LESSONS NO. 104
1
ومنها قولهم: مماثل المماثل مماثل، نحو الإنسان مماثل للنخلة، والنخلة مماثلة للحجر في كونه غير ذي نفس، فيلزم كون زيد جماداً.
مصنف رحمہ اللہ مختلف قسم کے مغالطے بیان فرما رہے ہیں جو قیاس میں واقع ہوتے ہیں اور جن وہ مغالطے جن کے ذریعے دوسرے کو غلطی میں واقع کیا جاتا ہے۔
آج بتلا رہے ہیں کہ ان مغالطوں میں سے ایک مناطقہ کا یہ قول ہے کہ مماثل المماثل مماثل، کہ مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا ہے۔ مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا ہے۔
جیسے مثال ذکر کر رہے ہیں کہ اس کے اندر بھی اگر حیثیتوں کا خیال نہ رکھا جائے تو انسان غلطی میں واقع ہو جائے گا۔ مثلاً کہا جائے کہ انسان مشابہ ہے کھجور کے درخت کے اور کھجور کا درخت مشابہ ہے پتھر کے بے جان ہونے کے اندر۔
انسان مشابہ ہے کھجور کے ساتھ لمبا ہونے میں، جس طرح انسان کا قد لمبا، کھجور بھی لمبی، تو انسان مشابہ ہے کھجور کے درخت کے اور کھجور کا درخت مشابہ ہے پتھر کے بے جان ہونے میں، جس طرح پتھر بے جان ہے اسی طرح کھجور کا درخت بھی بے جان۔
تو قیاس کیا بنا رہے ہیں؟ انسان مشابہ ہے کھجور کے درخت کے اور کھجور کا درخت مشابہ ہے پتھر کے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ انسان مشابہ ہے پتھر کے، یعنی انسان بھی بے جان ہے، انسان بھی بے جان ہے۔ تو دیکھیے یہ مغالطہ کس وجہ سے آیا؟ کیونکہ یہاں پر بھی حیثیتوں کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ انسان کی مشابہت جو کھجور کے ساتھ ہے وہ اور چیز میں ہے اور پتھر کے ساتھ جو کھجور کی مشابہت ہے وہ اور چیز میں ہے۔ تو صغریٰ کے اندر اور مشابہت مراد، کبریٰ کے اندر اور مشابہت مراد، جس کی وجہ سے پھر نتیجہ غلط آیا۔ نتیجہ کیا آیا؟ انسان بھی پتھر کی طرح یعنی بے جان ہے، حالانکہ انسان تو بے جان نہیں۔ تو یہ غلطی کیوں آئی؟
کیونکہ حیثیتوں کا خیال نہیں رکھا گیا، انسان کی جو کھجور کے ساتھ مشابہت بیان کی گئی وہ کس چیز میں تھی؟ وہ لمبائی میں تھی، طول کے اندر، اور کھجور کی جو پتھر کے ساتھ مشابہت بیان کی گئی وہ کس چیز کے اندر تھی؟ وہ بے جان ہونے کے اندر بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: ومنها قولهم، اور ان مغالطوں میں سے ایک مناطقہ کا یہ قول ہے: مماثل المماثل مماثل، مشابہ کا مشابہ مشابہ ہوتا ہے۔ نحو الإنسان مماثل للنخلة، مماثل کا لفظ ہے آپ کی کتابوں میں بھئی، ہونا چاہیے یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، الإنسان مماثل للنخلة، نخلہ کہتے ہیں کھجور کے درخت کو بھئی، انسان مشابہ ہے کھجور کے درخت کے، والنخلة مماثلة للحجر، اور کھجور کا درخت مشابہ ہے پتھر کے، في كونه غير ذي نفس، غیر ذی روح ہونے کے اندر، نفس کس کو کہتے ہیں؟ روح کو، روح، غیر ذی روح ہونے میں یعنی جیسے اس میں روح نہیں، اسی طرح اس میں بھی روح نہیں۔ في كونه غير ذي نفس، غیر ذی روح ہونے کے اندر، والنخلة مماثلة للحجر في كونه غير ذي نفس، اور کھجور کا درخت مشابہ ہے پتھر کے غیر ذی روح ہونے میں، فيلزم كون زيد جماداً، تو لازم آیا زید کا جماد یعنی بے جان ہونا، زید کا جماد کس کو کہتے ہیں؟ بے جان، تو زید کا بے جان ہونا لازم آیا، ووجه التغليط فيه، اور اس کے اندر مغالطے کی وجہ جو یہ ہے وجہ جو ہے وہ یہ ہے کہ أن مماثلة النخلة للإنسان في أمر، کہ کھجور کی مشابہت انسان کے ساتھ في أمر ایک چیز میں ہے، وهو الطول مثلاً، اور وہ لمبائی ہے مثال کے طور پر، ومماثلتها للحجر في شيء آخر، اور کھجور کی مماثلت پتھر کے ساتھ في شيء آخر دوسری چیز میں ہے۔
ومما يوقع في الغلط أخذ العدم المقابل للملكة مكان الضد والنقيض.
ایک اور قسم بیان کر رہے ہیں کہ وہ چیز ممّا ان چیزوں میں سے يوقع في الغلط جو غلطی میں واقع کر دیتی ہیں أخذ العدم المقابل للملكة، کہ پکڑنا اس عدم کو جو مقابل ہے ملکے کے، یعنی عدم کو عدم جو کہ ملکے کا مقابل ہے اس کو بنا لینا، اس کو رکھ دینا مكان الضد والنقيض، ضد اور نقیض کی جگہ پر۔
یاد رکھیے عدم جو ہے عدم، کسی چیز کا نہ ہونا، تو یہ عدم مقابل ہے ملکے کا، عدم کس چیز کا مقابل ہے؟ اس کو اگر ضد اور نقیض کے مقابل رکھ دیا جائے، اس کے مقابل بنا دیا جائے تو اس سے بھی انسان غلطی میں پڑ جائے گا بھئی۔
جیسے دیکھیے سکون، سکون کس چیز کا نام ہے؟ حرکت کا نہ کرنا، حرکت کا نہ ہونا، اور اس چیز میں جس میں حرکت کی صلاحیت تھی۔ اس چیز میں جس میں حرکت کی صلاحیت، یا جیسے اور واضح مثال اندھا، اندھا کس کو کہتے ہیں؟ ہر چیز کو اندھا کہتے ہیں؟ دیوار کو آپ اندھا کہتے ہیں؟ نہیں، کیوں؟
کیونکہ اندھا اندھا کس چیز کا نام ہے؟ عدمِ بصر، بینائی کا نہ ہونا، اور تو یہ عدم ہے، عدم کا معنی نہ ہونا نا، عدمِ بصر ہے یہ، اور یہ یہ ملکے کے مقابلے میں ہے، اندھا اسی کو کہیں گے جس میں دیکھنے کی صلاحیت تھی، جس میں دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے اس کو اندھا نہیں کہیں گے، اگر آپ دیوار کو اندھا کہتے ہیں اس کا مطلب ہے آپ نے عدم کو عدم کو کس کی جگہ پر رکھ دیا؟ ضد اور نقیض کی جگہ پر، دیکھنے کی ضد اس کو برقرار دے دیا آپ نے، دیکھنے کی نقیض قرار دے دیا، حالانکہ یہ اس کی ضد اور نقیض نہیں بلکہ یہ تو یہ یہ تو کس کے مقابل ہے؟ ملکے کے مقابل ہے، جس کے اندر دیکھنے کی صلاحیت تھی پھر نہ دیکھ سکے تو اس کو کیا کہیں گے؟ اندھا کہیں گے، ہر چیز کو اندھا، جس چیز میں حرکت کی صلاحیت تھی پھر اس کے بعد اس میں حرکت نہ ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ یہ ساکن ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو عدم مقابل ہے ملکے کا، اگر اس کو کس کی جگہ پر رکھ دیا جائے؟ ضد اور نقیض کی جگہ پر رکھ دیا جائے تو اس سے بھی انسان مغالطے میں پڑ جائے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ومما يوقع في الغلط، اور وہ ان چیزوں میں سے جو واقع کرتی ہیں غلطی کے اندر أخذ العدم المقابل للملكة، رکھنا اس عدم کو جو مقابل ہے کس کا؟ ملکے کا، جس میں صلاحیت ہے، اس کو کس کی جگہ پر رکھنا؟ مكان الضد والنقيض، ضد اور نقیض کی جگہ پر رکھ دینا، اس نقیض اور ضد بنا لینا، كالسکون، جیسے کہ سکون، فإنه عدم الحركة عما من شأنه أن يتحرك، سکون جو ہے یہ عدمِ حرکت ہے عمّا اس چیز سے من شأنه أن يتحرك جس کے حال یہ ہے کہ وہ حرکت کرے۔ سکون کس چیز کا نام ہے؟ یہ عدمِ حرکت ہے اس چیز سے جس کی شان یہ ہے کہ وہ حرکت کرے، وکالعمیٰ، جیسے کہ اندھا، اندھا پن، فإنه عدم البصر عما من شأنه أن يكون بصيراً، پس یہ عدمِ بصر ہے اس چیز سے یعنی یہ بصر کی نفی ہے اس چیز سے جس کی شان یہ تھی کہ وہ کیا ہو؟ بصیراً، دیکھنے والا ہو، کیا ہو؟ دیکھنے، تو یہ عدم تو یہ اس کا اطلاق اسی پر ہوگا جس میں دیکھنے کی صلاحیت تھی، سکون کا اطلاق اسی چیز پر ہوگا جس میں حرکت کی صلاحیت تھی۔
تو اگر کسی اور چیز پر آپ بولتے ہیں تو اس کا تو مطلب ہے آپ نے اس کو ضد بنا دیا، حالانکہ یہ ضد نہیں ہے اور نقیض نہیں ہے بلکہ یہ ملکہ کا مقابل ہے۔
فيظن أن المجرد ساکنة، پس یہ گمان کیا جاتا ہے کہ وہ چیز جو مجرد ہے مادے سے، مجرد سے کیا مراد ہے؟ وہ چیز جو مجرد ہے مادے سے خالی ہے ساکنة وہ ساکن ہے، مثلاً عقل، روح ہے، عقل، عقل کہتے ہیں مثلاً یہاں عقل تو مراد لیں دیکھیں کہ عقل مادے سے خالی ہے، قوت کا نام ہے نا عقل، کس چیز کا نام ہے؟ قوت، تو یہ عقل مادے سے خالی ہے، اب اس کے بارے میں کوئی کہتا ہے کہ یہ مادے سے خالی ہے، یہ ساکن ہے، حالانکہ ساکن کا تو اطلاق اس پر تھا ہی نہیں، ساکن کا تو اطلاق کس پر ہوگا؟ جس میں حرکت کی صلاحیت ہو، اس میں تو حرکت کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔
فيظن أن المجرد ساکنة، پس یہ گمان کیا جائے کہ مجرد جو ہے مادے سے وہ ساکن ہے، والجدار أعمى، اور یہ گمان کیا جائے کہ دیوار اندھی ہے، دیوار کیا ہے؟ حالانکہ اندھے کا اطلاق تو کس پر ہوگا جس میں دیکھنے کی تو اگر آپ یہ مجرد پر ساکن کا اطلاق کرتے ہیں یا جدار پر اعمیٰ کا اطلاق کرتے ہیں تو یہ غلطی ہے اور غلطی میں پڑنے کی وجہ کیا ہے کہ آپ نے یہ جو عدمِ حرکت اور یہ جو عدمِ بصر ہے اس کو کیا بنا دیا؟ بصر کی یہ ضد اور نقیض سمجھ لیا، حالانکہ یہ اس کی ضد اور نقیض نہیں بلکہ یہ ملکہ کا مقابل ہے بھئی۔
ومن المغالطات المشهورة قولهم: لا يمكن تحصيل المجهول، یہاں سے ایک اور مشہور مغالطوں میں سے ایک مغالطہ ذکر کر رہے ہیں، وہ مشہور مغالطوں میں سے وہ مشہور مغالطہ مناطقہ کا یہ قول ہے کہ مجهول کی تحصیل ممکن نہیں۔
توجہ ہے بھئی؟ ادھر دیکھیے۔
مجہول کو حاصل کرنا ممکن نہیں، جو چیز مجہول ہے جسے آپ نہیں جانتے اسے حاصل کرنا ممکن نہیں۔
مثلاً آپ انسان کی حقیقت کا آپ کو پتہ نہیں تھا، اب آپ اس کو جاننا چاہتے ہیں، تو انسان کی حقیقت ہوئی مجہول، اب آپ غور و فکر کرتے ہیں اور غور و فکر کے بعد کیا حقیقت معلوم ہوئی آپ کو انسان کی؟ حیوانِ ناطق۔ مناطقہ با اعتراض کرتے ہیں کہ بھئی کہ یہ مجہول کی تحصیل ممکن نہیں۔
مجہول کی تحصیل اس لیے کہ وہ دو حال سے خالی نہیں، جو مجہول ہے، یا تو آپ کو اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ ہوگا یا آپ کو اس کے بارے میں پتہ ہوگا۔
جس کو آپ نے معلوم کرنا ہے ابھی علم نہیں ہے آپ کو، تو وہ چیز جو ابھی مجہول ہے جس کا آپ کو علم نہیں، یا تو آپ کو اس کا کچھ پتہ نہیں ہوگا یا کچھ پہلے سے پتہ ہوگا، یا پہلے سے پتہ نہیں ہوگا یا پہلے سے دو ہی صورتیں ہیں نا؟ آپ اس کو حاصل کریں یا پہلے سے پتہ ہوگا یا پہلے سے پتہ نہیں، اگر پہلے سے پتہ ہے تو یہ تحصیلِ حاصل ہے، ایک چیز آپ کو پہلے سے ہی حاصل ہے اس کی تو تحصیل ہو ہی نہیں سکتی، تحصیل کا تو کیا معنی ہے؟ حاصل کرنا، حاصل کرنا کسے کہیں گے؟ ایک چیز جو آپ کے پاس نہیں تھی آپ اس کو حاصل کریں گے تو کہیں گے تحصیل کیا آپ، ایک چیز آپ کے پاس پہلے سے ہی ہے اس کی تحصیل ہو سکتی ہے؟
اس کی تحصیل نہیں، اور چیز کی تو ہو سکتی ہے اس چیز کی بھئی ایک کتاب آپ کے پاس ہے آپ کے ہاتھ میں ہے، اب آپ اس کی تحصیل کر سکتے ہیں؟ جی؟
اسی کتاب کی تحصیل نہیں کر سکتے، یہ تو آپ کے پاس ہے بھئی، تحصیل کا معنی ہوتا ہے حاصل کرنا، حاصل کرنا، یہ تو آپ کے پاس پہلے سے ہی حاصل ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو تحصیلِ حاصل نہیں ہو سکتا، تحصیلِ حاصل ممکن ہی نہیں ہے، ایک چیز آپ کو پہلے سے ہی حاصل ہو پھر کیا کریں اس کی؟ تحصیل کس کی ہوتی ہے ہمیشہ؟ جو آپ کو حاصل نہ ہو، لہٰذا تحصیلِ حاصل ممکن ہی نہیں، تو یہاں دو چیزیں ہیں بھئی۔
جو چیز جو مجہول ہے آپ اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں یا تو وہ آپ کو پہلے معلوم ہوگی یا معلوم نہیں، اگر پہلے سے معلوم ہے تو وہ تو آپ کو پہلے سے حاصل ہے تو تحصیلِ حاصل لازم آئے گا اور تحصیلِ حاصل تو ممکن نہیں، یا وہ آپ کو اس کا پتہ ہی نہیں ہوگا۔
جب مجہول ہے تو اس کو حاصل کیسے کریں گے؟ ایک چیز کا پتہ ہی نہیں ہے حاصل کیسے کریں گے؟ دیکھو مثال سے بات واضح ہوگی، میں نے کہا آپ میں ایک جگہ کمرے کے پاس پہنچا آپ نے مجھ سے پوچھا: آپ کس کو تلاش کر رہے ہیں؟
میں نے کہا: ایک چیز تلاش کر رہا ہوں۔
آپ نے پوچھا: کیا چیز ہے؟ میں نے کہا: یہ تو مجھے بھی نہیں پتہ بس ایک چیز ہے۔
اب بھئی چیز کوئی چیز کچھ جب علم ہی نہیں ہے وہ حاصل ہو سکتی ہے یہ چیز؟
کوئی انسان ہے، پتھر ہے، موٹر سائیکل ہے، گاڑی ہے، موبائل ہے، کتاب ہے، قلم ہے، کیا چیز ہے پتہ تو پہلے چلے بھئی!
تو لہٰذا ایک چیز اگر مجہول ہو اس کی بھی تحصیل نہیں ہو سکتی۔
آپ نے مجھ سے پوچھا: کیا تلاش کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ایک چیز تلاش کر رہا ہوں۔
کبھی بھی نہیں پتہ چل سکتا، کون سی؟ جب پتہ ہی نہیں ہے کیا چیز ہے تو اس کی تحصیل کیسے ہو سکتی ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو لہٰذا کہتے ہیں: مناطقہ یہ مغالطوں میں سے جو مشہور مغالطہ ہے وہ ذکر کر رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجہول کی تحصیل ممکن نہیں، اس لیے کیونکہ وہ یا تو مجہول ہوگا تحصیل سے پہلے یا معلوم ہوگا، تحصیل سے پہلے معلوم ہوگا یا مجہول ہوگا، اگر معلوم ہے پھر تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی؟ تحصیلِ حاصل کی خرابی اور تحصیلِ حاصل تو ممکن نہیں، یا کیا خرابی لازم آئے گی؟ تحصیلِ مجہول، ایک چیز کا پتہ ہی نہیں ہے کچھ تو اس کو حاصل کہاں سے کریں گے؟ حاصل کر ہی نہیں سکتے۔
یا یوں اور مثال سمجھیں، کمرے میں دس آدمی بیٹھے ہیں، میں آیا آپ نے پوچھا: کس کو تلاش کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ایک آدمی ہے۔ بھئی کون آدمی ہے؟ میں نے کہا: یہ نہیں مجھے پتہ بس ایک آدمی ہے۔
جب تک طے ہی نہیں ہوتا کچھ پتہ ہی نہیں چلے گا کون ہے، زید ہے، عمر ہے، بکر ہے، کوئی صورت کا پتہ ہو، کوئی کپڑوں کا پتہ ہو، کوئی نشانی کا پتہ ہو، کسی گھر کا پتہ ہو، کچھ تو پتہ ہونا چاہیے پھر ہی پتہ چلے گا نا، ویسے تو پتہ نہیں، لہٰذا تحصیلِ مجہول بھی ممکن نہیں، کیونکہ اگر وہ چیز آپ کے سامنے بھی آ جائے آپ تو نہیں پہچان پائیں گے کہ یہ چیز میں تلاش کر رہا تھا، آپ کو پتہ ہی کچھ نہیں!
تو تحصیلِ حاصل بھی ممکن نہیں اور تحصیلِ مجہول بھی ممکن نہیں، اعتراض سمجھ میں آیا؟
یہ اعتراض ہے، آگے جواب دیں گے۔
ومن المغالطات المشهورة، اور مشہور مغالطوں میں سے ہے قولهم مناطقہ کا یہ قول: لا يمكن تحصيل المجهول، مجہول کا حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، لأن ذلك المجهول، اس لیے کیونکہ وہ جو مجہول ہے جس کو آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ حاصل، وہ جو مجہول ہے إذا حصل، جب وہ حاصل ہو جائے فيما، ان چیزوں کے اندر يعلم أنه مطلوبك، کہ جانا جائے کہ یہ آپ کا مطلوب ہے۔ جانا جائے کہ یہ آپ کا مجھے ایک آدمی کی تلاش ہے بہت سے آدمی ہیں وہ آدمی موجود ہے لیکن اگر مجھے کچھ پتہ ہی نہ ہو تو میں اس کو پا سکوں گا؟ مجھے وہ چیزیں مل گئیں جن کے اندر میرا مطلوب بھی ہے لیکن جب تک مجھے کچھ پتہ نہیں ہوگا میں اس کو پا نہیں، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ وہ مجہول إذا حصل جب وہ حاصل بھی ہو جائے فيما ان چیزوں کے اندر يعرف کہ یہ معلوم ہو کہ أنه مطلوبك کہ وہ آپ کا مطلوب ہے، فلا بد من بقاء الجهل، تو ضروری ہوگا جہالت کا باقی رہنا، ملنے کے بعد بھی کیا ہوگی؟
مجھے ایک آدمی کی تلاش تھی، ایک جگہ مجھے دس آدمی مل گئے، میرا مطلوب بھی ہے ان کے اندر، تو وہ چیزیں انہی کے اندر میرا مطلوب بھی ہے، اب یہ جب چیزیں ملیں جن میں میرا مطلوب بھی ہے، اس وقت بھی وہ جہالت باقی ہوگی، وہ چیز میرے لیے مجہول ہوگی یا کیا ہوگی؟ معلوم، دو ہی صورتیں ہیں، کیا صورتیں ہیں؟
وہ آدمی جس کو میں تلاش کر رہا ہوں دس آدمیوں میں ہے، مجھے وہ دس آدمی تو مل گئے، اب جب ملے دس آدمی ان کے اندر وہ مجہول بھی ہے، تو ملنے کے بعد بھی وہ مجہول ہے یا معلوم؟ دو ہی صورتیں ہیں، کتنی ہیں؟
یا تو وہ مجہول ہوگا یا اگر مجہول ہے ابھی بھی جہالت ہے تو آپ پہچان ہی نہیں سکیں گے کون سا ہے، اور اگر معلوم ہے پھر تو وہ پہلے سے ہی آپ کو کیا تھا؟ معلوم تھا، تو پھر تو تحصیل ہی کیا ہوئی؟ آپ کا حاصل کرنا ہی بیکار ہے، آپ کو پہلے سے ہی معلوم ہے، ایک چیز کا پہلے سے ہی پتہ ہے بھئی، تحصیل کا پھر کیا معنی ہوا؟
فلا بد من بقاء الجهل، پس ضروری ہوا جہالت کا باقی رہنا، أو وجود العلم، یا علم کا پایا جانا قبله، اس پائے جانے سے۔
2
قبل ہی حَتَّى تَعْرِفَ أَنَّهُ هُوَ، یہاں تک کہ آپ جان لیں کہ یہ وہی ہے۔ یا تو ملنے کے بعد بھی جہالت باقی ہوگی یا ملنے کے بعد علم پایا جائے گا پہلے سے ہی تاکہ آپ جان لیں کہ یہ وہ ہے۔ تاکہ آپ جان لیں یہ، کوئی نشانی، کوئی کپڑے، کوئی چہرہ، کچھ تاکہ آپ جان لیں کہ یہ وہی ہے۔ وَعَلَى التَّقْدِيرَيْنِ، اور دونوں صورتوں میں يَمْتَنِعُ تَحْصِيلُهُ، اس مجهول کی تحصیل ممکن نہیں ہے۔
أَمَّا عَلَى الْأَوَّلِ، پہلی صورت میں کہ جب ملنے کے بعد بھی جہالت باقی ہو، تو اس صورت میں بھی تحصیل ممکن نہیں، کیوں؟ فَلِاسْتِحَالَةِ مَعْرِفَتِهِ، بوجہ اس کی پہچان کے ناممکن ہونے کے۔ اس وجہ سے کہ اس کی پہچان کیا ہے؟ پہچان ہے ہی نہیں آپ کے پاس، ملنے کے بعد بھی کیا ہے جہالت باقی رہے گی یا پہلے سے کیا ہوگا معلوم ہوگا۔ تو دو صورتیں، اگر معلوم ہے، اب اگر مجهول ہے تو پھر اب اس کو پہچاننا ممکن نہیں ہے محال ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
فَلِاسْتِحَالَةِ، استحالہ کا معنی محال ہونا، ناممکن ہونا۔ فَلِاسْتِحَالَةِ مَعْرِفَتِهِ إِذَا وُجِدَ، بوجہ اس کو، اس کی پہچان کے ممکن نہ ہونے کے إِذَا وُجِدَ، جب وہ پایا جائے۔ جب وہ پایا بھی جائے گا چیزوں کے اندر پھر بھی آپ اس کو پہچان نہیں سکیں گے، پہچاننا ممکن نہ ہوگا۔
وَأَمَّا عَلَى الثَّانِي، اور باقی دوسری صورت پر جب آپ اس کو پہلے سے جانتے ہوں، فَلِامْتِنَاعِ تَحْصِيلِ الْحَاصِلِ، بوجہ تحصیلِ حاصل کے ممتنع ہونے کے، ممکن نہ ہونے کے۔
وَالْجَوَابُ، جواب یہ دیں گے کہ یاد رکھیے، آپ نے ہمیں کیا کہا؟ کہ وہ چیز پہلے سے جس مجهول کو آپ حاصل کر رہے ہیں پہلے بالکل مجهول ہوگی یا پہلے سے آپ کو معلوم ہوگی، آپ نے دو صورتیں ذکر کیں۔ ہم جواب دیتے ہیں نہیں، وہ چیز پورے طور پر مجهول بھی نہیں۔ وہ چیز پورے طور پر، وہ چیز پورے طور پر مجهول نہیں ہے اور پورے طور پر معلوم بھی نہیں ہے۔ بعض اعتبارات سے معلوم ہے اور بعض اعتبارات سے مجهول ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
کچھ چیزوں کا ہمیں پتہ ہے، کچھ چیزوں کا نہیں، تو کچھ چیزوں کا جو پتہ ہے ان کو ہم ذریعہ بنائیں گے ان چیزوں کو حاصل کریں گے جن کا ہمیں پتہ نہیں۔ مثلاً، آدمی کے چہرے کا، اس کے حلیے کا ہمیں پتہ تھا لیکن ہے کہاں پر یہ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ کچھ پتہ تھا اور کچھ پتہ نہیں، کہ مثلاً کس چیز کا پتہ؟ چہرے کا یا نشانیوں کا پتہ لیکن اس وقت وہ ہے کہاں پر یہ پتہ نہیں۔ تو بعض اعتبارات سے معلوم، بعض اعتبارات سے، تو ہم اس کو طلب کرتے ہیں ان نشانیوں کے اعتبارات سے۔
تو جب ہمیں وہ چیزوں کے اندر مل جائے گا، ہم تلاش کرتے رہے، ایک جگہ ہمیں دس آدمی بیٹھے ہوئے ملے، اب آپ کو شکل کا پتہ ہے تو پہچان لیں گے یا نہیں پہچان لیں گے؟ پہچان لیں گے۔ تو مجهول تھا وہ جگہ کے اعتبار سے مجهول تھا، چہرے کے اعتبار سے معلوم تھا۔ تو آپ نے وہ جو معلوم تھا اس کو ذریعہ بنایا کس چیز کو معلوم کرنے کا؟ جس چیز، وہ چیز جو مجهول تھی اس کو پتہ کرنے کا۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟
وَالْجَوَابُ، اور جواب یہ ہے کہ أَنَّ الْمَطْلُوبَ مَعْلُومٌ مِنْ وَجْهٍ وَمَجْهُولٌ مِنْ وَجْهٍ، کہ وہ جو مطلوب ہے وہ معلوم ہے بعض وجہوں سے اور مجهول بعض اعتبارات سے معلوم ہے وَمَجْهُولٌ مِنْ وَجْهٍ اور بعض اعتبارات سے مجهول ہے۔ فَبَعْدَ حُصُولِ الْمَجْهُولِ، پس اس مجهول کے حاصل ہو جانے کے بعد يُعْلَمُ، اس کو جانا جائے گا بِالْوَجْهِ الْمَعْلُومِ الْمُخَصِّصِ، اس وجہ کے ذریعے جو معلوم ہے المخَصِّص اس کی تخصیص کر رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے؟ اس کی تخصیص کر رہی ہے چہرہ وغیرہ، نشانیاں جو ہیں بھئی اس کے ذریعے۔
جیسے مثلاً ہم نے انسان کے بارے میں جاننا تھا، تو کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ تو انسان ہمیں من وجہ معلوم تھا، من وجہ مجهول۔ مجهول کس، کس اعتبار سے تھا؟ حقیقت کے اعتبار سے، حقیقت کا ہمیں پتہ نہیں تھا۔ دوسرے اعتبارات سے ہمیں معلوم تھا کہ انسان کیا ہے، انسان کے یوں ہاتھ ہوتے ہیں، یوں پاؤں ہوتے ہیں، یوں حرکت کرتا ہے، یوں کھاتا ہے، یوں پیتا ہے، یوں سوتا ہے، یوں جاگتا ہے، ضاحک ہے ہنسنے والا ہے، کاتب ہے لکھنے والا ہے، کچھ چیزیں ہمیں کیا تھیں؟ معلوم تھیں اور حقیقت کیا تھی؟ مجهول تھی۔ تو ان معلوم کو ہم نے وسیلہ بنایا اور اس کے ذریعے اس مجهول حقیقت کو بھی معلوم کر لیا۔
تو کہتے ہیں فَبَعْدَ حُصُولِ الْمَجْهُولِ، بعد جب وہ مجهول حاصل ہو جائے يُعْلَمُ بِالْوَجْهِ الْمَعْلُومِ الْمُخَصِّصِ، تو جانا جائے گا اس معلوم وجہ کے ذریعے جو تخصیص کرنے والی ہے أَنَّهُ الْمَطْلُوبُ، کہ یہی کیا ہے؟ مطلوب ہے۔ وَهَذَا كَمِثْلِ عَبْدٍ آبِقٍ، اور یہ جیسے کہ بھاگا ہوا غلام ہے۔ عبدِ آبق کس کو کہتے ہیں؟ ابق کے معنی، ابق کے معنی بھاگنے کے، بھاگنے کے۔ تو عبدِ آبق بھاگا ہوا غلام، بھگوڑا غلام۔ بھئی ایک آدمی ہے اس کا غلام بھاگ گیا، چھپ گیا آقا سے، اب غلام چہرے وغیرہ سے تو پہچان ہے لیکن جگہ کا پتہ نہیں، تو یہ آقا اس جگہ کے اعتبار سے اس کو تلاش کرے گا اور جب جہاں اور چیزوں کے اندر جہاں وہ نظر آئے گا فوراً اس چہرے وغیرہ کے ذریعے اس کو پہچان لے گا۔
تو کہتے ہیں وَهَذَا كَمِثْلِ عَبْدٍ آبِقٍ، جیسے یہ مثال جیسے کہ غلام، ایک بھاگا ہوا غلام إِذَا وُجِدَ، جب وہ پایا جائے فَإِنَّهُ كَانَ مَعْلُومَ الذَّاتِ مَجْهُولَ الْمَكَانِ، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے معلوم ہے، مکان کے اعتبار سے مجهول ہے۔ فَبَعْدَ مَا وُجِدَ، بعد اس کے کہ جب اس کو پا لیا جائے عَرَفْتَ بِمَا كُنْتَ عَارِفًا بِهِ مِنْ ذَاتِهِ وَصُورَتِهِ، تو عَرَفْتَ آپ پہچان لیں گے بِمَا اس چیز کے ذریعے كُنْتَ عَارِفًا بِهِ جس کو آپ جاننے والے ہیں مِنْ ذَاتِهِ وَصُورَتِهِ یعنی اس کی ذات اور اس کی صورت کے ذریعے آپ اس کو جان لیں گے أَنَّهُ آبِقُكَ، کہ یہ آپ کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ ان کے ذریعے آپ کیا کر لیں گے اس کو؟
تو اعتراض کیا ہوا تھا کہ مجهول جو ہے وہ تو یا تو پہلے سے ہر لحاظ سے مجهول ہوگا یا وہ آپ کو پہلے سے معلوم۔ اگر ہر اعتبار سے مجهول ہے تو اس کی تحصیل ممکن ہی نہیں ہے اور کیونکہ ملنے کے بعد بھی نہیں آپ پہچان سکیں گے، آپ کے سامنے بھی آ جائے آپ اس کو نہیں پہچان سکیں گے۔ اور اگر ہر اعتبار، اور اگر وہ معلوم ہے تو پھر تو تحصیلِ حاصل کی خرابی لازم آئے گی، تحصیلِ حاصل بھی ممکن نہیں ہے۔ تو جواب دیا کہ وہ جو مجهول ہے وہ من کل الوجه مجهول بھی نہیں اور من کل الوجه معلوم بھی نہیں، من وجہ معلوم ہے اور من وجہ مجهول ہے۔ تو جن اعتبارات سے مجهول ہے ان کو اس اعتبار سے ہم نے جاننا ہے اور کس کے ذریعے جانیں گے؟ اس اعتبار سے جس اعتبار سے وہ معلوم، تو اس معلوم وجہ کے ذریعے مجهول وجہ کو ہم جان لیں گے بھئی۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔