Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-087

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 87 1 فصلٌ الاستقراءُ هو الحكمُ على كلٍّ بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ كقولنا كلُّ حيوانٍ يحركُ فكَّهُ الأسفلَ عندَ المضغِ لأنا استقرينا أي تتبعنا الإنسانَ والفرسَ والبعيرَ والحميرَ والطيورَ والسباعَ فوجدناها كلها كذلك فحكمنا بعدَ تتبعِ هذهِ الجزئياتِ المستقراةِ أنَّ كلَّ حيوانٍ يحركُ فكَّهُ الأسفلَ. حجت اور دلیل کی اقسام پڑھنا ہم نے شروع کی تھیں بھئی۔ حجت کی تین قسمیں بتلائی تھیں آپ کو مصنف نے، ایک قیاس، ایک استقراء اور ایک تمثیل بھئی۔ قیاس کی طویل بحث مکمل ہوئی، آج ہم استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ استقراء اور تمثیل کے بارے میں۔ یہ پہلی فصل جو ہے یہ استقراء کے بارے میں ہے بھئی۔ یاد رکھیے، استقراء کے لغوی معنی ہیں تلاش کرنا، کوشش کرنا، جستجو کرنا، تحقیق کرنا۔ استقراء کے کیا معنی ہیں؟ کوشش کرنا، تلاش کرنا، تحقیق کرنا، جستجو کرنا، جو بھی معنی کر لیں آپ بھئی۔ اور اصطلاحی تعریف هو الحكمُ على كلٍّ بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ، هو الحكمُ على كلٍّ وہ حکم لگانا ہے سب پر بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ اکثر جزئیات کے تتبع کے بعد، ان کی تلاش کے بعد۔ یعنی اکثر جزئیات کے بارے میں تحقیق کی اور ان میں ایک وصف ملا تو کلی کے سارے افراد پر وہ حکم لگا دینا بھئی۔ کلی کے سارے افراد پر وہ حکم لگا دینا۔ بھئی آپ نے ایک کلی کے اکثر افراد کی تحقیق کی، ایک وصف تھا آپ کو اکثر افراد میں ملا تو آپ نے اس کلی کے سارے افراد پر ہی وہ حکم لگا دیا بھئی۔ جیسے اس کی مثال ذکر کریں گے کہ آپ نے حیوان کے اکثر افراد کے بارے میں تحقیق کی، استقراء کیا تو آپ نے دیکھا کہ یہ کھاتے وقت نچلا جبڑا ہلاتے ہیں بھئی۔ کوئی بھی چیز چباتے وقت اور کھاتے وقت کیا کرتے ہیں؟ نچلا جبڑا ہلاتے ہیں بھئی۔ انسان کو دیکھا، انسان بھی کھاتے ہوئے نیچے والا جبڑا ہلاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے گائے کو دیکھا، وہ بھی کھاتے ہوئے نچلا جبڑا ہلاتی ہے۔ بکری کو دیکھا، وہ بھی نچلا جبڑا ہلاتی ہے گھاس کھاتے وقت۔ آپ نے گھوڑے کو دیکھا، وہ بھی چارہ کھاتے وقت نچلا جبڑا ہلاتا ہے۔ گدھے کو دیکھا، اس میں بھی یہی وصف ملا۔ تو آپ نے اکثر جزئیات کی تحقیق کی اور ان میں آپ کو یہ وصف ملا تو آپ نے ساری کلی پر ہی یہ حکم لگا دیا۔ سارے افراد کو نہیں دیکھا، لیکن اکثر کو دیکھ کر آپ نے کیا کیا؟ کل پر حکم لگا دیا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ استقراء کہیں گے بھئی، استقراء۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ استقراء ہے۔ اور یہ یاد رکھیے ظن کا فائدہ دیتا ہے، غالب ظن کا۔ غالب گمان اسی طرح ہے بھئی، یقین کا فائدہ نہیں۔ یہ کوئی قطعی اور یقینی بات نہیں کہ حیوان کے سارے افراد کھاتے وقت نچلا جبڑا ہلاتے ہوں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے بعض افراد ایسے ہوں جو آپ کو ملے ہی نہیں، آپ نے دیکھے ہی نہیں ان کو بھئی، آپ نے ان کو دیکھا ہی نہیں۔ آپ تو دنیا کے ایک ایک کونے میں نہیں گھومے بھئی، تو ہو سکتا ہے اس کے بعض افراد ایسے ہوں جو کھاتے وقت، چباتے وقت نیچے والا جبڑا نہ ہلاتے ہوں بلکہ اوپر والا جبڑا ہلاتے ہوں۔ جیسے کہتے ہیں بھئی کہ تمساح جو ہے تمساح، مگرمچھ کھاتے وقت، چباتے وقت اوپر والا جبڑا ہلاتا ہے، نیچے والا جبڑا نہیں ہلاتا۔ تو دیکھو یہ جو استقراء تھا، یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا، قطعی بات اس سے نہیں معلوم ہوتی۔ ہاں غالب گمان کا فائدہ دیتا ہے کہ غالب گمان یہی ہے کہ اس کے اکثر افراد کیا، کہ اس کے افراد حیوان کے افراد کیا کرتے ہیں؟ چباتے وقت اور کھاتے وقت نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ تو اس نے یقین کا فائدہ نہیں دیا، کوئی قطعی بات طے نہیں ہوئی بلکہ کس چیز کا فائدہ دیا؟ غالب گمان، غالب گمان یہ ہے کہ اسی طرح ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ ہے استقراء بھئی، استقراء۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی، بس آسان سی بحث ہے بھئی۔ تو استقراء کس کو کہتے ہیں؟ تلاش کرنا، کوشش کرنا، تحقیق کرنا۔ آپ نے اکثر جزئیات کی تحقیق کر لی تو سارے افراد پر ہی حکم لگا دیا اس کلی کے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء۔ تحقیق کی اکثر کی اور لگایا حکم سب پر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استقراء۔ تو دیکھیے یہی تعریف کر رہے ہیں الاستقراءُ هو الحكمُ على كلٍّ استقراء وہ حکم لگانا ہے على كلٍّ سب پر، حکم لگانا ہے سب پر۔ یاد رکھیے یہ كلُّ جو ہے نہ یہ مضاف الیہ چاہتا ہے ہمیشہ ہمیشہ۔ کل کا معنی سارا، پورا، بھئی کیا چیز پوری؟ ساری کتابیں، سارے انسان، سارے حیوان، آگے مضاف الیہ چاہیے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ ہمیشہ مضاف الیہ کا تقاضا کرتا ہے، اور کبھی کبھی اس کے مضاف الیہ کو حذف کر کے اس کے عوض میں اس پر تنوین لے آتے ہیں۔ جیسے یہاں پر ہے على كلٍّ، یہ تنوین کیا ہے؟ عوض ہے مضاف الیہ سے، مضاف الیہ کو ختم کیا اس کی جگہ تنوین اٹھا کر لے آئے بھئی۔ تو یہ تنوین عوض ہے کس کی؟ مضاف الیہ کی، تو هو الحكمُ على كلِّ فردٍ من أفرادِ الكليةِ، وہ حکم لگانا ہے ہر فرد پر من أفراد الكلية، کس میں؟ کسی کلی کے افراد، کسی کلی کے افراد میں سے ہر فرد پر حکم لگانا ہے۔ معنی سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یا تو یہ تاویل کرنا پڑے گی یہاں كلِّ فردٍ من أفرادِ الكليةِ، یہ جار مجرور بھی محذوف نکال لیں گے بھئی من أفرادِ الكليةِ، وہ حکم لگانا ہے ہر فرد پر من أفراد الكلية اس کلی کے افراد میں سے ہر فرد پر۔ بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ اکثر جزئیات کا تتبع کرنے کی وجہ سے، تتبع وہی استقراء، اکثر جزئیات اکثر جزئیات کی تلاش کے بعد، اکثر جزئیات کی تحقیق کے بعد۔ کلی جزئی تو جانتے ہو کہ کلی جزئی بھی بھول گئے بھئی؟ کلی وہ مفہوم جس میں شرکت ہو سکے، کثیرین پر صادق آئے۔ جیسے انسان، اور جزئی جو اس کے افراد ہیں زیڈ، عمر، بکر، خالد یہ سب کیا ہیں اس کی جزئیات ہیں۔ ان کو جزئیات بھی کہتے ہیں، افراد بھی کہتے ہیں بھئی۔ تو وہ کہتے ہیں حکم لگانا ہے على كلٍّ اس کلی کے افراد، تمام افراد پر بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ اس کے اکثر جزئیات کی تحقیق کی وجہ سے بھئی، اس کی تحقیق کی اور ان کی تلاش کے ذریعے وجہ سے، ان کی تلاش کے ذریعے۔ معنی سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو یہ كلِّ واحدٍ من أفرادِ الكليةِ یا كلِّ فردٍ من أفرادِ الكليةِ یا تو یہ تاویل کر لیں، یا یوں کہیں بھئی یہ ہم کل کے بجائے کلیٍّ کا لفظ ہونا چاہیے بھئی، کیا لفظ ہونا چاہیے؟ کلیٍّ، کلی پر حکم لگاتے ہیں مطلق کل پر نہیں، مطلق کل پر نہیں۔ ہم نے کلی پر حکم لگایا، حیوان پر حکم لگایا کہ اس کے سارے افراد کھاتے وقت نچلا جبڑا ہلاتے ہیں۔ پتھر پر لگایا؟ نہیں، ایک کلی پر لگایا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا یہاں یا تو یہ کتابت کی غلطی ہے کہ کہیں کل کی جگہ کیا ہونا چاہیے؟ کلیٍّ کا لفظ ہونا چاہیے، یا پھر وہ آسان تاویل بھئی كلِّ فردٍ من أفرادِ الكليةِ، یہ لفظ یہاں مضاف بھئی۔ تو وہ حکم لگانا ہے کسی کلی کے تمام افراد پر بتتبعِ أكثرِ الجزئياتِ اکثر جزئیات کی تلاش کی وجہ سے، كقولنا جیسے کہ ہمارا قول كلُّ حيوانٍ يحركُ فكَّهُ الأسفلَ عندَ المضغِ، فكٌّ فكٌّ یہ جبڑے کو کہتے ہیں بھئی، کس کو کہتے ہیں؟ جبڑے کو، اور یہ هُ اس کے ساتھ ضمیر ملی ہوئی ہے۔ أسفل نیچے والا بھئی، أسفل نیچے والا، مضغٌ کا معنی ہوتا ہے چبانا، دانتوں سے کوئی چیز کھانا، مضغٌ کا کیا معنی ہے؟ چبانا۔ كقولنا جیسے کہ ہمارا قول كلُّ حيوانٍ يحركُ فكَّهُ الأسفلَ عندَ المضغِ کہ ہر حیوان وہ ہلاتا ہے اپنے نچلے جبڑے کو فكَّهُ الأسفلَ اپنے نچلے جبڑے کو عندَ المضغِ چباتے وقت۔ لأنا استقرينا اس لیے کیونکہ ہم نے استقراء کیا أي تتبعنا یعنی کہ ہم نے تلاش کیا، تحقیق کی الإنسانَ انسان کی والفرسَ اور گھوڑے کی والبعيرَ بعیر کہتے ہیں اونٹ یا اونٹنی کو بھئی، والبعيرَ اور ہم نے تحقیق کی اونٹ کی والحميرَ حمیر جمع ہے حمار کی، گدھے کو کہتے ہیں، اور ہم نے تحقیق کی گدھوں کی والطيورَ طیور جمع ہے طائر کی، پرندے کو کہتے ہیں، ہم نے پرندوں کی تحقیق کی والسباعَ سباع جمع ہے سبع کی سبع، سبع کہتے ہیں درندے کو بھئی، چیرنے پھاڑنے والا جانور بھئی، سباع کسے کہتے ہیں؟ چیرنے پھاڑنے والا جانور یعنی درندہ بھئی، تو سبع سبع مفرد ہے اور سباع جمع ہے، اور درندوں کی أي تتبعنا الإنسان والفرس والبعير والحمير والطيور والسباع یعنی ہم نے تحقیق کی انسان کی اور گھوڑے کی اور اونٹ کی اور گدھوں کی اور پرندوں کی اور درندوں کی، فوجدناها كلها كذلك پس ہم نے ان سب کو اسی طرح پایا فحكمنا تو ہم نے حکم لگا دیا بعدَ تتبعِ هذهِ الجزئياتِ المستقراةِ پس ہم نے حکم لگایا ان جزئیات مستقراۃ کی تلاش کے بعد، مستقراۃ تلاش کردہ، تلاش کردہ جن کی تحقیق کر لی بھئی، تلاش کر لیا جن کو۔ تو ہم نے ان تلاش کردہ جزئیات کی تحقیق کے بعد حکم لگا دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟ فحكمنا بعدَ تتبعِ هذهِ الجزئياتِ المستقراةِ تو پس ہم نے حکم لگا دیا ان تلاش کردہ جزئیات کی تحقیق کے بعد، کیا حکم لگایا؟ أنَّ كلَّ حيوانٍ يحركُ فكَّهُ الأسفلَ عندَ المضغِ کہ ہر حیوان وہ ہلاتا ہے اپنے نچلے جبڑے کو چباتے وقت۔ والاستقراءُ لا يفيدُ اليقينَ اور استقراء وہ یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا وإنما يحصلُ الظنُّ الغالبُ، وإنما يحصلُ عبارت پر نظر رکھنا بھئی، استقراء یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا وإنما يحصلُ یہاں جار مجرور بهِ محذوف نکال لیں گے بھئی، وإنما يحصلُ بهِ الظنُّ الغالبُ بھئی، استقراء ترجمے پہ نظر رکھیں، اور بهِ کا بھی ترجمہ میں ساتھ کروں گا، اور استقراء یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا وإنما يحصلُ بهِ اس کے ذریعے تو حاصل ہوتا ہے، وإنما يحصل به اس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے الظنُّ الغالبُ ظنِ غالب، اس کے ذریعے ظنِ غالب ہی حاصل ہوتا ہے بھئی، إنما حصر کے لیے آیا حصر والا ترجمہ۔ استقراء بهِ کی هُ ضمیر کس کو راجع؟ استقراء کو، وإنما يحصلُ بهِ الظنُّ الغالبُ استقراء کے ذریعے ظنِ غالب ہی حاصل ہوتا ہے بھئی، معنی سمجھ میں آیا؟ یہ بهِ ہم نے محذوف نکالا، یا بهِ کو محذوف نہ نکالیں تو پھر يحصلُ نہ پڑھیں، پھر يحصِّلُ پڑھ لیں بھئی، وإنما يحصِّلُ الظنَّ الغالبَ اور يحصِّلُ میں فاعل کی ضمیر وہ استقراء کو راجع کر لیں، وإنما يحصِّلُ الظنَّ الغالبَ کہ یہ استقراء تحصیل کرواتا ہے ظنِ غالب کی، کس کی تحصیل کرواتا ہے؟ ظنِ غالب کی تحصیل کرواتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ عبارت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وإنما کیونکہ استقراء کی بات ہو رہی ہے نہ، تو اگر ہو نہ وإنما يحصلُ الظنُّ الغالبُ ظنِ غالب حاصل ہوتا ہے، ظنِ غالب، اس میں استقراء کا تو ذکر ہی نہیں اس جملے میں، اور بات کس کی چل رہی ہے؟ استقراء کی، تو اس کے لیے ایک طریقہ یہ ہے يحصلُ کو يحصلُ ہی پڑھیں اور بهِ نکال لیں محذوف، یہ کس کو لوٹ رہی ہے ضمیر؟ استقراء کو، کہ استقراء کے ذریعے کیا حاصل ہوتا ہے؟ ظنِ غالب۔ یا بهِ نہ نکالیں يحصِّلُ کی فاعل کی ضمیر یہ استقراء کی طرف لوٹا دیں کہ وإنما يحصِّلُ الظنَّ الغالبَ استقراء تحصیل کرواتا ہے کس کی؟ ظنِ غالب کی۔ لجوازِ بھئی اس کے ذریعے یقین کیوں نہیں حاصل ہوتا؟ یہ ظنِ غالب کا فائدہ کیوں دیتا ہے؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں: لجوازِ أن لا يكونَ جميعُ أفرادِ هذا الكليِّ بهذهِ الحالةِ اس لیے کیونکہ جائز ہے یعنی ممکن ہے، جواز کس معنی میں ہے؟ ممکن کے، لجوازِ اس وجہ سے کہ ممکن ہے أن لا يكونَ جميعُ أفرادِ هذا الكليِّ کہ نہ ہوں تمام افراد اس کلی کے بهذهِ الحالةِ اس حالت کے، کیونکہ ممکن ہے اس کلی کے تمام افراد اس حالت پر نہ ہوں بھئی، کیونکہ ہم نے تو اکثر افراد کا تتبع کیا سارے افراد کا تتبع تو نہیں کیا بھئی، تو ہو سکتا ہے جن کا تتبع نہیں جو ہمیں ملے نہیں ہیں ہو سکتا ہے ان میں سے بعض اس صفت پر نہ ہوں، اس حالت پر نہ ہوں، اور آپ نے تو سب پر حکم لگا دیا ہے تو یہ کوئی یقینی حکم نہ ہوا بلکہ ظنِ غالب ہے، غالب گمان یہی ہے بھئی۔ كما يقالُ جیسے کہا جاتا ہے إنَّ التمساحَ ليسَ على هذهِ الصفةِ تمساح مگرمچھ بھئی، مگرمچھ سمجھ میں آیا؟ اسی کو گھڑیال بھی کہتے ہیں بھئی، كما يقالُ جیسے کہا جاتا ہے إنَّ التمساحَ ليسَ على هذهِ الصفةِ کہ مگرمچھ وہ اس صفت پر نہیں ہے یعنی وہ اس طرح نہیں ہے، بل يحركُ فكَّهُ الأعلى بلکہ وہ ہلاتا ہے اپنے اوپر والے جبڑے کو، مگرمچھ کھاتے وقت اپنے اوپر والے جبڑے کو ہلاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور یاد رکھیے یہ استقراء، استقراء کس کو کہتے تھے؟ کہ کلی پر کوئی حکم لگا دینا اکثر جزئیات کی تحقیق کے بعد، پوری کلی پر ہی حکم لگا دینا اکثر جزئیات کی تحقیق کے بعد، تو اکثر جزئیات کی تحقیق 2 ہی کرکے پورے کلی پر حکم لگا دینا یہ استقراء کہلاتا ہے۔ اور یہ دو قسم پر ہے دو قسم پر۔ ایک استقراءِ تام ہے، ایک استقراءِ غیر تام ہے بھئی۔ ایک استقراءِ تام ہے تام یعنی پورا تامٌ میم مشدد ہے۔ ایک استقراءِ تام ہے، ایک استقراءِ غیر تام۔ یہ جو ہم نے مثال پڑھی یہ تھا استقراءِ غیر تام۔ بھئی سارے افراد کو ہم نے ان کی تحقیق کی یا اکثر کی صرف تحقیق کی؟ اکثر کی تحقیق کی اور کبھی تمام افراد کی تحقیق کے بعد حکم لگایا جاتا ہے۔ سارے افراد کی آپ تحقیق کرتے ہیں اس کے بعد جا کر آپ حکم لگاتے ہیں یاد رکھیے وہ استقراءِ تام ہے۔ وہ کیا ہے؟ استقراءِ تام ہے اور وہ یقین کا فائدہ دیتا ہے۔ وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ یقین کا کیونکہ تمام افراد کی تحقیق کی۔ تو یہ جو مثال ذکر ہوئی جس میں اکثر افراد کی وجہ سے تمام افرادِ کلی پر حکم لگایا جاتا ہے، یہ کون سی قسم ہوئی استقراء کی؟ غیر تام۔ استقراءِ غیر تام۔ اور یہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ظنِ غالب کا۔ جبکہ دوسری قسم کیا ہے؟ استقراءِ تام ہے بھئی اور جس میں تمام افراد کی تحقیق کے بعد ان پر حکم لگایا جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، درجہِ ثانیہ کے طلباء، درجہِ ثانیہ کے طلباء، یہ کلی ہے یا جزئی ہے؟ کلی ہے۔ کلی ہے؟ یہ اب سب پر صادق آ رہا ہے۔ تو کلی بھی کسے کہتے ہیں جو کثیرین پر صادق ائے۔ تو درجہِ ثانیہ کے طلباء، اس کے ایک ایک فرد کی تحقیق کی گئی تو پتہ چلا ہر ایک بڑا منطقی ہے بھئی۔ کیا پتہ چلا؟ اب بتائیے بھئی، ہم نے استقراء تلاش کیا تحقیق کی اکثر افراد کی یا تمام افراد کی؟ تمام افراد کی جب تحقیق کر کے حکم لگایا کہ درجہِ ثانیہ کا ہر طالبِ علم بہت بڑا منطقی ہے، تو یہ کس قسم کا حکم ہوا؟ یہ یقین کا فائدہ دے رہا ہے کیونکہ سب کی تحقیق ہو گئی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، تو یہ استقراءِ تام ہے۔ پہلا کیا تھا؟ استقراءِ غیر تام۔ تو استقراءِ تام یقین کا فائدہ دیتا ہے اور استقراءِ غیر تام وہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ تو یہ انہوں نے دو قسمیں بنائیں، استقراءِ تام اور غیر تام۔ اور یہ آپ کے حاشیے میں بھی انہوں نے دی ہوئی ہیں بھئی، استقراءِ تام اور استقراءِ غیر تام۔ جبکہ بعض معتمد علماء کی کتابوں میں دیکھا کہ استقراء یہ غیر تام جو ہے اسی کو استقراء کہتے ہیں۔ اگر تمام افراد کی تحقیق کے بعد حکم لگایا جائے تو اس کو استقراء کہتے ہی نہیں ہیں۔ اس کو اس کو استقراء کہتے ہی نہیں ہیں، اس کو قیاسِ مقسم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ مقسم کہتے ہیں، اس کو پھر استقراء نہیں کہتے۔ استقراء تو اکثر افراد کو دیکھ لیا جہاں جہاں تک رسائی ہو سکتی تھی، سمجھ میں آیا بھئی؟ جہاں جہاں تک رسائی ہو سکتی تھی سارے افراد کو دیکھ لیا، لیکن انسان تمام دنیا کے حیوانات کو تو دیکھ ہی نہیں سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو تمام دنیا کے حیوانات اس کے لیے دیکھنا ممکن ہی نہیں ہے۔ تو اکثر جو جو اس کو ملے ان سب کی تحقیق کر کے حکم لگایا، یعنی اکثر کی وجہ سے حکم لگایا۔ تو انہوں نے یہ تقسیم کی، جبکہ میں نے یہ بھی ذکر کر دیا کہ بعض کہتے ہیں یہ استقراءِ تام نہیں کوئی چیز، بلکہ اس کو پھر کیا کہتے ہیں؟ قیاسِ مقسم کہتے ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، آگے دیکھیے: فَصْلٌ: اَلتَّمْثِيْلُ وَهُوَ إِثْبَاتُ حُكْمٍ فِي جُزْئِيٍّ لِوُجُوْدِهِ فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ لِمَعْنًى جَامِعٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا۔ تیسری قسم حجت کی آ گئی بھئی۔ حجت کس کو کہتے تھے؟ دلیل کو بھئی۔ حجت کی تیسری قسم، پہلی قسم کیا تھی؟ قیاس۔ اور اس میں آپ نے پڑھا تھا کہ قیاسِ اقترانی ہوتا ہے، قیاسِ استثنائی ہوتا ہے اور پھر چار شکلیں بنتی تھیں ہر جگہ پر بھئی۔ تو وہ قیاس تھا، اس کے بعد آپ نے استقراء کا بھی پڑھ لیا بھئی۔ استقراء، یہ بھی دلیل ہے۔ آپ کہتے ہیں بھئی میں نے حیوانات کی تحقیق کی تو مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ ہر حیوان کیا ہے؟ وہ چباتے وقت نچلا جبڑا ہلاتا ہے۔ یہ بھی دلیل۔ اب تیسری قسم ذکر کر رہے ہیں حجت کی اور اس کا نام ہے تمثیل بھئی، تمثیل۔ تمثیل جو ہے، تمثیل کا لغوی معنی ہے تشبیہ دینا، مشابہ کرنا، مشابہ کرنا بھئی۔ اس کا معنی کیا ہے؟ مشابہ کرنا۔ ایک چیز کو دوسری چیز کی طرح بنانا شکل اور صفت میں۔ ایک چیز کو دوسری چیز کی طرح بنانا شکل اور صفت میں۔ یہ ہے مشابہ کرنا بھئی، مشابہ کرنا۔ اور یاد رکھیے، یہ تمثیل علمِ اصولِ فقہ والے بھی استعمال کرتے ہیں اس طریقے کو اور وہ اس کو قیاس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قیاس۔ ایک وہ منطقی قیاس تھا، ایک اصولِ فقہ والوں کا قیاس ہے۔ منطق کی کتابوں میں قیاس آ جائے تو کون سی قسم حجت کی مراد؟ جو پہلے گزری، قیاسِ اقترانی اور قیاسِ استثنائی، اس کو کہتے ہیں مناطقہ قیاس۔ جبکہ علمِ اصولِ فقہ کے اندر قیاس کس کو کہتے ہیں؟ یہ تمثیل جو اب ہم پڑھنے لگے ہیں۔ اس تمثیل کو علمِ اصولِ فقہ والے کیا کہتے ہیں؟ قیاس کہتے ہیں وہاں۔ جب قیاس کی بات آئے، آپ آگے پڑھیں گے اصولِ فقہ نہایت اہم علم، جس میں فقہ کے اصول اور ضابطے بیان ہوتے ہیں کہ کس طرح مسائل نکالے جاتے ہیں بھئی۔ تو اصولِ فقہ والوں کی اصطلاح میں قیاس کس چیز کا نام ہے؟ تمثیل کا نام ہے۔ کس کا نام ہے؟ تمثیل کا نام ہے۔ جبکہ متکلمین جو ہیں، متکلم کہتے ہیں جو علمِ کلام کا ماہر ہو۔ متکلم کسے کہتے ہیں؟ جو علمِ کلام کا ماہر ہو، آپ آگے چل کر انشاء اللہ پڑھیں گے علمِ کلام۔ بھئی ایک تو ہے فقہ، فقہ کے اندر آپ کے اعمال کی بحث ہوتی ہے آپ کے افعال کی، جو عبادات وغیرہ ہیں شرعی احکام آپ کے افعال سے متعلق ہیں۔ نماز ہے، روزہ ہے، زکوٰۃ ہے، حج ہے، ان سب میں آپ کو کیا کرنا پڑتے ہیں؟ افعال کرنا پڑتے ہیں۔ نماز پڑھنے کے لیے افعال کرنا پڑیں گے یا نہیں بھئی؟ رکوع، قیام، سجدہ وغیرہ۔ تو یہ جو افعال سے تعلق تھا شرعی احکام کا، ان کو اس کو فقہ کہتے ہیں۔ فقہ۔ اور کچھ احکام اور کچھ چیزیں وہ عقیدے سے متعلق ہیں بھئی کہ اللہ ایک ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہو گی، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، فرشتے موجود ہیں وغیرہ بھئی۔ یہ چیزیں دیکھیں ان میں آپ کو کچھ کرنا نہیں پڑتا، اس کا تعلق صرف عقیدے سے ہے۔ کس سے ہے؟ یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے آپ کو۔ تو یہ جو عقیدے کی بحث جس علم میں ہوتی ہے اس کو علمِ کلام کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ علمِ کلام جس میں عقیدے کی بحث ہوتی ہے۔ اور اس کے ماہر کو متکلم کہا جاتا ہے، ماہر کو۔ تو متکلمین کے نزدیک، وہاں بھی وہ بھی تمثیل استعمال کرتے ہیں لیکن وہ اس کا نام رکھتے ہیں استدلال بالشاہد علی الغائب۔ کیا نام رکھتے ہیں؟ الاستدلال بالشاہد علی الغائب، الاستدلال بالشاہد علی الغائب۔ یہ ہے متکلمین۔ تو یہ تمثیل جو ہے، مناطقہ تو اس کو تمثیل کہتے ہیں، علمِ اصولِ فقہ والے اس کو قیاس کہتے ہیں اور متکلمین اس کو کیا کہتے ہیں؟ الاستدلال بالشاہد علی الغائب۔ اب یہ تمثیل، کہتے کس کو ہیں بھئی؟ یاد رکھیے، تمثیل اس چیز کا نام ہے کہ ایک چیز کا حکم آپ کو معلوم تھا۔ ایک چیز کا حکم آپ کو معلوم تھا۔ آپ نے غور کیا کہ اس کا یہ حکم کیوں ہے؟ ایک چیز کا حکم آپ کو معلوم تھا، آپ نے غور کیا کہ اس کا یہ حکم کیوں ہے؟ اس کی علت اس کا سبب معلوم کیا اور وہ سبب آپ کو ایک اور جگہ بھی نظر آیا ایک اور چیز میں، تو آپ نے اس کو بھی یہی حکم دے دیا۔ ایک چیز کا حکم آپ کو معلوم تھا، آپ نے غور کیا کہ اس کی وجہ کیا ہے اس حکم کی، کیوں یہ حکم ہے اس چیز کا؟ آپ کو ایک علت معلوم ہوئی ایک سبب، کہ یہ سبب ہے اس حکم کا۔ وہی سبب آپ کو ایک اور چیز میں ملا، تو آپ نے اس کو بھی وہی حکم دے دیا جو پہلی چیز کا تھا۔ مثلاً دیکھیے، شریعت کے اندر شراب حرام ہے۔ شراب حرام ہے۔ اب آپ نے غور کیا کہ یہ شراب کیوں حرام ہے؟ شراب کا حکم کیا ہے شریعت میں؟ حرام۔ آپ نے غور کیا اس کی علت کیا ہے، اس کا سبب کیا ہے، کیوں حرام ہے؟ تو پتہ چلا کہ اس میں نشہ ہے۔ اس نشے کی وجہ سے یہ حرام ہے بھئی، نشے کی وجہ سے۔ اور پھر آپ کو یہی نشے والا وصف، یہ جو علت تھی، حکم کیا تھا شراب کا؟ حرام ہے۔ علت کیا تھی؟ نشہ۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ زبان سے دہرایا کریں۔ شراب کا حکم کیا؟ حرام ہے۔ علت اور سبب کیا ہے؟ نشہ۔ یہی علت آپ کو ایک اور چیز میں ملی، یعنی بھنگ میں۔ آپ نے بھنگ میں غور کیا تو اس میں بھی یہی علت نشہ آپ کو نظر آیا، تو آپ نے اس شراب والا ہی حکم اس پہ بھی لگا دیا کہ بھنگ بھی حرام ہے۔ حالانکہ بھنگ کا ذکر قرآن اور حدیث میں تو کہیں بھی نہیں آیا، لیکن قرآن و حدیث میں تو صرف شراب کے حرام ہونے کا ذکر ہے۔ تو آپ نے غور کیا کہ یہ کیوں حرام ہونے کا حکم شریعت نے دیا ہے اس کے؟ تو آپ کو کیا سبب ملا؟ نشہ، یہ ہے علت۔ نشہ ہوئی علت اور حرمت اس کا حکم ہے، حرام ہونا اس کا حکم۔ یہی علت آپ کو جہاں جہاں ملتی جائے گی، آپ وہاں یہ حکم لگاتے چلے جائیں گے بھئی۔ بھنگ کے اندر یہ علت ملی، آپ نے بھنگ پر بھی حرام ہونے کا حکم لگایا۔ ہیروئن کے اندر آپ کو یہ علت ملی نشے والی، تو ہیروئن پر بھی آپ نے کیا حکم لگا دیا؟ حرام ہونے کا حکم لگا دیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے تمثیل۔ تو تمثیل کس چیز کا نام ہے؟ بھئی دیکھو، توجہ ادھر رکھو۔ یہ ہے شراب، یہ ہے بھنگ۔ اولِ شے ہے شراب، دوسری شے کیا ہے؟ بھنگ ہے۔ آپ نے اس بھنگ میں حرمت والا حکم ثابت کیا کس وجہ سے؟ آپ نے بھنگ میں حرام ہونے کا حکم لگایا اس وجہ سے کہ یہی حکم اس جیسی ایک اور چیز یعنی شراب میں موجود تھا۔ بوجہِ، بھئی یہ آپ نے کس پر حکم لگایا؟ بھنگ پر۔ کون سا حکم؟ حرام ہونے والا حکم، جو کہ اسی جیسی ایک اور شے میں بھی موجود تھا، اور کیوں لگایا بھنگ پر یہ حکم بھئی آپ نے؟ کیونکہ اس کے اندر بھی وہی علت پائی جا رہی تھی جو اس دوسری چیز یعنی شراب میں موجود تھی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: وَهُوَ إِثْبَاتُ حُكْمٍ فِي جُزْئِيٍّ اور وہ ثابت کرنا ہے کسی حکم کو فِي جُزْئِيٍّ کسی جزئی میں، لِوُجُوْدِهِ فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ بوجہ اس حکم کے پائے جانے کے فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ ایک دوسری جزئی میں۔ یہ پہلی یہ جو وَهُوَ إِثْبَاتُ حُكْمٍ فِي جُزْئِيٍّ، وہ حکم کا ثابت کرنا ہے کسی جزئی میں، اس سے کون سی جزئی ہوئی مثلاً ہماری مثال میں؟ دوسری والی، یعنی بھنگ بھئی، اس پر حکم کو ثابت کرنا۔ لِوُجُوْدِهِ فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ بوجہ اس حکم کے پائے جانے کے فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ دوسری جزئی میں۔ اس جزئیِ آخر سے کیا مراد ہے ہماری مثال میں؟ شراب بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ لِمَعْنًى جَامِعٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا بوجہ ایک معنیٰ، یہاں بمعنیٰ علت کے ہے، یا وصف کے معنیٰ میں کر لیں۔ علت کے معنیٰ میں، معنیٰ یہاں علت کے معنیٰ میں ہے، بوجہ ایک ایسی علت کے جَامِعٍ جو کیا ہے؟ جامع ہے، یعنی دونوں کو۔ یاد رکھیے، یہ جو شراب تھی اس کو کہیں گے اصل اور یہ جو بھنگ ہے اس کو کہیں گے فرع۔ جو اصل ہے، شراب جو ہے اس کو کیا کہیں گے؟ اصل۔ اور بھنگ کیا ہے؟ فرع ہے بھئی فرع۔ تو یہاں جہاں پر بھی تمثیل ہو، وہاں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ چار چیزیں ہوں گی: ایک اصل ہو گی، ایک فرع ہو گی، ایک وہ جو ان دونوں میں وصفِ جامع پایا جا رہا ہے، علتِ جامعہ جو دونوں میں پائی جا رہی ہے یعنی نشہ، اور چوتھی چیز ہو گی حکم۔ تو اس تمثیل کے اندر چار چیزیں ہوں گی ہمیشہ۔ کون کون سی؟ نمبر ایک اصل، نمبر دو فرع، نمبر تین علت، بھئی علت ہو گی تو تبھی آپ حکم ادھر لے کر جائیں گے نا، ہر چیز پر تو حکم نہیں لگائیں گے آپ، پانی پر تو حکم نہیں لگائیں گے حرام ہونے کا کیونکہ اس میں وہ علت نہیں ہے، تو علت کا ہونا بھی ضروری، اور حکم، حکم ہی کو تو لے کر جانا ہے وہاں پر بھئی، تو حکم کا ہونا بھی ضروری۔ تو کتنی چیزیں؟ چار: اصل، فرع، علت اور حکم، علت اور حکم بھئی۔ تو لِمَعْنًى جَامِعٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا، یہ علت جو ہے نا علت، اس کو جامع بھی کہتے ہیں۔ علت کو جامع بھی کہتے ہیں، کیونکہ یہ اصل اور فرع دونوں کو جمع کر رہی ہے، دونوں میں پائی جا رہی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو لِمَعْنًى جَامِعٍ بوجہ ایک ایسے معنیٰ کے، ایک ایسی علت کے، یا معنیٰ کا ترجمہ میں نے کیا کیا؟ علت، یا اس کا معنیٰ سبب کے کر لیں۔ یا ایسے سبب کے جَامِعٍ جو جامع ہے مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا اور دونوں کے درمیان مشترک ہے، مشترک ہے۔ تعریف سمجھ میں آئی بھئی تمثیل کی؟ وَهُوَ إِثْبَاتُ حُكْمٍ فِي جُزْئِيٍّ لِوُجُوْدِهِ فِي جُزْئِيٍّ آخَرَ لِمَعْنًى جَامِعٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا اور وہ حکم کو ثابت کرنا ہے ایک جزئی میں بوجہ اس کے دوسری جزئی میں پائے جانے کے، ایک ایسی علت کی وجہ سے جو ان دونوں کے درمیان جامع اور مشترک ہے بھئی، جامع اور مشترک ہے بھئی۔ كَقَوْلِنَا جیسے کہ ہمارا قول۔ یہ اب مثال ذکر کریں گے۔ میں نے ایک مثال ذکر کر دی۔ اصل کیا تھی اس مثال میں؟ شراب۔ فرع کیا تھی؟ بھنگ۔ علتِ جامعہ کیا تھی؟ نشہ۔ اور حکم کیا تھا؟ حرام ہونا بھئی۔ جی، لیکن وہ مثال تو میں نے ذکر کی شرعی، شرع حرام ہونا، حرام یہ شرعی حکم ہے نا۔ یہ اور یہ کتاب تو ہم پڑھ رہے ہیں منطق کی، تو یہ اپنی عقلی تمثیل ذکر کریں گے۔ کس کون سی؟ عقلی، جس کا تعلق منطق، منطقی مثال ذکر کریں گے۔ میں نے آپ کے سامنے ایک شرعی مثال ذکر کر دی۔ كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا قول جو ہے: اَلْعَالَمُ مُؤَلَّفٌ فَهُوَ حَادِثٌ كَالْبَيْتِ۔ 3 العالم مؤلف یہ جہان مرکب ہے، فھو حادث تو یہ حادث ہے۔ حادث اور قدیم میں ذکر کر چکا ہوں، جانتے ہو کہ نہیں جانتے، بھول گئے ہو؟ قدیم کسے کہتے ہیں؟ جس پر کبھی عدم نہ آیا ہو، ہمیشہ سے ہو۔ اور صرف اللہ کی ذات اور صفات قدیم ہیں۔ باقی ساری چیزیں: آسمان، عرش، کرسی، فرشتے، جنت، جہنم، انسان، دنیا، چاند، ستارے، سب کچھ حادث ہیں بھئی۔ یعنی ایک زمانہ تھا کہ ان کا وجود نہیں تھا، پھر ان کا وجود آیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جیسے ہم کہتے ہیں العالم مؤلف، مؤلف کا معنی ہے مرکب بھئی، جو کئی چیزوں سے مل کر بنا ہو۔ العالم مؤلف، یہ عالم یہ جہان مرکب ہے، فھو حادث تو یہ حادث ہے، کالبیت۔ بیت گھر کو بھی کہتے ہیں، کمرے کو بھی کہتے ہیں بھئی، جیسے کہ گھر۔ یہ عالم مرکب ہے تو یہ حادث ہے جیسے گھر۔ گھر یا کمرہ، گھر اور کمرہ۔ یہ حادث ہے، یہ مرکب ہے یا نہیں؟ مرکب ہے بھئی، گھر کیا ہے؟ مرکب ہے۔ کس سے بنتا ہے؟ اینٹیں ہیں، سیمنٹ ہے، ریت ہے، اوپر جو لکڑی ہے، اور جو جو چیزیں ہیں جن سے بنا ہے بھئی۔ تو گھر کیا ہوا؟ مرکب، ان تمام چیزوں سے مل کر بنا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ حادث ہے۔ پہلے تھا یا آپ نے بنایا؟ آپ نے مثلاً بنایا۔ شروع سے تو اس کا وجود نہیں ہے، جو بھی بنائے گا نیا بنائے گا بھئی۔ تو جو بھی گھر ہے پہلے نہیں تھا اس کا وجود، پھر اس کو بنایا گیا۔ تو گھر ہے مرکب اور وہ حادث ہے۔ حادث ہے۔ تو ہمیں یہی مرکب ہونے والا وصف اس جہان میں بھی ملا۔ ہم نے دیکھا یہ دنیا بھی مرکب ہے۔ یہ دنیا بھی کیا ہے؟ مرکب ہے۔ چاند، سورج، ستارے، آسمان، زمین، پہاڑ، دریا، یہ ملے تو یہ دنیا بنی۔ یہ دنیا بھی کیا ہے؟ مرکب۔ اور ایک مرکب کا تو ہمیں پتہ تھا، کس کا؟ گھر کا، کہ وہ مرکب ہے۔ اور اس کا یہ بھی پتہ تھا کہ وہ حادث ہے۔ وہ کیا ہے؟ حادث ہے۔ تو یہی مرکب ہونے والا وصف ہمیں کس کے اندر ملا؟ جہان کے اندر ملا، تو ہم نے جہان پر بھی کیا حکم لگا دیا کہ یہ بھی حادث ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں اصل کون؟ گھر۔ فرع کون؟ جہان۔ اچھا! اور حکم کیا لگایا؟ حادث ہونے کا۔ اور علت و سبب کیا ہے؟ مرکب ہونا بھئی، کہ یہ مرکب ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے تمثیل۔ میں نے مثال ذکر کی تھی شرعی، انہوں نے مثال ذکر کر دی منطقی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو خلاصہ بحث بھئی، آج ہم نے استقراء اور تمثیل کے بارے میں پڑھا۔ استقراء کس چیز کا نام تھا؟ کہ وہ اکثر جزئیات کی تحقیق کرنے کے بعد کسی پوری کلی پر ہی ایک حکم لگا دیا جائے، اس کو استقراء کہتے ہیں۔ اور یہ یقین کا فائدہ نہیں دیتا بلکہ ظن غالب کا فائدہ دیتا ہے۔ اسی کیونکہ ممکن ہے کوئی ایسے افراد موجود ہوں جو ہماری تحقیق میں تو نہیں آئے لیکن وہ اس کے برعکس ہوں اس حکم کے۔ اور دوسری قسم تمثیل پڑھی۔ اور تمثیل کس کو کہتے تھے؟ کہ وہ ایک جزئی والا حکم دوسری جزئی پر لگانا کسی علت مشترکہ کی وجہ سے۔ ایک جزئی والا حکم دوسری جزئی پر لگانا کسی علت مشترکہ کی وجہ سے۔ اور یہ ہے تمثیل۔ اور علم اصول فقہ والے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو وہ قیاس کہتے ہیں۔ متکلمین اس کو کیا کہتے ہیں؟ استدلال بالشاہد علی الغائب کہتے ہیں۔ اور یہاں کتنی چیزوں کا ہونا ضروری ہے؟ چار چیزوں کا۔ ایک اصل، ایک فرع، ایک علت، اور ایک حکم، بھئی چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ بھئی آپ کے ذہن میں آئے گا کہ یہ مؤلف ہونا، مرکب ہونا، حادث ہونے کی دلیل کیسے ہے؟ یہ مرکب ہونا حادث ہونے کی دلیل کیسے ہے؟ بھئی دیکھیے، جب کوئی چیز مرکب ہے، معلوم ہوا اس کے اجزاء ہیں۔ معلوم ہوا اس کے اجزاء ہیں۔ اور یہ اجزاء ملیں گے تو یہ چیز بنے گی، یہ اجزاء نہیں ملیں گے تو یہ چیز بھی نہیں بنے گی۔ تو معلوم ہوا یہ ان اجزاء کی محتاج ہوئی۔ یہ چیز کیا ہوئی؟ ان اجزاء کی محتاج ہوئی۔ تو یہ اجزاء ملے تو یہ چیز بنی۔ یہ اجزاء جب تک نہیں ملے تھے، یہ چیز بھی نہیں بنی تھی۔ تو یہ دلیل ہے اس کے حادث ہونے کی، یہ محتاج ہیں ان اجزاء کی۔ اور یہ اجزاء، یہ اجزاء الگ الگ چیزیں ہیں نا، معلوم ہوا پہلے یہ ملے ہوئے نہیں تھے، پھر ملے، اور پھر یہ چیز بنی، تو حادث ہونا ثابت ہو گیا یا نہیں؟ یہ اجزاء الگ چیزیں تھیں، معلوم ہوا پہلے ملے ہوئے نہیں تھے، پھر یہ ملے، اور ملے تو یہ چیز بن گئی، تو معلوم ہوا یہ چیز پہلے اس کا وجود نہیں تھا، بعد میں اس کا وجود آیا، تو اس لیے یہ کیا ہوئی؟ حادث ہوئی۔ بات سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
108 approved lectures · 87 of 108