LESSONS NO. 96
1
فصلٌ: القياس الجدلي قياسٌ مركبٌ من مقدماتٍ مشهورةٍ أو مسلمةٍ عند الخصم، صادقةً كانت أو كاذبةً.
والأول ما تطابق فيه آراء قومٍ إما لمصلحةٍ عامةٍ، نحو: العدل حسنٌ والظلم قبيحٌ.
قياس برهاني کی طویل بحث مکمل ہوئی۔ آج ہم قياس جدلی کے بارے میں پڑھیں گے، بھئی۔
قیاس جدلی۔ فصلٌ أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ القياس الجدلي قياسٌ مركبٌ من مقدماتٍ مشهورةٍ أو مسلمةٍ۔ کہتے ہیں قياس جدلی ایسا قياس ہے جو مرکب ہو مشہور یا مسلمہ مقدمات سے۔
قیاس کسے کہتے ہیں؟ صغریٰ اور کبریٰ ملا کر کیا کیا جاتا ہے؟ نتیجہ نکالا جاتا ہے۔ تو یہ جو صغریٰ اور کبریٰ ہیں، یہ قياس کے مقدمات ہیں۔ تو یہ مقدمات اگر مشہورات یا مسلمات میں سے ہوں تو پھر یہ قياس جدلی کہلاتا ہے، بھئی۔ کیا کہلاتا ہے؟ جدلی۔ یاد رکھیے، جدل کا معنیٰ ہے جھگڑنا، بحث کرنا، بھئی۔ جدل کا کیا معنیٰ ہے؟ جھگڑنا اور بحث کرنا، مباحثہ کرنا۔
تو یہ قياس جدلی جو ہے، یہ بھی مناظروں وغیرہ کے اندر استعمال ہوتا ہے۔ مناظرے جانتے ہیں یا نہیں جانتے، بھئی؟ قديم زمانے میں علماء کے میں بکثرت مناظرے ہوتے تھے حق تک پہنچنے کے لیے، بھئی، حق بات تک پہنچنے کے لیے۔ تو لہذا، یہ قياس جدلی جو ہے، یہ مناظروں میں استعمال ہوتا ہے۔ اور جدلی جدل سے ہے، جدل کا معنیٰ ہے بحث کرنا، مباحثہ کرنا، مباحثہ کرنا۔
تو اس قياس کے ذریعے انسان یہ وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان مناظرانہ کلام کر سکتا ہے، یعنی دوسرے سے اپنی بات منوا سکتا ہے۔ تو یہاں پر بھی یہ قياس میں نے بتلایا مناظروں میں استعمال ہوتا ہے، بحث مباحثے میں فائدہ دیتا ہے۔ اور یہ وہ قياس ہے، صاحب کتاب نے آپ کو بتلایا کہ قياس جدلی وہ قياس ہے جو کس قسم کے مقدمات سے مرکب ہو؟ مشہورة یا مسلمة۔ یعنی وہ جو صغریٰ اور کبریٰ ہے وہ مشہورات یا مسلمات میں سے ہوں۔
مشہورات تو لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے، جو مشہور ہوں، بھئی۔ لوگوں کے درمیان ایک بات مشہور ہو، چاہے سچی ہو یا جھوٹی ہو، بھئی۔ چاہے سچی ہو یا جھوٹی۔
اور مسلمة کا معنیٰ ہے تسلیم شدہ، تسلیم شدہ۔ یعنی جسے فریق مخالف کے نزدیک مسلمہ ہو، کوئی بات تسلیم شدہ ہو، وہ اس کو مانتا ہو۔ چاہے سچی ہو، چاہے جھوٹی ہو۔
تو جب ایک بات مشہور ہے سب لوگوں میں، یا ایک بات فریق مخالف جس کے ساتھ مناظرہ ہو رہا ہے، اس کے نزدیک مسلم ہے، تسلیم شدہ ہے، تو آپ اس کے ذریعے قياس بنا کر اس سے اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ کیا کر سکتے ہیں؟ اپنی بات منوا سکتے ہیں۔ ہاں، جب وہ ایک بات اس کے نزدیک تسلیم شدہ ہے کہ اسی طرح ہے، چاہے سچ ہو وہ چاہے حق نہ ہو، صادق ہو یا صادق نہ ہو۔ لیکن جب وہ اس کو مانتا ہے یا مشہور ہے اور وہ بھی اس کے ماننے والوں میں سے ہے، تو جب آپ اس سے قياس بنائیں گے، وہ پھر اسے ماننا پڑے گا؛ کیونکہ وہ مقدمات کیا ہوتے ہیں اس کے نزدیک بھی؟ مسلم ہوا کرتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کا یہ فائدہ ہے کہ اس کے ذریعے انسان جب مناظرہ کرے گا تو اپنی بات اپنے مخالف سے، اپنے مقابل سے منوا سکتا ہے، بھئی۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ قياس جدلی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا فائدہ ہوتا ہے اس کا؟ کہ اس کے ذریعے مقابل سے اپنی بات منوائی جا سکتی ہے، بھئی۔
ہاں، تو یہ مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے یہ قياس۔ مشہورات، جو لوگوں میں مشہور ہوں، بھئی۔ اور مسلمة، جو مقابل کے نزدیک تسلیم شدہ ہو، بھئی۔ دیکھیے، آسان سی بات ہے۔
کہتے ہیں: القياس الجدلي قياسٌ مركبٌ من مقدماتٍ مشهورةٍ أو مسلمةٍ عند الخصم۔ قياس جدلی ایسا قياس ہے جو مرکب ہو مقدمات مشہورہ سے یا مقدمات مسلمہ سے عند الخصم۔ کس کے نزدیک؟ خصم، مقابل جو ہے، فریق مخالف جو ہے۔ مقابل کے نزدیک جو مسلمہ ہوں، یعنی تسلیم شدہ ہوں، ایسے مقدمات ہوں۔ صادقةً كانت أو كاذبةً، صادق ہوں چاہے وہ کاذب ہوں۔ چاہے صادق ہوں، چاہے کاذب ہوں، لیکن جب مقابل ان کو مانتا ہے تو آپ اس سے بات منوا سکیں گے اس کو، بھئی، جب قياس اس سے بنائیں گے۔
اب دو قسمیں ذکر کر دیں، بھئی۔ قياس جدلی وہ مرکب ہوگا یا تو مقدمات مشہورہ سے یا مقدمات مسلمہ سے۔ تو اول مشہورہ ہوئے، ثانی مسلمہ۔ اب بتلانے لگے ہیں مشہورہ کن کو کہتے ہیں اور مسلمہ کن کو کہتے ہیں۔ میں نے بیان کر دیا، بھئی۔
تو کہتے ہیں: والأول، اول جو ہے، یعنی مشہورات، ما، وہ ہیں، تطابق فيه آراء قومٍ، جس میں مطابق ہوں لوگوں کی رائے، بھئی۔ جس میں موافق ہو لوگوں کی رائے۔
مشہورات وہ ہیں نا جو لوگوں کے اندر مشہور ہو گئے ہیں، سب کی اس کے بارے میں یہی گمان ہے کہ یہ بات اسی طرح ہے۔ کہ یہ بات اسی طرح ہے، چاہے بات ویسی ہو یا نہ ہو، لیکن سب کے اندر مشہور ہو گئے ہیں کہ یہ بات اسی طرح ہے۔
جی، تو کہتے ہیں پہلی قسم مشہورات ما، وہ ہیں، تطابق فيه آراء قومٍ، جس کے اندر موافق ہو جائیں قوم، یعنی لوگوں کی رائے، بھئی۔ پھر یہ جو رائے لوگوں کی موافق ہو گئی، بھئی، اس کی کوئی وجہ ہوا کرتی ہے۔ جب سب لوگوں کی رائے ایک بات کے بارے میں بن گئی کہ یہ بات اس طرح ہے، تو اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ہوا کرتی ہے۔ وہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ جس میں لوگوں کی رائے موافق ہو جائیں إما لمصلحةٍ عامةٍ، یا تو کسی مصلحت عامہ، جس میں کوئی عام مصلحت ہے، بھلائی ہے، سب کا اس میں کیا ہے؟ نفع ہے۔ مصلحت عامہ کا کیا معنیٰ؟ جس میں سب کا نفع ہے۔ نحو، جیسے کہ: العدل حسنٌ، انصاف اچھا ہے، اچھی چیز ہے، بھئی، عدل اچھی چیز ہے۔ والظلم قبيحٌ، اور ظلم بری چیز ہے۔
تو یہ دیکھو، عدل میں سب کا فائدہ ہے۔ اس عدل کو اچھا قرار دینے میں سب کا فائدہ۔ ظلم کو قبیح قرار دینے میں سب کا فائدہ ہے، ورنہ تو دنیا کا نظام ہی نہیں چلے گا، بھئی، اگر عدل کو اچھا نہ کہا جائے اور ظلم کو برا نہ کہا جائے، بھئی۔ تو یہ سب کے اندر یہ بات مشہور ہے، چاہے وہ پاکستان کا آدمی ہو، چاہے ہندوستان کا آدمی ہو، چاہے امریکہ کا آدمی ہو، چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا ہو، ان میں کیا بات مشہور ہے؟ عدل اچھی چیز ہے، انصاف اچھی چیز ہے، اور ظلم بری چیز ہے۔
تو یا تو یہ جو مشہور ہوا جس میں سب لوگوں کی رائے موافق ہو گئی، یا تو یہ مصلحت عامہ کی وجہ سے ہوگا، جیسے العدل حسنٌ، انصاف اچھا ہے، والظلم قبيحٌ، اور ظلم برا ہے، وقتل السارق واجبٌ، اور چور کا قتل واجب ہے، چور کا قتل کرنا ضروری ہے، بھئی۔ تو یہ لوگوں کے درمیان یہ بات مشہور ہے۔ اور بتلایا کہ ضروری نہیں کہ وہ صادق بھی ہوں یا کاذب ہوں۔ انصاف اچھی چیز ہے، یہ تو صادق ہے۔ ظلم بری چیز ہے، یہ تو صادق ہے۔ لیکن چور کا ہاتھ کاٹنا ضروری ہے، ہاتھ نہیں، چور کو قتل کرنا ضروری ہے، یہ تو آپ جانتے ہیں درست نہیں ہے، بھئی۔ شریعت نے کیا بتلایا؟ چور کو قتل نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس کے صرف ہاتھ کو کاٹا جائے گا، دائیں ہاتھ کو، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ مشہور ہوں گے یا تو مصلحت عامہ کی وجہ سے، یعنی جس میں سب کا بھلا ہوگا۔ أو لرقةٍ قلبيةٍ، یا دل کی نرمی کی وجہ سے۔ رقت کا معنیٰ نرم ہونا۔ رقت قلبیہ کی وجہ سے، دل کی نرمی کی وجہ سے، رحم دلی کی وجہ سے۔ كقول أهل الهند، جیسے اہل ہند، یعنی ہندوستان والوں کا قول ہے: ذبح الحيوان مذمومٌ، جانور کا ذبح کرنا یہ ناپسندیدہ ہے۔ جانور کا ذبح کرنا مذموم ہے، قابل مذمت ہے۔
بھئی، ہمیں تو یہ زندگی گزارنے کا جو طریقہ ہے، شریعت نے بتلایا۔ اللہ نے کتنا عظیم احسان فرمایا کہ ہمیں شریعت جیسی دولت نصیب فرما دی۔ اور باقی لوگ اپنی عقلوں سے فیصلے کرتے ہیں اور چنانچہ قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتے چلے جاتے ہیں۔ پوری کی پوری قوم ہی غلط راستے پر ہوتی ہے اور وہ بڑے فخر سے سمجھتے ہیں کہ ہم تو ٹھیک راستے پر ہیں؛ کیونکہ عقل تو کامل رہنمائی کر ہی نہیں سکتی، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟
تو لہذا ہندوستان والے کیا کہتے ہیں؟ جانوروں کا ذبح کرنا مذموم ہے، قابل مذمت ہے، برا ہے، ناپسندیدہ ہے۔ تو چنانچہ وہ ہندوستان والے، یہی وجہ ہے، جانور ذبح نہیں کرتے۔ اور گوشت نہیں کھاتے، بھئی، گوشت نہیں کھاتے۔
اب حالانکہ انہوں نے کہا جانوروں کا ذبح کرنا ناپسندیدہ ہے، یہ بات ان کے ہاں مشہور ہے، مشہورات میں سے ہے۔ جیسے پچھلی باتیں مشہورات میں سے تھیں، تو یہ ان کے ہاں مشہور ہے پورے ہندوستان والوں میں، بھئی، مسلمانوں کے علاوہ جو ہیں وہاں پر۔ تو سب میں مشہور ہیں۔
لیکن یہ صادق نہیں ہے، بھئی۔ ان جانوروں کو ذبح کرنا اور جو جن کا جن کی اجازت دی گئی اور ذبح کر کے ان کو کھانا، یہ کوئی مذموم چیز نہیں ہے۔ اللہ نے ان کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے کہ انسان ان سے نفع اٹھائے۔ انسان کو اللہ نے اتنی فضیلت دی کہ یہ باقی ساری چیزیں اسی کے نفع کے لیے بنائی گئیں، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ اسی کے نفع کے لیے۔
بلکہ انسان کی تخلیق میں بھی اللہ نے نشانیاں رکھ دیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ گوشت یہ کھا سکتا ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ گوشت کھا سکتا ہے۔
مثلاً دیکھیے، بعض لوگ جو کہتے ہیں جانور کا ذبح کرنا برا ہے، یہ سبزی خور لوگ ہیں، بھئی۔ یہ کہتے ہیں سبزیاں، پھل وغیرہ یہ چیزیں کھانی چاہئیں، جانوروں کو نہیں ذبح کرنا چاہیے، یہ تو بڑا ظلم ہے ان پر۔ بڑا ظلم ہے۔
حالانکہ اگر آپ جانوروں کی ساخت پر غور کریں، یہ جتنے جو چارہ اور سبزی کھانے والے جانور ہیں، گائے، بکری، بھینس، ہرن، گھوڑا وغیرہ، ان کے دانت اگر دیکھے جائیں، سب کے ہموار دانت ہوتے ہیں۔ سب کے دانت کیا ہوتے ہیں؟ ہموار دانت ہوتے ہیں، نوک والے دانت نہیں ہوتے۔ ہموار دانت ہوتے ہیں، ان کو نوک والے دانتوں کی ضرورت نہیں؛ کیونکہ نوک والے دانتوں کی ضرورت ہوتی ہے گوشت کھانے کے لیے، اور ہموار سبزی وغیرہ، گھاس کھانے کے لیے ہموار دانت کافی ہیں۔ چنانچہ اللہ نے ان کو ہموار دانت دیے۔ آپ گائے، بکری، بھینس، گھوڑے وغیرہ کے دانتوں کو اگر دیکھیں تو آپ کو ایک بھی نوکدار دانت نہیں ملے گا، بھئی، ایک بھی نہیں۔ جس میں اشارہ ہے کہ یہ جانور صرف کیا کھانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں؟ صرف یہ پتے، گھاس وغیرہ یہ چیزیں کھانے کے لیے۔
اس کے مقابلے میں گوشت خور جانوروں کو اگر آپ دیکھیں، شیر، چیتا، کتا، بلی، ان کے دانت اگر آپ دیکھیں تو ان کے دانت سارے نوکدار ہوں گے؛ کیونکہ گوشت کھانے کے لیے نوکدار دانتوں کی ضرورت پڑتی ہے، جس سے اس کو کاٹ سکیں، بھئی۔ تو شیر، چیتا، کتا، بلی، بھیڑیا، ان چیزوں کے دانت اگر آپ دیکھیں، ایک بھی ہموار نہیں ملے گا، سارے نوکدار دانت ہیں ان کے۔ بھیڑ بکری وغیرہ کے سارے ہموار، اور شیر چیتے وغیرہ کے سارے نوکدار ہیں، بھئی۔
جبکہ انسان کے دانتوں کو دیکھا جائے تو نوکدار بھی ہیں، ہموار بھی ہیں۔ یہ سامنے کے اطراف والے، بھئی، تیسرے چوتھے نمبر پر جو دانت ہیں دونوں طرف، بھئی، جن کو کچلی کے دانت کہا جاتا ہے، یہ دیکھ رہے ہیں آپ، بھئی؟ نوکدار دانت ہیں۔ نوک والے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ دونوں طرف اوپر نیچے دو دو دانت نوکدار ہیں، اور باقی دانت ہموار ہیں۔ تو انسان کو اللہ نے نوکدار دانت بھی دیے، ہموار دانت بھی دیے، اشارہ کر دیا کہ یہ گوشت بھی کھا سکتا ہے اور سبزی بھی کھا سکتا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟
جی، بات چل رہی ہے مشہورات کی، بھئی۔ مشہورات جس میں لوگوں کی رائے ایک ہو جائے، سب لوگوں میں ایک بات مشہور ہو جائے۔ پھر یا یہ مشہور ہونا بھی کئی قسم پر ہوتا ہے، یاد رکھیں۔ بعض اوقات ساری دنیا والوں میں ایک بات مشہور ہوتی ہے، بعض اوقات ایک مخصوص قوم کے اندر ایک بات مشہور ہوتی ہے وغیرہ، بھئی۔
تو ذکر کر رہے ہیں یا تو یہ جو قوموں کے لوگوں کی رائے ایک ہو گئی کسی میں، تو یہ کسی یا تو مصلحت عامہ کی وجہ سے ہوگا یا دل کی نرمی کی وجہ سے ہوگا، جیسے اہل ہند کا یہ قول: ذبح الحيوان مذمومٌ، حیوان کا ذبح کرنا مذموم ہے، قابل مذمت ہے۔
أو انفعالاتٍ خلقيةٍ أو مزاجيةٍ۔ انفعال کہتے ہیں تاثر کو، اثر قبول کرنا۔ انفعال کسے کہتے ہیں؟ اثر قبول کرنا۔ ایک ہوتا ہے دوسرے پر اثر ڈالنا، ایک ہے دوسرے کا اثر خود قبول کرنا، یہ ہے انفعال، بھئی۔ دوسرے کے اثر کو قبول کرنا۔
تو یہ جو باتیں مشہورات ہوتی ہیں، ان میں انفعالات خلقیہ اور مزاجیہ کا بڑا دخل ہے۔
خلق کہتے ہیں عادت کو، عادت کو۔ عادت کو۔
اور مزاج، مزاج کہتے ہیں طبیعت کو، بھئی۔ مزاج کس کو کہتے ہیں؟ طبیعت کو۔
تو بھئی، عادت اور مزاج جو ہے، اس کا بڑا دخل ہے، لوگ اس کی وجہ سے باتیں قبول کرتے ہیں۔ کس کا دخل ہے؟ [عادت اور مزاج کا]۔
ایک آدمی کا مزاج ایسا ہو، اس کو اپنے مزاج کے مطابق جو بات ملے گی اسے وہ فوراً قبول کر لے گا۔ صورت سمجھ میں آئی، بھئی؟ فوراً قبول کر لے گا۔
اور ایک آدمی کا اسی طرح ایک آدمی کی عادت جس قسم کی ہو، اس طرح کی باتیں اسے جو بھی ملیں گی اسے فوراً وہ بڑی جلدی قبول کر لے گا۔ اپنی عادت کے خلاف بات ملے گی تو اسے قبول کرنا اس کے لیے بڑا مشکل ہوگا، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟
انسان کی عادت اور طبیعت کے مطابق اسے جو بات ملتی ہے وہ بڑی جلدی اس کو قبول کر لیتا ہے، اس کا ذہن کہتا ہے یہ بات تو بالکل ٹھیک ہے، اور جو بات اس کی عادت اور مزاج کے خلاف ہو اسے وہ آسانی سے قبول نہیں کرتا۔
تو یہی بات ذکر کر رہے ہیں کہ وہ جو قوم کی رائے، لوگوں کی رائے اس میں موافق ہوئیں، یا تو وہ مصلحت عامہ کی وجہ سے ہوگی، یا رقت قلبیہ، یعنی دل کی نرمی کی وجہ سے ہوگی۔
2
یا انفعالات خلقِیَہ یا انفعالات مزاجِیَہ کی وجہ سے یعنی عادتوں کی وجہ سے جو انہوں نے اثر قبول کیا یا طبیعت کی وجہ سے جو انہوں نے اثر قبول کیا ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ عادت کی وجہ سے اثر کو قبول کرنے کی وجہ سے ان سب کی رائے ایک ہو گئی یا ان کے مزاجوں کے مطابق تھی تو اس وجہ سے انہوں نے اثر کو قبول کیا اور سب کی رائے کیا ہو گئی؟ ایک ہو گئی بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آئی؟ کیا ذکر کیا یہاں تک؟ مشہورات کی بات چل رہی ہے کہ مشہورات وہ قضایا جو جس میں لوگوں کے رائے موافق ہو گئیں۔ کس وجہ سے موافق ہوئیں؟ یا تو مصلحت عامہ اس میں سب کا بھلا تھا یا دل کی نرمی کی وجہ سے سب نے اس کو قبول کیا۔
یا انفعالات خلقِیَہ اور انفعالات مزاجِیَہ کی وجہ سے انہوں نے اس کو قبول کیا۔ یا عادتوں کے تاثر یا مزاجوں کے تاثر کی وجہ سے یا عاداتی تاثر یا مزاجی تاثر۔ انفعال کا کیا معنیٰ کیا میں نے؟ تاثر۔ ایک ہوتا ہے تاثیر، وہ ہے دوسرے پر اثر ڈالنا اور ایک ہے تاثر، خود کیا کرنا اثر کو قبول کرنا۔ تو انفعال کا کیا معنیٰ تھا؟ خود اثر کو قبول کرنا۔ تو اس کا کیا معنیٰ کر لیں؟ تاثر۔ تاثر، کیا معنیٰ کر لیں؟ تاثر۔
تو انفعالات خلقِیَہ کا کیا معنیٰ ہوا؟ عاداتی تاثر۔ عاداتی تاثر۔ اور انفعالات مزاجِیَہ کا کیا معنیٰ ہوا؟ مزاجی تاثر۔ مزاجی تاثر۔ یا عاداتی تاثر یا مزاجی تاثر کی وجہ سے۔ کیونکہ بے شک امزجہ جمع ہے مزاج کی اور اوپر آیا تھا خلقِیَہ، میں نے بتایا تھا خلق عادت کو کہتے ہیں، اسی کی جمع اخلاق آتی ہے اور دیکھئے آگے انہوں نے خود ہی بتلا دیا عادات بھئی۔
کیونکہ مزاجوں اور عادات جو ہیں ان کا بہت عظیم، بہت بڑا دخل ہے اعتقادات کے اندر۔ کس کے اندر؟ اعتقاد، ایک بات جو انسان جس کو تسلیم کرتا ہے، مانتا ہے، جس کا عقیدہ رکھتا ہے، اعتقاد رکھتا ہے۔ جیسے ابھی بات گزری، اہل ہند کا کیا اعتقاد ہے؟ کہ جانور کا ذبح کرنا قابل مذمت ہے۔ تو یہ بات انہوں نے، یہ ان کا اعتقاد ہے اور کیوں یہ ان کا اعتقاد بنا؟ یہ انہوں نے ذکر کیا رقت قلبی کی وجہ سے کہ یہ کیا کرتے ہیں؟ ان کے دل نرم ہیں۔ یا یوں کہیں، ان کے مزاج اور عادات کے مطابق تھی، انہوں نے اس بات کو بڑی جلدی قبول کیا بھئی۔
تو کہتے ہیں اسی کیونکہ مزاجوں اور عادتوں کا جو ہے عظیم دخل ہے اعتقادوں میں۔ سخت مزاجوں والے لوگ جو ہیں، وہ رائے رکھتے ہیں، وہ دیکھتے ہیں انتقام کو شرارت والوں سے۔ شرارت والوں سے انتقام کو وہ دیکھتے ہیں، کیا دیکھتے ہیں؟ اچھا۔ شرارت والوں سے انتقام کو وہ اچھا دیکھتے ہیں یعنی اچھا جانتے ہیں بھئی، اچھا سمجھتے ہیں اس کو۔ اچھا سمجھتے ہیں، یہ ترجمہ کریں۔ کیونکہ جو سخت مزاجوں والے ہیں وہ اہل شرارت سے انتقام کو اچھا سمجھتے ہیں۔ اور نرم مزاجوں والے، لین: نرم۔ اور نرم مزاجوں والے لوگ جو ہیں وہ معاف کر دینے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ معافی، خيراً: بہتر۔ سمجھتے ہیں، وہ کیا سمجھتے ہیں؟ معافی کو بہتر سمجھتے ہیں کہ معافی بہتر ہے۔
اور اسی وجہ سے آپ دیکھتے ہیں لوگوں کو کہ وہ مختلف ہیں عادتوں میں اور رسموں میں۔ لوگوں کے یہ چونکہ مزاج وغیرہ الگ ہیں تو اسی وجہ سے ان کی عادتوں اور رسموں میں دیکھتے ہیں لوگ مختلف ہیں، کسی بات کی کس طرح کی عادتیں اور رسمیں ہیں، بعضوں کی کس طرح کی عادت اور رسمیں ہیں بھئی۔ اور اسی وجہ سے آپ لوگوں کو مختلف دیکھتے ہیں عادتوں اور رسموں میں۔ اور ہر قوم کے خاص مشہورات ہوتے ہیں جو مشہورات ہوتے ہیں جو خاص ہوتے ہیں انہی کے ساتھ۔ ہر قوم کے ایسے مشہورات ہوتے ہیں جو انہی کے ساتھ۔ کچھ تو مشہورات بتایا سب قوموں میں ہوتے ہیں اور کچھ خاص قوموں کے مشہورات ہوتے ہیں جیسے ابھی گزرا ذبح الحیوانی مذموم بھئی۔
اور اسی طرح ہر فن میں ہے بھئی۔ ہر فن والوں کے مشہورات ہوتے ہیں جو انہی کے ساتھ خاص ہوتے ہیں۔ ہر علم، ہر فن والوں کے بھی اسی طرح مشہورات ہوتے ہیں جیسے عام لوگوں کے۔ تو نحوِیِین جو ہیں، ان کے مشہورات میں سے ہیں۔ یعنی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو بہت مشہور ہوتی ہیں ان میں، ہر ایک، ہر نحوی کو پتہ ہوتا ہے۔ نحویوں کی مشہورات کیا ہیں؟ مثلاً الفاعل مرفوع، فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع۔ یہ ہر نحوی کو پتہ ہوگا۔ مشہور بات، ابتدائی نحوی کو بھی پتہ ہوگا جس نے ابھی سیکھنا ہی شروع کیا ہے۔ والمفعول منصوب، اور مفعول کیا ہوتا ہے؟ منصوب۔ والمضاف الیہ مجرور، اور مضاف الیہ مجرور ہوتا ہے۔
وممن مشہورات الاصولیین، اور اصولیین یعنی علماءِ اصولِ فقہ جو ہیں، ان کے مشہورات میں سے ہے الأمر للوجوب کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے۔ امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے۔ جب ایک چیز کا حکم دیا جائے تو دوسرے پر وہ چیز واجب ہو جاتی ہے، فرض ہو جاتی ہے۔ تو امر کا مقصد کیا ہے؟ دوسرے پر کسی چیز کو فرض کرنا۔ چنانچہ قرآن میں آیا: أَقِيمُوا الصَّلَاةَ۔ أَقِيمُوا، کیا معنیٰ ہے؟ نماز قائم کرو۔ تو یہاں أَقِيمُوا آیا اور أَقِيمُوا کون سا صیغہ ہے بھئی؟ امر کا۔ یہ امر کا صیغہ ہے اور امر کس لیے آیا کرتا ہے؟ وجوب کے لیے، فرضیت کے لیے۔ تو کیا پتہ چلا؟ نماز کا پڑھنا فرض ہے۔ یہ کس نے بتایا؟ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ نے۔
تو یہ اصولیین کے مشہورات میں سے ہے کہ الأمر للوجوب کہ امر وجوب کے لیے آتا ہے۔ والثانی، اور دوسری قسم جو ہے۔ بھئی پہلی قسم تو مشہورات تھی، دوسری قسم کیا ہیں؟ مسلمات، جو تسلیم شدہ ہوں۔ کہتے ہیں اور دوسری قسم وہ قیاس ہے جو مرکب ہو کس سے؟ ان مسلمات، وہ جو مسلمات ہیں، تسلیم شدہ ہیں بین المتخاصمین، دو جھگڑنے والے، دو بحث کرنے والے جو ہیں، ان کے درمیان مسلم ہو بھئی۔
بتلایا قیاسِ جدلی یا تو مشہورات سے مرکب ہوگا یا مسلمات سے۔ مشہورات جو لوگوں میں مشہور ہو گئے ہیں، چاہے سب لوگوں میں مشہور ہوں یا خاص لوگوں میں مشہور ہوں، لیکن بہرحال جس سے ہمارا مقابلہ ہو رہا ہے، مناظرہ ہو رہا ہے، جس سے ہماری بحث ہو رہی ہے، وہ بھی ان کو مانتا ہے۔ تو پھر ہم مشہورات استعمال کر کے کیا کر سکتے ہیں؟ اس سے اپنی بات اور اپنا دعویٰ منوا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ مقدمات مسلمات میں سے ہوں یعنی مقابل بھی ان کو تسلیم کرتا ہے، ہم بھی کیا کرتے ہیں اس کو؟ تسلیم کرتے ہیں۔ تو وہ بھی اس قسم کے مقدمات بھی ذکر کر کے اس سے بات منوائی جا سکتی ہے بھئی۔
یہ معنیٰ ہے کہ دوسری جو ہے وہ قیاس جو ہے دوسری قسم جو مرکب ہو من المسلمات، کس سے؟ مسلمات سے مرکب ہو اور کس مسلمات، کن کے درمیان ہے؟ بین المتخاصمین، دونوں جھگڑنے والے یعنی دونوں بحث کرنے والوں کے نزدیک مسلمات ہیں یعنی تسلیم شدہ ہیں، دونوں تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں مناظر، مناظرہ کرنے والے اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اسی طرح ہے۔
وللمشہوارات شبہ بالاوليات، اس لفظ کو شبہ پڑھنا، شبہ نہ پڑھنا بھئی۔ یاد رکھنا ایک لفظ ہے شبہ، ایک ہے شبہ۔ یہ کتابوں میں آئے گا، موقع کے مطابق پڑھنا۔ عموماً مشہور یہی ہے، ہر جگہ شبہ پڑھا جاتا ہے۔ حالانکہ شبہ ہر جگہ نہیں بھئی۔ شبہ کا معنیٰ ہے مثل۔ شبہ کا کیا معنیٰ ہے؟ مثل۔ اور شبہ مصدر ہے، اس کے معنیٰ ہیں مشابہت بھئی۔ شبہ کا معنیٰ مثل اور شبہ کا معنیٰ مشابہت، مشابہت بھئی۔ تو دیکھ لینا جہاں جو معنیٰ مناسب ہو، اس کے مطابق بھئی۔
تو کہتے ہیں وللمشہوارات شبہ بالاوليات اور مشہورات جو ہیں ان کی مشابہت ہے کس کے ساتھ؟ اولیات۔ بھئی اولیات آپ نے قیاسِ برہانی کے اندر پڑھا تھا، بدیہیات چھ قسم کے ہیں، کون کون سے؟ اولیات، فطریات، حسیات، مشاہدات، تجربیات اور متواترات۔ چھ قسمیں پڑھی تھیں۔ ان میں پہلی قسم تھی اولیات۔ یہاں سے یہ بات بتلا رہے ہیں کہ یہ جو مشہورات ہم نے ذکر کیے جو لوگوں کے درمیان مشہور ہوتے ہیں، شبہ بالاوليات ان کی مشابہت کس کے ساتھ ہے؟ اولیات کے ساتھ ان کی مشابہت ہے بھئی، بعض اوقات آپس میں مل جاتے ہیں بھئی، پتہ چلانا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ مشہورات میں سے ہے یا اولیات میں سے ہے، کیونکہ ان کی مشابہت ہے بھئی۔
بھئی اس کا پتہ پھر کیسے چلے گا کہ ایک چیز اولیات میں سے ہے یا مشہورات میں سے ہے جب دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں؟ کہتے ہیں کہ اگر جب ذہن کو خالی کر لیا جائے اور گہری نظر کے ساتھ غور کیا جائے تو فرق خود بخود پتہ چل جائے گا۔ فرق کیا ہوگا؟ پتہ چل جائے گا۔ کیونکہ اولیات ہمیشہ صادق ہوتے ہیں اور مشہورات صادق بھی ہو سکتے ہیں اور کاذب بھی ہو سکتے ہیں۔
تو یہ شخص جو اور مشہورات میں آپ نے یہ پڑھا کہ یہ جو انسان اعتقاد رکھتا ہے، ان باتوں کو فوراً قبول کر لیتا ہے، کس وجہ سے قبول کرتا ہے؟ یا تو اس میں عام لوگوں کا نفع ہوتا ہے یا اس میں کیا ہوتا ہے؟ دل کی نرمی کی وجہ سے قبول کر لیتا ہے یا کس وجہ سے قبول کیا ہوتا ہے اس نے؟ عاداتی تاثر یا مزاجی تاثر کی وجہ سے قبول کیا ہوتا ہے، کیونکہ عادات اور مزاج کا بڑا اثر ہے باتوں کو قبول کرنے کے اندر، ان کا اعتقاد رکھنے کے اندر۔
تو ایک شخص کیا کرے؟ اگر اسے اللہ نے عقلِ سلیم دی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں دیکھوں یہ جو قضیہ ہے، یہ مشہورات میں سے ہے یا اولیات میں سے ہے، تو پھر یوں کرے اپنے ذہن کو خالی کر لے۔ اور پھر گہری نظر ڈالے۔ ذہن کو خالی کر لے یعنی یوں سمجھے اگر میں اس فلاں طبقے میں یا لوگوں کے اندر، دیکھو جن لوگوں میں انسان پیدا ہوتا ہے نا، انہی کے سارے عقیدے ذہن میں جمتے چلے جاتے ہیں۔ انہی کے عقیدے اور انہی کی باتیں ذہن میں جمتی چلی جاتی ہیں۔
تو اب ایک قضیہ اس کے سامنے آیا اور یہ اس کو وہ تسلیم کرتا ہے، لیکن اب پتہ نہیں یہ مشہورات میں سے ہے یا اولیات میں سے ہے۔ تو یوں اپنے ذہن کو خالی کرے کہ اگر میں ان لوگوں میں پیدا نہ ہوا ہوتا، میں ان لوگوں میں پیدا نہ ہوا ہوتا، میرا ذہن بالکل خالی ہوتا، پھر یہ والی بات میرے سامنے آتی تو میرا ذہن اس کو قبول کرتا یا قبول نہ کرتا بھئی؟ تو اگر ذہن بتلائے کہ پھر بھی آپ نے اس کو قبول کرنا ہی کرنا تھا، پتہ چلا یہ کس میں سے ہے؟ اولیات میں سے ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس طرح غور و فکر کر کے یعنی معنیٰ یہ ہے ذہن کو خالی کر کے اور غور و فکر کر کے ان میں فرق کا پتہ لگایا جا سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وللمشہوارات شبہ بالاوليات مشہورات جو ہیں ان کی مشابہت ہے اولیات کے ساتھ۔ وتجريد الذهن وتدقيق النظر يفرق بينهما، تجرید کا معنیٰ خالی کرنا اور ذہن کو خالی کرنا وتدقيق النظر، تدقیق کا معنیٰ گہری کرنا اور نظر کو گہرا کرنا، یہ دو چیزیں جو ہیں، ذہن کو خالی کرنا اور نظر کو گہرا کرنا، يفرق بينهما وہ ان دونوں کے درمیان فرق کر دے گی، جدائی کر دے گی بھئی، بتلا دے گی کہ یہ مشہورات میں سے ہے یا اولیات میں سے ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اگر ذہن خالی کرنے کے باوجود ہر حال میں ذہن یہی بتلاتا ہے کہ یہ بات اسی طرح ہے، پتہ لگا یہ کس میں سے ہے؟ اولیات میں سے، اولیات میں سے۔ اور اگر کبھی ذہن اس کے برعکس بھی فیصلہ کر دیتا ہو تو پتہ چلا یہ مشہورات میں سے ہے۔ مثلاً ایک بات جو مشہور ہے جسے سب مانتے ہیں، جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ ساری دنیا کے لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، سب میں یہ مشہور ہے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔
اب آپ نے پتہ چلانا ہے کہ یہ جھوٹ بولنا بری بات ہے، یہ اولیات میں سے ہے یا کس میں سے ہے؟ مشہورات میں سے۔ آپ نے ذہن کو خالی کیا اور پھر اس کے بارے میں غور کرنے لگے کہ جب بھی میرے سامنے یہ بات، میرا ذہن ہمیشہ اسی کا فیصلہ کرتا ہے یا کبھی اس کے خلاف بھی فیصلہ کرتا ہے؟ آپ نے دیکھا کہ اکثر اوقات آپ کا ذہن اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہے کہ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ لیکن کبھی کبھی اس کے خلاف بھی فیصلہ کر دیتا ہے ہمارا ذہن۔ جہاں سچ بولنے میں نقصان آ رہا ہو، ذہن کہتا ہے سچ نہ بولو، کیا کرو؟ جھوٹ بول دو۔ یا کوئی بڑا نفع آ رہا ہو جھوٹ کی صورت میں تو ذہن کیا کہتا ہے؟ جھوٹ میں نفع ہے دیکھو یہاں پر، جھوٹ۔ تو لہذا معلوم ہوا یہ اولیات میں سے نہیں ہے بلکہ کس میں سے ہے؟ مشہورات میں سے ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں آگے دیکھیے، کہتے ہیں والغرض من صناعة الجدال الزام الخصم او حفظ الرأي۔ اور یہ جو جدال کا فن ہے، صناعت: فن بھئی۔ جدال: یہ مباحثہ، مناظرہ بھئی، جھگڑا۔ یہ جو مباحثے کا فن ہے، اس کی غرض کیا ہے؟ یہ جو قیاسِ جدلی پیش کیا جاتا ہے، یہ قیاسِ جدلی پیش کرنے کا مقصد کیا ہے؟ کہتے ہیں الزام الخصم، مقابل پر الزام لگانا یعنی اس پر اعتراض کرنا، او حفظ الرأي یا اپنی رائے کو بچانا۔ بھئی مناظرے میں دیکھیے دو صورتیں ہوں گی۔
3
یا تو آپ نے ایک دعویٰ کیا ہوگا دوسرا اس بات کو نہیں مان رہا۔ آپ نے کیا کرنا ہے؟ دوسرے سے اپنی بات منوانی ہے۔ یا وہ آپ کے دعوے پر اعتراض کرتا ہے، آپ نے اپنے دعوے کو بچانا ہے۔ دو ہی صورتیں ہیں نا؟
یا تو اس سے کیا کرنی ہے، کوئی بات منوانی، اس نے اس کا کوئی دعویٰ ہے آپ اس کو رد کرنا چاہتے ہیں۔ یا آپ کا کوئی دعویٰ ہے آپ اس کو بچانا چاہتے ہیں، اپنی بات ثابت کرنا چاہتے ہیں دوسرے کی بات رد کرنا چاہتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں دو ہی مقصد ہیں اس قیاسِ جدلی کے۔ یا تو اس کے ذریعے کیا کیا جائے گا، اپنی رائے کو بچایا جائے گا۔
قیاسِ جدلی کے ذریعے بحث و مباحثے کا طریقہ انسان کو آتا ہے، اس میں مہارت حاصل ہوتی ہے۔ بھئی جس کو یہ صلاحیت حاصل ہو جائے وہ بڑی، بڑی بہترین انداز میں بحث و مباحثہ کر کے آسانی سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا بھئی۔
تو اگر آپ کا ایک دعویٰ ہے اور دوسرا کیا کرتا ہے، اس پر اعتراض کرتا ہے۔ اگر آپ کو قیاسِ جدلی میں مہارت ہے، آپ اس کے اعتراض کا جواب دے دیں گے اور اپنی رائے کو بچا لیں گے، اپنے دعوے اور اپنے اعتقاد کو کیا کر لیں گے، بچا لیں گے۔
اور دوسری صورت یہ ہے، اس کا کوئی دعویٰ ہے اس کو آپ رد کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے آپ کا دعویٰ تھا وہ رد کرنا چاہتا تھا آپ نے اس کو بچا لیا، دوسری صورت ہے اس کا کوئی دعویٰ ہے آپ اس کو کیا کرنا چاہتے ہیں، رد کرنا چاہتے ہیں تو بھی قیاسِ جدلی آپ کو فائدہ دے گا۔ آپ ایسی باتیں ذکر کریں گے جو مشہور ہیں یا مسلم ہیں جنہیں وہ بھی تسلیم کرتا ہے، چاہے سچ ہوں یا جھوٹ ہوں، وہ جب تسلیم کرتا ہے آپ قیاسِ جدلی پیش کریں گے اور آپ اس پر اعتراض کر دیں گے، اس کے دعوے کو رد کر دیں گے۔ کیا کر دیں گے؟ اس کے دعوے کو رد کر دیں گے۔
تو لہٰذا یہ جو صنعتِ جدال ہے یعنی یہ قیاسِ جدلی کا جو، جو صلاحیت ہے، اس کی جو مہارت ہے، اس کا کیا فائدہ ہوا؟ مقابل پر اعتراض کرنا تاکہ اس کے اعتقاد کو رد کیا جائے، اور اپنی رائے کی یعنی اپنے اعتقاد کی حفاظت کرنا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
یہ معنی ہے والغرض من صناعة الجدال، اور جدال کے فن سے جو غرض ہے اور مقصد جو ہے، الزام الخصم، یعنی مقابل پر اعتراض کرنا ہے، او حفظ الرأي، یا اپنی رائے کی حفاظت کرنا ہے، اپنے اعتقاد کی حفاظت ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔