Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-103

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 103 1 ومنها اخذ الاعتبارات الذهنية والمحمولات العقلية امورا عينية كما إذا قيل. كما إذا قيل إن الإنسان كلي فيظن أنه في الأعيان كذلك. وليس هذا الظن بصواب، فإن الكلية إنما تعرض الأشياء في الذهن دون الخارج. مغالطوں کی مختلف قسمیں مصنف بیان کر رہے ہیں۔ وہ مغالطے جو صورت کے اعتبار سے قیاس میں آتے ہیں بھئی۔ کس کے اعتبار سے؟ صورت کے اعتبار سے مغالطے جن میں انسان واقع ہوتا ہے اور دوسروں کو ڈالتا ہے۔ تو ان کو بیان کر رہے تھے بھئی۔ آج بتلا رہے ہیں آپ کو: ومنها اخذ الاعتبارات الذهنية والمحمولات العقلية امورا عينية. اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے اخذ ذھنی وہ چیزیں جو ذہنی اعتبار سے ہوں اور وہ چیزیں جو محمول ہوں عقلی اعتبار سے ان کو امور عینیہ بنا لینا بھئی۔ ان کو کیا بنا لینا؟ امور عینیہ یعنی خارجی امور بنا لینا، خارجی امور کا درجہ دے دینا۔ یک امر ذہنی ہے، ایک امر خارجی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ایک امر ذہنی ہے، ایک امر خارجی ہے، ایک چیز پر کوئی حکم لگایا جائے اور وہ حکم صرف ذہنی اعتبار سے ہو اور کوئی شخص اس کو خارجی اعتبار سے بھی اس حکم کو سمجھ لے، اس کو یہ اس کو خارجی امر کا درجہ دے دے، تو یاد رکھیے یہ غلطی ہے بھئی، یہ درست نہیں ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: الإنسان كلي، انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ اب دیکھیے، یہ کلی ہونا، انسان پر جو کلی ہونے کا حکم لگایا گیا، کلی کو انسان کے لیے محمول بنایا گیا، انسان موضوع اور کلی محمول۔ تو انسان پر کلی ہونے کا حکم لگایا گیا، انسان کے لیے کلی کو محمول بنایا گیا، یہ صرف ذہنی اعتبار سے ہے، خارجی اعتبار سے نہیں ہے بھئی۔ خارج کے اعتبار سے انسان جو ہے وہ کلی نہیں ہے، کیونکہ خارج میں افراد ہوتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ افراد، اور افراد پر کلی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاتا، کلی تو مفہوم کا نام ہے اور مفہوم کس کو کہتے ہیں؟ وہ جو ذہن میں حاصل ہوتا ہے بھئی۔ مفہوم کسے کہتے ہیں؟ جو ذہن میں حاصل ہوتا ہے۔ تو اس ذہن کے اس مفہوم کے اعتبار سے، انسان کا کیا مفہوم ہے؟ حیوان ناطق۔ اس مفہوم کے اعتبار سے انسان پر کلی ہونے کا حکم لگایا گیا۔ تو یہ ایک امر ذہنی ہے، امر خارجی نہیں۔ انسان کا کلی ہونا امر ذہنی ہے بھئی، خارجی امر ہے ہی نہیں، اگر اس کو کوئی امر خارجی سمجھ لے، امر خارجی کا درجہ دے دے، تو یہ غلطی ہے بھئی، یہ کیا ہے؟ غلطی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی، اچھی طرح؟ کہ امر ذہنی کو کون سا درجہ دے دیا جائے؟ امر خارجی والا درجہ دے دیا جائے تو یہ غلطی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ومنها اخذ الاعتبارات الذهنية، اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے وہ ذہنی اعتبارات کو، اخذ الاعتبارات الذهنية، ذہنی اعتبارات کو بنا لینا، والمحمولات العقلية، اور محمولات عقلیہ کو، یعنی ذہنی اعتبارات اور عقلی محمولات کو بنا لینا، کیا بنا لینا؟ امورا عينية، امور عینیہ بنا لینا، یعنی خارجی امور بنا لینا بھئی، خارجی امور۔ كما إذا قيل، جیسے کہا جائے، إن الإنسان كلي، کہ انسان کلی ہے، فيظن، پس یہ گمان کیا جائے، أنه في الأعيان كذلك، کہ وہ اعیان کے اندر یعنی افراد کے اندر بھی اسی طرح ہے، حالانکہ افراد کے اعتبار سے تو انسان کلی نہیں ہے، لیکن یہ جو امر ذہنی تھا، اس کو کس کا درجہ کوئی دے دیتا ہے؟ امر خارجی کا درجہ دے دیتا ہے، تو یہ غلطی ہے۔ تو یہ گمان کیا جاتا ہے کہ انسان افراد کے اندر بھی اسی طرح ہے، وليس هذا الظن بصواب، اور یہ گمان درست نہیں ہے، فإن الكلية إنما تعرض الأشياء في الذهن، اس لیے کیونکہ کلی ہونا یہ عارض ہوتا ہے چیزوں کو، في الذهن، کس کے اندر؟ ذہن میں، کوئی چیز کلی ہوتی ہے خارج میں کلی نہیں، کیونکہ کلی میں نے بتلایا مفہوم کا نام ہے، تو کلی ہونا چیزوں کو عارض ہوتا ہے یعنی ان کو پیش آتا ہے، ان کو لاحق ہوتا ہے، ذہن کے اندر، دون الخارج، نہ کہ خارج میں۔ ومنها، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ کوئی چیز ذہنی ہوتی ہے اس کو کون سا درجہ دے دیا جائے؟ خارجی چیز والا درجہ، خارجی چیز اور ہوتی ہے، ذہنی چیز اور ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ومن هذا التحقيق ينحل أغلوطة أخرى، اور کہتے ہیں اس تحقیق سے جو ہم نے ذکر کی، ينحل، حل ہو جاتا ہے، أغلوطة أخرى، ایک اور مغالطہ۔ ہماری اس تحقیق سے ایک اور مغالطہ بھی حل ہو جاتا ہے، وہ کیا ہے؟ کہتے ہیں: تقريره، اس کی تقریر یہ ہے، أن يقال: الممتنع موجود، کہ یوں کہا جائے، الممتنع موجود، وہ چیز جو ممتنع ہے موجود ہے۔ وہ چیز جو ممتنع کا کیا معنیٰ؟ ناممکن، جو ناممکن بھئی، محال، محال، وہ چیز جو محال ہے وہ موجود ہے، یعنی خارج میں اس کا وجود پایا جا رہا ہے۔ بھئی حالانکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ چیز ناممکن ہے، اس کا خارج میں تو وجود ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ ناممکن کا کیا معنیٰ؟ امکان ہی نہیں ہے، ممکن ہی نہیں ہے ایک چیز بھئی، وہ خارج میں کیسے پائی جا سکتی ہے بھئی؟ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو یہ بھی انہی اسی قسم کا مغالطہ ہے جو ابھی بیان ہوا، تو اس کی تقریر کر رہے ہیں کہ اس کی تقریر یہ ہے، أن يقال، یوں کہا جائے: الممتنع موجود، وہ چیز جو ممتنع ہے یعنی ناممکن ہے، وہ موجود ہے، اور یہ درست نہیں ہے بھئی، لأنه، سے قیاس پیش کریں گے دليل بھئی۔ یہ مغالطے پر مبنی قیاس پیش کریں گے بھئی، دیکھیے بھئی: لأنه إن امتنع شيء في الخارج، اس لیے کیونکہ اگر کوئی چیز ممتنع ہو خارج میں، إن امتنع شيء في الخارج، اگر کوئی چیز خارج میں ممتنع ہو، کیا معنیٰ ممتنع ہو؟ ناممکن ہو، لكان امتناعه حاصلا في الخارج، تو اس چیز کا ناممکن ہونا خارج میں حاصل ہے۔ ناممکن خارج کے اعتبار سے ہے نا؟ تو اس کا ناممکن ہونا کس اعتبار سے حاصل ہے؟ خارج کے اعتبار سے وہ ناممکن ہے، تو اس کا امتناع خارج کے اعتبار سے حاصل ہے۔ یہ ہوا صغریٰ بھئی: إن امتنع شيء في الخارج لكان امتناعه حاصلا في الخارج، یہ ہوا صغریٰ بھئی۔ کبریٰ بھئی، یہ پچھلے صفحے کا آخری حاشیہ دیکھیے، وہاں کبریٰ انہوں نے پورا دیا ہے، کتاب میں اس طرح نہیں ہے بھئی۔ یہ جو ابھی پچھلا صفحہ گزرا ہے اس کے آخری آٹھ نمبر حاشیہ ہے، آخری دو سطریں بھئی، آخری دو سطریں۔ مل گیا بھئی آٹھ نمبر حاشیہ؟ کہتے ہیں: وصورة القياس هكذا، قیاس کی صورت کیا ہے؟ کہ إن امتنع شيء في الخارج لكان امتناعه حاصلا في الخارج، اگر کوئی چیز خارج میں ممتنع ہو یعنی ناممکن ہو تو اس کا ناممکن ہونا حاصل ہے خارج میں، یہ ہے صغریٰ۔ کبریٰ یہ ہے: وكل ما كان امتناعه حاصلا في الخارج، ہر وہ چیز جس کا ناممکن ہونا خارج میں حاصل ہے، یعنی خارج کے اعتبار سے جو بھی چیز ناممکن ہے، كان موجودا في الخارج، تو وہ خارج میں موجود، بھئی جس کا امتناع خارج میں حاصل ہے تو وہ خود بھی خارج میں موجود ہے۔ خارج میں امتناع حاصل ہو رہا ہے نا؟ تو خارج میں بھی وہ موجود، قیاس کی صورت بنا رہے ہیں، یہ ہے کبریٰ بھئی۔ نتیجہ کیا نکلا بھئی؟ لكان امتناعه حاصلا في الخارج، یہ صغریٰ میں آیا تھا، کیا آیا تھا؟ لكان امتناعه حاصلا في الخارج، اور کبریٰ میں بھی آیا: وكل ما كان امتناعه حاصلا في الخارج، تو یہ حد اوسط ہوا، اس کو گرا دیں گے۔ نتیجہ کیا آیا؟ إن امتنع شيء في الخارج كان موجودا في الخارج. صغریٰ سے مقدم لیا، کبریٰ سے تالی لیا، کیا بن گیا؟ نظر ہے قیاس پہ؟ دوبارہ دیکھو قیاس کو: إن امتنع شيء في الخارج، یہ ہے مقدم، لكان امتناعه حاصلا في الخارج، یہ ہے تالی۔ قضیہ شرطیہ ہے نا؟ قضیہ شرطیہ میں تو موضوع محمول نہیں کہتے، کیا کہتے ہیں؟ مقدم اور تالی، تو یہاں پر یہ إن امتنع شيء في الخارج، یہ ہے مقدم، اور لكان امتناعه حاصلا في الخارج، یہ کیا ہے؟ تالی، اور یہ حد اوسط بھی ہے، دیکھو اگلے کبریٰ میں بھی آ رہا ہے: وكل ما كان امتناعه حاصلا في الخارج، دیکھو یہ حد اوسط آ گیا، اور آگے كان موجودا في الخارج، یہ کیا ہے؟ تالی۔ تو اب نتیجہ کیا آیا؟ حد اوسط ختم کیجیے۔ إن امتنع شيء في الخارج، یہ پہلے صغریٰ میں سے مقدم لیا، اور كان موجودا في الخارج، یہ تالی لیا کس میں سے؟ کبریٰ میں سے، نتیجہ کیا آیا؟ إن امتنع شيء في الخارج كان موجودا في الخارج. تو دیکھیے، یہ اب قیاس غلط ہے، قیاس درست نہیں، اور اس غلطی کا سبب کیا بنا؟ کہ کہنے والے نے، قیاس پیش کرنے والے نے امر ذہنی کو امر خارجی کا درجہ دے دیا۔ اب وہی بات چل رہی ہے، ایک چیز ہے، ایک ہے امر ذہنی، ایک ہے امر خارجی، انہوں نے کیا کیا قیاس کرنے والے نے؟ امر ذہنی کو امر خارجی کا درجہ دے دیا، اور اس کے ذریعے ثابت کیا کہ جب ایک چیز کا امتناع حاصل ہو خارج میں تو وہ چیز خود بھی خارج میں کیا ہوگی؟ موجود، بھئی امتناع، ممتنع ہونا، ناممکن ہونا، یہ ایک ذہنی چیز ہے۔ یہ کیا ہے؟ ذہنی چیز ہے ناممکن ہونا بھئی، جو چیز ناممکن ہوگی وہ تو کبھی بھی خارج میں نہیں پائی جائے گی بھئی، تو یہ ایک ذہنی چیز ہے، ممتنع ہونا، اس کو اس نے کون سا درجہ دے دیا؟ خارجی درجہ دے دیا، امر خارجی والا درجہ دے دیا، اور جس کی وجہ سے انسان غلطی میں واقع ہو جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: اب کتاب پر دیکھیے: تقريره، تقریر اس کی یہ ہے اس مغالطے کی، أن يقال، یوں کہا جائے: الممتنع موجود، کہ ممتنع کیا ہے؟ موجود، یہ ہے دعویٰ، یہ ہے نتیجہ جو آگے قیاس سے نکلتا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: لأنه، کیونکہ، إن امتنع شيء في الخارج، اس لیے کیونکہ اگر کوئی چیز خارج میں ممتنع ہو، لكان امتناعه حاصلا في الخارج، تو اس کا ناممکن ہونا خارج میں حاصل ہے، بھئی خارج میں حاصل ہے نا اس کا ناممکن ہونا، وہ ممکن ہی نہیں ہے، تو فيكون الممتنع موجودا في الخارج، تو وہ ممتنع جو ہے وہ موجود ہے خارج میں۔ فيلزم وجود الممتنع وهو باطل قطعا، تو لازم آیا اس قیاس سے ممتنع کا وجود، وهو باطل، اور یہ باطل ہے، قطعا، قطعی طور پر، یقینی طور پر۔ وجه الانحلال، اور اس کے حل ہونے کی صورت یہ ہے، أن الامتناع اعتبار ذهني، کہ ناممکن ہونا یہ ایک ذہنی اعتبار ہے، لا يلزم من اتصاف الشيء به وجوده في الخارج، لازم نہیں آتا کسی چیز کے اس کے ساتھ متصف ہونے سے، کسی چیز کے امتناع کے ساتھ متصف ہونے سے، موصوف ہونے سے، یہ لازم نہیں آتا: وجوده في الخارج، کہ وہ خارج میں بھی موجود ہو بھئی، خارج میں بھی اس کا وجود ہو۔ ليلزم وجود المتصف به في الخارج، تاکہ لازم آئے اس امتناع کے ساتھ متصف ہونے کا وجود خارج میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کیا غلطی کی اس کے اندر؟ ایک امر ذہنی کو کون سا درجہ دے دیا؟ امر خارجی، امتناع، ممتنع ہونا، یہ ایک ذہنی امر ہے، خارج میں نہیں۔ ہم کہتے ہیں نا یہ چیز ممتنع ہے، یہ چیز ممکن ہی نہیں ہے، یہ چیز، تو یہ ذہنی اعتبار سے ہے، خارج کے اعتبار سے، خارج کے اعتبار سے امتناع ثابت نہیں بھئی، کیونکہ خارج میں چیز کا، ممتنع کا تو وجود ہی کوئی نہیں ہے بھئی، ناممکن ہے، جب ناممکن کہہ رہے ہیں تو اس کا وہ اس کا وجود ہو ہی نہیں سکتا، ممکن ہی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ومنها اخذ مثال الشيء مكانه، اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے وہ بنا لینا ہے شے کی مثال کو مكانه، شے کی جگہ پر، وہ رکھنا ہے شے کی مثال کو اس کی جگہ پر۔ ان بھئی ان ادھر دیکھیے، مغالطوں، ان مغالطوں میں سے ایک مغالطہ یہ ہے کہ شے کی مثال کو شے کا درج، شے کا درجہ دے دینا۔ کس کو شے کا درجہ دے دیا؟ شے کی مثال، یا یوں کہیں، شے کا جو تصور ہے، اس تصور کو عین شے کا درجہ دے دیا گیا جائے بھئی، اس سے بھی مغالطے میں پڑ جائے گا انسان۔ کس کو؟ یوں کہیں، صورت شے کو شے کا درجہ دے دیا جائے، کس کو؟ بھئی شے اور چیز، صورت شے اور چیز، ایک گھوڑا ہے، ایک گھوڑے کی تصویر ہے، دونوں الگ الگ ہیں بھئی، ایک شے ہے، ایک گھوڑا ہے، تو دوسرا، دوسرا اس کی صورت ہے، گھوڑا تو حرکت بھی کرے گا، چلے گا، پھرے گا، لیکن تصویر تو ایسی نہیں ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یہ یہاں مراد تصور ہے، جب ہم کسی چیز کا تصور کرتے ہیں ذہن میں اس کی صورت آتی ہے، تو آپ نے شروع میں پڑھا تھا کہ انسان کا ذہن جو ہے ایک آئینے کی طرح ہے، جیسے آئینے کے اندر کسی چیز کا عکس حاصل ہوتا ہے، اسی طرح ذہن کے اندر بھی چیزوں کا عکس حاصل ہوتا ہے، لیکن آئینے کے اندر صرف جو چیزیں آنکھوں سے نظر آتی ہیں ان کا عکس آتا ہے، جو چیزیں آنکھوں سے نظر نہیں آتیں، ہوا آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، تو آئینے میں اس کا عکس بھی دکھائی نہیں دے گا، لیکن ذہن کے اندر ہر چیز کا عکس آتا ہے، یعنی انسان اس کو سمجھ لیتا ہے، انسان اس کو، ہاں، آپ کو خوشبو ہے، خوشبو کا آئینے میں کوئی عکس نہیں، لیکن ذہن فوراً اس کی صورت بنتی ہے، اور ایک خوشبو کا آپ کو پتہ ہو، بعد میں وہ خوشبو آپ کی ناک میں پہنچتے ہی آپ فوراً کہہ دیں گے، یہ تو فلاں چیز کی خوشبو ہے، دیکھو اس کی صورت آپ کے ذہن میں محفوظ تھی، آپ نے فوراً پہچان لیا اس کو بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لہٰذا شے کی صورت کو، شے کے تصور کو کون سا درجہ دے دیا جائے؟ شے کا درجہ دے دیا جائے تو اس سے بھی انسان مغالطے میں پڑے گا بھئی، مغالطے میں۔ مثلاً کہا جائے کہ میرے ذہن میں آگ کا تصور ہے، کیا ہے؟ اور آگ تو جلانے والی ہے، آگ تو حرارت پہنچانے والی ہے، تو کہا جائے لہٰذا ذہن میں بھی کیا آنی چاہیے؟ حرارت آنی چاہیے، ذہن کو جل جانا چاہیے، حالانکہ ایسا تو نہیں۔ چونکہ ایک آگ کا وجود خارجی ہے، ایک وجود ذہنی، یاد رکھیے بھئی۔ یہ مناطقہ اور فلاسفہ کے ہاں ہر چیز کے دو وجود ہیں بھئی: ایک وجود خارجی، اور ایک وجود ذہنی، دو قسم کے وجود ہیں ان کے ہاں بھئی یوں کہیے۔ مناطقہ اور فلاسفہ کے ہاں وجود کتنے قسم پر؟ ایک وجود ذہنی ہے، ایک وجود خارجی ہے بھئی۔ وجود خارجی جو خارج میں پایا جاتا ہے اور جس پر اس شے کے احکام اور اثرات مرتب ہوتے ہیں، کیا مرتب ہوتے ہیں؟ اس کے احکام اور آثار مرتب ہوتے ہیں، لیکن ذہن میں جو ہے اس چیز کا جو عکس بنتا ہے اس پر اس کے احکام اور اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ تو وجود خارجی ہے ایک وجود ذہنی، وجود خارجی کون سا؟ جو خارج میں ایک چیز کا وجود ہے، وجود ذہنی کیا ہے؟ اس چیز کا وہ جو تصور ذہن میں آتا ہے، اور کسی چیز کے اثرات اور احکام کس وجود پر مرتب ہوتے ہیں؟ خارجی اس وجود پر یا ذہنی وجود پر؟ دیکھئے بھئی، آگ کا کام کیا ہے؟ جلانا، تو یہ خارج میں جو آگ ہوگی وہ جلائے گی چیزوں کو، ان کو حرارت پہنچائے گی، ذہن کے اندر جو ہیں اس کے یہ اثرات نہیں، ذہن کے اندر یہ اثرات، تو یہ وجود ذہنی کے اثرات ہیں یا وجود خارجی کے بھئی؟ تو کسی چیز کے احکام اور اثرات کون سے وجود پر مرتب ہوتے ہیں؟ وجود خارجی پر، خارج میں آگ ہوگی وہ حرارت پہنچائے گی اور چیز کو جلائے گی۔ 2 خارج کے اندر جو برف ہوگی، وہ چیز کو ٹھنڈک پہنچائے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کسی چیز کے احکام اور اثرات وجود خارجی پر مرتب ہوتے ہیں، وجود ذہنی پر نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کیا کرتا ہے، وجود ذہنی کو وجود خارجی کا درجہ دے دیتا ہے اور اس کے لیے بھی وہی چیزیں مانے، تو یہ تو درست نہیں ہے بھئی۔ کیا کہتا ہے مثلاً؟ وہ کہتا ہے، میرے ذہن میں آگ کا تصور ہے اور آگ تو جلانے والی ہے، تو میرے ذہن کو بھی جلنا چاہیے، کیوں نہیں جل رہا؟ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ اور اس طرح دیکھیے آگے اور کئی مثالیں کتاب کے اندر ذکر کریں گے، تو یہ مغالطہ ہے کہ ایک چیز کو، کی مثال کو عینِ شئے کا درجہ دے دیا جائے۔ یعنی وجود ذہنی کو کون سا درجہ دے دیا جائے؟ وجود خارجی والا۔ تو کہتے ہیں: "وَمِنْهَا أَخْذُ مِثَالِ الشَّيْءِ مَكَانَهُ" اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے، اس شئے کی مثال کو بنا لینا، رکھ لینا "مَكَانَهُ" اس کی جگہ۔ ایک شئے کی مثال کو اس کے شئے کی جگہ پر رکھ دینا، "كَمَا تَقُولُ" جیسے آپ کہیں، "لِمِثَالِ النَّارِ" آگ کی مثال کو، یعنی آگ کے تصور کے بارے میں کہیں، کیا کہیں؟ "إِنَّهُ نَارٌ" کہ یہ آگ ہے۔ کس کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ آگ کے تصور، آگ کی صورت کے بارے میں کہ یہ آگ ہے، "وَكُلُّ نَارٍ مُحْرِقٌ" اور ہر آگ جلانے والی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ "فَهُوَ مُحْرِقٌ" یہ آگ کی مثال اور آگ کی صورت بھی کیا ہے؟ جلانے والی ہے۔ حالانکہ یہ تو درست نہیں، آگ کی صورت اور تصور تو نہیں جلانے والا۔ ہاں، آگ کا جو وجود خارجی ہے، وہ چیزوں کو جلانے والا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا الْإِشْتِبَاهُ هُوَ الَّذِي احْتَجَّ بِهِ الْمُنْكِرُونَ لِلْوُجُودِ الذَّهْنِيِّ" بھئی یاد رکھیے، میں نے بتایا یہ مناطقہ اور فلاسفہ کے ہاں وجود دو قسم کے ہیں: ایک وجود خارجی اور ایک وجود ذہنی ہے۔ جبکہ متکلمین جو ہیں، جو علم کلام کی بحث کرتے ہیں بھئی، علم کلام کے جو ماہرین ہیں بھئی، ایک تو آپ یہ فقہ پڑھتے ہیں، فقہ کے اندر اعمال کی بحث ہوتی ہے، انسان کے عمل کی، اور ایک علم کلام ہے، اس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے کہ اللہ ایک ہے، اللہ قادر ہیں، اللہ رازق ہیں، قیامت قائم ہوگی وغیرہ۔ تو اس میں عقیدے کی بحث جس علم میں ہو، اس کو علم کلام کہا جاتا ہے اور اس علم کلام کا جو ماہر عالم ہو، اس کو متکلم کہا جاتا ہے۔ کیا کہا جاتا ہے؟ متکلم۔ تو متکلمین وجود ذہنی کے منکر ہیں، وہ کہتے ہیں وجود ذہنی کوئی چیز نہیں، صرف چیزوں کا ایک ہی وجود ہے، وجود خارجی۔ جبکہ مناطقہ اور فلاسفہ کیا کہتے ہیں؟ ایک وجود خارجی ہے، تو ایک وجود ذہنی۔ اور متکلمین کیا کہتے ہیں؟ صرف کیا ہے؟ وجود خارجی ہے۔ وہ یہی دلیل ذکر کرتے ہیں متکلمین، کہتے ہیں اگر شئے کا وجود ذہنی بھی ہو، تو پھر تو آگ کا تصور کرتے ہی ہمارے ذہن کو جل جانا چاہیے کیونکہ خارج میں آگ جلاتی ہے، تو ذہن کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ جل جانا چاہیے۔ نیز ہم پہاڑ کا تصور کریں، تو ہمارا ذہن، ہمارا سر چھوٹا سا ہے، پہاڑ کتنی بڑی چیز ہے، تصور کرتے ہی ہمارے ذہن کو پھٹ جانا چاہیے بھئی، اتنی بڑی چیز ذہن میں آئی۔ سفیدی کا تصور کرتے ہی ہمارے ذہن کو سفید ہو جانا چاہیے، سیاہی کا تصور کرتے ہی ہمارے ذہن کو سیاہ ہو جانا چاہیے بھئی۔ جس سفیدی سے چیز سفید ہوتی ہے نا، سیاہی سے چیز کیا ہوتی ہے؟ تو اس کا اثر پڑنا چاہیے۔ تو جواب دیں گے آپ کو کہ بھئی یہ تو آپ نے کیا کیا؟ ایک شئے کی مثال کو شئے کا درجہ دے دیا، یہ جو سفیدی سے چیز کا سفید ہونا، سیاہی سے چیز کا سیاہ ہونا اور آپ کا کسی چیز کو جلانا، یہ اس کے، یہ اس کے احکام اور اثرات ہیں اور یہ احکام اور اثرات خارجی وجود پر مرتب ہوتے ہیں، ذہنی وجود پر مرتب نہیں، تو آپ نے ذہنی وجود کو کون سا درجہ دے دیا؟ خارجی وجود والا درجہ دے دیا، جبھی آپ اس کے لیے یہ ساری چیزیں ثابت کر رہے ہیں، حالانکہ کیونکہ یہ چیزیں تو صرف کس کے لیے ثابت ہوتی ہیں؟ خارجی وجود کے لیے یہ چیزیں ثابت ہوتی ہیں، ذہنی وجود کے لیے یہ چیزیں ثابت نہیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو کہتے ہیں: "وَهٰذَا الْإِشْتِبَاهُ هُوَ الَّذِي احْتَجَّ بِهِ الْمُنْكِرُونَ" اور یہ وہی اشتباہ ہے، یہ وہی شبہ ہے جس میں، جس کے ذریعے استدلال کرتے ہیں، "احْتَجَّ بِهِ الْمُنْكِرُونَ" استدلال کرتے ہیں منکرین بھئی، یعنی متکلمین اسی اشتباہ کے ذریعے استدلال کرتے ہیں، ان کو اشتباہ لگ گیا بھئی کس چیز کے اندر؟ انہوں نے مثالِ شئے کو کون سا درجہ دے دیا؟ شئے والا درجہ دے دیا بھئی، تو اس اشتباہ اسی کے ذریعے وہ استدلال کرتے ہیں منکرین، "الْمُنْكِرُونَ لِلْوُجُودِ الذَّهْنِيِّ" وہ جو انکار کرنے والے ہیں وجود ذہنی کا۔ یہی وہ اشتباہ ہے جس کے ذریعے استدلال کرتے ہیں وہ لوگ جو انکار کرنے والے ہیں "لِلْوُجُودِ الذَّهْنِيِّ" کس چیز کا؟ وجود ذہنی کا۔ استدلال کرتے ہیں یعنی دلیل پکڑتے ہیں، دلیل بناتے ہیں اسی چیز کو، کہ کوئی وجود ذہنی نہیں، اگر وجود ذہنی ہوتا تو آگ کا تصور کرتے ہی ذہن جل جاتا، پہاڑ کا تصور کرتے ہی ذہن پھٹ جاتا، سفیدی کا تصور کرتے ہی ذہن کیا ہو جاتا؟ سفید، سیاہی کا تصور کرتے ہی ذہن کیا ہو جاتا؟ سیاہ۔ تو یہ وہی اشتباہ ہے جس کے ذریعے استدلال کرتے ہیں وہ لوگ جو انکار کرتے ہیں وجود ذہنی کا۔ "حَيْثُ قَالُوا" اس حیثیت سے کہ وہ کہتے ہیں: "لَوْ حَصَلَتِ الْأَشْيَاءُ بِأَنْفُسِهَا" اگر چیزیں حاصل ہوتی ہیں "بِأَنْفُسِهَا" اپنی ذات کے اعتبار سے، اگر چیزیں ذہن میں اپنی ذات کے اعتبار سے آتی ہیں، چیزیں کس طرح آتی ہیں ذہن میں؟ اگر چیزیں اپنی ذات کے اعتبار سے ذہن میں حاصل ہوں، "لَلَزِمَ احْتِرَاقُ الذَّهْنِ" تو لازم ہے ذہن کا جل جانا "عِنْدَ تَصَوُّرِ النَّارِ" آگ کے تصور کے وقت، "وَانْخِرَاقُهُ عِنْدَ تَصَوُّرِ الْجَبَلِ" انخراق کا معنی پھٹنا، اور ذہن کا پھٹ جانا پہاڑ کے تصور کے وقت، "وَاتِّصَافُهُ بِالْبَيَاضِ وَالسَّوَادِ عِنْدَ تَصَوُّرِهِمَا" اور ذہن کا متصف ہونا سفیدی اور سیاہی کے ساتھ ان دونوں کے تصور کے وقت، "وَهٰكَذَا" اور اسی طرح، یعنی اسی طرح اور بھی ہر چیز کا اثر پڑتا۔ اب وہ کیا کہتے ہیں؟ کہتے ہیں، وجود ذہنی کوئی چیز نہیں، اگر وجود ذہنی ہوتا، چیزیں اپنی ذات کے اعتبار سے ہمارے ذہن میں آتیں، تو وہ جو خارجی اثر ان کا ہوتا ہے، وہ ذہن پر بھی پڑتا اور مرتب ہوتا۔ "وَحَلُّهُ" اور حل اس کا یہ ہے، جواب دے رہے ہیں بھئی اب مصنف ان کو، کہتے ہیں، حل اس کا یہ ہے "أَنَّهُ مِنْ بَابِ أَخْذِ مَا بِالْعَرَضِ مَكَانَ مَا بِالذَّاتِ" کہ یہ کس باب سے ہے؟ "مِنْ بَابِ أَخْذِ مَا بِالْعَرَضِ" کہ بنا لینا وہ چیز بالعرض، جو بالعرض ہے وہ چیز، وہ چیز جو بالعرض ہے، اس کو درجہ دے دینا، اس کو رکھ دینا "مَكَانَ مَا بِالذَّاتِ" اس چیز کی جگہ جو بالذات ہے۔ ایک چیز بالعرض ہے، اس کو بالذات چیز کا درجہ دے دینا، یہ اس قبیل سے ہے۔ ایک چیز جو بالعرض ہے، اس کو کون سا درجہ دے دینا؟ جو بالذات ہے۔ یہ جلانا، یہ سفیدی سیاہی سے چیز کا سفید اور سیاہ ہونا، یہ بالذات سفیدی کے لیے ثابت ہے کہ وہ چیز کو سفید کر دے گی، سیاہی چیز کو سیاہ کر دے گی بالذات، جب اس کی سیاہی کی کیا موجود ہو؟ ذات موجود ہو، ذات کے اعتبار سے۔ آگ کیا کرے گی چیزوں کو؟ جلا دے گی، کب جلائے گی؟ جب آگ کی ذات موجود ہو، یہ اپنی ذات کے اعتبار سے یہ چیزیں تھیں اور ان کو آپ نے کون سا درجہ دے دیا؟ بالعرض، ہاں، بالعرض کو آپ نے بالذات والا درجہ دے دیا، تو ذہن میں جو چیز آتی ہے وہ بالعرض ہے، وصف کے اعتبار سے ہے، ذات کے اعتبار سے ذہن میں تو صرف اس کا تصور آتا ہے، کوئی حقیقتاً آگ ہمارے ذہن کے اندر نہیں آ جاتی بھئی۔ پہاڑ کا ذہن میں صرف اس کا تصور آتا ہے، کوئی حقیقتاً پہاڑ ہمارے ذہن کے اندر نہیں آ جاتا بھئی۔ تو یہ آپ نے بالعرض چیز کو کون سا درجہ دے دیا؟ بالذات، بالذات تو آگ جلاتی ہے، بالذات تو سفیدی چیز کو سفید کرتی ہے، بالعرض سفید صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ آسان الفاظ، آپ نے کیا کیا؟ بالعرض کو کون سا درجہ دے دیا؟ بالذات والا درجہ دے دیا، اس وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: "أَنَّهُ مِنْ بَابِ أَخْذِ مَا بِالْعَرَضِ مَكَانَ مَا بِالذَّاتِ" کہ یہ رکھ دینا ہے ما بالعرض جو بالعرض ہے، بالعرض چیز کو رکھ دینا "مَكَانَ مَا بِالذَّاتِ" اس چیز کی جگہ پر جو بالذات ہے، "يَعْنِي أَنَّ الْإِحْرَاقَ وَالْخَرْقَ وَغَيْرَهُمَا" یعنی کہ جلانا اور پھاڑنا اور اس کے علاوہ اور جو ہیں، یعنی سفیدی سیاہی وغیرہ اور تمام چیزیں، "مِنَ الْعَوَارِضِ" یہ کس میں سے ہیں؟ ان عوارض میں سے ہیں، "الَّتِي تَلْحَقُ الشَّيْءَ" جو لاحق ہوتے ہیں کسی چیز کو، "إِذَا وُجِدَ بِوُجُودٍ أَصْلِيٍّ خَارِجِيٍّ" جب پائی جائے کوئی چیز اپنے اصلی خارجی وجود کے ساتھ، "وَلَيْسَتْ مِنَ الْعَوَارِضِ لِلْوُجُودِ الظِّلِّيِّ الذَّهْنِيِّ" اور یہ وجودِ ظلی ذہنی کے عوارض میں سے نہیں ہیں۔ یہ وجودِ اصلی کے عوارض میں سے ہیں یہ اثرات، کس میں سے ہیں؟ وجودِ اصلی کے، آپ نے کہا آگ جلا دیتی ہے، یہ کس کی صفت ہے؟ کس کے عوارض میں سے ہیں؟ یہ وجودِ اصلی کے، جو آگ کا خارج میں وجودِ اصلی ہے، اس کے عوارض میں سے ہے، وہ کیا کرے گی چیز کو؟ جلا دے گی۔ عوارض، عارض کی جمع، وہ جو صفت بھئی جو اس کے ساتھ ہیں۔ تو جب وجودِ خارجی کے ساتھ کوئی چیز پائی جائے، تو اس پر یہ اثرات اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور جو چیز وجودِ ظلی ذہنی کے ساتھ ہو، اس کے ساتھ یہ عوارض قائم نہیں ہوتے۔ وجودِ ذہنی ظلی، ظل سائے کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ سایا، سایا، کسی چیز کا جو سایا ہوتا ہے، اس کو ظل کہتے ہیں۔ تو ذہن کے اندر جو ہے، وجودِ اصلی نہیں ہوتا، ذہن کے اندر وجودِ ذہنی ظلی ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ وہ اس کی صرف صورت ہے، اس کا صرف تصور ہے، وجودِ اصلی نہیں ہے، وجودِ اصلی خارج میں ہے، ذہن میں کون سا وجود ہے؟ وجودِ ظلی ذہنی، یعنی ظلی یعنی اس کی وہ پرچھائی ہے ذہن کے اندر، اس کا وہ تصور ہے، اس کی صورت ہے، حقیقتاً نہیں۔ تو آپ نے کیا کیا، غلطی کیا کی؟ وجودِ ذہنی ظلی جو تھا، اس کے لیے کون سے اوصاف ثابت کر دیے؟ وجودِ خارجی اصلی جو تھا، اس کے احکام ثابت کر دیے، حالانکہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ "وَمِنْهَا أَخْذُ جُزْءِ الْعِلَّةِ مَكَانَ الْعِلَّةِ" اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے، جزء علت کو علت کی جگہ رکھ دینا ہے، "أَخْذُ جُزْءِ الْعِلَّةِ" بنانا جزء علت کو یا رکھنا، پکڑنا جزء علت کو "مَكَانَ الْعِلَّةِ" کس کی جگہ پر؟ علت۔ ایک ہے علت، ایک ہے جزء علت، ایک ہے علت، ایک ہے جزء علت۔ مثلاً مثال بیان کریں گے، ستر آدمی کہتے ہیں، یہ پتھر مل کر اٹھا کر 70 فرسخ تک لے جا سکتے ہیں۔ ایک بڑا وزنی بھاری پتھر تھا، وہ پتھر اتنا وزنی ہے کہ 70 آدمی ملیں تو پھر وہ اس کو اٹھا کر 70 میل تک لے جا سکتے ہیں۔ کتنے آدمی؟ 70، اور کتنے تک لے جا سکتے ہیں؟ 70 میل۔ تو کہا جائے، جب 70 آدمی اس کو 70 فرسخ تک اٹھا کر لے جا سکتے ہیں، تو ایک آدمی ایک فرسخ تک لے جا سکتا ہے، حالانکہ یہ تو درست نہیں، ایک آدمی تو اس کو ہلا بھی نہیں سکتا۔ ہاں، تو دیکھیے، 70 آدمی مل کر اسے اٹھا کر 70 میل تک لے جا سکتے ہیں، تو ان 70 میں ایک بھی تھا۔ ان 70 میں 70 آدمی اس کے لیے علت تھے اٹھا کر لے جانے کی، وہ ہوں تو یہ کام ہو سکتا ہے، وہ نہیں تو یہ کام بھی نہیں ہو سکتا۔ تو 70 آدمی ہوئے اس کام کے لیے علت اور ان میں سے ایک بھی داخل ہے، 70 میں ایک آ گیا یا نہیں آ گیا؟ تو ایک کا، ایک وہ جزء علت ہے کہ علت ہے؟ جزء، وہ اکیلا تو یہ کام کر ہی نہیں سکتا، لیکن آپ اس کے لیے بھی اس کو علت والا درجہ دے دیں کہ جب 70 آدمی 70 فرسخ تک لے جا سکتے ہیں، تو ایک آدمی ایک فرسخ تک اس کو لے جا سکتا ہے، تو ایک آدمی کو بھی آپ نے علت والا درجہ دے دیا، یہ بھی یہ کام کر سکتا ہے، لیکن کہاں تک صرف لے جا سکتا ہے؟ ایک فرسخ، تو آپ نے جزء علت کو کون سا درجہ دے دیا؟ علت، حالانکہ یہ تو درست نہیں بھئی، جزء علت اور چیز ہے، علت اور ہے بھئی، تو جزء علت کو علت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ "وَمِنْهَا" اور ان مغالطوں میں سے "أَخْذُ جُزْءِ الْعِلَّةِ مَكَانَ الْعِلَّةِ" وہ پکڑنا ہے جزء علت کو علت کی جگہ پر، یعنی جزء علت کو علت والا درجہ دے دینا ہے، "كَمَا إِذَا حَمَلَ سَبْعُونَ رَجُلًا حَجَرًا ثَقِيلًا سَبْعِينَ فَرْسَخًا" جیسے کہ اٹھایا 70 آدمیوں نے ایک بھاری پتھر کو 70 فرسخ تک، کہاں تک اٹھایا؟ 70 فرسخ تک مثال کے طور پر، "فَيُتَوَهَّمُ" تو یہ وہم کیا جاتا ہے "أَنَّ الْوَاحِدَ مِنْهُمْ يَحْمِلُهُ فَرْسَخًا وَاحِدًا" کہ ان میں سے ایک آدمی جو ہے، وہ اس کو ایک فرسخ تک اٹھا سکتا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔ "وَمِنْهَا إِجْرَاءُ طَرِيقِ الْأَوْلَوِيَّةِ عِنْدَ الْإِخْتِلَافِ" اور ان مغالطوں میں سے ایک مغالطہ جو ہے، وہ اولویت کے طریقے کو جاری کرنا ہے "عِنْدَ الْإِخْتِلَافِ" اختلاف کے وقت۔ ان مغالطوں میں سے ایک کیا ہے؟ "إِجْرَاءُ طَرِيقِ الْأَوْلَوِيَّةِ" اولویت کے طریقے کو جاری کرنا "عِنْدَ الْإِخْتِلَافِ" کس وقت؟ اختلاف کے وقت۔ "كَمَا تَقُولُ" جیسے آپ کہتے ہیں: "اَلْإِنْسَانُ لَيْسَ بِأَوْلَىٰ بِإِضَافَةِ النَّفْسِ النَّاطِقَةِ مِنَ الْعُصْفُورِ" کہ انسان زیادہ لائق نہیں ہے "بِإِضَافَةِ النَّفْسِ النَّاطِقَةِ" نفس ناطقہ کی نسبت سے، نفس ناطقہ کی نسبت کے لحاظ سے انسان وہ زیادہ لائق نہیں ہے "مِنَ الْعُصْفُورِ" عصفور، چڑیا کے مقابلے میں۔ عصفور کس کو کہتے ہیں؟ چڑیا۔ چڑیا کے مقابلے میں انسان نفس ناطقہ کے زیادہ لائق نہیں ہے، "بَعْدَ مَا اشْتَرَكَا فِي الْحَيَوَانِيَّةِ" بعد اس کے کہ جب دونوں شریک ہیں، اشترکا تثنیہ کا صیغہ ہے، بعد اس کے کہ جب انسان اور چڑیا دونوں شریک ہیں "فِي الْحَيَوَانِيَّةِ" کس چیز میں؟ حیوان ہونے میں۔ بھئی دیکھیے، اولویت کا طریقہ، اولیٰ کا معنی کیا ہے؟ زیادہ لائق۔ اولیٰ کا کیا معنی؟ زیادہ لائق۔ اور یہ، تو یہ کہا جائے، اولویت کا طریقہ جاری کیا جائے۔ یاد رکھیے، اولویت کا طریقہ اتفاق کے وقت تو جاری ہو سکتا ہے، اختلاف کے وقت جاری نہیں۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اولویت کا طریقہ کس وقت جاری ہو سکتا ہے؟ اتفاق کے وقت تو جاری ہو سکتا ہے، اختلاف کے وقت جاری نہیں۔ اتفاق اس چیز کے تقاضا کرنے میں جب اتفاق ہو، ایک چیز کے تقاضا کرنے میں اتفاق ہو۔ مثلاً زید بھی انسان، نفس ناطقہ کا تقاضا کرتا ہے، زید بھی انسان ہے، بكر بھی انسان، یوں کہیے انسان کہہ لیں بھئی فی الحال۔ زید بھی انسان ہے، بكر بھی کیا ہے؟ انسان، آپ کہیں کہ زید انسان کا تقاضا، انسان ہونے کا تقاضا کرنے میں بكر سے اولیٰ نہیں۔ زید انسان کا تقاضا، انسان ہونے کا تقاضا کرنے میں بكر سے، جس طرح زید انسان ہونے کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ انسان ہے، اسی طرح بكر بھی کیا تقاضا کرتا ہے؟ وہ بھی کیا ہے؟ انسان، اور دونوں میں سے کوئی بھی اولیٰ نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اب دیکھو، اتفاق کی صورت میں اولویت کا طریقہ جاری ہو رہا ہے۔ آپ کہیں، زید بكر کے مقابلے میں انسان ہونے کا تقاضا کرنے میں... 3 اولى نہیں۔ دونوں برابر ہیں، جتنا تقاضا زید کر رہا ہے انسان ہونے کا اتنا ہی تقاضا بکر بھی کر رہا ہے، دونوں انسان ہیں، تو کوئی ایک بھی انسان ہونے کے اعتبار سے اولى نہیں۔ ایک زیادہ انسان ہو، ایک کم انسان ہو، ایسا ہے؟ نہیں۔ انسان ہونے کا تقاضا کرنے میں دونوں برابر ہیں بھئی۔ اور یہ اتفاق والی صورت ہے، جب دونوں کسی سے تقاضا کر رہے ہیں اس وقت اپ کہہ سکتے ہیں یہ چیز فلاں کے مقابلے میں اس تقاضے کے اندر اولى نہیں، لیکن اگر دونوں الگ الگ چیزیں ہوں پھر اولویت کا طریقہ نہیں جاری کر سکتے اپ بھئی۔ مثلاً اپ کہیں چڑیا، چڑیا بھی حیوان، انسان بھی کیا ہے؟ حیوان۔ اپ کہیں انسان، زید کہہ لیں بھئی بلکہ زید، زید اور چڑیا، زید کیا ہے؟ یہ بھی حیوان، چڑیا بھی حیوان۔ اپ کہیں زید اور چڑیا جب دونوں حیوان ہونے میں شریک ہیں، توجہ ہے سبق کی طرف؟ زید اور چڑیا جب حیوان ہونے میں شریک ہیں، تو انسان ہونے کے اندر زید چڑیا سے اولى نہیں۔ تو انسان ہونے میں زید چڑیا سے اولى نہیں۔ جتنا تقاضا انسان ہونے کا زید کر رہا ہے اتنا ہی تقاضا کون کر رہی ہے؟ چڑیا، حالانکہ یہ تو درست ہی نہیں ہے، چڑیا تو انسان ہی نہیں ہے۔ تو یہ تو اتفاق کی صورت میں اولویت والا طریقہ جاری کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے یہ اس سے اولى نہیں ہے کیونکہ دونوں برابر ہوتے ہیں۔ اختلاف کی صورت میں نہیں، یہاں تو چڑیا سرے سے انسان ہی نہیں ہے تو اس کے لیے اس کو برابر کیسے قرار دے دیا جائے بھئی؟ صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو اولویت کا طریقہ کس وقت جاری کیا جاتا ہے؟ اتفاق کے وقت۔ اور اختلاف کے وقت وہ جاری کرنا درست نہیں ہے۔ تو کوئی اگر اختلاف کے وقت جاری کر دے تو یہ غلطی ہے، صورت سمجھ میں اگئی؟ دیکھیے دوبارہ، کہتے ہیں: "ومنها إجراء طريق الأولوية عند الاختلاف" اور ان مغالطوں میں سے ایک جو ہے وہ جاری کرنا ہے اولویت کے طریقے کو اختلاف کے وقت، "كما تقول: الإنسان ليس بأولى" جیسے اپ کہیں: انسان وہ زیادہ اولى نہیں، زیادہ لائق نہیں، "بإضافة النفس الناطقة" نفسِ ناطقہ کی نسبت کا، اضافت نسبت بھئی، کہ اس کی طرف کس چیز کی نسبت کی جائے؟ نفسِ ناطقہ۔ تو انسان اس سے زیادہ لائق نہیں ہے کہ اس کی طرف نفسِ ناطقہ کی نسبت کی جائے، "من العصفور" کس کے مقابلے میں؟ چڑیا کے مقابلے میں، یعنی دونوں کی طرف برابر نسبت ہونی چاہیے، "بعد ما اشتركا في الحيوانية" بعد اس کے کہ جب دونوں شریک ہیں کس چیز میں؟ حیوان ہونے میں۔ نفسِ ناطقہ ایا۔ نفسِ ناطقہ، نفسِ ناطقہ کسے کہتے ہیں؟ یاد رکھیے، یہ نفسِ ناطقہ بعض نے لکھا کہ یہ وہی نفس یعنی روح ہی کا نام ہے۔ بعضوں نے کیا کہا؟ یہ روح کا نام ہے، بدن میں روح ہے یا نہیں بھئی انسان کے؟ روح ہے تو انسان زندہ ہے، روح نہیں تو انسان بھی زندہ نہیں۔ تو بعضوں نے کہا نفسِ ناطقہ روح ہی کا نام ہے، اور بعضوں نے کہا نہیں یہ روح سے الگ چیز ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ روح سے الگ ایک جوہر ہے جو مجرد ہے، خالی ہے مادے سے بھئی، تو یہ الگ چیز ہے۔ نفسِ ناطقہ اس کو کہتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ بعضوں نے کیا کہا نفسِ ناطقہ؟ روح کا نام۔ بعضوں نے کہا نہیں روح نہیں، یہ روح کے علاوہ ہے، ایک جیسے روح جیسی اسی طرح ہے، یہ ایک مادے سے خالی، جیسے روح مادے سے خالی ہے۔ روح کا کوئی وجود نظر اتا ہے اپ کو؟ نہیں، تو اس میں یہ مادے سے خالی ہے، تو اسی طرح یہ نفسِ ناطقہ بھی ہے بھئی یہ۔ تو یہ ہر انسان کے لیے نفسِ ناطقہ ثابت ہے بھئی۔ "ومنها ما وقع من قلة المبالاة بالحيثيات وترك الاعتناء بها" اور ان مغالطوں میں سے ایک وہ مغالطہ ہے واقع ہوتا ہے کم پروا کرنے کی وجہ سے حیثیتوں کی۔ حیثیتوں کی کم پروا کرنے کی وجہ سے واقع ہوتا ہے، قِلّت: کم، مُبالات: پروا کرنا۔ مبالات کا کیا معنیٰ؟ پروا کرنا۔ بالحيثيات: حیثیتیں۔ حیثیتوں کی کم پروا کرنے کی وجہ سے جو واقع ہوتا ہے، "وترك الاعتناء بها"، اعتناء کا معنیٰ ہے توجہ دینا، اہمیت دینا۔ "وترك الاعتناء" اور اہمیت دینے کو چھوڑ دینا، اہمیت نہ دینا بها، ہا ضمیر حیثیتوں کو راجع ہے، حیثیتوں کو۔ حیثیتوں کو توجہ نہ دینا، ان کو اہمیت نہ دینا۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ "وترك الاعتناء بها" کیا معنیٰ؟ حیثیتوں کو توجہ نہ دینا، حیثیتوں کی طرف توجہ کو چھوڑ دینا۔ تو کہتے ہیں: "ومنها ما وقع من قلة المبالاة بالحيثيات وترك الاعتناء بها" اور ان مغالطوں میں سے ایک وہ مغالطہ ہے جو واقع ہوتا ہے قِلّتِ مبالات حیثیتوں کی کم پروا کرنے کی وجہ سے اور حیثیتوں کی طرف توجہ کو چھوڑ دینے کی وجہ سے۔ حیثیتوں کی کم پروا کی یا حیثیتوں کو سرے سے توجہ ہی نہیں دی، اس کی وجہ سے بھی انسان کس میں پڑ جاتا ہے؟ مغالطے میں۔ حیثیت کی طرف کیا کی؟ توجہ کم کی یا سرے سے توجہ ہی چھوڑ دی، تو اس سے بھی انسان مغالطے میں پڑے گا۔ "كقول القائل: كل أبيض دخل في حقيقته البياض" جیسے کسی کہنے والے کا قول: کہ ہر سفید چیز جو ہے اس کی حقیقت میں سفیدی داخل ہے۔ ہر سفید جو ہے اس کی حقیقت میں سفیدی داخل ہے۔ سفید کہتے ہی کس کو ہیں؟ جس میں سفیدی ہوگی، تو سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہوگی ورنہ سفید تو نہیں کہہ سکتے اس کو، صورت سمجھ میں ارہی ہے؟ سفید کسے کہتے ہیں؟ جس میں سفیدی ہو، جس میں سفیدی نہ ہو اس کو سفید کہہ سکتے ہیں؟ جی؟ تو معلوم ہوا جس کو سفید کہہ رہے ہو، سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہے، صورت سمجھ میں اگئی؟ اچھا، تو کہتے ہیں: "كل أبيض دخل في حقيقته البياض" ہر سفید جو ہے داخل ہے اس کی حقیقت کے اندر سفیدی، "وزيد أبيض" اور زید بھی سفید ہے، زید بھی کیا ہے؟ سفید ہے، یعنی حبشی نہیں ہے، کالا نہیں ہے، زید بھی سفید ہے، "فيلزم دخول البياض في حقيقته" تو لازم آیا کہ سفیدی داخل ہے زید کی حقیقت میں۔ کیا ضابطہ بنایا؟ کیا بتلایا؟ ہر سفید کی حقیقت میں سفیدی داخل ہوتی ہے، تو زید بھی سفید ہے تو زید کی حقیقت میں بھی سفیدی داخل ہے، حالانکہ زید کی حقیقت تو حیوانِ ناطق ہے۔ اور انہوں نے کیا حکم لگا دیا؟ سفیدی اس کی حقیقت میں داخل، حالانکہ سفیدی زید کی حقیقت میں داخل ہے؟ تو انہوں نے غلط حکم لگایا۔ کیوں غلط حکم، اس غلطی کی وجہ کیا ہوئی؟ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ انہوں نے حیثیتوں کی پروا نہیں کی۔ حیثیتوں کی پروا کرتے، ان کا خیال رکھتے، ان کی طرف توجہ کرتے تو یہ غلطی واقع نہ ہوتی۔ زید سفید ہے، تو سفیدی زید کی حقیقت میں ضرور داخل ہے، ہم بھی مانتے ہیں، لیکن حیوان ہونے کی حیثیت سے سفیدی نہیں۔ حیوان ہونے کی حیثیت سے سفیدی زید کی حقیقت میں نہیں داخل، بلکہ سفید ہونے کی حیثیت سے سفیدی زید کی حقیقت میں، اس اعتبار سے زید پہ نظر کرو کہ وہ سفید ہے، تو اس اعتبار سے سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہے۔ اور اگر اس زید کی طرف صرف اس اعتبار سے نظر کرو کہ وہ حیوان ہے، تو حیوان کے اندر تو سفیدی کی کوئی قید، دیگر بھی حیوان، حیوان کس کو کہتے تھے؟ جو متحرک ہوتا تھا بالارادہ اور جسم تھا، جس میں نامی تھا، حساس تھا، متحرک بالارادہ۔ تو حیوان ہونے کے اعتبار سے سفیدی زید کی حقیقت میں نہیں داخل، بلکہ کس اعتبار سے؟ سفید۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ ہر سفید کی حقیقت میں سفیدی داخل ہوتی ہے، لیکن کس حیثیت سے؟ سفید ہونے کی حیثیت سے سفیدی داخل ہے، کسی اور حیثیت سے داخل نہیں۔ تو یہاں پر جو اپ نے کہا: زید کی حقیقت میں داخل ہے سفیدی، بھئی یا تو اپ بات پوری کریں یوں کہیں: زید کی حقیقت میں سفیدی داخل ہے سفید ہونے کی حیثیت سے، مطلقاً نہیں! اپ نے تو مطلقاً ہی کہہ دیا سفیدی زید کی حقیقت میں داخل ہے، مطلقاً نہیں داخل، حیوان ہونے کے اعتبار سے زید کو دیکھو تو زید صرف کیا ہے؟ حیوانِ ناطق ہے۔ سفیدی کوئی ارہا ہے ذکر سفیدی کا ذکر؟ زید کی حقیقت کیا ہے؟ تو زید کے لیے سفیدی زید کی حقیقت میں داخل، لیکن کس حیثیت سے؟ سفید ہونے کی، اس حیثیت سے کہ زید سفید ہے اس حیثیت سے سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہے۔ لیکن اس اعتبار سے دیکھو کہ زید کیا ہے؟ حیوان ہے، حیوان ہونے کے اعتبار سے سفیدی کا کوئی تعلق ہی نہیں کہ حیوان کا سفید ہونا ضروری ہوتا ہے؟ حیوان کہ بھینس کالی ہے وہ بھی حیوان ہے، تو حیوان ہونے کے اعتبار سے سفیدی زید کی حقیقت میں نہیں داخل، بلکہ کس اعتبار سے داخل ہے؟ سفید ہونے کی حیثیت سے، بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ اچھی طرح؟ تو ہر جگہ حیثیت کی قید ہوتی ہے بھئی، ایک چیز پر ایک حکم لگا رہے ہیں ایک حیثیت سے لگا سکتے ہیں دوسری حیثیت سے نہیں، زید، زید باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے۔ ایک ہی شخص باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے، لیکن حیثیت الگ الگ ہے، ایک ہی حیثیت سے وہ باپ بیٹا نہیں ہے، باپ ہے اپنے بیٹے کی حیثیت سے، اور بیٹا ہے اپنے باپ کی حیثیت سے، صورت سمجھ میں اگئی بھئی؟ تو یہاں بھی زید سفید ہے لیکن سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہے لیکن کس حیثیت سے؟ سفید، اور اپ نے تو مطلقاً ہی کہہ دیا زید سفیدی اس کی حقیقت میں داخل ہے، مطلقاً نہیں بلکہ حیثیت کے اعتبار سے سفید، بات سمجھ میں اگئی؟ تو کہتے ہیں: "ومنها ما وقع من قلة المبالاة بالحيثيات وترك الاعتناء بها" اور ان مغالطوں میں سے ایک وہ مغالطہ ہے جو واقع ہوتا ہے حیثیتوں کی کم پروا کرنے کی وجہ سے اور حیثیتوں کی طرف توجہ کو چھوڑ دینے کی وجہ سے، "كقول القائل: كل أبيض دخل في حقيقته البياض وزيد أبيض فيلزم دخول البياض في حقيقته" جیسے کسی کہنے والے کا کہنا: ہر سفید جو ہے داخل ہے اس کی حقیقت میں سفیدی، اور زید بھی سفید ہے، تو لازم آیا سفیدی کا داخل ہونا زید کی حقیقت میں۔ "ومنأ الغلط فيه"، منشا کہتے ہیں سبب اور باعث بھئی، "ومنأ الغلط فيه" اور اس میں غلطی کا باعث جو ہے غلطی کا سبب کیا ہے؟ "أن البياض داخل في مفهوم الأبيض من حيث إنه أبيض لا من حيث إنه حيوان وإنسان" کہ سفیدی داخل ہے ابيض کے مفہوم میں اس حیثیت سے کہ وہ سفید ہے، اس حیثیت سے نہیں کہ وہ حیوان اور انسان ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی بھئی؟ جی، اوپر ایک لفظ ایا تھا فرسخ بھئی فرسخ، دو چار سطریں اوپر ایک مثال میں کیا ایا تھا؟ فرسخ۔ 70 ادمی ایک پتھر، وزنی پتھر جو ہے اس کو 70 فرسخ تک اٹھا کر لے جا سکتے ہیں۔ یہاں اپ کو ایک قیمتی علمی نقطہ بتلائیں بھئی، یہ پیمائشیں بھئی فرسخ کسے کہتے ہیں؟ لکھ لیجیے بھئی، جلدی جلدی لکھ لیجیے بھئی۔ پیمائش کے پیمانے بھئی، پیمائش کے پیمانے، تین چار پانچ سطریں ہوں گی بھئی۔ لکھیے بھئی جلدی جلدی: ترکی گھوڑے کی دم ترکی ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال چوڑائی میں رکھے جائیں ملا کر ترکی گھوڑے کی دم کے چھ بال چوڑائی میں ملا کر رکھے جائیں تو یہ ایک جَو کے دانے کے برابر ہوئے، تو یہ ایک جَو کے دانے کے برابر ہوئے۔ جی، نشان لگا لیں الگ چیز۔ اور چھ جَو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو یہ ایک اَصْبُع ہوا، چھ جَو کے دانے چوڑائی میں، چھ جَو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو یہ ایک اصبع ص سے ہے، اصبع لکھ لیں یا انگلی لکھ دیں تو یہ ایک انگلی کی چوڑائی ہوئی۔ ایک انگلی کی چوڑائی یا ایک اصبع لکھ لیں، جس اردو میں لکھیں یا عربی میں۔ 24 اصبع ہوں تو، نشان لگا کر لکھیں، 24 اصبع یعنی 24 انگلیوں کی چوڑائی تو یہ برابر ہے ایک ذراع کے، یہ برابر ہے ایک ذراع ذال کے ساتھ ہے، ایک ذراع کے۔ نشان لگائیے آگے: چار ذراع ہوں تو یہ برابر ہے ایک باع کے، چار ذراع برابر ہے ایک باع، ب ا ع، تو یہ برابر ہے ایک باع کے۔ جی، تفصیل میں بیان کرتا ہوں پہلے لکھ لیجیے، چار ذراع برابر ہوئے ایک باع۔ آگے نشان لگا کر پھر لکھیے: ایک ہزار باع ہوں تو ایک شرعی میل بنتا ہے۔ ایک ہزار باع ہوں تو ایک شرعی میل بنتا ہے۔ آگے نشان لگائیے: تین شرعی میل ہوں تو یہ برابر ہے ایک فرسخ کے، تین شرعی میل ہوں تو یہ برابر ہے ایک فرسخ کے۔ آگے لکھیے نشان لگا کر: چار فرسخ ہوں تو یہ برابر ہے ایک برید کے، چار فرسخ ہوں تو یہ برابر ہیں ایک برید، ب ر ی د، ایک برید کے۔ لکھ لیا بھئی؟ ہاں نیچے الگ لکھیں: پیمائش گزوں میں، پیمائش گزوں کے حساب سے، پیمائش گزوں کے حساب سے: میلِ شرعی برابر ہے 2000 گز، میلِ شرعی برابر ہے 2000 گز۔ میلِ انگریزی برابر ہے میلِ انگریزی برابر ہے 1760 گز، 1760 بھئی 1 7 6 0، 1 7 6 0، 1760 گز۔ جی، نشان لگائیے آگے: کلومیٹر برابر ہے 1094 گز، کلومیٹر برابر ہے 1094 گز، 1094 کس طرح لکھتے ہیں بھئی؟ 1 0 9 4، 1 0 9 4، تو کلومیٹر برابر ہے 1094 گز۔ ایک فرلانگ برابر ہے 230 گز، ایک فرلانگ برابر ہے 230 گز۔ لکھ لیا بھئی؟ 230، 2 3 0، 230 گز۔ 4 لکھ لیا بھئی؟ آپ دیکھیے یہ میں نے پیمائشیں لکھوا دیں، یہ آپ کو کام آئیں گی اور جگہوں پر بھی۔ دیکھیے یہ ترکی گھوڑے کی دم کے بال، گھوڑے کی دم کا بال بڑا موٹا ہوتا ہے اور یہ پیمائش کے پیمانے کہتے ہیں ان کو چوڑائی میں ساتھ ملا کر رکھیں تو یہ ایک جو کے دانے کے برابر بن جائیں گے بھئی چوڑائی میں۔ اور چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھیں، لمبائی میں نہیں بلکہ چوڑائی میں ملا ملا کر ساتھ رکھیں تو یہ ایک انگلی کے برابر چوڑائی، یہ آپ کی جو انگلی ہے بھئی، اس کے چوڑائی کے برابر یہ مقدار ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ پیمائش کے پیمانے ہیں، یہ نہ کہیں بعض کی انگلیاں موٹی ہیں، بعض کی پتلی ہیں، اسی لیے یہ پیمانے مقرر کر دیے بھئی، یہ والے پیمانے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ایک متوازن شخص کی انگلی کی چوڑائی کے برابر بن جاتے ہیں۔ اور یہ ایک اصبع ہوئے بھئی۔ چھ جو کے دانے چوڑائی میں رکھیں تو کتنی چوڑائی؟ ایک انگلی کی چوڑائی۔ اور چوبیس انگلیاں ہوں تو ایک ذراع بنتا ہے۔ چوبیس انگلیاں چوڑائی میں ہوں تو کتنا بنتا ہے؟ ذراع آپ نے پڑھا ہے یا نہیں، قدوری، فقہ وغیرہ میں کہیں ذکر آیا ہو گا؟ ذراع کس کو کہتے ہیں؟ کہنی سے لے کر انگلی کے سرے تک جو لمبائی ہے، پیمائش ہے، یہ کیا ہے؟ ذراع، یعنی یہ شرعی گز ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ڈیڑھ فٹ بنتا ہے، متوازن شخص کا، متوسط شخص کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ ورنہ آپ کہیں گے بعض کا قد چھوٹا ہے، اس کا ذراع چھوٹا ہوا، بعض کا قد لمبا ہے تو ذراع لمبا۔ تو یہ وہ تو ہر شخص کا ذراع ٹھیک ہے، لیکن اصل جو پیمانہ ہے، پیمانے کے اعتبار سے جو متوازن شخص کا ذراع ہے وہ کتنا ہے؟ ڈیڑھ فٹ ہے، اور یہ کتنا ہے ڈیڑھ فٹ؟ چوبیس انگلی۔ بھئی دیکھیے، اپنے سامنے یہ ہاتھ دیکھیں، رکھیں۔ بالکل سامنے بھئی، انگلیوں کو ملا کر اپنے سامنے کریں۔ ہاں بند نہیں کرنا، ہاتھ کھول کر تھامیں۔ دیکھیے، یہ چوڑائی، چار انگلیوں کی چوڑائی دیکھ رہے ہیں بھئی؟ یہ چاروں انگلیاں آپ کی ملی ہوئی ہیں، یہ چار اصبع چوڑائی ہے۔ کتنی؟ یہ ہاتھ اسی طرح رکھیں اور اس کے اوپر دوسرا ہاتھ بھی اسی طرح رکھیں، یہ کتنی چوڑائی ہو گئی؟ آٹھ اصبع۔ یہ اس طرح چوبیس اصبع جب ہو گا تو یہ ایک ذراع پورا ہو جائے گا۔ کتنا ہو جائے گا؟ ایک ذراع یہ بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ایک ذراع ہوا۔ اور چار ذراع ہوں تو ایک باع بنتا ہے۔ کتنے ذراع؟ بھئی یہ اپنے دونوں ہاتھ انگلیاں سیدھی رکھیں، دونوں ہاتھ پھیلائیں اپنے ساتھ بھئی۔ کھلے ہوا میں، دائیں بائیں سیدھے بالکل۔ یہ ایک باع ہے مولانا، ایک انگلی سے سرے سے لے کر دوسری طرف، ایک ہاتھ آپ نے دائیں طرف بالکل سیدھا پھیلا دیا انگلی سیدھی، دوسرا ہاتھ بائیں طرف بالکل سیدھا، ایک دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے سرے سے لے کر بائیں ہاتھ کی انگلیوں کے سرے تک، یہ کیا ہے؟ یہ باع ہے۔ یہ کتنا ہے؟ چار ذراع ہے، کتنا ہے؟ چار ذراع۔ آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں، ہاتھوں کو اسی طرح رکھیں، کہنی سے ہاتھوں کو موڑ کر لے آئیں اور ملا دیں۔ انگلیوں کے سرے انگلیوں کے ساتھ رکھیں بھئی، کہنی کو نیچے نہ لائیں، سیدھا رکھیں فضا میں۔ ملا دیے بھئی؟ دیکھو کتنے ذراع بن رہے ہیں یہ؟ ایک یہ ذراع، ایک یہ، اور ایک یہ، اور ایک یہ، چار ذراع۔ دیکھا یہ باع کی چوڑائی کتنی تھی؟ چار ذراع۔ اور ایک ہزار باع ہوں تو یہ ایک شرعی میل بنتا ہے۔ تو ایک باع کتنا تھا؟ چار ذراع، اور ایک ذراع تھا ڈیڑھ فٹ۔ تو چار ذراع کتنا ہوا؟ چھ فٹ ہو گیا۔ کتنا ہو گیا؟ چھ فٹ ہو گیا۔ تو چھ فٹ کا مطلب گز، دو گز ہوئے۔ ایک گز میں تین فٹ ہوتے ہیں۔ ایک گز ہے، ایک میٹر ہے۔ گز اور میٹر میں تین انچ کا فرق ہے۔ میٹر جو ہے نا، گز سے تین انچ بڑا ہوتا ہے۔ جو کپڑا ناپنے والوں کے پاس میٹر ہوتا ہے اور ایک گز ہوتا ہے۔ تو میٹر کتنا ہوتا ہے؟ گز سے تین انچ بڑا ہوتا ہے۔ تو گز کی بات میں کر رہا ہوں۔ تو ایک باع میں دو گز ہوئے۔ ایک باع میں؟ دو گز ہوئے۔ اور ایک ہزار باع ہوں تو ایک شرعی میل بنتا ہے، یعنی دو ہزار گز ہوں۔ تو ایک شرعی میل کتنے کے برابر ہوا؟ دو ہزار گز کے۔ اور پھر یہ تین شرعی میل ہوں تو ایک فرسخ بنتا ہے جو کتاب میں آیا۔ تین میل ہوں تو یہ کیا بنتا ہے؟ ایک فرسخ۔ اور چار فرسخ ہوں تو ایک برید بنتا ہے، یہ اس سے بھی بڑا پیمانہ ہے پیمائش کا بھئی۔ چار فرسخ ہوں تو ایک برید بنتا ہے، یعنی بارہ میل ہوں تو۔ ایک فرسخ میں تین تھے نا، تو چار فرسخ میں کتنے میل آ جائیں گے؟ بارہ۔ بارہ میل ہوں تو ایک برید بنتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو تھیں پیمائشیں، اب گزوں میں بھی، یہ جو میل شرعی آیا، یہ برابر ہے کتنے؟ دو ہزار گز کے۔ ایک انگریزی میل ہے بھئی۔ انگریزی میل شرعی میل سے چھوٹا ہے یاد رکھیے۔ شرعی میل تھا دو ہزار گز، انگریزی میل کتنا ہے؟ سترہ سو ساٹھ گز، یعنی دو سو چالیس گز چھوٹا ہے یہ شرعی میل سے، یہ جو انگریزی میل ہے بھئی۔ اور ہمارے ہاں آج کل تو پہلے میل تھے، اب کلومیٹر زیادہ رائج ہو گئے ہیں۔ تو کلومیٹر کتنا ہے؟ یاد رکھیے کلومیٹر تقریباً تقریباً نصف میل کے قریب ہوتا ہے، نصف سے تھوڑا سا زیادہ ہوتا ہے۔ تو ایک میل کے اندر کوئی پونے دو کلومیٹر آ جاتے ہیں۔ کلومیٹر کتنا ہے؟ میل سے آدھے کے قریب ہے، آدھے سے تھوڑا سا زیادہ۔ تو کلومیٹر کتنا ہوا؟ ایک ہزار چورانوے گز۔ کلومیٹر کتنا ہے؟ ایک ہزار چورانوے گز ہوں تو یہ ایک کلومیٹر بنتا ہے۔ یا یوں کہیں ایک ہزار میٹر ہوں تو ایک کلومیٹر بنتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو انگریزی میل کتنا؟ سترہ سو ساٹھ، اور کلومیٹر کتنا؟ ایک ہزار چورانوے، دیکھو کتنا فرق ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو اور ویسے میں نے لکھوا بھی دیا فرلانگ بھی آپ کبھی کبھی پڑھ لیتے ہوں گے کہ ایک فرلانگ یا دو فرلانگ فاصلہ، تو یہ کتنے کو کہتے ہیں؟ ایک فرلانگ دو سو تیس گز کو۔ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام
108 approved lectures · 103 of 108