LESSONS NO. 83
1
فصل في اقترانيات من الشرطيات
فصل في اقترانيات من الشرطيات، یہ فصل ہے قضایا شرطیہ کے قياسات اقترانیہ کے بیان میں۔
یعنی ابھی تک ہم بحث پڑھ رہے تھے جو قیاس کی، اس میں قضایا حملیہ دو ملتے تھے اور اس سے قیاس بنتا تھا۔
کون سے قضیہ ہوتے تھے؟ قضیہ حملیہ بھئی۔
آپ نے پڑھا ہے بھئی کہ قضیہ دو قسم پر ہے: یا حملیہ ہوگا یا شرطیہ۔ اب وہی بات جو ہے قضایا شرطیہ میں بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔
یہاں بھئی وہ قیاس بیان کر رہے ہیں جو شرطیات سے مرکب ہو بھئی، شرطیات، قیاس شرطی۔
اور جیسے آپ نے دیکھا ہے کہ بعض قضایا حملیہ ایسے ہوتے ہیں کہ جو بغیر غور و فکر کے سمجھ میں آ جاتے ہیں اور اس میں کسی دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دلیل وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوتی، جیسے ”زَيْدٌ إِنسَانٌ“، زید کیا ہے؟ انسان ہے۔ اس میں غور و فکر کی ضرورت نہیں، لیکن بعض قضایا حملیہ جو ہوتے ہیں ان میں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے یا دوسرا شخص ان کو تسلیم نہیں کرتا تو وہاں آپ کو دلیل ذکر کرنا پڑتی ہے یعنی قیاس پیش کرنا پڑتا ہے۔
کیا پیش کرنا پڑتا ہے؟ قیاس پیش کرنا پڑتا ہے بھئی۔ آپ صغریٰ، کبریٰ ملا کر اس کے سامنے نتیجے میں وہ قیاس وہ وہ قضیہ حملیہ جو حاصل ہوتا ہے اس پر اس کو ثابت کرتے ہیں کہ دیکھو، یہ قیاس سے یہی نتیجہ آ رہا ہے، یہ دلیل ہے اس کے صحیح ہونے کی، جیسے تھا ”العَالَمُ حَادِثٌ“ بھئی، ”العَالَمُ حَادِثٌ“۔ یہ ہر ایک نہیں تسلیم کرتا، باقاعدہ آپ کو قیاس کی صورت میں دلیل ذکر کرنا پڑتی ہے کہ ”العَالَمُ مُتَغَيِّرٌ وَكُلُّ مُتَغَيِّرٍ حَادِثٌ“، نتیجہ کیا آیا؟ ”العَالَمُ حَادِثٌ“۔
تو جیسے قضیہ حملیہ جو ہے، اس کے اندر باقاعدہ بعض اوقات دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، مخالف ویسے اس کو تسلیم کرتا ہی نہیں، اسی طرح قضایا شرطیہ بھی ہیں۔ بعض شرطیات تو بدیہی ہیں، ان میں تو ذرا بھی شک و شبہ نہیں، دلیل کی ضرورت نہیں، جیسے آپ کہتے ہیں ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ اب دیکھیے یہ قضیہ شرطیہ بدیہی ہے، اس میں ذرا بھی غور و فکر کی ضرورت نہیں، اس میں دلیل دینے کی ضرورت نہیں، دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جیسے حملیہ میں بعض اوقات دلیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح شرطیہ میں بھی بعض اوقات دلیل دینے کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً آپ کہتے ہیں ”مَتَى وُجِدَ المُمْكِنُ وُجِدَ الوَاجِبُ“، ”مَتَى وُجِدَ المُمْكِنُ وُجِدَ الوَاجِبُ“، جب بھی ممکن پایا جائے گا تو واجب بھی پایا جائے گا۔
جب بھی ممکن الوجود پایا جائے گا تو واجب الوجود بھی ضرور پایا جائے گا۔ اب یہ قضیہ شرطیہ ہے اور اس کے لیے باقاعدہ آپ کو دلیل ذکر کرنا پڑے گی، کیا ذکر کرنا پڑے گی؟ دلیل۔ ممکن کس کو کہتے ہیں؟ ممکن الوجود جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج ہو، اور واجب الوجود کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے وجود میں غیر کا محتاج نہ ہو بھئی۔
غیر کا محتاج نہ ہو۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ”مَتَى وُجِدَ المُمْكِنُ وُجِدَ الوَاجِبُ“، اب یہ قضیہ شرطیہ ہے لیکن اس کو دوسرا مخالف تسلیم نہیں کرتا تو آپ کو باقاعدہ دلیل ذکر کرنا پڑے گی، تو معلوم ہوا جس طرح حملیہ کے اندر قیاس کی ضرورت پیش آتی ہے اسی طرح قضیہ شرطیہ میں بھی کس کی ضرورت پیش آتی ہے؟ قیاس کی کہ دلیل کے ذریعے پھر اس قضیہ شرطیہ کو ثابت کیا جائے بھئی، تو اسی کا یہاں بیان کر رہے ہیں بھئی، اسی کا۔
اور قضیہ شرطیہ آپ جانتے ہیں وہ دو قسم پر ہیں بھئی، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ ہوگا بھئی۔
تو یہاں اب وہ قیاس اقترانی بیان کریں گے جو مرکب ہو شرطیات سے بھئی۔
قیاس دو قسم پر ہیں نا، ایک ایک اقترانی اور ایک استثنائی۔ قیاس اقترانی جس میں صغریٰ اور کبریٰ آپ نے پڑھے ملائے جاتے ہیں، حد اوسط ہوتا ہے، نتیجہ آتا ہے اور اس میں حرف استثنا نہیں ہوتا، جبکہ دوسرا قیاس جو ہے وہ قیاس استثنائی کہلاتا ہے کیونکہ اس میں حرف استثنا آتا ہے۔
حرف استثنا آتا ہے۔
تو یہاں پہلے جو قیاس اقترانی ہے جو شرطیات سے مرکب ہو ان کے بیان میں ہے یہ فصل بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَصْلٌ فِي الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ“
أي ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ“، اقترانیات سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی کہ لفظ بیان، ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ“۔
اور یہ ”فَصْلٌ“ خبر ہے مبتدائے محذوف ”هَذَا“ کی، أي ”هَذَا فَصْلٌ فِي بَيَانِ الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ“۔
یہ فصل ہے، اس کے بعد ترجمہ آخر سے کرنا ہے بھئی، یہ یہ فصل ہے شرطیات کے اقترانیات کے بیان میں، یہ فصل ہے شرطیات کے اقترانیات کے بیان میں، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اس کے بعد ایک اور بات یاد رکھیے، اقترانیات سے پہلے موصوف محذوف ہے، ”القِيَاسَاتُ“، اقترانیات سے پہلے موصوف محذوف ہے یہ صفت ہے، اور وہ کیا ہے موصوف؟ ”القِيَاسَاتُ“۔
اور ”الشَّرْطِيَّاتِ“ سے پہلے بھی موصوف محذوف ہے اور وہ ہے ”القَضَايَا“، وہ کیا ہے؟ ”القَضَايَا“، تو عبارت کس طرح ہوئی؟ ”فَصْلٌ فِي بَيَانِ القِيَاسَاتِ الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ القَضَايَا الشَّرْطِيَّاتِ“ بھئی، عبارت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور با ترجمہ: یہ فصل ہے، پھر ترجمہ اسی طرح آخر سے، یہ فصل ہے قضایا شرطیہ کے قياسات اقترانیہ کے بیان میں۔
ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ فصل ہے قضایا شرطیہ کے قياسات اقترانیہ کے بیان میں۔
تو اس میں قياسات، ان قياسات اقترانیہ کا بیان ہے جو شرطیات سے مرکب ہیں شرطیات سے، چاہے دونوں شرطیہ ہوں دونوں مقدمے اور چاہے ان میں سے ایک مقدمہ شرطیہ ہو اور دوسرا حملیہ ہو بھئی۔
یرحمک اللہ۔
”فَصْلٌ فِي الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الشَّرْطِيَّاتِ“، یہ فصل ہے قضایا شرطیہ کے قياسات اقترانیہ کے بیان میں۔
”وَحَالُهَا فِي الأَشْكَالِ الأَرْبَعَةِ“ اور ان کا حال چاروں شکلوں میں ”وَالظُّرُوبِ المُنْتِجَةِ“ اور ان ضربوں میں جو نتیجہ دینے والی ہیں ”وَالشَّرَائِطِ المُعْتَبَرَةِ“ اور ان شرائط میں جن کا اعتبار کیا گیا ہے ”كَحَالِ الاِقْتِرَانِيَّاتِ مِنَ الحَمْلِيَّاتِ“ انہی انہی اقترانیات کے حال کی طرح ہے ”مِنَ الحَمْلِيَّاتِ“ جو کس سے ہوں؟ جو حملیات سے مرکب ہوں ”سَوَاءً بِسَوَاءٍ“ برابر برابر بھئی، برابر برابر ہیں، برابر برابر ہے ان کا حال بھئی۔
یہ جو قیاس قیاس سے پہلے یہ بیان کر رہے ہیں قیاس اقترانی کا بھئی قضایا شرطیہ کے اندر بھئی، اور آگے پھر قیاس استثنائی کا الگ بیان آئے گا۔
تو یہاں بتلا رہے ہیں کہ وہ قیاس جو مرکب ہو قضایا شرطیہ سے، اس میں وہی اسی طرح شکلیں بنیں گی جو اب تک آپ نے قضیہ حملیہ کے اندر پڑھ لیں، وہی شکلیں بنیں گی، وہی ضربیں ہوں گی نتیجہ دینے والی، اور جو شرائط وہاں معتبر تھیں وہی شرائط یہاں بھی معتبر ہوں گی، یعنی سارا کچھ اسی طرح ہے جو پہلے آپ پڑھ چکے بھئی، بس صرف اتنا فرق ہے کہ وہاں بات تھی قضایا حملیہ کی اور یہاں پر بات کس کی ہوگی؟ قضایا شرطیہ کی بات ہوگی بھئی۔
اچھا بھئی، آئیے پہلے ذرا ہم دہرا لیں قیاس کی قیاس کے بارے میں جو بحث ہم نے پڑھی بھئی۔ آپ نے پڑھا قیاس وہ کسے کہتے ہیں؟ دو قضیوں کا ملنا آپس میں اس طریقے پر کہ ان سے ایک تیسرا قضیہ لازم آتا ہو بھئی لازم آتا ہو۔
اور پھر یہ دو قسم پر ہے: یا استثنائی ہوگا یا اقترانی ہوگا، استثنائی وہ جس میں حرف استثنا کے ذریعے ان حرف استثنا آئے ”إِلَّا“، ”لَكِنَّ“ وغیرہ اور اس کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ ہو، اور اصطلاحی تعریف ذکر کی تھی جس قیاس کے اندر نتیجہ یا نقیض نتیجہ پہلے سے موجود ہو بھئی۔
اور قیاس اقترانی وہ ہے جس میں جس میں حرف جس میں حرف استثنا ذکر نہ ہو بھئی، ”إِلَّا“ یا ”لَكِنَّ“ وغیرہ ذکر نہ ہو بھئی، نہ ہو۔
اور پھر بتلایا تھا کہ اس میں ایک صغریٰ ہوگا، ایک کبریٰ ہوگا بھئی، صغریٰ اور کبریٰ، اور ایک حد اوسط ہوگا درمیان میں ان کے، تو صغریٰ کو صغریٰ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں اصغر آتا ہے، اور کبریٰ کو کبریٰ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں اکبر آتا ہے، اصغر اور اکبر کسے کہتے ہیں؟
اصغر نتیجے کا موضوع جو ہے، اصغر اصغر، اور اکبر نتیجے کا محمول بھئی محمول بھئی۔
اور اصغر کو اصغر کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے افراد عموماً اکبر کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، اور اکبر کو اکبر اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کے افراد عموماً اصغر کے مقابلے میں زیادہ ہوتے ہیں۔
اور صغریٰ اور کبریٰ کے اندر جو حصہ جو جز مکرر آئے اس کو کیا کہتے ہیں؟ حد اوسط کہتے ہیں، حد اوسط۔
اور یہ جو حد اوسط ہے یا یہ موضوع کی جگہ بھی آ سکتا ہے، محمول کی جگہ بھی آ سکتا ہے صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی، تو یہ جو حد اوسط کو حد اوسط صغریٰ اور کبریٰ میں جس مقام پر آئے گا اس مقام کے اعتبار سے چار شکلیں بنتی تھیں بھئی، کتنی شکلیں؟ چار، چار شکلیں، اور ان میں سے شکل اول سب سے اعلیٰ و اشرف جس میں نتیجہ بدیہی ہوتا ہے، غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔
اور شکل اول کے اندر حد اوسط صغریٰ میں کہاں آتا ہے؟ محمول کی جگہ بھئی، میں بار بار یہ تکرار کروا رہا ہوں، یہ آپ کے ذہن میں باتیں خوب پختہ ہونی چاہئیں بھئی۔
شکل اول میں حد اوسط صغریٰ میں کہاں آئے گا؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں؟ موضوع کی جگہ۔
شکل ثانی میں حد اوسط کہاں آئے گا؟ دونوں میں محمول کی جگہ۔
شکل ثالث میں حد اوسط کہاں آئے گا؟ دونوں میں موضوع کی جگہ بھئی شاباش۔
اور شکل رابع میں حد اوسط کہاں آئے گا؟ صغریٰ میں موضوع کی جگہ اور کبریٰ میں محمول کی جگہ آئے گا بھئی۔
اور پھر یہ بھی آپ نے ضابطہ پڑھا کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخس کے تابع ہوا کرتا ہے، یعنی جو ادنیٰ درجے کا ہو، ادنیٰ درجے کا، اور سلب اور ایجاب میں سے ادنیٰ درجے کی کیا چیز ہے؟ سلب، اور کلیہ اور جزئیہ میں سے ادنیٰ درجہ کس کا ہے؟ جزئیہ کا، تو لہذا ایک سالبہ ہو ایک کلیہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ سالبہ، اور ایک اگر کلیہ کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا، اور اگر دونوں جزئیہ ہوں تو پھر بھی نتیجہ جزئیہ آئے گا، اور اگر دونوں مقدمے جو ہیں وہ کلیہ ہوں تو پھر اس صورت میں نتیجہ کلیہ بھی آ سکتا ہے اور جزئیہ بھی آ سکتا ہے، اور میں نے بیان کر دیا کہ کس شکل میں کلیہ آئے گا اور کس شکل میں جزئیہ آئے گا، کب؟ جبکہ دونوں مقدمے کلیہ ہوں، شکل اول میں اگر دونوں مقدمے کلیہ ہوں تو شکل اول میں نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا؟ کلیہ آئے گا، شکل ثانی میں بھی ہمیشہ نتیجہ کیا آئے گا؟ کلیہ آئے گا، اور شکل ثالث میں نتیجہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا، اور شکل رابع کے اندر نتیجہ نہ وہاں شکل رابع میں ایک جگہ کے علاوہ باقی ہر جگہ جزئیہ آئے گا، اور وہ ایک جگہ کون سی ہے میں بیان کر چکا ہوں، جہاں صغریٰ کیا ہو؟ سالبہ کلیہ، سالبہ کلیہ، اور کبریٰ کیا ہو؟ موجبة کلیہ، تو یہاں نتیجہ جو ہے پھر سالبہ کلیہ آتا ہے، اس کے علاوہ چوتھی شکل میں باقی نتیجے سب جزئیہ ہیں بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی ساری شکلیں، یہی ساری ضربیں اور یہی شرائط قضایا شرطیہ کے اندر بھی معتبر ہیں بھئی۔
شکل اول میں کتنی شرائط تھیں بھئی؟ دو، پہلی شرط ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔
شکل ثانی میں بھی دو شرطیں تھیں، پہلی شرط کیف میں اختلاف ہو، ایک موجبة ہو تو دوسرا سالبہ، اور دوسری شرط کلیت کبریٰ، کبریٰ کو کلیہ ہونا چاہیے۔
اور تیسری شکل کی کتنی شرائط تھیں؟ دو شرائط تھیں، پہلی شرط کیا؟ ایجاب صغریٰ اور دونوں دوسری شرط کیا تھی؟ دونوں مقدموں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے، ایجاب صغریٰ اور دو مقدموں میں سے کسی ایک کا کلیہ ہونا بھئی۔
شکل رابع کی شرائط انہوں نے ذکر نہیں کیں کہ اس میں فائدہ بھی تھوڑا ہے شکل رابع میں، اور اس میں اس کی بحث بھی مفصل ہے، تو یہ کہتے ہیں اس کتاب چھوٹی سی ہے رسالہ ہے چھوٹا سا، تو وہ آپ اگلی کتابوں میں پڑھ لیں گے۔
تو ساری یہی تفصیل یہی شرائط قضایا شرطیہ کے اندر بھی آئے گی۔
اب یاد رکھیے وہ قیاس جو مرکب ہو قضایا شرطیہ سے، آپ نے پڑھا تھا کہ قیاس اقترانی حملی بھی ہو سکتا ہے اور شرطی بھی ہو سکتا ہے۔
قیاس اقترانی جس میں قیاس وہ دو قضیے ملیں یا دو سے زیادہ ملیں تو پھر نتیجہ آئے گا، تو یہ جو قیاس ہے یہ
2
حملی بھی ہو سکتا ہے اور شرطی بھی۔ حملی وہ جو کہ کس سے مرکب ہو؟ دو حملیوں سے مرکب ہو۔ جبکہ شرطی، ہاں اس میں چاہے دونوں شرطیہ ہوں یا ایک شرطیہ اور ایک حملیہ ہو۔ تو وہ قیاس شرطی ہے بھئی۔
اور پھر یہاں پر یاد رکھیے بھئی، پانچ قسمیں بنتی ہیں، پانچ قسمیں بھئی۔ قیاس شرطی کے اندر کتنی شکلیں بنتی ہیں، کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ پانچ صورتیں بنیں گی بھئی۔ دیکھئے، یہ دو، کم از کم کتنے قضیہ ہوں گے قیاس میں؟ دو ہوں گے۔ پھر آگے نتیجہ قیاس آئے گا۔ تو یہ جو دو قضیے ملے ہیں یہ ہے قیاس، اور آگے جو نیا قضیہ آئے گا وہ ہے، وہ قیاس، وہ نتیجہ قیاس ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو قیاس یہ ہے جو دو قضیے یا زیادہ کو آپ نے ملایا، یہ ہے قیاس۔ اور آگے جو حاصل ہوگا، وہ قیاس نہیں، وہ ہے نتیجہ قیاس بھئی۔ وہ کیا ہے؟ وہ ہے نتیجہ قیاس بھئی۔
جیسے مثلاً میں کہتا ہوں "کُلُّ حَیَوَانٍ"، "کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ"۔ "کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ"، اور آگے "کُلُّ حَیَوَانٍ" "مُتَحَرِّکٌ"۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ "کُلُّ اِنْسَانٍ مُتَحَرِّکٌ"۔ تو اس میں اگر آپ سے کوئی پوچھے قیاس کیا ہے، آپ کیا کہیں گے؟ "کُلُّ اِنْسَانٍ حَیَوَانٌ وَکُلُّ حَیَوَانٍ مُتَحَرِّکٌ"، یہ ہے قیاس بھئی۔ اور پوچھے نتیجہ قیاس کیا ہے، تو آپ کیا کہیں گے؟ "کُلُّ اِنْسَانٍ مُتَحَرِّکٌ"، یہ ہے نتیجہ قیاس بھئی، نتیجہ قیاس۔
تو یہاں میں بتلا رہا ہوں کہ پانچ صورتیں بنیں گی بھئی، کیونکہ کم از کم قیاس میں دو مقدمے ضروری ہیں۔ تو دو مقدمے ہیں۔ تو یہاں دونوں مقدمے یا تو شرطیہ متصلہ ہوں گے، بھئی آپ نے پڑھا ہے شرطیہ دو قسم پر ہے، متصلہ ہوگا یا منفصلہ ہوگا۔ متصلہ، مثلاً "اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّھَارُ مَوْجُوْدٌ"، یہ کیا ہے؟ متصلہ، دو چیزوں کے درمیان اتصال بیان ہوگا۔ اور اگر دو چیزوں میں انفصال بیان ہو، "ھٰذَا الْعَدَدُ اِمَّا زَوْجٌ اَوْ فردٌ"، تو یہ کیا ہے قیاس؟ یہ قضیہ کون سا ہے شرطیہ؟ منفصلہ ہے بھئی، شرطیہ منفصلہ۔ تو معلوم ہوا، شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی ہو سکتا ہے۔
اور آپ نے پڑھا قیاس شرطی کے اندر دونوں جز، دونوں مقدمے شرطیہ بھی ہو سکتے ہیں، اور یا ایک جز شرطیہ ہو اور ایک کیا ہو؟ حملیہ ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ معلوم ہوا، یہاں تین قسم کے قضیے آ سکتے ہیں۔ کتنے قسم کے؟ تین۔ دو قسمیں تو شرطیہ میں بن گئیں نا، ایک متصلہ اور ایک منفصلہ، اور ایک حملیہ بھی آ سکتا ہے۔ کیا آ سکتا ہے؟ کیونکہ دونوں جز کیا ہوں گے، دونوں مقدمے کیا ہوں گے؟ دونوں شرطیہ ہوں گے یا ایک شرطیہ ہوگا تو ایک حملیہ ہوگا۔ تو دیکھو حملیہ بھی آ سکتا ہے۔ اور ایک جز شرطیہ ہو، اور پھر شرطیہ میں کتنی صورتیں ہیں، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ تو تین قسم کے مقدمے یہاں آ سکتے ہیں۔ یا شرطیہ متصلہ ہوگا، یا شرطیہ منفصلہ ہوگا، یا قضیہ حملیہ ہوگا بھئی۔ یہ تینوں اکٹھے ہوں گے اور ان سے قیاس کی صورتیں بنیں گی۔
تو یہاں پھر اس لحاظ سے پانچ صورتیں بنتی ہیں بھئی۔ کتنی صورتیں؟ پانچ۔ پانچ کس طرح؟ دو مقدمے ہیں نا قیاس کے۔ دونوں متصلہ بھی ہو سکتے ہیں، پہلی صورت۔ دونوں کیا ہوں؟ دونوں شرطیہ متصلہ ہوں۔ دوسری صورت، دونوں شرطیہ منفصلہ ہوں۔ تیسری صورت، ایک متصلہ ہو، ایک منفصلہ ہو بھئی۔ ایک متصلہ ہو، ایک منفصلہ ہو، تین صورتیں ہو گئیں۔ چوتھی صورت، ایک متصلہ ہو اور ایک حملیہ ہو۔ ایک متصلہ ہو اور ایک حملیہ ہو، اس کو بھی تو لانا تھا ان میں سے ایک کے ساتھ۔ تو ایک متصلہ ہو اور ایک حملیہ، یا ایک منفصلہ ہو اور ایک حملیہ ہو بھئی۔
کل کتنی صورتیں بن گئیں؟ سبق کی طرف توجہ ہے؟ پانچ صورتیں بن گئیں۔ پہلی صورت کیا ہوئی؟ دونوں شرطیہ ہوں اور کون سے ہوں؟ دونوں شرطیہ ہوں بھئی، اس میں تین صورتیں آئیں گی۔ اور ایک شرطیہ ہو، ایک حملیہ ہو، اس میں دو صورتیں آئیں گی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ قیاس شرطی کس کو کہتے تھے؟ جس میں دونوں مقدمے شرطیہ ہوں یا ایک مقدمہ شرطیہ ہو اور ایک حملیہ ہو۔ تو ایک شرطیہ ہو، ایک حملیہ ہو، اس میں دو صورتیں آ گئیں۔ کس طرح دو آئیں؟ کیونکہ جو شرطیہ ہے وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ۔ تو ایک ہوا متصلہ دوسرا حملیہ، یا ایک ہوا منفصلہ اور دوسرا ہوا حملیہ، یہ دو صورتیں آ گئیں۔
اور دونوں جز، دونوں مقدمے اگر کیا ہوں؟ شرطیہ ہوں، دونوں مقدمے اگر شرطیہ، تو پھر اس کے اندر کتنی صورتیں ہیں؟ تین صورتیں ہیں، کیونکہ شرطیہ دو قسم پر ہے، یا متصلہ ہے یا منفصلہ۔ تو یہاں پر دو مقدمے ہیں، تو دونوں، دونوں ہی متصلہ ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ دونوں ہی منفصلہ ہوں، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے ایک متصلہ ہو اور ایک منفصلہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ کل کتنی صورتیں ہیں؟ پانچ صورتیں ہیں۔ پہلی صورت کہ دونوں کیا ہوں؟ متصلہ ہوں۔ دوسری صورت، دونوں منفصلہ ہوں۔ تیسری صورت، ایک متصلہ، ایک منفصلہ۔ چوتھی صورت، ایک متصلہ، ایک حملیہ۔ پانچویں صورت، ایک منفصلہ ہو اور ایک حملیہ ہو۔ دوبارہ دوہرائیں بھئی۔ پہلی صورت دونوں متصلہ، دوسری صورت دونوں منفصلہ، تیسری صورت ایک منفصلہ، ایک متصلہ۔ چوتھی صورت ایک متصلہ اور ایک حملیہ، اور پانچویں صورت ایک منفصلہ ہو اور ایک حملیہ ہو بھئی۔
اب دیکھئے، یہ پانچ میں سے پانچ میں سے صرف تین کو وہ بیان کریں گے۔ باقی دو کو چھوڑ دیں گے کہ وہ اگلی کتابوں میں آپ پڑھ لیں گے، ان میں جو آسان ہے ذرا ان کو ذکر کر دیں گے اور باقی اگلے درجوں کے لیے چھوڑ دیں گے بھئی۔ تو پانچ میں سے تین صورتیں بیان کریں گے۔ پھر ان تین میں سے بھی ایک کے اندر تین شکلیں بیان کریں گے، چوتھی شکل چھوڑ دیں گے۔ پانچ میں سے کتنی صورتیں بیان کریں گے؟ تین کی مثالیں ذکر کریں گے، تین۔ ان تین میں سے بھی جو پہلا بیان کریں گے، اس میں کیا کریں گے؟ تین شکلوں کی مثالیں دیں گے، چوتھی شکل کی مثال نہیں دیں گے۔ اور پانچ میں سے تین جس میں ذکر ہوئی نا، یہ تو ایک کا حال تھا، اس میں تین شکلیں بنائیں گے۔ اگلی دونوں میں صرف ایک ایک شکل بنائیں گے بھئی۔ اگلی دونوں میں ایک ایک شکل بنائیں گے، باقی اگلی کتابوں کے حوالے کر دیں گے کہ وہاں آپ پڑھ لیں گے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟ اب ایک اور بات یاد رکھیے۔ اب چونکہ قضایا شرطیہ کی بات آئی ہے، قضیہ حملیہ میں تو ایک موضوع ہوتا ہے، ایک محمول۔ حدِ اوسط کبھی موضوع کی جگہ آتا ہے، کبھی محمول۔ اور قضیہ شرطیہ کے اندر جو دو جز ہوتے ہیں، ان کے نام آپ پڑھ چکے ہیں۔ پہلے کو کہتے ہیں مقدم، دوسرے کو کہتے ہیں تالی۔ تو ان جہاں شرطیہ ہوگا، وہاں آپ نے مقدم اور تالی کی بات کرنی ہے۔ جہاں حملیہ ہوگا، وہاں موضوع اور محمول کی بات کرنی ہے، کہ وہاں پھر یوں بتائیں گے کہ حدِ اوسط شرطیہ میں ہے، حدِ اوسط شرطیہ میں یا تو وہ مقدم میں آئے گا یا پھر کس میں آئے گا؟ تالی میں آئے گا۔ قضیہ حملیہ میں وہ کہاں آتا تھا؟ موضوع کی جگہ یا محمول کی جگہ بھئی۔
اچھا، اب دیکھیے بھئی کتاب میں بھئی۔ مِثَالُ الشَّکْلِ الْاَوَّلِ فِی الْمُتَّصِلَۃِ، شکلِ اول کی مثال متصلہ کے اندر، کس کے اندر؟ متصلہ کے اندر۔ یعنی وہ قیاس جس میں دونوں قضیہ متصلہ ہوں شرطیہ بھئی، دونوں متصلہ ہوں گے۔ پانچ صورتیں بنتی تھیں نا؟ دونوں متصلہ یا دونوں منفصلہ یا ایک متصلہ اور ایک منفصلہ یا ایک متصلہ اور ایک حملیہ یا ایک منفصلہ اور حملیہ۔ تو یہ جو متصلہ، دونوں جز متصلہ ہوں، دونوں مقدمے، اس میں تین شکلوں کی مثالیں ذکر کریں گے بھئی، تین کی، چوتھی کو چھوڑ دیں گے بھئی۔ یہ اب پہلے وہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں مِثَالُ الشَّکْلِ الْاَوَّلِ فِی الْمُتَّصِلَۃِ، شکلِ اول کی مثال متصلہ میں، کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا، زید جب بھی انسان ہو کَانَ حَیَوَانًا تو حیوان ہوگا۔ وَکُلَّمَا کَانَ حَیَوَانًا کَانَ جِسْمًا، اور وہ جب بھی حیوان ہو تو وہ جسم ہوگا۔
دیکھیے مقدمہ اولیٰ کیا ہے بھئی؟ شرطیہ متصلہ۔ مقدمہ ثانیہ یعنی کبریٰ بھی کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ۔ یہ قیاس مرکب ہے کس سے؟ دو شرطیہ متصلہ سے بھئی، دو شرطیہ متصلہ سے۔ اور دیکھیے بھئی، یہاں حدِ اوسط کیا ہے؟ کَانَ حَیَوَانًا، کَانَ حَیَوَانًا۔ اور کَانَ حَیَوَانًا صغریٰ میں کہاں آ رہا ہے؟ تالی، شاباش۔ یہاں محمول نہیں کہنا بلکہ کیا کہنا ہے؟ تالی۔ تو یہ کَانَ حَیَوَانًا صغریٰ میں تالی کی جگہ ہے، اور کبریٰ میں مقدم کی جگہ۔ اور تالی محمول کی طرح ہے، اور مقدم موضوع کی طرح ہے، تو یہ کون سی شکل ہوئی؟ یہ شکلِ اول ہوئی بھئی۔
تو یُنْتِجُ، یہ نتیجہ دے گا، کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ جِسْمًا، جب بھی زید انسان ہوگا تو کَانَ جِسْمًا وہ جسم۔ دیکھو کَانَ حَیَوَانًا حدِ اوسط تھا، اس کو گرا دیا، اور باقی کو ملا دیا، نتیجہ آ گیا کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا، یہ صغریٰ سے لیا، اور کَانَ جِسْمًا یہ کس سے لیا؟ کبریٰ سے لیا۔ تو زید جب بھی انسان ہوگا کَانَ جِسْمًا وہ جسم ہوگا۔
مِثَالُ الشَّکْلِ الثَّانِی، شکلِ ثانی کی مثال، کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا۔ بھئی شکلِ ثانی میں کہاں آتا ہے حدِ اوسط؟ دونوں میں محمول کی جگہ۔ کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا، زید جب بھی انسان ہو تو حیوان ہوگا۔ وَلَیْسَ الْبَتَّۃَ اِذَا کَانَ حَجَرًا کَانَ حَیَوَانًا، اور ایسا نہیں ہے کہ وہ حجر ہو تو حیوان بھی ہو، قطعی طور پر۔ قطعی طور پر ایسا نہیں ہے کہ وہ پتھر ہو تو حیوان بھی ہو، جب پتھر ہوگا تو حیوان نہیں ہوگا بھئی۔
تو دیکھیے، ایک ہے موجبہ، پہلا کیا ہے؟ موجبہ۔ اور دوسرا کیا ہے؟ سالبہ ہے، سالبہ۔ تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ۔ اور پہلا ہے کلیہ، دوسرا بھی ہے کلیہ۔ تو نتیجہ کیا آئے گا؟ شکلِ ثانی ہے، کلیہ ہی آئے گا بھئی، کلیہ ہی آئے گا۔
تو نتیجہ کیا بنا؟ سالبہ کلیہ۔ دونوں کلیہ ہیں تو نتیجہ بھی کلیہ، کیونکہ شکلِ ثانی ہے۔ اور ایک سالبہ ہے، ایک موجبہ ہے تو نتیجہ سالبہ، تو کیا بنا نتیجہ؟ سالبہ کلیہ آئے گا نتیجہ بھئی۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ یُنْتِجُ یہ نتیجہ دیتا ہے، لَیْسَ الْبَتَّۃَ اِنْ کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَجَرًا۔ قطعی طور پر، دیکھیے حدِ اوسط کیا تھا بھئی؟ کَانَ حَیَوَانًا۔ اور یہ صغریٰ میں کہاں آیا تھا؟ تالی کی جگہ، اور کبریٰ میں بھی کہاں آیا؟ تالی، تو یہ شکلِ ثانی ہے بھئی۔ اس تو کَانَ حَیَوَانًا کو گرا دیا، اور صغریٰ سے لے لیا موضوع، کبریٰ سے جو لیا وہ ہے محمول بنایا اسے۔ تو لَیْسَ الْبَتَّۃَ، دیکھو لَیْسَ الْبَتَّۃَ نے کیا بتایا؟ سالبہ ہے اور کلیہ ہے۔ سالبہ کلیہ کہ لَیْسَ الْبَتَّۃَ اِنْ کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَجَرًا، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ زید انسان ہو تو پتھر بھی ہو۔ ایسا قطعی طور پر نہیں ہے، انسان ہو تو پتھر نہیں ہو سکتا کبھی بھی۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ یہ شکلِ ثانی کی مثال تھی۔ دیکھیں وہ شرائط بھی دیکھ لینا، ہر ایک میں وہ شرطیں بھی پوری ہوں گی بھئی، شرطیں بھی۔ کیا شکل تھی، شکلِ ثانی کی کیا شرط تھی بھئی؟ اختلاف الکیف۔ دیکھیے ہم نے جو صورت بنائی، ایک کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا، یہ موجبہ ہے۔ وَلَیْسَ الْبَتَّۃَ اِذَا کَانَ حَجَرًا کَانَ حَیَوَانًا، یہ کیا ہے؟ سالبہ۔ تو اختلاف الکیف موجود ہے۔ اور دوسری شرط کیا تھی شکلِ ثانی میں؟ کلیتِ کلیتِ کبریٰ، اور یہ بھی یہاں موجود ہے لَیْسَ الْبَتَّۃَ، یہ کیا ہے؟ کلیہ ہے، سالبہ کلیہ۔
مِثَالُ الثَّالِثِ مِنْھَا، تیسری مثال ان میں سے بھئی۔ کُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ حَیَوَانًا، یہ کیا ہے؟ صغریٰ۔ وَکُلَّمَا کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا کَانَ کَاتِبًا، اور زید جب بھی انسان ہو تو کاتب ہوگا، یہ ہے کبریٰ۔ حدِ اوسط کیا ہے؟ حدِ اوسط صغریٰ میں کیا، دیکھو کیا ہے حدِ اوسط؟ کَانَ زَیْدٌ اِنْسَانًا یا کَانَ اِنْسَانًا کہہ لیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ صغریٰ میں کہاں پر ہے؟ مقدم۔ کبریٰ میں بھی کہاں؟ مقدم۔ تو دیکھو یہ شکلِ ثالث ہے بھئی، شکلِ ثالث۔
اور پہلا کیا ہے، کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ اور دوسرا بھی کیا ہے؟ کلیہ ہے۔ تو نتیجہ کیا آئے گا، شکلِ ثالث ہے؟ نتیجہ شاباش جزئیہ آئے گا، کیونکہ شکلِ ثالث اور رابعہ میں نتیجہ کیا آتا ہے؟ جزئیہ آتا ہے سوائے شکلِ رابعہ کے ایک مقام کے۔
اچھا، تو نتیجہ جزئیہ آئے گا، اور دونوں موجبہ ہیں، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبہ۔ تو گویا نتیجہ کیا بنا؟ موجبہ جزئیہ، کیا بنا؟ موجبہ جزئیہ۔ اور شرطیں کیا تھیں شکلِ ثالث کی؟ ایجابِ صغریٰ، صغریٰ موجبہ ہے یا نہیں یہاں پر؟ صغریٰ موجبہ ہے۔ اور دوسری شرط کیا تھی؟ دونوں میں سے کم از کم ایک کلیہ ہو، یہاں تو دونوں ہی کلیہ ہیں، دوسری شرط بھی پوری۔
تو یُنْتِجُ، یہ نتیجہ دے گا، قَدْ یَکُوْنُ، دیکھو قَدْ یَکُوْنُ آیا، یہ کس کا سور تھا؟ جزئیہ کا سور۔ تو موجبہ جزئیہ۔ قَدْ یَکُوْنُ اِذَا کَانَ زَیْدٌ حَیَوَانًا کَانَ کَاتِبًا، کہ کبھی کبھار جب زید حیوان ہو تو وہ کاتب ہوگا۔ کبھی جب زید کیا ہو؟ حیوان ہو، تو وہ کیا ہوگا؟ کاتب ہوگا۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ کیا معنی ہے کبھی کبھار جب زید حیوان ہو؟ ہاں، یہ کبھی کبھار یہ کیا ہے؟ جزئیہ ہے بھئی۔
3
کلما کان زید انساناً کان حیواناً۔ زید جب بھی انسان ہوگا، تو حیوان ہوگا ضرور۔
کلما کان زید انساناً کان کاتباً۔ اور زید جب بھی انسان، تو کاتب ضرور ہوگا۔
اور کوئی احوال میں زید کے ہو سکتا ہے کبھی انسان نہ ہو۔ ہماری اس سے بحث نہیں۔ ہماری اس کے کن احوال سے بحث ہے؟ جب بھی اگر یہ ہے، زید کو آپ انسان کہو گے، تو اس کو کاتب بھی ماننا پڑے گا آپ کو۔
اگر اس کو انسان آپ مانتے ہیں، تو اس کو کاتب بھی ماننا پڑے گا۔
اگر انسان ہی نہیں مانتے، انسان ہے ہی نہیں، ویسے ایک بات ہے، تو وہ اس سے ہماری بحث نہیں۔ جب انسان ہوگا، تو کاتب ضرور ہوگا۔
یہ تو وہ احوالِ ذکر ہے نا، جو بدلتے ہی نہیں ہیں۔ بعض احوال بدلتے ہیں یا نہیں؟ وہ اسی سے سمجھ میں آ جائیں گے۔ یہ والا حال مانو گے، تو یہ وصف ضرور ماننا پڑے گا۔ یہ حال نہیں مانتے، تو ہماری بحث ہی نہیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً آپ کہتے ہیں: زید اگر روزہ رکھے ہوئے ہے، تو وہ کھانا نہیں کھائے گا۔ ہاں، روزہ نہ رکھے ہوئے ہو، تو کھائے گا۔ اب صورت بن گئی؟
یا یوں کہیں: زید جب بھی روزہ رکھے ہوئے ہو، تو اس پر کھانا پینا حرام ہے۔ زید جب بھی روزہ رکھے ہوئے ہو، روزہ دار ہو، تو اس پر کھانا پینا حرام ہے۔ روزہ دار نہ ہو، ان سے ہماری بحث نہیں۔ ہم تو صرف روزے والی حالت کی بات کر رہے ہیں۔