Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-032

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 64
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 32 1 فصل المركب الناقص علی انواع منها المرکب الإضافی کغلام زید ومنها المرکب التوصیفى کالرجل العالم ومنها المرکب التقییدی کفى الدار وها هنا قد تم بحث الألفاظ والآن نُرشدک إلی بحث المعانی. بھئی گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ مرکب دو قسم پر ہے ایک مرکب تام ہے اور ایک مرکب ناقص ہے۔ مرکب تام وہ ہے کہ جہاں جس پر بات پوری ہو جائے بھئی۔ سننے والے کو پوری بات سمجھ میں آجائے اسے کیا کہا جاتا ہے مرکب تام۔ اور وہ مرکب جس میں بات پوری نہ ہو اسے مرکب ناقص کہتے ہیں بھئی۔ آج ہم مرکب ناقص کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ پہلے کتاب سے پہلے اس کی اقسام اچھی طرح سمجھ لیں بھئی۔ یاد رکھیے کہ مرکب ناقص جو ہے یعنی جہاں بات جس میں بات پوری نہیں ہوتی۔ سننے والا منتظر رہتا ہے کہ کوئی اور لفظ آئے جس سے بات پوری ہو جائے۔ تو یہ جو مرکب ناقص ہے یہ دو قسم پر ہے۔ ایک مرکب تقییدی ہے اور ایک مرکب غیر تقییدی بھئی۔ تقییدی یہ ابھی عبارت میں لفظ آیا بھئی تا ہے قاف اور دو یا ہیں بھئی۔ دو یا پہلی یا کے نیچے کسرہ پڑھیں گے بھئی تقییدی۔ تو مرکب ناقص کتنی قسم پر ہوا؟ دو قسم پر ایک تقییدی اور ایک غیر تقییدی۔ تقییدی بھئی قید سے ہے قید سے۔ یعنی مرکب تقییدی وہ ہے جہاں پر دوسرا کلمہ پہلے کلمے کے لیے قید ہو بھئی۔ یعنی یوں کہو کلمہ تو منطق کے اندر بھئی فعل کو کہتے ہیں تو منطق والا کلمہ میری مراد نہیں لفظ بھئی۔ پہلا دوسرا لفظ پہلے لفظ کے لیے کیا ہو؟ قید مرکب ہے نا جس میں دو یا دو سے زیادہ الفاظ ہوتے ہیں۔ تو یہاں پر دوسرا لفظ کیا ہوگا پہلے لفظ کے لیے؟ قید ہوگا۔ قید ہوگا۔ اور پھر اس کی دو قسمیں ہیں بھئی دو قسمیں۔ ایک مرکب اضافی اور ایک مرکب توصیفی۔ مرکب اضافی جس میں پہلا جز مضاف ہوتا ہے اور دوسرا جز مضاف الیہ۔ جیسے غلام زید کیا ترجمہ ہوگا؟ زید کا غلام۔ یہ ہے مرکب اضافی بھئی۔ اب دیکھو اس میں بات پوری نہیں ہے یہ مرکب ناقص ہے میں نے آپ سے کہا زید کا غلام کیا آپ کو پوری بات سمجھ میں آگئی؟ ہاں صرف زید کے غلام کا تصور تو آپ کے ذہن میں آیا لیکن بات پوری نہیں ہوئی کہ اس کے بارے میں میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ وہ آیا ہے یا چلا گیا ہے یا زندہ ہے یا مر گیا ہے کوئی آگے خبر اس میں نہیں آگے پوری بات بھئی۔ تو لہذا یہ مرکب ناقص ہوا اور پہلا جز مضاف ہے اور دوسرا جز مضاف الیہ ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں مرکب اضافی۔ مرکب اضافی۔ اور مرکب ناقص کی دوسری قسم مرکب تقییدی۔ مرکب تقییدی کی پھر دوسری قسم جو ہے یہ مرکب توصیفی کہلاتی ہے۔ جس میں پہلا جز موصوف ہوتا ہے اور دوسرا جز صفت ہوتا ہے۔ جیسے میں آپ سے مثلاً کہتا ہوں رجل شجاع۔ رجل موصوف ہے اور شجاع اس کی صفت ہے۔ شجاع کا کیا معنی؟ بہادر بھئی۔ تو رجل شجاع کیا معنی ہوگا؟ بہادر آدمی۔ یاد رکھیے عربی کے اندر صفت مؤخر ہوتی ہے جبکہ اردو میں صفت مقدم ہوتی ہے۔ دیکھو رجل کا کیا معنی تھا آدمی یا مرد اور شجاع کا کیا معنی ہے بہادر تو عربی میں مرد کا لفظ مقدم ہے اور بہادر کا لفظ مؤخر ہے تو عربی میں صفت بعد میں آتی ہے جبکہ اردو کے اندر صفت پہلے آتی ہے موصوف بعد میں آتا ہے۔ چنانچہ رجل شجاع کا ترجمہ آپ اردو میں کیا کرتے ہیں؟ بہادر آدمی تو دیکھو بہادر اس کو آپ نے مقدم کر دیا حالانکہ عربی میں بہادر کا لفظ مؤخر تھا بھئی شجاع کا لفظ مؤخر تھا۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ مرکب توصیفی ہے پہلا جز موصوف ہوتا ہے اور دوسرا صفت ہوتا ہے۔ صفت۔ فا پر فتحہ پڑھیں سمجھ میں آیا؟ صفت کیونکہ اس کے آخر میں عربی میں گول تا آتی ہے صفت۔ اور گول تا عربی میں جہاں بھی آ جائے اس کا ماقبل ہمیشہ آپ کو مفتوح ملے گا پورے کلام عرب کے اندر بھئی۔ تو فا کو سا نہیں پڑھنا بلکہ اس پر فتحہ پڑھنا ہے۔ تو مر تو میں نے تقسیم آپ کو بتلائی کہ مرکب تام مرکب ناقص دو قسم پر ہے ایک مرکب تقییدی اور ایک مرکب غیر تقییدی۔ مرکب تقییدی جس کے اندر دوسرا جز پہلے جز کے لیے قید ہو دوسرا لفظ پہلے لفظ کے لیے قید ہوتا ہے تقییدی ہے نا قید سے ہے تو دوسرا جز پہلے جز کے لیے قید ہے۔ غلام زید اس کے اندر زید کا لفظ غلام کے لیے قید ہے مضاف مضاف الیہ کے بغیر پورا نہیں۔ اور اسی طرح مرکب توصیفی کے اندر بھی جو صفت ہوتی ہے وہ موصوف کے لیے قید ہوا کرتی ہے۔ تو مرکب تقییدی دو قسم پر ہوا ایک مرکب اضافی اور دوسرا مرکب توصیفی۔ یہ تو تھا مرکب تقییدی بھئی اور اس کی قسمیں جبکہ دوسری قسم کیا بتلائی مرکب غیر تقییدی جس میں دوسرا جز پہلے جز کے لیے قید نہیں ہوتا یا دوسرا لفظ پہلے لفظ کے لیے قید نہیں ہوتا۔ اور اس میں یاد رکھیے پہلا جز وہ حرف ہوگا یعنی ادات ہوگا کیا ہوگا؟ حرف۔ منطق میں حرف کو کیا کہتے ہیں کیا بتایا تھا انہوں نے آپ کو؟ ادات ادات کہتے ہیں۔ تو ایک جز اس کے اندر ادات ہوگا اور دوسرا جز اسم یا فعل ہوگا۔ کیا ہوگا؟ اسم یا فعل اسم یا فعل ہوگا۔ یعنی یوں کہو منطق کے الفاظ استعمال کریں۔ پہلا جز ادات ہوگا اور دوسرا جز اسم ہوگا۔ یا پہلا جز ادات ہوگا اور دوسرا جز کلمہ ہوگا۔ فعل کو کیا کہتے ہیں منطق میں؟ کلمہ۔ تو دوسرا جز کلمہ ہوگا بھئی۔ مرکب غیر تقییدی کے اندر ایک جز کیا ہوا کرتا ہے ادات یعنی حرف اور دوسرا جز اسم ہوتا ہے یا کلمہ ہوتا ہے یعنی فعل بھئی۔ مثلاً بھئی میں آپ کے سامنے لفظ بولتا ہوں فی الدار فی الدار۔ فی الدار دیکھیے یہ مرکب ہے اور اس کے اندر پہلا جز فی یہ کیا ہے؟ ادات ہے۔ ادات ہے یعنی حرف ہے اور دوسرا جز الدار یہ اسم ہے۔ تو دیکھیے یہ یہ لفظ مرکب ہے۔ پہلا جز اس کا ادات ہے اور دوسرا جز اسم اور یہ مرکب کی کون سی قسم ہے؟ مرکب ناقص ہے اور پھر مرکب ناقص کی کون سی قسم؟ غیر تقییدی۔ مرکب غیر تقییدی۔ اسی طرح بھئی پہلا جز مثلاً ادات ہوگا اور دوسرا جز کلمہ۔ مثلاً میں آپ کے سامنے ایک جملہ بولتا ہوں قد قام زید۔ قد قام زید۔ قد قام زید۔ تو اب یہاں پر دیکھیے قد تحقیق کے لیے آتا ہے۔ تحقیق زید کھڑا ہے زید کھڑا ہوا۔ تو قد قام زید پہلے تو مجھے یہ بتائیے کہ یہ مرکب تام ہے کہ مرکب ناقص ہے؟ قد قام زید تحقیق زید کھڑا ہے۔ یہ مرکب بات پوری ہو رہی ہے شاباش یہ مرکب یہ مرکب تام ہے۔ अच्छा अब हम इसमें से एक जूस ले लेते हैं مرکب ناقص بنا دیتے ہیں۔ زید کو ذرا ختم کر دو۔ اس جملے میں سے صرف قد قام کا لفظ ہم نے پکڑ لیا۔ اب یہ قد قام یہ مرکب تام ہے یا مرکب ناقص ہے؟ اب مرکب ناقص ہے کیونکہ فاعل ہے اور آپ نے اس کو فی الحال ختم کر دیا فاعل کے بغیر فعل پورا نہیں بھئی بات پوری نہیں۔ تو قد قام یہ مرکب ناقص ہوا پھر اس کے اندر یہ مرکب تقییدی ہے کہ غیر تقییدی بھئی؟ غیر تقییدی غیر تقییدی کیونکہ تقییدی کے اندر یا تو وہ مضاف مضاف الیہ ہوتے ہیں یا موصوف صفت یہ نہ مضاف مضاف الیہ ہیں آپس میں نہ موصوف صفت ہیں۔ قد قام میں ایک ادات ہے یعنی حرف ہے اور دوسرا کلمہ یعنی فعل ہے۔ تو اسے کیا کہیں گے مرکب غیر تقییدی بھئی۔ تو فی الدار بھی مثال ہوئی مرکب غیر تقییدی کی اور قد قام کس جملے میں سے قد قام زید میں سے یہ بھی کیا ہے مرکب غیر تقییدی ہے۔ میں نے قد قام زید کا جملہ ذکر کیا پھر اس میں سے کہا یہ جو قد قام ہے صرف یہ مرکب ناقص ہے۔ کیونکہ اگر قد قام کو اکیلا رکھیں زید کو اس کے ساتھ نہ مانا جائے تو پھر تو قام کے اندر ہوا ضمیر آ جائے گی تو پھر بھی یہ مرکب تام بن جائے گا بھئی۔ کیا بن جائے گا؟ مرکب تام بن جائے گا۔ تو یہ وہ قد کام یہ وہ والا قام ہم نے منتخب کیا جس کے اندر ضمیر نہیں ہے۔ اگر ضمیر آ جائے تو فعل ہوتا ہے مسند اور آگے ضمیر وہ فاعل یعنی مسند الیہ اور ہم نے پڑھا تھا کہ مسند اور مسند الیہ دونوں پائے جائیں تو وہ مرکب تام ہوا کرتا ہے مرکب ناقص نہیں۔ تو ایسی مثال ہم نے منتخب کی جس کے اندر مسند تو ہے مسند الیہ نہیں۔ قد قام یہاں قام مسند تو ہے لیکن وہ زید جو مسند الیہ تھا اس کو ہم نے ختم کر دیا۔ بات سب کو سمجھ میں آرہی ہے اچھی طرح؟ تو معلوم ہوا بھئی مرکب ناقص کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو۔ ایک مرکب تقییدی اور ایک مرکب غیر تقییدی۔ پھر مرکب تقییدی کتنی قسم پر؟ دو قسم پر۔ ایک مرکب مرکب اضافی اور دوسرا مرکب توصیفی۔ مرکب اضافی جس میں پہلا جز مضاف ہو اور دوسرا مضاف الیہ۔ اور مرکب توصیفی جس میں پہلا جز موصوف ہو اور دوسرا جز صفت ہو۔ صفت۔ اور مرکب غیر تقییدی کے اندر ایک جز ادات ہوتا ہے اور دوسرا جز اسم یا اسم یا کلمہ ہوتا ہے۔ پہلا جز ادات ہو اور دوسرا جز اسم ہو اس کی مثال فی الدار۔ اور یا اور بھی کوئی ایسی مثال بنا لیں من المسجد تو من ادات ہے اور المسجد اسم ہے۔ اور دوسری مثال کہ پہلا جز حرف ہو یعنی کلمہ ہو اور دوسرا جز فعل ہو جیسے قد قام میں نے مثال ذکر کر دی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ فصل ای هذا فصل یہ فصل ہے المرکب الناقص علی انحاء مرکب ناقص کئی قسم پر ہے انحاء جمع ہے نحو کی اور نحو کا ایک معنی قسم کے بھی ہیں بھئی۔ مرکب ناقص کئی قسم پر ہے منھل مرکب الإضافی ان میں سے ایک مرکب اضافی ہے کغلام زید جیسے غلام زید ومنھل مرکب التوصیفی اور ان میں سے ایک مرکب توصیفی ہے کرجل العالم جیسے الرجل العالم الرجل موصوف اور العالم صفت بھئی۔ بھئی دیکھیے فی الدار جو ہے فی الدار اس کے اندر فی الدار کو مرکب غیر تقییدی بنایا گیا؟ ابھی میں نے تقسیم آپ کے سامنے کی فی الدار کو کون سی قسم بنایا؟ غیر تقییدی۔ اور غلام زید اور رجل عالم اس کو کیا بنایا؟ تقییدی بنایا بھئی۔ قید ہے۔ یہ جو مرکب تقییدی ہوتا ہے جس میں دوسرا جز پہلے جز کے لیے قید ہوتا ہے۔ اس میں دونوں جز جو ہوتے ہیں ان کا معنی تام ہوتا ہے بھئی۔ یعنی وہ اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرتے ہیں۔ آپ نے پڑھا تھا یعنی بھئی مفرد تین قسم پر ہے اسم، کلمہ اور ادات۔ اگر وہ مفرد جو ہے اس کا معنی یا تو مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا۔ اگر مستقل ہے تو وہ اسم ہوگا یا فعل اور اگر مستقل نہیں تو وہ ادات ہوگا یعنی حرف بھئی۔ کیونکہ حرف بھئی وہ اپنے معنی پر خود دلالت نہیں کرتا جب تک اس کے ساتھ کوئی دوسرا کلمہ نہ ملایا جائے۔ جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی من۔ من یہ ابتدا کا معنی ادا کرتا ہے لیکن جب تک اس کے ساتھ دوسرا لفظ نہ ملائیں اس وقت تک یہ ابتدا کا معنی ادا نہیں کرتا۔ جبکہ ایک خود لفظ ابتدا ہے۔ دیکھو من کہا تو آپ کو ابتدا سمجھ میں نہیں آئے گی لیکن جب میں من المسجد کہوں گا تب آپ کو ابتدا سمجھ میں آجائے گی کہ کسی کام کی ابتدا مسجد سے ہو رہی ہے۔ اور صرف لفظ ابتدا میں کہتا ہوں ایک ہی لفظ بولا اور آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آگیا کہ ابتدا کا کیا معنی ہوتا ہے شروع کرنا۔ تو من بھی وہی معنی ادا کر رہا ہے لفظ ابتدا بھی لیکن من مستقلاً اس معنی پر دلالت نہیں کرتا۔ کیونکہ یہ ادات ہے حرف ہے۔ جبکہ ابتدا یہ اسم ہے یہ اکیلا ہی کیا کر دیتا ہے اپنے معنی پر پوری طرح دلالت کر دیتا ہے۔ تو اور پھر اس کے بعد جب کلمہ مفرد اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کر رہا ہو تو پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوگا یا نہیں ملا ہوگا۔ اگر نہیں ملا تو وہ اسم ہے اور اگر ملا ہوا ہو تو وہ فعل یا کلمہ بھئی مناطقہ کے ہاں اسے کلمہ کہا جاتا ہے۔ تو دیکھیے اسم اور فعل یہ مستقلاً اپنے معنی پر دلالت کرتے ہیں ان کے ساتھ کسی اور کلمے کو نہ جوڑیں پھر بھی یہ کیا کریں گے اپنے معنی پر پوری طرح دلالت کر دیں گے۔ جبکہ حرف مستقل دلالت نہیں کرتا یعنی اکیلا ہو تو اپنے معنی پر دلالت نہیں کرے گا جب اس کے ساتھ کوئی اور لفظ ملے گا پھر یہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا۔ تو یہاں پر بھی مرکب تقییدی اور غیر تقییدی کے اندر آپ دیکھ لیں مرکب غیر تقییدی کے اندر ایک جز حرف ہے یعنی کلمہ ہے۔ وہ اپنے معنی پر مستقل دلالت نہیں کرتا۔ اور دوسرا جز اسم ہوگا یا کلمہ ہوگا اور اسم اور کلمہ کیا کرتے ہیں اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرتے ہیں پوری طرح دلالت کرتے ہیں۔ تو مرکب غیر تقییدی کے اندر ایک جز جو ہے وہ پوری طرح اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا اور ایک جز اپنے معنی پر پوری طرح دلالت کرتا ہے۔ جبکہ مرکب تقییدی کے اندر 2 اور پہلا جز دوس... بھی تام اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کر رہا ہے، اور دوسرا جز بھی تام وہ اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرے گا بھئی۔ غلام زید، دیکھو غلام میں کہوں آپ کو غلام کا معنی سمجھ میں آ گیا یا نہیں آیا بھئی؟ زید کہتا ہوں زید کا بھی معنی آپ کو سمجھ میں آ گیا۔ اسی طرح رجل شجاع، رجل صرف کہوں اس کا بھی معنی آپ کو سمجھ میں آ گیا، شجاع کہوں تو اس کا بھی مستقل معنی آپ کو سمجھ میں آ گیا، تو یہاں دونوں جز جو ہوتے ہیں وہ اپنے معنی پر پوری دلالت کرتے ہیں بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا دونوں کے اندر بھئی؟ اچھا بھئی، دیکھیے اب کتاب پر بھئی۔ تو کیا کہتے ہیں، المركب الناقص على انحاء، مرکب ناقص کئی قسم پر ہے، منها المركب الاضافي، ایک ان میں سے مرکب اضافی ہے، كغلام زيد، ومنها المركب التوصيفي، اور ان میں سے مرکب توصیفی ہے، كرجل العالم۔ عالم مرد بھئی۔ یہ کس کی قسمیں ہوئیں بھئی؟ مرکب ناقص کی۔ اور مرکب ناقص کی بھی پھر آگے تقسیم میں نے کی تھی۔ مرکب تقییدی اور غیر، تو یہ کس کی قسمیں ہوئیں؟ مرکب تقییدی کی بھئی۔ آگے ش... مصنف فرماتے ہیں، ومنها المركب التقييدي بھئی۔ اور مرکب ناقص میں سے کیا ہے؟ اور اس کی مثال آگے دے رہے ہیں، كفي الدار، جیسے کہ فی الدار۔ بھئی فی الدار مرکب تقییدی کی قسم ہے یا غیر تقییدی کی؟ میں نے ابھی آپ کو بتایا کہ یہ مرکب غیر تقییدی کی قسم ہے۔ غلام زید اور الرجل العالم، یہ کس کی قسمیں ہیں؟ مرکب تقییدی۔ اور فی الدار، یہ کس کی قسم؟ تو یہ غیر تقییدی کی، لیکن کتاب میں کیا لکھا ہے؟ مرکب تقییدی۔ یہ معلوم ہوا بھئی، کسی لکھنے والے سے یہاں غ... الغير کا لفظ رہ گیا بھئی۔ پرانے زمانے میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں اور تو کسی کاتب نے اس کو نقل کیا اور پھر اس نسخے کے اندر اس سے کہیں غلطی سے الغير کا لفظ رہ گیا اور یہ نسخے اسی طرح چلے آئے بھئی الغير کا لفظ۔ یا خود مصنف ہی سے لکھتے ہوئے کہیں یہاں کتابت کی غلطی ہوئی اور الغير کا لفظ رہ گیا تو پھر اسی طرح نقل ہوتا چلا آیا یہ بھئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں التقييدي سے پہلے کیا لفظ ہونا چاہیے؟ الغير بھئی۔ تو ومنها المركب الغير التقييدي، جی یوں ہونی چاہیے عبارت بھئی۔ اور مرکب ناقص کی اقسام میں سے ایک مرکب غیر تقییدی ہے، جیسے کہ فی الدار۔ وها هنا، اور یہاں پر قد تم بحث الالفاظ، تحقیق پوری ہو گئی الفاظ کی بحث۔ مصنف فرما رہے ہیں بھئی ہم نے بتلایا تھا کہ منطقی کا اصل کام تو ہے معانی سے بحث کرنا، لیکن مجبوری کے پیشِ... مجبوری کی وجہ سے الفاظ کی بحث بھی شروع میں ذکر کرنا پڑتی ہے کیونکہ بات کو سمجھنا اور سمجھانا یہ الفاظ پر موقوف ہوتا ہے، اس لیے مناطقہ اپنی کتابوں کے شروع میں الفاظ کی بھی کچھ بحث کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے پھر دلالت کا معنی بتایا، دلالت کی قسمیں بتائیں، پھر بتایا کبھی لفظ مفرد ہوگا، کبھی مرکب ہوگا، پھر مفرد جو ہے کبھی کلمہ ہوگا، کبھی اسم ہوگا، کبھی ادات ہوگا، پھر کبھی وہ متحد المعنی ہوگا، کبھی متکثر المعنی ہوگا، وہ قسمیں بتائیں اور اس کے بعد پھر آپ کو یہ مرکب ناقص ہوگا، کبھی مرکب تام ہوگا، یہ ساری تفصیلات بھئی۔ یہ ایک بحث کس کی چل رہی تھی؟ الفاظ کی، حالانکہ منطقی کے کام الفاظ سے بحث کرنا نہیں ہے، وہ تو کس سے بحث کرتا ہے؟ معانی سے۔ لیکن چونکہ بات کا سمجھنا اور سمجھانا الفاظ پر موقوف ہوتا ہے، اس لیے وہ مجبورا ًاپنی کتابوں کے شروع میں الفاظ کی کچھ بحث کرتے ہیں۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں، وها هنا قد تم بحث الالفاظ، اور یہاں پر تحقیق پوری ہو گئی الفاظ کی بحث بھئی۔ والان، اور اب، نرشدك، ہم آپ کی رہنمائی کریں گے، الى بحث المعاني، معانی کی بحث کی طرف۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ الفاظ کی بحث پوری ہو گئی، اب ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں معانی کے بحث کی طرف۔ اب معانی کی بات شروع ہونے لگی ہے، یعنی اب منطق شروع ہونے لگی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب معانی کی بحث بھئی۔ جی آگے دیکھیے: فصل، المفهوم اي ما حصل في الذهن قسمان احدهما جزئي والثاني كلي۔ المفهوم، اي ما حصل في الذهن، مفہوم یعنی کہ وہ چیز جو حاصل ہو ذہن میں۔ بھئی مفہوم، اور اسی کو مدلول بھی کہتے ہیں۔ یعنی کسی وہ بات جو ذہن میں آئے۔ بھئی دیکھیے مثلاً میں نے آپ کے سامنے کہا م... گلاس، دیکھو آپ کے ذہن نے ایک چیز کی صورت آ گئی جس کے اندر پانی پیا جاتا ہے۔ تو یہ لفظ گلاس کا مفہوم ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ جو آپ کے ذہن میں آیا یہ کیا ہے؟ لفظ گلاس کا مفہوم۔ تو ذہن میں کوئی بھی لفظ بولیں اور اس کا جو معنی ذہن میں سمجھ آئے سمجھ میں آئے اسے کیا کہا جاتا ہے؟ مفہوم کہا جاتا ہے اور مدلول بھی کہ اس لفظ نے اس پر دلالت کی ہے بھئی۔ تو مفہوم کسے کہتے ہیں؟ ما حصل في الذهن، وہ چیز جو ذہن میں حاصل ہو بھئی ذہن میں آئے۔ کہتے ہیں المفهوم، مفہوم، اي ما حصل في الذهن، یعنی وہ چیز جو ذہن میں حاصل ہو، قسمان، وہ دو قسم پر ہے۔ احدهما جزئي، ان میں سے ایک جزئی ہے، والثاني كلي، اور دوسرا کلی ہے۔ مفہوم کی دو قسمیں ہیں بھئی، ایک جزئی اور ایک کلی۔ بات پہلے بھی گزر چکی ہے تفصیل کے ساتھ۔ جزئی کسے کہتے ہیں؟ ہاں جس میں شرکت نہ ہو سکے جو ایک متعین فرد پر صادق آئے۔ اور کلی جس میں شرکت ہو سکے اور جو... ہاں جو کثیرین پر صادق آئے، کثیرین پر صادق آئے۔ مثلاً میں نے آپ کے سامنے کہا زید، جزئی ہے یا کلی ہے؟ جزئی ہے شاباش۔ اور میں آپ کے سامنے کہتا ہوں مثلاً انسان، انسان جزئی ہے یا کلی ہے؟ یہ کلی ہے، یہ کثیرین پر صادق آتا ہے۔ زید وہ بھی انسان ہے، بکر وہ بھی انسان ہے، عمر بھی انسان ہے، خالد بھی انسان، تو اس کے تو کروڑوں اربوں افراد ہیں۔ تو انسان ایسا انسان جو ہے اس کا مفہوم کثیرین پر صادق آتا ہے۔ تو اسے کیا کہیں گے؟ کلی کہیں گے۔ اور اگر وہ مفہوم جو ہے وہ کثیرین... مفہوم کی بات چل رہی ہے نا؟ مفہوم کی تقسیم کی، ایک مفہوم کلی ہوتا ہے اور ایک مفہوم جزئی، مفہوم وہ جو ذہن میں آئے، تو کسی لفظ کا وہ مفہوم جو ذہن میں آئے اور وہ کثیرین پر صادق آئے اس میں شرکت ہو سکے اسے کلی کہتے ہیں، اور وہ مفہوم جو کثیرین پر صادق نہ آئے بلکہ کسی متعین فرد پر صادق آئے اسے جزئی کہتے ہیں۔ میں نے زید کہا بھئی زید، آپ کے ذہن میں فوراً کس کا تصور آ گیا؟ ذاتِ زید کا تصور آ گیا۔ اور اس میں شرکت نہیں ہو سکتی، اس مفہوم کے اندر شرکت نہیں، آپ کا ذہن آپ کو بتلاتا ہے کہ زید ایک متعین ذات کا نام ہے کوئی کوئی دوسرا اس میں اس کے ساتھ شریک نہیں، تو مفہوم، بات مفہوم کی چل رہی ہے معانی کی، اس معنی کے اس مفہوم کے اندر وہ اگر کثیرین پر صادق آئے تو کلی، اگر کثیرین پر صادق نہ آئے ایک متعین فرد پر صادق آئے اور عقل اس میں کث... کثرت کو جائز قرار نہ دے کہ یہاں کثرت ہو ہی نہیں سکتی، یہ لفظ کثیرین پر صادق آ ہی نہیں سکتا تو اسے کیا کہیں گے؟ جزئی کہیں گے۔ جزئی کہیں گے۔ مثلاً دیکھیے، کلی اور جزئی۔ سورج بھئی، سورج کسے کہتے ہیں؟ سورج کہتے ہی آپ کے ذہن میں ایک معنی ذہن میں... ایک مفہوم ذہن میں آیا اس کا بھئی۔ کیا مفہوم؟ وہ آسمان پر گول چمکدار جسم ہے جو روشنی پھیلانا... پھیلاتا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ سورج کہتے ہیں۔ اب یہ جو آپ کے ذہن میں اس کا معنی آیا، آسمان پر چمکنے والا گول جسم، آسمان پر چمکنے والا... اس مفہوم پر آپ نظر کریں ذرا۔ یہ کثیرین پر صادق آ سکتا ہے، اس وقت تو ایک ہی سورج ہے ٹھیک ہے، لیکن اگر کوئی اور بھی اس طرح کا ہو اسے بھی آپ کیا کہیں گے؟ گول ہو، آسمان پر، اور چمکدار ہو اسے بھی آپ کیا کہیں گے؟ سورج کہیں گے۔ کیونکہ معنی آپ نے کیا کیا؟ سورج کا مفہوم کیا ہے؟ آسمان پر چمکنے والا جسم کہہ لیں بس، تو اب جو بھی آسمان پر چمکنے والا اس طرح کا جسم ہوگا اسے کیا کہیں گے؟ سورج کہیں گے، سورج کہیں گے۔ تو دیکھو اس کے مفہوم میں کیا ہے؟ عموم ہے، اس میں شرکت ہو سکتی ہے۔ فرض کرو فرض کرو، ایک صبح آپ کا ساتھی اٹھتا ہے، فرض کرو، دیکھتا ہے مشرق کی طرف سے دو چمکتے ہوئے جسم طلوع ہوئے ہیں بھئی، وہ فوراً آپ کے پاس آ کر کیا کہے گا؟ دو سورج نکلے ہیں آج تو، دیکھو دوسرے کو بھی اس نے کیا کہہ دیا؟ سورج کہہ دیا، معلوم ہوا سورج کے معنی میں آپ کی عقل بھی کہتی ہے کیا ہو سکتی ہے؟ شرکت... اسی طرح چاند ہے وہ رات کو چمکنے والا جسم ہے، اگر فرض کرو کسی دن دو چاند نکل آئیں تو آپ کا ساتھی دوڑا دوڑا آپ کے پاس آئے گا کہے گا بھئی آسمان پہ دو چاند ہیں، دوسرے کو بھی اس نے کیا کہا؟ چاند، معلوم ہوا چاند کے مفہوم میں آپ کی عقل بھی کہتی ہے کہ شرکت ہو سکتی ہے بھئی، جتنے بھی اس جیسے ہوں گے سب کو ہم کیا کہیں گے؟ چاند، چاہے ہے اس وقت ایک، یہ آپ نے افراد کو نہیں دیکھنا، کلی کے اندر افراد کو نہیں دیکھا جاتا۔ کلی کے صرف بات کس کی چل رہی ہے؟ تقسیم مفہوم کی ہو رہی ہے، مفہوم کے اعتبار سے اس میں شرکت ہو سکتی ہے یا شرکت نہیں ہو سکتی، مفہوم پر نظر رکھنی ہے بھئی آپ۔ اس کے مقابلے میں ذرا ایک اور مس... فرض کرو سورج، آپ کے ایک ساتھی کا نام زید ہے۔ زید ہے، زید آپ کے ساتھ کھڑا باتیں کر رہا تھا کہ اچانک ایک اور آدمی آیا، بالکل زید کی شکل و صورت ہے، زید جیسے کپڑے لباس وغیرہ پہنے ہوئے ہیں، قد وغیرہ ہر چیز اسی کی طرح ہے، تو آپ کیا کہیں گے؟ دو زید آ گئے یا یہ زید کا کوئی ہم شکل آ گیا؟ جی؟ آپ اس دوسرے کو زید کبھی بھی نہیں کہیں گے، آپ کیا کہیں گے دوسرے کو جب بتائیں گے؟ کہ میرے ساتھ زید کھڑا تھا، آج اس کا بالکل ایک ہم شکل آ گیا، یہ نہیں کہیں گے آج دو زید آ گئے تھے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیونکہ آپ کی عقل آپ کو بتلاتی ہے کہ زید تو اسی ایک متعین فرد کا نام ہے، بالکل اس جیسی شکل و صورت والا بھی کوئی اور آ جائے اس کو ہم زید نہیں کہیں گے بھئی، وہ زید کا جڑواں بھئی تو ہو سکتا ہے لیکن زید نہیں ہو سکتا بھئی، تو آپ کی عقل آپ کو بتلاتی ہے کہ جزئی کے مفہوم میں شرکت نہیں ہو سکتی جبکہ کلی کے مفہوم میں شرکت ہو سکتی ہے۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں میں نے آپ کو بتایا، کہ افراد کو... کلی کثیرین پر صادق آ سکتی ہے، کلی کے آپ نے افراد کو نہیں دیکھنا، افراد چاہے فرد خارج میں ایک ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر مفہوم میں شرکت ہو سکتی ہے ہم اسے کیا کہیں گے؟ کلی، جیسے سورج، سورج کا ایک ہی فرد ہے، لیکن اس کا جو مفہوم ہے، اس کا جو معنی آپ کے ذہن میں آتا ہے اس میں شرکت ہو سکتی ہے، چاند اب ایک ہی جسم ہے لیکن اس میں چونکہ شرکت ہو سکتی ہے تو اسے ہم کیا کہیں گے؟ کلی کہیں گے، صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح سب کو؟ تو کہتے ہیں المفهوم اي ما حصل في الذهن قسمان، مفہوم یعنی کہ وہ چیز جو ذہن میں حاصل ہو وہ دو قسم پر ہے۔ احدهما جزئي، ایک ان میں سے جزئی ہے، والثاني كلي، اور دوسری کلی ہے بھئی کلی۔ چلیے بس کریں بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 32 of 108