LESSONS NO. 106
1
وقس على هذا الأغلوطة المغالطة العامة الورود التي يمكن أن يثبت بها أي مطلوب أردت صادقًا كان أو كاذبًا. فنقول: المدعى ثابت، لأنه لو لم يكن المدعى ثابتًا كان نقيضه ثابتًا.
آج مغالطوں میں سے ایک اور مغالطہ مغالطہ عامۃ الورود کے بارے میں آپ کو بتلا رہے ہیں بھئی۔
مغالطہ عامۃ الورود۔
یہ بھی ایک مغالطہ ہے جیسا نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، مغالطہ عامۃ الورود۔ اور عامۃ الورود اس کو کہتے ہیں، یعنی اس کا وارد ہونا، اس کا آنا عام ہے۔ اس کے ذریعے ہر مدعیٰ، ہر دعوے کو ثابت کیا جا سکتا ہے، چاہے صادق ہو یا کاذب ہو۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مغالطہ عامۃ الورود۔ ہر دعوے کے لیے اس کو دلیل کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے، لیکن ہے مغالطہ۔
ہے کیا؟ مغالطہ۔ تو یہ مغالطہ عامۃ الورود اس لیے اس کو کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے ہر، دنیا کا کوئی بھی آپ دعویٰ کر لیں اس کے لیے دلیل کے طور پر اس کو ذکر کیا جا سکتا ہے بھئی، اور وہ کس طرح؟
اس سے پہلے تمہید کے طور پر ایک بات سمجھ لیجیے کہ ایک آپ نے پڑھا ہے اصل اور ایک ہے اس کا عکس۔ اصل اور اس کا عکس۔
ایک تو عکس مستوی پڑھا آپ نے، ایک عکس نقیض پڑھا۔ عکس مستوی کس کو کہتے تھے؟ موضوع کو محمول بنا دیا جائے اور محمول کو موضوع۔ تو یہ ہے عکس مستوی۔
البتہ اس کے اندر شرط تھی کہ صدق اور کیف کو برقرار رہنا چاہیے۔ یعنی اگر اصل صادق تھا تو جب آپ نے اس کا عکس بنایا وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق، اور کیفیت میں بھی کیفیت بھی برقرار رہنی چاہیے، اگر پہلا موجبہ تھا تو دوسرا بھی موجبہ، اگر پہلا سالبہ تھا اصل سالبہ تھا تو عکس کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ۔
اسی طرح ایک عکس نقیض تھا، وہ بھی یہی عکس تھا صرف اتنا فرق تھا کہ اس میں موضوع کی نقیض لے آتے اور محمول کی نقیض لے آتے، اور موضوع کی نقیض کو پھر محمول کی جگہ لے جاتے اور محمول کی نقیض کو موضوع کی جگہ لے آتے۔ عکس مستوی میں تو سیدھا سیدھا موضوع کو محمول کی جگہ اور محمول کو موضوع کی جگہ کر دیتے تھے، لیکن عکس نقیض میں کیا کرتے تھے؟ دونوں موضوع اور محمول کی نقیض لا کر پھر ان کی جگہ آپس میں بدل دیتے تھے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً بھئی عکس مستوی کی مثال، کل انسان حیوان، یہ ہے اصل۔ کل انسان حیوان۔ آپ، موضوع کیا ہے؟ انسان، اور محمول کیا ہے؟ حیوان۔ اب ان کی جگہ آپس میں بدلیں گے اور کس طرح اب کیا آئے گا عکس؟ بعض الحيوان انسان، کل اور بعض کو بدل سکتے ہیں۔ بعض الحيوان انسان۔
تو دیکھیے یہ ہے عکس مستوی بھئی، اسی طرح عکس نقیض بھی ہے۔ تو یاد رکھیے جو عکس ہوتا ہے نا یہ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ جب اصل ثابت ہے تو عکس ضرور ثابت ہے۔ جب آپ نے کہہ دیا کل انسان حیوان، تو اس کے ساتھ لازم ہے کیا؟ بعض الحيوان انسان، جب ہر انسان حیوان ہے تو ضرور بعض حیوان کیا ہوں گے؟ انسان، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بعض حیوان انسان نہ ہو، سارے کوئی بھی حیوان انسان نہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو جب بھی یہ صادق آئے گا کل انسان حیوان، ساتھ ایک اور چیز بھی صادق آ جائے گی اور وہ کیا اس کا عکس؟ وہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا یہ تو صادق آئے اور وہ صادق نہ آئے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو عکس کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم ہوا کرتا ہے۔
یہ تو تھی تمہید کے طور پر بات۔ اب بات چل رہی تھی مغالطہ عامۃ الورود کی۔ مغالطہ عامۃ الورود جیسا کہ میں نے بتلایا ہے مغالطہ، لیکن اس کا وارد ہونا اس کا آنا عام ہے، یہ ہر دعوے کے لیے دلیل کے طور پر آ سکتا ہے۔ آپ کوئی بھی دعویٰ کریں دلیل میں اس کو لے آئیں، اپنا دعویٰ ثابت کر سکتے ہیں، لیکن ہے یہ مغالطہ، درست نہیں ہے۔ آگے جواب دیں گے پھر اس کا۔
مثلاً آپ کوئی بھی دعویٰ کر دیتے ہیں، مثلاً آپ دعویٰ کرتے ہیں جی آسمان نیچے ہے، آسمان کیا ہے؟ نیچے ہے۔ یا اور کوئی دعویٰ کر لیں مثلاً کیا دعویٰ ہے؟ انسان کے دو سر ہیں، چلو انسان کے دو سر ہیں۔
یہ تو آپ کو، تو دلیل کس طرح ذکر کرتے ہیں؟ آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا، انسان کے دو سر ہیں۔ اگر ہمارا دعویٰ نہیں مانیں گے تو پھر اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ دعویٰ نہیں مانیں گے تو لازمی بات ہے کیا ماننا پڑے گی؟ نقیض، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا۔ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا، جب ایک چیز کو نہیں مانے تو اس کی نقیض کو ضرور ماننا پڑے گا آپ کو، اگر اس کی نقیض کو نہیں مانتے تو پھر ہمارے دعوے کو ماننا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دو باتوں میں سے ایک تو ضرور ہو گی، یا دعویٰ مانو گے یا کیا مانو گے؟ نقیض، دونوں میں سے ایک کو ضرور ماننا پڑے گا۔
تو اگر آپ ہمارا دعویٰ نہیں مانیں گے تو اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا، اور اس کی نقیض کو ماننے کی صورت میں ایک محال چیز لازم آتی ہے۔ کیا لازم آتی ہے؟ محال، اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ کیونکہ آپ نے ہمارا دعویٰ نہیں Mana تھا، معلوم ہوا ہمارا دعویٰ ثابت ہے، کیونکہ اگر ہمارا دعویٰ نہیں مانتے تو کیا چیز لازم آتی ہے؟ محال، اور محال تو ہو نہیں سکتا، جو چیز ناممکن ہے وہ تو ہو نہیں سکتی، لہٰذا ثابت ہوا ہمارا دعویٰ۔
دلیل سمجھ میں آئی بھئی؟ آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا، اگر دعویٰ نہیں مانیں گے تو کیا ماننا پڑے گی اس کی؟ اس کی نقیض بھی ضرور، اور اس کی نقیض مانیں گے تو ایک محال امر لازم آئے گا، اور محال تو ہو نہیں سکتا، یہ محال کیوں لازم آیا؟ آپ نے ہمارا دعویٰ نہیں ماننا تھا اور محال تو ہو نہیں سکتا لہٰذا یقیناً آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا، ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا۔ کیونکہ ہمارا دعویٰ نہیں مانتے تو محال لازم آتا ہے۔
دیکھیے آپ نے انسان کے دو سر ثابت کر دیے۔ کس طرح تفصیل دیکھو، یہ میں نے مختصراً سمجھایا۔ انسان کے دو سر ماننا پڑیں گے، نہیں مانیں گے تو ایک محال چیز لازم آئے گی اور محال تو ہو نہیں سکتا، تو لازمی بات ہے کیا ماننا پڑے گا؟ ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا، ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا کس طرح؟ دیکھیے وہ صغریٰ، کبریٰ ملائیں گے اور پھر آپ کے سامنے نتیجہ آئے گا اور پھر آپ کو بتلائیں گے کس طرح دعویٰ ثابت ہوتا ہے، دیکھیے بھئی کتاب پر۔
کہتے ہیں ويقرب من هذه الأغلوطة، اور اسی مغالطے کے قریب ہے، اغلوطہ مغالطے کے معنی میں ہے میں پہلے بیان کر چکا۔ کہتے ہیں ويقرب من هذه الأغلوطة، اور اسی مغالطے کے قریب ہی ہے المغالطة العامة الورود، کون سا مغالطہ؟ عامۃ الورود۔ یہ جو اوپر مغالطہ گزرا اسی کے قریب یہ مغالطہ بھی ہے۔ تو کہتے ہیں قریب ہے اسی مغالطے کے، مغالطہ عامۃ الورود بھی، التي يمكن، وہ مغالطہ عامۃ الورود کہ ممکن ہے أن يثبت بها، کہ ثابت کیا جائے اس کے ذریعے أي مطلوب، جس بھی جس مطلوب کو بھی أردت، آپ جس مطلوب کا بھی آپ نے ارادہ کیا ہو، کہ ممکن ہے اس کے ذریعے جس مطلوب کا بھی آپ ارادہ کریں صادقًا كان أو كاذبًا، چاہے وہ مطلوب اور دعویٰ صادق ہو یا کاذب ہو۔ فنقول، پس ہم کہتے ہیں، دیکھیے اب صغریٰ، کبریٰ ملائیں گے۔
المدعى ثابت، دعویٰ کیا ہے؟ ثابت ہے۔ دعویٰ، یہ تو دعویٰ آ گیا۔ کوئی بھی دعویٰ ہے آپ کیا کہتے ہیں؟ میرا یہ دعویٰ ثابت ہے، بات اس طرح ہے۔ کیوں؟ لأنه سے اب دلیل شروع ہو رہی ہے، صغریٰ، کبریٰ شروع ہو رہے ہیں۔ لأنه لو لم يكن المدعى ثابتًا كان نقيضه ثابتًا، اگر دعویٰ ثابت نہیں ہے تو پھر اس کی نقیض ثابت ہے، یہ آ گیا صغریٰ۔ وكلما كان نقيضه ثابتًا، اور جب بھی اس کی دعوے کی نقیض ثابت ہو گی كان شيء من الأشياء ثابتًا، تو چیزوں میں سے ایک چیز ثابت ہو جائے گی۔ جب بھی نقیض اس کی ثابت ہو گی، ثابت ہو گی تو چیزوں میں سے کوئی چیز ثابت ہو گی یا نہیں چیزوں میں سے ایک چیز؟ ایک بات ثابت ہو جائے گی۔
ينتج، نتیجہ دے گا، یہ قیاس: لو لم يكن المدعى ثابتًا، اگر دعویٰ ثابت نہیں ہے كان شيء من الأشياء ثابتًا، تو چیزوں میں سے ایک چیز ثابت ہے۔ اگر دعویٰ ثابت نہیں ہے تو چیزوں میں سے ایک چیز ثابت۔ صغریٰ، کبریٰ سمجھ میں آیا؟ نتیجہ اچھی طرح سمجھ میں آ گیا؟
صغریٰ کیا تھا؟ لو لم يكن المدعى ثابتًا كان نقيضه ثابتًا، صغریٰ۔ کبریٰ کیا تھا؟ وكلما كان نقيضه ثابتًا كان شيء من الأشياء ثابتًا، حدِ اوسط کیا ہے؟ كان نقيضه ثابتًا، یہ حدِ اوسط ہے، اس کو ذرا گرا دیں۔
کیا آیا نتیجہ؟ لو لم يكن المدعى ثابتًا كان شيء من الأشياء ثابتًا، جب بھی دعویٰ ثابت نہیں ہو گا تو چیزوں میں سے ایک چیز ثابت ہو گی۔ اب اس کا عکس لائیے بھئی۔ کہتے ہیں وينعكس، اور اس کا عکس آتا ہے بعكس النقيض، یہ منعکس ہوتا ہے عکسِ نقیض کے ساتھ، اس طرح منعکس ہو گا۔
دیکھیے نتیجے پر ذرا نظر رکھو نتیجے پر، عکسِ نقیض میں کیا کرتے تھے؟ موضوع کی نقیض لا کر کہاں، موضوع کی جگہ اس کی نقیض لا کر اس کو محمول کی جگہ لے جاتے اور محمول کی نقیض لا کر کس کی جگہ لے آتے؟ موضوع۔ اچھا، یہ موضوع کیا ہے؟ مقدم کیا ہے؟ یہاں تو مقدم، تالی آئے گا نا کیونکہ قضئیہ شرطیہ ہے۔ قضئیہ حملیہ میں تو کہتے ہیں موضوع اور محمول، قضئیہ شرطیہ میں کیا کہتے ہیں؟ مقدم اور تالی، تو یہاں مقدم اور تالی کی نقیض کی جگہ بدلیں گے۔ مقدم کون؟ لو لم يكن المدعى ثابتًا، اگر مدعیٰ ثابت نہ ہو۔ اس کا، اس کی، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ اس میں تو ہے مدعیٰ ثابت نہ ہو، نقیض میں کیا ہو گا؟ مدعیٰ ثابت ہے، کیا آ جائے گا؟ نقیض لانی ہے نا، ایک میں نفی ہے اس کو اثبات سے بدل دو، اثبات کو نفی سے۔ انسان کی نقیض کیا آئے گی؟ لا انسان، قلم کی کیا آئے گی؟ لا قلم، تو یہاں اسی طرح ہے، یہاں پر کیا ذکر ہو رہا ہے؟ مقدم میں مدعیٰ کے ثبوت کی نفی ہے یا اثبات ہے؟ نفی ہے۔ نفی ہے تو نقیض کیا آئے گی؟ اثبات، ہاں اثبات کو ہم مؤخر کریں گے۔
اچھا، اور آگے کیا ہے؟ كان شيء من الأشياء ثابتًا، یہ تالی کے اندر اثبات ہے یا نفی ہے؟ اثبات، تو اس کو کس سے بدل دیں گے؟ نفی سے، تو دیکھو اس کی نفی کو مقدم کریں گے اور مقدم کی نفی، مقدم کے اثبات کو مؤخر کریں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیکھو یہ عکسِ نقیض نکال رہے ہیں۔
لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتًا كان المدعى ثابتًا، اگر چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو كان المدعى ثابتًا، تو مدعیٰ کیا ہو گا؟ یہ عکسِ نقیض آ گیا۔
اور حالانکہ یہ درست نہیں۔ غلط ہے۔ کیا آیا عکسِ نقیض؟ اگر چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو دعویٰ کیا ہو گا؟ ادھر کہہ رہے ہیں چیزوں میں سے اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو دعویٰ بھی چیزوں میں سے ایک چیز ہے یا نہیں؟ تو چیزوں میں سے اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو کیا ہونا چاہیے تھا؟ دعویٰ بھی ثابت نہیں، لیکن آگے کیا آ رہا ہے؟ دعویٰ ثابت ہے، تو دیکھو یہ تو محال لازم آیا، کیا لازم آیا؟ جب چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہیں ہے تو کہنا چاہیے تھا دعویٰ بھی ثابت نہیں، کیونکہ دعویٰ بھی ایک چیز ہے۔ لیکن آگے کیا کہہ رہے ہیں؟ دعویٰ ثابت، تو یہ محال ہے، جب چیزوں میں سے کوئی چیز بھی ثابت نہ ہو پھر دعویٰ ثابت ہو جائے یہ کیا ہے؟ محال، محال ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب دیکھیے، یہ نتیجے کی عکس، نتیجے کا عکسِ نقیض آیا۔ کیا آیا؟ نتیجے کا عکسِ نقیض، اور عکس کیا ہوتا ہے؟ اصل کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ جب اصل صادق ہو تو عکس ضرور صادق، اور یہاں عکس سے کیا آ رہی ہے؟ محال لازم آ رہا ہے، اور یہ محال کیوں لازم آیا؟ آپ نے ہمارا دعویٰ نہیں ماننا تھا، اس کی نقیض مانی تھی، تو دیکھو ایک محال چیز لازم آئی ہمارا دعویٰ نہ ماننے کی وجہ سے، تو اب آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا، کیونکہ محال تو ہو نہیں سکتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ دیکھو اس کے ذریعے دنیا کے ہر دعوے کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں اسی کا عکسِ نقیض اس کا یوں آئے گا: لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتًا كان المدعى ثابتًا، مع أنه شيء من الأشياء، باوجود اس کے کہ یہ جو دعویٰ ہے یہ بھی شيء من الأشياء، چیزوں میں سے ایک چیز ہے۔ هذا خلف، اور یہ کیا ہے؟ محال ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ محال، جب کوئی چیز ثابت نہیں تو دعویٰ بھی ثابت نہیں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ یہ بھی چیزوں میں سے ایک چیز ہے دعویٰ بھی چیزوں میں سے، لیکن یہ آپ کہہ رہے ہیں ثابت ہے تو یہ محال ہوا بھئی۔
وتحير العقلاء في حله، جی اب اس کا حل آگے ذکر کر رہے ہیں، تین جوابات دیں گے بھئی، تین حل ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں وتحير العقلاء في حله، اور عقلاء جو ہیں وہ حیران ہیں، عقل والے حیران ہیں بھئی في حله، اس کے حل کے اندر۔
فمن قائل يقول: إنا لا نسلم، پس کہنے والے یوں کہتے ہیں: إنا لا نسلم، کہ ہمیں یہ بات تسلیم نہیں أن تلك الشرطية تنعكس، جی بعض یہ جواب دیتے ہیں کہ ہمیں یہ عکس قبول نہیں، آپ نے جو عکس نکالا درست نہیں نکالا۔ خرابی کہاں پر آئی؟ عکسِ نقیض کے اندر خرابی آئی، کیوں؟ نتیجہ کیا تھا؟ ذرا نتیجے پر نظر رکھو۔
لو لم يكن المدعى ثابتًا، اگر مدعیٰ ثابت نہیں، كان شيء من الأشياء ثابتًا، تو چیزوں میں سے ایک چیز، اور وہ کیا چیز ہے؟ اگر دعویٰ ثابت نہیں تو کیا ثابت تھا؟ نقیض ثابت، تو یہاں شَيءٌ سے کیا مراد ہے؟ نقیض اس کی مراد ہے۔ تو صرف اس کی نقیض مراد ہے۔
اور آگے جو آپ نے اس کا عکس نکالا وہاں پر آیا لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتًا، پہلے تالی جو تھا وہ خاص تھا، تالی کیا تھا؟ کیا تھا تالی؟ صرف نقیض اس کی، شَيءٌ مِنَ الأَشْيَاءِ سے کیا مراد تھی؟ صرف اس کے، جب بھی دعویٰ ثابت نہیں ہو گا کیا ثابت ہو گی؟ ایک چیز ثابت ہو گی، وہ اس چیز سے کیا مراد ہے؟ نقیض اس کی مراد ہے، تو ایک چیز خاص چیز مراد ہے وہاں پر۔
تو نتیجے کے اندر جو تالی تھا وہ خاص تھا، کیا تھا؟ تالی خاص تھا، اس سے کیا مراد تھی؟ نقیض مراد تھی دعوے کی، اور یہاں پر عکس کے اندر جو آپ نے یہ جو عکس بنایا اس کے اندر جو اب وہ مقدم لے آئے: لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتًا، اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، بھئی کوئی بھی چیز کی بات آپ کیوں کر رہے ہیں؟ بات صرف کس کی کرنی چاہیے؟ صرف، اگر نقیض ثابت نہ ہو تو پھر دعویٰ کیا ہو گا؟ یوں کہنا چاہیے نا، آپ تو کہہ رہے ہیں کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو۔
اگر کوئی بھی چیز، عکسِ نقیض کیا آیا ذرا اس پہ نظر رکھیں، اگر چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہیں تو دعویٰ کیا ہے؟ یہ خرابی کہاں آ رہی ہے؟ یہ جو آپ نے یہ جو عکسِ نقیض کا مقدم جو بنایا آپ نے عام بنایا، نتیجے کے اندر جو تالی تھا وہ خاص تھا، اس سے اس کی نقیض مراد تھی، اور یہاں جو آپ نے مقدم بنایا، کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، آپ نے صرف نقیض کی نفی کی یا دنیا کی سب چیزوں کی نفی کر دی؟ تو اس میں تو آپ نے نقیض اور غیر نقیض سب کی نفی کر دی، حالانکہ صرف کس کی نفی کرنی چاہیے تھی؟ نتیجے میں کس کا اثبات تھا؟ اگر نتیجے پہ...
2
پر پھر نظر رکھو۔ اگر دعویٰ ثابت نہیں، تو چیزوں میں سے ایک چیز ثابت ہے، یعنی کیا ثابت ہے؟ نقیض ثابت ہے۔ تو اسی کی نفی کر دو۔ اگر نقیض ثابت نہیں، تو کیا ثابت ہے؟ دعویٰ ثابت ہے، یوں کہنا چاہیے تھا اپ کو۔ صورت سمجھ میں اگئی؟ تو نتیجے کے اندر جو تالی تھا وہ خاص تھا۔
اور عکس کے اندر جو مقدم بنایا وہ عام کر دیا اپ نے، اس میں ہر چیز کی نفی کر دی، نقیض کی بھی اور غیر نقیض کی بھی۔ حالانکہ صرف کس کی نفی کرنی چاہیے تھی؟ نقیض کی نفی کرنی چاہیے تھی اور یوں کہنا چاہیے تھا، یوں کہنا چاہیے تھا کہ اگر وہ چیز ثابت نہ ہو، کون سی چیز؟ نقیض۔ اگر وہ چیز ثابت نہ ہو، اپ نے تو کیا کہا؟ اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو تو دعویٰ... یوں نہ کہیں کہ اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، یوں کہیں۔ اگر وہ... کیا چیز ثابت نہ ہو؟ اگر وہ نقیض ثابت نہ ہو، وہ چیز ثابت نہ ہو یعنی وہ نقیض ثابت نہ ہو، تو دعویٰ کیا ہوگا؟ پھر بات درست ہونی تھی۔ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو خرابی کہاں پر آئی؟ کہ نتیجے کے اندر جو تالی تھا وہ خاص تھا اور عکس نقیض کے اندر جو اس کو اس کی نقیض جس کو لے کر ایا اور مقدم کیا وہ کیا ہے؟ عام ہے، تو اپ نے اس میں اس خاص کو عام سے بدل دیا، اس لیے خرابی لازم آئی، دیکھیے۔
تو کہتے ہیں وہ کہتے ہیں "إنا لا نسلم" ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے "أن تلك الشرطية تنعكس بهذا العكس إلى هذه الشرطية" کہ وہ شرطیہ جو ہے وہ منعکس ہوتا ہے اس عکس کے ساتھ اس شرطیہ کی طرف یہ جو عکس میں ذکر کیا بھئی، اس شرطیہ کی طرف وہ منعکس ہو، یہ ہمیں تسلیم نہیں ہے۔ "كيف" اور یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ "والشيئان في الأصل والعكس مختلفان بالعموم والخصوص" اور وہ دو چیزیں جو ہیں اصل اور عکس میں مختلف ہیں عموم اور خصوص کے اعتبار سے۔ اصل میں تھا خصوص اور عکس میں کیا لے آئے اپ؟ عموم لے آئے، تو اصل اور عکس کے اندر عموم اور خصوص کے اندر چیزیں مختلف، ایک میں عام ہے تو دوسری میں خاص۔ "بل عكس هذه الشرطية" بلکہ اس شرطیہ کا عکس جو ہے "قولنا" وہ ہمارا یہ قول ہے "كلما لم يكن ذلك الشيء ثابتا" پہلے عکس کیا بنایا تھا؟ "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" یہ کہتے ہیں یوں نہ کہیں "لو لم يكن شيء من الأشياء" بلکہ کیا کہیں؟ "كلما لم يكن ذلك الشيء ثابتا" اگر جب بھی وہ چیز ثابت نہ ہوگی "كان المدعى ثابتا" تو دعویٰ کیا ہوگا؟ ثابت ہوگا "وهو حق" اور یہ بات تو حق ہے، سچ ہے، درست ہے بھئی۔
یہ ایک جواب ہوا۔ جواب سمجھ میں آیا کہ نہیں آیا بھئی؟ اچھی طرح؟ اچھا، "وإن شئت" اور اگر اپ چاہیں تو "قلت" تو یوں کہیں "بتقرير آخر" دوسری تقریر کے ساتھ۔ دوسری تقریر، پہلا جواب کیا دیا؟ کہ ہمیں اپ کا عکس منظور ہی نہیں، اپ نے عکس صحیح نہیں نکالا۔ عکس صحیح نہیں نکالا، ہاں عکس یہ نکالنا چاہیے تھا جو ہم بات اپ کو بتا رہے ہیں بھئی۔
دوسرا جواب، دوسرا جواب کہتے ہیں وہ تسلیم کرتے ہیں، ٹھیک ہے عکس یہی ہے۔ کیا ہے؟ عکس یہی ہے، تسلیمی جواب ہے۔ وہ جو اپ نے عکس نکالا ٹھیک نکالا، لیکن وہاں عکس کے اندر مقدم خاص ہے کہ عام ہے؟ "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" یہاں مقدم کیا ہے؟ عام ہے۔ کیا ہے؟ عام ہے۔ یہ تسلیم کر رہے ہیں، ٹھیک ہے عکس یہی نکلتا ہے اور مقدم اپ نے عام نکالا، ٹھیک ہے مقدم عام، لیکن مراد خاص ہے۔ عام بول کر مراد کیا ہے؟ خاص ہے، کیونکہ خاص کے ضمن میں عام بھی ا جایا کرتا ہے۔ خاص کے ضمن میں عام بھی ا جایا کرتا ہے، تو خاص بول کر عام مراد ہے، دوسرا جواب یہ۔
عکس اپ کا صحیح، مقدم عام نکالا اپ نے، لیکن عام بول کر مراد کیا ہے؟ خاص، اور عام بول کر خاص کا ارادہ کرنا درست ہے کیونکہ خاص کے ضمن میں عام ا جاتا ہے۔ مثلاً دیکھیے، زید، ایک ہے زید اور ایک ہے انسان۔ زید تو صرف ایک ادمی پر صادق ا رہا ہے، انسان تو لاکھوں کروڑوں پر صادق ا رہا ہے، تو کون عام ہوا؟ انسان، اور زید کیا ہوا؟ خاص۔ لیکن زید کے ضمن میں انسان بھی ا گیا یا نہیں؟ زید بھی انسان ہے یا نہیں؟ تو انسان بول کر زید مراد لے سکتے ہیں یا نہیں؟ لے سکتے ہیں۔ زید ایا میرے پاس، میں کہتا ہوں میرے پاس ایک انسان ایا، کہہ سکتا ہوں یا نہیں؟ تو دیکھو میں نے لفظ بولا عام، انسان، اور مراد کیا لیا؟ خاص، کیونکہ عام کس کے ضمن میں پایا جاتا ہے؟ خاص کے ضمن میں عام پایا جاتا ہے بھئی۔ صورت... تو یہاں پر بھی ذکر عام ہوا، اگر کوئی چیز بھی ثابت نہ ہو، یعنی کیا ثابت نہ ہو؟ نقیض ثابت نہ ہو، مراد نقیض ہے، ہر چیز مراد نہیں۔ تو کوئی چیز ثابت یعنی نقیض ثابت نہ ہو تو کیا ثابت ہو جائے گا؟ جب نقیض ثابت نہیں ہوگی تو لازمی بات ہے کیا ثابت ہوگا؟ دعویٰ ثابت ہو جائے گا، بات درست ہو گئی بھئی۔
"وإن شئت قلت بتقرير آخر" اور اگر اپ چاہیں تو یوں کہیں دوسری تقریر کے ساتھ "إن عكس تلك الشرطية لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" کہ اس شرطیہ کا عکس جو ہے "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" اگر کوئی بھی چیز چیزوں میں سے ثابت نہ ہو "في ضمن نقيض المدعى" کس کے ضمن میں؟ مدعی کے یعنی دعوے کی نقیض کے ضمن میں، دیکھو یہ بیچ میں لفظ بڑھا دیا "في ضمن نقيض المدعى" بھئی دیکھیے اوپر عکس نقیض کیا تھا؟ "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا كان المدعى ثابتا" سارا وہی ذکر کر رہے ہیں، صرف بیچ میں "في ضمن نقيض المدعى" کا لفظ بڑھا دیا۔ نظر ہے بھئی؟ اوپر جو جملہ تھا پہلی سطر میں وہی جملہ یہاں بھی ہے "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" بیچ میں صرف یہ بڑھا دیا "في ضمن نقيض المدعى كان المدعى ثابتا" یہ سارا وہی ہے، صرف بیچ میں "في ضمن نقيض المدعى" نکال کر بتلا دیا کہ عام بول کر کیا مراد ہے؟ خاص، سب چیزوں کی نفی سے دراصل کس کی نفی مراد ہے؟ نقیض کی نفی مراد ہے۔ "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" اگر چیزوں میں سے کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو "في ضمن نقيض المدعى" کس کی نقیض؟ دعوے کی نقیض کے ضمن میں اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو "كان المدعى ثابتا" تو دعویٰ کیا ہوگا؟ ثابت ہوگا۔ یہ دوسرا جواب، یہ بھی سمجھ میں اگیا بھئی؟
پہلا جواب کیا تھا؟ ہمیں یہ عکس ہی قبول نہیں۔ تسلیم نہیں ہے، یہ عکس اپ نے صحیح نہیں نکالا۔ دوسرا جواب کیا تھا؟ ہمیں اپ کا عکس کیا ہے؟ تسلیم ہے، لیکن عام بول کر کیا مراد ہے؟ خاص۔
تیسرا جواب "ومن مجيب يجيب" اور کوئی جواب دینے والا یہ جواب دیتا ہے "بأن المقدم في العكس محال" کہ مقدم جو ہے عکس کے اندر وہ محال ہے۔ یاد رکھیے یہ عربی میں لفظ ہے مُحال مُحال، میم کے ضمہ کے ساتھ۔ ہاں، لیکن اردو میں جو رائج ہے وہ مَحال ہے، میم کے فتحہ کے ساتھ بھئی، سمجھ میں ایا؟ تو اردو میں لفظ ہی اگر بدل چکا تو اردو میں مَحال پڑھیں گے، عربی میں مُحال ہی بھئی۔ اور کوئی جواب دینے والا یہ جواب دیتا ہے کہ مقدم جو ہے عکس کے اندر وہ محال ہے۔ کیا تھا مقدم؟ ذرا پھر عکس پہ چلے جاؤ بھئی۔ "لو لم يكن شيء من الأشياء ثابتا" اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، یہ ہے مقدم، اور کہتے ہیں یہ محال ہے۔ چیزیں ہیں یا نہیں دنیا کے اندر؟ اور کچھ بھی نہ مانے واجب الوجود کا ہونا تو واجب ہے، ضروری ہے، تو لہذا انہوں نے تو کیا مقدم مانا؟ اگر کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو۔ اور کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، ایسا ہو سکتا ہے؟ یہ کیا ہے؟ محال۔ اور اس محال سے ایک اور محال لازم ایا، وہ کیا؟ کوئی بھی چیز جب ثابت نہیں ہے تو دعویٰ ثابت ہے۔ جب کوئی چیز ثابت نہیں تو دعویٰ ثابت ہونا چاہیے یا وہ بھی ثابت نہیں ہونا چاہیے؟ وہ بھی ثابت نہیں ہونا چاہیے، لیکن اپ کیا کہہ رہے ہیں عکس کے اندر؟ وہ ثابت، تو کسی چیز کے ثابت نہ ہونے کی صورت میں دعوے کا ثابت ہونا بھی محال ہے۔ دعوے کا ثابت ہونا بھی... تو مقدم بھی محال، اور اس مقدم کے ہوتے ہوئے تالی کا ہونا بھی کیا؟ محال، اور ایک محال سے دوسرا محال لازم ایا تو کوئی حرج نہیں۔ پہلی چیز ہی محال ہے، تو دوسری محال ہو جائے تو کیا ہوا؟
پچھلے سبق میں بات گزری بھئی، فرض کرنے کی صورت میں، ایک چیز کو اگر کیا کر لیا جائے؟ فرض... محال کو بھی فرض کر سکتے ہیں یا نہیں؟ فرض ہی کرنا ہے نا ویسے، تو محال فرض تو محال کو بھی کر سکتے ہیں۔ تو اپ نے بھی مقدم میں کیا فرض کیا؟ محال فرض، کوئی بھی چیز اگر ثابت نہ ہو، اگے کیا ایا؟ دعوے کو ثابت نہیں ہونا چاہیے، لیکن اپ نے کیا کہا؟ دعویٰ... تو یہ تو محال ہوا، تو ایک محال سے دوسرا محال لازم ایا تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ محال ہے بھئی، بات سمجھ میں اگئی؟ تو حقیقت سے اس کا تعلق ہی نہیں ہے بھئی۔
یہ کہتے ہیں "بأن المقدم في العكس محال" کہ مقدم جو ہے عکس کے اندر محال ہے "والمحال جاز أن يستلزم نقيضه" اور محال جو ہے جائز ہے کہ وہ مستلزم ہو اپنی نقیض کے، اس کی نقیض کے، دعوے کی... ہاں محال جائز ہے کہ مستلزم ہو اپنی نقیض کو، محال سے اپنی نقیض لازم ہو اس کے ساتھ تو کوئی حرج نہیں۔ مقدم کیا تھا؟ محال تھا نا، کوئی بھی چیز ثابت نہ ہو، جب کوئی بھی چیز ثابت نہیں تو دعوے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ ثابت نہیں ہونا چاہیے، لیکن اپ کیا کہہ رہے ہیں عکس میں؟ دعویٰ ثابت، تو یہ اس کی نقیض ہوئی یا نہیں مقدم کی؟ مقدم کی کیا ہو گئی؟ نقیض ہو گئی، لہذا اگر محال اپنی نقیض کو مستلزم ہو، محال کے ساتھ اپنی نقیض لازم ا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے بھئی، ایک محال سے دوسرا محال لازم ائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ معنی ہے "والمحال جاز أن يستلزم نقیضه" اور محال جو ہے جائز ہے کہ وہ مستلزم ہو اپنی نقیض کو، یعنی اس کے ساتھ لازم ہو اس کی نقیض۔ "فلا خلف" لہذا اب محال لازم... اب خلف نہیں ہے، خلاف مفروض نہیں ایا بھئی۔
"وقد وقع الإطناب في تفصیل هذا الباب" اطناب کہتے ہیں تفصیل بھئی تفصیل، کلام کو لمبا کرنا۔ اطناب کسے کہتے ہیں؟ کلام کو لمبا... بات لمبی کرنا۔ شارح... یہ مصنف فرماتے ہیں "وقد وقع الإطناب" یہاں سے وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہ اپ نے یہ جو یہ مغالطے کی بڑی لمبی تفصیل بیان کی، کتنے صفحات سے یہی بحث چل رہی ہے، یہ مختصر سا رسالہ تھا، باقی ساری چیزیں انہوں نے مختصراً ذکر کرتے... مختصراً ذکر کیں اور مغالطوں کا باب بڑا لمبا کر دیا، تو وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ میں نے یہ مغالطوں کا باب کیوں لمبا ذکر کیا۔ تو وجہ یہ بتلائیں گے کہ اور کتابوں کے اندر عموماً مصنفین نے اس بحث کو چھیڑا ہی نہیں۔ اور عام طور پر جو اج کل طلباء کو کہتے ہیں کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں یہ بحثیں نہیں تھیں، لہذا میں نے طلباء کے فائدے کے لیے ان چیزوں کو بھی اس کتاب میں ذکر کر دیا تاکہ ان کو اس کا بھی اچھی طرح علم ہو جائے۔
کہتے ہیں "وقد وقع الإطناب في تفصیل هذا الباب" اور تحقیق طول واقع ہو گیا، کیا واقع ہوا؟ طول، طول واقع ہوا "في تفصیل هذا الباب" اس باب کی تفصیل میں "لما أن الرسائل المدونة في هذا الفن" اس وجہ سے کہ وہ رسائل جو مدون کیے گئے ہیں، لکھے گئے ہیں "في هذا الفن" اس فن یعنی منطق کے اندر۔ کہتے ہیں میرے اس باب کی تفصیل کے اندر طول واقع ہوا، لمبی بات ا گئی، لمبی بات واقع ہوئی اس وجہ سے کہ وہ رسائل جو لکھے گئے ہیں اس علم منطق کے اندر "التي جرت في زماننا هذا" وہ جو کہ جاری ہیں اس میرے اس زمانے کے اندر، کیا جاری ہے اس زمانے میں؟ کہتے ہیں "عادة قراءتها" ان کے پڑھنے کی عادت، وہ رسالے جن کے پڑھنے کی عادت میرے زمانے میں جاری ہے یعنی میرے زمانے میں جو پڑھے جاتے ہیں، پڑھائے جاتے ہیں جو رسالے، "خالية" یہ خبر ا گئی "أن" کی۔ وہ رسائل جو لکھے گئے ہیں اس فن میں "خالية عن تفصیل باب المغالطة" وہ خالی ہیں کس سے؟ مغالطے کے باب کی تفصیل سے، ان کے اندر مغالطے کے باب کی کوئی تفصیل نہیں تھی۔ "فرأيت" پس میں نے دیکھا یعنی خیال کیا "أن أوشح" کہ میں مزین کروں، وشح یوشح توشیح کا معنی مزین کرنا، کہ میں مزین کروں "أن أوشح بذكره" کہ میں اس ان کے اس کے مغالطے کے باب کے ذکر کے ساتھ مزین کروں "رسالتي هذه" اپنے اس رسالے کو "لتكون نافعة للمتعلمين" تاکہ یہ نافع بن جائیں للمتعلمین، پڑھنے والوں کے لیے، تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے، "مفيدة للطالبين" اور مفید ہوں طالب علموں کے لیے، تاکہ یہ کیا بن جائیں؟ متعلمین کے لیے یعنی وہی طالب علمین ہی مراد ہیں، ان کے لیے نافع ہوں اور ان کے لیے مفید ہو جائیں۔
یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں اگئی بھئی؟ دوبارہ ترجمے پہ ذرا نظر رکھنا۔ "لما أن الرسائل" "وقد" بلکہ "وقد وقع الإطناب" تحقیق طول واقع ہو گیا اس باب کی تفصیل میں اس وجہ سے کہ وہ رسائل جو لکھے گئے ہیں اس فن کے اندر جن کی اج جن کی عادت، جن کے پڑھنے کی عادت جاری ہے میرے اس زمانے میں وہ رسالے جو ہیں خالی ہیں باب مغالطہ کی تفصیل سے، پس میں نے خ... خیال کیا کہ "أن أوشح" کہ میں اپنے رسالے کو ان کے ذکر کے ساتھ مزین کروں تاکہ وہ نافع بن جائیں متعلمین کے لیے اور مفید بن جائیں طالبین کے لیے۔
یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں اگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔