Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-082

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 82 1 فصل: شرط إنتاج الشكل الثالث كون صغراه موجبة، وكون إحدى المقدمتين كلية. فضروبهن الناتجة ستة، أحدها: كل ب ج وكل ب أ، فبعض ج أ. أچھا بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے شکل ثالث کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ کہ شکل ثالث جو ہیں، اس کی بھی دو شرائط ہیں۔ پہلی شرط کہ صغریٰ جو ہے، وہ موجبه ہونا چاہیے، اور دوسری شرط دونوں مقدموں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے بھئی، کلیہ۔ تو یہ شکل ثالث ہے۔ شکل اول میں دو شرطیں تھیں بھئی، پہلی کیا شرط تھی؟ ایجاب صغریٰ۔ اور دوسری شرط؟ کلیت کبریٰ۔ شکل ثانی میں بھی دو شرطیں تھیں، پہلی شرط؟ اختلاف کیف، یعنی ایک موجبه ہو تو دوسرا سالبہ ہو۔ اور دوسری شرط؟ کلیت کبریٰ۔ اور شکل ثالث میں کیا دو شرطیں ہوئیں؟ پہلی کیا شرط؟ ایجاب صغریٰ۔ اور دوسری شرط؟ دونوں مقدموں میں سے کوئی ایک کلیہ ہو۔ اور یہ بات بھی بیان ہو چکی کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل، اخص کے تابع ہوتا ہے۔ اخص ”ث“ کے ساتھ ہے خسیث سے، یعنی ادنیٰ کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک سالبہ ہو، ایک موجبه ہو، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبہ، کیونکہ سالبہ اخص ہے۔ اور اگر ایک کلیہ ہو اور ایک جزئیہ ہو، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا بھئی۔ اور اگر دونوں جزئیہ ہوں، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا۔ اگر دونوں کلیہ ہوں تو؟ کلیہ بھی نتیجہ آ سکتا ہے، جزئیہ بھی۔ پہلی دو شکلوں میں نتیجہ ہمیشہ، جب دو کلیہ ملیں، تو نتیجہ ہمیشہ کیا آئے گا پہلی دو شکلوں میں؟ پہلی دو شکلوں میں نتیجہ کلیہ آئے گا۔ اور آخری دو شکلوں میں نتیجہ کیا آئے گا؟ دو کلیہ ملیں، تو شکل اول میں بھی نتیجہ کلیہ آئے گا، شکل ثانی میں بھی کلیہ آئے گا، شکل ثالث اور رابع میں جزئیہ آئے گا، صرف ایک جگہ ہے شکل رابع میں جہاں کلیہ آئے گا بھئی نتیجہ بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر: فصل: شرط إنتاج الشكل الثالث كون صغراه موجبة، وكون إحدى المقدمتين كلية. شکل ثالث کے نتیجہ دینے کی شرطیں، صغریٰ جو ہے وہ موجبه ہونا چاہیے اور دونوں مقدموں میں سے کوئی ایک کلیہ ہونا چاہیے بھئی۔ فضروبهن الناتجة ستة. پس اس کی وہ ضربیں جو نتیجہ دینے والی ہیں، چھ ہیں۔ چھ بھئی، کل ہم نے نقشہ بنا لیا تھا، مکمل تفصیلی نقشہ، اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں، یہ وہ چھ بیان کریں گے جی وہاں جو ہم نے چھ نتیجہ دینے والی ضربیں بنائی تھیں۔ أحدها: كل ب ج وكل ب أ، فبعض -ف کے ذریعے نتیجہ بتلا دیا- فبعض ج أ. كل ب ج، کوئی بنائیے بھئی یہاں، الفاظ لائیے۔ كل إنسان حيوان، اور آگے ہے كل ب أ، كل إنسان ناطق. دیکھو پہلے میں ”ب“ کی جگہ انسان لائے تھے، تو یہاں بھی ”ب“ کی جگہ انسان بھئی۔ كل إنسان حيوان وكل إنسان ناطق. نتیجہ کیا آیا؟ بعض الحيوان ناطق. ”ج“ کی جگہ حیوان رکھا تھا، ”أ“ کی جگہ ناطق رکھا تھا، تو نتیجہ آیا بعض الحيوان ناطق. وثانيها: اور دوسری ضرب بھئی جو نتیجہ دینے والی ہے: كل ب ج ولا شيء من ب أ. كل ب ج: كل إنسان حيوان. ولا شيء من ب أ: ولا شيء من الإنسان بحجر، کوئی لفظ لے آئیں۔ ولا شيء من الإنسان بحجر. نتیجہ کیا آیا؟ فبعض ج ليس أ. ”ج“ کی جگہ کیا لائے تھے؟ حیوان۔ ”أ“ کی جگہ کیا لائے تھے؟ حجر۔ فبعض الحيوان ليس بحجر. وثالثها: اور تیسری ضرب جو ہے ان چھ میں سے: بعض ب ج وكل ب أ، فبعض ج أ. جی، دیکھیے شکل ثالث چل رہی ہے اور یہاں دونوں کا موضوع جو ہے وہ حد اوسط ہے بھئی۔ حد اوسط کس جگہ پر ہے؟ موضوع کی جگہ پر دونوں میں۔ تو بعض ب ج، بنائیے بھئی: بعض الحيوان ناطق، کوئی بھی بنا لیں بھئی، بعض الحيوان ناطق. اور آگے بھئی: وكل حيوان متحرك. تو نتیجہ کیا آیا؟ فبعض ج أ، فبعض الناطق متحرك. ورابعها: چوتھی ضرب آ گئی نتیجہ دینے والی ان چھ میں سے: بعض ب ج ولا شيء من ب أ، فبعض ج ليس أ. جی، لگائیے بھئی: بعض ب ج: بعض الحيوان إنسان. ولا شيء من ب أ: ولا شيء من الحيوان بحجر. تو نتیجہ کیا आया؟ فبعض الإنسان ليس بحجر. وخامسها: اور ان چھ میں سے پانچویں ضرب جو ہے: كل ب ج وبعض ب أ، فبعض ج أ. جی، كل ب ج: كل إنسان حيوان. وبعض ب أ: وبعض الإنسان كاتب. فبعض ج أ: فبعض الحيوان كاتب. وسادسها: اور چھٹی ضرب بھئی نتیجہ دینے والی ان چھ میں سے: كل ب ج وبعض ب أ ليس أ، فبعض ج ليس أ. یہ نتیجہ آ گیا۔ جی، لگائیے بھئی الفاظ: كل ب ج: كل إنسان ناطق. وبعض ب أ ليس أ: وبعض الإنسان ليس بحجر، شاباش۔ پہلا کیا بنایا؟ كل إنسان ناطق، وبعض الإنسان ليس بحجر. نتیجہ کیا آیا؟ فبعض ج ليس أ، فبعض الناطق ليس بحجر. اور یہ تو میں بتلا چکا ہوں کہ بعض الناطق حجر نہیں، یہ صادق ہے، کاذب ہے؟ صادق۔ اس سے یہ نہ سمجھیں کہ باقی کیا ہیں؟ حجر ہیں۔ بعض ناطق حجر نہیں ہیں، تو یہ نہ سمجھیں کہ بعض ناطق حجر ہیں۔ باقیوں کو ہم نے ذکر ہی نہیں کیا بھئی، ہم نے کب کہا کہ باقی ہیں بھئی۔ جی، تو یہ تھیں چھ ضربیں نتیجہ دینے والی شکل ثالث میں بھئی۔ بھئی، وہ پھر دہرا لیں، میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں تاکہ ذہن میں پختہ ہو جائے بات۔ شکل اول میں حد اوسط صغریٰ میں کہاں تھا؟ محمول کی جگہ، اور کبریٰ میں؟ موضوع کی جگہ۔ شکل ثانی میں حد اوسط کہاں تھا؟ دونوں میں محمول کی جگہ۔ شکل ثالث میں حد اوسط کہاں ہے؟ دونوں میں موضوع کی جگہ، جیسے ابھی آپ نے سب مثالوں میں دیکھا بھئی۔ اور شکل رابع میں بھئی؟ صغریٰ میں موضوع کی جگہ، اور کبریٰ میں محمول کی جگہ، یہ عکس ہے شکل اول کا بھئی۔ فصل: وشرائط إنتاج الشكل الرابع مع كثرتها وقلة جدواها مذكورة في المبسوطات. کہتے ہیں: وشرائط إنتاج الشكل الرابع، اور چوتھی شکل کے نتیجہ دینے کی شرطیں، مع كثرتها، ساتھ اپنی کثرت کے -”ها“ ضمیر راجع ہے شرائط کو بھائی- اور شکل رابع کے نتیجہ دینے کی شرطیں ساتھ اپنی کثرت کے، یا یوں کہیں باوجود، باوجود اپنی کثرت کے وقلة جدواها، اور اپنے نفع کے کم ہونے کے -جدوى، یاد رکھیے جدوى کا معنیٰ ہوتا ہے فائدہ، فائدہ، نفع- چوتھی شکل کے نتیجہ دینے کی شرطیں باوجود اپنی کثرت کے اور اپنے نفع کے قلیل ہونے کے مذكورة في المبسوطات، وہ مذکور ہیں بڑی کتابوں میں بھئی۔ وہ کس میں مذکور ہیں؟ بڑی کتابوں میں۔ جی، انہوں نے تین شکلوں کی تفصیل اور ان کی کون کون سے ان میں شرائط ہیں اور ان میں کون کون سے ضربیں نتیجہ دیں گی، کون سی نہیں دیں گی، سارا بیان کر دیا بھئی۔ شکل رابع کی تفصیل نہیں کر رہے۔ اور وجہ کیا ذکر کی؟ ایک تو یہ کہتے ہیں اس کی شرطیں زیادہ ہیں شکل رابع کے نتیجہ دینے کی، اور نیز اس کا فائدہ بھی کم ہے، اس کا فائدہ بھی کم ہے۔ یاد رکھیے، جوں جوں شکل اول سے ہم دور ہوتے چلے جائیں، اتنا ہی یہ جو شکلیں ہیں، یہ پیچیدہ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ان میں نتیجے میں بہت غور کرنا پڑتا ہے۔ آپ نے تو سادی سادی مثالیں کر لیں، سیدھی سیدھی طریقہ سیکھ لیا، باقی اس طریقہ پر شکلیں بنانا اور پھر ان سے نتیجہ لینا، اس میں بڑا غور کرنا پڑتا ہے بھئی، بڑا غور کرنا پڑتا ہے۔ تو اس لیے وہ شکل رابع کی شرائط کو وہ ذکر ہی نہیں کر رہے، کہہ رہے ہیں شرائط کثیر ہیں اور ان کا فائدہ قلیل ہے، تو اور وہ بڑی کتابوں میں مذکور ہیں۔ تو جب وہ بڑی کتابوں میں ان کا، ان کی شرائط زیادہ ہیں اور فائدہ تھوڑا ہے اور بڑی کتابوں میں مذکور ہیں، فلا علينا لو ترك ذكرها، أي فلا بأس علينا، ہم پر کوئی حرج نہیں ہے، يا فلا حرج علينا، ہم پر کوئی حرج نہیں ہے لو ترك ذكرها، اگر ان کے ذکر کو چھوڑ دیا جائے۔ شکل رابع کی شرائط زیادہ ہیں، ان کا فائدہ تھوڑا ہے، بڑی کتابوں میں مذکور ہیں، تو لہٰذا ہم پر کوئی حرج نہیں اگر ہم ان کو کیا کر دیں؟ چھوڑ دیں بھئی۔ وكذا شرائط سائر الأشكال بحسب الجهة، اور اسی طرح تمام شکلوں کی شرطیں ہیں بھئی جہت کے اعتبار سے۔ آپ نے تو سیدھے بغیر جہت کے ساری شکلیں حل کر لیں، انہی میں وہ جہت لے آؤ بھئی، موجہات میں جو جہت آپ نے پڑھی تھی، ضرورت کے اعتبار سے، کبھی دوام کے اعتبار سے، کبھی امکان کے اعتبار سے، کبھی بالفعل کے اعتبار سے، وہ بھی شرطیں ساتھ ذکر ہوتی ہیں، اس کے ساتھ بھی کیسے شرائط ہوں گی ان میں کیا کیا شرائط ہیں اور ان کی کیا کیا صورتیں بنیں گی، اس کو بھی کہتے ہیں ہم یہاں نہیں ذکر کریں گے، کیونکہ کہتے ہیں یہ میرا رسالہ چھوٹا سا ہے، چھوٹی سی کتاب ہے، رسالہ ہے، یہ اس، ان کا متحمل نہیں ہو سکتا، اتنی تفصیلات اس میں بیان نہیں ہو سکتیں، اگر بیان کی جائے گی، اگر ان چیزوں کو بیان ہم کریں گے، تو یہ مبتدی طلباء کا رسالہ ہے، ان کے پڑھنے کے لیے یہ لکھ رہے ہیں، تو پھر ان کے لیے سمجھنا بہت مشکل ہو جائے گا بھئی۔ تو جو چیزیں آسانی سے سمجھ میں آ سکتی تھیں، جن کا سمجھنا ضروری تھا، ان کو ذکر کر دیا، اور باقی چیزوں کو اگلی کتابوں کے حوالے کر دیا کہ وہاں جا کر آپ پڑھ لیں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وكذا شرائط سائر الأشكال بحسب الجهة لا يتحمل أمثال رسالتي هذه لبيانها، تو میرا یہ رسالہ جو ہے، اس جیسے رسالے ان کے بیان کا تحمل نہیں کر سکتے، ان میں ان کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فائدة، یہ اب ایک الگ فائدہ ذکر کر رہے ہیں، تو یہ فائدہ عنوان ہے، یاد رکھیے بھئی۔ أي هذه فائدة، یہ ایک فائدہ ہے۔ ولعلك علمت، اور شاید کہ آپ جان گئے ہوں گے، مما ألقينا عليك، اس چیز سے جو ہم نے آپ پر ڈالی، شاید آپ جان گئے ہوں گے اس چیز سے جو ہم نے آپ پر ڈالی، یعنی جو آپ کے سامنے پیش کی، جو چیز ہم نے آپ کے سامنے پیش کی، یعنی جو باتیں ہم نے آپ کے سامنے ذکر کیں، شاید ان باتوں سے آپ جان گئے ہوں گے أن النتيجة في القياس تتبع أدون المقدمتين في الكيف والكم، کہ نتیجہ جو ہے قیاس میں وہ تابع ہوتا ہے أدون المقدمتين، جو کم درجے کا ہو دو مقدموں میں سے، في الكيف والكم، کیف اور کم میں۔ نتیجہ، میں نے بتایا تھا اخص اور ارذل کے تابع ہوا کرتا ہے بھئی۔ تو ادون کا معنیٰ بھی جو کمتر ہو بھئی، تو نتیجہ قیاس کے دو مقدموں میں سے وہ ادون، یعنی جو زیادہ کمتر ہے، اس کے تابع ہوا کرتا ہے، کیف میں بھی اور کم میں بھی۔ 2 والأدون في کیف هو السلب، اور کم تر کیف کے اندر کیا ہے؟ ایجاب ہے یا سلب ہے؟ سلب۔ تو کہتے ہیں والأدون في کیف، وہی بات جو میں بیان کر چکا ہوں کئی مرتبہ اب اس کو یہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں والأدون في کیف هو السلب، اور کم تر جو ہے کیف کے اندر وہ سلب ہے۔ وفي الكم هو الجزئية، اور کم کے اندر جزئیہ، کلیہ کم تر ہے یا جزئیہ کم تر ہے؟ جزئیہ کم تر۔ بس یہی بتلا رہے ہیں کہ نتیجہ اخس اور اراذل کے تابع ہوتا ہے جو ادون ہو گا وہ نتیجہ آئے گا۔ ایجاب اور سلب میں سے ادون کیا ہے؟ سلب ہے اور کلیت اور جزئیت میں سے ادون کیا ہے؟ جزئیت، تو نتیجہ جزئیہ آئے گا۔ فالقياس المركب من موجبة وسالبة ينتج سالبة، پس وہ قیاس جو مرکب ہو موجبہ اور سالبہ سے ينتج سالبة، وہ نتیجہ کیا دے گا؟ سالبہ دے گا۔ والمركب من کلیة وجزئیة، اور وہ قیاس جو مرکب ہو کلیہ، ایک کلیہ اور ایک جزئیہ سے إنما ينتج جزئیة، وہ نتیجہ کیا دے گا؟ جزئیہ دے گا۔ وأما المركب من الكليتين، اور باقی وہ قیاس جو مرکب ہو دو کلیوں سے بھئی، تو اس میں میں نے کیا بتلایا تھا؟ جو قیاس جو مرکب ہو دو کلیوں سے، وہ نتیجہ کیا دے گا؟ کبھی کلیہ دے گا اور کبھی جزئیہ دے گا۔ شکل اول اور شکل ثانی میں ہمیشہ کیا نتیجہ دے گا؟ کلیہ۔ شکل ثالث میں کیا دے گا؟ جزئیہ، اور شکل رابع میں؟ ایک جگہ، ہاں ایک جگہ صرف کلیہ نتیجہ دے گا، باقی جگہ جزئیہ نتیجہ دے گا، اور وہ ایک جگہ بھی میں نے بیان کر دی، کون سی جگہ بھئی؟ جب صغریٰ سالبہ کلیہ ہو اور کبریٰ موجبہ کلیہ ہو، تو نتیجہ وہاں سالبہ کلیہ آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں وأما المركب من الكليتين، اور باقی وہ قیاس جو مرکب ہو دو کلیوں سے فربما ينتج كلية وقد ينتج جزئية، تو وہ کبھی کبھار نتیجہ کلیہ دے گا وقد ينتج جزئية، اور کبھی نتیجہ جزئیہ دے گا۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 82 of 108