Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-086

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 03 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 47
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 86 1 ہمارا کل کے سبق میں ہم نے قیاسِ استثنائی کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ قیاسِ استثنائی بھئی! اور مصنف رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاسِ استثنائی جو ہے، وہ بھی دو قضیوں سے مرکب ہوگا اور ان میں سے پہلا قضیہ جو ہے وہ شرطیہ ہوگا جبکہ دوسرا حملیہ ہوگا۔ اور حملیہ اور قضیہ شرطیہ کے درمیان حرفِ استثنا 'إلا' یا 'لكن' وغیرہ ذکر ہوں گے بھئی! تو پہلا قضیہ کیا ہوگا اس قیاسِ استثنائی میں؟ شرطیہ، اور دوسرا حملیہ ہوگا، حملیہ ہوگا۔ اور پھر یہ جو پہلا قضیہ ہے یعنی صغریٰ، وہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی۔ اور منفصلہ کے اندر پھر وہ منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے اور مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیے بھئی! کہ قضیہ متصلہ جو ہے، اس کی ایک قسم اتفاقیہ تھی۔ اسی طرح قضیہ منفصلہ کی بھی ایک قسم اتفاقیہ تھی بھئی! وہ اتفاقیہ یہاں نہیں آئیں گے بھئی! سمجھ میں آیا بھئی؟ اتفاقیہ نہیں آئیں گے بلکہ دوسری قسمیں آئیں گی۔ تو کیونکہ اتفاقیہ میں دو چیزیں جو جمع ہوئیں یا جن میں انفصال بیان کیا گیا ہوتا ہے، وہ اتفاقاً وہ جمع ہو جاتی ہیں بھئی! تو وہاں پھر وہ نتیجہ نہیں آتا۔ تو قضیہ اتفاقیہ کے علاوہ جو شرطیہ ہیں، وہ یہاں آ سکتے ہیں بھئی! تو شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے یعنی صغریٰ، صغریٰ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے اور مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے۔ پھر اس میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو کبریٰ ہے کبریٰ، وہ باہر سے نہیں آتا بلکہ صغریٰ ہی سے لیا جاتا ہے، صغریٰ ہی سے۔ تو لہٰذا جو کبریٰ ہے، وہ عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی ہوگا، چار احتمال ہیں اس میں۔ نتیجہ بھی یہاں پر باہر سے نہیں آتا بلکہ صغریٰ ہی سے لیا جاتا ہے، تو وہاں بھی چار احتمال آ گئے کہ وہ نتیجہ بھی یا تو عینِ مقدم ہوگا یا عینِ تالی ہوگا یا نقیضِ مقدم ہوگا یا نقیضِ تالی ہوگا بھئی! اور پھر ہم نے وہ نقشہ بنایا تھا بھئی! نقشہ بھی ہم بنا رہے تھے، کچھ تو مکمل ہو چکا، چند مثالیں رہ گئی تھیں بھئی! جی! کون سی سطر میں تھے ہم؟ چار جی، چار ضربیں ہم بنا چکے۔ یعنی شرطیہ متصلہ جبکہ صغریٰ، صغریٰ شرطیہ متصلہ ہو تو کبریٰ میں چار احتمال تھے بھئی! عینِ مقدم بھی ہو سکتا ہے، عینِ تالی بھی ہو سکتا ہے، نقیضِ مقدم بھی ہو سکتا ہے اور نقیضِ تالی بھی ہو سکتا ہے۔ اور اس میں بتایا تھا نتیجہ صرف دو ضربوں میں آ رہا ہے۔ ایک صورت جس میں کبریٰ عینِ مقدم تھا، اس میں نتیجہ عینِ تالی آ رہا ہے۔ اور چوتھی صورت جس میں کبریٰ نقیضِ تالی تھا، وہاں نتیجہ نقیضِ مقدم آیا بھئی! کبریٰ کیا آیا؟ نتیجہ کیا آیا؟ نقیضِ مقدم آیا۔ اور پھر ان کی مثالیں بھی میں نے لکھوائی تھیں: پہلی مثال جہاں صغریٰ شرطیہ متصلہ تھا اور کبریٰ عینِ مقدم تھا اور نتیجہ کیا آیا تھا؟ عینِ تالی۔ اس کی مثال تھی: 'إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود'۔ تو یہاں پر کبریٰ کیا بنانا تھا؟ عینِ مقدم، وہ کیا بنایا ہم نے؟ 'لكن الشمس طالعة'۔ اور نتیجہ کیا آنا تھا؟ عینِ تالی، تو 'فالنهار موجود' نتیجہ آیا۔ اور چوتھی ضرب کے اندر بھئی! کبریٰ تھا نقیضِ تالی بھئی! صغریٰ تو اسی طرح تھا 'إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود' اور کبریٰ نقیضِ تالی تھا، تو تالی کیا تھا صغریٰ میں؟ 'فالنهار موجود'۔ اس کی نقیض بنائی 'لكن النهار ليس بموجود'۔ تو نتیجہ کیا آیا تھا؟ نقیضِ مقدم آیا تھا 'فالشمس ليست بطالعة'۔ جی! اگلی سطر میں لکھیے، پانچ نمبر میں بھئی! مثالِ صغریٰ کے اندر، صغریٰ کی جو مثال والا خانہ ہے، اس میں لکھیے پانچ نمبر والی لکیر میں: 'هذا العدد إما أن يكون زوجاً أو فرداً'۔ لکھ لیا بھئی؟ جی! یہاں پانچ نمبر میں ذرا دیکھیے، کبریٰ کیا بنانا ہے؟ دیکھیے صغریٰ تو منفصلہ حقیقیہ ہے 'هذا العدد إما أن يكون زوجاً أو فرداً'۔ یہ صغریٰ کیا ہے؟ منفصلہ حقیقیہ۔ اور کبریٰ پیچھے کیا بتلایا تھا کیا ہوگا؟ عینِ مقدم ہوگا۔ عینِ مقدم بنائیے بھئی! مقدم کیا ہے؟ 'زوج' اور تالی کیا ہے؟ 'أو هذا العدد فرد'۔ تو یہاں پر کبریٰ کی مثال اب کیا بنے گی؟ عینِ مقدم بھئی! 'لكن' کے ساتھ لے آؤ: 'لكن هذا العدد زوج' یا مختصر کر لیں 'لكنه زوج'۔ ہاں، ضمیر لوٹا دیں۔ 'لكنه زوج'۔ یہ عینِ مقدم آ گیا بھئی! 'لكنه زوج'۔ نتیجہ کیا آنا تھا؟ پانچ نمبر میں نتیجہ پیچھے کیا ذکر کیا تھا؟ نقیضِ تالی۔ تالی کیا تھا؟ 'أو هذا العدد فرد'۔ تو اس کی نقیض تیار کریں بھئی! 'هذا العدد ليس بفرد'۔ تو 'هذا العدد' تو لمبا ہے، ضمیر صرف لوٹا دیں: 'فهو ليس بفرد'۔ یہ نتیجہ آ گیا۔ 'فهو ليس بفرد'۔ لکھ لیا بھئی؟ چھٹی لکیر میں آئیے، چھٹی ضرب میں بھئی! صغریٰ منفصلہ حقیقیہ ہے، کبریٰ عینِ تالی ہے، نتیجہ نقیضِ مقدم ہے بھئی! یہاں پر صغریٰ کی مثال بھئی! یہی اوپر والی مثال ہے۔ اسی کے نیچے برابر کے نشان ڈال لیں بھئی! چھ نمبر لکیر میں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ جی! یہ تو تھا صغریٰ منفصلہ حقیقیہ۔ اور یہ چھ نمبر لکیر میں ہے اس وقت، تو یہاں کبریٰ کیا ہے چھ نمبر لکیر میں پیچھے دیکھیں؟ عینِ تالی۔ اور تالی کیا ہے؟ 'هذا العدد فرد'۔ تو اسی سے بنا لیں کبریٰ کی مثال بھئی! ضمیر لوٹا دیں: 'لكنه فرد'۔ مثالِ کبریٰ میں لکھیں 'لكنه فرد'۔ جی! نتیجہ پیچھے کیا ذکر تھا کیا آنا چاہیے؟ نقیضِ مقدم۔ آگے اب مثالِ نتیجہ میں لکھ لیں بھئی! جی! مثالِ کبریٰ کیا لکھی آپ نے چھ نمبر لکیر میں؟ 'لكنه فرد'۔ اور نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیضِ مقدم۔ نقیضِ مقدم تیار کریں: 'فهو ليس بزوج'۔ 'فهو ليس بزوج'۔ یہ مثالِ نتیجہ میں لکھ لیں بھئی! 'فهو ليس بزوج'۔ سات نمبر لکیر میں آئیے! صغریٰ تو ہے منفصلہ حقیقیہ، کبریٰ ہے نقیضِ مقدم، نتیجہ کیا ہے؟ عینِ تالی۔ یہاں پر بھی صغریٰ کی وہی مثال ہے بھئی! نیچے وہی برابر کے نشان ڈال لیں: 'هذا العدد إما أن يكون زوجاً أو فرداً'۔ صغریٰ وہی ہے۔ کبریٰ کیا بنانا ہے؟ پیچھے دیکھیں بھئی! نقیضِ مقدم۔ ابھی ہم نے نقیضِ مقدم نتیجہ آیا تھا، کیا تھا وہ؟ 'فهو ليس بزوج'۔ ہاں! تو اسی کو 'لكن' کے ساتھ ذکر کرنا ہے تو کیا کہیں گے؟ 'لكنه ليس بزوج'۔ جی! یہ کبریٰ میں لکھیں 'لكنه ليس بزوج'۔ نتیجہ انہوں نے کیا دیا ہوا ہے یہاں پر سات نمبر میں؟ عینِ تالی۔ تالی کیا ہے؟ 'هذا العدد فرد'۔ بس اس پر نتیجے کی 'ف' داخل کریں اور 'هذا العدد' کے بجائے صرف ضمیر لے آئیں۔ کیا کہیں گے؟ 'فهو فرد'۔ یہ نتیجے کے اندر لکھیں بھئی! مثالِ نتیجہ: 'فهو فرد'۔ لکھ لیا بھئی؟ اگلی سطر میں آئیے، آٹھ نمبر میں! صغریٰ دیکھیے وہی منفصلہ حقیقیہ ہے، کبریٰ ہے نقیضِ تالی اور نتیجہ کیا آئے گا؟ عینِ مقدم۔ یہاں بھی صغریٰ وہی ہے، صغریٰ کی مثال وہی ہے، یہاں بھی برابر کا نشان ڈالیں بھئی! صغریٰ کیا ہے؟ 'هذا العدد إما أن يكون زوجاً أو فرداً'۔ جی! آگے کبریٰ کی مثال لکھنی ہے، کبریٰ پیچھے کیا ذکر تھا؟ نقیضِ تالی۔ تالی کی نقیض نکالیں بھئی! اوپر کیا تھی؟ اس سے اوپر والی لکیر میں مثالِ کبریٰ کیا تھی؟ 'لكنه ليس بزوج'، وہ نقیضِ مقدم تھی، اسی کی طرح بنا لو نقیضِ تالی: 'لكنه ليس بفرد'۔ 'لكنه ليس بفرد'۔ نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ عینِ مقدم۔ کیا ہے مقدم؟ 'فهو زوج'۔ کیا آئے گا؟ 'فهو زوج'۔ 'فهو زوج' یہ آ گئی نتیجے کی مثال بھئی! آخری خانے میں۔ لکھ لیا بھئی؟ جی! اگلی سطر میں آئیے، نویں سطر بھئی! یہ نویں ضرب: صغریٰ کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الجمع۔ کبریٰ کیا ہے؟ عینِ مقدم۔ نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیضِ تالی۔ اس کی مثال لکھیے صغریٰ کی: 'هذا الشيء إما أن يكون شجراً أو حجراً'۔ 'هذا الشيء إما أن يكون شجراً أو حجراً'۔ یہاں کبریٰ کیا آنا چاہیے؟ عینِ مقدم۔ تو کیا بنائیے بھئی عینِ مقدم؟ 'لكنه شجر'۔ یہ کبریٰ کی مثال: 'لكنه شجر'۔ نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیضِ تالی۔ تالی کی نقیض لائیں بھئی! 'ف' نتیجے کی داخل کریں۔ 'فهو ليس بحجر'۔ بھئی! جب آپ نے کہہ دیا: یہ چیز یا تو درخت ہے یا پتھر ہے، پھر کہہ دیا: لیکن یہ درخت ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ پتھر نہیں ہے۔ 'فهو ليس بحجر' یہ نتیجے کی مثال ہے بھئی! لکھ لیا بھئی؟ اگلی سطر میں آئیے، 10 نمبر میں! صغریٰ کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الجمع۔ کبریٰ کیا ہے؟ عینِ تالی۔ نتیجہ کیا ہے؟ نقیضِ مقدم۔ جی! یہاں بھی صغریٰ کی مثال وہی ہے بھئی! برابر کا نشان ڈال لیں اس کے نیچے: 'هذا الشيء إما أن يكون شجراً أو حجراً'۔ جی! کبریٰ کیا چاہیے یہاں ہمیں؟ عینِ تالی۔ عینِ تالی بنائیے بھئی! اوپر تھا عینِ مقدم، نیچے ہے عینِ تالی: 'لكنه حجر'۔ 'لكنه حجر'۔ نتیجہ کیا چاہیے؟ نقیضِ مقدم۔ اوپر تھی نقیضِ تالی نتیجہ آیا تھا، بالکل اسی کی طرح نیچے نقیضِ مقدم بنا لیں: 'فهو ليس بشجر'۔ 'فهو ليس بشجر'۔ 11، 12، 13 اور 14، اس میں میں نے بتلایا تھا نتیجہ نہیں آتا بھئی! 15 نمبر پر آئیے، 15 نمبر ضرب پر بھئی! صغریٰ کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلو۔ کبریٰ کیا ہے؟ نقیضِ مقدم۔ نتیجہ کیا آئے گا؟ عینِ تالی۔ جی! اس کی مثال صغریٰ کی لکھ لیجیے: 'هذا الشيء إما أن يكون لا شجراً أو لا حجراً'۔ 'هذا الشيء إما أن يكون لا شجراً أو لا حجراً'۔ صغریٰ کی مثال کیا ہوئی؟ 'هذا الشيء إما أن يكون لا شجراً أو لا حجراً'۔ پیچھے تھا مانعۃ الجمع، نام سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ ان دو چیزوں کا جمع ہونا منع ہے، ایک ہی چیز شجر بھی ہو اور حجر بھی ہو، یہ جمع نہیں ہو سکتیں، یا وہ شجر ہوگا یا حجر ہوگا۔ اب ہے مانعۃ الخلو، خلو کا معنی میں بیان کر چکا خالی ہونا۔ تو یعنی یہ دو چیزیں جو اس میں ذکر ہیں، یہ جمع تو ہو سکتی ہیں لیکن دونوں اٹھ جائیں یعنی دونوں میں سے ایک بھی صادق نہ آئے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں مقدم کیا ہے؟ 'هذا الشيء إما أن يكون لا شجراً' اور تالی کیا ہوا؟ 'لا حجراً'۔ تو یہ دونوں جمع تو ہو سکتے ہیں، ایک چیز 'لا شجر' بھی ہو 'لا حجر' بھی ہو، مطلب کتاب۔ کتاب کو دیکھیں، یہ شجر ہے یا لا شجر ہے؟ لا شجر۔ اچھا! یہ حجر ہے یا لا حجر؟ لا حجر۔ تو دیکھو دونوں جمع ہو رہے ہیں یہاں پر، دونوں صادق آ رہے ہیں۔ لیکن دونوں اٹھ جائیں یعنی دونوں میں سے کوئی بھی صادق نہ آئے کسی چیز پر، ایسا نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی کوئی بھی چیز آپ لے لیں، یا تو وہ لا شجر ہوگی یا وہ لا حجر ہوگی ضرور بھئی! دونوں جمع تو ہو سکتے ہیں لیکن دونوں اٹھ نہیں سکتے، کیا معنی اٹھنے کا؟ یعنی ایک بھی صادق نہ آئے، ایسا نہیں ہو سکتا، کوئی بھی چیز آپ لے لیں بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی؟ پتھر دیکھیں، پتھر! یہ لا شجر ہے؟ ہے، لا شجر ہے۔ اور لا حجر ہے یہ؟ یہ تو حجر ہے، تو دیکھو ایک ضرور صادق آ رہا ہے۔ دوسری طرف درخت کو لے لیں، درخت! یہ لا شجر ہے؟ یہ لا شجر نہیں ہے، تو یہ دیکھو ایک اٹھ گیا، ایک اس پر صادق نہیں آ رہا، لیکن دوسرا پھر ضرور صادق آئے گا، یہ لا حجر ہے کہ نہیں بھئی؟ لا حجر ہے بھئی! صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی! تو یہ صغریٰ کیا لکھا آپ نے؟ 'هذا الشيء إما أن يكون لا شجراً أو لا حجراً'۔ جی! اب کبریٰ کیا آنا چاہیے؟ کبریٰ نقیضِ مقدم چاہیے بھئی! مثالِ کبریٰ میں اب آئیں بھئی! نقیض، مقدم کیا ہے؟ 'لا شجر' ہے 'لا شجر'، اس کی نقیض کیا ہوگی؟ 'شجر'۔ کیا ہوگی؟ 'شجر'۔ تو کیا بن گیا؟ 'لكنه شجر'۔ 'لكنه شجر'۔ 2 یہ کبریٰ کیا تھا؟ نقیضِ مقدم تھا "لكنه شجر"۔ نتیجہ کیا چاہیے؟ عینِ تالی۔ کیا آئے گا؟ تالی "لا حجر" ہے تو نتیجہ بھی وہی ہے۔ "ف" بس لے آئیں اوپر "فهو لا حجر"، "فهو لا حجر"۔ 16 نمبر ضرب میں آئیے۔ صغریٰ کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الخلو۔ کبریٰ کیا ہے؟ نقیضِ تالی۔ نتیجہ کیا ہے؟ عینِ مقدم۔ اس کی مثال بھی وہی ہے جو صغریٰ کی اوپر گزری۔ تو یہاں بھی نشان لگا لیں بھئی، برابر کے نشان یہ اوپر والی مثال ہے بھئی: "هذا الشجر إما أن يكون لا شجرا أو لا حجرا"۔ کبریٰ کی مثال بھئی، کبریٰ کیا چاہیے ہمیں؟ نقیضِ تالی چاہیے۔ کبریٰ کیا چاہیے؟ نقیضِ تالی چاہیے۔ جی اوپر والی سطر میں کیا تھی؟ کبریٰ کیا تھا؟ نقیضِ مقدم، وہ کیا بنایا تھا؟ "لكنه شجر"۔ تو نیچے اب کیا بنا رہے ہیں؟ نقیضِ تالی، وہ کیا بنے گا؟ "لكنه حجر"، کیونکہ پیچھے "لا حجر" تھا تو اس کی نقیض "حجر" آئے گی۔ تو مثالِ کبریٰ کیا ہوئی؟ "لكنه حجر"۔ جی، نتیجہ کیا چاہیے؟ عینِ مقدم چاہیے۔ اوپر والی سطر میں عینِ تالی نتیجہ آیا تھا "فهو لا حجر"۔ یہاں عینِ مقدم نتیجہ آئے گا، کیا آئے گا؟ "فهو لا شجر"۔ یہ نتیجے کی مثال ہے بھئی "فهو لا شجر"۔ بات اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہاں دیکھیے، صغریٰ پہ صرف نظر رکھیں۔ صغریٰ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، اور منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ مانعۃ الخلو بھی ہو سکتا ہے۔ اور میں نے بتلایا یہ اتفاقیہ نہیں ہونے چاہئیں بھئی۔ معلوم ہوا شرطیہ متصلہ لزومیہ تو آ سکتا ہے، اتفاقیہ یہاں پر نہیں آ سکتا۔ شرطیہ متصلہ کی دو قسمیں تھیں نا، لزومیہ اور اتفاقیہ۔ اتفاقیہ یہاں نہیں آ سکتا۔ جی، اور منفصلہ... منفصلہ جو تھا، اس کی تین قسمیں بنائی تھیں: حقیقیہ، مانعۃ الجمع، اور مانعۃ الخلو۔ اور پھر آگے بتلایا تھا کہ یہ سب دو دو قسم پر ہیں: یا یہ عنادیہ ہوں گے، یا اتفاقیہ ہوں گے۔ یہ سارے کیا ہوں گے تینوں؟ عنادیہ ہوں گے، یا اتفاقیہ ہوں گے۔ تو یہ تینوں جو یہاں اس وقت ذکر ہیں، یہ عنادیہ ہیں، اتفاقیہ ان میں سے نہیں- حقیقیہ اتفاقیہ، یا مانعۃ الجمع اتفاقیہ، یا مانعۃ الخلو اتفاقیہ وہ یہاں پر نہیں آ سکتے، پھر نتیجہ نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ اس میں تو مقدم اور تالی اتفاقاً جمع ہوئے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دیکھیے، صغریٰ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، مانعۃ الجمع بھی ہو سکتا ہے، اور مانعۃ الخلو بھی۔ اور پھر ہر ایک کے اندر، کبریٰ کے اندر چار چار احتمال ہیں: کہ کبریٰ یا عینِ مقدم ہوگا، یا عینِ تالی ہوگا، یا نقیضِ مقدم ہوگا، یا نقیضِ تالی۔ یہ سب میں اسی طرح ہے۔ نتیجے کے اندر بھی ان چاروں احتمالات... چاروں احتمالات میں سے ہی کوئی ایک نتیجہ آئے گا بھئی۔ یا تو نتیجہ کبھی عینِ تالی آئے گا، کبھی عینِ مقدم آئے گا، کبھی نقیضِ مقدم آئے گا، کبھی نقیضِ تالی آئے گا۔ آپ نے دیکھ لیے نتیجے میں، کہیں عینِ تالی نتیجہ آ رہا ہے، کہیں نقیضِ مقدم آ رہا ہے، کہیں نقیضِ تالی آ رہا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر سب کی مثالیں بھی ہم نے کر لیں بھئی۔ تو یہ 16 ضربوں میں سے 6 ضربوں میں نتیجہ نہیں آتا، جبکہ 10 کے اندر نتیجہ آتا ہے بھئی۔ نقشہ اچھی طرح سب کو سمجھ میں آ گیا؟ جی، اب آئیے کتاب پر، اور نقشے پر بھی نظر رکھنا ساتھ ساتھ بھئی۔ "فإن كانت الشرطية متصلة" پس اگر شرطیہ متصلہ ہو... اگر شرطیہ یعنی صغریٰ، وہ کیا ہو؟ وہ صغریٰ جو شرطیہ جو ہے، وہ اگر متصلہ ہو... "فاستثناء عين المقدم" تو عینِ مقدم کا استثناء... استثناء کس کا کرتے تھے ہم؟ کبریٰ کا کرتے تھے نا! "لیکن" کس کے ساتھ آتا تھا؟ کبریٰ کے ساتھ۔ تو عینِ مقدم کا استثناء... معلوم ہوا کبریٰ کیا ہوگا یہاں پر؟ عینِ مقدم۔ دیکھیے، اب نقشے کے اندر بھی پہلی صورت ہے، عینِ مقدم والی بھئی۔ تو کہتے ہیں: عینِ مقدم کا استثناء "ينتج عين التالي" یہ کیا نتیجہ دے گا؟ عینِ تالی نتیجہ دے گا۔ ہم نے بھی کیا نتیجہ بنایا تھا پہلی ضرب میں؟ عینِ تالی ہی بنایا تھا۔ "واستثناء نقيض التالي" اور اگر نقیضِ تالی کا استثناء کریں "ينتج رفع المقدم" تو یہ کیا نتیجہ دے گا؟ رفع کا معنی: اٹھانا، مقدم کے... اٹھانے کا یہ... اٹھانے کا نتیجہ دے گا بھئی۔ "رفعِ مقدم" نتیجہ دے گا۔ "ينتج رفع المقدم" کیا نتیجہ دے گا؟ رفعِ مقدم۔ کیا معنی رفعِ مقدم؟ یعنی اس کے نقیض، اس کے نقیض نتیجہ آئے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو رفعِ مقدم نتیجہ دے گا۔ کون سی صورت ہے؟ استثناء کس کا کیا؟ نقیضِ تالی کا۔ نقشے میں دیکھ لیجیے چار نمبر میں، چار نمبر لکیر میں۔ کبریٰ کیا ہے؟ نقیضِ تالی۔ دیکھو نقیضِ تالی کا استثناء کرو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیضِ مقدم۔ یہی بات کر رہے ہیں "ينتج رفع المقدم"، رفعِ مقدم نتیجہ آئے گا۔ "كما تقول كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا" سورج جب بھی طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا۔ "لكن الشمس طالعة" "لكن الشمس طالعة" لیکن سورج طلوع ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ "ينتج فالنهار موجود"۔ یہ نتیجہ دے گا "فالنهار موجود"۔ اچھا، اب ذرا اس پہ غور کریں "لكن الشمس طالعة"، یہ کبریٰ ہے نا! توجہ ہے سبق کی طرف؟ کبریٰ کیا ہے؟ "لكن الشمس طالعة"۔ بتائیے، یہ عینِ مقدم ہے، یا عینِ تالی ہے، یا نقیضِ مقدم ہے، یا نقیضِ تالی ہے؟ "لكن الشمس طالعة"۔ جی؟ عینِ مقدم ہے۔ تو نتیجہ کیا آیا "فالنهار موجود"؟ یہ کیا ہے؟ یہ عینِ تالی ہے۔ یہ پہلی ضرب کی مثال ہے، دیکھو نقشے پہ بھی نظر رکھو: عینِ مقدم کا استثناء کریں تو نتیجہ کیا آتا تھا؟ عینِ تالی۔ تو یہ پہلی... انہوں نے پیچھے دو صورتیں ذکر کر دیں نا! شرطیہ متصلہ میں کتنی... کتنی ضربیں نتیجہ دیتی ہیں نقشے میں؟ شرطیہ متصلہ کے اندر چار میں سے دو نتیجہ دے رہی ہیں، دو نتیجہ نہیں۔ ان دو کو انہوں نے اوپر ذکر کر دیا کہ اگر عینِ مقدم کا استثناء کریں گے تو عینِ تالی نتیجہ آئے گا، اور نقیضِ تالی کا استثناء کریں گے تو نقیضِ مقدم نتیجہ آئے گا۔ یہ پہلی مثال کس کی ذکر کی؟ پہلی ضرب بیان ہوئی، پہلی ضرب کی مثال ذکر کی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کہ نہیں سمجھ میں آئی بات؟ پہلی ضرب کیا ذکر ہے نقشے میں؟ صغریٰ شرطیہ متصلہ ہو، صغریٰ یہاں شرطیہ متصلہ تو ہے: "كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا"۔ اچھا، اور آگے کیا آیا تھا؟ نقشے میں کیا ہے کبریٰ؟ عینِ مقدم۔ یہاں بھی کبریٰ ہے: "لكن الشمس طالعة"۔ تو عینِ مقدم ہے یا نہیں "الشمس طالعة"؟ نتیجہ انہوں نے... نقشے میں کیا آیا تھا؟ عینِ تالی۔ تو یہاں بھی نتیجہ کیا آیا "فالنهار موجود"؟ کیا آیا؟ عینِ تالی۔ یہ پہلی ضرب کی مثال ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب آگے دوسری کون سی ضرب نتیجہ دینے والی تھی اس میں؟ چوتھے نمبر والی، اس کی مثال ذکر کر رہے ہیں، لیکن ساری مثال دوبارہ نہیں ذکر کریں گے، کچھ پیچھے بیان ہو گئی۔ صرف کبریٰ ذکر کریں گے، صغریٰ نے تو وہی رہنا ہے، صغریٰ تو وہی ہے: "كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا"۔ صرف کبریٰ ذکر کر رہے ہیں: "لكن النهار ليس بموجود"۔ "لكن النهار ليس بموجود" یہ کیا ہے؟ مقدم ہے، تالی ہے، یا ان کی نقیض ہے؟ کیا چیز ہے "لكن النهار ليس بموجود"؟ یہ نقیضِ تالی ہے۔ دیکھیے ہمارے بھی چوتھی سطر میں کیا تھا کبریٰ؟ نقیضِ تالی۔ تو یہاں نتیجہ کیا آئے گا پھر؟ نقیضِ مقدم۔ تو "ينتج فالشمس ليست بطالعة" تو یہ نتیجہ کیا آیا کہ سورج طلوع نہیں ہے۔ بات بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل بھئی؟ بھئی مثال کا اردو میں آپ ترجمہ میں تو نہیں کر رہا، آسان آسان باتیں ہیں چونکہ۔ میں کہتا ہوں: اگر سورج طلوع ہو تو دن ضرور موجود ہوگا۔ لیکن سورج تو طلوع ہے۔ نتیجہ کیا آیا؟ تو دن موجود ہے۔ آسان سی بات ہے بھئی! اسی میں میں یوں کہتا ہوں: اگر سورج طلوع ہوگا تو دن ضرور ہوگا، لیکن دن تو موجود نہیں، نتیجہ کیا آیا؟ سورج بھی طلوع نہیں! یہی تو وہ بیان کر رہے ہیں بھئی "لكن النهار ليس بموجود" لیکن دن موجود نہیں ہے، "ينتج فالشمس ليست بطالعة" تو سورج طلوع نہیں ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو دوسری مثال میں صغریٰ کو حذف کر دیا، کیونکہ صغریٰ وہی تھا بھئی۔ "وإن كانت منفصلة حقيقية" اور اگر وہ شرطیہ کیا ہو؟ منفصلہ حقیقیہ ہو یعنی صغریٰ، "فاستثناء عين أحدهما" تو ان دونوں میں سے ایک کی عین کا استثناء کرنا... کن دونوں؟ مقدم یا تالی، یعنی عینِ مقدم کا استثناء کر لیں یا عینِ تالی کا استثناء کر لیں، کہتے ہیں "ينتج نقيض الآخر" تو یہ نتیجہ دے گا دوسرے کی نقیض۔ اگر عینِ مقدم کا استثناء کریں تو دوسرے کی نقیض نتیجے میں آئے گی۔ عینِ تالی کا استثناء کریں تو دوسرے کی نقیض نتیجے میں آئے گی۔ کیا معنی؟ عینِ مقدم کا استثناء کریں تو نتیجے میں دوسرے کی نقیض، کس کی نقیض؟ تالی کی نقیض۔ تو عینِ مقدم کا استثناء کریں گے تو کیا آئے گی؟ نقیضِ تالی۔ یہ دیکھیے نقشے پر نظر رکھیں پانچ نمبر میں، کبریٰ عینِ مقدم ہو تو نتیجہ کیا ہے؟ نقیضِ تالی۔ اور اس سے نچلی سطر میں، کبریٰ اگر عینِ تالی ہے تو نتیجہ کیا ہے؟ نقیضِ مقدم۔ یعنی مقدم کی عین کا استثناء کریں تو نتیجہ نقیضِ تالی، اور اگر تالی کی عین کا استثناء کریں تو نتیجہ کیا ہے؟ نقیضِ مقدم۔ "وبالعكس" اور اس کا عکس، کیا معنی؟ عکس کا یہ معنی: اگر نقیضِ مقدم کو... پہلے کس کا استثناء کیا تھا؟ عینِ مقدم کا استثناء کرتے تھے تو دوسرے کی نقیض نتیجے میں آتی تھی۔ اب اور یا اس کا عکس ہوگا، یعنی اگر ایک کی نقیض کا استثناء کرو گے تو دوسرا عین آئے گا نتیجے کے اندر۔ کیا معنی؟ نقیضِ مقدم کا اگر استثناء کرو گے تو نتیجہ کیا آئے گا؟ عینِ تالی۔ اور اگر نقیضِ تالی کا استثناء کرو گے تو نتیجہ کیا آئے گا؟ عینِ مقدم آئے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی دیکھیے نقشے میں بھی دیکھ لیں بھئی، ساتویں آٹھویں صورت میں: کبریٰ نقیضِ مقدم تھا تو نتیجہ کیا آیا؟ عینِ تالی۔ اور کبریٰ اس سے نیچے نقیضِ تالی تھا تو نتیجہ کیا آیا؟ عینِ مقدم آیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ "وفي مانعة الجمع ينتج القسم الأول دون الثاني" اور مانعۃ الجمع میں پہلی قسم تو نتیجہ دے گی، دوسری قسم نتیجہ نہیں دے گی۔ اس کو توجہ سے سمجھ لیں بھئی! بھئی دیکھیے، پیچھے کیا... پیچھے کیا ذکر ہوا تھا اس سے؟ "فاستثناء عين أحدهما" دونوں میں سے کسی ایک کی عین کا استثناء کر لیں۔ تو نتیجہ دوسرے کی نقیض آئے گا۔ کس کا استثناء کر لیں؟ عین کا، چاہے عینِ مقدم کا، چاہے عینِ تالی کا۔ یہ پہلی قسم ہوئی، جس میں استثناء عین کا ہو۔ "وبالعكس" اس سے یہ دوسری قسم آئی۔ بالعکس میں دوسری قسم کیا تھی؟ ایک کی نقیض کا استثناء کریں تو دوسرا عین نتیجے میں آئے گا۔ کیا آئے گا؟ عین۔ اچھا، تو پہلی قسم کیا ہوئی جس میں عین کا استثناء ہوگا، عینِ مقدم کا یا عینِ تالی کا؟ دوسری قسم کیا ہوئی؟ جس میں ایک کی نقیض کا استثناء ہوگا، چاہے نقیضِ مقدم، چاہے نقیضِ تالی۔ دو قسمیں کیا ہوئیں؟ پہلی قسم وہ ہوئی جس میں عین کا استثناء ہوگا، دوسری قسم وہ ہوئی جس میں نقیض کا استثناء ہوگا۔ تو آگے کہہ رہے ہیں: "وفي مانعة الجمع" اور مانعۃ الجمع کے اندر "ينتج القسم الأول" پہلی قسم نتیجہ دے گی، پہلی قسم کون سی؟ جس میں عین کا استثناء ہو۔ "دون الثاني" دوسری قسم نتیجہ نہیں دے گی، کون سی دوسری قسم؟ جس میں نقیض کا استثناء ہو، وہ نتیجہ نہیں دے گی۔ اب نقشے پہ ذرا آؤ، مانعۃ الجمع میں: عینِ مقدم کا... عینِ مقدم کا استثناء کیا... بھئی، دوبارہ ادھر توجہ کرو! پہلی قسم کیا تھی جس میں کس کا استثناء تھا؟ عین کا، یہ قسم نتیجہ دے گی۔ اور دوسری قسم کیا تھی؟ جس میں نقیض کا استثناء تھا، وہ نتیجہ... یہاں دیکھ لیں، کبریٰ نویں سطر میں کبریٰ کی لکیر میں تھی نیچے کی طرف دیکھیں: عینِ مقدم، اور پھر اس سے نیچے ہے عینِ تالی۔ عینِ مقدم یا عینِ تالی یعنی پہلی قسم کا استثناء کیا تو دونوں میں نتیجہ آ رہا ہے بھئی، ایک میں نقیضِ تالی ہے، ایک میں نقیضِ مقدم۔ اور نیچے والی 11 اور 12 صورت میں دیکھیں، نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی کا استثناء کیا تو نتیجہ نہیں آ رہا۔ پہلی قسم میں جب عین کا یعنی استثناء کرو نتیجہ آئے گا، اور دوسری قسم یعنی نقیض کا استثناء کرو تو نتیجہ نہیں آئے گا بھئی۔ "وفي مانعة الخلو القسم الثاني" أي ينتج القسم الثاني دون الأول، پہلی قسم نتیجہ دے... نہیں، دوسری قسم نتیجہ دے گی "دون الأول" نہ کہ پہلی۔ دوسری قسم کون سی تھی؟ جس میں نقیض کا استثناء ہو وہ نتیجہ آئے گا، جس میں عین کا استثناء ہو وہاں نتیجہ نہیں۔ یہاں آپ دیکھ لیں نقشے میں 13 اور 14 میں دیکھیں۔ عین کا استثناء ہے، پہلی قسم ہے، یہ نتیجہ نہیں دے رہی۔ دوسری قسم 15 اور 16 میں ہے: نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی ان کا استثناء ہے تو دونوں میں نتیجہ آ رہا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو "وفي مانعة الخلو القسم الثاني" اور مانعۃ الخلو میں "القسم الثاني" أي ينتج القسم الثاني قسمِ ثانی نتیجہ دے گی "دون الأول" نہ کہ اول بھئی۔ کہتے ہیں: "وها هنا قد انتهت مباحث القياس بالقول المجمل" اور یہاں پر پوری ہو گئیں، ختم ہو گئیں قیاس کی بحثیں بالقول المجمل، مختصر قول کے ساتھ۔ کس طریقے پر پوری ہو گئیں؟ مختصراً کہتے ہیں ہم نے قیاس کی بحثیں مکمل کر دیں، ساری بیان کر دیں۔ "والتفصيل موكول إلى الكتب الطوال" بھئی مجمل کا معنی ہے مختصر، مختصر۔ "والتفصيل موكول إلى الكتب الطوال" اور تفصیل سپرد ہے، موکول کا کیا معنی؟ سپرد۔ اور تفصیل سپرد ہے "إلى الكتب الطوال" لمبی کتابوں کے، طوال جمع ہے طویل کی۔ کہتے ہیں: یہاں ہم نے مختصراً بیان کر دیں قیاس کی بحثیں مکمل انتہا تک، اور تفصیل کس کے سپرد ہے؟ لمبی یعنی بڑی کتابوں کے، وہاں آپ دیکھ لیں گے۔ "والآن نذكر طرفا من لواحق القياس" اور اب ہم ذکر کریں گے طرفاً... طرف کہتے ہیں کنارے کو بھی، طرف کہتے ہیں حصے کو بھی۔ "والآن نذكر طرفا من لواحق القياس" اور اب ہم ذکر کریں گے ایک حصہ "من لواحق القياس" کس میں سے؟ قیاس کے لواحق میں سے، یعنی وہ چیزیں جو قیاس کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، وہ چیزیں جو کچھ اور بحثیں جو قیاس کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، ان کے ایک حصے کو اب ہم ذکر...
108 approved lectures · 86 of 108