LESSONS NO. 94
1
خَامِسُهَا التَّجْرِيبِيَّاتُ وَهِيَ قَضَايَا يَحْكُمُ الْعَقْلُ بِهَا بِوَاسِطَةِ تَكْرَارِ الْمُشَاهَدَةِ وَعَدَمِ تَخَلُّفِهِ حُكْمًا كُلِّيًّا كَالْحُكْمِ بِأَنَّ شُرْبَ السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ
وَسَادِسُهَا الْمُتَوَاتِرَاتُ وَهِيَ قَضَايَا يَحْكُمُ بِهَا بِوَاسِطَةِ إِخْبَارِ جَمَاعَةٍ يَسْتَحِيلُ الْعَقْلُ تَوَاطُؤَهُمْ عَلَى الْكَذِبِ
بدیہیات کی اقسام ہم پڑھ رہے تھے۔ چار قسمیں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی، آج پانچویں اور چھٹی قسم پڑھیں گے۔ بدیہیات آپ نے پڑھے تھے، چھ قسم پر ہیں: اولیات، فطریات، حدسیات، مشاہدات—یہ چار پڑھ لیے اور دو رہ گئے بھئی: تجربیات اور متواترات بھئی۔
اولیات، جن میں بغیر کسی واسطے کے ہی عقل کیا کر لیتی تھی؟ اس کا یقین کر لیتی تھی، وہ حکم لگا دیتی تھی۔ اور فطریات کے اندر ذہن میں قضیے کے ساتھ ساتھ وہ واسطہ بھی آ جاتا تھا، ذہن اس طرف بھی متوجہ ہو جاتا تھا، البتہ وہ ساتھ ہی آتا تھا، کوئی غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
تیسرا حدسیات تھا، جس میں ذہن مبادی سے ایک دم مطلوب کی طرف پہنچ جاتا ہے بڑی سرعت سے، بڑی تیزی سے؛ اور یہ عموماً یا تو من جانب اللہ کسی کو یہ قوت عطا ہوتی ہے یا محنت اور کوشش کے ذریعے یہ حدس انسان کو حاصل ہو جاتا ہے۔
اور چوتھی قسم تھی مشاہدات بھئی، جن چیزوں کا ہم مشاہدہ کرتے اور حواس کے ذریعے ہمیں اس کا پتہ چلتا، چاہے وہ حواسِ ظاہرہ ہوتے یا حواسِ باطنہ۔
حواسِ ظاہرہ کا مفصل بیان کل گزرا کہ حواسِ ظاہرہ پانچ ہیں، اور وہ کون کون سے ہیں؟ قوتِ باصرہ ہے، قوتِ سامعہ ہے، قوتِ شامہ ہے، قوتِ ذائقہ ہے اور قوتِ لامسہ ہے—یہ پانچ ہیں۔
اور اسی طرح حواسِ خمسہ باطنہ بھی پانچ ہیں بھئی: ایک حسِ مشترک ہے، اور خیال اس کا خزانہ ہے جہاں یہ محفوظ کرتا ہے؛ اور ایک وهم ہے، اور ایک حافظہ اس کا خزانہ ہے؛ اور پانچویں قوتِ متصرفہ ہے بھئی۔ تفصیل گزر چکی گزشتہ سبق میں۔
آج ہم پانچویں قسم پڑھیں گے: تجربیات بھئی۔ تجربیات کسے کہتے ہیں؟ بھئی، بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ بار بار کے تکرار سے، بار بار کے تکرار سے عقل پھر ایک حکم لگا دیتی ہے۔
مثلاً ایک دوائی ہے، آپ کو کوئی ایک مرض مثلاً زکام ہوتا ہے یا بخار ہوتا ہے، آپ جب بھی اس کو استعمال کرتے ہیں، آپ کو اس سے اللہ شفاء دے دیتے ہیں؛ تو آپ حکم لگا دیں گے کہ بخار میں یہ والی دوائی کھانے سے بیماری ختم ہو جاتی ہے بھئی۔
بخار میں—یہ دیکھو، بار بار کے تجربے سے حکم لگایا، یا اور کوئی تجربے سے بات آپ کے سامنے آتی ہے کہ فلاں چیز کھانے سے مثلاً گلا خراب ہو جاتا ہے۔
بار بار کے تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی، آپ کو بار بار اس کا تجربہ ہوا، تو آپ نے حکمِ کلی لگا دیے کہ یہ چیز جب بھی کھائی جائے، اس سے کیا ہو جاتا ہے؟ گلا خراب ہو جاتا ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا کوئی اور چیز ہے، اس کے کھانے سے فلاں قسم کا نفع ہوتا ہے—اس طرح کی جو بھی بات جو بار بار کے مشاہدے اور تجربے سے انسان جو ہے اس کا یقین کر لیتا ہے اور ایک حکمِ کلی لگا دیتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تجربیات ہیں بھئی۔ اس کی آسان سی بات تھی، یہ میں نے بیان کر دی۔ دیکھیے بھئی، اب کتاب پر۔
”خَامِسُهَا التَّجْرِيبِيَّاتُ“ جَرَّبَ يُجَرِّبُ تَجْرِبَةً بھئی۔ جَرَّبَ يُجَرِّبُ تَجْرِبَةً۔ یاءِ مشدد لگا کر اس میں منسوب بنایا گیا: تَجْرِيبِيٌّ۔ تَجْرِبَةٌ تو مصدر ہے نا! تَجْرِبَةٌ کا تو معنیٰ تجربہ کرنا، تجربہ ہونا۔
اور تَجْرِيبِيٌّ—لاہورِیٌّ کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ لاہور والا، یعنی لاہور کی طرف منسوب۔ تو تَجْرِيبِيٌّ: جو تجربے کی طرف منسوب ہے، جو بات تجربے سے معلوم ہوئی ہے، وہ تَجْرِيبِيٌّ ہے بھئی۔ جو بات کیا معلوم ہوئی ہے؟ تجربے سے معلوم ہوئی، وہ تَجْرِيبِيٌّ ہے۔
اور اسی کے آخر میں الف تا ملا دیا، جمع بنا لی، تو کیا بن گیا؟ تَجْرِيبِيَّاتٌ۔ تَجْرِيبِيَّاتٌ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیم ساکن ہے، را کے نیچے کسرہ ہے۔
تو کہتے ہیں: ”خَامِسُهَا التَّجْرِيبِيَّاتُ“—پانچویں قسم وہ تجربیات ہیں۔ ”وَهِيَ قَضَايَا يَحْكُمُ الْعَقْلُ بِهَا“—اور یہ ایسے قضایا ہیں کہ عقل حکم لگاتی ہے ان کا—ہا ضمیر کس طرف راجع ہے؟ قضایا کو—کہ عقل حکم لگاتی ہے بها (ان قضایا کا) ”بِوَاسِطَةِ تَكْرَارِ الْمُشَاهَدَةِ“—تکرارِ مشاہدہ کے واسطے سے، بار بار کے مشاہدے کے ذریعے۔
”وَعَدَمِ تَخَلُّفِهِ“—تخلف کا معنیٰ ہے پیچھے رہنا، یعنی پیچھے نہ رہنے کے واسطے سے۔ یعنی جب بھی وہ کام ہوتا ہے، وہ چیز کھاتے ہیں، وہی نتیجہ نکلتا ہے، نتیجہ پیچھے نہیں رہتا، وہ حکم پیچھے نہیں رہتا۔
آپ کو جب بخار ہوتا ہے، آپ جب بھی وہ دوائی کھاتے ہیں، اس سے اللہ آپ کو شفاء دے دیتے ہیں؛ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ اللہ اس سے آپ کو شفاء نہ دیں۔
یا ایک چیز کھاتے ہیں، جب بھی کھاتے ہیں، مثلاً اس سے آپ کا گلا خراب ہو جاتا ہے؛ ایسا کبھی نہیں کہ وہ چیز کھائی ہو اور حکم یعنی نتیجہ نہ آیا ہو، یعنی گلا نہ خراب ہوا ہو۔ صورت سمجھ میں آئی؟ تو یہاں دیکھو، یہ وہ اس کا جو اثر ہے، وہ پیچھے نہ رہا ہو، وہ بھی ساتھ ہی آ جاتا ہے۔
یہ معنیٰ ہے: ”بِوَاسِطَةِ تَكْرَارِ الْمُشَاهَدَةِ وَعَدَمِ تَخَلُّفِهِ“—تکرارِ مشاہدہ کے واسطے سے اور عدمِ تخلف کے واسطے سے۔ تو عقل حکم لگا دیتی ہے ان قضایا کا، اور کیسا حکم؟ ”حُكْمًا كُلِّيًّا“—کس قسم کا حکم لگا دیتی ہے؟ حکمِ کلی لگا لیتی ہے کہ یہ چیز جب بھی کھاؤ گے، یوں ہوگا۔
بھائی، آپ نے تو پانچ دفعہ کھائی ہے، چھ دفعہ کھائی ہے يا دس دفعہ کھائی ہے، لیکن ان پانچ چھ ہی کی وجہ سے آپ کیا کر دیتے ہیں؟ کلی حکم کہ جب بھی یہ کھاؤ گے، اس طرح ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
”كَالْحُكْمِ“—جیسے کہ یہ حکم لگانا ”بِأَنَّ شُرْبَ السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ“—کہ سقمونیا کا پینا یہ مسہل للصفراء ہے۔
مسہل کہتے ہیں دست آور بھئی، جس سے دست لگ جائیں انسان کو۔ سقمونیا یاد رکھیے، ایک بوٹی کا نام ہے اور اسی سے ایک دوائی بنائی جاتی ہے قدیم طب میں، یہ جو حکیم ہوتے ہیں، یہ بناتے ہیں؛ تو یہ قدیم کوئی دوا ہوگی۔ تو یہ سقمونیا اس کا نام، دوائی کا نام ہے۔
اور مسہل کا کیا معنیٰ ہوا؟ دست آور، جس سے دست لگ جائیں۔ اور صفراء یاد رکھیے، آگے بھی یہ ذکر آئے گا، انسان—یہ قدیم حکیم جو تھے بھئی، قدیم طب جو ہے—یہ کہتے ہیں قدیم طب والے، جیسے آج کل ڈاکٹر ہیں، کوئی عام ایلوپیتھک ڈاکٹر ہیں، کچھ ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں، تو ہر ایک کی اس علم کے مطابق بعض چیزیں انہوں نے متعین کی ہیں، ضابطے مقرر کیے ہیں اور اس کے مطابق پھر وہ دوائیاں بناتے ہیں اور مریضوں کو دیتے ہیں کہ یہ تکلیف ہو جائے تو یہ دوائی دینا فائدہ مند ہوگا۔
اسی طرح یہ جو قدیم طب ہے، تو یہ قدیم طب والے کہتے ہیں انسانی بدن میں جو بنیادی مادے ہیں، وہ چار ہیں بھئی۔ بنیادی مادے کتنے ہیں؟ چار ہیں۔ ان کو اخلاط کہتے ہیں، اخلاط—طاء ہے آخر میں، اخلاطِ اربعہ۔
تو وہ کہتے ہیں یہ بنیادی مادے یعنی جن سے یہ بدن بنا ہوا ہے انسان کا، یہ چار مادے ہیں: خون، بلغم، سوداء اور صفراء۔ خون، بلغم، سوداء اور صفراء—یہ چار اخلاط ہیں بنیادی بھئی، انسانی بدن کے۔
اور ان میں ایک تناسب ہے، مناسبت ہے۔ ان کی مقداریں آپس میں ایک تناسب سے ہیں۔ وہ مقداریں اپنے تناسب پر برقرار رہیں، تو انسان صحت مند رہتا ہے۔ انسان—اور اگر ان میں سے کسی کی مقدار بڑھ جائے، تو کبھی اس کے اعتبار سے ایک بیماری ہو جائے گی، دوسرے کی مقدار بڑھ گئی تو اس سے دوسری بیماری ہو جائے گی۔
اور اسی طرح ان میں اگر تعفن آ جائے، بدبو آ جائے، تو انسان کو بخار چڑھ جاتا ہے وغیرہ بھئی۔ وہ تفصیل بیان کرتے ہیں اس طرح بھئی۔
تو انسانی بدن کا بنیادی مادہ یا یوں کہیں مکسچر جو ہے، وہ کہتے ہیں کتنی چیزیں ہیں؟ چار۔ اخلاط، وہ ملی ہوئی چیزیں جو ہیں—صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ چار چیزیں ہیں: خون، بلغم، سوداء اور صفراء۔
تو صفراء اخلاطِ اربعہ میں سے ایک مادے کا نام بھی صفراء ہے۔ اسی طرح صفراء جو ہے، جس کا مزاج صفراوی ہو جائے، اس کو بھی صفراء کہتے ہیں؛ یعنی جس شخص میں صفراء کی مقدار بڑھ جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو بھی صفراء ہی کہتے ہیں۔
صفراء اس مادے کا بھی نام، اور جس میں صفراء کی مقدار بڑھ جائے، اس کا بھی نام صفراء۔
خون، بلغم، سوداء، صفراء۔ سوداء نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے، یہ سیاہ کوئی ہوگا، سیاہ قسم ہوگی۔ اور صفراء زرد ہے، نام سے ہی پتہ لگ رہا ہے کہ یہ کس قسم کا مادہ ہوگا؟ یہ کوئی زرد رنگ کا مادہ ہے، یہ سارے ملے ہوئے ہیں انسانی بدن کے اندر بھئی۔
جہاں دیکھ میں کمی بیشی آئی، وہیں پر کہتے ہیں بیماری آ جاتی ہے، یا ان میں بدبو پیدا ہو جائے، تعفن آ جائے، تو اس سے بھی بیماری آ جاتی ہے بھئی۔
تو صفراء ایک تو اخلاطِ اربعہ میں سے ایک مادے کا نام بھی صفراء ہے، اور جس شخص میں صفراء کی مقدار بڑھ جائے—یعنی جب مقدار بڑھے گی تو وہ بیمار بھی ہو جائے گا، لازمی بات ہے—تو یہ جو صفراوی مزاج والا ہے، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صفراء۔
بعض نے لکھا کہ یہ صفراء جو ہے، جس صفراوی مزاج والا، اس کو جو بیماری ہوئی، اسے پیلیا کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ پیلیا، جسے آج کل آپ یرقان کہتے ہیں بھئی، یرقان۔ تو دیکھو، یرقان میں بھی بدن پیلا پڑ جاتا ہے بھئی، آنکھوں کی سفیدی تک میں پیلاہٹ آ جاتی ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں یہ قدیم طب والے کہتے ہیں، یہ صفراء کی مقدار بدن میں بڑھ گئی۔
اور اس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اس شخص کو اگر سقمونیا بوٹی اور اس سے بنی ہوئی دوائی اگر اس کو پلا دی جائے، تو سقمونیا اگر اس کو پلائیں، تو اس کو دست لگیں گے، اور وہ جو سقمونیا ہے، وہ بدن سے صفراء کی زائد مقدار کو خارج کر دے گا، اور پھر وہ ٹھیک ہو جائے گا بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ صرف جملے کا معنیٰ بیان کر رہا تھا۔
تو انہوں نے کہا: ”شُرْبُ السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ“—کہ سقمونیا کا پینا یہ دست آور ہے صفراوی مزاج والے کے لیے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ اور یہ بات ان کو کس طرح پتہ چلی؟ تجربے سے! بار بار انہوں نے اس کا تجربہ کیا، تو اس وقت معلوم ہوا، ہر مرتبہ اسی طرح ہوتا تھا، تو انہوں نے حکمِ کلی لگا دیے کہ یہ جب بھی صفراوی مزاج والے کو پلائیں گے، تو اس کے لیے مسہل ہوگی اور اس کو صحت حاصل ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ تجربیات ہیں بھئی۔
تو دوبارہ دیکھ لیجیے: ”خَامِسُهَا التَّجْرِيبِيَّاتُ“—پانچویں قسم جو ہے بدیہیات میں سے، وہ تجربیات ہیں۔ ”وَهِيَ قَضَايَا يَحْكُمُ الْعَقْلُ بِهَا“—یہ ایسے قضایا ہیں کہ عقل حکم لگاتی ہے ان کا ”بِوَاسِطَةِ تَكْرَارِ الْمُشَاهَدَةِ وَعَدَمِ تَخَلُّفِهِ“—بواسطہ تکرارِ مشاہدہ کے اور حکم کے پیچھے نہ رہنے کے۔ ”حُكْمًا كُلِّيًّا“—کس قسم کا حکم لگاتی ہے؟ حکمِ کلی لگاتی ہے۔ ”كَالْحُكْمِ بِأَنَّ شُرْبَ السَّقَمُونِيَا مُسْهِلٌ لِلصَّفْرَاءِ“—جیسے یہ حکم لگانا کہ سقمونیا کا پینا یہ جو ہے، مسہل ہے صفراوی مزاج والے کے لیے۔
”وَسَادِسُهَا الْمُتَوَاتِرَاتُ“—اور چھٹی قسم جو بدیہیات میں سے ہے، وہ متواترات ہے بھئی۔ کیا ہیں؟ متواترات۔
بھئی دیکھیے، متواترات! متواترات ان قضایا کو کہتے ہیں جن کی خبر دینے والے اتنے زیادہ لوگ ہوں کہ عقل خود فیصلہ کر دے کہ یہ بات واقعی اسی طرح ہے، اگر یہ بات جھوٹی ہوتی، اتنے لوگ خبر نہ دیتے؛ اتنے لوگ بتلا رہے ہیں، تو یقیناً بات ایسی ہی ہے۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ متواترات۔
مثلاً بھئی، آپ کو علم ہے یا نہیں کہ مکہ موجود ہے، ایک شہر ہے؟ جی؟ سب کو علم ہے! کبھی ذرا شک و شبہ ہوا آپ کو کہ شاید مکہ کا وجود نہ ہو؟ نہیں! حالانکہ آپ مکہ گئے نہیں، لیکن آپ کو اس کے وجود کا یقین ہے، پتہ ہے۔ کیوں یقین ہے؟ کیونکہ بتانے والے اتنے لوگ ہیں، لوگ جاتے بھی ہیں، آتے بھی ہیں، اتنے لوگ آ کر آپ کو بتاتے ہیں، آپ کتابوں میں بھی پڑھتے ہیں کہ مکہ ایک شہر ہے جہاں پر خانہ کعبہ واقع ہے، بیت اللہ جہاں پر واقع ہے بھئی۔
تو دیکھیے، یہ ایسا حکم ہے، ایسی بات ہے جس کی خبر آپ کو اتنے زیادہ لوگوں نے دی ہے کہ آپ کی عقل خود فیصلہ کرتی ہے: اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے، جب اتنے لوگ بتانے والے ہیں، تو یقیناً بات ایسی ہی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اسی طرح کوئی آپ کو بتلاتا ہے: امریکہ ایک ملک ہے۔ آپ تو کبھی نہیں گئے امریکہ، لیکن آپ کو یقین ہے کہ ایک ملک ایسا موجود ہے۔ کیوں آپ کو یقین ہے؟ کیونکہ بتانے والے اتنے زیادہ لوگ ہیں کہ عقل خود بتلا دیتی ہے کہ اتنے لوگ جھوٹ کبھی بھی نہیں بول سکتے۔ یہ ہیں متواترات بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
کوئی بھی خبر دینے والے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ عقل کو اس خبر پر یقین ہو جائے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہیں متواترات۔
تو کہتے ہیں: ”وَسَادِسُهَا الْمُتَوَاتِرَاتُ“—اور چھٹی قسم ان کی متواترات ہے۔ ”وَهِيَ قَضَايَا يَحْكُمُ بِهَا“—اور یہ ایسے قضایا ہیں کہ عقل ان کا فیصلہ کرتی ہے، ان کا حکم لگا دیتی ہے ”بِوَاسِطَةِ إِخْبَارِ جَمَاعَةٍ“—کس کے واسطے سے؟ ایک جماعت کی خبر کے واسطے سے بھئی۔
اخبار پڑھ لیں یا اَخبار پڑھ لیں۔ اَخبار پڑھیں، تو خبر کی جمع۔ اَخبار پڑھیں، تو خبر کی جمع—ایک جماعت کی خبروں کے واسطے سے، بڑی جماعت نے خبریں دی ہیں، سب نے، ہر ایک نے الگ الگ آپ کو بتایا کہ ایسی بات ہے بھئی۔ یا اِخبار پڑھ لیں، تو اِخبار مصدر بمعنیٰ خبر کے استعمال ہوتا ہے۔ ایک بڑی جماعت کی خبر کے واسطے سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
ایسی بڑی جماعت کی خبر کہ ”يَسْتَحِيلُ الْعَقْلُ“—ایسی جماعت کہ ”يَسْتَحِيلُ الْعَقْلُ تَوَاطُؤَهُمْ عَلَى الْكَذِبِ“—کہ محال سمجھے عقل۔ ”يَسْتَحِيلُ الْعَقْلُ“: عقل محال سمجھے، یعنی ناممکن سمجھے ”تَوَاطُؤَهُمْ“ (ان کی موافقت) ”عَلَى الْكَذِبِ“ (جھوٹ پر)۔ عقل خود فیصلہ کر دے کہ اتنے لوگ جھوٹ پر اتفاق نہیں کر سکتے، اتنے لوگ جب بتانے والے ہیں، تو یقیناً بات بھی اسی طرح ہے بھئی۔
معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہ معنیٰ ہے: ”بِوَاسِطَةِ إِخْبَارِ جَمَاعَةٍ يَسْتَحِيلُ الْعَقْلُ تَوَاطُؤَهُمْ عَلَى الْكَذِبِ“—ایک ایسی جماعت کی خبر کے واسطے سے کہ محال سمجھتی ہو عقل ان کی موافقت جھوٹ پر۔
2
اختلفوا في اقل عدد هذه الجماعة. اچھا بھئی، انہوں نے کیا کہا؟
متواترات جن کو کہتے ہیں وہ قضایا جن کا عقل حکم لگا دے۔ کس وجہ سے حکم لگائے؟ کہ اتنی بڑی جماعت نے آپ کو خبر دی ہے، جن کا جھوٹ پر جمع ہونا آپ کے عقل کے نزدیک محال ہے، ممکن ہی نہیں ہے، اتنے لوگ جھوٹ نہیں بول سکتے بھئی۔ جھوٹ کوئی بولتا ہے ایک بولتا ہے یا دو بولتے ہیں، چلو یہ تین بولتے ہیں، اتنے لوگ بتلا رہے ہیں تو یہ یقیناً جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ یہ بات ہی ایسی ہے۔ اب کتنے لوگ خبر دینے والے ہوں کہ اس سے پھر یہ یقینی فائدہ، یقین کا فائدہ حاصل ہو جائے گا بھئی؟ کتنے ہونے چاہئیں؟
تو علماء نے مختلف تعداد بیان کی۔ بعضوں نے کہا کم از کم چار خبر دینے والے ہوں تو اس سے اس کا یقین ہو جائے گا بھئی کہ یقیناً اسی طرح ہے۔ بعضوں نے کہا نہیں، 10 ہونے چاہئیں، 10۔ بعضوں نے کہا 10 بھی نہیں، 40 کم از کم آدمی الگ الگ آدمی خبر دینے والے ہوں تو پھر وہ بات یقین تک پہنچ جائے گی بھئی۔ بعضوں نے 70 تک تعداد لکھی بھئی۔
لیکن حق یہ ہے، صحیح بات یہ کہ اس میں کوئی عدد متعین نہیں ہے بھئی۔ کوئی عدد متعین نہیں ہے۔ یہ عقل کے سپرد ہے، بس اتنی جماعت ہو خبر دینے والی کہ انسان کی عقل خود اس کو بتلا دے کہ اتنے لوگ بات بتلا رہے ہیں، یقیناً بات ایسی ہی ہے بھئی۔ تو 4 یا 10 یا 40 کے عدد کی اس میں شرط نہیں، بس اتنی تعداد ہونی چاہیے کہ آپ کی عقل کیا کر دے؟ خود فیصلہ کر دے کہ بات اب یقین کی حد کو پہنچ گئی، اتنے لوگوں نے مجھے بتلا دیا تو یقیناً یقیناً بات ایسی ہی ہے، اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، تو اس میں کوئی عدد متعین نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: واختلفوا في اقل عدد هذه الجماعة، اور اختلاف کیا گیا ہے اس جماعت کی کم سے کم تعداد کے اندر۔ قيل، کہا گیا ہے: ان اقلہ اربعة، کہ اس کی کم سے کم تعداد جو ہے اربعة، کتنی ہے؟ 4 ہے۔ وقيل عشرة، اور کہا گیا ہے 10 ہے۔ وقيل اربعون، اور کہا گیا ہے 40 ہے۔ والاشبہ، اور زیادہ مشابہ، اشبہ کا کیا معنیٰ؟ زیادہ مشابہ، یعنی حق کے زیادہ مشابہ، درستگی کے زیادہ مشابہ، یعنی زیادہ درست بات یہ ہے کہ ان هذا العدد يختلف باختلاف حال الذين اخبروہ، کہ یہ عدد مختلف ہوتا ہے یعنی بدلتا ہے باختلاف حال الذين اخبروہ، ان لوگوں نے جنہوں نے خبر دی ان کے حال کے بدلنے سے۔ یہ عدد بدلتا ہے ان لوگوں کے احوال کے بدلنے سے جنہوں نے خبر دی ہے۔
اگر قابل اعتماد قسم کے لوگ ہیں تو 8، 10 ہی آپ کو بتا دیں تو آپ کو یقین ہو جاتا ہے کہ بات ایسی ہی ہے۔ اور اگر قابل اعتماد زیادہ نہیں ہیں تو 40، 50 آ کر آپ کو بتلائیں گے پھر آپ کو یقین ہو گا کہ بات ایسی ہی ہے۔ اور اگر فاسق قسم کے لوگ خبر دینے والے ہیں تو پھر شاید 100، 150 پر جا کر آپ کو عقل کہے ہاں بھئی اتنے لوگ خبر دے رہے ہیں تو یقیناً بات ایسی ہے۔ تو معلوم ہوا کوئی عدد متعین نہیں بلکہ یہ سپردِ عقل ہے اور یہ عدد بدلتا ہے کس کے احوال کے اعتبار سے؟ خبر دینے والوں کے احوال سے۔ وہ کس قسم کے لوگ خبر دے رہے ہیں، قابل اعتماد ہیں یا قابل اعتماد نہیں؟ قابل اعتماد ہیں تو تھوڑے سے یقین آ جائے گا اور قابل اعتماد نہیں تو زیادہ کے خبر دینے کے بعد یقین حاصل ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ معنیٰ ہے والاشبہ ان هذا العدد يختلف باختلاف حال الذين اخبروہ کہ یہ زیادہ مشابہ یہ ہے یعنی زیادہ درست بات یہ ہے کہ یہ عدد جو ہے يختلف، بدلتا ہے باختلاف حال الذين اخبروہ، ان لوگوں کے حال کے بدلنے سے جنہوں نے اس کو خبر دی ہے، واختلاف الواقعة، اور واقعے کے بدلنے سے بھئی۔ مختلف قسم کے واقعات ہوتے ہیں، بعض واقعات کے اندر چند لوگ بھی بتا دیں تو انسان کو یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی بات اس طرح ہے اور بعض اوقات واقعہ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اس میں زیادہ لوگ خبر دیں تو پھر انسان کو یقین حاصل ہوتا ہے۔
فلا يتعين عدد، تو کوئی عدد متعین نہیں ہے، والضابطة، اور ضابطہ یہ ہے، ضابطہ یہ ہے: ان يبلغ الى حد يفيد اليقين، کہ یہ تعداد پہنچ جائے ایک ایسی حد تک يفيد اليقين، جو کس چیز کا فائدہ دے؟ جو یقین کا فائدہ دے، آپ کا ذہن خود اس یقین پر آ جائے اور فیصلہ کر دے کہ اب بات یقینی ہو گئی، اتنے لوگوں نے بتلائی بھئی۔ تو ضابطہ اس میں یہ ہے کہ یہ عدد پہنچ جائے ایک ایسی حد تک جو یقین کا فائدہ دے۔
فهذه الستة هي مبادي البراهين ومقاطع الدليل ومنتهى اليقين، پس یہ 6 جو ہیں، کون سے 6 بھئی؟ اولیات، فطریات، حدسیات، مشاهدات، تجربیات اور متواترات۔ یہ 6 جو ہیں هي مبادي البراهين، یہ براہین کی مبادی ہیں، ابتدائی چیزیں ہیں۔ برہان کی جمع ہے نا براہین! وہ دلیل جو یقینیات سے، وہ قیاس جو یقینیات سے مرکب ہو اس کو برہان کہتے تھے۔ تو کہتے ہیں یہ 6 جو ہیں مبادی ہیں ابتدائی قضایا ہیں، کس کے لیے؟ یہ 6 بدیہیات جو ہیں یہ مبادی ہیں براہین کے لیے، ومقاطع الدليل، مقاطع جمع مقطع کی، مقطع بھئی، قطعی ہونے کی جگہ، مقطع کا کیا معنیٰ؟ قطعی ہونے کی جگہ یا وقت بھئی، اور ومقاطع الدليل، دلیلوں کے قطعی ہونے کی جگہ، دلیلوں کے قطعی ہونے کی جگہ ہے، ومنتهى اليقين، اور یقین کی انتہا ہے بھئی، یقین کی؟ یہ 6 جو ہیں بدیہیات، بدیہیات ہیں بھئی، تو یہ 6 بدیہیات جو ہیں یہ برہانوں کے مبادی ہیں اور دلیلوں کے قطعی ہونے کی جگہ ہیں اور یقین کی انتہا ہیں، یعنی ان کے ذریعے انتہا درجے کا یقین حاصل ہوتا ہے، ان کے ذریعے قطعی دلیل بنتی ہے، بڑی پکی اور قطعی یقینی قسم کی دلیل بنتی ہے اور یہ مبادی، انہی کے ذریعے کیا بنتے ہیں؟ برہان بھی انہی سے بنتی ہے جو وہ قیاس جو یقینیات سے مرکب ہو بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟
فائدة، اي هذه فائدة، یہ ایک الگ فائدہ ذکر کر رہے ہیں۔ یہ ایک فائدہ ہے: زعم قوم، گمان کیا ہے ایک قوم نے یعنی کچھ لوگوں نے، قوم کا کیا معنیٰ؟ لوگ بھئی، گمان کیا ہے کچھ لوگوں نے کہ ان المقدمات النقلية، کہ جو نقلی مقدمات ہیں لا تستعمل في القياس، یہ قیاس میں استعمال، في القياس البرهاني، یہ استعمال نہیں کیے جا سکتے قیاسِ برہانی میں۔
بھئی دیکھیے، اب ایک الگ بات ذکر کرنے لگے ہیں، الگ بات یہ کہتے ہیں ہم نے تو بتلا دیا کہ بدیہیات کی یہ 6 قسمیں ہیں اور ان 6 قسموں میں سے آخری قسم کون سی آئی؟ متواترات، متواترات، اور متواترات جن کو کہتے تھے جس میں لوگوں نے آپ کو خبر دی ہے، یعنی یہ بات آپ کو نقل کے ذریعے معلوم ہوئی ہے، کس کے ذریعے؟ لوگوں نے ایک بات نقل کی نا آپ کے سامنے! آپ کے سامنے نقل کا معنیٰ بیان، یعنی آپ کے سامنے بیان کی، آپ نے خود اس چیز کو نہیں دیکھا لیکن انہوں نے یہ بات نقل کی ہے، ذکر کیا آپ کے سامنے، کیا کیا ہے؟ انہوں نے آپ کے سامنے ذکر کی، نہ آپ نے اس کا مشاہدہ کیا ہے وغیرہ کچھ بھی نہیں کیا، تو لوگوں کی نقل کے واسطے سے یہ بات آپ تک پہنچتی ہے، پہنچی ہے۔ تو یہ جو مقدمات آئے، یہ جو قضایا آئے، یہ ہوئے قضائے نقلیہ۔ کس طریقے سے پہنچے آپ تک؟ نقل کے ذریعے، کبھی ہو سکتا ہے جس جماعت نے خبر دی ہے وہ خود مشاہدہ کر کے آئی ہو گی، اس نے آ کر آپ کے سامنے یہ بات نقل کی کہ بھئی معاملہ اس طرح ہے، فلاں جگہ پر ایک ایسی چیز ہے۔ کبھی انہوں نے آگے کسی اور سے سنا ہو گا، انہوں نے آگے کسی اور سے سنا ہو گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بہرحال پہنچی کس طرح آپ کو؟ نقل کے ذریعے یہ بات، نقل در نقل کے ذریعے آپ تک یہ بات پہنچی۔
تو بعض مناطقہ اس طرف گئے ہیں، بعض مناطقہ اور فلاسفہ، وہ کہتے ہیں یہ جو قضایا آپ تک پہنچے کس کے ذریعے؟ نقل کے ذریعے، یہ قیاسِ برہانی میں استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ یہ قضایا جو کس کے ذریعے، یہ باتیں جو آپ کو کس کے ذریعے پہنچیں؟ نقل کے ذریعے، ان کو قیاسِ برہانی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ بھئی کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ نقل میں بسا اوقات غلطی ہو جاتی ہے، کیا ہو جاتی ہے؟ غلطی ہوتی ہے، ایک آدمی غلطی کر جاتا ہے اور بھول کر کچھ، کہنا کچھ تھا کہہ کوئی اور بات کر دی اس نے، بھول گیا تھا بات، اس کو یاد ہی نہیں تھی اور بس وہ آگے نقل در نقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ یا ہو سکتا ہے ان میں سے کسی نے جھوٹ بول دیا ہو، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو بہت سے احتمالات آ گئے یہاں پر غلطی کے، اور قیاسِ برہانی؟ وہ تو کس سے مرکب ہوتا ہے؟ وہ تو یقینیات سے مرکب ہوتا ہے، اور یہاں پر تو خطا اور غلطی کے احتمالات آ گئے، لہٰذا اس کو قیاسِ برہانی کے لیے استعمال نہیں کیا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ مشکل بات تو نہیں، آسان سی بات ہے بھئی کہ لہٰذا چونکہ ان میں غلطی اور خطا کا بہت احتمال ہے لہٰذا اس وجہ سے ان کو قیاسِ برہانی میں استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ قیاسِ برہانی تو یقینیات سے مرکب ہوتا ہے اور اس میں تو غلطی کے بہت احتمالات آ گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
یہ اس کو رد کریں گے کہ نہیں بھئی! آپ کا یہ گمان غلط ہے، آپ کا یہ گمان غلط ہے کہ اس میں غلطی آ جاتی ہے، بلکہ غلط کیا ہے؟ گناہ ہی سمجھیں اس کو بھئی، آپ کا یہ گمان گناہ کی طرح ہے بھئی۔ جب بہت لوگ خبر دینے والے ہوں اور عقل بھی دیکھ ان میں اس کی شرائط کا بھی لحاظ ہو اور عقل بھی فیصلہ کرے کہ پھر بات ایسی ہی ہو گی۔ بعض باتیں ایسی ہیں ان کے ہزار آدمی بھی خبر دے دیں، آپ ان کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ ہزار آدمی بھی آ کر آپ کو کہہ دیں تو آپ ان کی بات کو تسلیم نہیں کریں گے، مثلاً کیا کہیں آپ کو؟ کوئی خلافِ عقل بات فرض کر لیں! جی؟ ہاں مثلاً ہندو دیکھو ہزاروں لاکھوں کہتے ہیں یہ بت خدا ہیں، لیکن آپ تسلیم نہیں کرتے، بت کیسے خدا ہو سکتا ہے؟ ممکن ہی نہیں ہے بھئی، اپنا خالق کیسے مانتے ہو بھئی؟ آپ نے اس کو بنایا اور اب یہ تو آپ کا خالق بن بیٹھا بھئی، یہ کیسے بھئی؟ یہ نہ بول سکتا ہے نہ حرکت کر سکتا ہے۔ یا کوئی اور آپ سے کہتا ہے مثلاً کہ لاہور سے چند کلومیٹر آگے نکلیں تو زمین اوپر ہو جاتی ہے آسمان نیچے ہو جاتا ہے بھئی۔ اب آپ کو ہزار آدمی بھی آ کر آپ کو بتائیں آپ کہیں گے عقلاً ممکن ہی نہیں ہے ایک بات بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا اور کوئی مثال، کوئی بھی مثال بنا لیں، ہاں لاہور سے چند کلومیٹر آگے نکلیں تو یہ جو یہ جو سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیاں ہیں یہ خود ہی ہوا میں چلنا شروع ہو جاتی ہیں، آپ کہیں گے یہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ تو کوئی بھی خلافِ عقل، تو اس میں نقل کے اندر کہتے ہیں نقل کی جب شرائط کا لحاظ رکھا جائے اور عقل بھی اس کو تسلیم کرے کہ یہ عقل کے مطابق ہے یہ بات، پھر تو اس کے بعد یقین ہی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، پھر اس میں غلطی کا احتمال باقی نہیں رہتا۔ انہوں نے یہی کہا تھا نا کہ اس میں غلطی کا احتمال ہو سکتا ہے، صرف نقل کی بنیاد پر یقینی بات حاصل نہیں ہوتی، ہم نے بتلا دیا کہ نہیں بھئی، جب اس کی شرائط کا لحاظ رکھا جائے متواتر کی اور عقل بھی اس کو تسلیم کرے کہ یہ بات خلافِ عقل نہیں ہے، یہ تو ٹھیک بات کر رہا ہے، تو پھر اس وقت اس سے کون سا علم حاصل ہوتا ہے؟ یقینی علم حاصل ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی؟
فائدة، زعم قوم، گمان کیا ہے کچھ لوگوں نے، کون مراد ہیں کچھ لوگوں سے؟ کچھ مناطقہ اور فلاسفہ بھئی، یا یہ معتزلہ کہتے ہیں وہ مراد ہیں، یہ بھی اسی طرح منطق اور فلسفے کے بڑے ماہر گزرے ہیں، گمراہ لوگ تھے بھئی۔ یہ گمان کیا بعض لوگوں نے کہ ان المقدمات النقلية، کہ نقلی مقدمات جو ہیں لا تستعمل في القياس البرهاني، یہ استعمال نہیں کیے جا سکتے قیاسِ برہانی میں، ظنا منهم، یہ گمان کرتے ہوئے ان کی طرف اپنی طرف سے کہ ان النقل يتطرق اليه الغلط والخطا من وجوہ شتى، کہ نقل جو ہے، يتطرق کے معنیٰ ہوتے ہیں پہنچنا، داخل ہونا، کہ نقل جو ہے اس میں اس کی طرف پہنچتے ہیں یا اس میں داخل ہوتے ہیں، کیا؟ پہنچتی ہے نقل تک الغلط والخطا، غلطی اور خطا بھی اس میں داخل ہو جاتی ہے اس تک پہنچ جاتی ہے من وجوہ شتى، مختلف طریقوں سے، من وجوہ شتى، مختلف طریقوں سے۔ فكيف يكون مبادي القياس البرهاني الذي يفيد القطع، تو پھر یہ کیسے ہو سکتے ہیں مبادی اس قیاسِ برہانی کے الذي يفيد القطع، جو کس کا فائدہ دیتے ہیں؟ یقین کا فائدہ دیتے ہیں، قطعی ہونے کا فائدہ دیتے ہیں، ان میں تو غلطی اور خطا بھی آ جاتی ہے اور قیاسِ برہانی تو کن مقدمات سے مرکب ہوتا ہے؟ یقینیات سے، تو ان میں تو متواترات میں تو غلطی کا بھی احتمال، جب ان میں غلطی کا احتمال تو یہ قیاسِ برہانی کے لیے مقدمات نہیں بن سکتے کیونکہ ان کا تو یقینی ہونا ضروری ہے۔
وان هذا الظن اثم، اور یہ گمان تو گناہ ہے۔ یہ گمان تو گناہ ہے، یہ بھی نہیں کہا غلط ہے بلکہ یہ تو غلط نہیں اس سے بڑھ کر، یہ تو گناہ کی طرح کا گمان ہے، اتنا غلط گمان! کہتے ہیں اس لیے کیونکہ لان النقل كثيرا ما يفيد القطع، اس لیے کیونکہ نقل بسا اوقات یقین کا فائدہ دیتی ہے اذا روعي فيه الشرائط، جب اس میں رعایت رکھی جائے شرائط کی وانضم اليه العقل، اور مل جائے اس کے ساتھ عقل بھی، جب ان میں شرائط کی بھی رعایت رکھی جائے اور عقل بھی ساتھ مل جائے، عقل بھی فیصلہ کر دے کہ یہ بات اسی طرح ہے، یہ خلافِ عقل نہیں۔ نعم، ہاں! لو قيل، اگر یہ کہا جائے کہ ان النقل صرفا بلا اعتبار انضمام العقل معه لا يعتبر، یہاں سے کہہ رہے ہیں ایک صورت میں ان کی بات مانی جا سکتی ہے، ان کی بات کہنے کی مطلب یہ ہو گا کہ صرف نقل ہو جہاں پر، نہ اس کی شرائط ہوں، نہ عقل کو ساتھ ملایا، عقل پر بھی نہیں اس کو پرکھا، ہم نے تو کیا کہا تھا؟ عقل پر بھی پرکھیں، عقل بھی کہے کہ ہاں یہ بات اس طرح ہو گی، خلافِ عقل نہ ہو جیسے ابھی میں نے مثال ذکر کی کہ گاڑیاں اڑنے لگیں یا آسمان نیچے چلا گیا زمین اوپر چلی گئی بھئی لاہور سے نکلتے ہی بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان کے کہنے کا اگر یہ مطلب ہے کہ جب اس کے نقل کے ساتھ عقل نہ ملائی گئی ہو، عقل نہ ملی ہوئی ہو پھر تو ٹھیک ہے ان کی بات کی کوئی وجہ بنتی ہے، صرف صرف نقل ہو عقل ساتھ نہ ہو تو پھر تو اس میں غلطی کا احتمال ہے، لیکن اگر نقل کے ساتھ ساتھ عقل بھی اس کی تائید کر رہی ہے شرائط بھی پوری ہیں تو پھر اس میں یقین ہی کا فائدہ حاصل ہو گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ کہ نہیں آئی سمجھ میں بات؟
3
ان کی بات صحیح ہونے کی کیا صورت ہے کہ ان کی کیا مراد ہو؟ صرف نقل ہی نقل ہو۔ اس میں عقل کا دخل عقل کو اپ ساتھ ملائیں ہی نہ، سوچیں نہ کہ یہ کس قسم کی بات ہے بس صرف نقل پر اعتماد کریں تو پھر تو ہو سکتا ہے غلطی کا احتمال۔ لیکن جب اپ اس کو اپنی عقل پر بھی پرکھیں گے، عقل کو بھی ساتھ ملائیں گے اور پھر اس کے بعد عقل بھی کہہ دے یہ ٹھیک ہے بات، شرائط بھی پوری، عقل نے بھی تائید کر دی، نقل کرنے والے بھی بہت سارے ہیں تو پھر تو کس قسم کی بات حاصل ہوگی؟ انتہا درجے کی یقینی بات ہی حاصل ہوگی۔
سمجھ میں آئی بات؟ دیکھو مثلاً ہم تک قرآن تواتر کے ذریعے پہنچا ہے۔ ہم تک یہ نمازوں کی تعداد تواتر کے ذریعے پہنچی ہے۔ ہم تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اور ان کی باتیں کس طریقے پر پہنچی ہیں؟ تواتر کے طریقے پر یہ دین ہمیں پہنچا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو دیکھ اور ہمیں کہیں شک و شبہ ہے اس میں کہ ہو سکتا ہے یہ قرآن وہ والا نہ ہو؟ ہو سکتا ہے یہ حدیث وہ والی نہ ہو، نہیں نہیں ہمیں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں کہ ہو سکتا ہے جی اس وقت پانچ نمازیں نہ ہوں اس وقت تین ہوں اب لوگوں نے بڑھا کر پانچ کر دیں یا ہو سکتا ہے اس وقت دس تھیں اب لوگوں نے کم کرکے پانچ کر دیں نہیں، اتنے لوگ خبر دینے والے ہیں ہر ہر زمانے میں۔
اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تو چودہ ساڑھے چودہ سو سال گزر گئے اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں جو دین کی باتیں پہنچیں ان پر ہمیں کتنا یقین ہے، اس وجہ سے کہ یہ کس طریقے پر پہنچی ہیں؟ یہ جو پہنچی نقل کے ذریعے ہیں اور نقل کرنے والے اتنے لوگ ہیں۔ آپ کہیں بھی چلے جائیں دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں آپ دیکھیں گے مسلمان پانچ ہی نمازیں پڑھتے ہیں، مسلمان یہی والا قرآن پڑھتے ہیں۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ تو سارے اسی کی خبر دے رہے ہیں، معلوم ہوا بات اسی طرح ہے اس میں کسی قسم کے شک و شبے کی گنجائش نہیں۔ تو دیکھو معلوم ہوا تواتر یقین کا فائدہ دیتا ہے بھئی۔
صورت سمجھ میں آگئی؟ ہاں اب ان کا جواب دے رہے ہیں: "لو نعم لو قیل ان النقل الصرف بلا اعتبار انضمام العقل معہ" یعنی صرف نقل بغیر اس کے ساتھ عقل کے ملنے کا اعتبار کیے صرف نقل کا اعتبار نہیں ہے جب تک اس کے ساتھ عقل نہ ملے۔
"ولا مفید" اور صرف نقل فائدہ نہیں دیتی، اگر یہ کہا جائے کہ نقل صرف نقل بغیر عقل کے ملائے ہوئے، بغیر عقل کے ملے ہوئے صرف نقل کا اعتبار بھی نہیں اور یہ کوئی فائدہ بھی نہیں دیتا "لکان لہ وجہ" تو پھر اس کی تو کوئی وجہ ہے۔ پھر اس کی تو وجہ بن جاتی ہے ہاں ٹھیک ہے صرف صرف نقل کو دیکھا جائے، عقل اس میں دخل ہی نہ دے پھر تو اس میں غلطی اور خطا کا احتمال ہے، لیکن اگر عقل بھی ساتھ ملی ہوئی ہو پھر اس میں غلطی اور خطا کا احتمال باقی نہیں رہتا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔