Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-075

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 54
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 75 1 وإلا لم تكن النتيجة ونقيضها مذكورا يسمى اقترانيا كقولك زيد إنسان وكل إنسان حيوان ينتج زيد حيوان. فصل في القياس الاقتراني: وهو قسمان حملي وشرطي، وموضوع النتيجة في القياس يسمى أصغر لكونه أقل أفرادا في الأغلب، ومحموله يسمى أكبر لكونه أكثر أفرادا غالبا. گذشتہ سبق میں ہم نے قياس کی بحث شروع کی تھی، اور صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا تھا کہ قياس جو ہے: هو قول مؤلف من قضايا يلزم عنها قول آخر بعد تسليم تلك القضايا، کہ قياس اس قول کا نام ہے جو مرکب ہو ایسے قضیوں سے کہ جن سے لازم آتا ہو ایک اور قول، جبکہ ان قضايا کو تسلیم کر لیا جائے۔ قیاس بھئی کس چیز کا نام ہے؟ وہ قول جو قضیوں سے مرکب ہو، اور ان قضیوں کو تسلیم کر لیا جائے تو ایک اور قضیہ بھی ماننا پڑے گا، جسے نتیجہ کہا جاتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ قياس۔ جیسے مثال میں نے ذکر کی بھئی کہ مثلاً میں کہتا ہوں کہ منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے، اور ہر وہ چیز جس سے ذہن تیز ہوتا ہو اسے سیکھنا چاہیے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ منطق کو سیکھنا چاہیے بھئی۔ دیکھا دو قول تھے اور دو قضیے، ان کو جب آپ نے تسلیم کر لیا تو خود بخود ایک تیسرا قضیہ بھی ماننا پڑا آپ کو، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قياس۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعد تسليم تلك القضايا، یہ قید لگائی ہے کہ ان قضیوں کو تسلیم کرنے کے بعد ایک اور قضیہ ماننا پڑے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ وہ دو قضیے جس سے قياس مرکب ہے، وہ دونوں صادق ہوں۔ بس اتنا ہے کہ ان کو اگر تسلیم کرو گے تو چاہے کاذب ہی کیوں نہ ہوں، تو ایک تیسرا قضیہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر ان کو تسلیم کریں گے، تیسرا قضیہ بھی ماننا پڑے گا۔ مثلاً بھئی! آپ کہتے ہیں زيد إنسان، زید کیا ہے؟ انسان ہے۔ وكل إنسان حجر، اور ہر انسان پتھر ہے۔ اگر ان دو کو مانتے ہیں، دوسرا اگرچہ کاذب ہے: وكل إنسان حجر، ہر انسان پتھر۔ تو پہلا تو صادق ہے زيد إنسان، لیکن دوسرا کاذب ہے۔ لیکن اگر ان دو کو آپ مان لیں، تو ایک تیسرا بھی قضیہ خود بخود ماننا پڑے گا، اور وہ کیا؟ زيد حجر، کہ زید پتھر ہے۔ تو معلوم ہوا قياس کے اندر یہ ضروری نہیں کہ دونوں قضیے صادق ہوں، بلکہ اگر کاذب سے بھی مرکب ہو، پھر بھی اس کو قياس کہیں گے، کیونکہ اس میں کیا قید مذکور ہے؟ کہ ان قضیوں کو تسلیم کرنے کے بعد کیا کرنا پڑے گا آپ کو؟ ایک تیسرا قضیہ، تو یہ کاذب ہے لیکن اگر آپ اس کو مان لیتے ہیں تو پھر آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ ایک تیسرے قضیے کو بھی ماننا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اس کو بھی پھر قياس ہی کہیں گے بھئی۔ اور اس کے بعد آپ نے پڑھا کہ قياس جو ہے، یا تو یہ قياس استثنائی ہوگا اور یا قياس اقترانی ہوگا، جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ قياس استثنائی آپ نے کل پڑھ لیا بھئی، کہ اگر نتیجہ یا اس کی نقیض وہ قياس کے اندر مذکور ہو، تو پھر اسے کیا کہتے ہیں؟ قياس استثنائی۔ تو قياس استثنائی کہتے ہیں۔ جیسے مثال پڑھی آپ نے: إن كان زيد إنسانا كان حيوانا لكنه إنسان، اور نتیجہ نکلا: فهو حيوان، فهو حيوان۔ تو فهو حيوان کہہ لیں یا زيد حيوان کہہ لیں، ایک ہی بات ہے بھئی، یہ نتیجہ نکل آیا بھئی۔ تو یہ قياس استثنائی ہے بھئی، جس کے اندر نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہوتی ہے، اور میں نے کل بتلا دیا تھا کہ پہلی مثال کے اندر عين نتیجہ خود قياس کے اندر مذکور تھا بھئی۔ فهو حيوان، یہ كان حيوانا کے اندر آگیا بھئی: هو حيوان، عين نتیجہ مذکور ہے۔ اور اگلا قياس کیا تھا؟ وإن كان زيد حمارا كان ناهقا لكنه ليس بنادهق، ينتج یہ نتیجہ دیتا ہے: أنه ليس بحمار، کہ وہ حمار نہیں ہے۔ تو نتیجہ کیا ہے؟ کہ وہ حمار نہیں ہے، اور اس کی نقیض کیا ہوگی؟ وہ حمار ہے، اور یہ مذکور ہے: إن كان زيد حمارا، زيد حمار، دیکھو 'إن كان' میں 'إن' کو ہٹا دو ذرا، 'كان' کو بھی ختم کرو، زيد حمار، یہ مذکور ہے پورا بھئی، نقیض نتیجہ مذکور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ میں نے بتایا تھا آسان یاد رکھنے کے لیے کہ وہ قياس جس میں 'لكن' آئے، 'لكن' کے ساتھ نتیجے کی طرف اشارہ کر دیا جائے، اسے قياس استثنائی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قياس استثنائی کہتے ہیں۔ اور اس کو قياس استثنائی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں حرف استثنا 'لكن' ہے بھئی۔ اس میں کیا استعمال ہوا ہے حرف استثنا؟ 'لكن' استثنا کے لیے استعمال ہوتا ہے، ایک چیز کو دوسری چیز کے حکم سے نکالنے کے لیے، مثلاً آپ کہتے ہیں: جاءني القوم، میرے پاس وہ لوگ آئے، لكن زيدا لم يجيء، لیکن زید نہیں آیا بھئی، تو یہ استثنا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ تو جس قياس کے اندر حرف استثنا 'لكن' استعمال ہو، اس کو قياس استثنائی کہتے ہیں۔ جی! آگے دیکھیے، آگے بتلاتے ہیں: وإلا لم تكن النتيجة أو ونقيضها مذكورا يسمى اقترانيا، اور اگر نتیجہ اور اس کی نقیض مذکور نہ ہوں، يسمى اقترانيا، تو اس کو قياس اقترانی کہتے ہیں بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ قياس اقترانی کہتے ہیں، كقولك، جیسے کہ آپ کا قول: زيد إنسان، زید انسان ہے، وكل إنسان حيوان، اور ہر انسان حیوان ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زيد حيوان، ينتج زيد حيوان، تو یہ کیا نتیجہ دیتا ہے؟ زید حیوان ہے۔ زيد، غور کیا آپ نے بھئی قياس پر؟ زيد إنسان وكل إنسان حيوان، نتیجہ کیا آیا؟ زيد حيوان۔ تو دیکھیے، یہاں حرف استثنا نہیں مذکور بھئی، حرف استثنا۔ اور اس کو قياس اقترانی کہا جاتا ہے، اقتران کا معنی ہوتا ہے ملنا، دو چیزوں کا آپس میں مل جانا، جڑ جانا۔ تو اقتران، یہ قياس اقترانی ہے کہ یہاں پر بھی دو قضیے بغیر حرف استثنا کے آپس میں ملے ہیں بھئی اس میں، دو قضیے بغیر حرف استثنا کے آپس میں ملے ہوئے ہیں، تو اس کو قياس اقترانی کہا جاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ قياس کتنی قسم پر؟ دو: ایک قياس استثنائی، دوسرا قياس اقترانی۔ قياس استثنائی میں کیا ہوگا؟ حرف استثنا ہوگا، 'لكن' آئے گا بھئی، اور تعریف اگر پوچھی جائے تو تعریف کیا کریں گے؟ نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور ہو۔ اور قياس اقترانی، اس میں نتیجہ یا نقیض نتیجہ مذکور نہیں ہوں گے بھئی۔ اب آگے اسی کی تفصیل بیان کر رہے ہیں: فصل في القياس الاقتراني، یہ فصل ہے قياس اقترانی میں، وهو قسمان، اور وہ دو قسم پر ہے قياس اقترانی: حملي وشرطي، ایک قياس حملی ہے اور ایک شرطی ہے بھئی۔ بھئی قياس حملی وہ ہے جو دو قضیہ حملیہ سے مرکب ہو۔ قياس میں دو قضیے آئیں گے نا کم از کم، قياس میں دو قضیے آئیں گے، تو جیسے آپ نے کہا: زيد إنسان، یہ ایک قضیہ، وكل إنسان حيوان، یہ دوسرا قضیہ، تو اگر یہ دونوں حملیہ ہوں، کوئی بھی ان میں سے شرطیہ نہ ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قياس حملی کہیں گے بھئی۔ اور اگر ایسا نہ ہو، دونوں حملیہ نہ ہوں، تو پھر اس کو قياس شرطی کہیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ قیاس حملی کسے کہیں گے؟ جس میں دونوں قضیے حملیہ ہوں، یعنی کوئی بھی شرطیہ نہ ہو۔ اور اگر ایسا نہ ہو، دونوں حملیہ نہیں، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قياس شرطی کہیں گے، اور اس میں پھر دو صورتیں آگئیں قياس شرطی میں، ہم نے کیا کہا؟ جس میں دونوں حملیہ نہ ہوں، تو چاہے دونوں شرطیہ ہوں یا ایک شرطیہ ہو، ایک حملیہ ہو بھئی، تو یہ دونوں کیا ہوئے؟ قياس شرطی ہوئے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ وموضوع النتيجة في القياس يسمى أصغر لكونه أقل أفرادا في الأغلب، بھئی جو نتیجہ آئے گا، آپ نے کہا: زيد إنسان وكل إنسان حيوان، نتیجہ کیا آیا؟ زيد حيوان، زید حیوان ہے۔ اب اس میں نتیجے کے اندر 'زيد' ہے موضوع اور 'حيوان' ہے محمول۔ اس پہ نظر رکھنا بھئی اس مثال پہ، زيد حيوان، 'زيد' کیا ہے؟ موضوع، 'حيوان' کیا ہے؟ محمول۔ اچھا! تو کہتے ہیں: وموضوع النتيجة في القياس يسمى أصغر، یہ جو نتیجے کا موضوع ہوتا ہے قياس میں، نتیجے کا موضوع کون ہے؟ 'زيد'، يسمى أصغر، اس کو اصغر کہتے ہیں، لكونه أقل أفرادا في الأغلب، آسان لفظوں میں یوں کہیں، کیونکہ یہ خاص ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ خاص ہوتا ہے، اس کے افراد تھوڑے ہوتے ہیں، افراد کم ہوتے ہیں۔ جبکہ آگے بتلائیں گے کہ جو محمول ہوتا ہے، اس کو اکبر کہتے ہیں۔ نتیجے کے موضوع کا کیا نام بتلایا انہوں نے آپ کو بھئی؟ اصغر، اور نتیجے کے محمول کا کیا نام بتایا؟ اکبر۔ اصغر کیوں؟ کیونکہ وہ خاص ہے، اکبر کیونکہ وہ عام ہے، وہ کیا ہے؟ عام ہے۔ جی! خاص ہے یعنی اس کے افراد تھوڑے ہیں محمول کے مقابلے میں، ایک موضوع ہے ایک محمول بھئی، کس کے افراد تھوڑے ہیں؟ موضوع کے افراد تھوڑے، اس لیے اس کو اصغر کہا گیا، اور محمول کے افراد زیادہ، وہ عام ہے، تو اس لیے اس کو اکبر کہا گیا بھئی، اکبر بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اصغر کا معنی چھوٹا، اکبر کا معنی بڑا، تو اصغر وہ جس کے افراد تھوڑے ہیں، اکبر وہ جس کے افراد زیادہ ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وموضوع النتيجة في القياس يسمى أصغر، اور نتیجے کا موضوع قياس میں اس کو اصغر کہا جاتا ہے، لكونه أقل أفرادا في الأغلب، بوجہ ہونے اس کے کم تر بوجہ اس کے کم تر ہونے کے افراداً باعتبار افراد کے في الأغلب اکثر بھئی۔ عموماً اکثر اس کے افراد کم ہوتے ہیں، موضوع کے عموماً افراد کم ہوتے ہیں بھئی، کس کے مقابلے میں؟ محمول کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔ ومحموله يسمى أكبر، اور نتیجے کے محمول کو اکبر کہتے ہیں، لكونه أكثر أفرادا غالبا، بوجہ اس کے اکثر ہونے کے، زیادہ ہونے کے باعتبار افراد کے۔ یہ افراد کے اعتبار سے کیا ہوتا ہے؟ زیادہ ہوتا ہے غالباً، یعنی اکثر اوقات میں عموماً، ہمیشہ نہیں لیکن اکثر کیا ہوتا ہے؟ موضوع خاص ہوتا ہے اور محمول عام ہوتا ہے، یہ عموماً اکثر اس طرح ہوتا ہے۔ تو جو اکثر صورت پیش آتی ہے، اسی سے پھر نام رکھ دیے اسی اعتبار سے، ایک عام تھا اس کا نام اکبر رکھ دیا، جو خاص تھا اس کا نام اصغر رکھ دیا۔ والقضية التي جعلت جزء قياس تسمى مقدمة، اور وہ قضیہ جسے قياس کا جز بنایا گیا ہو، تسمى مقدمة، اس کو مقدمہ کہتے ہیں۔ کتاب پر توجہ ہے بھئی؟ وہ قضیہ جسے قياس کا جز بنایا گیا ہے، اسے مقدمہ کہتے ہیں۔ قیاس کیا ہے؟ ذرا اوپر جو ابھی مثال گزری تھی اس پر نظر رکھیں۔ قياس کیا ہے؟ کیا قياس اوپر گزرا؟ زيد إنسان وكل إنسان حيوان، یہ ہے قياس بھئی، یہ کیا ہے؟ یہ جو دو قضیے ملائے ہیں، اسی کا نام قياس ہے بھئی اس کو، تعریف نہیں پڑھی تھی: وهو قول مؤلف، وہ قول جو مرکب ہو قضیوں سے، تو یہاں کتنے قضیے ہیں؟ دو، یہ دو قضیے آپ نے جوڑ دیے: زيد إنسان وكل إنسان حيوان، یہ ہے قياس۔ تو اس قياس میں کتنے قضیے ہیں؟ دو قضیے، تو یہ دو قضیے اس قياس کے جز ہوئے۔ قياس کس کا نام تھا؟ جو قضیوں سے مرکب ہو، تو اس میں کم از کم دو قضیے تو ہوں گے، دونوں اس کے جز ہوں گے، قياس کیونکہ بنتا ہی کس سے ہے؟ قضیوں سے بنتا ہے، تو قضیے کیا ہوں گے اس کے؟ جز ہوں گے، یہاں کتنے قضیے جز ہیں اس کا؟ دو بھئی، اول کیا؟ زيد إنسان، یہ ایک جز، وكل إنسان حيوان، یہ دوسرا جز، تو دونوں کو مقدمہ کہیں گے۔ پہلا جز، یہ بھی مقدمہ ہے قياس کا، دوسرا جز بھی قياس کا مقدمہ ہے۔ پہلے کو پھر کہہ دیں مقدمہ اولیٰ، دوسرے کو کیا کہہ دیں؟ مقدمہ ثانیہ۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ یہ جو قضیے قياس کا جز جس کو بنایا گیا ہے، اس کو مقدمہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مقدمہ کہتے ہیں، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: والقضية التي جعلت جزء قياس تسمى مقدمة، اور وہ قضیہ جسے قياس کا جز بنا دیا گیا ہو، اسے مقدمہ کہتے ہیں۔ والمقدمة التي فيها الأصغر، بھئی نتیجے پہ آئیے ذرا، کیا نتیجہ نکلا تھا؟ زيد حيوان، زيد حيوان، موضوع کیا تھا اس میں؟ زيد، محمول کیا ہے؟ حيوان، اصغر کون؟ زيد، نتیجے کا موضوع، یہ اصغر کہلاتا ہے، 'زيد' ہے اصغر، اور 'حيوان' کیا ہے؟ اکبر۔ یہ تو نتیجہ ہے، اس کو چھوڑ دیں اب، اب آئیے واپس قياس پر، جس مقدمے میں اصغر ہو، اس کو صغریٰ کہتے ہیں۔ جس مقدمے، قياس میں دو قضیے تھے نا، دو مقدمے ہیں، ان دو میں ایک کے اندر موضوع ہوگا، ایک کے اندر محمول ہوگا، جس اور موضوع کو تو کیا کہتے تھے؟ اصغر، تو جس میں اصغر ہوگا، اس کو صغریٰ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ صغریٰ، اور دوسرے کو کیا کہیں گے جس میں اکبر ہے؟ اس کو کبریٰ کہیں گے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ 2 تو قیاس کا جزء جو ہے وہ قضیہ جو قیاس کا جزء ہے، اس کو کہتے ہیں مقدمہ۔ اور پھر اس مقدمے کے اندر اگر اصغر ہو تو اس کو کہیں گے صغریٰ، اور جس مقدمے کے اندر اکبر ہو، اس کو کبریٰ کہیں گے۔ بات سمجھ میں آگئی، بھئی؟ تو اب بتائیے، بھئی، صغریٰ کیا؟ صغریٰ بتائیے مثال، قیاس کے اندر کون سا صغریٰ ہے؟ زیدٌ انسانٌ، یہ ہے صغریٰ۔ اور کبریٰ کیا ہے؟ کلُّ انسانٍ حیوانٌ، شاباش، بھئی! یہ ہے کبریٰ۔ تو کہتے ہیں: المقدمۃُ التي فیہا الأصغرُ تسمیٰ صغریٰ، اور وہ مقدمہ جس کے اندر اصغر ہو، اسے صغریٰ کہتے ہیں۔ والتي فیہا الأکبرُ، اور وہ مقدمہ جس میں اکبر ہو، اسے کبریٰ کہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو پہلے مقدمے کا کیا نام ہوا؟ صغریٰ۔ دوسرے کا نام کبریٰ ہوا۔ کبریٰ، بھئی۔ اور یاد رکھیے یہ بات پھر، بھئی! کہ صغریٰ اعلیٰ ہے کبریٰ کے مقابلے میں۔ صغریٰ اعلیٰ ہے کس کے مقابلے میں؟ کبریٰ کے مقابلے میں۔ اچھا، آگے دیکھیے: والجزءُ الذی تکرّرَ بینہما، اور وہ جزء جو مکرر ہے ان دونوں کے درمیان، یسمیٰ حدّاً اوسطاً، اسے حدِ اوسط کہتے ہیں۔ جو جزء ان دونوں میں مکرر ہے، بھئی، کون سا جزء دونوں مقدموں میں آرہا ہے؟ انسان۔ زیدٌ انسانٌ، یہاں بھی انسان کا لفظ آیا۔ کلُّ انسانٍ حیوانٌ، یہاں بھی انسان کا، تو یہ جو مکرر جزء آیا دونوں میں آیا، اس جزء کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔ کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔ یاد رکھیے، قیاس میں دو قضیے ملائے آپ نے، دو قضیے۔ ایک میں نتیجے کا موضوع ہوگا، وہ ہے صغریٰ۔ ایک میں نتیجے کا محمول ہوگا، اسے کیا کہیں گے؟ کبریٰ۔ اور ایک جزء دونوں میں مکرر آرہا ہوگا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔ تو جب دو قضیوں کو ملایا، حدِ اوسط کو گرا دیتے ہیں، پھر نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ کس کو گراتے ہیں؟ حدِ اوسط کو۔ آپ نے کہا زیدٌ انسانٌ، تو یہاں پر حدِ اوسط کیا ہے؟ انسان، کیونکہ وہ اگلے میں بھی ہے۔ کلُّ انسانٍ حیوانٌ، یہ حدِ اوسط کیا ہے؟ انسان۔ یہ حدِ اوسط جو دونوں میں مکرر آیا، اس کو حدِ اوسط کہتے ہیں اور اس کو گرا دیں۔ آگے نتیجہ کیا آیا؟ زیدٌ حیوانٌ۔ دیکھو وہ حدِ اوسط یعنی انسان یہاں نہیں ہے، اسے ہم گرا چکے۔ تو طریقہ سمجھ میں آیا، بھئی؟ کہ قیاس کا طریقہ کیا ہے؟ دو مقدمے آپ آپس میں ملاتے ہیں، صغریٰ اور کبریٰ کو، اور ان میں جو ایک ہی جزء دونوں کے اندر آرہا ہو اس کو گرا دیا جاتا ہے، ختم کر دیتے ہیں اور باقی دونوں کا ایک ایک جزء رہ گیا، ان کو آپس میں ملا دیتے ہیں تو نتیجہ آجاتا ہے۔ تو زیدٌ انسانٌ میں انسان ہے اور آگے کلُّ انسانٍ حیوانٌ اس میں بھی انسان ہے۔ ان دونوں کو جوڑ دیا اور پھر یہ جو انسان ہے دونوں میں، اس کو گرا دیا۔ کیا رہ گیا پہلے میں؟ صرف زید رہ گیا۔ دوسرے میں کیا رہ گیا؟ حیوان رہ گیا۔ ان دونوں کو ملایا تو زیدٌ حیوانٌ، دیکھو نتیجہ آگیا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ حدِ اوسط کو گرا دیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: والجزءُ الذی تکرّرَ بینہما، اور وہ جزء جو مکرر ہے ان دونوں کے درمیان، یعنی صغریٰ، کبریٰ میں، یسمیٰ حدّاً اوسطاً، اس کو حدِ اوسط کہتے ہیں۔ واقترانُ الصغریٰ بالکبریٰ یسمیٰ قرینۃً وضرباً، اور ملنا صغریٰ کا کبریٰ کے ساتھ، صغریٰ کا کبریٰ کے ساتھ ملنا یسمیٰ قرینۃً، اس کو قرینہ کہتے ہیں، وضرباً، اور ضرب کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ جو صغریٰ کبریٰ کے ساتھ مل گیا، زیدٌ انسانٌ یہ ایک الگ جملہ تھا، کلُّ انسانٍ حیوانٌ یہ ایک الگ جملہ تھا، ان دونوں کو آپ نے ملایا، تو یہ قیاس ہوا۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں یہ جو ملایا؟ اس کو قرینہ کہتے ہیں یہ دو جو دونوں آپس میں مل گئے۔ اس کا ایک نام کیا ہے؟ قرینہ۔ دوسرا نام کیا ہے؟ ضرب۔ ضرب۔ قرینہ، یاد رکھیے، قرینہ کی تعریف لکھ لیجیے، بھئی! آپ کو آگے جگہ جگہ کام دے گی، بھئی۔ قرینہ: القرینۃُ ہو أمرٌ یشیرُ إلی المطلوبِ لکھ دیا، بھئی؟ القرینۃُ ہو أمرٌ یشیرُ إلی المطلوبِ۔ قرینہ وہ امر ہے، وہ چیز ہے، یشیرُ إلی المطلوبِ، جو اشارہ کرے مطلوب کی طرف۔ قرینہ وہ قرینہ وہ امر ہے جو اشارہ کرے مطلوب کی طرف، کس کی طرف؟ مطلوب کی طرف، اسے قرینہ کہا جاتا ہے، بھئی۔ تو دیکھیے، ان دو کو آپ نے ملایا دو مقدموں کو صغریٰ اور کبریٰ کو، تو اشارہ ہو گیا مطلوب یعنی نتیجے کی طرف۔ ان دو کو ملایا تو فوراً آپ کا ذہن جیسے ان دو کو ملا ہوا دیکھتے ہیں، آپ کا ذہن فوراً کس طرف چلا جاتا ہے؟ نتیجے کی طرف۔ تو دیکھیے یہ یہ قرینہ ہے، بھئی، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ کوئی بھی چیز جو مطلوب کی طرف اشارہ کر رہی ہو، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ قرینہ کہا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی جب دونوں آپس میں صغریٰ اور کبریٰ ملے تو نتیجے کی طرف اشارہ ہو گیا، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قرینہ، ان دونوں کے ملنے کو۔ وضرباً، اور اس کو ضرب بھی کہتے ہیں۔ ضرب کا معنی ہے نوع، قسم۔ ضرب کا کیا معنی ہے؟ نوع اور قسم۔ تو صغریٰ اور کبریٰ ملنے سے صغریٰ اور کبریٰ ملنے سے قیاس کی ایک نوع ہمیں حاصل ہو گئی، ایک قسم ہمیں حاصل ہو گئی، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضرب کہتے ہیں۔ یہ دونوں ملے، تو کیا حاصل ہوا؟ قیاس کی ایک قسم، قیاس کی ایک قسم ہمیں مل جاتی ہے صغریٰ اور کبریٰ کو ملانے سے، تو اس لیے اس کو ضرب کہتے ہیں، یہ ایک قسم ہے، ایک نوع ہے۔ آگے آئے گا، چار قسمیں، چار شکلیں آپ کو بتائیں گے، بھئی، تو یہ ایک نوع ہمیں حاصل ہو جاتی ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی، بھئی؟ تو کہتے ہیں: واقترانُ الصغریٰ بالکبریٰ یسمیٰ قرینۃً وضرباً، ملنا صغریٰ کا کبریٰ کے ساتھ، اس کو قرینہ اور ضرب کہتے ہیں۔ والہیئۃُ الحاصلۃُ من کیفیۃِ وضعِ الأوسطِ عند الأصغرِ والأکبرِ تسمیٰ شکلاً۔ والہیئۃُ، اور وہ ہیئت، ہیئت یعنی حالت، بھئی، وہ ہیئت، وہ حالت جو حاصل ہو من کیفیۃِ وضعِ الأوسطِ عند الأصغرِ۔ اچھا، بھئی! ادھر توجہ کیجیے۔ بھئی! آپ قیاس میں کیا کرتے ہیں؟ دو قضیوں کو آپس میں جوڑا جاتا ہے اور اس سے ایک تیسرا قضیہ لازم ہوتا ہے اس کے ساتھ، بھئی۔ ان دو کو تسلیم کر لیا جائے تو ایک تیسرا قضیہ لازم ہوتا ہے۔ اور اس کے پہلے مقدمے کو صغریٰ کہتے ہیں قیاس کے، اور دوسرے مقدمے کو کبریٰ کہتے ہیں، کبریٰ کہتے ہیں۔ اور جو چیز ان دونوں کے اندر مکرر ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط۔ تو یہ جو حدِ اوسط ہے، حدِ اوسط، یاد رکھیے، یہاں چار صورتیں بنتی ہیں۔ بھئی، نتیجے میں تو ایک موضوع ہوگا، ایک محمول۔ موضوع ہے اصغر، محمول ہے اکبر۔ اور یہ کہاں سے آئے یہ اصغر اور اکبر؟ قیاس میں سے۔ یہ دونوں وہاں ایک میں اصغر ذکر تھا تو ایک میں اکبر۔ ایک جزء تو معلوم ہوا ایک قضیے میں اصغر ہے، دوسرے قضیے میں ایک جزء کیا ہے؟ اکبر۔ تو ان کے علاوہ بھی تو ایک جزء ہے، جس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ حدِ اوسط کہتے ہیں۔ وہ حدِ اوسط اس میں پہلے قضیے کے اندر بھی ہو سکتا ہے، وہ حدِ اوسط موضوع کی جگہ پر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کس جگہ پر ہو؟ محمول، پہلے قضیے میں ہی۔ حدِ اوسط موضوع کی جگہ بھی ہو سکتا ہے اور کبھی محمول کی جگہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دوسرے قضیے کے اندر بھی حدِ اوسط موضوع کی جگہ بھی آسکتا ہے اور محمول کی جگہ پر بھی آسکتا ہے۔ تو یہاں کل چار صورتیں بنیں گی۔ ایک صورت یہ کہ حدِ اوسط صغریٰ میں بھی موضوع ہو، کبریٰ میں بھی موضوع ہو۔ حدِ اوسط وہ جزء جو مکرر آرہا ہے دونوں مقدموں میں، وہ دونوں میں کس جگہ پر آرہا ہو؟ موضوع کی جگہ، ایک صورت۔ دوسری صورت کہ دونوں میں وہ محمول کی جگہ آرہا ہو، دو صورتیں۔ تیسری صورت کہ پہلے میں موضوع کی جگہ ہو اور دوسرے میں محمول کی جگہ۔ چوتھی صورت کہ پہلے میں محمول کی جگہ ہو اور دوسرے میں موضوع کی جگہ، تو کل چار صورتیں یہاں بنتی ہیں، بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ جو چار صورتیں، چار شکلیں بنیں گی، چار، ان کو شکل کہتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو۔ کتنی شکلیں بنیں گی؟ چار شکلیں۔ اور یہ شکلیں کس اعتبار سے ہیں؟ یہ حدِ اوسط کے اعتبار سے ہیں کہ حدِ اوسط اصغر کے پاس کہاں ہے؟ موضوع کی جگہ ہے یا محمول کی جگہ ہے؟ ایک جگہ یہ ہوگا تو دوسری جگہ اصغر ہوگا، یہ اگر موضوع کی جگہ ہے تو اصغر محمول کی جگہ ہوگا۔ اور اگر یہ محمول کی جگہ ہے تو اصغر موضوع کی جگہ ہوگا، بھئی۔ صورت سمجھ میں، اور اسی طرح کبریٰ میں بھی اس کی حالت دیکھتے ہیں کہ یہ اکبر کے ساتھ کہاں آرہا ہے۔ اگر یہ حدِ اوسط موضوع کی جگہ ہے کبریٰ میں، تو اکبر کہاں ہوگا؟ محمول کی جگہ۔ اور اگر یہ محمول کی جگہ ہے، تو اکبر کہاں ہوگا؟ موضوع کی جگہ میں۔ تو یہ جو حدِ اوسط کی جو جگہ ہے، جو اس کی کیفیت ہے، حدِ اوسط کی جو کیفیت، حدِ اوسط جو ہے یہ اصغر اور اکبر کے پاس کہاں پر موجود ہے؟ موضوع کی جگہ موجود ہے یا محمول کی جگہ موجود ہے؟ اس کیفیت سے ہونے والی جو حالت ہے، اس کیفیت سے حاصل ہونے والی جو حالت ہے، اس کو شکل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں، بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کیا کہا انہوں نے شکل کس چیز کا نام ہے؟ حدِ اوسط اصغر اور اکبر کے پاس کس طرح واقع ہے؟ موضوع کی جگہ ہے یا محمول کی جگہ؟ اس کیفیت سے جو حالت حاصل ہوگی، دونوں میں دیکھیں گے نا، تو دونوں سے کل کتنی شکلیں بن رہی تھیں؟ چار۔ تو یہ جو اس جو حدِ اوسط کو دیکھا جائے کہ یہ اصغر کے پاس موضوع بن رہا ہے یا محمول بن رہا ہے، اور اکبر کے پاس یہ موضوع بن رہا ہے یا محمول بن رہا ہے، اس کیفیت کے اعتبار سے جو صورت حاصل ہوتی ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور کل کتنی شکلیں ہیں؟ چار شکلیں ہیں، کیونکہ یہاں دو جزء ہوتے ہیں صغریٰ میں، موضوع اور محمول، اور دو جزء ہی کہاں میں ہیں؟ کبریٰ میں، موضوع یا محمول۔ اور چاروں مقامات پر چار مقامات کے اعتبار سے دیکھا جائے گا کہ حدِ اوسط کس کس جگہ پر آرہا ہے، تو چار ہی شکلیں بنیں گی، بھئی۔ میں نے بیان کر دیا کہ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ حدِ اوسط دونوں میں کہاں پر آئے؟ موضوع کی جگہ۔ دوسری صورت ہو سکتی ہے کہ دونوں میں کہاں آئے؟ محمول کی جگہ۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے پہلے میں موضوع کی جگہ اور دوسرے میں محمول کی جگہ۔ چوتھی صورت یہ کہ پہلے میں محمول کی جگہ اور دوسرے میں موضوع کی جگہ، یہ چار صورتیں ہی ممکن ہیں اور بنتی ہیں، تو اس اعتبار سے یہ چار شکلیں ہوئیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی، بھئی؟ دیکھیے، بھئی: والہیئۃُ الحاصلۃُ، اور وہ ہیئت جو حاصل ہوتی ہے، ہیئت کا کیا معنی؟ حالت، وہ حالت جو حاصل ہوتی ہے من کیفیۃِ وضعِ الأوسطِ عند الأصغرِ والأکبرِ، من کیفیۃِ وضعِ الأوسطِ، اوسط کو رکھنے کی کیفیت سے عند الأصغرِ والأکبرِ، اصغر اور اکبر کے پاس۔ یعنی یوں ترجمہ کریں: اصغر اور اکبر کے پاس حدِ اوسط کے رکھنے کی کیفیت، ترجمہ پھر سے کر رہا ہوں: اصغر اور اکبر کے پاس حدِ اوسط کے رکھنے کی کیفیت سے ہونے والی حالت، حاصل ہونے والی حالت، تسمیٰ شکلاً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ شکل کہتے ہیں۔ والأشکالُ أربعۃٌ، اور شکلیں چار ہیں، بھئی۔ چلیے، بس، بھئی! ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 75 of 108