Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-070

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 70 1 وَنَقَائِضُ الْمُرَكَّبَاتِ مِنْهَا مَفْهُومٌ مُرَدَّدٌ بَيْنَ نَقِيضَيْ بَسَائِطِهَا، وَالتَّفْصِيلُ يُطْلَبُ مِنْ مُطَوَّلَاتِ الْفَنِّ. تناقض کی بحث چل رہی ہے اور قضایاۓ موجہہ جو بسائط تھے ان میں سے، ان کی نقیضوں کا بیان ہو چکا کہ وہاں پر جہت میں بھی اختلاف ضروری ہے بھئی۔ اور انہوں نے اپ کو بتلایا تھا ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ اتی ہے، دائما مطلقہ کی نقیض مطلقہ عامہ اتی ہے، مشروطہ عامہ کی نقیض حینیہ ممکنہ اتی ہے اور عرفیہ عامہ کی نقیض حینیہ مطلقہ اتی ہے بھئی۔ جبکہ وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کی نقیضوں کو ذکر نہیں کیا، کیونکہ اگے انے والی بحث سے چونکہ ان کا تعلق نہیں، ان کی ضرورت نہیں، اس لیے ان کو ذکر ہی نہیں کیا بھئی۔ اب جو موجہات میں سے مرکبات تھے بھئی مرکبات، ان کی نقیض کے بارے میں مختصر سی بات انہوں نے کی اور کہا: وَنَقَائِضُ الْمُرَكَّبَاتِ کہ مرکبات کی جو نقیضیں ہیں، مِنْهَا تو ان میں سے بعض جو ہیں، مَفْهُومٌ مُرَدَّدٌ وہ مفہوم ہے جو مردد ہو، جو لوٹایا گیا ہو، بَيْنَ نَقِيضَيْ بَسَائِطِهَا ان کے بسیطوں کی نقیضوں کے درمیان۔ بَئی دیکھیے اپ نے پڑھا تھا کہ جو موجہات میں سے مرکبات ہیں بھئی، وہ دراصل دو موجہوں سے مرکب ہوتے ہیں، اسی لیے ان کو مرکب کہا جاتا ہے، دو موجہوں سے۔ اور ایک تو ان میں سے صراحۃً ذکر ہوتا ہے اور دوسرے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ ان میں کیا ہوتا تھا؟ ایک صراحۃً ذکر ہوتا تھا اور دوسرے کی طرف اشارہ ہوتا تھا۔ مثلاً بھئی، مثلاً مشروطہ خاصہ، مشروطہ خاصہ پڑھا تھا اپ نے بھئی، اور وہ کسے کہتے تھے؟ اس کی کیا مثال پڑھی تھی؟ مثلاً بِالضَّرُورَةِ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا۔ بِالضَّرُورَةِ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا بھئی، لَا دَائِمًا۔ اور یعنی کہ مشروطہ خاصہ، وہی مشروطہ عامہ کے ساتھ لَا دَائِمًا کی قید لگا دیں تو وہ مشروطہ خاصہ بن جاتا تھا۔ کس کے ساتھ؟ مشروطہ عامہ کے ساتھ لَا دَائِمًا کی قید لگتی تھی تو وہ کیا بن جاتا تھا؟ مشروطہ خاصہ بن جاتا تھا۔ اور مشروطہ عامہ کی کیا مثال پڑھی تھی؟ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا۔ جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی ضروری ہو جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہو۔ تو اس کی مثال کیا تھی؟ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا۔ اسی کے ساتھ لَا دَائِمًا کی قید لگا دیتے تھے تو یہ کیا بن جاتا تھا؟ مشروطہ خاصہ۔ اور لَا دَائِمًا کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوتا تھا؟ مطلقہ عامہ کی طرف، کس کی طرف؟ مطلقہ عامہ۔ اور مطلقہ عامہ کسے کہتے تھے؟ جس میں محمول کے لیے موضوع کا ثبوت یا محمول سے موضوع کی نفی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو۔ مثلاً اپ کہتے ہیں: كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ۔ كُلُّ كَاتِبٍ سَاكِنُ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ۔ کہ ہر کاتب اس کی انگلیاں ساکن ہیں بالفعل، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ یہ کیا ہے؟ مطلقہ عامہ۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ تو معلوم ہوا مشروطہ خاصہ جو ہے، وہ مرکب ہوتا تھا مشروطہ عامہ سے اور مطلقہ عامہ سے۔ لَا دَائِمًا کے ذریعے کس کی طرف اشارہ ہوتا تھا؟ مطلقہ عامہ کی طرف اشارہ ہوتا تھا۔ تو دیکھیے، مطلقہ عامہ کی طرف صرف اشارہ کیا لَا دَائِمًا کے ذریعے، تو ایک قضیہ صراحۃً ذکر ہوا اور دوسرا اشارۃً ذکر ہوا بھئی۔ اور اس میں اپ نے پڑھا تھا کہ کمیت کو برقرار رکھنا ہے، یہ جو لَا دَائِمًا کے ذریعے جس کی طرف اشارہ ہوا، اس میں کمیت کو برقرار رکھتے تھے البتہ کیفیت کو بدل دیتے تھے، یعنی ایجاب کو سلب سے بدل دیتے تھے یا سلب کو ایجاب سے۔ پہلا کیا تھا؟ جی؟ وہی مثال بنائیں بھئی جو ابھی میں بیان کر رہا ہوں: كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا۔ تو اب دیکھیے، لَا دَائِمًا کے ذریعے ہم نے بنانا ہے مطلقہ عامہ، تو کیسے بنائیں گے؟ کمیت برقرار رکھنی ہے، یعنی پہلا کلیہ ہے تو دوسرا بھی کیا بنانا ہے؟ کلیہ۔ اگر پہلا جزئیہ ہو تو دوسرا بھی کیا بناتے ہیں؟ جزئیہ۔ کیفیت برقرار رکھتے ہیں، نقیض نہیں بنا رہے ہم، ہم اسی لَا دَائِمًا کے ذریعے کیا کر رہے ہیں؟ دوسرا قضیہ نکال رہے ہیں جس کی طرف اشارہ ہے۔ تو کمیت برقرار رکھنی ہے بھئی، یعنی اگر پہلا کلیہ ہے تو دوسرا بھی کیا بناؤ؟ کلیہ۔ پہلا جزئیہ ہے تو دوسرا بھی کیا بناؤ؟ جزئیہ۔ البتہ کیفیت بدلنی ہے، اگر پہلے میں ایجاب ہے تو دوسرے میں کیا نکالیں گے؟ سلب، اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں کیا نکالیں گے؟ ایجاب نکالیں گے۔ تو لَا دَائِمًا کے ذریعے پہلے میں اس سے پہلے کیا تھا؟ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا۔ ایجاب ہے کہ سلب ہے اس میں؟ ایجاب، تو دوسرے میں کیا نکالیں گے؟ سلب۔ اور پہلا کلیہ ہے کہ جزئیہ ہے؟ کلیہ، تو دوسرا بھی کیا نکالیں گے؟ کلیہ۔ تو کیسے بنے گا؟ کلیہ سالبہ بنائیں بھئی: لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ۔ لَا شَيْءَ مِنَ الْكَاتِبِ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ بِالْفِعْلِ۔ موضوع محمول وغیرہ کو اسی طرح رکھنا ہے۔ کوئی بھی کاتب متحرک الاصابع نہیں ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ اچھا، یہ تو تھیں بھئی میں نے اپ کے سامنے پھر بیان کیا مشروطہ خاصہ کو بھئی، اس لیے کیونکہ ہم ایک مثال کر لیتے ہیں، باقی تفصیل کہتے ہیں بڑی کتابوں میں اپ پڑھ لیں گے بھئی۔ مصنف نے تو مختصر سی بات کی البتہ ہم ایک مثال کر لیں گے تاکہ طریقہ اپ کو ا جائے، باقی تفصیل بڑی کتابوں میں ا جائے گی بھئی۔ تو اس کا طریقہ بتلایا ہے انہوں نے، کیا؟ کیا کہتے ہیں؟ دیکھیے، کہتے ہیں: نَقَائِضُ الْمُرَكَّبَاتِ کہ مرکبات کی جو نقیضیں ہیں، مِنْهَا بعض ان میں سے، یعنی سب یہ سب کا یہی طریقہ نہیں ہے، ان میں سے بعض جو ہیں، مَفْهُومٌ مُرَدَّدٌ وہ مفہوم ہے جو لوٹایا گیا ہو، بَيْنَ نَقِيضَيْ بَسَائِطِهَا، نَقِيضَيْ اصل میں تھا نَقِيضَيْنِ، تثنیہ، اور حالتِ جری میں ہے تو یا کے ساتھ ایا، اور پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا، بَيْنَ نَقِيضَيْ بَسَائِطِهَا، اس مرکبہ کے جو بسائط ہیں ان کی نقیضوں کے درمیان۔ اس مرکبہ کے، توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ اس مرکبہ کے جو بسائط ہیں ان کی نقیضوں کے درمیان وہ مفہوم لوٹایا گیا ہوتا ہے۔ بھئی دیکھیے، طریقہ یہ ہے، مرکبہ کی نقیض بنانے کا طریقہ ایک یہ ہے کہ مرکبہ وہ مرکب ہوتا ہے دو قضیوں سے، ان دونوں کو الگ الگ نکال لیں، پھر ان دونوں کی نقیض کہتے ہیں بنا لیں۔ دو بسیطہ بن گئے نہ؟ اپ نے مرکبہ کے دونوں جز الگ الگ کر دیے تو کیا حاصل ہوئے اپ کو؟ دو بسیطہ حاصل ہو گئے۔ ان میں سے ہر ایک کی نقیض بنا لیں گے۔ کیا کر لیں گے؟ اور پھر ان دونوں نقیضوں کو جو ہے، ان سے قضیہ، قضیہ منفصلہ مانعۃ الخلو بنا لیں گے بھئی۔ قضیہ منفصلہ مانعۃ الخلو بنا لیں گے، یعنی شروع میں اِمَّا لے ائیں گے اور درمیان میں اَوْ یا وَإِمَّا لے ائیں گے۔ شروع میں کیا لے ائیں گے؟ وہ جو دو نقیضیں اپ نے بنا لیں، دو بسیطہ حاصل ہوئے اپ نے مرکبہ کو کھولا، کیا حاصل ہوئے؟ دو بسیطہ۔ ان میں سے ہر ایک کی پھر کیا کر لیں گے؟ نقیض بنا لیں گے، اور پھر ان کو جوڑ دیں گے، کس طرح جوڑیں گے؟ شروع میں لے ائیں گے اِمَّا اور درمیان میں کیا لے ائیں گے؟ اَوْ یا وَإِمَّا لے ائیں گے۔ درمیان میں اَوْ لے ائیں یا وَإِمَّا لے ائیں، ایک ہی بات ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو اس طرح یہ قضیہ منفصلہ مانعۃ الخلو جو ہے، وہ حاصل ہوگا اور یہ نقیض ہوگی اس قضیہ مرکبہ کی بھئی موجہہ کی۔ مثلاً بھئی، ہم بناتے ہیں مثال، کیا مثال ذکر کی مثلاً مشروطہ خاصہ کی؟ ہم ایک مثال حل کر لیتے ہیں، اس کی نقیض بنا لیتے ہیں۔ کیا مثال ابھی مشروطہ خاصہ کی بیان کی؟ ہاں، لکھیے بھئی یہ کاپیوں پر لکھ لیں، ویسے اپ کو یاد نہیں رہے گا۔ شروع میں لکھ لیجیے: مشروطہ خاصہ۔ مشروطہ خاصہ۔ مشروطہ خاصہ، اگے لکھیے بھئی: كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ، كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ، بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا، مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا، مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا۔ لکھ لیا بھئی؟ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا۔ اب دیکھیے بھئی، اس میں سے ذرا لَا دَائِمًا کو ہٹائیں تو یہ کون سا قضیہ ہے؟ یہ مشروطہ عامہ ہے بھئی، تو نیچے اس کے لکھیں بھئی: مشروطہ عامہ، اور اس کے ساتھ لکھیں، بھئی لَا دَائِمًا سے کس کی طرف اشارہ ہوتا ہے؟ مطلقہ عامہ کی طرف، تو لکھیں: مشروطہ عامہ اور مطلقہ عامہ۔ مشروطہ عامہ اور مطلقہ عامہ، یہ دو بسیطہ حاصل ہوں گے ہمیں، اب یہ دو بھی بنا لیتے ہیں۔ مشروطہ عامہ تو اسان ہے، بعینہٖ یہی قضیہ جو اوپر لکھا اس کو لکھ لیں، صرف لَا دَائِمًا اخر میں نہ لکھیں۔ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا، مَا دَامَ كَاتِبًا۔ لکھ لیا بھئی؟ یہاں تک صرف لکھنا ہے، اگے نہیں لکھنا بھئی۔ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا۔ یہ اگیا مشروطہ عامہ بھئی۔ دوسرا ہمیں کیا ملے گا وہ ابھی لکھنا نہیں، وہ اگے چل کر ہم کریں گے۔ دوسرا کیا لَا دَائِمًا سے کون سا قضیہ ہمیں ملے گا؟ مطلقہ عامہ، وہ بعد میں کرتے ہیں، پہلے اس کی نقیض تیار کر لیں۔ اچھا، اس کے نیچے اب شروع میں لکھ لیں بھئی نقیضہ، یا نقیضہا لکھ لیں بھئی، قضیہ ہے تو نقیضہا۔ نقیضہا۔ اچھا، یہ کون سا قضیہ نکالا ہے اپ نے؟ مشروطہ عامہ، اس کا اپ نے کل پڑھا تھا، مشروطہ عامہ کی نقیض کیا اتی ہے؟ حینیہ ممکنہ، کیا اتی ہے؟ حینیہ ممکنہ۔ حینیہ ممکنہ کسے کہتے تھے؟ وہ قضیہ جس میں بحسب الوقت جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہو۔ وہ قضیہ جس میں بحسب الوقت جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہو، بالفاظِ دیگر، وہ قضیہ جس میں یہ حکم لگایا جائے کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی ممکن ہے۔ کب تک؟ یعنی جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے۔ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی ممکن ہے۔ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کس میں اتا تھا؟ ممکنہ عامہ میں، تو یہ ممکنہ عامہ تھا اور اسی کے ساتھ کون سی قید لگتی تھی؟ بحسب الوقت کی قید لگتی تھی، یعنی جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے۔ تو کیا مثال اس کی پڑھی تھی اپ نے؟ كُلُّ كَاتِبٍ ضَاحِكٌ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ۔ اچھا، اب ہم نے یہی قضیہ یہ بنانا ہے بھئی، کس طرح بنائیں گے بھئی؟ كُلُّ كَاتِبٍ کو یہاں کس سے بدلیں گے؟ بَعْضُ الْكَاتِبِ، جی لکھیے۔ کلیت کو جزئیت سے بدلنا ہے، ایجاب کو سلب سے بدلنا ہے۔ بَعْضُ الْكَاتِبِ، نقیضہا کے اگے لکھیں: بَعْضُ الْكَاتِبِ لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ، لَيْسَ بِمُتَحَرِّكِ الْأَصَابِعِ۔ اگے کیا لکھیں گے؟ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ۔ بِالْإِمْكَانِ الْعَامِّ حِينَ هُوَ كَاتِبٌ۔ لکھ لیا بھئی؟ 2 یہ نقیض تیار ہو گئی ایک جز کی بھئی۔ بعض الکاتب ليس بمتحرك الأصابع بالإمكان العام حين هو كاتب. دوسرا جز اب لیں بھئی۔ نیچے دوسرا جز کیا تھا؟ مطلقہ عامہ بھئی، مطلقہ عامہ۔ لا دائما کے ذریعے کس کی طرف اشارہ تھا؟ مطلقہ عامہ کی طرف نا۔ لا دائما کے ذریعے اشارہ تھا مطلقہ عامہ کی طرف۔ اور مطلقہ عامہ اسی سے بنائیں گے بھئی، اسی کو دیکھ کر یہ جو آپ نے اوپر مرکبہ لکھا تھا بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کیا طریقہ تھا؟ کمیت وہی رکھیں گے اور کیفیت بدل دیں گے۔ اگر پہلے میں ایجاب ہے تو دوسرے میں کیا لائیں گے؟ سلب۔ اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں کیا لائیں گے؟ ایجاب۔ یہ کیفیت بدلنی ہے اور کمیت اسی طرح رکھنی ہے۔ اگر پہلا کلی ہے تو دوسرا بھی کیا بنائیں گے؟ کلی۔ اگر پہلا جزئی ہے تو دوسرا بھی کیا بنائیں گے؟ جزئی۔ جی، بنائیے اب۔ سالبہ بنانا ہے۔ لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع بالفعل۔ لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع بالفعل۔ یہ وہ لا دائما سے ہم نے قضیہ نکالا بھئی، مطلقہ عامہ۔ اچھا، اب اس کی نقیض بھئی، مطلقہ عامہ اوپر آپ نے پڑھا تھا کہ مطلقہ عامہ کی نقیض کیا آئے گی بھئی؟ کتاب میں دیکھیں، جلدی کریں مجھے بتائیے بھئی۔ مطلقہ عامہ کی نقیض کیا آئے گی؟ دائما مطلقہ۔ کتاب میں بتلایا تھا کہ دائما مطلقہ کی نقیض مطلقہ عامہ آئے گی۔ تو جب دائما مطلقہ کی نقیض مطلقہ عامہ ہے، تو مطلقہ عامہ کی نقیض کیا ہوگی؟ دائما مطلقہ۔ تو اب ہم نے اس کی نقیض بنانی ہے، وہ ہے دائما مطلقہ بھئی۔ تو لکھیے بھئی اس کے نیچے نقیضہا، نقیضہا۔ اچھا، دائما مطلقہ جس میں کیا بتلایا جاتا تھا؟ جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی دوام کے طریقے پر ہو بھئی۔ کیا مثال پڑھی تھی؟ كل فلك متحرك بالدوام۔ اب بنائیے بھئی، اسی کو دیکھیں کیا نکالا قضیہ آپ نے؟ یہ سالبہ ہے، موجبہ ہے؟ سالبہ۔ تو اس کی نقیض کیا بنے گی؟ موجبہ۔ اور یہ کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ تو نقیض کیا بنے گی؟ جزئیہ۔ یعنی جزئیہ موجبہ نقیض بنانی ہے ہم نے اس کی۔ جی۔ بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام۔ شاباش بھئی شاباش۔ بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام۔ نقیض ہے نا، نقیض بھئی۔ یہ اور اوپر والے دونوں میں سے ایک سچا ہوگا اور دوسرے کے کذب کا وہ تقاضا کرے گا۔ پہلا کیا تھا اس میں سے؟ لا شيء من الكاتب بمتحرك الأصابع بالفعل۔ یہ صادق ہے، تو لازمی بات ہے نیچے والا کیا ہے؟ کاذب ہوگا کہ کیا تھا دوسرا؟ بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام۔ بعض کاتب ان کی انگلیاں حرکت میں ہیں دائماً، یہ تو لازمی بات ہے یہ کیا ہے؟ صادق نہیں ہے، یہ کاذب ہے بھئی۔ پہلا صادق ہے تو یہ کاذب۔ اچھا، اب دو نقیضیں آپ کو مل گئیں۔ ان کو جوڑیں، شروع میں إما لے آئیں اور درمیان میں کیا لے آئیں؟ أو، یا کیا لے آئیں؟ وإما لے آئیں۔ جی، جوڑیے بھئی۔ إما بعض الكاتب ليس بمتحرك الأصابع بالإمكان العام حين هو كاتب وإما بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام یا دائماً کہہ لیں۔ وإما بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام۔ تو دیکھیے، یہ مشروطه خاصہ کی نقیض تیار ہو گئی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ کہ مرکبہ کی نقیض بنانے کا کیا طریقہ ہے، اس کے دونوں جز جو ہیں ان کو کھول دیں گے، الگ الگ کر دیں گے، تو ہمارے پاس کیا حاصل ہو جائیں گے؟ دو بسیطہ حاصل ہو جائیں گے۔ پھر ان دونوں بسیطوں کی نقیض تیار کر لیں گے اور پھر ان کو جوڑ دیں گے، شروع میں إما لے آئیں گے اور درمیان میں أو یا وإما درمیان میں لے آئیں گے بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ ایک طریقہ بیان ہو گیا، باقی آپ بڑی کتابوں میں انشاء اللہ پڑھ لیں گے بھئی۔ اچھا، دیکھیے کیا نقیض تیار ہوئی بھئی مشروطه خاصہ کی؟ إما بعض الكاتب ليس بمتحرك الأصابع بالإمكان العام حين هو كاتب وإما بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام۔ یہ نقیض تیار ہو گئی اور یہ نقیض مردد ہے دو چیزوں کے درمیان بھئی۔ یہ نقیض کیا ہے؟ مردد ہے دو چیزوں کے درمیان کہ یہ ہے یا یہ ہے۔ یہ ہے یا یہ۔ دیکھ لیجیے، کوئی ایک جز بھی لے لیں، یہ اس کی نقیض ہے مولانا۔ کوئی ایک جز بھی لے لیں، وہ اس پہلے کی نقیض ہے، یعنی وہ صادق ہے تو ایک جز بھی ان میں سے صادق نہیں آئے گا بھئی۔ پہلا جز کیا ہے؟ یا تو اس کی نقیض یہ ہے: بعض الكاتب ليس بمتحرك الأصابع، بعض کاتب یا تو وہ ان کی انگلیاں حرکت کرنے والی نہ ہوں، یہ ممکن ہے جس وقت وہ کاتب ہوں۔ حالانکہ یہ تو ممکن ہی نہیں۔ تو یہ کاذب ہوا یا نہیں ہوا؟ یہ، وإما بعض الكاتب متحرك الأصابع بالدوام، یا بعض کاتبوں کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں دائماً، یہ بھی صادق نہیں ہے بھئی۔ تو یہ بھی کاذب ہے، تو اس کی نقیض یہ تیار ہو گئی مولانا، تو کہ یہ یا یہ، کوئی بھی جز لے لیا جائے وہ صادق نہیں آتا۔ اور پہلا تو صادق تھا، تو یہ اس کی نقیض ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: والنقائض المركبات منها، اور مرکبات کی جو نقیضیں ہیں منہا، بعض ان میں سے مفہوم مردد بین نقیضي بسيطيہا، وہ مفہوم ہے جو لوٹایا گیا ہو اس کے بسیطوں کی نقیضوں کے درمیان۔ والتفصيل يطلب من مطولات الفن، اور تفصیل جو ہے اس کو طلب کیا جائے اس فن کے مطولات میں سے۔ مطول کسے کہتے ہیں بھئی؟ بڑی کتاب۔ مطول، طول سے ہے، طول سے مطول جس کو لمبا کیا گیا ہو، یعنی بڑی کتاب۔ بڑی کتاب بھئی۔ تو کہتے ہیں تفصیل جو ہے اس کو طلب کیا جائے اس فن کی بڑی کتابوں سے۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 70 of 108