب کا احتمال رکھے، یعنی اس کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے اس قول کو کہ یہ قول سچا ہے یا یہ قول جھوٹا ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں: "زید عالم ہے"۔
تو اب اس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکتا ہے۔
اگر زید واقعتاً عالم ہے تو کہنے والے کو کیا کہیں گے؟ سچا۔ اور اگر زید عالم نہیں تو پھر اس کے کہنے والے کو کیا کہیں گے؟ جھوٹا۔
دو تعریفیں، بھئی! ایک تعریف تو یہ کی کہ اس قول، یہ قول جو ہے اس میں صدق اور کذب کا احتمال ہو۔
اس قول میں کیا ہو؟ کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ ہے۔
اور اس تعریف کے مطابق صدق اور کذب یہ صفت بنیں گی قضیہ کی، بھئی! کہ یہ قضیہ صادقہ ہے یا یہ قضیہ کاذبہ ہے۔
سچ اور جھوٹ کس کی صفت بن رہی ہیں، بھئی؟ کس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال ہے؟ اس قول کے اندر۔ کس کے اندر؟ اس قول کے اندر۔ وہ جو بات کہی گئی اس بات کے اندر سچ اور جھوٹ کا احتمال ہے۔
یعنی اگر وہ وہ سچ ہے تو اس بات کو موصوف کریں گے سچا ہونے سے کہ یہ بات سچی ہے۔ اور اگر وہ جھوٹ ہے تو اس بات کو موصوف کر سکتے ہیں کس کے ساتھ؟ جھوٹا ہونے کے ساتھ کہ یہ بات جھوٹی ہے۔ تو سچا اور جھوٹا ہونا پہلی تعریف کے مطابق کس کی صفت بنے گا؟ قضیے کی، اس قول کی، بھئی! قول کی۔
اور دوسری تعریف کے مطابق قضیہ وہ قول ہے کہ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، بھئی۔
اس صورت میں جو کہنے والا ہے وہ موصوف ہوگا سچا ہونے سے یا جھوٹا ہونے کے ساتھ۔ کہنے والے کو ہم کہہ سکتے ہیں: یہ سچا ہے یا کہہ سکتے ہیں: یہ جھوٹا ہے، بھئی۔
یہ تو تعریف میں معمولی سا فرق ہے، بھئی! سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو بات بہرحال ایک ہی ہے کہ اس میں یعنی جس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال ہو، بھئی۔ اس کو یوں کہیں اس قضیے کو بھی سچا اور جھوٹا کہہ سکتے ہیں، کہنے والے کو بھی کیا کہہ سکتے ہیں؟ سچا اور جھوٹا کہہ سکتے ہیں۔ لیکن پہلے کے اندر چونکہ قول کی بات کی کہ وہ قول صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو تو لہٰذا وہاں صدق اور کذب صفت بھی کس کی بنے گا؟ اسی قول کی صفت بنے گا یعنی قضیے کی صفت بنے گا۔ اور دوسرے میں قائل کی بات کی، بھئی! تو لہٰذا وہاں صدق اور کذب کس کی صفت بنے گا؟ قائل کی کہ وہ صادق ہے یا کاذب ہے، بھئی۔
سمجھ میں آیا؟ اور قول کی بات کی اور قول کے بارے میں یہ بات پہلے بھی گزر چکی ہے، بھئی! ایک ہے قول ملفوظ، ایک ہے قول معقول۔ قول ملفوظ کسے کہتے ہیں؟ جس پر ہم تلفظ کرتے ہیں جسے زبان سے ہم ادا کرتے ہیں۔ میں نے زبان سے کہا: "زيد عالم"، زید کیا ہے؟ عالم ہے۔ یہ ہے قول ملفوظ۔ اور ایک یہی بات جب ذہن میں ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قول معقول۔ جب زبان سے ادا نہیں کی ذہن کے اندر ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قول معقول۔ اور منطقی کا اصل کام آپ نے پڑھا تھا کہ وہ قول معقول سے بحث کرتا ہے، قول ملفوظ سے بحث اس کا کام نہیں۔ لیکن چونکہ یہ بات ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے ہمیں لفظوں ہی کا سہارا لینا پڑتا ہے، لہٰذا قول معقول کے ساتھ تبعاً وہ کس کی سے بھی بحث کرتا ہے؟ قول ملفوظ کے ساتھ۔ لیکن اصل کام اس کا ہے معانی کے ساتھ بحث کرنا اور وہ قول معقول ہے نہ کہ قول ملفوظ۔
سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ تو یہ بات پہلے گزر چکی ہے، بھئی۔
جی، دوبارہ دیکھیے! کہتے ہیں، بھئی: القضية قول يحتمل الصدق والكذب، قضیہ وہ ایسا قول ہے جو احتمال رکھتا ہو صدق اور کذب کا۔ وقيل هو قول يقال لقائله: إنه صادق فيه أو كاذب، اور کہا گیا ہے کہ قضیہ وہ قول ہے کہ کہا جا سکے اس کے کہنے والے کو کہ وہ سچا ہے اس قول میں أو كاذب یا جھوٹا ہے۔ وهي قسمان، اور یہ جو قضیہ ہے یہ دو قسم پر ہے: حملية وشرطية، ایک قضیہ حملیہ ہے اور ایک قضیہ شرطیہ ہے، بھئی۔ یہ دو قسمیں آ گئیں، بھئی۔
أما الحملية، باقی قضیہ حملیہ جو ہے فهو ما حكم فيها بثبوت شيء لشيء أو نفيه عنه، وہ قضیہ وہ قضیہ ہے حكم فيها کہ جس میں حکم لگایا جائے بثبوت شيء لشيء، ایک شئے کے دوسری شئے کے ثبوت کا أو نفيه عنه یا ایک شئے کے دوسری شئے سے نفی کا۔
بھئی، دیکھیے! میں کہتا ہوں: "زید کھڑا ہے"۔
اس میں زید کے لیے کیا ثابت کر رہا ہوں میں؟ کھڑا ہونا۔ اور میں کہتا ہوں: "زید کھڑا نہیں ہے"۔ اس میں میں کیا ثابت کر رہا ہوں؟ یہاں میں نفی کر رہا ہوں ثابت نہیں کر رہا بلکہ نفی کر رہا ہوں۔ تو ایک شئے کے لیے دوسری شئے کو یا تو ثابت کیا جائے گا یا اس سے اس شئے کی نفی کی جائے گی، تو یہ قضیہ حملیہ کے اندر ہوگا، بھئی۔ کہ ایک شئے کا ایک شئے کے لیے ثبوت ہو یا ایک شئے کی دوسری شئے سے نفی ہو۔
میں نے کہا: "زید عالم ہے"۔
کیا ثابت کیا میں نے زید کے لیے؟ عالم ہونا۔
اور میں کہتا ہوں: "زید عالم نہیں ہے"۔ اب؟ اب میں نے زید سے عالم ہونے کی نفی کی، بھئی! نفی کی۔
کوئی بھی اس طرح کا آپ جملہ دیکھیں اور اس پر غور کریں، ایک چیز کے دوسری کے لیے اثبات ہو یا اس سے دوسری چیز کی نفی ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ حملیہ کہیں گے۔
سمجھ میں آیا؟ مثلاً میں کہتا ہوں: "آج سردی ہے"۔
تو میں نے آج کے دن کے لیے کیا ثابت کر دیا؟ سردی۔ میں کہتا ہوں: "آج سردی نہیں ہے"۔ کیا میں نے کیا؟ آج کے دن سے سردی کی نفی کر دی، بھئی۔ تو جو بھی اس طرح کا جملہ ہو ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہو یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہو، اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ حملیہ کہیں گے، بھئی! آسان سی بات ہے، بھئی۔
کہتے ہیں: أما الحملية، باقی قضیہ حملیہ جو ہے فهو ما، پس وہ قضیہ ہے حُکِمَ سے مراد قضیہ ہے۔ وہ قضیہ ہے حكم فيها بثبوت شيء لشيء کہ حکم لگایا جائے اس میں ایک شئے کے دوسری شئے کے ثبوت کا أو نفيه عنه، نفئ کا عطف ہے ثبوت پر اور وہ مجرور تھا کیونکہ اس پر با داخل ہوئی ہے بثبوت شيء، تو لہٰذا نفی کو بھی کیا پڑھیں گے؟ مجرور۔ تو جس میں حکم لگایا جائے ایک شئے کا دوسری شئے کے ثبوت کا، ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے ثبوت کا حکم لگایا جائے أو نفيه عنه یا ایک شئے کی دوسری شئے سے نفی کا حکم لگایا جائے كقولك، جیسے کہ آپ کا کہنا: زيد قائم۔ دیکھیے! یہاں پر زید پر کیا حکم لگایا گیا؟ قیام کا۔ وزيد ليس بقائم، اور یہاں پر زید سے قیام کی نفی کی گئی، بھئی۔ اور یاد رکھیے، جس میں اثبات ہوگا ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے ثابت کیا جائے گا یعنی اثبات کیا جائے گا، اس کو قضیہ حملیہ موجبه کہیں گے۔ جس میں کیا کیا جائے گا؟ ہاں، یہ بات بھی غالباً پہلے بھی گزر چکی ہے کہ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبہ۔ اور اگر نفی ہو ایک شئے کی دوسری شئے سے، جیسے میں کہتا ہوں: زيد ليس بقائم، تو اس کو کیا کہیں گے؟ سالبہ کہیں گے، سالبہ، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو اس پہلے کو موجبہ کہیں گے کیونکہ وہاں اثبات ہے، ایجاب ہے۔ ایجاب کا معنیٰ اثبات۔ اور دوسرے کو سالبہ کہیں گے جس میں نفی ہے کیونکہ سلب کا معنیٰ ہے نفی، بھئی! نفی۔ تو سالبہ، نفی کرنے والا، یہ بھی نفی کر رہا ہے، بھئی۔
وأما الشرطية فما لا يكون فيه ذلك الحكم، اور باقی قضیہ شرطیہ جو ہے فما، وہ قضیہ ہے لا يكون فيه ذلك الحكم جس کے اندر وہ حکم نہ ہو، یعنی ثبوتِ حکم یا نفیِ حکم نہ ہو، بھئی۔
قضیہ حملیہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے اثبات ہو یا اس کی نفی ہو۔ اگر اثبات ہو تو اسے کہتے ہیں موجبہ اور اگر نفی ہو تو اسے سالبہ کہتے ہیں۔ جبکہ قضیہ شرطیہ میں ایسا نہیں ہوگا۔
یعنی اس میں ایک شئے کا دوسری شئے کے لیے اثبات یا ایک شئے کی دوسری شئے سے نفی نہیں ہوگی، بھئی۔ وہ قضیہ شرطیہ ہوگا، بھئی۔
جی! آگے بھی تفصیل مزید آ رہی ہے، بھئی! تو کہتے ہیں: وأما الشرطية فما لا يكون فيه ذلك الحكم، اور باقی قضیہ شرطیہ جو ہے پس وہ قضیہ ہے کہ نہ ہو اس کے اندر وہ حکم یعنی ثبوتِ حکم یا نفیِ حکم نہ ہو، بھئی۔ وقيل، اور کہا گیا ہے... جی!
مثلاً دیکھیے، بھئی!
آپ کہتے ہیں:
"اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن ہے"۔
اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن ہے، دن ہے۔
تو دیکھیے!
یہاں پر آپ نے ایک شئے کے لیے دوسری شئے ثابت نہیں کی۔
ایک شئے کے لیے یہاں اثبات یا نفی نہیں ہے، بھئی۔
اگر کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں۔ "اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے، دن ہے"۔ اور "اگر سورج نہیں نکلا ہوا تو دن نہیں ہے"، بھئی! تو یہاں دیکھو وہ اثبات اور نفی نہیں ہے، بھئی۔
آگے ایک اور تعریف کر رہے ہیں قضیہ شرطیہ کی کہ بھئی، قضیہ شرطیہ کو اگر کھولیں تو اس صورت میں ہمیں دو قضیے حاصل ہوں گے۔ یعنی قضیہ شرطیہ دراصل دو قضیوں سے مل کر بنا ہوتا ہے۔ قضیہ شرطیہ کس سے مل کر بنا ہوتا ہے؟ تو لہٰذا اگر جب دو سے مل کر بنا ہے تو جب کھولیں گے تو پھر کتنے بن جائیں گے؟ پہلے دو کو ملا کر ایک کیا تھا۔ اب پھر کھول دیں گے تو پھر کتنے بن جائیں گے؟ دو قضیے بن جائیں گے۔ جبکہ قضیہ حملیہ میں ایسا نہیں ہوگا۔ قضیہ حملیہ کو اگر آپ کھولیں گے تو پھر دو مفرد ملیں گے آپ کو، دو قضیے نہیں بلکہ دو مفرد یا ایک مفرد اور ایک قضیہ آپ کو ملے گا، بھئی۔
قضیہ شرطیہ کو اگر کھولیں گے واپس اس کے اجزائے ترکیبی کی طرف تو اس سے کتنے قضیے ہمیں ملیں گے؟ دو۔ اور قضیہ حملیہ کو اگر کھولیں گے اس کے اجزاء کی طرف تو اس صورت میں دو مفرد ملیں گے یا ایک مفرد اور ایک قضیہ ملے گا۔ بہرحال وہاں دو قضیے ہمیں حاصل نہیں ہوں گے جبکہ قضیہ شرطیہ میں ہمیں دو قضیے۔ جیسے دیکھیے، ابھی میں نے مثال ذکر کی:
"اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے"۔
تو یہاں دیکھیے، دو قضیے ہیں۔ "اگر" وغیرہ کو آپ ہٹائیں، پہلا قضیہ ہے: "سورج نکلا ہوا ہے"۔ دوسرا قضیہ کیا؟ "دن موجود ہے"۔
"اگر" اور "تو" وغیرہ جو لفظ ہیں درمیان میں جن کے ذریعے ہم نے ان کو جوڑا تھا ان کو ہٹا دیں۔ پہلا قضیہ کیا بنا؟ سورج نکلا ہوا، دوسرا قضیہ؟ دن موجود ہے، بھئی! تو دو قضیے بن گئے۔
یا "اگر سورج نہیں نکلا ہوا تو دن موجود نہیں ہے"۔ اس کو بھی کھولیں، کتنے بن گئے؟ دو۔ "سورج نہیں نکلا ہوا"، ایک۔ "سورج نہیں نکلا ہوا ہے"، اور دوسرا؟ "دن موجود نہیں ہے"، بھئی! دیکھو، دو قضیے بن گئے۔
تو یہاں دو قضیے ہوں گے۔
وقيل، اور کہا گیا ہے: الشرطية ما ينحل إلى قضيتين، کہ قضی شرطیہ، قضیہ شرطیہ وہ قضیہ ہے ينحل، جو کھل جاتا ہے
2
إلى قضيتين، جو کتنے کتنے کی طرف؟ دو قضیوں کی طرف۔ کقولنا، جیسے کہ ہمارا قول: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔
إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔ دیکھئے! شمس کا لفظ عربی میں مونث ہے بھئی، مونثِ سماعی ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مونثِ سماعی۔ یعنی دیکھئے! اس کے ساتھ کوئی تانيث والی علامت نہیں ملی ہوئی، تا یا الف وغیرہ، الفِ مقصورہ جو تانيث کا ہے وہ اس کے ساتھ نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی عربی میں مونث استعمال ہوتا ہے، عربوں سے ہم نے اس کو اسی طرح سنا ہے۔ تو اس قسم کا مونث اس کو کیا کہتے ہیں؟ مونثِ سماعی بھئی۔ چنانچہ اسی لیے "طالعة"، اس کی جو خبر ہے وہ مونث لائی گئی بھئی، مونث۔
تو "إن كانت الشمس طالعة"، اگر سورج... کیا ترجمہ کریں گے؟ اگر سورج طلوع ہے، یا یوں کہیں، اگر سورج نکلا ہوا ہے، اگر سورج طلوع ہے یا اگر سورج... جو بھی ترجمہ آپ کو مناسب لگے، اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے۔ یا یوں کر لیں، اگر سورج نکلا ہو تو دن موجود ہوگا۔ اگر سورج نکلا ہو تو دن... یعنی دن ہوگا بھئی۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ یہ تھی اثبات والی صورت بھئی۔ اور اسی کی نفی کے انداز میں، اسی قضیہ شرطیہ کو: وليس البتة إذا كانت الشمس طالعة فالليل موجود۔
البتة کے معنی ہوتے ہیں قطعاً بھئی، یقینی طور پر۔ کیا معنی ہوتے ہیں؟ یقینی طور پر۔ دیکھئے! کیسے کریں گے؟ ترجمہ کیا ہوگا؟ "وليس البتة"، اور ایسا نہیں ہے قطعی طور پر، ایسا نہیں ہے یقینی طور پر کہ "إذا كانت الشمس طالعة"، کہ جب سورج طلوع ہو "فالليل موجود"، تو رات موجود ہو۔ جب سورج طلوع ہو تو رات موجود ہو، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے بھئی، ایسا نہیں ہو سکتا بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ جب سورج طلوع ہو تو کبھی بھی رات نہیں ہوگی بلکہ کیا ہوگا؟ دن ہوگا۔ وليس البتة إذا كانت الشمس طالعة فالليل موجود، اور ایسا نہیں ہے قطعی طور پر کہ جب سورج طلوع ہو تو رات موجود ہو۔
فإذا حذفت الأدوات بقيت الشمس طالعة والنهار موجود۔ پس جب حذف کر لیا گیا ادوات کو بھئی، ادواتِ شرط بھئی، وہ وہ لفظ جو شرط کے معنی کا فائدہ دے رہے تھے بھئی، جیسے "إن" اور "إذا" بھئی۔ "إن كانت الشمس"، اگر سورج طلوع ہے، تو یہ اگر والا معنی کس سے... کس کا کیا میں نے؟ إن کا۔ تو دیکھو! یہ ادواتِ شرط ہیں، یہ کیا کرتے ہیں؟ دو جملوں کو آپس میں جوڑتے ہیں بھئی۔ اگر یہ "إن" کا لفظ نہ ہوتا تو پھر "الشمس طالعة" الگ جملہ تھا اور "النهار موجود" الگ جملہ تھا، لیکن اس نے ان کو جوڑ دیا۔ اگلے جملے میں جیسے "إذا" ہے بھئی، إذا۔ تو ان کو ادواتِ شرط کہتے ہیں بھئی۔
بات یہ چل رہی تھی نا کہ قضیہ شرطیہ کو کھولیں تو کیا حاصل ہوں گے؟ دو قضیے۔ اور قضیہ حملیہ کو کھولیں تو کیا حاصل ہوں گے؟ دو مفرد یا ایک مفرد اور ایک قضیہ۔ وہی بات بیان کرنے لگے ہیں، کھولنے لگے ہیں اس قضیہ شرطیہ کو۔ تو اس کے لیے ضروری ہے کہ کیا کریں گے؟ ادواتِ حرف وغیرہ کو حذف کریں گے ان کو۔ تو کہتے ہیں: فإذا حذفت الأدوات، جب ادوات کو حذف کر لیا جائے یعنی ادواتِ شرط کو، بقيت، تو باقی رہ جائے گا، یہ دو قضیے باقی رہ جائیں گے۔ پہلا کیا؟ الشمس طالعة، سورج طلوع ہے۔ والنهار موجود، اور دوسرا قضیہ کیا حاصل ہوگا؟ دن موجود ہے۔
والحملية ما لا ينحل إلى قضيتين۔ اور قضیہ حملیہ وہ ہے کہ جو نہ کھلتا ہو دو قضیوں کی طرف، بل ينحل إما إلى مفردين، بلکہ وہ کھلتا ہے یا تو دو مفردوں کی طرف، كقولك: زيد هو قائم، جیسے آپ کا قول: "زيد هو قائم"، زید کہ وہ کھڑا ہے۔ فإنك إذا حذفت الرابطة، پس جب آپ نے حذف کر دیا رابطے کو، أعني: هو، یعنی کہ "هو"۔ درمیان میں جو جوڑنے والی چیز ہے وہ کیا ہے یہاں پر؟ "هو"۔ جب آپ نے اس کو حذف کر دیا بھئی اور لفظوں کو الگ کیا، بقيت: زيد وقائم، دو لفظ آپ کو حاصل ہو گئے، ایک "زيد" اور ایک "قائم"۔ اور زید بھی مفرد اور قائم بھی مفرد۔ تو یہ ہم نے "زيد هو قائم" کو کھولا تو دو مفرد ہمیں ملے بھئی، ایک زید اور ایک قائم بھئی۔ درمیان میں جو "هو" تھا وہ ربط کا کام دے رہا تھا، اس کو ہم نے حذف کر دیا بھئی۔ تو دیکھو! قضیہ حملیہ کو کھولا تو دو قضیے نہیں حاصل ہوئے بلکہ کیا حاصل ہوئے؟ دو مفرد۔
تو یہی بات انہوں نے اوپر کہی کہ یا تو وہ کھلے گا... اچھا! تو باقی آگے دیکھیے ذرا: بقيت زيد وقائم، تو باقی رہ گئے زید اور قائم، یہ دونوں الگ الگ۔ وهما مفردان، اور یہ دونوں مفرد ہیں۔
اوپر کیا کہا تھا کہ قضیہ حملیہ جو ہے وہ کھلتا ہے یا تو "إما إلى مفردين"، یا تو کس کی طرف؟ دو مفردوں کی طرف، وإما إلى مفرد وقضية، یا وہ کھلے گا ایک مفرد اور ایک قضیے کی طرف، كما في قولك: زيد أبوه قائم، جیسے کہ آپ کے اس قول کے اندر: "زيد أبوه قائم"، زید کہ اس کا باپ کھڑا ہے، زید کہ اس کا والد کھڑا ہے۔
اب ہم اس کو کھولیں گے۔ تو دیکھیے! "زيد"، یہ الگ ہو جائے گا اور "أبوه قائم"، یہ الگ۔ اور "زيد" ہے مفرد، اور "أبوه قائم"، یہ کیا ہے؟ یہ قضیہ ہے۔ تو دیکھو! ایک مفرد اور ایک قضیہ۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ تو ایک زید یہ مفرد آئے گا اور "أبوه قائم" یہ قضیہ ہے بھئی۔ تو ایک مفرد اور ایک قضیہ حاصل ہوا جب ہم نے قضیہ حملیہ کو کھولا بھئی۔
فإذا حللته، جب آپ اس کی تحلیل کریں بھئی یعنی اس کو کھولیں، بقي زيد، وهو مفرد، تو باقی رہے گا زید، ایک تو زید باقی رہے گا اور وہ مفرد ہے۔ وأبوه قائم، وهو قضية، اور ایک "أبوه قائم" باقی رہے گا اور وہ قضیہ ہے بھئی۔
فصل، أي: هذا فصل، یہ فصل ہے۔ الحملية ضربان، قضیہ حملیہ پھر دو قسم پر ہے۔ بھئی! میں پہلے بیان کر چکا ہوں، قضیہ حملیہ کے اندر ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے اثبات ہوگا یا نفی۔ اگر اثبات ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ موجبه۔ اور اگر نفی ہو تو؟ قضیہ سالبہ کہیں گے۔ وہی بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: الحملية ضربان، قضیہ حملیہ جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ موجبة، ایک موجبہ ہے۔ موجبہ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وهي التي حكم فيها بثبوت شيء لشيء، وہ ایسا قضیہ ہے کہ حکم لگایا جائے اس کے اندر ایک شئے کے دوسری شئے کے لیے ثبوت کا۔ ایک شئے کے لیے دوسری شئے کا ثبوت ہو۔ وسالبة، اور دوسری قسم جو ہے وہ قضیہ سالبہ ہے۔ وهي التي حكم فيها بنفي شيء عن شيء، جس میں حکم لگایا جائے ایک شئے سے دوسری شئے کی نفی کا۔ نحو: الإنسان حيوان، انسان حیوان ہے، یہ کس کی مثال؟ توجہ سے! یہ موجبہ کی مثال ہے، انسان کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت۔ والإنسان ليس بفرس، انسان گھوڑا نہیں ہے، یہ کس کی مثال؟ یہ سالبہ کی نفی، انسان کے گھوڑا ہونے کی نفی کی گئی بھئی۔ چلیے بس بھئی! هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔