LESSONS NO. 84
1
و اما الاقتراني الشرطي المؤلف من المنفصلات من المنفصلات مثاله من الشكل الاول
امّا كل ”أ ب“ او كل ”ج د“ و دائما كل ”د هـ“ او كل ”د ز“ ينتج دائما امّا كل ”أ ب“ او كل ”ج هـ“ او كل ”د ز“.
بھئی گزشتہ سبق میں قضایا شرطیہ سے مرکب قیاساتِ اقترانیہ کا بیان شروع ہوا تھا۔ اور آپ نے پڑھا تھا کہ یہاں بھی اسی طرح چار شکلیں بنتی ہیں اور یہاں پر بھی وہی ضربیں نتیجہ دیں گی جو قضایا حملیہ کے قیاس میں آپ پڑھ چکے ہیں، اور یہاں بھی انہی شرائط کا اعتبار کیا جائے گا جن شرائط کو آپ پہلے پڑھ چکے ہیں بھئی۔ بالکل یہ اسی کے برابر ہیں ہر اعتبار سے، جو شرائط وہاں وہ شرائط یہاں، جو ضربیں نتیجہ دینے والی وہاں وہی ضربیں نتیجہ دینے والی یہاں، جو شکلیں وہاں وہی شکلیں یہاں، ہر اعتبار سے یہ اسی طرح ہیں۔
اور پھر میں نے بتلایا تھا کہ یہ قیاسِ شرطی جو ہے، یہ اس میں یا تو دونوں قضیے شرطیہ ہوں گے یا ایک شرطیہ ہوگا اور ایک حملیہ ہوگا۔ ایک شرطیہ ہوگا ایک حملیہ۔
اور قضیہ شرطیہ تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ یا تو وہ دو قسم پر ہے: متصلہ یا منفصلہ۔ تو یہاں کل پانچ صورتیں بنتی ہیں بھئی، پانچ صورتیں۔ پہلی صورت یہ کہ دونوں قضیے جو ہیں شرطیہ متصلہ ہوں۔ دوسری صورت، دونوں قضیے جو ہیں شرطیہ منفصلہ ہوں۔ تیسری صورت، ایک قضیہ شرطیہ متصلہ ہو اور دوسرا شرطیہ منفصلہ ہو۔ چوتھی صورت، ایک شرطیہ متصلہ ہو اور دوسرا حملیہ ہو۔ پانچویں صورت، کہ ایک شرطیہ منفصلہ ہو اور دوسرا قضیہ حملیہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ پانچ صورتیں بنتی تھیں۔
ان پانچ میں سے میں نے بتلایا تھا کہ تین قسمیں بیان کریں گے دو کو چھوڑ دیں گے، وہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے۔ اور ان جن تین کو بیان کیا، ان میں سے ایک کے اندر تین شکلیں بنا کر دکھائیں گے، شکلِ رابع کو چھوڑ دیں گے اور بقیہ دو میں صرف شکلِ اول بنا کر دکھائیں گے اور بقیہ شکلوں کو چھوڑ دیں گے اختصار کے طور پر کہ وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے۔
تو کل ایک قسم ہم نے پڑھ لی تھی بھئی، ایک قسم اور وہ کون سی؟ پانچ میں سے۔ پانچ قسمیں کون کون سی بیان ہوئیں؟ دونوں یا متصلہ ہوں گے یا دونوں منفصلہ ہوں گے یا ایک متصلہ ایک منفصلہ اور چوتھی صورت کیا تھی؟ ایک متصلہ دوسرا حملیہ ہو اور پانچویں ایک منفصلہ دوسرا حملیہ ہو۔ ایک قسم ہم نے پڑھ لی جس میں دونوں متصلہ تھے، اس کی تین شکلیں بھی بنا دیں: کلما کان زید انسانا کان حیوانا وکلما کان حیوانا کان جسما۔ تو یہ دونوں متصلہ ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اب یہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ”اما الاقتراني الشرطي المؤلف من المنفصلات“ اور باقی وہ قیاسِ اقترانی شرطی ”المؤلف من المنفصلات“ جو مرکب ہو کس سے؟ مؤلف مرکب بھئی، ”المؤلف من المنفصلات“ جو مرکب ہو دو منفصلوں سے، منفصلات سے بھئی، جس میں قضیہ منفصلہ ہوں صرف بھئی۔ یہ دوسری صورت آ گئی، پہلی صورت تھی جس میں دونوں کیا ہوں؟ متصلہ، اس میں تین شکلیں بنائیں۔ اب وہ بتلانے لگے ہیں جس میں دونوں منفصلہ ہوں۔ اس میں صرف شکلِ اول آپ کو بنا کر دکھائیں گے۔ ”مثاله من الشكل الاول“ اس کی مثال شکلِ اول میں سے:
”امّا كل أ ب او كل ج د“ ”امّا كل أ ب او كل ج د“ یہ پہلا قضیہ، پہلا مقدمہ، یا یوں کہیں یہ ہے صغریٰ، صغریٰ۔ اب کبریٰ: ”و دائما كل د هـ او كل د ز“ یہ کبریٰ آ گیا بھئی اور دیکھیے اس میں حدِ اوسط ”د“ ہے بھئی۔ حدِ اوسط کیا ہے؟ ”د“ ہے۔ پہلے کے آخر میں کیا آیا تھا؟ ”كل ج د“ یہ ”د“ کیا ہے؟ حدِ اوسط। اگلے میں آ رہا ہے: ”دائما كل د هـ“ یہ جو شروع کا ”د“ آیا ہے یہ کیا ہے؟ حدِ اوسط ہے، یہ گر جائے گا۔
اچھا، ”فينتج“ تو یہ نتیجہ دے گا: ”دائما امّا كل أ ب و كل ج هـ“ دیکھا؟ پہلے کیا تھا پہلے قضیے میں؟ ”كل ج د“ اور دوسرے میں کیا تھا؟ ”كل د هـ“ ”د“ گر گئے تو کیا رہ گیا؟ ”كل ج هـ“ تو یہی یہ نتیجہ اب کیا آیا؟ ”او كل ج هـ او كل د ز“ بھئی یہ نتیجہ آ گیا۔ تو کیا نتیجہ ہوا؟ ”دائما امّا كل أ ب او كل ج هـ او كل د ز“ بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی اس کی ایک واضح مثال ذرا آسان مثال لکھ لیجیے بھئی:
دائماً امّا ان يكون العدد زوجاً و امّا ان يكون فرداً
یہ ہوا بھئی صغریٰ، لکھ لیا بھئی؟ دائماً امّا ان يكون العدد زوجاً و امّا ان يكون فرداً
کبریٰ ہے: و دائماً امّا ان يكون الزوج زوج الزوج او يكون زوج الفرد
کبریٰ کیا ہوا؟ و دائماً امّا ان يكون الزوج زوج الزوج او يكون زوج الفرد
دیکھیے زوج الزوج بھئی، بھئی زوج اور فرد جانتے ہو کہ نہیں جانتے؟ کئی دفعہ ذکر آ چکا۔ زوج کسے کہتے ہیں؟ جفت کو اور فرد کسے کہتے ہیں؟ طاق کو۔ اب پھر یہ جو زوج ہے یاد رکھیے یہ دو قسم پر ہے: یا زوج الزوج ہوگا یا زوج الفرد۔ بھئی یہ زوج، بعض زوج کی تقسیم کریں، مثلاً چار، چار کو تقسیم کیا کیا دو حصوں میں، کیا آیا؟ ایک حصے میں دو آیا، دوسرے میں بھی دو، اور جو یہ جو تقسیم کے بعد حاصل ہوا، یہ دو، یہ جفت ہے یا طاق ہے؟ یہ جفت ہے بھئی۔ معلوم ہوا چار جفت کا جفت ہے۔ دو جفت کو ملایا تھا تو چار حاصل ہوا تھا، تو چار کیا ہوا؟ جفت کا جفت بھئی۔ دو جفت کو ملایا تھا تو جفت آیا تھا، تو یہ زوج الزوج ہے۔ اس کے مقابلے میں کچھ زوج ایسے ہوتے ہیں کہ ان کو تقسیم کریں تو طاق عدد آتے ہیں، مثلاً چھ۔ چھ کو تقسیم کریں دو برابر حصوں میں بھئی، ایک میں کتنا آئے گا؟ تین۔ تو دیکھو اس جفت کو تقسیم کیا تو دو طاق آ گئے بھئی، تین تین بھئی۔ تو اس کو کیا کہیں گے؟ زوج الفرد بھئی، طاق کا جفت، زوج الفرد، طاق کا جفت। بات سمجھ میں آئی؟ تو زوج یعنی جفت دو قسم پر ہوئے: کچھ کو تقسیم کریں تو جفت عدد ہی آتے ہیں دو بھئی، اور کچھ کو تقسیم کریں تو دو طاق عدد آئیں گے، اس کو زوج الفرد کہیں گے بھئی۔
تو یہاں دیکھیے حدِ اوسط زوج ہے، زوج، وہ گر جائے گا۔ نتیجہ آگے لکھئیے بھئی، نتیجہ لکھئیے بھئی:
دائماً امّا ان يكون العدد فرداً و امّا ان يكون زوج الزوج او يكون زوج الفرد
لکھ لیا بھئی؟ دائماً امّا ان يكون العدد فرداً و امّا ان يكون زوج الزوج او يكون زوج الفرد
پہلے قضیے میں کیا تھا دو مقدموں میں؟ پہلے میں تھا کہ عدد یا تو فرد ہو زوج ہوگا یا یا فرد ہوگا، طاق ہوگا۔ پھر آگے تھا کہ زوج جو ہوتا ہے وہ ہمیشہ یا تو زوج الزوج ہوگا یا زوج الفرد ہوگا۔ تو نتیجہ کیا آیا؟ کہ ہمیشہ کوئی عدد یا تو فرد یعنی طاق ہوگا یا زوج الزوج یا زوج الفرد ہوگا بھئی۔ نتیجہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ حدِ اوسط کیا تھا؟ زوج تھا بھئی زوج۔
جی اب آئیے کتاب پر دیکھیے بھئی:
دیکھیے یہ جو قیاسِ اقترانی شرطی بیان ہوا، اس میں دونوں منفصلہ تھے بھئی، دونوں قضیے کیا تھے؟ منفصلہ تھے اور اس کی صرف شکلِ اول سے مثال بیان کی، بس بھئی۔
”و اما الاقتراني الشرطي المركب من حملية و متصلة“ اور باقی وہ قیاسِ اقترانی شرطی جو مرکب ہو حملیہ اور متصلہ سے، ایک قضیہ متصلہ، دوسرا قضیہ حملیہ۔ ”فكقولنا“ جیسے کہ ہمارا قول: ”كلما كان ب ج فكل ج أ“ یہ صغریٰ ہے۔ ”و كل أ أ“ یہ کبریٰ ہے بھئی، یہ قضیہ حملیہ ہے دیکھو بھئی، یہ شرطیہ، کبریٰ حملیہ ہے۔ ”و كل أ أ“ بھئی یہ کیا ہے قضیہ؟ حملیہ ہے، پہلا کیا تھا صغریٰ؟ وہ قضیہ شرطیہ تھا، دوسرا کیا ہے؟ قضیہ حملیہ۔ تو یہ قضیہ اس کی مثال ذکر کر دی، ”فينتج“ یہ نتیجہ دے گا: ”كلما كان ب ج فكل ج أ“۔
بھئی یہ تو نتیجہ جو کاتب نے لکھا ہے، یہ بعینہٖ صغریٰ نہیں بھئی؟ جی صحیح؟ یہ بعینہٖ صغریٰ ہے۔
بھئی دیکھیے! یہ جو قضیہ، کبریٰ کیا ہے بھئی کبریٰ؟ ”كل أ أ“ یہ کیا ہے؟ کبریٰ۔ اس میں پہلے ہمزہ ہے، بعد میں الف ہے۔ بعد میں الف ہے۔ بھئی یوں کریں، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، الف کو پہلے کریں، ہمزہ کو بعد میں کریں بھئی۔ شکلِ اول بنانی ہے نہ ہم نے؟ شکلِ اول میں حدِ اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ। تو صغریٰ کے اندر ”فكل ج أ“ یہ تالی کے اندر الف آیا تھا۔ تو یہی کبریٰ میں موضوع کی جگہ آنا چاہیے الف بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ صورت سمجھ آ رہی ہے کہ نہیں بھئی؟
صغریٰ شرطیہ ہے نہ؟ صغریٰ کیا ہے قضیہ؟ شرطیہ۔ اور قضیہ شرطیہ میں مقدم اور تالی کی بات ہوتی ہے۔ تو مقدم کیا ہے؟ ”كلما كان ب ج“ یہ ہے مقدم، ”فكل ج أ“ یہ کیا ہے؟ تالی۔ اور اس تالی کے اندر آیا الف بھئی، الف۔ یعنی محمول کے مقام میں آیا، دوسرے حصے میں آیا۔ اور اگلا ہے ”كل أ أ“ وہاں اصلاح کر لی بھئی؟ الف کو مقدم کر دیا ہمزہ پر؟ تو یہ الف ہمزہ پر مقدم ہے، یہ قضیہ حملیہ ہے یعنی کبریٰ ہے اور یہاں پر موضوع کی جگہ پر حدِ اوسط یعنی الف کو ہم لے آئے بھئی۔
تو پہلے یعنی صغریٰ میں الف تھا کہاں پر؟ تالی میں، اور دوسرے میں الف کہاں پر ہے؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ جی؟ تو دیکھیے صغریٰ کیا ہے؟ ”كلما كان ب ج فكل ج أ“ اب یہاں دیکھیے یہ جو صغریٰ ہے، اس میں تالی کیا ہے؟ ”فكل ج أ“ اس تالی کے اندر الف آیا بھئی، تالی میں الف۔ آگے کیا ہے کبریٰ؟ وہ کیا ہے؟ ”كل أ أ“ یہ ہے کبریٰ بھئی، اس میں ہم نے حدِ اوسط کو کہاں لانا ہے؟ موضوع کی جگہ شکلِ اول بنانے کے لیے، تو الف کو پہلے ہونا چاہیے بھئی، حدِ اوسط ہے الف۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ لہٰذا الف حدِ اوسط ہے یہ گر جائے گا، تو نتیجہ کیا آیا؟ ”كلما كان ب ج فكل ج أ“ یہ جو ”أ“ ہے نہ، یہ الف نہیں ہونا چاہیے، یہ ہمزہ ہونا چاہیے۔ ”فكل ج أ“ یہ جو جیم کے بعد الف ہے نتیجے کے اندر، اس کو الف نہیں ہونا چاہیے بلکہ کیا ہونا چاہیے؟ ہمزہ ہونا چاہیے۔ الف تو حدِ اوسط تھا، وہ گر چکا بھئی۔
اصلاح کر لی بھئی؟ بات سب کو سمجھ بھی آ گئی؟ یہ کون سی صورت تھی؟ صغریٰ تھا شرطیہ متصلہ اور کبریٰ تھا قضیہ حملیہ। کل کتنی صورتیں تھیں یہاں؟ پانچ صورتیں: دونوں متصلہ ہوں، اس میں تین مثالیں ذکر کی ہیں انہوں نے سب سے پہلے۔ دونوں منفصلہ ہوں، اس میں ایک مثال ذکر کی، میں نے بھی ایک مثال لکھوا دی بھئی۔ تیسرا، پہلا ہو متصلہ اور دوسرا ہو حملیہ، اس کی ایک مثال انہوں نے ذکر کر دی بھئی، ایک مثال بھئی۔ اور وہ دو صورتیں چھوڑ دیں: کون سی؟ جس میں ایک متصلہ ہو، ایک منفصلہ ہو، وہ نہیں بیان کی، اسی طرح وہ صورت بھی چھوڑ دی جس میں پہلا منفصلہ ہو، دوسرا حملیہ ہو، وہ صورت بھی چھوڑ دی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔
تو انہوں نے یہ مثال ذکر کی بھئی، آپ ایک اور آسان سی مثال لکھ لیجیے بھئی اسی کی، جس میں پہلا متصلہ ہوگا، دوسرا حملیہ ہوگا۔
كلما كان هذا الشيء انساناً كان حيواناً
كلما كان هذا الشيء انساناً كان حيواناً
2
کلما کان هذا الشئ انسانا کان حیوانا، یہ سارا صغریٰ ہے قضیہ شرطیہ متصلہ۔
اور کبریٰ ہے: وکل حیوان جسم، وکل حیوان جسم۔
لکھ لیا بھئی؟ پورا قیاس کیا بنا؟ کلما کان هذا الشئ انسانا کان حیوانا وکل حیوان جسم۔
حد اوسط کیا ہے یہاں پر؟ حیوان ہے شاباش، وہ گر جائے گا۔ تو نتیجہ آیا، نتیجہ لکھیے: کلما کان هذا الشئ انسانا کلما کان هذا الشئ انسانا کان جسما، کان جسما۔
لکھ لیا بھئی نتیجہ؟ نتیجہ ہوا: کلما کان هذا الشئ انسانا کان جسما، یہ نتیجہ آ گیا۔ کہ جب بھی یہ چیز انسان ہوگی تو جسم ہوگی بھئی، ضرور جسم ہوگی۔
یہاں تک بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ طریقہ آ گیا بھئی؟ جی، باقی تفصیل بڑی کتابوں میں آئے گی بھئی۔ چنانچہ دیکھیے، صاحب کتاب بھی فرماتے ہیں: وعلى هذا القياس باقي التركيبات، اور اسی طریقے پر ہیں باقی ترکیبیں بھی بھئی۔ اسی طریقے پر ہیں باقی۔ کہتے ہیں: کچھ تو میں نے بیان کر دیا، ایک شکل میں، ایک صورت میں میں نے تین شکلیں بیان کیں، دو صورتوں میں ایک ایک شکل بیان کی، اور دو صورتیں جو باقی رہ گئیں اور یہ جو لکھے ہوئے ہیں ان میں سے جو باقی شکلیں ہیں وہ بھی ساری اسی طریقے پر آئیں گی بھئی۔ وعلى هذا القياس باقي التركيبات، اور اسی طریقے پر ہیں باقی ترکیبیں۔
وعلى هذا القياس، یہ ہے خبر مقدم۔ باقي التركيبات، یہ ہے مبتدا مؤخر۔ اور باقی، مبتدا مرفوع ہوتا ہے، تو باقي التركيبات نہ پڑھنا کیونکہ یا پر ضمہ نہیں آتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی، یا پر ضمہ نہیں۔
بھئی، یہ بحث کس بارے میں چل رہی تھی؟ قیاس کی بحث ہے اور اب قضایا شرطیہ سے جو مرکب ہوتا تھا قیاس، اس کا بیان شروع کیا۔ اور قیاس تھا دو قسم پر: ایک اقترانی، ایک استثنائی۔ قیاس اقترانی کے اندر قضایا شرطیہ کس طرح آئیں گے اور نتیجہ کس طرح نکالیں گے، یہ بیان ہو گیا۔ اب قیاس استثنائی رہ گیا بھئی۔ قیاس استثنائی میں کس طرح صورتیں بنیں گی، قیاس استثنائی کون سا تھا؟ جس میں حرف استثنا بھئی، لیکن یا الا وغیرہ آتا تھا اور اس کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ ہوتا تھا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بیان تھا قیاس اقترانی کا قضایا شرطیہ میں۔ اب کس کا بیان کریں گے؟ قیاس استثنائی کا بیان کریں گے، تو دیکھیے بھئی کتاب پر:
فصل في القياس الاستثنائي، یہ فصل ہے قیاس استثنائی کے بیان میں۔ وهو مركب من مقدمتين، اور وہ مرکب ہوتا ہے دو مقدموں سے، أي قضيتين، یعنی دو قضیوں سے مرکب ہوتا ہے۔ إحداهما شرطية والأخرى حملية، ان دونوں میں سے ایک شرطیہ ہوتا ہے اور دوسرا حملیہ، دوسرا حملیہ ہوتا ہے۔ مثلاً بھئی: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، فالنهار موجود، ولكنها ليست بطالعة، ولكنها ليست بطالعة۔ اگر سورج طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا، لیکن سورج طلوع نہیں ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ تو دن بھی موجود نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو قیاس کیا تھا ہمارا؟ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، یہ ہے صغریٰ سارا۔ دوبارہ سنیں: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، یہ سارا کیا ہے؟ صغریٰ، یہ شرطیہ متصلہ ہے، کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ۔ اور کبریٰ کیا ہے؟ لیکنه ليست بطالعة، یا ولكنها ليست بطالعة، لیکن سورج طلوع نہیں ہے، یہ قضیہ حملیہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تو دیکھو، یہ قیاس ہے، پہلا جز شرطیہ متصلہ، دوسرا جز قضیہ حملیہ۔ پہلا جز شرطیہ متصلہ: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، یہ شرطیہ متصلہ ہے صغریٰ۔ اور لیکنها ليست بطالعة، لیکن سورج طلوع نہیں ہے، یہ ہے قضیہ حملیہ، یہ ہے کبریٰ۔ معلوم ہوا قیاس استثنائی ہمیشہ مرکب ہوگا کس سے؟ دو قضیوں میں سے جس میں سے پہلا کیا ہوگا؟ شرطیہ متصلہ ایک، ایک قضیہ شرطیہ ہوگا بس، اور دوسرا کیا ہوگا؟ حملیہ، کیونکہ لیکن کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ کرنا ہے، تو وہ ہمیشہ حملیہ ہوگا۔
تو قیاس استثنائی میں پہلا جز، یعنی صغریٰ، یعنی پہلا مقدمہ ہمیشہ شرطیہ ہوگا۔ پھر شرطیہ میں متصلہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن پہلا جز ہوگا کیا؟ شرطیہ ہوگا۔ اور دوسرا حصہ کیا ہوگا؟ وہ حملیہ ہوگا ہمیشہ۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہی بات بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وهو مركب من مقدمتين، یہ قیاس استثنائی جو ہے یہ مرکب ہوتا ہے کس سے؟ دو مقدموں سے، قضيتين، یعنی دو قضیوں سے، إحداهما شرطية والأخرى حملية، ایک ان میں سے کیا ہوتا ہے؟ شرطیہ ہوتا ہے اور دوسرا حملیہ۔ اور شرطیہ میں پھر متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
پھر متصلہ میں بھی آپ نے تقسیم پڑھی تھی: یا لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔ لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔ مثلاً میں کہتا ہوں: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، بھئی، یہ دن کا ہونا سورج کے طلوع ہونے کے ساتھ لازم ہے یا لازم نہیں ہے؟ لازم ہے، تو یہ لزومیہ ہے، دونوں میں لزوم ہے بھئی، ثانی اول کے ساتھ لازم ہے۔ ثانی اول کے ساتھ لازم ہے۔ تو یہ ہوا لزومیہ، اور کبھی اتفاقاً دونوں جمع ہو جاتے ہیں: إن كان زيد انسانا فالنحار ناهق، اگر زید انسان ہے تو گدھا رینگنے والا ہے۔ حالانکہ زید جب بھی انسان ہو، وہ گدھے کا رینگنا ضروری ہے؟ نہیں، یہ اس کے ساتھ اتفاقاً دونوں جمع ہو گئی ہیں یہ دو باتیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قضیہ متصلہ کتنی قسم پر تھا؟ دو: ایک لزومیہ اور اتفاقیہ۔ تو یہاں صرف لزومیہ آئے گا، اتفاقیہ نہیں، کیونکہ اتفاقیہ میں لزوم ہی نہیں ہے، وہاں نتیجہ نہیں آتا بھئی، نتیجہ نہیں آتا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو انہوں نے کیا کہا کہ قیاس استثنائی میں پہلا قضیہ کیا ہوگا؟ شرطیہ، پھر وہ قضیہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ۔ متصلہ میں دو قسمیں ہیں: ایک لزومیہ اور ایک اتفاقیہ، صرف کون سا متصلہ آ سکتا ہے؟ لزومیہ آ سکتا ہے، اتفاقیہ نہیں آ سکتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور اگر پہلا قضیہ وہ منفصلہ ہو، تو منفصلہ میں آپ نے پڑھا تھا کہ وہ منفصلہ جو ہے، وہ عنادیہ ہوگا یا اتفاقیہ ہوگا؟ وہ منفصلہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر: یا عنادیہ یا اتفاقیہ۔ اتفاقیہ تو وہی ہے کہ دونوں باتیں اتفاقاً جمع ہو گئیں، عنادیہ جن کے اندر آپس میں کیا ہے؟ عناد ہے، جمع ہو ہی نہیں سکتے، عناد کہتے ہیں دشمنی کو، مخالفت کو، کہ دو چیزوں میں مخالفت ہے وہ جمع ہو ہی نہیں سکتیں، منفصلہ میں انفصال بیان کرتے ہیں نا دو چیزوں میں: هذا العدد إما زوج وإما فرد۔ زوج اور فرد میں عناد ہے، مخالفت ہے، ایسا کوئی عدد ہو سکتا ہے جو زوج بھی ہو اور طاق بھی ہو، دونوں ہو؟ ایسا تو نہیں ہو سکتا۔ تو دیکھیے: هذا العدد إما زوج أو فرد، یہ زوج اور فرد ہونا ان دونوں میں عناد ہے، یہ کبھی بھی جمع نہیں ہو سکتے بھئی، یا صرف زوج ہوگا یا صرف کیا ہوگا؟ فرد ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور ایک ہے اتفاقاً ویسے جمع ہو جائیں، اتفاقاً جمع ہو جائیں۔
تو یہاں جو عنادیہ ہے اس کی بات ہوگی، اتفاقیہ کی بات یہاں بھی، وہ بھی نہیں آئے گا کیونکہ اس میں نتیجہ نہیں آتا بھئی، اس میں نتیجہ نہیں آتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں آ رہی سمجھ؟ تفصیل پیچھے بیان ہو چکی، مختصر میں اشارہ کر رہا ہوں سمجھانے کے لیے۔ کہ انہوں نے بتایا کہ قیاس استثنائی میں پہلا جز، پہلا مقدمہ شرطیہ ہوگا، دوسرا حملیہ ہوگا۔ شرطیہ میں پھر دو صورتیں: یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ متصلہ میں سے پھر صرف یہاں کون سا آ سکتا ہے؟ لزومیہ آ سکتا ہے، اتفاقیہ نہیں، کیونکہ اس میں نتیجہ نہیں آتا بھئی۔ اور منفصلہ کے اندر بھی دو صورتیں تھیں: یا وہ عنادیہ ہوگا یا اتفاقیہ، اتفاقیہ یہاں نہیں آ سکتا، صرف کون سا آئے گا؟ عنادیہ آئے گا۔ اور پھر عنادیہ کے اندر جو ہے، عنادیہ کے اندر تین صورتیں پڑھی تھیں آپ نے بھئی: یا تو عنادیہ جو ہے وہ حقیقیہ ہوگا، یا مانعة الجمع ہوگا، یا مانعة الخلو ہوگا بھئی۔ کیا ہوگا؟ عنادیہ یا حقیقیہ ہوگا، یا مانعة الجمع ہوگا، یا مانعة الخلو ہوگا بھئی۔ تو یہ تینوں آ سکتے ہیں، یہ تینوں آ سکتے ہیں۔ اتفاقیہ تو نہیں، عنادیہ آ سکتا ہے اور عنادیہ کی بھی تینوں قسمیں آ سکتی ہیں پہلے قیاس کے پہلے حصے میں۔ یعنی عنادیہ حقیقیہ بھی آ سکتا ہے، عنادیہ مانعة الجمع بھی آ سکتا ہے اور عنادیہ مانعة الخلو بھی آ سکتا ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو آگے دیکھیے کتاب پر: ويتخلل بينهما كلمة الاستثناء، اور بیچ میں آتا ہے ان دونوں کے، ان دونوں کے درمیان میں آتا ہے بھئی، انہوں نے کیا بتلایا؟ قیاس استثنائی کسے کہتے ہیں؟ وہ قیاس جو مرکب ہو دو ایسے قضیوں سے جن میں سے پہلا کیا ہوگا؟ شرطیہ، دوسرا کیا ہوگا؟ حملیہ، اور ان دونوں کے درمیان آئے گا، کہتے ہیں: كلمة الاستثناء، کلمہٴ استثنا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ويتخلل بينهما كلمة الاستثناء، اور بیچ میں آئے گا ان دونوں کے کلمہٴ استثنا، أعني إلا وأخواتها، یعنی کہ الا اور اس کے جو اخوات ہیں، یعنی إلا وأخواتها۔ بھئی، انہوں نے کیا کہا؟ ایک قضیہ شرطیہ ہوگا، ایک، متوجہ ہیں سبق کی طرف؟ ایک قضیہ شرطیہ ہوگا، ایک حملیہ، ان دونوں کے درمیان کیا آئے گا اس میں، قیاس استثنائی میں؟ حرف استثنا، یعنی الا اور اس کے جو مشابہ ہیں، اخوات، اخت کی جمع، اخوات بہنوں کو کہتے ہیں، لیکن یہ مثل کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ بہنیں بھی ایک دوسرے کے مثل ہوتی ہیں، تو جس میں الا یا الا کے مثل کوئی کلمہ آ جائے گا جو الا کا معنی ادا کرے گا، لیکن وغیرہ بھئی۔ ومن ثَم يسمى استثنائياً، اور اسی وجہ سے اس کو قیاس استثنائی کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قیاس استثنائی۔ یاد رکھیے، یہ ثُم نہیں ہے، ثَمَّ ہے بھئی، اور یہ اسم اشارہ ہے بھئی، کیا ہے؟ اسم اشارہ ہے ذلک کی طرح، اور اس کے آخر میں کبھی ہا بھی ملا دیتے ہیں: ثَمَّہْ بھئی، وقف کے لیے۔ ومن ثَمَّ، اور اسی وجہ سے يسمى استثنائياً، اس کو کیا کہتے ہیں قیاس استثنائی، کیونکہ اس میں حرف استثنا الا یا لیکن وغیرہ آتا ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔