Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-093

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 42
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 93 1 وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فِي الْحَدْسِ، فَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ قَوِيُّ الْحَدْسِ كَثِيرُهُ، يَحْصُلُ لَهُ مِنَ الْمَطَالِبِ أَكْثَرُهَا بِالْحَدْسِ، كَالْمُؤَيَّدِ بِالْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ كَالْحُكَمَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالْأَنْبِيَاءِ، وَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ قَلِيلُ الْحَدْسِ ضَعِيفُهُ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَا حَدْسَ لَهُ كَالْمُنْتَهِي فِي الْبَلَادَةِ۔ بھئی گزشتہ سبق میں قیاس برہانی کی تفصیل بیان ہو رہی تھی، اور آپ نے پڑھا تھا کہ قیاس برہانی جو ہے یہ سب سے قوی قسم ہے قیاس کی، جو ایسے قضایا سے مرکب ہوتا ہے جو یقینی ہوتے ہیں بھئی۔ کیا ہوتے ہیں؟ یقینی ہوتے ہیں۔ اور یہ قضایا جو ہیں بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظری بھی ہو سکتے ہیں جن کی انتہا بدیہی پر ہو رہی ہو بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا کہ بدیہیات جو ہیں وہ چھ قسم پر ہیں بھئی۔ ایک اولیات ہیں، دوسرے فطریات، تیسرے حدسیات، چوتھے مشاهدات، پانچویں تجربیات، اور چھٹا ہے متواترات بھئی۔ اولیات کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ وہ قضایا کہ جن میں محکوم علیہ اور محکوم، یا یوں کہیں موضوع اور محمول اور نسبت کا تصور کرتے ہی ذہن ان کو فوراً تسلیم کر لے اور اس میں کسی واسطے کی ضرورت نہ ہو۔ جبکہ فطریات وہ ہیں جن میں واسطے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ واسطہ ذہن ہی میں موجود ہوتا ہے، اور وہاں وہ قضیے کو سنتے ہی ذہن اس کو تسلیم کر لیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ واسطہ بھی فوراً ذہن میں آ جاتا ہے۔ تو فرق صرف یہ ہوا اولیات اور فطریات میں کہ اولیات میں ذہن واسطے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، جبکہ فطریات میں ذہن فوراً واسطے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ لیکن اسی اولیات میں اگر آپ کے ذہن میں ساتھ ہی واسطہ آ جاتا ہے تو پھر وہ اولیات میں سے نہ رہے گا بلکہ کس میں سے ہو جائے گا؟ فطریات۔ واسطہ دونوں میں ہوتا ہے، اولیات میں بھی اور فطریات میں بھی، لیکن اولیات میں ذہن واسطے کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا بھئی، جبکہ فطریات میں ذہن واسطے کی طرف متوجہ ہوتا ہے بھئی۔ اور تیسری قسم حدسیات تھی بھئی۔ اور حدسیات آپ نے پڑھا کہ ایک حدس ہے اور ایک فکر ہے۔ حدس میں ذہن ایک دم مبادی سے نتیجے تک پہنچ جاتا ہے۔ غور و فکر کی ضرورت نہیں پڑتی بھئی غور و فکر کی۔ اور جبکہ فکر کے اندر غور کرنا پڑتا ہے اور ذہن دو حرکتیں کرتا ہے؛ ایک کہ جو مطلوب ہے وہ جو کچھ کسی نہ کسی درجے میں پہلے معلوم تھا، تو اس میں ذہن جو ہے اس کے معانی کے اندر فوراً اس کی طرف جاتا ہے اور ان میں سے انتخاب کرتا ہے جن جن معانی کی ہمیں ضرورت پیش آئے گی مطلوب تک پہنچنے کے لیے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر دوسری حرکت یہ کرتا ہے کہ جب ان معانی کو چن لیتا ہے تو اس کے بعد ان کو ترتیب دیتا ہے۔ میں نے اس کی مثال سے وضاحت کی تھی، مثلاً آپ نے گھڑی تیار کرنی ہے، گھڑی کے پرزے آپ کو سارے دے دیے گئے لیکن وہ پرزے اور مشینوں کے پرزے بھی بیچ میں آ گئے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یا یوں کہیں، ایک چھوٹی گھڑی ہے، ایک بڑی گھڑی ہے، دونوں کے پرزے اکٹھے پڑے ہوئے ہیں، مکس پڑے ہیں۔ آپ نے چھوٹی گھڑی بنانی ہے تو دو کام کرنا پڑیں گے آپ کو۔ پہلے ان پرزوں میں غور کر کے ان میں سے چھوٹی گھڑی کے پرزے الگ کریں گے، یہ ہوا انتخاب بھئی۔ پھر دوسرا عمل کیا کریں گے کہ ان کو ترتیب سے جوڑ لیں گے تو پھر آپ کو گھڑی حاصل ہو جائے گی بھئی۔ تو یہ فکر میں دو حرکتیں ہوتی ہیں۔ جبکہ حدس کے اندر یہ حرکتیں نہیں، وہاں ذہن فوراً مطلوب تک پہنچ جاتا ہے مبادی سے بھئی۔ اور اس کی بھی میں نے مثال سے وضاحت کی تھی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جیسے ابتداء میں ایک ایک قاعدہ ہمیں یاد کرنا پڑتا تھا اور پھر جب عبارت آتی ایک ایک چیز پہ غور کرنا پڑتا تھا۔ "جَاءَنِي زَيْدٌ"، زید پہ غور کرتے تھے کہ اس پر کون سی اعراب پڑھنا ہے، کیوں پڑھنا ہے، اس کی وجہ کیا ہے۔ لیکن جب یہی مشق ہوتی چلی گئی، مشق بار بار مشق ہوتی چلی گئی، تو پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ انسان جو ہے اس کو ذرا بھی غور نہیں کرنا پڑتا، فوراً ہی جملہ سنتے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ "جَاءَنِي زَيْدٌ" میں زیدٌ پر کیا پڑھیں گے؟ رفع پڑھیں گے اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی ذہن میں آ جاتی ہے کہ یہ کیونکہ فاعل ہے اور فاعل کیا ہوا کرتا ہے؟ مرفوع۔ تو ذرا بھی غور نہیں کرنا پڑتا۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو دیکھو، ابتدائی درجات میں طلباء کو ایک ایک عبارت کے، ایک ایک لفظ پہ بڑا غور کرنا پڑتا ہے، یہ ہے فکر۔ اور یہی طالب علم جب آخری درجوں میں پہنچتا ہے، بڑی رفتار سے عبارت پڑھ رہا ہوتا ہے۔ وجہ کیا ہوتی ہے؟ اب اس کو حدس حاصل ہو گیا بھئی۔ فوراً وہ مبادی سے کہاں تک پہنچ جاتا ہے؟ نتیجے تک۔ یہاں کیا پڑھنا ہے؟ یہاں کیا پڑھنا ہے؟ فوراً ذہن آنًا فآنًا فیصلہ کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ جوں جوں عبارت پڑھ رہا ہوتا ہے، ذہن فیصلہ کر کے بتا رہا ہوتا ہے یہاں کیا کیا پڑھنا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ نہیں کہ اس کو ایک ایک لفظ پہ غور کرنا پڑتا ہے۔ وہ پڑھتا جا رہا ہے اور کتنی تیزی سے زبان سے لفظ ادا ہو رہے ہیں۔ ایک لفظ ادا ہو رہا ہوتا ہے، اگلے لفظ تک پہنچتے پہنچتے ذہن بتا چکا ہوتا ہے کہ اس پہ کیا پڑھنا ہے، اس سے اگلے تک پہنچتا ہے اس میں، یعنی لمحوں کے اندر یہ فیصلہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے حدس بھئی۔ اور یہ بھی آپ نے پڑھا کہ یہ اکثر جو ہے عموماً جو ہے شوق اور محنت اور مشقت کی وجہ سے آتا ہے۔ تو یہ طالب علم کئی سال تک شوق سے اور محنت سے لگا رہا، تو پھر بالآخر اسے یہ حدس حاصل ہو گیا، اب اسے ذرا بھی نہیں سوچنا پڑتا، بڑی رفتار سے سمجھتا چلا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جیسے یہ کتاب ہم نے شروع کی تھی ابتداء کے اندر، کوئی بات سمجھانی ہوئی تو بڑی لمبی تقریر کرنا پڑے گی، آپ کو سمجھانا پڑے گا۔ لیکن پھر وہی چیز جب کئی دفعہ ذہن میں آ جاتی ہے تو ہلکا سا اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، آپ فوراً اس کو سمجھ جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ ہے حدس بھئی، اور یہ عموماً کس کے ذریعے آتا ہے؟ شوق اور محنت کے ذریعے، مشقت کے ذریعے۔ آگے دیکھیے کتاب پر۔ کہتے ہیں: "وَالنَّاسُ مُخْتَلِفُونَ فِي الْحَدْسِ"، لوگ جو ہیں حدس میں مختلف ہیں بھئی۔ لوگ کیا ہیں حدس میں؟ مختلف ہیں۔ "فَمِنْهُمْ مَنْ هُوَ قَوِيُّ الْحَدْسِ كَثِيرُهُ"—کثیرہٌ تو نہیں آپ کی کتابوں میں؟ ہاں، کثیرہٌ نہیں، کثِیرُهُ، یہ "ہ" ضمیر ہے اور یہ حدس ہی کو راجع ہے۔ پس ان میں سے بعض وہ ہیں، بعض لوگ، "مَنْ هُوَ قَوِيُّ الْحَدْسِ" جو بڑے قوی حدس والے ہوتے ہیں، جن کا حدس کیا ہوتا ہے؟ بڑا قوی ہوتا ہے، جن کی یہ قوت بڑی قوی ہوتی ہے۔ "كَثِيرُهُ" یعنی کثیر الحدس، اور بڑے کثیر حدس والے ہوتے ہیں۔ لوگ بعد میں کیا ہوتے ہیں؟ بڑے قوی اور بڑے کثیر حدس والے ہوتے ہیں۔ "يَحْصُلُ لَهُ مِنَ الْمَطَالِبِ أَكْثَرُهَا بِالْحَدْسِ"، ان کو حاصل ہوتے ہیں مطالب وہی مطلوب بھئی، وہ جو مطلوب چیزیں ہیں جو مقصود ہوتی ہیں، تو مطالب ان کو حاصل ہوتے ہیں "أَكْثَرُهَا" ان میں سے اکثر "بِالْحَدْسِ" کس کے ذریعے حاصل ہو جاتے ہیں؟ حدس کے ذریعے۔ بھئی بعض لوگوں کی قوت جو ہے بڑی قوی ہوتی ہے یہ حدس، اور بہت زیادہ ہوتی ہے، تو اکثر باتیں ان کو حدس کے ذریعے فوراً ہی نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ "كَالْمُؤَيَّدِ بِالْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ" جیسے وہ شخص جس کی تائید کی گئی ہو۔ مؤید، ایّد یؤید تائید کا معنی ہوتا ہے دوسرے کو قوت دینا، مضبوط بنانا۔ "كَالْمُؤَيَّدِ" جیسے وہ شخص جس کی تائید کی گئی ہو، جس کو قوت دی گئی ہو، یا یوں کہیں جس کو قوی بنایا گیا ہو بھئی، "بِالْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ"۔ قدس کہتے ہیں بابرکت ہونا بھئی، بابرکت۔ قوت قدسیہ یعنی بابرکت قوت بھئی۔ قوت قدسیہ کیا ہے؟ یعنی اللہ کی طرف سے خاص انوارات ان کو حاصل ہوتے ہیں، جس کے ذریعے وہ فوراً ابتدائی بات سنتے ہی فوراً کہاں تک ان کا ذہن پہنچ جاتا ہے؟ نتیجے تک پہنچ جاتا ہے، تو یہ وہ نور الٰہی کے ذریعے ان کو قوت دی گئی ہوتی ہے بھئی۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ "كَالْحُكَمَاءِ" جیسے کہ فلاسفہ ہیں بھئی۔ فلاسفہ، ذہن تیز ہے، یقیناً اللہ کی طرف سے کیا ہو رہی ہے؟ خاص قوت دی گئی ہے، خاص برکات اس کو دی گئی ہیں کہ اس کا ذہن فوراً—عام آدمی کو تو بعض جگہ بڑا غور کرنا پڑتا ہے اور وہ فوراً نتیجے تک اور گہرائی تک چلا جاتا ہے بھئی ان کا ذہن۔ "كَالْحُكَمَاءِ" جیسے کہ حکماء یعنی فلاسفہ ہیں، "وَالْأَوْلِيَاءِ" اور اللہ کے اولیاء ہیں، "وَالْأَنْبِيَاءِ" اور جو انبیاء ہیں بھئی۔ "وَمِنْهُمْ" اور ان لوگوں میں سے بعض جو ہیں "مَنْ هُوَ قَلِيلُ الْحَدْسِ" جو بہت تھوڑے حدس والے ہوتے ہیں، "ضَعِيفُهُ"—یہاں ضعیفةٌ ہوگا آپ کی کتابوں میں، یہ بھی ضعیفُہ ہے "ہ" ضمیر ہے بھئی۔ "مَنْ هُوَ قَلِيلُ الْحَدْسِ" اور "ضَعِيفُهُ" کی "ہ" ضمیر پھر حدس ہی کو راجع ہے، یعنی ضعیف الحدس۔ تو لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو قلیل الحدس ہیں، ضعیف الحدس ہیں۔ ان کا حدس ہوتا بھی تھوڑا ہے اور ہوتا بھی کس قسم کا ہے؟ ضعیف، کمزور سا ہوتا ہے۔ "وَمِنْهُمْ مَنْ لَا حَدْسَ لَهُ" اور بعض وہ لوگ ہیں جن میں سے سرے سے حدس ہوتا ہی نہیں۔ "كَالْمُنْتَهِي فِي الْبَلَادَةِ"۔ بلادت کہتے ہیں کند ذہن ہونا، کند ذہن۔ ذہن کا کمزور ہونا بھئی۔ "كَالْمُنْتَهِي فِي الْبَلَادَةِ"، منتہی یعنی انتہا کو پہنچا ہوا۔ "كَالْمُنْتَهِي فِي الْبَلَادَةِ" جیسے وہ شخص جو کند ذہنی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو، جس کی سمجھ بڑی تھوڑی ہو۔ کند ذہنی میں، ذہن کمزور ہے جس کو بات جلدی سمجھ نہیں آتی اس کو کند ذہن کہتے ہیں۔ تو جو شخص کند ذہنی میں انتہا کو پہنچا ہوا ہو یعنی بڑی ہی کم بات اس کو سمجھ میں آتی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ بعض لوگ قوی الحدس ہوتے ہیں اور کثیر الحدس ہوتے ہیں۔ بعض لوگ جو ہیں وہ قلیل الحدس، ضعیف الحدس ہوتے ہیں۔ اور بعض میں سرے سے حدس ہوتا ہی نہیں ہے بھئی۔ "وَمِنْ هَذَا يُعْلَمُ" کہتے ہیں: یہاں سے یہ بات معلوم ہوئی "أَنَّ الْبَدَاهَةَ وَالنَّظَرِيَّةَ مُخْتَلِفَانِ بِالْأَشْخَاصِ" کہ بدیہی اور نظری ہونا یہ دونوں مختلف ہوتے ہیں لوگوں کے اعتبار سے "وَالْأَوْقَاتِ" اور اوقات کے اعتبار سے۔ یہ دونوں چیزیں کیا ہوتی ہیں؟ مختلف ہوتی ہیں اشخاص، شخصوں کے اعتبار سے بھی اور اوقات کے بھی اعتبار سے بھئی، اوقات۔ کیا چیز؟ بدیہی اور نظری ہونا۔ بھئی دیکھیے، جس کے جو جس کے، جس کا حدس بڑا قوی ہے، کثیر ہے، وہ ایک بات کو سنتے ہی فوراً نتیجے تک پہنچ جاتا ہے بھئی۔ معلوم ہوا اس کے لیے یہ چیز بدیہی ہے۔ کیا ہے؟ بدیہی ہے۔ اور دوسرے آدمی کو اسی بات میں بڑا غور کرنا پڑتا ہے، اسی کے لیے وہی چیز نظری بن گئی بھئی۔ تو ایک ہی چیز ایک آدمی کے اعتبار سے بدیہی ہو اور دوسرے کے اعتبار سے نظری ہو۔ یہ کس وجہ سے ہوگا؟ یہ حدس ہی کی وجہ سے تو ہے۔ بعض میں حدس قوی ہے، ان کے لیے گہری باتیں بھی بدیہی کی طرح ہوتی ہیں۔ اور بعضوں کا حدس ضعیف ہوتا ہے، ان کے لیے اس طرح نہیں ہوتا، ذرا گہری بات آئی تو ان کو غور کرنا پڑتا ہے، تو ان کے لیے وہ نظری بن گئی۔ اور بعض جن میں تو حدس ہوتا ہی نہیں سرے سے، ان کے لیے تو بہت سی چیزیں ہی کیا بن جاتی ہیں؟ نظری بن جاتی ہیں بھئی۔ تو معلوم ہوا نظری لوگوں کے اعتبار سے مختلف۔ نیز اوقات کے اعتبار سے بھی مختلف ہوتا ہے بھئی، بدیہی اور نظری۔ اوقات کے اعتبار سے: ابتدائی طالب علم کے لیے اعراب میں بڑا غور کرنا پڑتا ہے، یہ چیزیں اس کے لیے نظری ہیں۔ اور یہی طالب علم جب چند سال پڑھے گا، محنت کرے گا، یہی چیزیں اس کے لیے کیا بن جائیں گی؟ بدیہی بن جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ اوقات، بچہ ہے اس کے لیے یہ چیزیں نظری ہوں گی، لیکن پھر آگے چل کر یہی چیزیں اس کے لیے کیا بن جائیں گی؟ بدیہی۔ تو دیکھیے، اوقات سے بھی فرق پڑتا ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَمِنْ هَذَا يُعْلَمُ أَنَّ الْبَدَاهَةَ وَالنَّظَرِيَّةَ مُخْتَلِفَانِ بِالْأَشْخَاصِ وَالْأَوْقَاتِ" کہ بداہت اور بدیہی اور نظری ہونا یہ دونوں مختلف ہوتے ہیں اشخاص اور اوقات کے اعتبار سے۔ "فَرُبَّ حَدْسِيٍّ عِنْدَ فَاقِدِ الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ يَكُونُ نَظَرِيًّا"۔ "فَرُبَّ حَدْسِيٍّ" پس بہت سے حدسی، بہت سی حدس والی باتیں "عِنْدَ فَاقِدِ الْقُوَّةِ الْقُدْسِيَّةِ"—فاقد، فَقَدَ کے معنی ہوتے ہیں چیز کو کھو دینا، گم کر دینا۔ تو یہاں مراد ہے فاقد القوة القدسیة، وہ شخص جس نے قوت قدسیہ کھو دی ہو۔ یا یوں کہیں، یہ تو لفظی ترجمہ میں نے کیا، مراد یہ ہے جس کے پاس قوت قدسیہ نہ ہو، جس کے پاس قوت قدسیہ—وہ انوار الٰہی، وہ برکات جس کو حاصل نہ ہوں—اس کے نزدیک بہت سی حدسی باتیں "يَكُونُ نَظَرِيًّا" وہ کیا ہوں گی؟ نظری ہوں گی۔ "وَبَدِيهِيًّا عِنْدَ صَاحِبِهَا" اور یہی باتیں بدیہی ہوں گی عند صاحبہا یعنی عند صاحب القوة القدسیة، جس کے پاس قوت قدسیہ ہے اس کے لیے یہی باتیں کیا ہو جائیں گی؟ بدیہی۔ تو بہت سی حدسی باتیں ہیں جو جس کے پاس قوت قدسیہ نہیں اس کے لیے وہ نظری ہوں گی، اور جس کے پاس قوت قدسیہ ہو اس کے لیے وہ باتیں نظری ہوں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وَرَابِعُهَا الْمُشَاهَدَاتُ"۔ جی، چوتھی قسم آ گئی بھئی بدیہیات کی۔ بدیہیات کتنے ہیں بھئی؟ یاد رکھنا بھئی، بار بار میں اسی لیے دہراتا ہوں کہ آپ کو بات اچھی طرح یاد ہو جائے بھئی۔ بدیہیات کل کتنے ہیں؟ چھ ہیں۔ نمبر ایک: اولیات۔ نمبر دو: فطریات۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟ کہ فطریات میں ذہن واسطے کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اولیات میں ذہن واسطے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ واسطہ دونوں میں ہوتا ہے، لیکن اولیات میں ذہن ذرا بھی ادھر کی طرف جاتا ہی نہیں ہے، اور فطریات میں ذہن اس طرف جاتا ہے، لیکن وہ ساتھ ہی موجود ہوتے ہیں بھئی۔ صورت، اور انہی کو کیا کہتے تھے؟ قضایا قیاساتہا معہا، ایسے قضایا جن کے قیاس ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں، قضیے کو سنتے ہی خود بخود قیاس بھی ساتھ آ جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد تیسری قسم کیا پڑھی بدیہیات کی؟ حدسیات۔ اب چوتھی قسم پڑھنے لگے ہیں مشاهدات۔ پانچویں اور چھٹی آگے آئیں گی: تجربیات اور متواترات بھئی۔ تو یہ کس کی قسمیں ہیں؟ بدیہیات کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَرَابِعُهَا الْمُشَاهَدَاتُ" چوتھی جو ہے ان چھ میں سے چوتھی قسم جو ہے وہ مشاهدات ہیں۔ "وَهِيَ قَضَايَا يُحْكَمُ فِيهَا بِوَاسِطَةِ الْمُشَاهَدَةِ وَالْإِحْسَاسِ"، یہ وہ قضیے ہیں "يُحْكَمُ فِيهَا" جن میں حکم لگایا جائے "بِوَاسِطَةِ الْمُشَاهَدَةِ وَالْإِحْسَاسِ" مشاہدے کے واسطے سے اور احساس کے واسطے سے۔ جن میں مشاہدے اور احساس—بھئی بعض چیزوں کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، ان کو محسوس کرتے ہیں۔ کیا کرتے ہیں؟ محسوس کرتے ہیں، ان کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کے ذریعے، وجہ سے حکم لگایا جاتا ہے۔ کہتے ہیں: "وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى قِسْمَيْنِ" یہ تقسیم ہوتے ہیں دو قسموں کی طرف، مشاهدات دو قسم پر ہیں۔ "الْأَوَّلُ مَا شُوهِدَ بِإِحْدَى الْحَوَاسِّ الظَّاهِرَةِ"—اچھا بھئی، یہ آگے حواسِ ظاہرِہ اور حواسِ باطنہ آ رہے ہیں۔ 2 ہیں۔ دیکھئیے حواس ظاہرہ بتلا رہے ہیں پانچ ہیں: الباصرة، و السامعة، و الشامة، و الذائقة، و اللامسة۔ یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ ہیں۔ یہ کیا ہیں؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ پانچ ہیں اور یہ حواسِ ظاہرہ ہیں۔ جبکہ دوسری قسم جو ہے وہ حواسِ خمسہ باطنہ ہیں۔ یہ اسی کے نیچے آ رہا ہے۔ ایک ہے: الحس المشترک۔ کیا ہے؟ حسِ مشترک۔ دوسری قسم ہے: و الخیال، خیال ہے۔ تیسرا ہے: وہم بھئی۔ چوتھا ہے: حافظہ۔ اور پانچواں ہے: قوتِ قوتِ متصرفہ ہے بھئی، قوتِ متصرفہ۔ تو حواسِ خمسہ ظاہرہ کیا ہوئے؟ باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ اور لامسہ۔ جبکہ حواسِ خمسہ باطنہ کیا ہوئے؟ حسِ مشترک، خیال، وہم، حافظہ اور قوتِ متصرفہ۔ یہ پانچ ہیں بھئی، یہ پانچ۔ بزرگ دیکھیے نفس جو ہے نا نفس، یہ ہے مدرک۔ یہ جو روح ہے، روح، یہ چیزوں کا بدن کے اندر اصل روح ہے۔ بدن صرف اس کا آلہ ہے جو اس کو اللہ نے روح کو دیا ہے جس کے ذریعے وہ مختلف کام سرانجام دیتی ہے۔ یہ بدن کیا ہے اس کے لیے روح کے لیے؟ آلہ ہے۔ جیسے آپ کے ہاتھ میں قلم ہو آپ لکھتے ہیں، یہ قلم آپ کے لیے آلہ ہے۔ تو اسی طرح روح اصل ہے اور یہ بدن اس کا آلہ ہے۔ چنانچہ جب روح بدن سے نکل جاتی ہے دیکھو یہی بدن بیکار ہو جاتا ہے۔ یہی بدن بھئی مردہ کہہ دیتے ہیں، انتقال ہو گیا۔ کیا ہوا دراصل؟ یہ روح بدن سے نکل گئی تو باقی بدن اسی طرح رہ گیا بیکار بھئی۔ تو اصل کیا چیز ہے؟ روح اور یہ بدن اس کا آلہ ہے، مختلف کام اس کے ذریعے روح کرتی ہے کسی طرف جانا ہو، کسی چیز کو اٹھانا ہے وغیرہ سب کام اس کے ذریعے ہوتے ہیں۔ تو اب یہ جو روح ہے یا جو نفس ہے بھئی نفس، تو یہ نفس حکماء کیا کہتے ہیں روح کو؟ نفس کہتے ہیں۔ تو یہ جو نفس ہے اس کو اللہ نے آلات دیے ہیں۔ جیسے ظاہری افعال کے لیے بدن دیا، اسی طرح کچھ اور آلات دیے جن کے ذریعے یہ علم حاصل کرتی ہے۔ حصولِ علم کے بعض ذرائع اللہ نے اس کو دے دیے، کس چیز کے؟ حصولِ علم کے بعض ذرائع اللہ نے دے دیے۔ جیسے مثلاً بھئی آپ ایک دفتر میں بیٹھے ہوں اور آپ نے دس آدمیوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ بھئی تم نے شہر کے فلاں دروازے پہ جو کچھ ہو مجھے آ کر بتلانا ہے، دوسرے کے ذمہ داری لگائی بھئی تم فلاں چوک میں کھڑے ہو جاؤ وہاں جو واقعات پیش آئیں تم نے آ کر مجھے بتانے ہیں، تیسرے کی دوسری دوسری جگہ ڈیوٹی لگائی کہ تم نے وہاں پر توجہ سے کھڑے رہنا جو جو کچھ پیش ہو وہ آ کر تم نے مجھے خبر دینی ہے۔ تو جیسے یہ آپ کے ذرائع ہیں، ان کے ذریعے آپ کیا کریں گے؟ مختلف جگہوں کی خبریں آپ کو ملتی ہیں، تو اسی طرح نفس کو بھی اللہ نے ایسے ذرائع دے دیے جن کے ذریعے یہ کیا کرتا ہے؟ علم حاصل کرتا ہے، جیسے یہ آپ کے آدمی آپ کو آپ آ کر آپ کو خبریں دیتے تھے، علم دیتے تھے آپ کو مختلف باتوں کا، تو نفس بھی اس کو بھی اللہ نے مختلف آلات دیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو کلیات، ایک ہیں کلیات ایک ہیں جزئیات۔ کلیات وہ جو کثیرین پر صادق آئیں آپ پڑھ چکے ہیں بھئی کلی اور جزئی کسے کہتے ہیں، اور جزئی جو کثیرین پر صادق نہ آئے بھئی۔ تو یاد رکھیے جو نفس ہے یہ کلیات کا بھی ادراک کرتا ہے اور جزئیات کا بھی۔ یعنی ادراک کا کیا معنی؟ اس کا علم حاصل ہوتا ہے اس کو۔ کلیات کا بھی علم نفس کو چاہیے اور جزئیات کا بھی علم چاہیے۔ بھئی کچھ تو کلیات ہیں۔ انسان ہے، حیوان ہے، کتاب ہے، دیکھو ہر کتاب پہ یہ صادق آ رہا ہے تو یہ کتاب کیا ہوئی؟ کلی۔ تو کلیات کا بھی علم چاہیے، پھر جزئیات کا علم بھی نفس کو چاہیے بھئی۔ جزئیات کا علم بھی چاہیے، یہ زید ہے، یہ عمرو ہے، یہ بکر ہے، یہ میری کتاب ہے، یہ اس کی کتاب ہے، یہ میری سائیکل ہے، یہ اس کی سائیکل ہے وغیرہ بھئی۔ تو کلیات کے ساتھ ساتھ کس کا علم چاہیے؟ جزئیات کا بھی علم چاہیے بھئی۔ تو کلیات کے لیے کلیات کے ادراک کے لیے یا یوں کہیں کلیات کا ادراک نفس کرتا ہے بواسطة عقل کے، کس کے واسطے سے؟ عقل، عقل کے ذریعے نفس کلیات کا ادراک کرتا ہے۔ یہ عقل ایک قوت دی اللہ نے بدن کو یہ نفس کو جس کے ذریعے وہ کس کا ادراک کرتی ہے؟ کلیات کا۔ عقل کے ذریعے کس کا ادراک ہوتا ہے؟ کلیات کا ادراک ہوتا ہے۔ اور جزئیات کا بھی ادراک چاہیے یا نہیں چاہیے؟ جزئیات کا بھی ادراک چاہیے، تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حواسِ خمسہ باطنہ دے دیے۔ کیا دے دیے؟ حواسِ خمسہ باطنہ دے دیے۔ ان کے ذریعے نفس جزئیات کا ادراک کرتا ہے۔ پھر ان حواس کو یہ جو حواسِ خمسہ باطنہ تھے، ان کو آگے حواسِ خمسہ ظاہرہ دے دیے۔ کیا دے دیے؟ جیسے آپ کا ایک مرکزی دفتر ہو اسلام آباد میں، دوسرا دفتر ہو لاہور میں، تو لاہور والے دفتر میں کئی جگہوں سے خبریں آئیں گی اور پھر یہاں سے کہاں جائیں گی؟ اسلام آباد، تو دیکھو واسطے کو آگے واسطہ دے دیا گیا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اول مدرک کون ہے؟ نفس، اور نفس کو کلیات کا ادراک بھی چاہیے اور جزئیات کا بھی۔ کلیات کا ادراک نفس کس کے ذریعے کرتا ہے؟ عقل کے ذریعے، اور جزئیات کا ادراک بھی چاہیے اس کا ادراک کس کے ذریعے کرتا ہے؟ حواسِ خمسہ باطنہ کے ذریعے، اور پھر حواسِ خمسہ باطنہ کو آگے اللہ نے کچھ آلات دے دیے ان کا کیا نام ہے؟ حواسِ خمسہ ظاہرہ بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب حواسِ خمسہ ظاہرہ کون سے ہیں بھئی؟ یاد رکھیے یہ آنکھیں ان کے ذریعے ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں، تو کچھ چیزوں کا علم ہمیں دیکھنے سے ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کا علم ہمیں دیکھنے سے ہوتا ہے، کوئی کہے یا بتلائے یا نہ بتلائے دیکھ کر ہی بہت سی چیزوں کا پتہ لگ جاتا ہے۔ رنگوں کا پتہ لگ گیا، لوگوں کا پتہ لگ گیا کہ یہ زید، عمرو، بکر ہے، کون ہے، یہ گاڑی ہے یا سائیکل ہے، یہ کمرہ ہے یا یہ کتاب ہے وغیرہ ہر چیز کا پتہ لگتا ہے دیکھنے سے۔ تو یہ ایک یہ ہے آنکھیں بھئی، ان کے ذریعے جو چیزیں ہم دیکھتے ہیں، دکھائی دینے والی ہیں ان کا علم آنکھوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ تو ان آنکھوں میں اللہ نے قوتِ باصرہ رکھی ہے، دیکھنے کی طاقت۔ کیا رکھی ہے؟ قوتِ باصرہ، یہ لفظ آ رہے ہیں کتاب میں اس لیے سمجھا رہا ہوں۔ قوتِ باصرہ، کیا معنی ہے قوتِ باصرہ؟ دیکھنے کی قوت، بصر دیکھنے کو کہتے ہیں بھئی۔ تو دیکھنے کی قوت۔ پھر اسی طرح ناک میں اللہ نے سونگھنے کی طاقت رکھی ہے بھئی۔ ناک سے کسی چیز سونگھیں گے تو فوراً آپ کو پتہ لگ جائے گا، یہ کیا چیز ہے، کون سی خوشبو ہے، یا کون سا پھل ہے، آنکھیں بند ہوں وہ پھل سونگھ کر ہی آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ یہ کون سا پھل ہے، یا کون سی خوشبو ہے۔ تو یہ سونگھنے کی طاقت، یہ کس میں رکھی ہے اللہ نے؟ ناک میں، اور اس کو کہتے ہیں قوتِ شامہ۔ کیا کہتے ہیں؟ قوتِ شامہ، میم مشدد ہے بھئی۔ آنکھ میں ہے قوتِ باصرہ، اور ناک میں ہے قوتِ شامہ، سونگھنے کی طاقت۔ تیسری ایک قوت ہے زبان میں اللہ نے رکھی چکھنے کی قوت۔ زبان کے ذریعے چکھتے ہی کسی چیز کو ہمیں فوراً پتہ چل جاتا ہے یہ میٹھی ہے، کڑوی ہے، پھیکی ہے، کھٹی ہے وغیرہ جو بھی ذائقہ ہو بھئی۔ تو یہ زبان میں قوت رکھی ہے اللہ نے اور اس کا نام ہے قوتِ ذائقہ، چکھنے کی قوت، قوتِ ذائقہ۔ آنکھوں میں کون سی؟ قوتِ باصرہ، ناک میں کون سی؟ قوتِ شامہ، زبان میں کون سی؟ قوتِ ذائقہ بھئی۔ اور ایک قوت رکھی اللہ نے کانوں کے اندر سننے کی، اس کے ذریعے ہمیں آوازوں کا علم ہوتا ہے، کہیں شور ہو رہا ہے، کہاں شور نہیں ہو رہا، کون بولنے والا ہے، آنکھیں بند بھی ہوں زید آپ کے پاس بولے گا فوراً سمجھ جائیں گے یہ میرا فلاں ساتھی زید ہے، یا یہ میرا فلاں ساتھی بکر ہے۔ تو دیکھیے یہ جو ہم آوازیں سنتے ہیں یہ کان کے ذریعے سنتے ہیں تو دیکھو کچھ چیزوں کا علم ہمیں کان سے ہو رہا ہے۔ خوشبو وغیرہ کا پتہ ہمیں آنکھوں سے نہیں چل سکتا، آوازوں کا پتہ ہمیں زبان سے نہیں چل سکتا، ہر ایک اپنے اپنے کام سرانجام دے رہا ہے۔ چکھنے کا علم، ذائقے کا علم صرف زبان ہی بتلائے گی، نہ ناک بتلا سکتی ہے نہ کان نہ آنکھیں بھئی۔ اور دیکھنے والی چیزیں جو ہیں وہ آنکھ ہی دکھائے گی، کان نہیں دکھا سکتے بھئی۔ اور جو چیزیں سننے والی ہیں وہ کانوں ہی سے پتہ لگے گا کسی اور سے نہیں۔ تو یہ کانوں کے اندر اللہ نے سننے کی طاقت رکھی ہے اور اس کو کہتے ہیں قوتِ سامعہ، کیا کہتے ہیں؟ قوتِ سامعہ۔ آنکھوں میں ہوئی قوتِ باصرہ، ناک میں ہوئی قوتِ شامہ، زبان میں ہوئی قوتِ ذائقہ، اور کانوں میں ہوئی قوتِ سامعہ۔ اور پھر ایک پانچویں قوت ہے چھونے کی، کسی چیز کو ہم چھویں، ہاتھ لگائیں، تو فوراً پتہ چل جاتا ہے یہ چیز ہموار ہے یا کھردری ہے، خشک ہے یا تر ہے، نرم ہے یا سخت ہے، تو بہت سی باتوں کا ہمیں چھونے سے ہی پتہ لگ جاتا ہے اس کو کہتے ہیں قوتِ لامسہ، کیا کہتے ہیں؟ قوتِ لامسہ، اور یہ یہ ہاتھوں میں نہیں ہے صرف، یہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے بھئی۔ آپ کے بدن کے جس حصے پر بھی کوئی چیز لگتی ہے آپ کو فوراً پتہ لگ جاتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قوتِ لامسہ سارے بدن میں پھیلی ہوئی ہے۔ تو حواس تو یہ حواسِ خمسہ ظاہرہ ہیں بھئی: آنکھیں، ناک، کان، زبان اور پھر قوتِ لامسہ جو سارے بدن میں ہے۔ تو کون کون سی قوتیں ہوئیں؟ قوتِ باصرہ، قوتِ شامہ، قوتِ ذائقہ، قوتِ سامعہ اور قوتِ لامسہ بھئی۔ اب یاد رکھیے ان کے ذریعے جن چیزوں کا علم ہو گا، ان کو کہیں گے محسوسات، کیا کہیں گے؟ ایک یاد رکھنا بھئی کتابوں میں یہ لفظ آئے گا محسوسات کا لفظ جگہ جگہ آئے گا، محسوس یا محسوسات۔ عام طور پر محسوس صرف اس چیز کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے نظر آئے، جو آنکھوں سے معلوم ہوا، یہ کتاب میرے سامنے ہے، آپ میرے سامنے ہیں، یہ کھڑکی میرے سامنے ہے، یہ پنکھا میرے سامنے ہے، یہ سب محسوسات میں سے ہیں۔ آپ بول رہے ہیں میں سن رہا ہوں، یہ نہیں محسوسات میں سے، کیونکہ محسوسات کسے کہتے ہیں؟ جو آنکھوں سے نظر آئے، کس سے نظر آئے؟ آواز آنکھوں سے نظر آتی ہے بھئی؟ ذائقہ نظر آتا ہے؟ خوشبو نظر آتی ہے؟ تو یہ محسوسات میں سے نہیں۔ محسوسات صرف کیا ہیں؟ توجہ ہے سبق کی طرف؟ محسوسات کسے کہتے ہیں؟ جو آنکھوں سے نظر آئے ان کو محسوسات کہتے ہیں اور یہ کتابوں میں بکثرت اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ عام لوگ محسوس اس کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے نظر آئے، یہ عرفی معنی ہے۔ عادتًا لوگ اس کا یہی معنی سمجھتے ہیں، جب کہا جائے نہ یہ تو ایک محسوس چیز ہے وہ کیا معنی سمجھتے ہیں اس کا؟ نظر آنے والی چیز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن ایک محسوس یہ منطقہ کے ہاں ہے بھئی، یہاں محسوس کا معنی وسیع ہے۔ اس میں یہ پانچوں حواس کے ذریعے حواسِ ظاہرہ کے ذریعے جو جو ہمیں علم ہو رہا ہے وہ سب محسوسات میں سے ہیں۔ ان کے نزدیک جو چیزیں نظر آ رہی ہیں وہ بھی محسوسات سے ہیں کیونکہ حواس حواسِ خمسہ ظاہرہ سے معلوم ہو رہی ہیں نا۔ ان کے ذریعے جو بھی چیزیں معلوم ہوں گی وہ محسوسات میں سے ہوں گی، کیونکہ یہ حواس ہیں۔ حواس، حواس جمع ہے حاسة کی، یہ پانچ حواس ہیں تو ہر ایک کیا ہوا؟ حاسہ، اور اس حاسے کے ذریعے جو علم ہو گا وہ محسوس ہو گا۔ کیا ہو گا؟ وہ محسوس بھئی۔ اچھا، تو ان پانچ حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جن چیزوں کا علم ہو گا وہ محسوسات ہیں۔ عام لوگوں کے نزدیک تو صرف جو چیزیں آنکھوں سے نظر آئیں وہ محسوس ہیں، باقی چیزیں محسوس نہیں، لیکن منطقہ و فلاسفہ کے ہاں جو آنکھوں سے نظر آئے وہ بھی محسوس، جو کانوں سے سنے وہ بھی محسوس، جو زبان سے چکھیں اور علم ہوا وہ بھی محسوس، جو ناک سے سونگھا خوشبو کا پتہ چلا یہ بھی کیا ہے؟ محسوس، چھونے سے کسی چیز کا پتہ چلا وہ بھی محسوس، ان سب کو وہ محسوس کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کتابوں میں دونوں معنی میں یہ استعمال ہوتا ہے، زیادہ تر محسوس ظاہر کے معنی میں جو آنکھوں سے نظر آئے اس میں استعمال ہوتا ہے، لیکن کہیں کہیں یہ محسوس منطقی کتابوں میں آئے تو پھر اس معنی میں ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں تک دیکھ لیجیے بھئی، محسوسات بھی کہتے ہیں اور حسیات بھی کہتے ہیں ان کو۔ و رابعها المشاهدات، اور چوتھی قسم جو ہیں ان کی مشاهدات ہیں، و هي قضايا يحكم فيها بواسطة المشاهدة و الإحساس، اور یہ ایسے قضایا ہیں جن میں حکم لگایا جاتا ہے مشاہدے اور احساس کے ذریعے، ہمیں کوئی چیز محسوس ہوتی ہے۔ و هي تنقسم إلى قسمين، اور یہ مشاهدات جو ہیں تقسیم ہوتے ہیں دو قسموں کی طرف، الأول ما شوهد بإحدى الحواس الظاهرة، پہلی قسم وہ ہے جس کا مشاہدہ کیا جائے کس کے ذریعے؟ حواسِ ظاہرہ میں سے کسی ایک کے ذریعے، و هي خمس، اور حواسِ ظاہرہ پانچ ہیں: الباصرة و السامعة و الشامة و الذائقة و اللامسة، و يسمى هذا القسم بالحسيات، اور یہ والے مشاهدات جو ہیں یہ اس کی یہ قسم کیا کہلاتی ہے؟ حسیات جن کے ان کا پتہ کس سے چلتا ہے؟ حس سے چلتا ہے، حواس سے پتہ چلتا ہے، تو اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ حسیات۔ و الثاني ما أدرك بالمدركات من الحواس الباطنة، اب حواسِ باطنہ کے بارے میں سمجھ لیں بھئی، پہلے یہ بات یاد رکھیے کہ ہمارے علمائے اسلام حواسِ خمسہ باطنہ کو تسلیم نہیں کرتے، ہمارے علمائے اسلام حواسِ خمسہ باطنہ کو تسلیم حواسِ خمسہ ظاہرہ تو ظاہر ہیں ان کو تو مانتے ہیں لیکن حواسِ باطنہ کو نہیں مانتے کہ نہیں یہ کوئی چیز نہیں۔ جبکہ میں نے بتلایا منطقہ اور فلاسفہ کہتے ہیں کہ حواسِ خمسہ ظاہرہ کی طرح حواسِ خمسہ باطنہ بھی موجود ہیں، صورت سمجھ میں آ رہی؟ باطنہ بھی موجود ہیں۔ اور دلیل ان سے پوچھی جائے کیا دلیل ہے اس بات کی کہ حواسِ خمسہ باطنہ موجود ہیں؟ ہمیں دکھائی تو نہیں دیتے، تو دلیل یہ دیتے ہیں جو ابھی میں نے ذکر کر دی کہ اصل مدرک ہے نفس، اور نفس کلیات کا ادراک کس کے ذریعے کرتا ہے؟ عقل کے ذریعے، تو جزئیات کا بھی ادراک کرنا چاہتا ہے اس کے وہ بھی اس کو ضرورت ہے، تو جزئیات کا ادراک تو عقل کے ذریعے نہیں ہوتا پھر کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ حواسِ حواسِ خمسہ باطنہ کے ذریعے ہوتا ہے۔ تو وہ کہتے ہیں جزئیات کا ادراک عقل نہیں کرتی، عقل صرف کس کا ادراک کرتی ہے؟ کلیات، اور جزئیات کا ادراک بھی چاہیے تو اس کا ادراک کس کے ذریعے ہوتا ہے؟ حواسِ خمسہ باطنہ کے ذریعے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اس پر ہمارے علمائے اسلام جواب میں کہتے ہیں کہ آپ کی دلیل تام نہیں۔ 3 آپ کی دلیل پوری نہیں، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ جزئیات کے ادراک کے لیے حواس چاہئیں اور اس کے لیے وہ کہتے ہیں کہ عقل ہمارے علماء اسلام کہتے ہیں کہ عقل جس طرح کلیات کا ادراک کرتی ہے، اسی طرح جزئیات کا بھی ادراک کرتی ہے۔ ہم آپ کی بات تسلیم نہیں کرتے۔ آپ نے کہا تھا عقل صرف کلیات کا ادراک کرتی ہے، جزئیات کا نہیں کرتی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، عقل کلیات کا بھی ادراک کرتی ہے اور کلیات کا علم بھی اس کو حاصل ہوتا ہے اور جزئیات کا بھی حاصل کرتی ہے۔ تو لہذا، جب جزئیات کا علم بھی اس کا ادراک عقل خود کر رہی ہے تو حواس خمسہ باطنہ کی کوئی ضرورت ہی نہ رہی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن علماء محققین جو ہیں علماء اسلام میں سے، عام علماء تو انکار کرتے ہیں لیکن جو علماء محققین ہیں علماء اسلام میں سے، وہ حواس خمسہ باطنہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ علماء محققین کیا کرتے ہیں؟ وہ حواس خمسہ باطنہ کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ حواس خمسہ باطنہ کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے اسلام پر کوئی قدغن نہیں پڑتی، اسلام پہ کوئی اعتراض وغیرہ نہیں پڑتا۔ اگر تسلیم کر لیں تو اسلام پہ تو کوئی اعتراض نہیں پڑتا بھئی۔ بلکہ اس سے اللہ کی قدرت مزید جلوہ گر ہوتی ہے بھئی، کہ دیکھو اللہ نے جس طرح حواس ظاہرہ بنائے ہیں، اسی طرح اللہ نے حواس خمسہ باطنہ بھی بنائے ہیں۔ تو اس سے تو اللہ کی قدرت مزید جلوہ گر ہوتی ہے کہ اللہ کی کیسی کیسی قدرتیں ہیں بھئی۔ اور نیز وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک عقلی بات ہے، جس کا تعلق عقل سے ہے کہ حواس خمسہ باطنہ ہیں یا نہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ کوئی شرعی بات نہیں، شرعی حکم یا شرعی فیصلہ نہیں ہے، یہ تو ایک عقل کے ذریعے ایک بات طے کی ہے۔ فلاسفہ کہتے ہیں، عام علماء اسلام کہتے ہیں نہیں، تو یہ ایک عقلی بات ہے اور عقلیات میں ضروری نہیں کہ علماء اسلام کی بات ہی حق ہو، ہو سکتا ہے فلاسفہ کی بات بھی تو حق ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کا تو شریعت سے تعلق نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں لہذا حواس خمسہ باطنہ کو تسلیم کرنے میں کوئی خرابی نہیں بلکہ اس سے اللہ کی اور مزید قدرت جو ہے جلوہ گر ہوتی ہے اور اللہ کی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور لہذا وہ ان کو تسلیم کرتے ہیں بھئی۔ کہ یہ ایک عقلی بات ہے اور عقلیات کے اندر ضروری نہیں علماء اسلام کی بات ہی برحق ہو بلکہ ہو سکتا ہے اس میں فلاسفہ کی بات بھی برحق ہو سکتی ہے۔ اور تو یہ مختصراً میں نے بیان کر دی بھئی تفصیل۔ اب یاد رکھیے، یہ جو حواس خمسہ باطنہ کا بیان بھئی، حواس خمسہ باطنہ کا بیان بڑا لطیف ہے بھئی، بڑا لطیف بیان ہے ان کا۔ انسان حیران ہوتا ہے اللہ کی قدرتوں پر بھئی۔ یاد رکھیے یہ جو انسانی دماغ ہے دماغ، جو سر کے اندر دماغ موجود ہے، یہ اس کے تین خانے ہیں، تین۔ ایک مقدم، آگے والا حصہ اس کا جو ماتھے کے قریب آیا ہوا ہے سر کے اندر۔ ایک درمیان والا اور ایک پیچھے آخری حصہ بھئی۔ تو تین خانے ہوئے، ایک مقدم، ایک مؤخر اور ایک وسط میں ہوا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تین خانے ہیں۔ تو ان میں جو مقدم خانہ ہے، جو آگے کی طرف پہلا خانہ ہے، اس میں حس مشترک اور خیال جو ہیں، یہ دو قوتیں اللہ نے رکھی ہیں بھئی۔ حواس خمسہ باطنہ میں سے پہلے خانے میں پہلے دونوں ہیں بھئی، کون کون؟ حس مشترک اور خیال۔ حس مشترک اور خیال۔ یہ جو حس مشترک ہے نا، حس مشترک، یہ مرکزی دفتر ہے حواس خمسہ ظاہرہ کے لیے۔ یہ حس مشترک کیا ہے؟ یہ مرکزی دفتر ہے حواس خمسہ ظاہرہ کے لیے۔ حواس خمسہ ظاہرہ سے جو علم آئے گا، کچھ چیزوں کو ہم دیکھ رہے ہیں، کچھ کو سونگھ رہے ہیں، کچھ کو سن رہے ہیں، کچھ کو چکھ رہے ہیں، یہ سارا ادراک یہ حس مشترک کرتی ہے، پھر یہاں پہنچتا ہے بھئی۔ ان چیزوں کا ادراک کون کرتی ہے؟ حس مشترک، حس مشترک۔ یہ مرکزی دفتر ہے، یہ خبریں وصول کرتا ہے سب سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یوں سمجھو، یوں سمجھو، یہ ایک حوض ہے، ایک بڑا تالاب ہے جس میں پانچ نہریں آ کر گر رہی ہیں۔ پانچ نہروں کے ذریعے اس میں پانی آ رہا ہے بھئی۔ یعنی علم وہ جو علم جو پانچ نہریں یعنی پانچ حواس ظاہرہ سے حاصل ہو رہا ہے، وہ پانی بالآخر آ کر کہاں گرتا ہے؟ حس مشترک میں آ کر گرتا ہے۔ تو یہ حوض ہے جس میں پانچ نہریں آ کر گر رہی ہیں اور یہ علم لے کر آ رہی ہیں مختلف چیزوں کا بھئی، پانچوں نہریں بھئی۔ کوئی آوازوں کا علم ہے، کوئی دیکھنے جانے والی چیزوں کا علم ہے، کوئی چکھی جانے والی چیزوں کا علم وغیرہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ ہے حس مشترک۔ اور اس کے ساتھ ہی پھر خیال ہے بھئی، دوسری قوت خیال ہے۔ خیال جو ہے نا گودام ہے، گودام، اسٹور ہاؤس۔ یہ جو حس مشترک میں علوم آ گئے، آپ نے زید کو دیکھا، آپ نے زید سے کوئی شعر وغیرہ سن لیا یا باتیں سن لیں یا آپ نے کوئی کھانا کھایا اس کا ذائقہ چکھا، یہ سارے علم کہاں آئے تھے؟ حس مشترک میں۔ حس مشترک ان کا ادراک کر رہی ہے ان حواس خمسہ ظاہرہ کے ذریعے بھئی۔ حس مشترک کیا کر رہی ہے ان چیزوں کا ادراک؟ لیکن پھر جب یہ چیزیں سامنے سے ہٹ گئیں، ختم ہو گئیں، زید چلا گیا، باتیں اس کی ختم ہو گئیں، وہ کھانا ختم ہوا، اب تو ادراک نہیں کر رہی حس مشترک، وہ چیزیں ہیں ہی نہیں اس وقت۔ تو حس مشترک جب ادراک کرتی ہے تو اس کے بعد جو جو علم اس نے پایا ہوتا ہے جو اس کو ملا ہوتا ہے، اس سارے کو اٹھا کر وہ خیال میں محفوظ کرتی چلی جاتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ خیال گودام ہے، اسٹور ہاؤس ہے۔ حس مشترک کیا کرتا ہے اس کے اندر؟ جو یہ جو صورتیں حاصل ہوئیں، کوئی خوشبو کی صورت ہے، کوئی آوازوں کی صورت ہے، کوئی دیکھی جانے والی چیزوں کی صورت ہے، کوئی ذائقوں کی صورتیں ہیں، یہ ساری صورتیں جو اس کو حاصل ہو رہی ہیں، یہ ان کو محفوظ کر دیتی ہے کس میں؟ خیال میں۔ چنانچہ آپ جب گھر بھی چلے گئے، آپ کو پھر زید کی یاد آئی کہ وہ میرا بڑا اچھا ساتھی ہے۔ یہ کہاں سے آئی بات؟ یہ وہ گودام گودام سے آئی ہے بھئی، حس مشترک سے نہیں، وہاں ختم ہو گئی بات، گزر گئی۔ یہ کہاں سے آئی؟ یہ وہ خیال کے اندر محفوظ تھی یا آپ کو اس کی بات یاد آ گئی کہ اس نے یوں کہا تھا، زید نے اس طرح بات کی تھی۔ یہ کہاں سے، ابھی تو وہ بات نہیں کر رہا، یہ کہاں سے آئی؟ خیال سے آئی۔ یہ وہ اسٹور ہاؤس کے اندر یہ چیزیں محفوظ پڑی ہیں۔ پھر یہ خیال کسی کا یہ قوت کسی کی قوی ہوتی ہے، کسی کی ضعیف۔ کسی کو جلدی باتیں بھول جاتی ہیں، کسی کو بڑے عرصے تک یاد رہتی ہیں بھئی۔ تو یہ اسٹور ہاؤس کے جتنا قوی ہو گا، اتنی باتیں آپ کو یاد رہیں گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ خیال ہے۔ یہ تو تھا دماغ کے اگلے حصے میں۔ دماغ کا ایک درمیان والا حصہ ہے، پھر ایک پیچھے والا حصہ۔ پیچھے والے حصے میں بھی دو قوتیں ہیں، ایک وہم اور ایک حافظہ۔ ایک کیا ہے؟ وہم اور ایک حافظہ۔ وہم قوت واہمہ جو ہے، یہ معانی جزئیہ کا ادراک کرتی ہے۔ کس کا؟ معانی جزئیہ کا۔ حس مشترک تو محسوسات کا ادراک کرتا تھا نا۔ حس مشترک کس کا ادراک کرتا تھا؟ وہی حواس خمسہ ظاہرہ والا علم وہاں آ کے گرتا تھا، کوئی اور علم تو نہیں آتا تھا اور وہ کون سا ان کو کیا کہتے تھے؟ محسوسات۔ تو وہاں سے محسوسات کی صورتیں آتی تھیں اور کچھ تو معانی ہیں جن کی کوئی صورت ہی نہیں۔ بہادری ہے، بزدلی ہے، خوشی ہے، غم ہے، بھوک ہے، پیاس ہے، ان چیزوں کی کوئی صورت ہوتی ہے؟ ان کا پتہ نہ آنکھوں سے چل سکتا ہے، نہ کانوں سے، نہ ناک سے، نہ زبان سے، نہ چھونے سے۔ تو یہ کچھ معانی جزئیہ بھی ہیں بھئی۔ ایک معانی کلیہ ہیں، ایک معانی جزئیہ ہیں۔ ایک خوف ہے مطلق، خوف کسے کہتے ہیں؟ خوشی کسے کہتے ہیں؟ غم کسے کہتے ہیں؟ یہ کلیہ ہے، کلی ہیں۔ اس کی بات نہیں کر رہے، ان کا ادراک عقل کرتی ہے، عقل کلیات کا ادراک۔ ایک معانی جزئیہ ہیں، یعنی جن کا ادراک حواس ظاہرہ کے ذریعے تو نہیں ہوتا لیکن ہیں وہ جزوی معانی۔ وہ کیا ہیں؟ جزوی معانی۔ مثلاً زید سخی ہے، یہ عام سخاوت ہے یا زید کی سخاوت ہے؟ زید، تو یہ جزوی معنی ہے، کیا ہے؟ یا جیسے بکری نے بھیڑیئے کو دیکھا اور ڈر گئی۔ اب خوف آیا لیکن عام قسم کا خوف ہے یا اس بھیڑیئے کا، ایک خاص بھیڑیئے کا اسے خوف آیا؟ یہ معنی جزوی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ ایک جزوی خوف ہے، جزوی خوف بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا اسی طرح آپ کو بھوک لگتی ہے، ایک مطلق بھوک ہے، ایک ہے آپ کہہ رہے ہیں مجھے بھوک لگ رہی ہے اس وقت، محسوس کرتے ہیں بھئی یا مجھے خوشی ہے یا مجھے کیا ہے؟ غم ہے۔ ایک تو غم مطلق ہے، دنیا کا جو بھی غم ہو گا ہم کہیں گے یہ غم ہے۔ ایک ایک آدمی خود اس وقت کیا ہوتا ہے؟ مثلاً خوشی کی حالت میں ہے تو یہ ایک جزوی خوشی ہوئی، کلی خوشی نہیں بلکہ جزوی خوشی۔ بھوک ہے اس وقت مثلاً ایک آدمی کہتا ہے مجھے بھوک ہے، یہ جو محسوس کر رہا ہے، یہ کلی بھوک ہے یا ایک جزوی بھوک ہے؟ جزوی بھوک ہے۔ تو یہ جو معانی جزئیہ ہیں، ان کا ادراک وہم کرتا ہے۔ کون کرتا ہے؟ وہم۔ یہ والی قوت جو ہے، قوت واہمہ ان کا ادراک کرتی ہے۔ اور پھر اس کے لیے بھی اسٹور ہاؤس چاہیے۔ کیا چاہیے؟ جہاں یہ چیزیں محفوظ کر سکے، جن چیزوں کا ادراک یہ کر رہی ہے ان کو محفوظ تو رکھے پھر بھئی۔ چنانچہ اس کے لیے پھر وہ اسٹور ہاؤس جو ہے، وہ حافظہ ہے۔ کیا ہے؟ حافظہ ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حافظہ ہے۔ اور وہ پھر حافظے کے اندر باتیں محفوظ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تو حس مشترک میں علم آتا ہے کہاں سے؟ حواس ظاہرہ سے۔ اور پھر وہ کہاں محفوظ کرتی ہے؟ خیال میں۔ اور وہم میں کون سی چیزوں کا علم آتا ہے؟ کن چیزوں کا وہ ادراک کرتا ہے؟ معانی جزئیہ کا۔ حس مشترک کن کا ادراک کرتی تھی؟ محسوسات کے صورتوں کا، صورتوں کا۔ وہ صورتوں کا علم حاصل کرتی ادراک کرتی تھی صورتوں کا اور یہ معانی کا ادراک کرتی ہے۔ وہم اور حس مشترک میں یہ فرق ہے۔ حس مشترک صورتوں کا ادراک کرتی ہے اور وہم معانی کا ادراک کرتا ہے لیکن ہوتے جزوی ہی ہیں، کلی نہیں۔ اور پھر ان کو کہاں محفوظ کرتا ہے؟ حافظے کے اندر۔ کہاں محفوظ کر لیتا ہے؟ تو اول مقدمِ دماغ میں دو قوتیں آئیں، حس مشترک اور خیال۔ اور مؤخرِ دماغ میں بھی دو قوتیں اللہ نے رکھیں، کون سی؟ وہم اور حافظہ۔ حافظہ، اسی کو ذاکرہ بھی کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ حافظہ کسی کا کمزور ہوتا ہے بھئی اسی طرح، تو کہتے ہیں حافظہ کمزور ہے۔ حافظہ کمزور ہے، وہ یہ والا، یہ اسٹور ہاؤس جو ہوتا ہے نہ اس میں کمی ہوتی ہے۔ یہ قوی نہیں ہوتا۔ اور یہ جو درمیان والا خانہ ہے دماغ کا، اس کے اندر ہے قوت متصرفہ۔ قوتِ قوت متصرفہ جوڑ توڑ والا کام کرتی ہے۔ کیا کرتی ہے؟ یہ دونوں اسٹور ہاؤس سے چیزیں لیتی ہے اور ان کو جوڑ توڑ کر نئی چیزیں بناتی ہے۔ کبھی جوڑتی ہے، کبھی توڑتی ہے۔ مثلاً انسان، زید کو دیکھا ہوا ہے یا نہیں دیکھا ہوا آپ نے؟ جی؟ فرض کریں آپ کا ایک دوست ہے، زید کیا ہے؟ دوست ہے۔ آپ اس کو اس سے ملتے رہتے ہیں، آپ نے اس کو دیکھا ہوا ہے۔ ذرا تصور کرو، زید کا سر کٹا ہوا ہے اور یہ سر کٹا زید تیزی سے دوڑتا ہوا جا رہا ہے۔ تصور کر لیا؟ دوڑتا، تیز دوڑتا ہوا جا رہا ہے کہ نہیں بھئی؟ یہ کام کس نے کیا یہ توڑ والا؟ انسان تو بغیر سر کے نہیں ہوتا، یہ سر کو توڑ کر الگ کر کے پھر بھی اس کو دوڑا دیا، یہ کس نے کام کیا؟ یہ قوت متصرفہ نے کیا، یہ توڑ والا کام ہے۔ کبھی جوڑ والا کام کرے گی بھئی یہ۔ زید کا تصور کریں ذرا، اس کے کندھے پر دو سر لگے ہوئے ہیں بھئی۔ کر لیا تصور بھئی؟ یہ جوڑ والا کام کس نے کیا؟ قوت متصرفہ نے کیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ فرضی چیزیں بناتی ہے وغیرہ اور انسان کا تو ایک سر ہوتا ہے، اس نے ایک اور سر کو ساتھ جوڑ دیا اور اس کی صورت دکھا دی آپ کو، یہ قوت متصرفہ کرتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی؟ کبھی اندھیرے میں آپ رسی سے ڈر جاتے ہیں۔ رسی سے ڈر جاتے ہیں۔ یوں لگتا ہے یہ تو حرکت کر رہی ہے، شاید سانپ ہے۔ یہ کام کس نے کیا؟ قوت متصرفہ نے۔ دماغ سے دو چیزیں اس نے اٹھائیں۔ ایک یہ رسی کی صورت جو آپ دیکھ رہے تھے، دوسری طرف سانپ کی حرکت وغیرہ اور دونوں کو ملا کر آپ کی پیش کر دیا آپ کے سامنے، آپ ڈر گئے کہ شاید یہ سانپ ہے اور واقعی حرکت کر رہا ہے بھئی۔ تو یہ کون کرتی ہے؟ قوت متصرفہ۔ یہ تھے حواس خمسہ باطنہ بھئی۔ حواس خمسہ باطنہ، دیکھو کتنا لطیف بیان، انسان حیران ہوتا ہے اللہ کی قدرتوں پر بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر بھئی۔ وَالثَّانِي مَا أُدْرِكَ بِالْمُدْرِكَاتِ اور دوسری قسم وہ ہے مشاہدات کی جس کا ادراک کیا جائے بالمدرکات، کس کے ذریعے ادراک کیا جائے؟ مدرکات، مدرِک ادراک کرنے والا۔ یہ حواس کیا سارے کیا ہیں؟ مدرِک ہیں، ادراک کرنے والے ہیں۔ جن کا ادراک کیا جاتا ہے بالمدرکات، مدرکات کے ذریعے۔ مِنَ الْحَوَاسِّ الْبَاطِنَةِ یہ مِن بیان ہے مدرکات کا، یعنی کہ حواس باطنہ۔ مدرکات کون ہے؟ یہ حواس باطنہ ہے۔ وہ چیزیں جن کا ادراک کیا جاتا ہے مدرکات یعنی حواس باطنہ کے ذریعے۔ الَّتِي هِيَ أَيْضًا خَمْسٌ کہ یہ بھی جو ہیں، پانچ ہیں۔ الْحِسُّ الْمُشْتَرَكُ سو ایک قسم کیا ہے؟ حس مشترک۔ الْمُدْرِكُ لِلصُّوَرِ جو ادراک کرنے والی ہے صورتوں کا۔ وَالْخَيَالُ اور دوسری قسم کیا ہے؟ خیال۔ الَّذِي هُوَ خَزَانَةٌ لَهُ جو اس کا خزانہ ہے۔ اس کا کیا ہے؟ خزانہ ہے، محفوظ کرنے والا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَالْوَهْمُ اور تیسری قسم کیا ہے؟ وہم ہے۔ الْمُدْرِكُ لِلْمَعَانِي الشَّخْصِيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ جو ادراک کرنے والا ہے معانی شخصیہ اور جزئیہ، معانی شخصیہ اور جزئیہ بھئی، یعنی مراد وہی جزئیہ ہیں بھئی۔ تو وہم جو ہے، معانی جزئیہ کا ادراک کرتا ہے۔ وَالْحَافِظَةُ الَّتِي هِيَ خَزَانَةٌ لِلْمَعَانِي الْجُزْئِيَّةِ اور حافظہ جو ہے، یہ خزانہ ہے کس کا؟ معانی جزئیہ کا، اس میں وہ محفوظ کرتا ہے معانی جزئیہ کو۔ وَالْمُتَصَرِّفَةُ الَّتِي تَتَصَرَّفُ فِي الصُّوَرِ وَالْمَعَانِي اور قوت متصرفہ وہ ہے جو تصرف کرتی ہے، رد و بدل کرتی ہے فی الصور والمعانی، صورتوں میں اور معانی میں۔ بِالتَّحْلِيلِ وَالتَّرْكِيبِ تحلیل اور ترکیب کے ذریعے۔ تحلیل کا معنی توڑنا، جدا جدا کرنا۔ ترکیب کا معنی— 4 معنٰی، جوڑنا، مرکب کرنا۔ تو یہ تصرف رد و بدل کرتی ہے صورتوں اور معانی میں توڑ اور جوڑ کے ذریعے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دیکھو، دونوں سے چیزیں لیتی ہے۔ خیال سے بھی چیزیں لیتی ہے صورتیں۔ خیال سے کیا لیتی ہے؟ صورتیں۔ اور کیا حافظہ، حافظے سے کیا لیتی ہے؟ معانی لیتی ہے اور پھر ان کو ملا کر نئی چیزیں دکھاتی ہے۔ و یسمی ھذا القسم بالوجدانیات، اور مشاہدے کی اس قسم کو وجدانیات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ وجدانیات کہتے ہیں بھئی۔ و مدرکات العقل الصرف، اور وہ جو مدرکہ، مدرکات، مدرک عقل ہے مدرِک ادراک کرنے والی، علم حاصل کرنے والی۔ اور جس چیز کا علم حاصل کیا وہ کیا ہے؟ مدرَک ہے، اسم مفعول مدرَک۔ تو مدرکات، و مدرکات العقل الصرف، صرف عقل کے جو مدرکات ہیں بھئی عقل کس کے ادراک کرتی تھی؟ کلیات کا، وہی بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں و مدرکات العقل الصرف اور محض عقل کے جو مدرکات ہیں، عن الكليات یعنی کہ کلیات غير مندرج فی ھذا القسم، وہ درج نہیں ہیں اس قسم میں۔ وہ درج، وہ داخل نہیں ہیں اس قسم میں، کیونکہ عقل تو کلیات کا ادراک کر رہی ہے اور یہ چیزیں کس کا ادراک کرتی ہیں؟ جزئیات کا، تو وہ ان کے اندر داخل نہیں ہیں بھئی یہ وجدانیات میں۔ مثال القسم الثانی، دوسری قسم کی مثال کیا ہے؟ کہتے ہیں كما حكمنا، جیسے ہم حکم لگائیں بان لنا جوعا او عطشا، کہ ہمیں بھوک ہے یا ہمیں پیاس ہے۔ تو دیکھو یہ معانی معانی کا ادراک ہو رہا ہے، صورتوں کا ادراک نہیں، جبکہ ظاہری چیزوں کو دیکھیں وہ صورتوں کا ادراک ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 93 of 108