Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-001

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 28 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 73
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 1 1 اچھا بھئی پڑھئے جی۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله رب العالمين۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتمم بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا الكتاب ولا تعسره وتمم بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ ربنا يسر لنا هذا العلم ولا تعسره وتمم بالخير وبك نستعين يا فتاح يا عليم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اللهم صل على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وأصحابه وبارك وسلم۔ اچھا بھئی کتاب کی دیکھیے کتاب کی تھوڑی عبارت۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله الذي أبدع الأفلاك والأرضين والصلاة على من كان نبيا وآدم بين الماء والطين وعلى آله وأصحابه أجمعين۔ وبعد فهذهعدة فصول في علم الميزان لا بد من حفظها وضبطها لمن أراد أن يتذكر من أولي الأذهان وعلى الله التوكل وهو المستعان۔ اچھا بھئی اب کاپیاں نکال لیجیے ذرا۔ لکھیے بھئی سب طلباء لکھیں بھئی سب۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ لکھیے بھئی۔ بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله رب العالمين۔ الحمد لله رب العالمين۔ والصلاة والسلام۔ والصلاة والسلام۔ على خير خلقه۔ على خير خلقه۔ محمد۔ محمد۔ وعلى آله۔ وعلى آله۔ وأصحابه أجمعين۔ وأصحابه أجمعين۔ لکھ لیا بھئی؟ بسم الله الرحمن الرحيم۔ الحمد لله رب العالمين۔ والصلاة والسلام على خير خلقه محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔ جی نیچے الگ سطر میں لکھیے۔ کتاب شروع کرنے سے پہلے، کتاب شروع کرنے سے پہلے چند مباحث کا جاننا، چند مباحث کا جاننا موجب بصیرت، موجب بصیرت، بصیرت ص کے ساتھ ہے۔ موجب بصیرت اور موجب فائدہ، اور موجب فائدہ تامہ ہے۔ فائدہ تامہ ہے۔ تامہ دو نقطوں والی تاء آئے گی بھئی، م مشدد ہے فائدہ تامہ ہے۔ اور موجب فائدہ تامہ ہے۔ اور موجب فائدہ تامہ ہے۔ الگ سطر میں لکھیے بحث اول۔ بحث اول۔ یہ عنوان ہے بھئی، اسی کے آگے ہی لکھیے، علم منطق کی ضرورت و اہمیت۔ علم منطق کی ضرورت و اہمیت۔ لکھ لیا بھئی؟ جی الگ سطر میں اب لکھیے۔ اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد، اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ اس دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ چنانچہ اللہ جل جلالہ، چنانچہ اللہ جل جلالہ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں، قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں: وما خلقت الجن، وما خلقت، وما خلقت الجن والانس، الجن والانس إلا، إلا ليعبدون، إلا ليعبدون۔ لکھ لیا بھئی؟ وما خلقت الجن والانس إلا ليعبدون۔ ترجمہ: ترجمہ، اللہ فرماتے ہیں، اللہ فرماتے ہیں: "میں نے جنات اور انسانوں کو، میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔" جی آگے نشان لگا دیجیے ترجمہ ختم ہوا۔ آگے لکھیے: اور عبادت کا طریقہ، اور عبادت کا طریقہ صرف تین علوم، صرف تین علوم تفسیر، حدیث اور فقہ، تفسیر، حدیث اور فقہ سے پوری طرح معلوم ہو جاتا ہے، سے پوری طرح معلوم ہو جاتا ہے، اور فقہ سے پوری طرح معلوم ہو جاتا ہے۔ شروع زمانہ اسلام میں، شروع زمانہ اسلام میں صرف یہی تین علوم تھے، صرف یہی تین علوم تھے۔ پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ، پھر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ ان تین علوم کو، ان تین علوم کو، ان تین علوم کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے، اچھی طرح سمجھنے کے لیے علمائے اسلام نے، علمائے اسلام نے علم صرف، علمائے اسلام نے علم صرف، صرف ص کے ساتھ بھئی، علم صرف، علم نحو، علم نحو اور علم بلاغت کو مدون کیا، اور علم بلاغت کو، بلاغت، اور علم بلاغت کو مدون کیا اور ان کا پڑھنا پڑھانا بھی، اور ان کا پڑھنا پڑھانا بھی ضروری قرار دیا، ضروری قرار دیا۔ جی لکھ لیا بھئی؟ اور ان کا پڑھنا پڑھانا بھی ضروری قرار دیا۔ آگے الگ سطر لکھیے۔ اسی طرح جب اہل باطل، اسی طرح جب اہل باطل، باطل ط کے ساتھ بھئی، اہل باطل عقلی دلائل کے ذریعے، عقلی دلائل کے ذریعے اصول شریعت، اصول شریعت اور اسلامی عقائد، اور اسلامی عقائد یعنی اللہ کی وحدانیت، یعنی اللہ کی وحدانیت، رسولوں کے بھیجنے، الٹا نشان پہلے لگائیں، اللہ کی وحدانیت کے بعد بھئی کوما لگائیں، رسولوں کے بھیجنے اور آخرت وغیرہ کے بارے میں، اور آخرت وغیرہ کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں، لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات، شکوک و شبہات، شکوک دونوں چھوٹے کاف ہیں بھئی، شکوک و شبہات، شکوک و شبہات پیدا کرنے لگے، پیدا کرنے لگے، تو علمائے اسلام نے، تو علمائے اسلام نے شریعتِ اسلامی کا دفاع کرنے، تو علمائے اسلام نے شریعتِ اسلامی کا دفاع کرنے، شریعتِ اسلامی کا دفاع کرنے اور اہل باطل کو جواب دینے 2 اور اہل باطل کو جواب دینے کے لیے علوم عقلیہ، یعنی منطق و فلسفہ میں مہارت حاصل کی، اور ان کے درس و تدریس کو ضروری قرار دے دیا۔ اہل باطل سے ٹکر لینے والے علماء کی جماعت میں اگر غور کیا جائے تو اکثریت انہی حضرات کی دکھائی دیتی ہے جو علوم عقلیہ میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے۔ بھئی کوئی چھینکے تو زور سے الحمدللہ کہنا چاہیے کہ سب ساتھی سن لیں۔ اونچی آواز سے کہیے بھئی۔ اور سب جواب میں کیا کہیں گے؟ یرحمک اللہ۔ یہ سبق میں میرے سبق میں ہمیشہ آپ نے یاد رکھنا ہے اس سنت پر ہم عمل کریں گے تاکہ سال بھر میں آپ اس کے عادی ہو جائیں۔ مقصد یہ ہے کہ العوانے کا تاکہ آپ کو عادت ہو جائے۔ تو جہاں کہیں بھی ہوں، الحمدللہ اونچی آواز سے کہنا چاہیے اور باقیوں کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ یہاں ہم دین سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، سنتیں سیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، دین کو سیکھیں، اس پر عمل کریں، سنتوں پر چلیں۔ تو، اور یہ ایک ایسی سنت ہے جو عموماً علماء کے ہاں بھی تقریباً آپ کو متروک دکھائی دے گی بھئی۔ تو یہاں بھی آپ نے اس پر عمل کرنا ہے اور گھر پر، کمرے میں سب کو سکھائیں بھی، بتائیں بھی اور اس پر عمل بھی کریں۔ جی، کیا لکھا بھئی؟ جو علوم عقلیہ میں بے انتہا مہارت رکھتے تھے۔ مثلاً امام رازی رحمہ اللہ، امام رازی، رازی ز کے ساتھ ہے، زا، امام رازی رحمہ اللہ تعالیٰ۔ جی، آگے نشان الٹا کوما لگائیے۔ امام غزالی رحمہ اللہ، پھر کوما لگائیے الٹا نشان بھئی، مولانا قاسم نانوتوی، مولانا قاسم نانوتوی، نانوتوی بھئی نون و ہے اور پھر ت و ہے، دو نقطوں والی ت، نانو ت وی، تا و یا، مولانا قاسم نانوتوی رحمہ اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، وغیرہ۔ بس بھئی ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔ جی، یہ سبق خوب اچھی طرح کل آپ نے یاد کر کے مجھے سنانا ہے بھئی۔
108 approved lectures · 1 of 108
Current dars-001
Next ▶ Last ⏭