Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-100

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 100 1 فصل في اسباب الغلط اعلم ان اسباب الغ غلط مع كثرتها راجعة الى أمرين: احدهما سوء الفهم فقط، والثاني اشتباه الكواذب بالصوادق. گذشتہ سبق میں قياسِ سفسطى کے بارے میں آپ نے پڑھا کہ وہ قياس ہے جو مرکب ہوتا ہے وهميات سے اور ان قضايا سے جو ہوتے تو کاذب ہیں لیکن صادق کے مشابہ ہوتے ہیں۔ اور آپ نے پڑھا کہ یہ قياس جو ہے، اپنی ذات کے اعتبار سے غلط ہے اور اس کے ذریعے دوسروں کو غلطی میں واقع کیا جاتا ہے، تو اب آگے غلطی کے اسباب ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فصل في اسباب الغلط۔ یہ فصل ہے غلطی کے اسباب کے بیان میں۔ اعلم جان لے ان اسباب الغلط مع كثرتها راجعة الى أمرين کہ غلطی کے اسباب مع كثرتها باوجود اپنی کثرت کے، راجعة الى أمرين یہ لوٹتے ہیں دو چیزوں کی طرف، دو امروں کی طرف بھئی۔ یعنی غلطی کے اسباب ہیں تو زیادہ، لیکن ان کو دو امروں میں سمیٹا جا سکتا ہے، دو چیزیں ہیں بنیادی بھئی۔ احدهما سوء الفهم فقط ایک ان میں سے سوءِ فہم یعنی غلط فہمی ہے فقط صرف۔ ایک کیا ہے؟ غلط فہمی۔ غلطی کے اسباب کہتے ہیں زیادہ ہیں، لیکن ان کو کتنی چیزوں میں سمیٹا جا سکتا ہے؟ دو میں۔ دو چیزوں میں، یعنی بنیادی طور پر ان دو میں غلطی واقع ہوتی ہے۔ پہلی کیا چیز ہے؟ سوء الفهم فقط، غلط فہمی بھئی۔ کیا چیز ہے؟ غلط فہمی۔ یعنی ایک چیز کو غلط سمجھ لینا۔ والثاني اشتباه الكواذب بالصوادق اور ان دو میں سے دوسری جو ہے، وہ اشتباہ ہے کواذب کا صوادق کے ساتھ۔ یعنی وہ قضیے جو ہوں تو کاذب، لیکن اشتباہ کس کے ساتھ ہو ان کا؟ سچے قضیوں کے ساتھ۔ یہ دو امور ہیں۔ والاول انما يكون بسبب انغماس النفس في ظلمات الوهم۔ انغماس کا معنی ڈوبنا بھئی۔ انغماس کا معنی ڈوب جانا، گھس جانا۔ اور ظلمات جمع ہے ظلمة کی، تاریکی کو کہتے ہیں، تاریکی۔ پہلا جو ہے، جو غلط فہمی جو ہے، انما يكون بسبب انغماس النفس بوجہ نفس کے ڈوب جانے کے في ظلمات الوهم وہم کی تاریکیوں میں۔ نفس کیا ہوتا ہے؟ وہم کی تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے۔ یعنی اس پر وہم حاوی ہو جاتا ہے، قوتِ واہمہ اس پر پوری طرح غالب آ جاتی ہے۔ تو نفس جو ہے وہم کی تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے، یا یوں کہیں نفس جو ہے وہم کی تاریکیوں میں گھس جاتا ہے۔ حتى يستيقن الكواذب صادقة یہاں تک کہ وہ یقین کرنے لگتا ہے الكواذب جن کو؟ جھوٹے قضیوں کو صادقة کہ وہ سچے ہیں۔ سچے قضیوں کے بارے میں وہ کیا یقین کرنے لگتا ہے؟ جھوٹے، جھوٹے قضیوں کے بارے میں وہ یہ یقین کرنے لگتا ہے کہ یہ سچے ہیں، بل ضرورية بلکہ ضروری ہیں یعنی بدیہی ہیں بھئی۔ ہوتے جھوٹے ہیں، نفس کیا سمجھنے لگتا ہے ان کو؟ یہ سچے ہیں، بلکہ ان کو بدیہی سمجھنے لگتا ہے۔ نحو كل ما ليس بمبصر ليس بجسم جیسے كل ما ليس بمبصر، مبصر کہتے ہیں وہ چیز جو دکھائی دے آنکھوں سے، کہ ہر وہ چیز جو دکھائی نہ دے ليس بجسم وہ جسم نہیں ہے۔ فالهواء ليس بجسم پس ہوا جسم نہیں ہے۔ یہ انہوں نے کبریٰ اور نتیجہ ذکر کیا، صغریٰ نہیں ذکر کیا بھئی۔ صغریٰ ہے: الهواء ليس بمبصر، ہوا مبصر نہیں، دکھائی نہیں دیتی، وكل ما ليس بمبصر ليس بجسم اور ہر وہ چیز جو دکھائی نہ دے وہ جسم نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فالهواء ليس بجسم، ہوا جسم نہیں ہے، حالانکہ یہ غلط ہے بھئی۔ تو یہ دیکھیے غلطی آئی اور وہم نے غلطی میں ڈال دیا بھئی کہ جو چیز دکھائی نہیں دیتی وہ جسم نہیں ہے، حالانکہ ہوا دکھائی نہیں دیتی لیکن جسم رکھتی ہے۔ جنات دکھائی نہیں دیتے لیکن وہ جسم رکھتے ہیں۔ تو یہ دوسرا قضیہ یعنی کبریٰ غلط تھا جس کی وجہ سے دیکھیے نتیجہ غلط آیا۔ تو دیکھیے، یہ غلط فہمی کی وجہ سے ہے اور یہ وہم نے اس غلطی میں ڈالا۔ واما الثاني، دوسری قسم بھئی، جس میں کواذب کا اشتباہ ہوتا ہے، کس کے ساتھ؟ صوادق کے ساتھ۔ کہتے ہیں: واما الثاني ففيه تفصیل اور باقی دوسری قسم جو ہے، تو اس میں تفصیل ہے على ما سيأتي بناء بر اس کے جو عنقریب آ جائے گی بھئی، اس کو آگے عنقریب وہ بیان کریں گے۔ وقال بعض المحققين اور بعض محققین فرماتے ہیں: ترجع الى امر واحد کہ یہ لوٹتی ہے ایک ہی چیز کی طرف۔ غلطی کے اسباب جو ہیں وہ ایک ہی چیز کی طرف لوٹتے ہیں۔ پہلے تو کیا بتلایا انہوں نے؟ دو امور ہیں، بنیادی طور پر دو چیزیں ہیں جو غلطی میں واقع کرتی ہیں۔ اور بعض محققین کہتے ہیں نہیں، دو نہیں، بلکہ بنیادی طور پر ایک ہی چیز ہے وهو عدم التميز بين الشيء وشبهه فقط اور وہ امتیاز نہ ہونا ہے ایک چیز کے درمیان وشبهه اور اس کے مثل کے درمیان، اس کے مشابہ کے درمیان صرف بھئی۔ صرف یہ چیز ہے غلطی میں ڈالنے والی، کہ ایک چیز ہے اور ایک اس کی مثل ہے، اس کے مشابہ چیز ہے۔ دونوں میں اشتباہ آ جاتا ہے، امتیاز نہیں ہوتا بھئی، فرق نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ ایک چیز ہے، دوسری چیز اس کی مثل ہے۔ تو ذہن ان دونوں میں فرق نہیں کر پاتا جس کی وجہ سے کس میں واقع ہو جاتا ہے؟ غلطی میں۔ حالانکہ ایک اگر شے ہے، تو دوسری اس کے مثل ہے، وہ عین وہ شے تو نہیں ہے بھئی۔ جی۔ فصل، فصل، اي هذا فصل۔ عدم التميز بين الشيء وشبهه ينقسم الى ما يتعلق بالالفاظ والى ما يتعلق والمعاني۔ عدم التميز بين الشيء وشبهه امتیاز نہ ہونا ایک چیز اور اس کے مثل کے درمیان، ينقسم یہ تقسیم ہوتا ہے الى ما يتعلق بالالفاظ اس چیز کی طرف جس کا تعلق الفاظ سے ہے والى ما اور اس چیز کی طرف يتعلق والمعاني جس کا تعلق معانی سے ہے۔ بھئی بتلایا بعض محققین کیا فرماتے ہیں کہ چیزوں کے، یہ جو غلطی کے اسباب ہیں، یہ صرف ایک ہی چیز ہے، ایک ہی امر کی طرف لوٹتی ہے، اس کو ایک ہی امر میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ اور وہ کیا؟ کہ شے اور شبہِ شے میں امتیاز نہیں، امتیاز نہیں کر پاتا انسان۔ اور یہ جو امتیاز کا نہ ہونا ہے شے اور اس کے مثل کے درمیان، یہ اس کی یہ دو قسم پر ہے بھئی۔ یا تو یہ کس اعتبار سے ہوگا؟ اس کا تعلق الفاظ سے ہوگا، یا اس کا تعلق معانی سے ہوگا جس کی وجہ سے اشتباہ آ رہا ہے۔ القسم الاول، پہلی قسم بھئی، اعني ما يتعلق بالالفاظ یعنی جس کا تعلق الفاظ سے ہے، قسمان یہ دو قسم پر ہے، دو قسم پر بھئی۔ الاول ما يتعلق بالالفاظ لا من جهة التركيب، پہلی قسم وہ ہے جس کا تعلق الفاظ سے ہے لا من جهة التركيب لیکن ترکیب کی جہت سے نہیں، ترکیب کے اعتبار سے نہیں۔ والثاني ما يتعلق بها اور دوسری قسم وہ ہے جس کا تعلق الفاظ سے ہے من حيث التركيب کس حیثیت سے؟ ترکیب کی حیثیت سے۔ بھئی بتلایا انہوں نے، توجہ ہے سبق کی طرف؟ کہ یہ جو غلطی کے اسباب ہیں اس کو سمیٹا جا سکتا ہے ایک ہی امر میں، اور وہ کیا ہے؟ چیز اور اس کے مثل کے درمیان فرق کا نہ ہونا، امتیاز کا نہ ہونا۔ اور یہ پھر امتیاز کا نہ ہونا چیز اور اس کے مثل کے درمیان، یہ اس کی، یہ دو قسم پر ہے۔ یا تو یہ کس اعتبار سے ہوگا؟ اس کا تعلق الفاظ سے ہوگا، یا اس کا تعلق معانی سے ہوگا جس کی وجہ سے اشتباہ آ رہا ہے۔ پھر جس کا تعلق الفاظ سے ہے، اس کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے لیکن ترکیب کے اعتبار سے نہیں ہے۔ دوسری قسم وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے اور کس اعتبار سے ہے؟ ترکیب کے اعتبار سے ہے، ترکیب کے اعتبار سے۔ ثم المتعلق بالالفاظ من جهة الاول، پھر وہ جن کا تعلق الفاظ سے ہو پہلی جہت سے، قسمان یہ دو قسم پر ہے۔ جس کا، توجہ ہے بھئی؟ جس کا تعلق الفاظ سے ہو پہلی جہت، کون سی ہے پہلی جہت؟ ترکیب کے اعتبار سے یا غیرِ ترکیب کے اعتبار سے؟ غیرِ ترکیب، یعنی ترکیب کے اعتبار سے جو نہیں ہے بھئی۔ یہ دو قسم پر ہے۔ الاول ما يتعلق بالالفاظ انفسها، پہلا وہ جس کا تعلق بالالفاظ انفسها نفسِ الفاظ سے ہو بھئی۔ کس سے تعلق ہو؟ نفسِ الفاظ سے تعلق ہوتا ہے۔ وذلك بأن لا يكون الالفاظ مختلفة في الدلالة فيقع فيه الاشتباه فيما هو المراد۔ بایں طور کہ وہ الفاظ مختلف نہیں ہوتے دلالت کے اندر بھئی، دلالت کے اندر مختلف نہیں ہوتے، پس فيقع فيه الاشتباه اس میں اشتباہ واقع ہو جاتا ہے فيما هو المراد اس چیز کے اندر جو مراد ہوتی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ وذلك اور یہ جو ہے جس کا تعلق ذاتِ الفاظ سے ہے، بأن يكون الالفاظ مختلفة في الدلالة کہ اب وہ الفاظ جو ہیں مختلف ہوتے ہیں دلالت کے اندر، فيقع فيه الاشتباه پس اشتباہ واقع ہو جاتا ہے فيما هو المراد اس چیز کے اندر جو مراد ہوتی ہے۔ كالغلط الواقع بسبب كون اللفظ مشتركاً لفظياً بين معنيين او اكثر جیسے کہ وہ غلطی جو واقع ہوتی ہے بسبب كون اللفظ مشتركاً لفظياً بين معنيين او اكثر بوجہ لفظ کے مشترکِ لفظی ہونے کے دو معنی یا زیادہ کے درمیان۔ بھئی عدم التميز بين الشيء وشبهه، اس کی یہ تقسیم ہوتا ہے دو قسموں کی طرف۔ ایک وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے، ایک وہ جس کا تعلق معانی سے ہے۔ پھر جس کا تعلق الفاظ سے ہے، اس کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے لیکن ترکیب کے اعتبار سے نہیں۔ دوسری قسم وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہے اور کس اعتبار سے ہے؟ ترکیب کے اعتبار سے ہے، ترکیب کے اعتبار سے۔ پھر یہ جو پہلی قسم ہے، جس کا تعلق الفاظ سے ہے، ترکیب کے اعتبار سے نہیں بھئی، اس کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی وہ جس کا تعلق نفسِ الفاظ سے ہو۔ ترکیب سے تعلق نہیں، الفاظ سے ہے لیکن ترکیب سے تعلق نہیں۔ اس کی پھر دو قسمیں ہیں، پہلی قسم وہ جس کا نفسِ الفاظ سے تعلق ہوتا ہے بھئی، نفسِ الفاظ سے۔ آگے دوسری قسم آئے گی جس کا تعلق گردان سے ہو بھئی، کس سے ہو؟ گردان سے۔ تو پہلی جس کا تعلق نفسِ الفاظ سے ہو۔ اور وہ کس صورت میں؟ کہ الفاظ دلالت میں مختلف ہیں، صورت میں ایک جیسے ہیں۔ الفاظ دلالت میں مختلف ہیں اور صورت میں ایک جیسے ہیں۔ جیسے بھئی شیر کا لفظ ہے، شیر۔ شیر وہ جنگلی درندے کو بھی کہا جاتا ہے اور بہادر آدمی کو بھی بھئی۔ تو لفظ ایک ہی ہے اور یہی ایک لفظ کبھی دلالت کرتا ہے درندے پر، اور یہی لفظ کبھی دلالت کرتا ہے کس پر؟ بہادر آدمی پر بھی۔ تو دیکھو، تو یہ دلالت میں مختلف ہے۔ اس کی دلالت مختلف ہے، کبھی یہ درندے پر دلالت کرتا ہے اور کبھی بہادر آدمی پر دلالت کرتا ہے بھئی۔ یا جیسے عین کا لفظ بھئی، عین۔ عین کا لفظ عربی میں مختلف معانی کے لیے وضع کیا گیا ہے، کوئی 60 کے لگ بھگ اس کے معانی علماء ذکر کرتے ہیں بھئی۔ مثلاً عین سورج کو بھی کہتے ہیں، عین گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں، عین چشمے کو بھی کہتے ہیں، عین آنکھ کو بھی کہتے ہیں، وغیرہ بھئی، بہت معانی اس کے آتے ہیں۔ تو اب دیکھیے، یہ لفظِ عین کوئی استعمال کرے گا، تو وہاں پر اشتباہ واقع ہوگا بھئی کہ کون سا معنی اس کی مراد ہے بھئی۔ جیسے شیر کا لفظ بولا، اب کون سا معنی مراد ہے؟ درندہ مراد ہے اس سے یا بہادر آدمی مراد ہے؟ اس میں اشتباہ واقع ہوگا اور اس سے غلطی ہو جائے گی۔ عین کا لفظ بولا، اب اس سے کیا مراد ہے؟ چشمہ مراد ہے، گھٹنا مراد ہے کہ سورج مراد ہے؟ دیکھیے، الفاظ لفظ وہی ہے اور دلالتیں مختلف ہیں مولانا۔ کبھی ایک چیز پر دلالت کر رہا ہے، کبھی دوسری، اب کون سی چیز یہاں پر مراد ہے؟ تو اس کی وجہ سے کیا ہوتی ہے؟ غلطی واقع ہوتی ہے کیونکہ مراد کے اندر اشتباہ آ گیا، لفظ وہی ہے بھئی، ہر ایک کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنی ہے: كالغلط الواقع بسبب كون اللفظ مشتركاً لفظياً بين معنيين او اكثر بوجہ لفظ کے مشترکِ لفظی ہونے کے دو معنی یا زیادہ کے اندر کہ دو معنی یا زیادہ کے اندر وہ مشترکِ لفظی ہے۔ یعنی ہر ایک کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے۔ وكون احد معانيه حقيقياً والاخر مجازياً اور ایک معنی کا، دو معنی میں سے ایک کا حقیقی ہونا اور دوسرے کا مجازی ہونا۔ مثلاً شیر کا حقیقی معنی تو ہے درندہ بھئی، وہ چیرنے پھاڑنے والا جانور، اور مجازی معنی کیا ہے؟ بہادر آدمی۔ اب عین کے لفظ جو تھا، وہ تو وضع ہی اس کو سورج کے لیے بھی مقرر کیا گیا، وضع کیا گیا، اس کو گھٹنے کے لیے بھی وضع کیا گیا، اس کو چشمے کے لیے بھی وضع کیا گیا۔ ہر ہر معنی کے لیے اس کو الگ وضع کیا گیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو وہاں وضع کے اعتبار سے ہی فرق ہے، لہٰذا اس کو کہیں گے مشترک۔ کیا کہیں گے؟ مشترک۔ جبکہ شیر کا لفظ تو صرف جنگلی درندے ہی کے لیے وضع ہے، ہاں مجازاً ہم کبھی کس کے لیے استعمال کر لیتے ہیں؟ بہادر آدمی۔ تو بہادر آدمی کے لیے یہ وضع نہیں۔ تو شیر کے لیے یہ، شیر کا لفظ درندے کے لیے وضع ہے، تو جس معنی کے لیے وضع ہو، اسی میں استعمال کیا جائے، تو اس کو کہتے ہیں حقیقت۔ شیر کا لفظ میں بولوں اور اس سے کیا مراد لوں؟ میں نے جنگل میں ایک شیر دیکھا۔ شیر کا لفظ کس معنی میں میں نے استعمال کیا؟ درندے کے معنی میں، تو یہ لفظ اب کہلائے گا حقیقت۔ اپنے معنیٰ موضوع لہ میں ہی استعمال ہوا۔ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا، اسی میں استعمال ہو تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ حقیقت۔ اور اگر کسی دوسرے معنی میں استعمال ہو جس کے لیے اس کو وضع نہیں کیا گیا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجاز۔ مثلاً میں کہتا ہوں: میں نے شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی، تو یہ مجاز ہے بھئی۔ پہلے یہی شیر کا لفظ حقیقت تھا، اب کیا ہے؟ مجاز بھئی۔ تو مشترک اور الحقیقۃ المجاز کا پتہ چل گیا بھئی؟ مشترک کے لفظ کو ہر معنی کے لیے الگ الگ باقاعدہ وضع کیا گیا ہے۔ اور حقیقت اور مجاز کے اندر ایسا نہیں ہوتا۔ وضع تو مثلاً ایک معنی کے لیے ہے اور دوسرے معنی میں ویسے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ تو جس معنی کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، اگر اسی میں استعمال کرو تو یہ لفظ شیر کیا کہلائے گا؟ حقیقت۔ اور اگر اس کو معنی غیر موضوع لہ میں استعمال کیا جائے تو یہ کیا کہلائے گا؟ مجاز کہلائے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: وكون احد معانيه حقيقياً والاخر۔ 2 والآخر مجازياً، اور اس کے دو معانی میں سے ایک کا حقیقی ہونا اور دوسرے کا مجازی ہونے کی وجہ سے بھئی۔ ویندرج فیہ الاستعارۃ وامثالہا، اور اسی میں درج ہیں، اسی میں داخل ہیں استعارہ وامثالہا اور جو استعارے کے مثل ہیں یعنی کہ تشبیہ وغیرہ۔ وکل ذلک یسمی بالاشتراک اللفظی، اور ان میں سے ہر ایک کو اشتراکِ لفظی کہا جا سکتا ہے۔ کیا کہا جا سکتا ہے؟ اشتراکِ لفظی کہا جا سکتا ہے بھئی کہ ایک ہی لفظ کو کئی معانی کے لیے استعمال کیا جائے۔ کما تقول لعین الماء، جیسے آپ کہیں پانی کے چشمے کے بارے میں۔ کما تقول لعین الماء، جیسے کہ آپ پانی کے چشمے کے لیے کہیں ہذہ عین، دیکھیے قیاس دیکھیے۔ صغریٰ، کبریٰ آئے گا اور پھر نتیجہ نکالیں گے۔ پانی کے چشمے کی طرف اشارہ کر کے آپ نے کہا ہذہ عین، یہ کیا ہے؟ عین ہے۔ وکل عین یستضیء بہا العالم، اب یہاں پر جو عین آیا، آپ بتائیے اس کا کیا معنی ہو گا؟ ہر عین جو ہے یستضیء، استضاء کے معنی ہیں روشن ہونا۔ یستضیء بہا، روشن ہوتا ہے اس کے ذریعہ العالم، جہان۔ کیا مراد ہے؟ سورج، شاباش۔ تو دیکھو، وہی لفظ وہی ہے، صغریٰ میں بھی عین آیا، کبریٰ میں بھی عین آیا، لیکن صغریٰ میں عین کا کیا معنی تھا؟ چشمہ پانی کا، اور کبریٰ میں عین کا کیا معنی؟ سورج۔ تو لیکن لفظ وہی ہے جس کی وجہ سے دیکھو غلطی واقع ہو گی اور نتیجہ کیا نکلے گا؟ صغریٰ تو دیکھیں ہذہ عین، یہ عین ہے، وکل عین یستضیء بہا العالم، اور ہر عین کے ذریعہ جہان روشن ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فہذہ العين یستضیء بہا العالم، اس عین کے ذریعہ بھی عالم روشن ہوتا ہے۔ کس کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہے ہیں؟ چشمے، اس عین کے ذریعہ بھی عالم روشن ہوتا ہے۔ اب دیکھیے یہ نتیجہ غلط آیا اور اس غلطی کا سبب کیا ہے؟ عین کا لفظ، یہ اشتباہ جو ہے درمیان کیونکہ یہ ایک ہی لفظ مختلف معانی کے لیے وضع ہے بھئی، تو اس کی وجہ سے غلطی آئی۔ او تقول، یا آپ یوں کہیں: زید اسد، دیکھیے اب پھر قیاس بنائیں گے۔ زید اسد، زید شیر ہے۔ یہاں شیر کس معنی میں؟ بہادر آدمی۔ وکل اسد لہ مخالب، اور ہر شیر جو ہے اس کے پنجے ہوتے ہیں۔ مخالب، مخلب کی جمع ہے، پنجے کو کہتے ہیں۔ ہر شیر کے پنجے ہوتے ہیں۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فزید لہ مخالب، زید کے بھی پنجے ہیں۔ زید شیر ہے اور ہر شیر کے پنجے ہوتے ہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ زید کے بھی پنجے ہیں۔ تو دیکھیے یہاں پر بھی یہاں غلطی آئی اور غلطی کس وجہ سے آئی؟ کیونکہ اسد کا لفظ جیسے درندے کے لیے بولا جاتا ہے، اسی طرح بہادر آدمی کے لیے بھی۔ تو صغریٰ کے اندر جو اسد کا لفظ آیا تھا اس سے بہادر آدمی مراد تھا اور کبریٰ کے اندر جو اسد آیا، جس میں کہا گیا ہر شیر کے پنجے ہوتے ہیں، اس شیر سے کیا مراد تھا؟ درندہ مراد تھا، تو لہٰذا اس وجہ سے غلطی آئی۔ والغلط فی الأول کون لفظ العين مشترکاً لفظياً بین عین الماء والشمس، اور غلطی جو ہے پہلے میں، وہ لفظِ عین کا مشترکِ لفظی ہونا ہے پانی کے چشمے اور سورج کے درمیان۔ وفی الثاني کون اطلاق لفظ الأسد علی زید مجازياً وعلی الحیوان المفترس حقيقياً، اور دوسرے میں لفظِ اسد کا اطلاق ہونا زید پر مجازی طریقے پر اور حیوانِ مفترس پر حقیقی طر، مفترس چیرنے پھاڑنے والا، حیوانِ مفترس چیرنے پھاڑنے والے درندے پر حقیقی طور پر ہونے کی وجہ سے بھئی۔ اس کی وجہ سے غلطی آئی بھئی کہ ایک پر اطلاق آیا کس اعتبار سے؟ حقیقت کے اعتبار سے، اور دوسرے پر مجازاً بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی، آسان باتیں ہیں۔ دوبارہ تقسیم سنیں بھئی، کیا تقسیم پڑھی؟ کہ جس کی وجہ سے اشتباہ واقع ہوتا ہے شے اور مثلِ شے کے درمیان، فرق نہیں ہوتا دو چیزوں کے درمیان، اس کا اس کی وجہ کیا ہے؟ وہ تقسیم ہوتا ہے کتنی قسم کی طرف؟ دو قسم کی طرف۔ اول وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہو گا، ثانی جس کا تعلق معانی سے ہو گا۔ پھر وہ جس کا تعلق الفاظ سے ہو، وہ دو قسم پر ہے۔ پہلی قسم، جس کا تعلق الفاظ سے ہے لیکن ترکیب کے اعتبار سے نہیں ہے۔ دوسری قسم، جس کا تعلق الفاظ سے ہے اور کس اعتبار سے ہے؟ ترکیب کے اعتبار سے۔ پھر اس کے اندر جس کا تعلق الفاظ، ترکیب کے اعتبار سے نہیں ہے، اس کی دو قسمیں ہیں بھئی۔ یا تو اس کا تعلق کس سے ہو گا؟ نفسِ الفاظ سے، کس سے؟ نفسِ الفاظ ہی سے تعلق ہو گا۔ اب یہ دوسری قسم آ گئی: والثاني ما يتعلق بالالفاظ، اور وہ دوسری قسم جس کا تعلق الفاظ سے ہو گا، بسبب التصريف، کس کی وجہ سے؟ گردان کی وجہ سے۔ کاشتباہ الواقع في لفظ المختار، جیسے کہ وہ اشتباہ جو واقع ہوتا ہے لفظِ مختار میں۔ بھئی مختار، اختار اختار اختاراً فہو مختار، واختیر یختار اختاراً فذاک مختار، تو دیکھو اس میں فاعل بھی مختار، اس میں مفعول بھی مختار۔ تو اس کی وجہ سے اشتباہ آئے گا بھئی، کوئی اس میں فاعل ہو گا وہ سمجھے گا شاید اس میں مفعول ہے، یا اس میں مفعول ہو گا وہ سمجھے گا اس میں فاعل ہے، کیونکہ وزن دونوں کا ایک ہے۔ اگرچہ اصل دونوں کی الگ ہے۔ اس میں فاعل کی اصل کیا تھی؟ مختار کی؟ مختیِر، مُفْتَعِلٌ۔ اور پھر کیا، کون سا ضابطہ لگا؟ یا متحرک ماقبل فتحہ، اس کو کس سے بدل دیا گیا؟ الف سے بدل دیا گیا تو مختار ہوا۔ اور اس میں مفعول بھی مختار ہے، اس کی اصل کیا تھی؟ مختیَر، یہاں یا پر فتحہ تھا۔ پھر یا متحرک ماقبل فتحہ تھا، اس کو کس سے بدل دیا؟ الف سے۔ تو اس میں فاعل کی اصل ہوئی مختیِر، یا پر کسرہ، اور اس میں مفعول کی اصل کیا ہوئی؟ مختیَر۔ تو کہتے ہیں کاشتباہ الواقع في لفظ المختار، جیسے کہ وہ اشتباہ جو واقع ہو لفظِ مختار کے اندر۔ فانہ إذا کان بمعنی الفاعل، اس لیے کہ یہ لفظ جب فاعل کے معنی میں ہو، کان اصلہ مختیِراً بکسر الياء، تو اس کی اصل مختیِر ہو گی یا کے کسرہ کے ساتھ۔ وإذا کان بمعنی المفعول، اور جب یہ لفظ مفعول کے معنی میں ہو، کان اصلہ مختیَراً بفتحہا، اس کی پھر اصل کیا ہو گی؟ مختیَر ہو گی یا کے فتحہ کے ساتھ۔ او بسبب الإعجام والإعراب، یا اعجام و اعراب کی وجہ سے بھئی۔ کس کی وجہ سے؟ اعجام و اعراب کی وجہ سے ہو گا۔ اعجام، اعجم الکلام، اعجم الکلام کا معنی ہوتا ہے کلام کو بغیر نقطوں والا بنانا، بغیر نقطوں والا کلام لانا۔ بغیر نقطوں والے کلام کے، اور اعراب تو آپ جانتے ہیں بھئی، وہ حرکت آخر میں جو آتی ہے عامل کی وجہ سے۔ تو اعجام و اعراب کی وجہ سے غلطی واقع ہو گی۔ بھئی اس کا عطف ہے، یہ بسبب الإعجام والإعراب، اس کا عطف ہے بسبب التصريف پر بھئی۔ کس پر عطف ہے؟ تصریف۔ پہلی قسم جو ترکیب، جس کا تعلق الفاظ سے تھا اور ترکیب کی حیثیت سے نہیں، ترکیب کی حیثیت کے علاوہ کے اعتبار سے الفاظ سے تعلق تھا جس کا، اس کی دو قسمیں تھیں، پہلی قسم کیا تھی؟ جس کا تعلق نفسِ الفاظ سے ہو۔ دوسری قسم یہ ہے جس کا تعلق الفاظ سے ہے لیکن کس وجہ سے؟ گردان کی وجہ سے، او بسبب الإعجام، یا کس وجہ سے؟ اعجام یعنی نقطے نہ لگانے کی وجہ سے، والإعراب، اور کس وجہ سے؟ اعراب کی وجہ سے۔ بھئی اگر لفظ پر نقطے نہ لگے ہوں تو اس کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑ جائے گا۔ مثلاً الخیر کا لفظ ہے، وہ سمجھے گا شاید الخبر ہے۔ کیونکہ خا اور یا کے نقطے نہیں لگے ہوئے بھئی، خا اور یا کے نقطے نہ لگائیں، الخیر لکھیں بھئی، کوئی اس کو پڑھے گا الخبر ہے بھئی شاید، نقطے لگے ہی نہیں۔ دوسرا کہے گا نہیں الخیر ہے، تیسرا کہے گا نہیں الخبز ہے بھئی، تو دیکھیے نقطے نہ ہونے کی وجہ سے کس میں واقع ہو گیا انسان؟ غلطی میں واقع ہو گیا بھئی۔ اور کبھی اعراب کی وجہ سے غلطی ہو گی بھئی، جیسے غلام حسن، غلام حسن۔ اب دیکھیے غلام حسن پر اعراب نہیں پڑھا۔ میم کو بھی مثلاً ساکن کر دیا اور آخر کے نون کو بھی ساکن کر دیا، غلام حسن۔ اعراب پڑھتے تو پتہ چلتا۔ اگر دونوں پر رفع پڑھا جاتا، غلامٌ حسنٌ، تو یہ کیا بنتے؟ موصوف صفت، معنی کیا ہوتا؟ اچھا غلام، اچھا غلام، یا خوبصورت غلام۔ اور اگر اس کو اضافت کے ساتھ پڑھا جائے، غلامُ حسنٍ، پھر کیا ترجمہ ہو گا؟ حسن کا غلام، اس صورت میں حسن کسی کا نام ہے بھئی۔ تو اب اگر اعراب نہ پڑھا جائے پھر بھی نہیں پتہ لگے گا کہ کیا مراد ہے، کیا کہنا چاہتا ہے؟ یہ موصوف صفت ہے یا مضاف مضاف الیہ ہیں؟ یہ پتہ ہی نہیں چلے گا، کس وجہ سے نہیں چلا یہ پتہ؟ یہ اشتباہ کیوں آیا؟ اعراب نہ پڑھنے کی وجہ سے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ غلطی آئی لفظوں کی وجہ سے ہی اور اعراب کے اعتبار سے آئی۔ کما يقول القائل غلام حسن من غير إعراب، جیسے کہے کہنے والا غلام حسن بغیر اعراب کے، فيظن تارة تركيباً توصيفياً، تو کبھی گمان کیا جاتا ہے اس کو کہ یہ ترکیب کون سی ہے؟ ترکیبِ توصیفی ہے یعنی موصوف صفت ہیں۔ والأخری تركيباً إضافياً، اور دوسری مرتبہ گمان کیا جاتا ہے ترکیبِ اضافی، کہ یہ کون سی ترکیب ہے؟ ترکیبِ اضافی ہے یعنی ایک مضاف ہے اور دوسرا مضاف الیہ ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو خلاصہ بحث کیا ہوا؟ انہوں نے بتلایا غلطی کے اسباب جو ہیں ان کو باوجود کثرت کے دو چیزوں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ پہلی چیز غلط فہمی ہے اور وجہ یہ کہ انسان جو ہے وہ وہم کی تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے، وہم جو چیزیں اس کو دکھلاتا ہے ان کو حقیقت سمجھنے لگتا ہے، اتنا وہمی بن جاتا ہے انسان اتنا وہمی کہ حتیٰ کہ جھوٹے قضیوں کو بھی کیا سمجھنے لگتا ہے؟ بدیہی سمجھنے لگتا ہے۔ اور دوسری چیز کیا تھی؟ کہ وہ کواذب کا اشتباہ کس کے ساتھ آ جاتا ہے؟ صوادق کے ساتھ اشتباہ آ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑ جاتا ہے۔ بعض محققین نے کہا نہیں دو چیزیں بھی نہیں ہیں بلکہ دراصل ایک ہی چیز ہے بھئی جس کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑتا ہے، اور وہ کیا چیز؟ کہتے ہیں کہ شے اور شبہِ شے یعنی مثلِ شے کے درمیان امتیاز نہیں ہو پاتا بھئی۔ ایک ہوتی ہے شے، ایک مثلِ شے، تو دونوں الگ الگ ہیں لیکن چونکہ یہ اسی کے مثل ہوتی ہے انسان کو پتہ نہیں چلتا اور اس کو اشتباہ لگ جاتا ہے، اور اس اشتباہ کی وجہ سے وہ غلطی میں پڑ جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ پھر اس کے بعد تقسیم کی کہ وہ چیزیں جن کی وجہ سے اشتباہ واقع ہوتا ہے یہ جو عدمِ تمیز، یہ جو اشتباہ ہے شے اور مثلِ شے کے درمیان یہ تقسیم ہوتا ہے دو چیزوں کی طرف، ایک وہ جن کا تعلق الفاظ سے ہے، ایک وہ جن کا تعلق معانی سے ہے۔ پھر جن کا تعلق الفاظ سے ہے وہ یا پھر ترکیب کے اعتبار سے ہو گا یا غیرِ ترکیب کے اعتبار سے۔ پھر ترکیب کے غیرِ ترکیب کے اعتبار سے ہے تو پھر وہ دو قسم پر ہے، یا اس کا تعلق کس سے ہو گا؟ نفسِ الفاظ سے، یا اس کا تعلق گردان سے یا نقطوں سے یا اعراب سے ہو گا۔ نفسِ الفاظ سے اس کا تعلق کو مثلاً کہ ایک ہی لفظ اس کو کئی معانی کے لیے وضع کیا گیا ہو تو پتہ ہی نہیں چلے گا اس وقت کون سا معنی مراد ہے۔ یا ایک لفظ وضع تو ایک معنی کے لیے ہے لیکن استعمال دوسرے معنی میں بھی ہو جاتا ہے، تو اس لفظ کو بھی جب بولا جائے تو پتہ نہیں چلے گا کہ کون سا معنی مراد ہے۔ کہنے والا شیر کا لفظ بول رہا ہے اس کی کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی مراد ہے یا درندہ مراد ہے؟ جس کی وجہ سے غلطی میں پڑ جائے گا۔ یا گردان کی وجہ سے وہ غلطی ہو گی، یا کس کی وجہ سے؟ نقطے نہ لگانے کی وجہ سے، یا اعراب نہ پڑھنے کی وجہ سے انسان غلطی میں پڑے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 100 of 108