Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-010

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 29 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 10 1 وينقسم على قسمين أحدهما يقال له التصور والثاني هما يعبر عنه بالتصديق۔ کل میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مصنف رحمہ اللہ نے سب سے پہلے علم کی تعریف کی اور پھر آگے اس کی تقسیم کرنے لگے ہیں، اور علم دو قسم پر ہے، ایک تصور اور ایک تصدیق۔ اور یہ بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ دونوں علم حصولی کی قسمیں ہیں، علم حضوری تصور اور تصدیق کی طرف تقسیم نہیں ہوتا۔ اور پھر بتلایا تھا کہ کون سے علم کو تصور کہیں گے اور کون سے علم کو تصدیق کہیں گے۔ تو اس سے پہلے میں نے آپ کو سمجھایا کہ ہماری جو بات ہے دو طرح کی ہوتی ہے، ایک ملفوظ اور ایک معقول۔ کوئی بھی بات جب ہم کرتے ہیں تو بات کرنے سے پہلے وہ بات ہمارے ذہن میں آتی ہے، ہمارے ذہن میں گھومتی ہے، تو یہ بات جب تک ہمارے ذہن میں ہے اس کو کیا کہیں گے؟ قول معقول۔ اور جب اسے زبان سے ادا کر دیا، اس پر تلفظ کر دیا تو اسے کیا کہیں گے؟ قول ملفوظ کہیں گے۔ اور منطقی جو ہے وہ یہ پہلی قسم یعنی قول معقول سے ہی بحث کرتا ہے۔ اور جس طرح لفظوں کے اندر کہی ہوئی بات کو کبھی مفرد کہتے ہیں، کبھی مرکب ناقص کہتے ہیں، کبھی مرکب تام کہتے ہیں، مرکب تام اور جملہ کہتے ہیں، اسی طرح ذہن میں آنے والی جو بات ہے یہ بھی کبھی مفرد ہوتی ہے، کبھی مرکب ناقص ہوتی ہے، اور کبھی مرکب تام اور جملہ ہوتی ہے۔ تو مرکب تام ہوتی ہے۔ اور بلکہ اصل میں تو جو بھی چیز ہے پہلے ذہن ہی میں آئے گی، ذہن میں ہی مفرد ہوگا یا مرکب ناقص یا مرکب تام، اس کے بعد لفظوں میں آئے گا اور مرکب، مفرد وغیرہ کہلائے گا۔ اور منطقی جو مفرد، مرکب ناقص، مرکب تام بیان کرتا ہے، یہ دراصل اس قول معقول کی قسمیں ہیں جس سے وہ بحث کر رہا ہے۔ کہ وہ کس سے بحث کرتا ہے؟ قول معقول سے۔ تو یہ مفرد، مرکب تام، مرکب ناقص وغیرہ یہ اسی قول معقول کی قسمیں ہیں، یعنی وہ جو ذہن میں باتیں ہیں انہی کی قسمیں ہیں۔ لیکن چونکہ انہیں دوسرے کو سمجھانے کے لیے، دوسرے کو بتانے کے لیے لفظوں کی ضرورت پڑتی ہے، لفظوں کے بغیر نہیں سمجھا سکتے دوسرے کو، تو لہٰذا طبعاً پھر جو یہ جو لفظوں کو بھی کیا کہہ دیا جاتا ہے کبھی مفرد، کبھی مرکب ناقص اور کبھی مرکب تام۔ لیکن اصل بحث کس سے وہ کرتا ہے؟ قول معقول سے۔ قول معقول سے۔ پھر میں نے آپ کو بتایا تھا کہ اگر ذہن میں آنے والی بات اس طرح ہے کہ اس کے لیے کہ ایک چیز کے لیے آپ نے دوسری چیز کو ثابت کیا ہے یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی کی ہے، تو پھر یہ تصدیق کہلائے گی بشرطیکہ آپ کو اس کا پختہ یقین ہو۔ اگر یقین نہ ہو تو پھر یہ تصدیق نہیں کہلائے گی بلکہ تصور۔ تو لہٰذا تصدیق کے اندر معلوم ہوا ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہوگی یا دوسری چیز کی نفی ہوگی اور نیز آپ کو اس کا پختہ یقین بھی ہوگا۔ اس کے علاوہ باقی جتنی صورتیں ہیں وہ تصور ہیں بھئی۔ تو تصور کی کئی صورتیں بن گئیں، مثلاً ایک ہی چیز کا خیال آیا زيد کا، یا ایک ہی چیز مثلاً كتاب کا، یا ایک ہی چیز مثلاً قلم کا، یہ کیا ہے؟ تصور ہے، آپ نے کوئی حکم نہیں لگایا۔ اور اگر دو چار چیزوں کا خیال آیا لیکن حکم نہیں ہے، نسبت نہیں ہے تو بھی یہ کیا کہلائے گا؟ تصور۔ مثلاً زيد، اور بكر، اور عمرو، اور خالد، یہ سب کیا ہے؟ یہ بھی تصور ہیں۔ پھر ان میں کبھی نسبت بھی ہوگی لیکن تام نہیں ہوگی۔ مثلاً میں کہتا ہوں زيد کا بھئی یا کہتا ہوں زيد کے بھئی کا پڑوسی یا زيد کے بھئی کے پڑوسی کا گھر، یہ سب کیا ہیں؟ تصور ہیں، کیونکہ ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت نہیں یا نفی نہیں بھئی۔ اور پھر ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہو جائے لیکن اگر یقین نہ ہو تو بھی یہ تصور ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں آیا کہ یہ زيد کا گھر ہے، لیکن دوسری جانب یہ خیال بھی ہے کہ یہ شاید زيد کا گھر نہیں ہے۔ تو جب حکم کے بارے میں ذہن میں تردد ہو کہ یہ چیز اس کے لیے ثابت ہے یا ثابت نہیں، تو یہ تردد میں دونوں جانبیں یا تو برابر ہوں گی یا ایک جانب راجح ہوگی اور دوسری مرجوح۔ تو اگر دونوں جانبیں برابر ہوں، یعنی یہ بھی خیال ہے کہ یہ زيد کا گھر ہے اور یہ بھی خیال ہے کہ یہ زيد کا گھر نہیں، دونوں برابر خیال ہیں تو اس کو اصطلاح منطق میں کیا کہتے ہیں؟ شک کہتے ہیں بھئی، اس کو شک کہتے ہیں۔ ایک عام شک کا لفظ آپ اردو میں استعمال کرتے ہیں وہ نہیں، اس میں تھوڑا، زیادہ سب آ جاتے ہیں، لیکن یہاں منطق کے اندر جب بھی آپ کہیں گے تو دونوں جانبیں کا برابر ہونا ضروری ہے۔ اور اگر ایک جانب راجح ہو اور دوسری جانب مرجوح ہو، یعنی ایک کا خیال زیادہ ہے، دوسری کا خیال کم ہے، تو جس جانب کا خیال زیادہ ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ ظن کہتے ہیں، ظن ظ کے ساتھ۔ اور اگر ایک جانب کا اور جس جانب کا خیال کم ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ وہم کہتے ہیں بھئی، وہم۔ اور یہ جو شک اور وہم ہیں یہ تصور کی قسمیں ہیں، جبکہ ظن جو ہے وہ وہ تصدیق کی قسم جس میں زیادہ خیال ہے۔ اسی طرح میں نے آپ کو بتلایا تھا جملہ انشائیہ بھئی۔ جملہ انشائیہ کے اندر بھی چونکہ ایک چیز کو دوسری کے لیے ثابت یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی نہیں کی جاتی اس لیے وہ بھی تصدیق نہیں، کیونکہ تصدیق میں ہم نے بتلا دیا تھا کہ ایک چیز کو دوسری کے لیے یا تو ثابت کیا جائے یا اس سے اس چیز کی نفی کی جائے۔ تو جملہ انشائیہ کی جتنی اقسام ہیں وہ بھی تصور میں داخل ہو گئیں۔ مثلاً آپ کسی سے سوال پوچھتے ہیں: آپ کا کیا نام ہے؟ یا آپ کسی سے پوچھتے ہیں: آپ کہاں رہتے ہیں؟ یا کسی سے پوچھتے ہیں: آپ کدھر گئے تھے؟ تو یہ سب کس کی قسمیں ہیں؟ تصور کی، کیونکہ استفہام ہے، سوال ہے اور یہ جملہ انشائیہ ہے بھئی۔ اسی طرح کسی سے کہتے ہیں امر، حکم دیتے ہیں کسی کو: اضرب زيدا، زيد کی پٹائی کرو یا آپ کہتے ہیں: لا تضرب زيدا، زيد کی پٹائی نہ کرو، روکتے ہیں، منع کرتے ہیں۔ تو یہ حکم دینا یا روکنا یہ، یعنی امر اور نہی یہ بھی انشاء ہیں، تو لہٰذا یہ بھی کس کی قسم ہیں؟ تصور کی قسم ہیں بھئی، کیونکہ ان کے اندر بھی ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت نہیں کیا گیا یا دوسری چیز کی نفی نہیں کی گئی بھئی، نفی نہیں کی گئی۔ اچھا، اب یاد رکھیے یہ جو ایک چیز کے لیے ہم دوسری چیز ثابت کرتے ہیں، اسے حکم کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ حکم۔ حکم کہا جاتا ہے۔ یا اسی طرح اس کو اسناد بھی کہتے ہیں بھئی، اسناد۔ یا یوں کہیں، یہ یہ کیا کہلاتا ہے؟ حکم کہلاتا ہے اور اسی طرح نسبت حکمیہ بھی کہلاتا ہے یا نسبت خبری بھی کہلاتا ہے۔ مثلاً میرے ذہن میں خیال آیا کہ زيد عالم ہے۔ تو میں نے زيد کے لیے کیا ثابت کیا؟ عالم ہونا۔ تو یہ جو زيد کے لیے عالم ہونا ثابت کیا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ یہ ثابت کرنا یہ جو تعلق بیچ میں آ گیا یہ حکم کہلاتا ہے بھئی۔ اور یہی نسبت حکمیہ بھی کہلاتا ہے اور نسبت خبری بھی کہلاتا ہے بھئی، نسبت خبری بھی۔ تو حکم کسے کہتے ہیں؟ ہاں، ایک چیز کی نسبت دوسری کی طرف کی جائے اثبات کے طریقے پر یا نفی کے طریقے پر، یعنی ایک چیز کے لیے ایک چیز ثابت کی جائے یا اس کی نفی کی جائے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حکم۔ اور اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ نسبت حکمیہ یا نسبت خبری بھی۔ اور یہ جو دو چیزیں جن کے درمیان یہ نسبت خبری آئی، مثلاً میں نے کہا: زيد عالم ہے، تو کن دو چیزوں کے درمیان حکم آیا بھئی؟ زيد اور عالم۔ زيد الگ ذات ہے، عالم کا ایک الگ معنی ہے، آپ نے ایک معنی کو دوسرے کے لیے، دوسری ذات کے لیے ثابت کر دیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حکم یا نسبت حکمیہ اور نسبت حکمیہ۔ تو اس میں جس چیز کو ثابت کیا اس کو کہتے ہیں محکوم بہ، بلکہ بلکہ پہلے موضوع محمول کہہ لیں۔ مناطقہ کے ہاں عموماً آپ کو جو ملے گا، پہلے کو کہتے ہیں موضوع، یعنی جس پر حکم لگایا، جس کے لیے ثابت کیا، اور دوسرے کو کہتے ہیں محمول، یعنی وہ چیز جس کو ثابت کیا۔ میں نے کہا: زيد عالم ہے، تو کس کے لیے کیا ثابت کیا؟ زيد کے لیے عالم ہونا۔ تو زيد کے لیے ثابت کیا تو زيد کہلائے گا موضوع، موضوع۔ اور کس چیز کو ثابت کیا؟ عالم ہونے کو، تو یہ عالم کیا ہے؟ محمول ہے، محمول۔ تو جس چیز کے لیے ثابت کیا وہ موضوع کہلائے گا اور جس چیز کو ثابت کیا وہ محمول کہلائے گی۔ دوسرا نام ان کا یاد رکھیں۔ اسی موضوع کو محکوم علیہ بھی کہتے ہیں، محکوم علیہ، اس پر حکم لگایا گیا ہے۔ محکوم، حکم لگایا جس پر جائے، محکوم علیہ، وہ جس پر حکم لگایا گیا ہے۔ اور محمول کو محکوم بہ بھی کہتے ہیں بھئی، جس کے ساتھ حکم لگایا گیا۔ تو دیکھو زيد ہوا محکوم علیہ اور عالم عالم یہ ہونا یہ کیا ہے؟ محکوم بہ۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو پہلی چیز جس کے لیے ثابت کریں اس کو مناطقہ عموماً کیا کہتے ہیں؟ پہلا نام کیا بتایا؟ موضوع۔ اور دوسرا اسی موضوع کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم علیہ۔ اور جس چیز کو ثابت کیا ہے اس کو کیا کہیں گے؟ محمول، اور اسی کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکوم بہ بھئی۔ یہ بات یاد رہے گی اچھی طرح؟ اچھا، اب ذرا کتاب پر دیکھ لیجیے بھئی۔ بھئی آپ کو میں نے بتایا تھا کہ اس مقدمے کے اندر وہ علم کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت ذکر کریں گے۔ لیکن تعریف کو سمجھنے کے لیے علم کی یعنی علم منطق کی ضرورت کیوں ہے یہ سمجھنا ضروری، اور اس علم منطق کی ضرورت کو سمجھنے کے لیے فکر و نظر کا سمجھنا ضروری، اور فکر و نظر کو سمجھنے کے لیے بدیہی اور نظری کا سمجھنا ضروری۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اور بدیہی اور نظری یہ ان کو سمجھنے کے لیے تصور اور تصدیق کا سمجھنا ضروری، اور تصدیق کو سمجھنے کے لیے علم کا سمجھنا ضروری۔ تو اس لیے سب سے پہلے علم کو ذکر کیا، علم سمجھ میں آ گیا تو اب تصور اور تصدیق بیان کر رہے ہیں۔ جب تصور اور تصدیق بیان ہو جائیں گے تو پھر اب آپ کو بدیہی اور نظری کا پتہ چل سکتا ہے تو پھر اس کو بیان کریں گے۔ پھر اس کے بعد پھر فکر و نظر کو بھی آپ سمجھ سکیں گے تو پھر اس کو بیان کریں گے۔ اور پھر فکر و نظر جب آپ سمجھ سکیں گے تو اب آپ کو منطق کی ضرورت کا پتہ چلے گا کہ اس کی ضرورت کیوں ہے۔ اور جب منطق کی ضرورت کا پتہ چل جائے گا تو پھر کیا کریں گے وہ علم منطق کی تعریف کریں گے۔ تو پھر آپ کو وہ سمجھ میں آ جائے گی۔ تو کہتے ہیں بھئی کتاب پر دیکھیے: وينقسم على قسمين، اور یہ علم تقسیم ہوتا ہے على قسمين، دو قسموں پر۔ أحدهما، ان دو میں سے ایک جو ہے يقال له التصور، کہا جاتا ہے له اس کو التصور، اسے تصور کہا جاتا ہے۔ وثانيهما، اور دوسری قسم ان دو میں سے يعبر عنه بالتصديق، تعبیر کیا جاتا ہے اس سے تصدیق کے ساتھ، یعنی اسے تصدیق کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی اس کا نام کیا لیتے ہیں؟ تصدیق، اسے تصدیق کہتے ہیں۔ اب بتانے لگے ہیں تصور کسے کہتے ہیں اور تصدیق کسے۔ کہتے ہیں: أما التصور، باقی تصور جو ہے فهو الإدراك الخالي عن الحكم، پس وہ ادراک ہے جو خالی ہو حکم سے۔ تصور کسے کہتے ہیں؟ وہ ادراک جو خالی ہو حکم سے۔ حکم کسے کہتے تھے؟ بھئی محمول کو جو آپ نے موضوع کے لیے ثابت کیا یا اس سے اس کی نفی کی، اس کو کیا کہتے تھے؟ حکم کہتے تھے، اور دوسرا نام کیا تھا؟ دوسرا نام نسبت حکمیہ تھا، اس حکم کا دوسرا نام نسبت حکمیہ اور نسبت خبری تھا بھئی۔ تو اب تصور جو ہے وہ ادراک ہے جو حکم سے خالی ہو، یعنی جس کے اندر نسبت خبری نہ ہو بھئی، نسبت خبری نہ ہو یا جس کے اندر حکم نہ ہو۔ میں نے زيد کا تصور کیا، زيد میرے ذہن میں آیا، تو زيد اکیلا ہے۔ کیا میں نے زيد کے لیے کوئی چیز ثابت کی؟ نہیں۔ زيد سے میں نے کسی چیز کی نفی کی ہے؟ نہیں۔ تو نہ میں نے کوئی چیز ثابت کی ہے نہ نفی کی ہے، معلوم ہوا حکم نہیں ہے۔ حکم میں تو یا تو چیز ثابت ہوتی ہے یا ثابت نہیں۔ حکم کہتے کس کو ہیں؟ ایک چیز کو دوسری کے لیے ثابت کرنا یا ایک سے دوسری چیز کی نفی کرنا۔ تو تصور میں بتلایا یہ نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: التصور فهو الإدراك، ادراک کا معنی جاننا، وہ جاننا ہے الخالي عن الحكم، جو حکم سے خالی ہو، یعنی جس کے اندر حکم نہ ہو۔ اس کی میں نے کئی صورتیں آپ کو بتلا دیں بھئی۔ کبھی ایک ہی چیز ہوگی ذہن میں لیکن حکم نہیں، کبھی زیادہ چیزیں ہوں گی لیکن حکم نہیں، کبھی حکم بھی ہوگا لیکن تردد ہے، یقین نہیں بھئی، وہ بھی تصور۔ والمراد بالحكم نسبة أمر إلى أمر آخر إيجاباً أو سلباً، اور حکم سے مراد بھئی انہوں نے کہا تصور کہتے ہیں الإدراك الخالي عن الحكم، وہ ادراک جو حکم سے خالی ہو جس میں حکم نہ ہو۔ تو سوال پیدا ہوا حکم کسے کہتے ہیں؟ تو وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں بھئی: والمراد بالحكم، حکم سے مراد نسبة أمر، وہ نسبت کرنا ہے ایک چیز کی، ایک امر کی إلى أمر آخر، دوسری چیز کی طرف إيجاباً، ایجاب کا معنی ہے اثبات یعنی ثابت کرنا، ایجاب کے طریقے پر یعنی ایک چیز کو دوسری کے لیے ثابت کیا جائے گا أو سلباً، یا نفی کے طریقے پر، سلب نفی کو کہتے ہیں بھئی۔ تو ایک کے لیے ایک چیز ثابت ہوگی یا ایک چیز کی نفی ہوگی، اس کو کیا کہا جاتا ہے؟ حکم۔ 2 اثبات ایجاب کا کیا معنیٰ بیان کیا؟ اثبات کا کیا معنیٰ ہے؟ ثابت کرنا، ثابت ہونا نہیں ثابت کرنا۔ تو ایک چیز کے لیے دوسری چیز کو ثابت کرنا۔ میں نے کہا میرے ذہن میں آیا زید عالم ہے تو میں نے زید کے لیے عالم ہونا ثابت کر دیا۔ اور سلبًا کا معنیٰ ہے نفی۔ سلب نفی کو کہتے ہیں۔ تو جب میں نے کہا زید عالم نہیں ہے یہ سوچا، یہ ذہن میں آیا تو دیکھو میں نے زید سے عالم ہونے کی نفی کر دی۔ تو دیکھو ایک چیز کی نسبت کر رہا ہوں دوسری کی طرف نفی کے طور پر۔ ایک چیز کی نسبت کر رہا ہوں، کس چیز کی نسبت کر رہا ہوں؟ عالم ہونے کی، کس کی طرف؟ دوسری چیز یعنی زید کی طرف اور کس طور پر؟ نفی کے طور پر کہ میں اس سے نفی کر رہا ہوں۔ تو عالم ہونے کی نسبت ہے زید کی طرف لیکن نفی کے طریقے پر ہے، اثبات کے طریقے پر نہیں۔ تو یہی جو ایک چیز کی نسبت دوسری چیز کی طرف ہے، کبھی اثبات کے طریقے پر ہوگی اور کبھی نفی کے طریقے پر۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِالْحُكْمِ نِسْبَةُ أَمْرٍ إِلَى أَمْرٍ آخَرَ وہ نسبت کرنا ہے ایک امر کی، ایک چیز کی، دوسری چیز کی طرف۔ إِيجَابًا أَوْ سَلْبًا ایجاب کے اثبات کے طور پر یا أو سلبًا یا نفی کے طور پر۔ وَإِنْ شِئْتَ اور اگر آپ چاہیں، قُلْتَ تو یوں کہہ لیں: إِيقَاعًا أَوْ انْتِزَاعًا واقع کرنا یا انتزاع، ایقاع کا معنیٰ ہے واقع کرنا، انتزاع کا معنیٰ ہے کھینچ لینا۔ انتزاع کا معنیٰ؟ کھینچ لینا۔ اب ذرا ایجاب و سلب کی جگہ یہ دونوں لگاؤ۔ حکم کسے کہتے ہیں؟ نِسْبَةُ أَمْرٍ إِلَى أَمْرٍ آخَرَ إِيقَاعًا أَوْ انْتِزَاعًا نسبت کرنا ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف ایقاع کے طور پر، یعنی واقع کرنے کے طریقے پر۔ دیکھیے آپ نے کہا سوچا زید عالم ہے تو آپ نے عالم ہونے کو کس پر واقع کر دیا؟ زید پر اس معنیٰ کو واقع کر دیا کہ وہ عالم ہے۔ اور انتزاعًا کھینچ لینا، نسبت کرنا ایک چیز کی دوسری چیز کی طرف انتزاع کے طریقے پر یعنی کھینچ لینا اس سے۔ آپ نے ذہن میں ایک سوچا زید عالم نہیں ہے اور یقین ہے آپ کو، تو دیکھیے آپ نے زید سے عالم ہونے کے معنیٰ کو کھینچ لیا اس سے اس کی نفی کر دی۔ تو مراد وہی ہیں مولانا! ایقاع اور انتزاع کا وہی معنیٰ ہے جو ایجاب اور سلب کا ہے۔ ایقاع کے اندر اثبات ہوگا اور انتزاع کے اندر سلب ہوگا، نفی ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ اور اگر آپ چاہیں تو یوں کہیں: إِيقَاعًا أَوْ انْتِزَاعًا وَقَدْ يُفَسَّرُ الْحُكْمُ بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا اور کبھی تفسیر کی جاتی ہے حکم کی بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا ای لا وقوع النسبۃ، یہ ھا ضمیر نسبت کو راجع ہے۔ تو کبھی کبھار حکم کی تفسیر کی جاتی ہے وقوع نسبت کے ساتھ یا لا وقوع نسبت کے ساتھ۔ دیکھیے آپ نے کہا زید عالم ہے اس میں وقوع نسبت ہے، جس کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ وقوع نسبت ہے۔ اور اگر آپ نفی کرتے ہیں تو اس کو کیا کہیں گے؟ لا وقوع نسبت، بھئی۔ كَمَا إِذَا تَصَوَّرْتَ مثال ذکر کرنے لگے ہیں تصور کی، بھئی۔ كَمَا إِذَا تَصَوَّرْتَ زَيْدًا وَحْدَهُ جیسے کہ آپ تصور کریں، تصورْتَ مخاطب کا صیغہ ہے۔ تصورْتَ جیسے کہ تو تصور کرے، زَيْدًا زید کو، وَحْدَهُ اکیلا۔ آپ اکیلے زید کا تصور کریں۔ أَوْ قَائِمًا یا کس کا تصور کریں؟ قائمًا کھڑے ہونے کا، وَحْدَهُ اکیلے۔ مِنْ دُونِ أَنْ تُثْبِتَ الْقِيَامَ لِزَيْدٍ بغیر اس کے کہ آپ ثابت کریں، أن تثبت؟ ہاں، مِنْ دُونِ أَنْ تُثْبِتَ بغیر اس کے کہ آپ ثابت کریں الْقِيَامَ لِزَيْدٍ قیام کو زید کے لیے، أَوْ تَسْلُبَهُ عَنْهُ یا آپ نفی کریں اس سے قیام کی۔ یا کیا کریں؟ بغیر اس کے کہ آپ قیام کو زید کے لیے ثابت کریں، دو ہی صورتیں تھیں نا، عالم کی جگہ قیام سوچ لیں، زیدٌ عالمٌ کے بجائے زیدٌ قائمٌ ہے، تو آپ کہہ سکتے ہیں زید کھڑا ہے یا زید کھڑا نہیں ہے۔ تو اگر آپ کہتے ہیں زید کھڑا ہے، تو آپ نے زید کے لیے کیا کر دیا؟ کھڑے ہونے کو ثابت کر دیا اور اگر آپ کہتے ہیں زید کھڑا نہیں ہے، تو آپ نے زید سے کھڑے ہونے کی نفی کر دی ہے۔ پھر اس صورت میں تو تصدیق کہلائے گا لیکن اگر اکیلے زید کا خیال آیا، قیام اس کے لیے ثابت بھی نہیں کرتے، قیام کی اس سے نفی بھی نہیں کرتے، صرف کس کا تصور ہے؟ زید کا، تو یہ اکیلے زید کا تصور کیا، خیال جو ہے یہ کیا کہلائے گا؟ تصور۔ اسی طرح قائمًا کا اکیلا خیال، کھڑے ہونے کا اکیلا خیال، یہ زید کے لیے نہ اثبات کر رہے ہیں نہ نفی، صرف کس کا خیال ہے؟ کھڑے ہونے کا، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو بھی تصور کہیں گے۔ کیونکہ تصدیق کے اندر ضروری تھا کہ دوسری چیز کے لیے ایک کو ثابت کریں یا اس سے اس چیز کی نفی کریں۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: إِذَا تَصَوَّرْتَ زَيْدًا وَحْدَهُ جب آپ تصور کریں اکیلے زید کا، أَوْ قَائِمًا وَحْدَهُ یا اکیلے قائمًا کا، مِنْ دُونِ أَنْ تُثْبِتَ الْقِيَامَ لِزَيْدٍ بغیر اس کے کہ آپ ثابت کریں قیام کو زید کے لیے، أَوْ تَسْلُبَهُ عَنْهُ یا اس کی نفی کریں زید سے۔ بغیر اس کے کہ اس کے لیے ثابت کریں یا اس سے اس کی نفی کریں تو یہ کیا ہے؟ تصور ہے، تصور، بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی سب کو اچھی طرح؟ تو منطقی اصل میں بحث کس سے کرتا ہے؟ قولِ معقول سے، اور قولِ معقول پھر کتنی قسم پر ہوا؟ تصور ہوگا یا تصدیق۔ تصدیق کے اندر کیا ہوگا؟ ایک چیز کے لیے دوسری چیز ثابت ہوگی یا ایک چیز سے دوسری چیز کی نفی ہوگی۔ اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیق، لیکن اس کے لیے ایک شرط بھی تھی، کیا شرط؟ کہ آپ کو پختہ یقین ہو اس کا، اگر پختہ یقین نہیں تو بھی تصدیق نہیں بلکہ تصور ہے۔ تو اور اس کے علاوہ جو صورتیں ہیں وہ ساری تصور کی بن جائیں گی تصدیق کے علاوہ، بھئی۔ اور اسی میں جملہ انشائیہ بھی آ گیا، وہ بھی کس کے قسم ہے؟ تصور کی قسم ہے۔ شک، شک کس کی قسم ہے؟ تصور کی۔ وہم کس کی قسم ہے؟ تصور کی۔ البتہ ظن کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی، ظن میں کیا ہوتا ہے؟ زیادہ خیال ہوتا ہے ایک چیز کے راجح ہوتی ہے، غالب گمان ہو جس کو کہیں، بھئی، کیا ہوتا ہے؟ غالب گمان ہوتا ہے کہ یہ اس طرح ہے، زیادہ خیال ہوتا ہے۔ یہاں تک بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ سمجھ میں آیا، دوبارہ کرنے کی ضرورت ہے؟ جی؟ دوبارہ کر دوں؟ دوبارہ دیکھ لیجیے۔ وَيَنْقَسِمُ عَلَى قِسْمَيْنِ اور علم تقسیم ہوتا ہے دو قسموں پر، یعنی اب دو قسمیں بتائیں گے علم کی، کون کون سی؟ تصور اور تصدیق، یہ علم کی قسمیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَيَنْقَسِمُ عَلَى قِسْمَيْنِ اور علم تقسیم ہوتا ہے دو قسم پر، أَحَدُهُمَا ان دو میں سے ایک جو ہے، يُقَالُ لَهُ التَّصَوُّرُ اسے تصور کہا جاتا ہے، وَثَانِيهِمَا يُعَبَّرُ عَنْهُ بِالتَّصْدِيقِ اور ان دو میں سے جو دوسرا ہے، اس کو تعبیر کیا جاتا ہے تصدیق کے ساتھ یعنی اسے تصدیق کہا جاتا ہے۔ أَمَّا التَّصَوُّرُ فَهُوَ الْإِدْرَاكُ الْخَالِي عَنِ الْحُكْمِ باقی تصور جو ہے تو وہ ادراک ہے جو خالی ہو حکم سے یعنی اس میں کسی قسم کا حکم نہ ہو یعنی اثبات یا نفی نہ ہو۔ وَالْمُرَادُ بِالْحُكْمِ نِسْبَةُ أَمْرٍ إِلَى أَمْرٍ آخَرَ إِيجَابًا أَوْ سَلْبًا اور مراد حکم سے وہ نسبت کرنا ہے ایک چیز کی الی امرٍ آخر دوسری چیز کی طرف إیجابًا کس طریقے پر؟ اثبات کے طریقے پر، أو سلبًا یا نفی کے طور پر۔ وَإِنْ شِئْتَ قُلْتَ إِيقَاعًا أَوْ انْتِزَاعًا اور اگر آپ چاہیں تو یوں کہہ لیں إیقاعًا أو انتزاعًا، إیجابًا یا سلبًا کی جگہ کیا کہہ لیں؟ إیقاعًا یا انتزاعًا۔ إیقاعًا کا کیا معنیٰ؟ واقع کرنا یعنی وہی ہے ثابت کرنا۔ أو انتزاعًا اور کھینچ لینا یعنی نفی کر لینا۔ وَقَدْ يُفَسَّرُ الْحُكْمُ بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا بھئی، یہی حکم جس کی انہوں نے تعریف کیا کی؟ نِسْبَةُ أَمْرٍ إِلَى أَمْرٍ آخَرَ إِيجَابًا أَوْ سَلْبًا، اسی حکم کی کبھی تفسیر کر دی جاتی ہے بِوُقُوعِ النِّسْبَةِ أَوْ لَا وُقُوعِهَا، وقوع نسبت یا لا وقوع نسبت کے ساتھ بھی اس کی تفسیر کر دی جاتی ہے، بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ کوئی آپ سے پوچھے حکم کیا ہے؟ آپ کہیں گے وقوع نسبت ہے یا لا وقوع نسبت ہے۔ حکم کیا ہے؟ وقوع نسبت ہے یا لا وقوع نسبت ہے، تو دیکھو اسی کی تفسیر، ایک تفسیر پہلے گزری حکم کسے کہتے ہیں؟ آپ کہیں گے نِسْبَةُ أَمْرٍ إِلَى أَمْرٍ آخَرَ إِيجَابًا أَوْ سَلْبًا، تو یہ دوسری تفسیر آ گئی۔ كَمَا إِذَا تَصَوَّرْتَ زَيْدًا وَحْدَهُ أَوْ قَائِمًا وَحْدَهُ مِنْ دُونِ أَنْ تُثْبِتَ الْقِيَامَ لِزَيْدٍ أَوْ تَسْلُبَهُ عَنْهُ جیسے کہ آپ تصور کریں زید کا اکیلے یا قائمًا کا اکیلے، بغیر اس کے کہ آپ ثابت کریں قیام کو زید کے لیے یا اس سے قیام کی نفی کریں۔ تو اکیلے زید کا خیال، یہ کیا ہے؟ تصور۔ اکیلے قیام کا خیال، یہ کیا ہے؟ یہ بھی تصور ہے، بھئی۔ اب آپ مجھے بتائیے، بھئی، تصور اور تصدیق کا اچھی طرح پتہ چل گیا؟ ہاں، اب آپ کے سامنے میں لفظ بولوں گا، آپ نے مجھے بتانا ہے یہ تصور ہے یا تصدیق ہے۔ زید اور عمرو۔ تصور، شاباش! جنت۔ تصور۔ جہنم۔ تصور۔ جنت برحق ہے۔ تصدیق، شاباش! ہم مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ تصدیق ہے۔ ہم منطق پڑھ رہے ہیں۔ تصدیق ہے، شاباش! زید کے دوست کے گھر کے سامنے۔ تصور ہے، شاباش، بھئی! شاید عمرو کا بھئی زید کا غلام ہے۔ جی؟ شاباش، شاباش! یہ شاید سے کیا پتہ چلا؟ شک ہے اس کے اندر، تو یہ تصور ہوا، بھئی، تصور ہوا! موت کا فرشتہ۔ تصور۔ اچھا! میری وہ گھڑی جو میں نے آپ کو پرسوں دی تھی۔۔۔ میری وہ گھڑی جو پرسوں میں نے آپ کو دی تھی۔۔۔ کیا ہے؟ تصور کون کہہ رہے ہیں اور تصدیق کون، ذرا پتہ لگے، بھئی، تصور کون کہہ رہے ہیں؟ اچھا! اور تصدیق کون کہہ رہے ہیں؟ اچھا، سب تصور، ہاں شاباش، یہ تصور ہے۔ بھئی، بات پوری آپ کو سمجھ میں آ گئی؟ نہیں، میں نے آپ سے صرف اتنا کہا میری وہ گھڑی جو میں نے آپ کو پرسوں دی تھی، بھئی، اس کو کیا ہوا؟ بات تھی پوری؟ وہ ٹوٹ گئی ہے، وہ باقی ہے، وہ ٹھیک ہو گئی ہے، وہ آگے آنے والا تھا۔ تو یہ تو میں ابھی صرف اسی گھڑی کی آپ کو پہچان کروا رہا ہوں، وہ جو گھڑی میں نے آپ کو پرسوں دی تھی، وہ خراب ہو گئی ہے، بات جو۔۔۔ ہاں، اب تصدیق بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ ہاں شاباش، اس طرح باتوں کو سمجھتے جاؤ، انشاء اللہ بہترین منطقی آپ سال کے آخر تک بن جائیں گے، بھئی۔ اب یہ جو آج سبق پڑھا اس میں سے یہ جو تصور کی تعریف آئی، اس کو آپ نے یاد کرنا ہے، زبانی، اسی طرح حکم کی جو تفسیر آئی، تعریف آئی، اس کو بھی آپ نے خوب اچھی طرح یاد کرنا ہے، بھئی۔ جی، کوئی بات سمجھ میں نہ آئی ہو؟ ایجاب، اثبات، ثابت کرنا۔ خوب ایک ایک لفظ کا معنیٰ آنا چاہیے آپ کو، بھئی! سمجھ میں نہ آئے، آپ ویسے ترجمہ رٹ لیں، نہیں بھئی، ایک ایک لفظ کا ترجمہ آپ کو آنا چاہیے، إیجابًا کا معنیٰ ہے إثباتًا، ثابت کرنا، سلبًا کا معنیٰ ہے نفی کرنا۔ اب آپ مجھے بتائیے ذرا: زید کا بھئی میرا پڑوسی ہے۔ کیا ہے؟ تصدیق ہے۔ اچھا، تصدیق ہے۔ اب اس میں ذرا بتائیے پہلے حصے کو کیا کہیں گے جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں؟ موضوع اور محمول میں نے بتایا تھا تو وہ جس کے لیے ثابت کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ موضوع، اور جس چیز کو ثابت کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ محمول۔ تو زید کا بھئی میرا پڑوسی ہے۔ موضوع ذرا نکال کر مجھے بتائیں بھئی، موضوع کیا ہے اس میں؟ زید؟ زید کا میں بتا رہا ہوں یا زید کے بھئی کا بتا رہا ہوں؟ ہاں، زید کا بھئی، یہ کیا ہے؟ موضوع، اور کیا اس کے اوپر اس کے لیے کیا ثابت کیا؟ میرا پڑوسی، تو میرا پڑوسی ہونا یہ محمول ہے اور زید کا بھئی موضوع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ زید کا دوست امیر ہے۔ موضوع کیا ہے؟ زید کا دوست، اور امیر ہے؟ یہ محمول ہے۔ موضوع کا دوسرا نام کیا ہے؟ محکومٌ علیہ، علیہ، اس پر حکم لگایا گیا ہے علیہ، اس پر، تو دیکھو ترجمے سے ہی آپ کو یاد ہو جائے گا۔ اور جس کا حکم لگایا اس کو کیا کہتے ہیں؟ محکومٌ بہٖ، حکم لگایا گیا اس کے ساتھ۔ اور یہ جو ثابت کرنا یا نفی کرنا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ حکم، کیا کہلاتا ہے؟ حکم کہلاتا ہے اور اس کا دوسرا نام کیا ہے؟ نسبتِ حکمیہ، کہتے ہیں نسبتِ حکمیہ، بھئی۔ تو یاد رکھیے جس چیز کے لیے ثابت کر رہے ہیں وہ موضوع اور جس چیز کو ثابت کر رہے ہیں وہ محمول۔ میں نے کہا زید کا بھئی عمرو کا غلام ہے۔ زید کا بھئی عمرو کا غلام ہے، موضوع کیا؟ زید کا بھئی، اور محمول کیا؟ عمرو کا غلام ہے۔ کبھی الٹ جائیں گے؟ اسی کو ذرا الٹ دو، عمرو کا غلام زید کا بھئی ہے۔ عمرو کا غلام زید کا بھئی ہے، اب موضوع کیا؟ عمرو کا غلام، یہ موضوع بن جائے گا اور زید کا بھئی ہونا اس کے لیے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ جو عمرو کا غلام ہے یہ اس کے لیے کیا ثابت کر دیا، یہ کون ہے؟ زید کا بھئی ہے، تو یہ کیا بن جائے گا؟ محمول بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہی چیز ایک دفعہ پہلے موضوع تھی، تو یہ ضروری نہیں ہے ہر جگہ موضوع ہی آئے، ہو سکتا ہے آگے چل کر وہ کیا بن جائے؟ محمول بن جائے اور محمول کیا بن جائے؟ موضوع بن جائے، بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 10 of 108