LESSONS NO. 95
1
فصلٌ: البرهانُ قسمانِ، لِمِيٌّ وإنِّيٌّ. أمَّا اللِّمِيُّ فهو الَّذي يكونُ الأوسطُ فيهِ علَّةً لثُبوتِ الأكبرِ للأصغرِ في الواقعِ، كما أنَّهُ واسطةٌ في الحُكمِ، يُسمَّى بهِ لإفادتهِ اللِّمِيَّةَ والعلِّيَّةَ. وأمَّا الإنِّيُّ فهو الَّذي يكونُ الأوسطُ فيهِ علَّةً للحُكمِ في الذهنِ فقط، ولم يكن علَّةً في الواقعِ، بل قد يكونُ معلولًا لهُ.
جی! آج آپ کو یہ بتلا رہے ہیں کہ قياسِ برہانی جو ہے، یہ دو قسم پر ہے: ایک لِمِی اور ایک اِنِّی بھئی۔ قياسِ لِمِی اور قياسِ اِنِّی۔ يرحمك الله۔
یاد رکھیے! قياس جو ہے، یہ دلیل کا نام ہے، تو کبھی کبھار تو دلیل بنائی جاتی ہے علت کے ذریعے، معلول کو ثابت کیا جاتا ہے اور کبھی معلول کے ذریعے علت کو ثابت کیا جاتا ہے۔ کبھی علت کے ذریعے معلول کو ثابت کیا جاتا ہے اور کبھی معلول کے ذریعے علت کو۔ علت اور معلول تو آپ جانتے ہیں، علت کہ جس کی وجہ سے معلول پایا جائے۔ علت کے ہوتے ہی معلول کا پایا جانا ضروری ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا علت تو پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ جیسے سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا ہونا یہ معلول ہے۔ سورج نکلے اور دن نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا۔ سورج جب بھی نکلے گا، دن ضرور ہو گا، تو سورج ہوا علت اور دن کا ہونا یہ معلول ہوا.
تو علت جو ہے وہ معلول کو وجود دینے والی ہے اور علت جب بھی پائی جائے گی، معلول ضرور پایا جائے گا۔ اب ایسا کبھی نہیں ہو سکتا علت ہو اور معلول نہ ہو۔ سمجھ میں آئی بات؟ اگر ایسا ہو تو وہ پھر علت ہی نہیں ہے بھئی، کہ علت ہے اور معلول نہیں، تو پھر معلوم ہوا یہ علت ہی نہیں ہے، آپ نے غلط اس کو علت قرار دیا ہے۔ علت تو وہ ہوتی ہے کہ جس کے وجود سے معلول کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے، کبھی ایسا نہیں ہو سکتا علت ہو اور معلول نہ ہو بھئی۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اب مثلاً سورج کا نکلنا علت ہے، دن کا ہونا معلول ہے۔ آپ اگر سورج کے نکلنے کو دلیل بنایا جائے دن کے وجود پر، تو یہ ہے دلیلِ لِمِی۔ آپ نے علت کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ معلول کو، معلول کو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اس وقت دن ہے، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب بھی سورج نکلا ہوتا ہے تو دن ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب بھی سورج نکلا ہوتا ہے، دن موجود ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دن موجود ہے، اس وقت دن ہے بھئی۔
تو دیکھیے! آپ نے کس کو ثابت کیا؟ دن کو، اور دن معلول ہے یا علت ہے؟ معلول، تو آپ نے معلول کو ثابت کیا۔ اور کس کے ذریعے ثابت کیا؟ علت یعنی سورج کے نکلنے کے ذریعے، تو یہ ہے دلیلِ لِمِی۔ اور ایک اس کا عکس ہے کہ معلول کے ذریعے علت کو ثابت کرنا۔ آپ کہتے ہیں: اس وقت دن ہے اور جس وقت دن ہوتا ہے، اس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا۔ قياس کیا بنایا آپ نے؟ اس وقت دن ہے اور جس وقت دن ہوتا ہے، اس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ دیکھو! نتیجہ آیا: اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ آپ نے علت کو ثابت کر دیا اور کس کے ذریعے ثابت کیا؟ معلول کے ذریعے یعنی دن کے ذریعے، تو یہ ہوئی دلیلِ اِنِّی بھئی۔ کیا ہوئی؟ دلیلِ اِنِّی۔
خلاصۂ کلام کیا ہوا؟ علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرنا، یہ ہے دلیلِ لِمِی، اور معلول کے ذریعے علت کو ثابت کرنا، یہ ہے دلیلِ اِنِّی۔ یہ دلیلِ اِنِّی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور یاد رکھیے! دوبارہ سنیں قياس کو ذرا۔ ہم نے جس میں دن کو ثابت کیا تھا، کس کو ثابت کیا تھا؟ دن کو، اور دن کیا ہے، معلول کہ علت؟ ہم نے معلول کو ثابت کیا تھا۔ اب ذرا قياس پہ نظر رکھنا، قياس کس طرح کا تھا: اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، یہ کیا آ گیا؟ سورج نکلا ہوا ہے۔ سورج کا نکلنا کیا ہے؟ علت۔ دیکھو علت کا ذکر آ رہا ہے، دلیل کے اندر علت کا ذکر آ رہا ہے، اس علت کے ذریعے آپ معلول کو ثابت کر رہے ہیں۔ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، اس وقت کیا ہوتا ہے؟ دن ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دن موجود ہے، تو کیا ثابت کیا ہوا، علت یا معلول؟ معلول ثابت ہوا، اور جو آپ نے صغریٰ، کبریٰ ملائے تھے، اس میں کس کا ذکر تھا؟ اس میں علت کا ذکر تھا، اور علت حدِ اوسط تھی۔
علت کیا تھی؟ حدِ اوسط تھی، صغریٰ میں بھی آئی تھی، کبریٰ میں بھی۔ دیکھو! دوبارہ سنو، علت دونوں میں ذکر ہو گی، نتیجے میں کے اندر پھر معلول کا اثبات ہو جائے گا۔ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے اور جب بھی سورج نکلا ہوتا ہے، اس وقت کیا ہوتا ہے؟ دن۔ تو دیکھو! حدِ اوسط اس میں کیا ہے؟ سورج کا نکلنا، اور وہ ہے علت۔ تو دیکھیے! جو یہ حدِ اوسط جو ہوتا ہے نا حدِ اوسط، یہ واسطہ ہوتا ہے، اس کے ذریعے اصغر کے لیے اکبر ثابت ہوتا ہے۔ یہ کیا ہوتا ہے؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ اصغر کس کو کہتے تھے؟ نتیجے کا موضوع۔ اکبر کسے کہتے تھے؟ نتیجے کا محمول۔
کیا نتیجہ ہم نے نکالا؟ اس وقت دن موجود، تو "اس وقت" یہ کیا ہے؟ یہ موضوع ہے نتیجے کا یعنی اصغر ہے۔ "دن موجود ہے" یہ کیا ہے؟ محمول ہے نتیجے کا یعنی کہ اکبر ہے۔ تو یہ اصغر اور اکبر، اصغر تھا صغریٰ میں، اکبر تھا کبریٰ میں، اور درمیان میں واسطہ کیا تھا؟ حدِ اوسط، اور وہ حدِ اوسط کیا چیز تھی یہاں پر؟ علت تھی، کیا تھی؟ علت۔ تو یہ جو حدِ اوسط ہے نا، یہ واسطہ ہوتی ہے کس چیز کے لیے؟ اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا۔ اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا۔
دوبارہ سنیں قياس بھئی! اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اس وقت، اصغر کیا؟ اس وقت، اور یہ موضوع، اور محمول کیا؟ سورج نکلا ہوا ہے، اور یہ کیا چیز ہے؟ یہ علت ہے، یہ حدِ اوسط ہے بھئی۔ آگے آیا کبریٰ، اور جب سورج نکلا ہوتا ہے، تو دن موجود ہوتا ہے۔ تو جب سورج نکلا ہوتا ہے، یہ کیا ہے؟ موضوع ہے کبریٰ کا، لیکن علت ہے یعنی حدِ اوسط ہے، اس کا ذکر صغریٰ میں بھی ہو چکا۔ اور آگے آئے گا اکبر، صغریٰ، کبریٰ کیا تھا؟ جس وقت دن موجود ہوتا، جس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، تو دن موجود ہوتا ہے۔ تو جس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، یہ تو ہو گئی حدِ اوسط، تو دن موجود ہوتا ہے، یہ کیا آیا؟ اکبر۔ تو یہ ہوا اکبر، تو دن موجود ہوتا ہے۔ اصغر کیا تھا صغریٰ کے اندر؟ اس وقت، تو نتیجہ کیا آیا؟ اس وقت دن موجود ہے۔
تو دیکھیے! یہ نتیجے کا جو موضوع ہے، وہ کہلاتا ہے اصغر، اور وہ آتا ہے صغریٰ سے، اور نتیجے کا جو محمول ہوتا ہے، وہ کیا کہلاتا ہے؟ اکبر، اور وہ کہاں سے آتا ہے؟ کبریٰ سے، اور درمیان میں واسطہ کیا تھا؟ یہ اکبر کے لیے تو اصغر ثابت نہیں تھا، آپ نے دلیل بنا کر ثابت کیا، کس کے واسطے سے؟ حدِ اوسط کے واسطے سے، کس کے واسطے سے؟ حدِ اوسط کے واسطے سے اصغر کے لیے اکبر کا اثبات ہوا یعنی نتیجہ آیا بھئی۔ اور تو یہ حدِ اوسط جو ہے، حدِ اوسط، یہ واسطہ ہوتی ہے، کس چیز کے لیے واسطہ ہوتی ہے؟ اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا۔
اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا واسطہ کیا ہے؟ حدِ اوسط۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پہلے تو یہ اس طرح نہیں تھا، پہلے تو آپ نے کہا تھا: اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ اس وقت، یہ کیا تھا؟ یہ اصغر ہے، اس کے لیے کیا چیز ثابت کی تھی آپ نے؟ سورج کے نکلنے کو ثابت کیا تھا۔ اور آگے نتیجے میں "اس وقت" کے لیے کیا ثابت کر رہے ہیں؟ دن موجود ہے، تو ابھی دیکھو! صغریٰ کے اندر یہاں دن موجود ہونے کا ذکر اس وقت کے لیے نہیں ہے، کبریٰ میں چلے جائیں، وہاں بھی ایسا نہیں ہے، وہاں کبریٰ کیا تھا؟ جب دن ہوتا، جب سورج نکلا ہوتا ہے، تو دن موجود۔ تو دن کا موجود ہونا کس کے لیے ثابت تھا؟ سورج کے نکلنے کے لیے ثابت تھا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو صغریٰ کے اندر اس وقت کے لیے سورج کا نکلنا ثابت تھا، اور کبریٰ کے اندر سورج کے نکلنے کے لیے دن کا موجود ہونا ثابت تھا، لیکن نتیجے میں آ کر وہ اصغر اور اکبر مل گئے۔ اب کیا ثابت ہوا؟ اس وقت دن موجود ہے۔ تو یہ "اس وقت" اور "دن موجود ہے"، دونوں الگ الگ تھے، یہ دونوں آپس میں جڑ گئے۔ اس وقت یعنی اصغر کے لیے دن موجود ہے یعنی اکبر کا ثبوت ہو گیا، اس وقت دن موجود ہے، اصغر کے لیے کس کا ثبوت ہوا؟ اکبر کا، لیکن یہ کس کے واسطے سے ہوا؟ حدِ اوسط کے واسطے سے ہوا، کس کے واسطے سے؟ تو یاد رکھیے! اصغر کے لیے جو اکبر کا ثبوت ہوتا ہے، وہ حدِ اوسط کے واسطے سے ہوتا ہے، وہ بیچ میں آتا ہے، وہ بتلاتا ہے کہ ہاں، جب اس طرح بات ہے، تو اس کے لیے یہ ثابت ہے۔ تو یہ حدِ اوسط واسطہ ہوتا ہے، کیا ہوتا ہے؟ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ حدِ اوسط واسطہ ہوتا ہے اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا۔
اب یہ حدِ اوسط دلیلِ لِمِی میں، دلیلِ لِمِی کس کو کہتے تھے؟ جس میں علت کے ذریعے کس پر استدلال کیا جائے؟ معلول پر۔ دیکھو! نتیجے میں کیا آیا؟ اس وقت دن موجود ہے، دن کا موجود ہونا علت ہے یا معلول تھا؟ معلول تھا بھئی، معلول۔ اور حدِ اوسط کیا تھی؟ سورج کا نکلنا، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور جب سورج نکلا ہوتا ہے، تو دیکھو حدِ اوسط کیا ہے؟ سورج کا نکلنا، وہ حدِ اوسط ہے، اور سورج کا نکلنا علت ہے، اور دن کا موجود ہونا معلول ہے، تو نتیجے میں معلول کو ثابت کیا، اور حدِ اوسط میں کس کو لے کر آئے؟ علت کو لے کر آئے، تو آپ یہ جو حدِ اوسط یہ واسطہ ہوتا ہے، اور یہاں آپ نے وہ واسطہ جو استعمال کیا، وہ علت تھی، کیا تھی؟ تو علت کے ذریعے آپ نے کیا کیا؟ معلول کو ثابت کیا، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دن موجود ہے، آپ نے معلول کو ثابت کیا، اور کس کے ذریعے ثابت کیا؟ علت کے ذریعے، تو جب بھی علت کے ذریعے معلول پر استدلال کیا جائے، معلول کو ثابت کیا جائے، اس کو کہتے ہیں دلیلِ لِمِی، دلیلِ لِمِی۔
اور اگر اس کا برعکس ہو، معلول کے ذریعے علت کو ثابت کیا جائے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ اِنِّی۔ جب میں نے یہ کہا: معلول کے ذریعے کس کو ثابت کیا جائے؟ علت کو ثابت کرنا ہے، معلوم ہوا علت نتیجے میں آئے گی، کہاں آئے گی؟ نتیجہ اس کے اوپر مشتمل ہو گا، اور معلول کہاں پر آئے گا؟ حدِ اوسط میں آئے گا، کیونکہ حدِ اوسط واسطہ ہوتا ہے، اس کے ذریعے اصغر کے لیے اکبر کا ثبوت ہوتا ہے۔
تو معلوم ہوا یہ حدِ اوسط واسطہ ہے اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا۔ یہ حدِ اوسط اگر علت ہو، یہ اگر علت ہو، تو اس کو کہیں گے دلیلِ لِمِی، اور اگر یہ حدِ اوسط کیا ہو؟ معلول ہو، تو یہ کیا کہلائے گی؟ دلیلِ اِنِّی۔ آپ دیکھنا حدِ اوسط میں معلول کو بناتا ہوں۔ کس کو بناؤں گا؟ معلول، دونوں جگہ صغریٰ اور کبریٰ کے اندر یہ معلول آئے گا۔ اس وقت دن موجود ہے، اس وقت، معلول کیا چیز ہے؟ دن کا موجود ہونا۔ اس وقت دن موجود ہے، اور جب بھی دن موجود ہوتا ہے، تو سورج نکلا ہوتا ہے۔
تو نتیجہ کیا آیا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ تو دیکھیے! حدِ اوسط تھا دن کا موجود ہونا، اور نتیجے میں کیا آ گیا؟ سورج کا نکلنا ثابت ہوا بھئی۔ تو حدِ اوسط یاد رکھیے! یہ واسطہ ہوتا ہے اصغر کے لیے اکبر کے ثبوت کا، اسی لیے حدِ اوسط کو واسطہ فی الاثبات کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یہ اثبات میں یہی واسطہ ہے، اسی کے ذریعے اصغر کے لیے اکبر کا ثبوت ہو رہا ہے۔ تو حدِ اوسط کو کہتے ہیں واسطہ فی الاثبات، اسی طرح اس کو واسطہ فی التصدیق بھی کہتے ہیں۔ حدِ اوسط کا کیا دوسرا نام ہوا؟ واسطہ فی الاثبات اور واسطہ فی التصدیق بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ حدِ اوسط اگر علت ہو، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ لِمِی، اور اگر حدِ اوسط معلول ہو، تو یہ کیا ہوئی؟ دلیلِ اِنِّی ہوئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو آپ اس طرح کرتے ہیں، کبھی آپ علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرتے ہیں، کبھی معلول کے ذریعے علت کو ثابت کیا جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اور جیسے، جیسے دیکھیے! یہ اللہ کی ذات پر جتنے دلائل ہیں، وہ دلائلِ اِنِّیہ ہیں بھئی، ان چیزوں کے ذریعے، یہ زمین، یہ چاند، یہ ستارے، یہ آسمان، یہ پہاڑ، یہ جنگل، یہ پودے، یہ جاندار، ان چیزوں کے ذریعے اللہ کے وجود پر دلائل پیش کیے جاتے ہیں۔ اللہ کے وجود پر، اور اللہ ہیں ان کو پیدا کرنے والے، تو یہاں پر استدلال کس سے کس کی طرف ہو رہا ہے؟ مخلوق سے خالق پر، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیلِ اِنِّی ہوئی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کہ یہ چیزیں جب موجود ہیں، تو یقیناً ان کا کوئی بنانے والا بھی موجود ہے، تو یہ دلائلِ اِنِّیہ ہیں بھئی، دلائلِ اِنِّیہ۔
تو حدِ اوسط کو کیا کہتے ہیں؟ اس کا ایک نام کیا ہے؟ واسطہ فی الاثبات اور واسطہ فی التصدیق بھی اس کا ایک نام ہے۔
دوسری مثال دیکھ لیں بھئی، اسی کی: بھئی! آگ جب بھی جلتی ہے، دھواں ضرور پیدا ہو گا۔ تو علت کون؟ آگ علت ہوئی، دھواں کیا ہوا؟ معلول۔ تو کس کے ذریعے کس کو ثابت کیا جائے، تو دلیلِ لِمِی بنے گی؟ علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرنا ہے، یہ ہے دلیلِ لِمِی، بتائیے۔ آگ کے ذریعے کس کو ثابت کرنا؟ دھوئیں کو ثابت کرنا، یہ ہے علت سے معلول پر استدلال، علت کے ذریعے معلول کو ثابت کرنا، یہ ہو گی دلیلِ لِمِی۔ اور اگر آپ اس کا عکس کرتے ہیں، دھوئیں کے ذریعے کس کو ثابت کرتے ہیں؟ آگ کو ثابت کرتے ہیں، تو یہ کیا بن جائے گی؟ دلیلِ اِنِّی بن جائے گی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مثلاً آپ دوسرے سے کہتے ہیں: یہ آگ جل رہی ہے، اور آگ جب بھی جلتی ہے، دھواں پیدا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ دھواں اس، موجود ہے اس وقت دھواں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو آگ کے ذریعے آپ نے کس کو ثابت کیا؟ دھوئیں کے ذریعے، مثلاً رات کا وقت ہے، دور ایک آگ جل رہی ہے، اب دھواں آپ کو نظر تو نہیں آ رہا، لیکن آپ دوسرے کو ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دھواں ضرور ہے، اگرچہ ہمیں نظر نہیں آ رہا۔ آگ تو نظر آ رہی ہے، علت تو نظر آ رہی ہے، جب علت ہے تو معلول ضرور ہو گا۔
2
تو آپ نے آگ کے ذریعے کس کو ثابت کر دیا؟ دھویں کو، تو یہ کیا ہوئی، دلیل لمی۔ اور اس کا برعکس ہو اگر، آپ کہیں دور ہیں، دن کا وقت ہے، آپ کو دور کہیں دھواں اٹھتا نظر آیا، آپ اب دھویں کے ذریعے کیا ثابت کرتے ہیں؟ آگ کو، کہ وہ سامنے دھواں موجود ہے۔ اور جب جہاں دھواں ہو، وہاں پر آگ ہوتی ہے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ وہاں پر آگ موجود ہے۔ تو دیکھیے، دھویں یعنی معلول کے ذریعے آپ نے آگ یعنی علت کو ثابت کیا، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیل انی ہوئی۔ یہاں تک بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
فصلٌ أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ البرهان قسمان، برہان جو ہے وہ دو قسم پر ہے۔ برہان کی بات چل رہی تھی نا کہ برہان وہ یقینیات یا وہ قیاس جو یقینیات سے مرکب ہو بھئی، سب سے قوی قیاس کی قسم کا کیا نام ہے؟ برہان۔ تو کہتے ہیں، یہ جو برہان ہے، یہ قیاس جو ہے، قسمان، دو قسم پر ہے: لمیٌّ، ایک لمی ہے، وإنیٌّ، اور ایک انی ہے۔ أما اللمي فهو الذي يكون الأوسط فيه علةً لثبوت الأكبر للأصغر في الواقع، باقی لمی جو ہے، وہ ہے، يكون الأوسط فيه علةً، کہ اس میں حدِ اوسط کیا ہو؟ علت ہو، لثبوت الأكبر للأصغر في الواقع، کس لیے؟ اکبر کے ثبوت کس کے لیے؟ اصغر کے لیے، اصغر کے لیے اکبر کو ثابت کرنے کے لیے في الواقع، کس کے اندر؟ واقع کے اندر بھئی، واقع کے اندر۔
تو کہتے ہیں، أما اللمي فهو الذي يكون الأوسط فيه علةً لثبوت الأكبر للأصغر في الواقع، دلیلِ لمی جو ہے، وہ ہے، قیاسِ لمی جو ہے، وہ ہے کہ جس کے اندر اوسط علت ہو، اصغر کے لیے اکبر کو ثابت کرنے کے لیے في الواقع، کس کے اندر؟ واقع کے اندر بھئی۔
كما أنه واسطةٌ في الحكم، جیسے کہ یہ واسطہ ہے کس کے اندر؟ حکم میں۔ جیسے یہ حکم میں واسطہ تھا، اسی طرح واقع میں بھی یہ علت ہے۔ بھئی، دوبارہ ادھر دیکھیے۔ وہ جو ہم نے پہلا قیاس بنایا تھا، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور جس وقت سورج نکلا ہوتا ہے، اس وقت دن موجود ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت دن موجود ہے۔ تو اس وقت پر آپ نے کیا حکم لگایا؟ دن کے موجود ہونے کا۔ دن کے موجود ہونے کا، اور کس کے واسطے سے؟ بیچ میں واسطہ کیا آیا تھا؟ سورج کا نکلنا یعنی علت آئی تھی، یعنی حدِ اوسط آیا تھا، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ جو آپ نے اصغر پر اکبر کا حکم لگایا، اس کے اندر واسطہ علت تھی، کیا تھی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں: كما أنه واسطةٌ في الحكم، جیسے کہ وہ واسطہ ہو گا کس کے اندر؟ حکم میں۔ تو یہ جو دیکھیے، دلیلِ لمی میں دو باتیں ہوں گی۔ ایک تو یہ کہ ہم نے جس چیز کے ذریعے جس کو ثابت کیا ہے، علت کے ذریعے کس کو ثابت کیا ہے؟ معلول کو۔ معلوم ہوا ہم نے ذہن میں ایک چیز کو دلیل بنایا دوسری چیز کے وجود پر، ایک چیز کو ذہن میں علت قرار دیا دوسری چیز کے لیے۔ کس میں؟ ذہن میں نا، یہ قول ہم نے کہاں ترتیب دیا؟ ذہن میں، اور پھر آپ کے سامنے تکلم کیا اس پر۔ تو یہ جو ذہن میں ایک چیز کو علت قرار دیا اور دوسری کو کیا قرار دیا؟ معلول قرار دیا۔ اور یہاں پر ثابت کس کو کیا؟ معلول کو ثابت کیا۔ واسطہ کیا تھا؟ وہی علت تھی، کیا تھی؟ علت تھی۔ اور یہ جو ہمارے ذہن میں علت تھی، واقع میں بھی یہی علت ہے۔ خارج میں بھی یہی ہے۔
دیکیھے، آپ کس کے ذریعے کس کو ثابت کر رہے ہیں؟ سورج کے نکلنے کے ذریعے دن کو آپ ثابت کر رہے ہیں، اور واقع کے اندر بھی، خارج کے اندر بھی سورج کے نکلنے کے ذریعے ہی کیا ثابت ہوتا ہے؟ دن ثابت ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ دلیلِ لمی کے اندر علت کے ذریعے استدلال ہو گا کس پر؟ معلول پر۔ اور صرف آپ کے ذہن میں نہیں، علت کے ذریعے معلول صرف آپ کے ذہن میں نہیں ثابت ہو رہا، بلکہ واقع کے اندر بھی علت کے ذریعے وہ، علت کے وہی چیز علت ہے اور اس کے ذریعے وہ معلول ثابت ہو رہا ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ واقع کے اندر بھی۔
سورج کا نکلنا بھئی، اس کے ذریعے ہم نے کس کو ثابت کیا؟ دن کے وجود کو۔ ہمارے ذہن کے اندر جو ہم نے کلام ترتیب دیا، جو ہم نے قیاس بنایا، اس میں سے کس کے ذریعے کس کا ثبوت ہے؟ سورج کے نکلنے کے ذریعے دن کا ثبوت، اور واقع کے اندر بھی سورج کے نکلنے کے ذریعے کس کا ثبوت ہوتا ہے؟ دن کا ثبوت ہوتا ہے، تو واقع کے اندر بھی وہ علت ہے جس کو ہم نے ذہن میں علت بنایا تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: علةً لثبوت الأكبر للأصغر في الواقع، کہ واقع کے اندر بھی وہ کیا ہوتا ہے حدِ اوسط؟ علت ہوتا ہے، جس کے ذریعے ہم ثابت کر رہے ہیں۔ كما أنه واسطةٌ في الحكم، جیسے کہ وہ حکم کے لیے واسطہ ہے۔ حکم کے لیے واسطہ، نتیجہ کیا نکالا تھا ہم نے؟ اس وقت دن موجود ہے، یہ جو اس وقت پر ہم نے دن کے موجود ہونے کا حکم لگایا، بیچ میں واسطہ کیا تھا؟ وہی علت تھی، کیا تھی؟ وہی، یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ جیسے کہ وہ حکم کے اندر بھی وہ واسطہ ہو گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
واقع کے اندر بھی علت ہو گا اور حکم لگایا ذہن کے اندر، اس میں بھی وہی علت ہی کیا ہو گی؟ واسطہ ہو گی بھئی۔ يُسمّى به، وجہِ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں اس کو، اس کی بھئی، کہ اس کو دلیلِ لمی کیوں کہتے ہیں؟ دلیلِ لمی۔ کہتے ہیں: يُسمّى به، اس کو اس کا یہ نام رکھا گیا ہے، لإفادته اللمية والعليّة، لمیت اور علیت کا ایک معنی ہے۔ اس وجہ، بوجہ اس کے فائدہ دینے کے، اللمية والعليّة، علت ہونے کا یہ فائدہ دیتا ہے کہ ایک چیز دوسری کے لیے کیا ہے؟ علت ہے۔ یہ لِما سے ہے نا، لِما سے، دلیلِ لمی کس سے ہے؟ لمی، یہ لفظ لِما سے بنا ہے۔ لِما کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کیوں؟ لِما کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کیوں؟
دن کیوں ہے؟ کیونکہ سورج نکلا ہوا ہے، کیونکہ سورج نکلا ہوا ہے۔ تو اس میں بھی اسی طرح ہے، علت ذکر کی جاتی ہے، سبب اور وجہ ذکر کی جاتی ہے ایک چیز کی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
دن کیوں ہے؟ سورج نکلا ہوا ہے، دیکھو علت اور وجہ کیا ہے؟ سورج کا نکلنا، تو وجود پر، دن کے وجود پر استدلال کس کے ذریعے کیا؟ سورج۔ دلیلِ انی میں ایسا نہیں ہے، سورج کیوں نکلا ہوا ہے؟ یہاں نہیں کہہ سکتے سورج اس لیے نکلا ہوا ہے، دن تو بعد میں آیا سورج کے نکلنے کے بعد بھئی، سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہ چیز تو اس سے مؤخر ہے بھئی، تو یہ آپ کہیں کہ دن کیوں ہے؟ یہ تو کہہ سکتے ہیں دن کیوں ہے؟ کیونکہ سورج، لیکن یہ نہیں کہہ سکتے سورج کیوں ہے؟ کیونکہ دن ہے، یہ کہنا تو صحیح نہیں۔ ہاں، غور کریں آپ خود، آپ کے اوپر یہ بات واضح ہو گی بھئی۔ تو اس میں علت لمی اس کے ذریعے علیت اور لمیت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ ایک چیز دوسری کے لیے کیا ہے؟ علت ہے۔ آپ کے ذہن میں تو واسطہ تھا، واقع کے اندر بھی وہ چیز اس کی علت ہے بھئی، اس کے ذریعے فائدہ یہ حاصل ہوتا ہے۔
يُسمّى به، اس کو اس نام کے ساتھ موسوم کیا جاتا ہے، اس کا یہ نام رکھا جاتا ہے، لإفادته اللمية والعليّة، اس لیے کیونکہ یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے یہ قیاس؟ لمیت اور علیت، لمیت اور علیت میں نے بتلایا ایک معنی، یہ کسی چیز کے علت ہونے کا فائدہ دیتا ہے، یہ بتلاتا ہے یہ چیز اس کی علت ہے۔ دن موجود ہے، کیوں موجود ہے؟ کیونکہ سورج، تو اس آپ کے قیاس سے پتہ چلا کہ سورج کا نکلنا علت ہے دن کے موجود ہونے کے لیے بھئی، تو اس لیے اس کو دلیلِ لمی کہتے ہیں۔
وأما الإنيّ، اور باقی قیاسِ انی جو ہے، فهو الذي يكون الأوسط فيه علةً للحكم في الذهن فقط، وہ ہے، قیاسِ انی وہ ہے کہ جس میں اوسط جو ہے، وہ علت ہو اس حکم کی في الذهن فقط، صرف کہاں پر؟ ذہن میں۔ صرف ذہن میں علت ہے، واقع میں علت نہیں، جو دوسرا قیاس ہم نے بنایا تھا۔ اس وقت دن ہے، اور جب بھی دن ہوتا ہے، سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ اس وقت دن ہے، اور جب بھی دن ہوتا ہے، سورج نکلا ہوتا ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ اس وقت سورج نکلا ہوا ہے۔ تو واسطہ کیا ہے یہاں پر؟ دن کا ہونا، اور وہ کیا ہے، معلول یا علت؟ معلول، تو آپ نے یہاں پر اپنے کلام میں، اپنے کلام میں تو آپ نے دن کے نکلنے کو علت بنا دیا کس کے لیے؟ سورج۔ کلام کے اندر، حالانکہ واقع کے اندر تو یہ دن کا نکلنا علت نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ دلیل پر ذرا، صرف اپنی دلیل پر نظر رکھیں۔ آپ دلیل کے اندر علت بنا رہے ہیں گویا، اس وقت کیا ہے؟ دن نکلا ہوا ہے، اور جب دن، اس وقت دن ہے، اور جب دن ہوتا ہے، سورج نکلا ہوتا ہے۔ اس وقت دن ہے، اور جب دن ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے۔
تو آپ نے سورج کے نکلنے کو ثابت کیا، اس وقت سورج نکلا ہوا ہے، اور واسطہ کیا بنایا؟ علت کس کو بنایا؟ دن کے موجود ہونے کو اپنے کلام میں آپ نے علت بنا دیا کہ دن موجود ہونے کی وجہ سے سورج نکلا ہوا ہے۔ اس وقت تو دن موجود ہے، اور جب دن موجود ہوتا ہے سورج نکلا ہوتا ہے، تو دن کے ہونے کو آپ نے اپنے کلام میں کیا بنایا؟ علت، اور اس کے ذریعے کس کو ثابت کیا؟ یعنی سورج کے نکلنے کو، اور یہ صرف آپ کے ذہن میں ہے، واقع میں ایسا نہیں، دن کا نکلنا کوئی علت نہیں ہے سورج کے، دن کا ہونا علت نہیں ہے سورج کے نکلنے کے لیے، بلکہ برعکس ہے معاملہ، سورج کا نکلنا علت ہے کس کے لیے؟ لیکن آپ نے تو کلام میں کیا کیا تھا؟ دن کے وجود کو علت بنایا تھا کس کے لیے؟ سورج، اسی کے ذریعے ثابت کیا نا، آپ نے کہا اس وقت دن نکلا ہوا ہے، اور جب دن نکلا ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟ سورج موجود ہوتا ہے۔ صورت سمجھ میں آئی؟ کیا قیاس بنایا؟ اس وقت دن موجود ہے، اور جب دن موجود ہوتا ہے تو سورج نکلا ہوتا ہے۔
تو آپ سورج کے نکلنے کو ثابت کر رہے ہیں، کس کے ذریعے؟ دن کے وجود کے ذریعے، کہ دن موجود ہے، اس لیے سورج نکلا ہوا ہے، معلوم ہوا آپ نے ذہن کے اندر دن کو کیا بنا دیا؟ علت بنا دیا، سورج کو کیا بنا دیا؟ معلول، دن کے ذریعے ایک دوسری چیز کو ثابت کر رہے ہیں بھئی۔ دن کے ذریعے آپ سورج کو ثابت کر رہے ہیں، دن ہے، اس لیے کیا ہے؟ سورج ہے، گویا آپ نے دن کو اپنے کلام میں علت بنا دیا، اور سورج کو کیا بنا دیا؟ معلول بنا دیا۔ اور یہ دن کا ہونا علت ہو، یہ واقع میں ایسا ہے؟ دن کا موجود ہونا علت ہے سورج کے نکلنے کے لیے؟ نہیں، تو یہ صرف آپ کے کلام میں، آپ کے ذہن میں علت ہے، خارج میں ایسا نہیں۔ دلیلِ لمی میں جس کو آپ نے علت بنایا ہوتا ہے، واقع اور خارج میں بھی ویسا ہی ہوتا ہے۔ اور دلیلِ انی میں ایسا نہیں ہوتا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: وأما الإنيّ فهو الذي يكون الأوسط فيه علةً للحكم في الذهن فقط، باقی دلیلِ انی جو ہے، وہ قیاس ہے کہ جس کے اندر حدِ اوسط جو ہے، وہ علت ہو اس حکم کی في الذهن فقط، صرف ذہن میں، ولم يكن علةً في الواقع، اور واقع کے اندر وہ علت نہ ہو، بل قد يكون معلولًا له، بلکہ کبھی کبھار اس کے لیے معلول ہو، علت نہیں ہو گا واقع میں، بلکہ اس کا معلول ہو گا، جیسے اس مثال میں تھا۔ مثال اللمي، لمی کی مثال، قولك، آپ کا یہ قول: زيدٌ محمومٌ لأنه متُعفّن الأخلاط، بھئی، کل میں نے بتلایا تھا، انسانی جسم کا مادہ کتنی چیزیں ہیں؟ چار، اخلاطِ اربعہ بھئی، اخلاطِ اربعہ۔ کیا کیا چار چیزیں تھیں؟ خون، بلغم، سودا اور صفرا۔ خون، بلغم، سودا اور صفرا، یہ چار چیزیں مادہ ہیں جسم کا، حکماء، قدیم حکماء لکھتے ہیں بھئی، اور ان میں ایک تناسب ہے۔ خاص مقدار ہے ہر ایک کی، اس مقدار میں کسی کی بھی مقدار میں کمی بیشی آ جائے تو اس سے مرض لاحق ہوتے ہیں مختلف قسم کے، جب ان میں تناسب خراب ہو گا، مرض لاحق ہو جائے گا۔ جب آدمی بیمار ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں ان میں کسی میں کمی بیشی ہوئی ہے بھئی، کیا ہوئی ہے؟ جو بھی بیماری ہے، کہتے ہیں انہی کے اندر کمی بیشی ہوئی ہے، اس کی وجہ سے یہ بیماری آئی۔ اسی طرح اگر یہ بدبودار ہو جائیں، تعفن آ جائے ان کے اندر، بدبو آ جائے، تو اس وقت انسان کو کہتے ہیں بخار چڑھ جاتا ہے۔ تو یہ جو بخار چڑھتا ہے، اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟ یہ اخلاط متعفن ہو جاتے ہیں، بدبودار ہو جاتے ہیں، ان میں تعفن آ جاتا ہے۔ کیا آ جاتا ہے؟ تعفن آ جاتا ہے، بدبو آ جاتی ہے بھئی، بدبودار ہو جاتے ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
جی، تو جب بھی یہ بدبودار ہوں گے، انسان کو کیا ہو گا؟ بخار ہو جائے، تو علت کون؟ تعفن علت ہے یا بخار علت ہے؟ تعفن علت، اور بخار معلول۔ اب دلیلِ انی کی مثال ذکر کریں گے، اور پھر دلیلِ انی کی بھی مثال ذکر کریں گے، آپ دیکھیے، جو میں نے ابھی تفصیل بیان کی، اسی طرح، علت کے ذریعے معلول پر استدلال کریں گے، تو کیا کہیں گے، یہ دلیلِ لمی، اور جب معلول کے ذریعے علت پر استدلال کریں گے، تو یہ دلیلِ انی کہلائے گا بھئی۔
مثال اللمي، لمی کی مثال، قولك، وہ آپ کا یہ قول ہے: زيدٌ محمومٌ، محموم بخار والا بھئی، بخار۔ زيدٌ محمومٌ، زید بخار والا ہے، یعنی زید کو بخار ہے، زید بخار والا ہے۔ یہ دعویٰ ہے آپ کا، یہ کیا ہے؟ لأنه سے آگے اب وہ قیاس شروع ہونے لگا ہے، اور یہی پھر نتیجہ یہی نکلے گا جو آپ کا دعویٰ ہے۔ آپ کا دعویٰ کیا؟ زید بخار ہے، زید کو بخار ہے، زید بخار والا ہے، بھئی کیا ہے؟ دلیل پیش کرو۔ آپ کہتے ہیں: لأنه متُعفّن الأخلاط، اسی کیونکہ زید کیا ہے؟ متعفن الاخلاط ہے، اس کے اخلاط میں تعفن ہے، تو وہ متعفن اخلاط والا ہے، وكل متعفن الأخلاط محمومٌ، اور ہر متعفن الاخلاط کیا ہوتا ہے؟ بخار والا ہوتا ہے۔ اب دیکھیے، قیاس پر ذرا آئیے بھئی، لأنه، ھا ضمیر کس کو راجع؟ زید کو، کیونکہ زید کیا ہے؟ متعفن الاخلاط، تو زید ہوا مبتدا، متعفن الاخلاط اس کی خبر، یہ ہے صغریٰ۔ نظر ہے اس قیاس پر؟ یہ ہے صغریٰ، کہ گویا صغریٰ یہ ہوا: زيدٌ متعفن الأخلاط۔ اور آگے کبریٰ ہے: وكل متعفن الأخلاط محمومٌ، اور ہر متعفن الاخلاط کیا ہوتا ہے؟ بخار والا ہوتا ہے۔ جی، حدِ اوسط کیا آیا یہاں پر؟ متعفن الاخلاط، یہ حدِ اوسط ہے، حدِ اوسط۔ جی، تو نتیجہ کیا نکلا؟ حدِ اوسط کو ختم کیا، کیا آیا؟ فزيدٌ محمومٌ، دیکھو وہی جو میں نے آپ کو کہا تھا نا، دعویٰ ہے آپ کا۔
3
فَزَيْدٌ مَحْمُومٌ۔ اس دعوے پر دلیل ذکر کی اور اس دعوے کو ثابت کر دیا، فَزَيْدٌ مَحْمُومٌ۔ زید کیا ہے؟ بخار والا ہے۔
اب دیکھیے اس ذرا اصغر اور اکبر صغریٰ، کبریٰ پر ذرا غور کیجیے بھئی، صغریٰ کبریٰ پر۔ حد اوسط کیا چیز ہے؟ متعفن الاخلاط۔ اور متعفن الاخلاط یہ واسطہ بنا، اس کے ذریعے آپ نے کس کو ثابت کیا؟ زید کے لیے حمیٰ بخار کو ثابت کیا، محموم ہونے کو ثابت کیا زید کے لیے۔
تو علت یہ متعفن الاخلاط ہونا، یہ محموم ہونے کی علت ہے یا محموم ہونا علت ہے؟ یہ علت ہے، کون علت ہے بھئی؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ متعفن الاخلاط ہونا یہ ہے علت، اور بخار والا ہونا یہ معلول ہے۔ ہم نے کس واسطے کو استعمال کیا؟ علت کو استعمال کیا اور کس کو ثابت کیا؟ معلول کو، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ یہ دلیل لمی ہوئی یعنی آپ کے ذہن میں، آپ کے ذہن میں متعفن الاخلاط ہونا یہ علت تھی اور محموم ہونا یہ معلول تھا اور واقع کے اندر بھی ایسا ہی ہے متعفن الاخلاط ہونا علت ہے اور بخار والا ہونا؟ تو جو آپ نے حکم کے اندر جس کو علت اور معلول بنایا خارج میں بھی اسی طرح ہے مثلاً علت اور معلول ہیں وہ اسی طرح بھئی۔ تو یہ جب واقع کے مطابق ہے، واقع میں بھی وہی علت ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ دلیل لمی۔ اور اگر واقع میں ایسا نہ ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل انی کہتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فَكَمَا أَنَّ فِي هَذَا الْقِيَاسِ الْأَوْسَطَ عِلَّةٌ لِثُبُوتِ الْحُمَّى" پس جیسے اس قیاس کے اندر الاوسط، حد اوسط جو ہے "عِلَّةٌ" یہ علت ہے "لِثُبُوتِ الْحُمَّى" حمیٰ بخار کو کہتے ہیں، محموم بخار والا اور حمیٰ بخار، یہ علت ہے "لِثُبُوتِ الْحُمَّى لِزَيْدٍ" زید کے لیے بخار کے ثبوت کی "فِي ذِهْنِكَ" کس میں؟ آپ کے ذہن۔ بھئی آپ کو کیسے پتہ چلا ہمارے ذہن میں یہ ہے کہ علت متعفن الاخلاط ہے؟ انہوں نے کہا کہ زید کے آپ... دیکھیے جیسے اس قیاس میں حد اوسط علت ہے، کیا ہے؟ علت۔ کس چیز کے لیے علت ہے؟ زید کے لیے بخار کے ثبوت کے لیے، زید کے لیے بخار کے ثبوت کے لیے یہ علت ہے "فِي ذِهْنِكَ" کس میں؟ بھئی انہوں نے اس لیے کہا آپ کے ذہن میں یہ علت ہے کیونکہ آپ نے جو قیاس پیش کیا بھئی۔ اس قیاس سے پتہ چل رہا ہے، آپ نے متعفن الاخلاط کو حد اوسط بنایا۔ معلوم ہوا متعفن الاخلاط کے ذریعے زید کے لیے کیا ثابت کر رہے ہیں آپ؟ محموم ہونا ثابت کر رہے ہیں زید کے لیے اور حد اوسط تو واسطہ ہوتا ہے۔ معلوم ہوا اس وجہ سے زید پر کیا ہے؟ بخار۔ آپ کے ذہن میں یہ ہے کہ وہ متعفن الاخلاط ہے اس وجہ سے اس کو کیا ہے؟ بخار، آپ کے ذہن میں یہ ہے اور پھر خارج میں بھی دیکھا تو ایسا ہی تھا۔
تو یہ جو انہوں نے کہا نا "آپ کے ذہن میں یہ ہے" یہ آپ نے جو قیاس کی صورت بنائی بھئی، حد اوسط کس کو بنایا؟ متعفن الاخلاط کو اور حد اوسط تو کیا ہوتا ہے؟ واسطہ۔ معلوم ہوا یہ علت ہے آپ کے نزدیک اور خارج ابھی خارج کی طرف ہم نہیں گئے، آپ کے ذہن میں یہ علت ہے۔ پھر ہم نے خارج میں بھی دیکھا تو اسی طرح تھا۔ تو یہ ہوئی دلیل لمی۔ اور بعض اوقات آپ کے ذہن میں علت ہو گی لیکن خارج میں ویسا نہیں ہو گا تو وہ دلیل انی ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فَكَمَا أَنَّ فِي هَذَا الْقِيَاسِ الْأَوْسَطَ عِلَّةٌ لِثُبُوتِ الْحُمَّى لِزَيْدٍ فِي ذِهْنِكَ كَذَلِكَ هُوَ عِلَّةٌ لِوُجُودِ الْحُمَّى فِي الْوَاقِعِ" پس جیسے کہ اس قیاس کے اندر حد اوسط علت ہے زید کے لیے بخار کے ثبوت کی "فِي ذِهْنِكَ" آپ کے ذہن میں۔ تو جیسے اس قیاس میں حد اوسط علت ہے "كَذَلِكَ هُوَ عِلَّةٌ لِوُجُودِ الْحُمَّى فِي الْوَاقِعِ" اسی طرح واقع کے اندر بھی یہ بخار کے وجود کی علت ہے بھئی، واقع میں آپ کے ذہن میں بھی علت تھی اور واقع میں بھی ایسا ہی تھا تو یہ دلیل لمی ہے۔
"وَمِثَالُ الْإِنِّيِّ" اور قیاس انی کی مثال "قَوْلُكَ" آپ کا یہ قول ہے: زید متعفن الاخلاط۔ زید متعفن الاخلاط، یاد رکھو یہ دعویٰ ہے۔ یہ کیا ہے؟ "لِأَنَّهُ" سے قیاس شروع ہوا کرتا ہے۔ سمجھ میں آئی؟ کیونکہ دلیل ذکر کی جاتی ہے نا "لِأَنَّ" کے ذریعے، "لِأَنَّ" کا کیا معنی ہوتا ہے؟ کیونکہ، ہاں وہاں سے دلیل شروع ہو گی۔ دعویٰ کیا ہے ہمارا؟ زید متعفن الاخلاط، زید کیا ہے؟ متعفن الاخلاط۔ بھئی کیوں؟ متعفن الاخلاط کیوں ہے؟ آگے اب قیاس پیش کر رہے ہیں "لِأَنَّهُ مَحْمُومٌ" "ه" ضمیر زید کو راجع ہے، کیونکہ زید کیا ہے؟ بیمار ہے، بخار والا ہے "وَكُلُّ مَحْمُومٍ مُتَعَفِّنُ الْأَخْلَاطِ" اور ہر بخار والا کیا ہوتا ہے؟ متعفن الاخلاط۔
تو حد اوسط کیا آیا یہاں پر؟ محموم آیا، کیا آیا؟ محموم۔ تو یہ واسطہ ہوا، نتیجہ کیا آیا؟ "فَزَيْدٌ مُتَعَفِّنُ الْأَخْلَاطِ" زید کیا ہے؟ وہی جو دعویٰ تھا وہی آگے نتیجہ آ گیا، ہمارا دعویٰ تھا ہم نے دلیل پیش کی اور اس کو ثابت کر دیا بھئی۔
اب دیکھیے بھئی اس قیاس میں ذرا نظر رکھو: "لِأَنَّهُ مَحْمُومٌ وَكُلُّ مَحْمُومٍ مُتَعَفِّنُ الْأَخْلَاطِ" واسطہ کس کو بنایا؟ محموم کو، کس کو؟ محموم، بخار والا ہونا۔ تو بخار والا ہونا یہ ہے واسطہ اور اس کے ذریعے زید کے لیے کیا ثابت کیا؟ متعفن الاخلاط ہونا آپ نے ثابت کیا۔ گویا آپ کے ذہن میں زید کے متعفن الاخلاط ہونے کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ بخار والا ہے، کیا ہے؟ یعنی بخار والا ہونا علت ہے آپ کے ذہن میں، چونکہ زید بخار والا ہے اس لیے کیا ہے وہ؟ متعفن الاخلاط۔ تو آپ کے ذہن میں بخار والا محموم کیا ہے؟ علت، اور بخار والا ہونا؟ نہیں، محموم یعنی بخار والا ہونا آپ کے ذہن میں علت ہے اور متعفن الاخلاط ہونا کیا ہے؟ معلول ہے۔
لیکن ہم نے واقع کے اندر دیکھا واقع میں تو ایسا نہیں ہے۔ بخار علت نہیں ہے متعفن الاخلاط ہونے کی بلکہ برعکس ہے، متعفن الاخلاط ہونا کیا ہے؟ علت ہے بخار کی، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیل انی ہوئی بھئی۔
"فَوُجُودُ الْحُمَّى عِلَّةٌ لِثُبُوتِ كَوْنِهِ مُتَعَفِّنَ الْأَخْلَاطِ فِي ذِهْنِكَ" پس حمیٰ یعنی بخار کا وجود، بخار کا پایا جانا "عِلَّةٌ" یہ کیا ہے؟ علت ہے "لِثُبُوتِ كَوْنِهِ مُتَعَفِّنَ الْأَخْلَاطِ فِي ذِهْنِكَ" آپ کے ذہن میں زید کے متعفن الاخلاط ہونے کے ثبوت کے لیے، "لِثُبُوتِ كَوْنِهِ" اس بات کے ثبوت کے لیے، کس بات کے ثبوت کے لیے؟ "كَوْنِهِ مُتَعَفِّنَ الْأَخْلَاطِ" کہ وہ زید کیا ہے؟ متعفن الاخلاط ہے "فِي ذِهْنِكَ" کس میں؟ آپ کے ذہن میں۔
دیکھیے وہی تفصیل بیان کر رہے ہیں: "فَوُجُودُ الْحُمَّى عِلَّةٌ" حد اوسط بخار کو بنایا نا؟ اسی کو بتا رہے ہیں کہ آپ کے ذہن میں یہ علت ہے، واقع میں یہ علت نہیں۔ "فَوُجُودُ الْحُمَّى عِلَّةٌ" پس بخار کا وجود یہ علت ہے، کس چیز کے لیے علت ہے؟ "لِثُبُوتِ كَوْنِهِ مُتَعَفِّنَ الْأَخْلَاطِ" اس زید کے متعفن الاخلاط ہونے کی، اس کے لیے متعفن الاخلاط کے ثبوت کی بھئی علت ہے "فِي ذِهْنِكَ" آپ کے ذہن میں۔ "وَلَيْسَ عِلَّةً فِي نَفْسِ الْأَمْرِ" اور یہ علت نہیں ہے نفس الامر میں یعنی واقع میں یہ علت نہیں ہے، "بَلْ عَسَى أَنْ يَكُونَ الْأَمْرُ فِي الْوَاقِعِ بِالْعَكْسِ" بلکہ شاید کہ یعنی ممکن ہے کہ معاملہ جو ہے، الامر معاملہ، شاید کہ معاملہ فی الواقع واقع میں بالعکس ہو بھئی۔ اور واقع میں معاملہ یہاں پر کیا ہے؟ برعکس ہے، متعفن الاخلاط ہونا علت ہے محموم ہونے کے لیے نہ کہ محموم ہونا علت ہے متعفن الاخلاط ہونے کے لیے۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المراد والله أعلم بحقيقة الكلام۔