Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-090

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 40
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 90 1 فصلٌ ينبغي أن يعلم أن كل قياس لا بد له من صورة ومادة، أما الصورة فهو الهيئة الحاصلة من ترتيب المقدمات ووضع بعضها عند بعض، وقد عرفت الأشكال الأربعة المنتجة وعلمت شرائطها في الإنتاج. بھئی اس بحث کے اندر مادہ قياس کے بارے میں، اس فصل میں مادہ قياس کی تفصیل بیان کریں گے بھئی، مادہ قياس۔ کس چیز کی تفصیل بیان کریں گے؟ مادہ قياس۔ بھئی دیکھیے! آپ جب بھی کوئی چیز بنانے کا ارادہ کریں تو دو باتیں اس کے بارے میں آپ ضرور سوچیں گے۔ جب بھی کوئی چیز آپ بنانے کا ارادہ کریں تو دو باتیں ضرور سوچیں گے۔ پہلی بات یہ کہ اس کو کس چیز سے بنائیں گے؟ جن چیزوں سے وہ چیز بنے گی بھئی، اور دوسری بات یہ کہ اس کی صورت کیسی ہوگی؟ کیسی شکل دیں پھر اس کو بھئی؟ تو کوئی بھی چیز بناتے وقت آپ دو باتیں ضرور سوچیں گے۔ ایک تو یہ کہ یہ جو چیز میں بنا رہا ہوں کس کس سے بناؤں بھئی؟ جن چیزوں کو ملا کر اس کو بناؤں، اور دوسری بات یہ کہ اس کو پھر شکل کیسے دوں؟ کس طرح کی صورت دوں؟ مثلاً آپ ایک برتن بنانا چاہتے ہیں، برتن مشروبات وغیرہ پینے کے لیے، تو آپ اس کو یہ پہلے سوچیں گے کس چیز سے بناؤں بھئی؟ مٹی سے بناؤں؟ سٹیل سے بناؤں؟ یا شیشے سے بناؤں؟ کس چیز سے بناؤں؟ اور پھر اس کی صورت کے بارے میں بھی سوچیں گے کس طرح کی اس کو شکل دوں۔ مثلاً آپ کپ بنانا چاہتے ہیں تو اس کی صورت سوچیں گے اس طرح کا کپ بناؤں گا اور اس طرح کا اس کا کنڈا ہوگا جس سے ہاتھ سے اسے پکڑ بھی سکیں اس کو بھئی۔ تو یہ جو شکل ہے اس کی، اس کو کہتے ہیں صورت بھئی۔ شکل کو کیا کہتے ہیں؟ صورت۔ اور یہ جس چیز سے بنائیں گے اس کو کہیں گے اس کا مادہ۔ کیا کہیں گے؟ مادہ۔ مثلاً مٹی سے بنایا تو مادہ کیا ہوا؟ مٹی۔ شیشے سے بنایا تو مادہ کیا ہوا؟ شیشہ۔ اگر سٹیل سے بنایا تو مادہ کیا ہوگا؟ سٹیل ہوگا۔ تو دیکھو! جس طرح مادہ جو ہے، مادہ اور صورت یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں کسی چیز کے بنانے کے لیے۔ اور مادے کے بدلنے سے اس کا نام بھی الگ ہوگا۔ مثلاً مٹی کا ہے تو آپ کہیں گے یہ مٹی کا پیالہ ہے۔ شیشے کا بنا ہوگا تو آپ کہیں گے یہ شیشے کا پیالہ ہے۔ سٹیل کا بنا ہوگا تو آپ کہیں گے یہ سٹیل کا پیالہ ہے۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو اسی طرح مادہ الگ ہونے سے الگ قسم بنے گی۔ تو کبھی کبھار مادہ ایک ہوتا ہے صورتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ مادہ ایک، آپ مادہ ایک ہی رکھتے ہیں صورتیں الگ بناتے ہیں۔ مثلاً مٹی ہی سے بنائے اور کئی قسم کے کپ بنا لیے، صورتوں میں تھوڑا تھوڑا فرق رکھا۔ تو مادہ ایک ہی ہے اور صورتیں الگ الگ ہیں۔ کبھی صورت ایک ہی ہوتی ہے مادہ الگ الگ ہوتا ہے۔ آپ نے ایک ہی شکل کے کپ مٹی سے بھی بنایا، شیشے سے بھی بنایا، سٹیل سے بھی بنایا۔ تو دیکھو صورت ایک ہی ہے اور مادہ الگ، صورت ایک ہی ہے مادہ الگ الگ ہے۔ تو صورت اور مادہ اچھی طرح سمجھ میں آگیا بھئی؟ صورت وہ خاص شکل اس چیز کی اور مادہ جس سے وہ چیز بنی ہو۔ کبھی صورت الگ الگ ہوتی ہے مادہ ایک ہی ہوتا ہے، کبھی مادہ الگ الگ ہوتا ہے اور صورت ایک ہی ہوتی ہے اور کبھی مادہ بھی الگ ہوگا، صورت بھی الگ ہوگی بھئی، الگ ہوگی۔ یہ تو ظاہری اور حسی چیزوں کے اندر میں نے مثال بیان کی جو آپ کو نظر آتی ہیں آنکھوں سے بھئی، اس سے بات کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے حسی مثال کے ذریعے سے۔ اسی طرح یاد رکھیے ذہن کے اندر جب ہم کوئی کلام تیار کرتے ہیں، کوئی بات تیار کرتے ہیں زبان پر ادا کرنے سے پہلے، تو ذہن کے اندر جو کلام تیار کیا جاتا ہے اس کی بھی ایک صورت ہوتی ہے ایک مادہ ہوتا ہے۔ ایک اس کی صورت ہے اور ایک مادہ ہے۔ مثلاً آپ دیکھیے میں کہتا ہوں جاء زيدٌ، جاء زيدٌ۔ دیکھیے اس کی ایک صورت ہے جاء پہلے ہے زيدٌ بعد میں ہے، خاص صورت ہے۔ اور خاص مادہ ہے کیا کیا ہے اس کے اندر؟ ایک لفظ جاء اور ایک زید، ان دو لفظوں کو پکڑ کر ان سے ہم نے یہ جملہ بنایا ہے۔ تو یہ جاء اور زيدٌ کیا ہوئے اس کے لیے؟ مادہ۔ اور یہ جو ان کے اندر ترتیب ہے جاء کو پہلے رکھا اور زيدٌ کو بعد میں، یہ ایک خاص صورت ہے۔ آپ دوسری صورت بھی دے سکتے ہیں مادہ یہی رکھیں۔ زید کو پہلے لے آئیں جاء کو بعد میں لے آئیں، زيدٌ جاء۔ اب دیکھو مادہ وہی ہے صورت اور ہو گئی بھئی، صورت الگ ہو گئی ترتیب بدل گئی بھئی۔ بات سمجھ میں آئی؟ چنانچہ جاء زيدٌ اس کو آپ کہتے ہیں جملہ فعلیہ، اور زيدٌ جاء اس کو آپ کہتے ہیں جملہ اسمیہ۔ دیکھو صورت بدلے گی نام بدلے گا، مادہ بدلے گا تو اسی طرح نام بھی بدلتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو جس طرح ظاہری اور حسی چیزوں کے اندر ایک صورت ہوتی ہے ایک مادہ ہوتا ہے اسی طرح جو کلام ہم کرتے ہیں اس کے اندر بھی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک مادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح قیاس بھی ہے، قیاس۔ قیاس بھی کلام کی قبیل سے ہے نا، تو اس کے اندر بھی اس کی ایک صورت ہوگی اور ایک مادہ ہوگا۔ صورتیں تو آپ نے پڑھ لیں۔ قیاس کی کتنی صورتیں ہیں؟ چار شکلیں انہوں نے ذکر کیں۔ اور کس طرح وہ بنی تھیں؟ خاص ترتیب ہوتی تھی تو ایک شکل بنتی تھی، ترتیب بدلتے تھے شکل دوسری، پھر بدلتے تھے تیسری شکل، پھر صورت بدلتے تھے تو چوتھی شکل بنتی تھی۔ مثلاً حدِ اوسط صغریٰ کے اندر کہاں پر آتا ہو؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ، تو آپ اس کو حد، اس کو شکلِ اول کہتے تھے۔ اور اگر دونوں کے اندر محمول کی جگہ پر آئے حدِ اوسط تو آپ اس کو کیا کہتے تھے؟ شکلِ ثانی کہتے تھے۔ اور اگر دونوں میں حدِ اوسط موضوع کی جگہ آئے تو آپ اس کو شکلِ ثالث کہتے تھے۔ اور اگر صغریٰ کے اندر موضوع کی جگہ آئے حدِ اوسط اور کبریٰ کے اندر محمول کی جگہ آئے حدِ اوسط تو آپ اس کو شکلِ رابع کہتے تھے۔ تو یہ مختلف صورتیں تھیں قیاس کی، تو یہ صورتیں تو آپ نے پڑھ لیں قیاس کی، ان کی شرائط بھی پڑھ لیں آپ نے بھئی۔ اب مادۂ قیاس کا بیان ہوگا۔ کس کا بیان ہوگا؟ مادۂ قیاس کا بیان ہوگا۔ مثلاً جس طرح حسی چیزوں میں دیکھ لیں، گلاس جو ہے مٹی کا بھی ہو سکتا ہے، شیشے کا بھی ہو سکتا ہے، سٹیل کا بھی ہو سکتا ہے، سونے کا بھی ہو سکتا ہے، چاندی کا بھی ہو سکتا ہے، اور پھر ہر ایک اعتبار سے وہ کہلائے گا۔ کبھی کہیں گے آپ یہ مٹی کا گلاس ہے، کبھی کیا کہیں گے؟ سٹیل کا گلاس، کبھی کہیں گے شیشے کا گلاس ہے، کبھی کیا کہیں گے؟ سونے کا گلاس ہے، کبھی کہیں گے چاندی کا گلاس، دیکھو مادہ بدل رہا ہے، صورت بے شک وہی ہو، تو آپ اس کو الگ نام سے پکارتے ہیں بھئی۔ اسی طرح مکان ہے بھئی مکان، کمرہ۔ آپ ایک کمرہ بناتے ہیں مٹی کا، تو کیا کہیں گے اس کو؟ مٹی کا کمرہ۔ اگر پتھروں کا بنائیں گے تو کہیں گے یہ پتھروں کا کمرہ ہے، پتھر سے بنا ہوا ہے۔ اگر اینٹوں سے بنایا ہوگا تو کیا کہیں گے؟ اینٹوں کا کمرہ ہے، اینٹوں سے بنا ہوا۔ اور اگر سنگِ مرمر لگایا تو کیا کہیں گے؟ سنگِ مرمر سے بنا ہوا کمرہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ اسی طرح قیاس جو ہے، یہ قیاس یہ کئی قضایا اور جملوں سے بنتا ہے۔ قیاس کے اندر کئی قضیہ اور جملے آتے ہیں نا؟ کم از کم دو ہونا ضروری اور زیادہ تو اور بھی ہو سکتے ہیں جتنے بھی ہو جائیں۔ تو قیاس ہمیشہ کس سے بنتا ہے؟ جملوں سے۔ صغریٰ، کبریٰ آتے ہیں یا نہیں؟ صغریٰ اور کبریٰ کیا ہیں؟ جملے ہی، قضیے ہی تو ہیں بھئی۔ اور پھر قضیے، اور اسی میں شکلیں بھی پھر بنتی ہیں، ترتیب بدلیں گے تو شکلیں بدلتی چلی جائیں گی۔ تو یہ جو جملے اور قضیے ہیں یہ مل کر کیا بناتے ہیں؟ قیاس بناتے ہیں، کیا بناتے ہیں؟ قیاس بناتے ہیں۔ اچھا! تو قیاس جن جملوں اور قضایا سے، قیاس جن جملوں اور قضایا سے بنے گا وہ جملے اور قضیے کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ یہ جملے اور قضیے یہ مادۂ قیاس ہیں۔ قیاس ان جملوں اور قضایا سے بنا نا؟ تو یہ کیا کہلائیں گے؟ یہ مادۂ قیاس، جیسے کپ مٹی سے بنتا تھا یا شیشے سے یا سٹیل سے، اسی طرح قیاس کس سے بنے گا؟ جملوں اور قضایا سے۔ یہ جملے اور قضیے کیا کہلائیں گے؟ قیاس کا مادہ کہلائیں گے۔ اور وہ جو حدِ اوسط کو مخصوص جگہ پر رکھتے تھے اس سے جو کیفیت حاصل ہوتی تھی اس کو کیا کہتے تھے؟ شکل یا صورت کہتے تھے۔ تو جن قضایا اور جملوں سے قیاس بنے وہ قیاس کا مادہ کہلاتے ہیں۔ خلاصۂ بحث سمجھ میں آیا؟ جن جملوں اور قضایا سے قیاس بنے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مادۂ قیاس۔ اور یہ جملے اور قضیے کئی قسم کے ہو سکتے ہیں، جب یہ مادے کئی قسم کے ہوئے تو ان سے حاصل ہونے والے قیاس بھی کئی قسم کے ہو سکتے ہیں۔ مادہ کئی قسم کا ہو تو کیا ہوگا؟ چیز بھی کئی قسم کی حاصل ہوگی۔ تو یہاں پر بھی یہ جملے اور قضیے کئی قسم کے ہو سکتے ہیں تو اس اعتبار سے قیاس کی بھی کئی قسمیں بنیں گی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھی طرح؟ اچھا! آگے پھر یہ بیان ہوگا یہ قضیے کس طرح کئی قسم کے ہو سکتے ہیں بھئی۔ کون کون سی قسمیں ہیں؟ وہ تفصیل انشاء اللہ ہم کل کر لیں گے۔ اس وقت صرف کتاب کا ترجمہ کر لیں جو کافی طویل بحث انہوں نے تمہید کے طور پر ذکر کی ہے، اس کے بعد وہ پھر قسمیں ذکر کرتے ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تفصیل میں نے لمبی کی، مختصر سی بات ہے کہ قیاس کی صورتیں وہ تو آپ پڑھ چکے ہیں، چار شکلیں ہیں۔ اور قیاس کا مادہ بیان کرنا تھا وہ میں نے بیان کر دیا جن جملوں اور قضایا سے مل کر وہ قیاس بنتا ہے، اور وہ جملے اور قضیے کئی قسم کے ہو سکتے ہیں تو اس اعتبار سے قیاس بھی کئی قسم کا ہو سکتا ہے جس کی وہ آگے تفصیل بیان کریں گے بھئی۔ دیکھیے اب کتاب پر: فصلٌ أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ ينبغي أن يعلم، مناسب ہے کہ جان لیا جائے۔ ينبغي کا کیا معنیٰ؟ مناسب۔ ينبغي أن يعلم، مناسب ہے کہ یہ جان لیا جائے أن كل قياس لا بد له من صورة ومادةٍ، کہ ہر قیاس کے لیے ضروری ہے ایک صورت اور ایک مادے کا ہونا، اس کی ایک صورت بھی ہوگی اور ایک مادہ بھی ہوگا۔ أما الصورة فهو الهيئة الحاصلة من ترتيب المقدمات، باقی صورت جو ہے پس وہ ہیئت ہے، وہ شکل ہے الحاصلة من ترتيب المقدمات جو کس سے حاصل ہوتی ہے؟ مقدمات کو ترتیب دینے سے، کیا صغریٰ کو پہلے لے کر آتے ہیں کبریٰ کو بعد میں لے کر آتے ہیں، اس میں حدِ اوسط کی بھی خاص ترتیب ہوتی ہے۔ تو وہ ہیئت وہ حاصل ہو، صورت جو ہے وہ ہیئت ہے جو حاصل ہوتی ہے مقدمات کو ترتیب دینے سے ووضع بعضها عند بعضٍ اور بعض کو بعض کے پاس رکھنے سے، وضع کا کیا معنیٰ؟ رکھنا۔ بعض کو کس ترتیب سے آپ نے رکھا ہے؟ کس کو صغریٰ کو مقدم کیا ہے اور کبریٰ کو، کبریٰ کو مؤخر کیا ہے؟ اور پھر اس کے اندر حدِ اوسط کی بھی ترتیب دیکھی جاتی ہے کہ صغریٰ میں حدِ اوسط کہاں پر آ رہا ہے؟ موضوع کی جگہ یا محمول کی جگہ؟ اسی طرح کبریٰ کے اندر حدِ اوسط کہاں آ رہا ہے؟ موضوع کی جگہ یا محمول کی جگہ؟ تو کہتے ہیں، دوبارہ ترجمہ دیکھیں: أما الصورة فهو الهيئة الحاصلة من ترتيب المقدمات، باقی صورت جو ہے پس وہ ہیئت ہے جو حاصل ہوتی ہے مقدمات کو ترتیب دینے سے ووضع بعضها عند بعضٍ اور بعض مقدمات کو بعض کے پاس رکھنے سے۔ یہ تو لفظی ترجمہ میں نے کیا: ووضع بعضها عند بعضٍ بعض مقدمات کو بعض کے پاس رکھنے سے۔ با محاورہ ترجمہ یوں کیجیے گا: اور مقدمات کو ایک دوسرے کے پاس رکھنے سے۔ مقدمات کو ایک دوسرے کے پاس، وہ ہیئت جو حاصل ہوتی ہے مقدمات کی ترتیب سے اور ایک دوسرے کے پاس رکھنے سے، وقد عرفت الأشكال الأربعة المنتجة اور تحقیق آپ جان چکے ہیں وہ چار شکلیں جو نتیجہ دینے والی ہیں۔ اس سے وہ چار شکلیں بنیں نا خاص ترتیب سے، چار شکلیں، اور وہ آپ جان چکے ہیں وہ جو نتیجہ دینے والی چار شکلیں ہیں وعلمت شرائطها اور آپ ان کی شرطیں بھی جان چکے ہیں في الإنتاجِ نتیجہ دینے میں۔ نتیجہ دینے میں ان کے شرطیں تھیں، شرطیں پوری ہوں گی تو وہ نتیجہ دیں گے، شرطیں پوری نہیں تو نتیجہ بھی نہیں دیں گے۔ بقي أمر المادةِ، باقی رہا مادے کا معاملہ، وہ تو صورت تھی۔ وہ تو شکلیں کیا تھیں؟ صورت۔ باقی مادے کا امر، مادے کا معاملہ باقی رہا، والقدماء حتى الشيخ الرئيسُ اور قدماء یعنی قدیم مناطقہ حتى الشيخ الرئيسُ یہاں تک کہ شیخِ رئیس بھی۔ شیخِ رئیس یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ منطق کی کتابوں میں شیخ اور رئیس کا لفظ آئے تو اس سے مراد ابو علی ابنِ سینا ہوتے ہیں بھئی۔ کون مراد ہوتے ہیں؟ ابو علی ابنِ سینا بھئی، شیخ اور رئیس کہا جاتا ہے ان کو۔ تو کہتے ہیں کہ باقی رہا مادے کا معاملہ اور قدماء قدیم مناطقہ یہاں تک کہ شیخِ رئیس جو ہیں كانوا أشد اهتماماً، وہ اہتمام کا معنیٰ اہمیت دینا، توجہ دینا۔ معنیٰ سمجھ میں آیا؟ اہتمام کا کیا معنیٰ؟ اہمیت دینا، توجہ دینا۔ آگے اعتناء کا لفظ آ رہا ہے، اعتناء۔ اعتناء کا معنیٰ بھی اہمیت دینا، توجہ دینا۔ تو ایک جگہ اہمیت والا ترجمہ کر لیں، ایک جگہ توجہ والا کر لیں بھئی، کلام ذرا اچھا ترجمہ بھی اچھا ہو جائے گا۔ کہتے ہیں: والقدماء حتى الشيخ الرئيسُ قدماء یہاں تک کہ شیخِ رئیس بھی كانوا أشد اهتماماً وہ بہت سخت، وہ بہت سختی فرماتے تھے کس چیز میں؟ اهتماماً، اہمیت دینے میں۔ کس چیز میں؟ یا توجہ دینے میں، وہ كانوا أشد اهتماماً وہ بہت سخت تھے اہمیت دینے کے اعتبار سے في تفصيل مواد الأقيسةِ قیاس کے مادوں کی تفصیل میں۔ قیاس، مواد جمع ہے مادةٌ کی، قیاس کے مادوں کی تفصیل میں، اس کو وہ بہت سخت، بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے وتوضيحها اور ان کی، ان کی وضاحت، توضیح کا معنیٰ واضح کرنا۔ ہا ضمیر راجع ہے مواد کو بھئی مواد الأقيسة، اور قیاس کے مادوں کی وضاحت اور قیاس کے مادوں کی تفصیل کو وہ سخت اہمیت دیتے تھے۔ بات سمجھ میں آئی؟ قدیم مناطقہ، آگے بیان کریں گے کہ یہ جو متاخرین ہیں انہوں نے قیاس کے مادے کو وہ ذکر کرتے ہی نہیں، بہت تھوڑا سا ذکر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بڑی ضروری بحث ہے قیاس کے مادوں کو جاننا، جن قضایا اور جملوں سے بنا ہے پھر کس طرح کا قیاس بنا ہے، تو یہ پتہ ہونا چاہیے اور یہ بڑی اہم بحث ہے۔ قدماء جو تھے حتیٰ کہ شیخِ رئیس 2 کس بھی بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے، کس چیز کو اہمیت دیتے تھے؟ قياس کے مادوں کی تفصیل کرنے اور ان کی وضاحت کرنے کو بڑی اہمیت دیتے تھے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ كانوا أشد اهتماما في تفصیل مواد الأقيسة وتوضيحها، وہ بہت اہمیت دیتے تھے قیاس کے مادوں کی تفصیل اور ان کے وضاحت کو، وأكثر اعتناء عن البحث في بستها وتنقيحها، اعتناء کا کیا معنیٰ کیا میں نے؟ تو جہ اور اہمیت دینا، یہاں توجہ کر لیں گے، اور بست، بست کا معنیٰ ہے تفصیل بیان کرنا، پھیلانا، پھیلانا، یعنی تفصیل بیان کرنا۔ تنقیح، نقح ينقح تنقيح، کے معنیٰ ہوتے ہیں صاف ستھرا کرنا، تنقیح کا کیا معنیٰ؟ صاف ستھرا کرنا۔ یعنی زائد چیزوں کو ختم کرنا، بیکار چیزوں کو ختم کر دینا، صاف ستھرا کر دینا۔ وأكثر اعتناء عن البحث في بستها وتنقيحها، اور بہت زیادہ توجہ دیتے تھے ان قیاس کے مادوں کی تفصیل اور ان کی تہذیب کی بحث میں۔ ان کی قیاس کی بستها وتنقيحها قیاس کے، یہ ها ضمیر کس کو راجع؟ مواد الأقيسة۔ قیاس کے مادوں کی تفصیل میں اور ان کی تہذیب میں، یعنی ان کی ان کی یوں کہیں کاٹ چھانٹ کہہ لیں، تہذیب کا معنیٰ ہے اس کا معنیٰ تہذیب ہے، وہی کاٹ چھانٹ بھئی، بیکار زائد چیزوں کو کیا کرنا؟ ختم کرنا۔ زائد چیزوں سے پاک صاف کرنے میں، زائد چیزوں سے پاک صاف کرنے میں، وہ بہت زیادہ توجہ دیتے تھے قیاس کے مادوں کی تفصیل کی جو بحث ہے اور ان کو زائد چیزوں سے پاک کرنے کی جو بحث ہے کہ قیاس کے مادے جو ہیں ان کی وہ خوب تفصیل کرتے اور زائد چیزوں سے اس کو پاک کرنے کی جو بحث ہے اس کو پر بہت توجہ دیتے تھے بھئی۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ دوبارہ با محاورہ دیکھ لیں: القدماء وحتى الشيخ الرئيس كانوا أشد اهتماما في تفصیل مواد الأقيسة وتوضيحها، وأكثر اعتناء عن البحث في بستها وتنقيحها، اور قدیم مناطقہ، یہاں تک کہ شیخ رئیس جو تھے، وہ بھی بہت سخت اہمیت دیتے تھے قیاس کے مادوں کی تفصیل اور ان کی وضاحت کرنے کو۔ وأكثر اعتناء عن البحث في بستها وتنقيحها، اور بہت زیادہ توجہ دیتے تھے ان مادوں کی تفصیل اور ان کی سُتھرائی کی بحث میں، ان کی تفصیل اور ان کو زائد چیزوں سے پاک کرنے کی بحث میں کرنے کی بحث کو وہ بہت زیادہ توجہ دیتے تھے۔ وذلك اور یہ اس وجہ سے، لأن معرفة هذا کیونکہ اس کا جاننا، کس کو جاننا؟ قیاس کے مادوں کو جاننا۔ لأن معرفة هذا اس لیے کیونکہ اس قیاس کے مادوں کا جاننا، أتم یہ زیادہ تام ہے، تام کا معنیٰ مکمل، پورا۔ یہ زیادہ تام ہے فائدة باعتبار فائدے کے، وأشمل اور زیادہ شامل ہے عائدة عائدہ کا معنیٰ بھی فائدہ، تو یہاں اس کا معنیٰ پھر کر لیں نفع، ایک جگہ فائدہ آ گیا دوسری جگہ نفع تاکہ ترجمہ ذرا اچھا ہو جائے۔ کہتے ہیں: لأن معرفة هذا أتم فائدة وأشمل عائدة، اس لیے کیونکہ قیاس کے مـ اس، یا یوں کہیں، اس بحث کو جاننا، کون سی بحث کو؟ قیاس کے مادوں کی۔ کیونکہ قیاس تو قیاس کے مادوں کی بحث کو جاننا، وہ زیادہ تام ہے باعتبار فائدے کے، یعنی اس کا فائدہ بڑا تام ہے، وأشمل عائدة، اور زیادہ شامل ہے باعتبار نفع کے، یعنی اس کا نفع بڑا عام ہے۔ اس کا نفع زیادہ شا- زیادہ شمول کا کیا معنیٰ ہوا؟ زیادہ عموم۔ تو اس کا فائدہ زیادہ عام ہے، کس کے لیے عام ہے؟ کہتے ہیں: لطالبي الصناعة، طالبين، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ صناعت، فن کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ فن کو۔ یعنی یہ فنِ منطق مراد ہے۔ لطالبي الصناعة، اس فن کے طالبین کے لیے۔ کیونکہ اس، دوبارہ دیکھیں: لأن معرفة هذا، کیونکہ اس بحث کا جان لینا یہ فائدے کے اعتبار سے بہت تام اور نفع کے اعتبار سے بہت عام ہے، لطالبي الصناعة، اس فن کے طالب طالبوں کے لیے، طلباء کے لیے۔ لكن المتأخرين قد طولوا الكلام في بيان صورة الأقيسة، لیکن جو متاخرین ہیں، میں نے بتلایا، متاخرین نے صورتوں کے اندر بڑا طویل کلام کیا، ہاں مادے کو سے بہت معمولی انہوں نے ذکر کیا، نہ ہونے کے برابر بھئی۔ تو حالانکہ وہ مادوں کی بحث تو اس کا فائدہ تو بہت زیادہ ہے انہوں نے بیان کر دیا۔ کہتے ہیں: لیکن المتأخرين قد طولوا الكلام، لیکن متاخرین مناطقہ نے، طول، طول سے ہے، قد طولوا الكلام، کیا معنیٰ؟ بڑا لمبا کلام کیا ہے، في بيان صورة الأقيسة، قیاس کی صورتوں کے بیان میں، قیاس کی صورتوں کے بیان میں انہوں نے بڑا لمبا کلام کیا یعنی خوب طویل بحثیں کی ہیں، وبسطوا فيها، اور تفصیل بیان کی ہے اس کے اندر، غاية البسط، خوب تفصیل بھئی۔ اس کے اندر انہوں نے خوب تفصیل بیان کی ہے، سيما في أقيسة الشرطيات المتصلة والمنفصلة، خاص طور پر، سیما: خاص، خاص طور پر في أقيسة الشرطيات المتصلة، خاص طور پر متصلہ شرطیہ، یا یوں کہیں، شرطیہ متصلہ کے قیاسوں میں، انہوں نے بڑی طویل بحث کی ہے، بڑا طویل کلام کیا ہے، خاص طور پر شرطیہ متصلہ کے قیاسوں میں والمنفصلة، اور شرطیہ منفصلہ کے قیاسوں میں۔ مع قلة جدوى، جدویٰ کا کیا معنیٰ؟ فائدہ، یہ لفظ پیچھے بھی گزر چکا ہے۔ مع قلة جدوى هذه المباحث، باوجود ان مباحث کے کم فائدے کے۔ انہوں نے متاخرین نے کیا کیا ہے؟ قیاس کی صورتوں میں بڑا طویل کلام کیا ہے اور انتہا درجے کی تفصیل بیان کی ہے، خاص طور پر شرطیہ متصلہ اور منفصلہ کے قیاسوں کے اندر انہوں نے بڑی لمبی تفصیل بیان کی ہے، باوجود اس کے کہ ان مباحث کا فائدہ بڑا تھوڑا ہے۔ یہ شرطیہ متصلہ اور منفصلہ کے قیاسوں کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور ها- مادے کا فائدہ بہت زیادہ ہے، جس کا فائدہ زیادہ تھا اس کو ذکر کم کیا، جس کا فائدہ تھوڑا تھا اس کو ذکر زیادہ کیا۔ ورفضوا أمر المادة، اور انہوں نے چھوڑ دیا، رفض يرفض کے معنیٰ چھوڑ دینے کے، ورفضوا أمر المادة، اور انہوں نے مادے کے معاملے کو چھوڑ دیا، واقتصروا في بيانها، اقتصر کے معنیٰ ہوتے ہیں اکتفاء کر لینا۔ کیا کر لینا؟ اکتفاء کر لینا۔ یعنی تھوڑے کو ہی کافی سمجھ لینا۔ واقتصروا، اور انہوں نے اکتفاء کیا، في بيانها، مادوں کے بیان میں، على بيان حدود الصناعات الخمس، حدود جمع ہے حد کی، تعریف کو کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں؟ تعریف کو۔ تو انہوں نے اکتفاء کیا مادوں کے بیان میں، کس چیز پر اکتفاء کیا؟ على بيان حدود الصناعات الخمس، پانچ صنعتوں کی تعریف کے بیان پر۔ آگے پانچ صنعتیں آ رہی ہیں بھئی، پانچ قسم کے مادوں کے اعتبار سے قیاس پانچ قسم پر ہے، کتنی قسم پر ہے؟ پانچ۔ مادوں کے اعتبار سے، مادہ مختلف ہو سکتا ہے۔ وہ قضیہ اور جملے جن سے قیاس بنا ہے۔ تو ان کے اعتبار سے مادوں کے اعتبار سے قیاس کتنے قسم پر؟ پانچ۔ ان کو صناعاتِ خمسہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ صناعاتِ خمسہ۔ تو متاخرین نے قیاس کے مادوں کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا، صرف صناعاتِ خمسہ کی تعریف پر اکتفاء کر لیا ہے، صرف اس کو بیان کیا ہے صناعاتِ خمسہ کی۔ تو کہتے ہیں: واقتصروا في بيانها، اور انہوں نے متاخرین نے اکتفاء کیا ان مادوں کے بیان میں، على بيان حدود الصناعات الخمس، پانچ صنعتوں کی تعریف کے بیان پر ہی، ولا أدري، مصنف فرماتے ہیں: ولا أدري، اور میں نہیں جانتا، أي أمر دعاهم إلى ذلك، کس بات نے، کس معاملے نے دعاهم ان کو بلایا، إلى ذلك اس بات کی طرف۔ انہوں نے جو کیا کیا؟ صورت پہ تفصیل، صورت کی تفصیل بیان کی اور مادہ جو ضروری چیز تھی اس کو بہت تھوڑا سا ذکر کیا نہ ہونے کے برابر، انہوں نے کیوں اس طرح کیا؟ مجھے، میں نہیں جانتا، مصنف کہتے ہیں بھئی۔ انہوں نے کیوں، ولا أدري أي أمر دعاهم إلى ذلك، میں نہیں جانتا کس بات نے ان کو اس بات کی طرف بلایا، اس چیز کی طرف بلایا کہ وہ اس طرح کریں، جو کم فائدے والی ہے اس کو زیادہ ذکر کریں اور جس کو زیادہ فائدہ ہے اس کو کم۔ أي أمر کس بات نے دعاهم إلى ذلك ان کو بلایا اس چیز کی طرف، وأي باعث أغراهم هنالك، باعث: سبب بھئی، باعث: سبب۔ أغراهم، أغرى يغري کے معنیٰ ہوتے ہیں ابھارنے کے، ابھارنے کے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: بھئی! تم نے زید کی پٹائی کیوں نہیں کی؟ میں آپ کو ابھار رہا ہوں، کس چیز پر؟ کہ آپ کو کرنی چاہیے تھی اس کی پٹائی، صورت سمجھ میں آئی؟ اس کو کہتے ہیں ابھارنا، کسی کو دوسرے کام پر تیار کرنا۔ کسی دوسرے کام پر آمادہ کرنا۔ وأي باعث أغراهم هنالك، اور کس سبب نے ان کو ابھارا وہاں پر؟ اس بات پر کس سبب نے ان کو ابھارا؟ کیوں انہوں نے اس طرح کیا؟ کم فائدے والی کو زیادہ ذکر کیا اور زیادہ فائدے والی کو کم؟ کہ وأي باعث أغراهم هنالك، کس سبب نے ان کو ابھارا اس پر؟ ولا بد للفطن اللبيب، فطن اور فطین کا معنیٰ ہوتا ہے ذہین۔ فطن اور فطین کا معنیٰ ہے ذہین۔ لبیب کا معنیٰ بھی ذہین، سمجھدار، عقلمند۔ ولا بد للفطن اللبيب، اور ضروری ہے سمجھدار عقل والے کے لیے، ضروری ہے، یا یوں کہیں جو بھی آپ ترجمہ کر لیں میں نے معنیٰ بیان کر دیا۔ ضروری ہے ذہین عقل والـ ذہین عقلمند کے لیے۔ کیا؟ أن يهتم، کہ وہ اہمیت، اہتمام کرے یعنی اہمیت دے، یعنی توجہ کرے، کیا کرے؟ توجہ کرے، في هذه المباحث، ان بحثوں کے اندر، کون سی بحثوں میں توجہ کرے؟ مو- مادوں کی بحثوں میں۔ جو بھی ذہین، سمجھدار طالبِ علم ہے اس کو کیا کرنا چاہیے؟ مادوں کی بحث کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ولا بد للفطن اللبيب أن يهتم في هذه المباحث الجليلة الشأن الباهرة البرهان، کہ وہ توجہ دے ان مباحث میں، کون سی مباحث، کس کس طرح کی مباحث؟ الجليلة الشأن، جو عظیم شان والی ہیں، بڑی شان والی ہیں جو بحثیں، الباهرة البرهان، باہرہ کا معنیٰ ظاہر، ظاہر۔ برہان کا معنیٰ دلیل، جن کی دلیل خوب ظاہر ہے بھئی۔ جن کی دلیل کیا ہے؟ یعنی ان کا نفع خوب ظاہر ہے، وا- اس پر دلیل واضح دلیل موجود ہے، خود پتہ لگ جاتا ہے بھئی۔ تو ضروری ہے ہر سمجھدار عقل والے کے لیے کہ وہ توجہ دے ان مباحث کے اوپر جو کہ بلند شان و- جو بڑی شان والی ہیں اور ظاہر دلیل والی ہیں، غاية اهتمام، غاية الـ؟ انتہا درجے کی توجہ۔ غاية اهتمام؟ تو ضروری ہے ہر سمجھدار عقلمند کے لیے کہ وہ توجہ دے ان جلیل الشان بحثوں اور یہ جو جلیل الشان اور ظاہر دلیل والی بحثیں ہیں، ان کی طرف خوب، ان کی طرف توجہ دے، غاية اهتمام، خوب توجہ۔ ويطلب، ويطلب، اس کا عطف يهتم پر کریں بھئی، کس پر کریں؟ يهتم۔ اور ضروری ہے سمجھدار عقل والے کے لیے، أن يطلب، کہ وہ طلب کرے ذلك المطلب العظيم والمقصد الفخيم، مطلب اور مقصد کا ایک معنیٰ ہے، مقصود بھئی۔ مطلب اور مقصد کا ایک معنیٰ ہے، مطلوب اور مقصود جو بھی آپ ترجمہ کر لیں۔ اور فخیم کا معنیٰ بھی عظیم ہے۔ عظیم اور فخیم کا ایک معنیٰ ہے۔ ويطلب ذلك المطلب العظيم والمقصد الفخيم، اور ضروری ہے، یہ اوپر میں عطف کر رہا ہوں بھئی، عطف کے بعد ترجمہ کر رہا ہوں۔ اور ضروری ہے ہر سمجھدار عقل والے کے لیے کہ وہ طلب کرے اس عظیم مطلوب کو اور عظیم مقصود کو، کیا کرے؟ طلب، کون سا عظیم مقصود اور عظیم مطلوب ہے بھئی؟ موا- قیاس کے مادے جو ہیں، ان کو طلب کرے، من كتب القدماء المهرة، قدیم ماہروں کی کتابوں سے۔ مہرہ جمع ہے ماہر کی، جیسے طلبہ جمع ہے طالب کی۔ تو قدیم ماہرین کی کتابوں سے اس مقصـ عظیم مقصود کو طلب کرے، وزبر الأقدمين السحرة، زبر جمع ہے زبور کی۔ زبور کہتے ہیں کتاب کو، صحیفے کو۔ زبر جمع ہے زبور کی اور زبور کسے کہتے ہیں؟ کتاب اور صحیفے کو۔ الأقدمين، وہی جو مقدم ہیں پہلے گزرے ہیں۔ السحرة جمع ہے ساحر کی، ساحر کی۔ ساحر کسے کہتے ہیں؟ جادو کرنے والا۔ یہاں کیا مراد ہے سحرہ سے؟ مراد ہے جو یوں کہیں، جو جادو بیان تھے یا جن کو یعنی جن کا کلام بڑا مؤثر ہوتا تھا، بڑی گہری باتیں کرتے تھے، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے جادو کی طرح ان کا کلام مؤثر ہوتا ہے بھئی، کس کی طرح؟ جادو کی طرح ان کا کلام مؤثر ہوتا ہے بھئی۔ تو ضروری ہے کہ ہر سمجھدار عقلمند کے لیے کہ وہ اس عظیم مقصود کو طلب کرے قدیم ماہرین کی کتابوں سے، وزبر الأقدمين السحرة، اور قدیم جو مؤثر کلام کرنے والے تھے، ان کی کتابوں سے، ان کے صحیفوں سے۔ جادو اثر کلام کرنے والے متقدمین کی کتابوں سے۔ فعليك أيها الولد العزيز، عليك اسم فعل ہے بمعنیٰ لازم پکڑو، یعنی ضرور کرو، کیا کرو؟ ضرور کرو، لازم۔ فعليك أيها الولد العزيز، پس تو لازم پکڑ، اے عزت و والے بیٹے! اے معزز بیٹے! تم لازم پکڑو۔ کیا لازم پکڑو؟ أن تسمع نصيحتي، کہ تو میری نصیحت سن لے۔ تم میری نصیحت سننے کو اے معزز بیٹے! تم میری نصیحت سننے کو لازم پکڑو۔ ولا تنس وصيتي، نسي ينسى کے معنیٰ بھول جانے کے۔ ولا تنس، اور یہ کہ تم بھول نہ جانا، وصيتي، میری وصیت کو۔ یعنی وصیت وہی نصیحت بھئی۔ تم میری نصیحت کو سن لینا، تم میری نصیحت سننے کو لازم پکڑنا اور اس میری وصیت کو بھول نہ جانا۔ وإنما ألقي عليك نبذا مما يتعلق بهذه الصناعات، وإنما ألقي عليك، اور میں آپ پر ڈالتا ہوں، ألقى يلقي کا معنیٰ ڈالنا، مراد ہے پیش کرنا۔ مراد کیا ہے؟ پیش۔ وإنما ألقي عليك، اور میں آپ پر پیش کرتا ہوں، کیا چیز؟ نبذا، نبذ کا معنیٰ تھوڑا سا، کچھ۔ نبذا، کچھ، مما، ان چیزوں میں سے، يتعلق بهذه الصناعات، جن کا تعلق ان صنعتوں سے ہے۔ یہ جو پانچ صنعتیں ہیں بھئی، جن سے تو اس میں سے کچھ میں آپ کے سامنے، آپ پر پیش کرتا ہوں یعنی ذکر کرتا ہوں، متوكلا على، توکل کرتے ہوئے، بھروسہ کرتے ہوئے، على كافي المـ 3 عماد اس ذات پر جو اہم اہمات میں، اہم باتوں میں کافی ہے یعنی اللہ تعالیٰ۔ بھروسہ کرتے ہوئے علیٰ کافي المهمات، بھروسہ کرتے ہوئے اس ذات پر، اہم کا معنی اہم کام، جو اہم باتوں میں، اہم کاموں میں کافی ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ وإنما ألقي عليك نبذا مما يتعلق بهذه الصناعات متوكلا على كافي المهمات اور میں پیش کرتا ہوں آپ پر کچھ اس میں سے جس کا تعلق ان صنعتوں سے ہے، ان فنون سے ہے متوكلا على كافي المهمات بھروسہ کرتے ہوئے، توکل کرتے ہوئے علیٰ کافي المهمات اس ذات پر جو اہم کاموں کے لیے کافی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ اچھی طرح واضح ہو گیا بھئی؟ خلاصۂ بحث کیا ہوا؟ کہ انہوں نے یہ بیان کیا کہ قیاس کی ایک صورت ہوتی ہے اور ایک مادہ۔ صورت کا بیان تو گزر گیا چار شکلیں بھئی، اور مادے کا بیان باقی تھا، اس پر انہوں نے خوب اپنے غم کا اظہار کیا کہ یہ بڑی قیمتی بحث تھی، اس کا فائدہ زیادہ تھا، اور دوسری جو شرطیہ متصلہ اور منفصلہ وغیرہ کے جو قیاسات تھے ان کا فائدہ تھوڑا تھا، تو جس کا فائدہ تھوڑا تھا اس کو متاخرین نے بہت اہمیت دی اور خوب تفصیل بیان کی، اور جس کا فائدہ زیادہ تھا جس کی طرف شیخ بو علی ابن سینا نے بھی بڑی توجہ دی ہے اور اس پر بڑا زور دیا ہے، اس کے انہوں نے بالکل سرے سے چھوڑ ہی دیا، صرف وہ پانچ صنعتیں ہیں ان کے صرف تعریف ذکر کرتے ہیں، مادوں کے اندر صرف اس کو بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بحث بہت ضروری ہے۔ کہتے ہیں میں نہیں جانتا انہوں نے کیوں اس طرح کیا، لیکن بہرحال اے طلبہ! آپ اس طرح نہ کرنا، آپ مادوں کی طرف توجہ ہی نہ دیں ایسا نہ کرنا بلکہ مادوں کے اندر خوب کوشش کرنا اور قدیم مناطقہ جو ہیں ان کی کتابوں کو سے دیکھ کر خوب محنت کرنا تاکہ اس سے آپ اسی سے آپ کا فائدہ کامل ہوگا اس فن کے اندر بھئی، مہارت حاصل ہوگی۔ اور کہتے ہیں میری اس نصیحت کو غور سے سننا، اس کو چھوڑنا مت اور اس کو کبھی بھلانا مت۔ اب کہتے ہیں میں آپ کے سامنے اس میں سے کچھ پیش کرنے لگا ہوں، اس کو یاد رکھنا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 90 of 108