Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-097

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 55
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 97 1 فصل القياس الخطابي قياس مفيد للظن ومقدماته مقبولات مأخوذات ممن يحسن الظن فيهم كالأولياء والحكماء، وأما المأخوذات من الأنبياء عليهم وعلى نبينا الصلاة والسلام فليست من الخطابة۔ آج ہم قياس خطابی کے بارے میں پڑھیں گے بھئی۔ اور میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ یہ لفظ خطابی ہے، خا کے فتحہ کے ساتھ بھئی۔ اگرچہ عام مشہور خطابی خا کے کسرہ کے ساتھ ہے لیکن صحیح لفظ خا کے فتحہ کے ساتھ ہے، قياس خطابی۔ اور قياس آپ پڑھ چکے، دلیل کا نام ہے۔ کس چیز کا نام ہے؟ دلیل کا نام ہے۔ یاد رکھیے اسی قياس خطابی کو دلیل اقناعی بھی کہتے ہیں۔ قياس خطابی کو دلیل اقناعی، قاف دو نقطوں والا ہے بھئی، اقناعی۔ دليل اقناعي، دلیل اقناعی بھئی۔ تو یاد رکھیے دلیل اقناعی یا دلیل خطابی یہ ظنی ہوتی ہے یعنی قياس خطابی کیا ہوتا ہے؟ ظنی ہوتا ہے۔ یعنی ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ یقین کا فائدہ نہیں دیتا بلکہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ ظن آپ پڑھ چکے جس میں غالب گمان، غالب رائے اس کے صحیح ہونے کی ہوتی ہے، عقل اس کو قبول کرتی ہے لیکن دوسری جانب کا بھی کچھ نہ کچھ، دوسری جانب بھی ذہن کچھ نہ کچھ جاتا ہے بھئی۔ البتہ ایک طرف ذہن زیادہ جاتا ہے تو اس کو ظن کہتے ہیں اور جس جانب ذہن کم جا رہا ہے اس کو وهم کہتے ہیں اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ وهم جو ہے وہ تصور کے قبیل سے ہے۔ جبکہ ظن جو ہے یہ کس قبیل سے ہے؟ تصدیق کے قبیل سے ہے۔ اور آپ یہ پڑھ چکے ہیں کہ قياس کے جو مقدمات ہیں وہ تصدیق ہونے چاہئیں، تصور کے قبیل سے نہیں ہونے چاہئیں۔ تو قياس خطابی وہ ظنی ہوتا ہے یعنی ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی غالب گمان ان کے صحیح ہونے کا ہوتا ہے اگرچہ دوسری جانب کا بھی امکان ہوتا ہے، ذہن اس طرف بھی تھوڑا جاتا ہے لیکن زیادہ ذہن کس طرف جاتا ہے؟ ان کے صحیح ہونے کی طرف بھئی، تو یہ ظن کا فائدہ دیتے ہیں۔ اور یاد رکھیے قياس خطابی وہ ہے، وہ مقدمات ہیں جنہیں حسن ظن اور حسن رائے کی وجہ سے تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ قياس خطابی کے مقدمات وہ ایسے مقدمات ہوتے ہیں جنہیں حسن ظن اور حسن رائے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ عوام جو ہیں یہ خطابی دلائل کو زیادہ پسند کرتے ہیں بھئی۔ عوام، عوام خطابی دلیل کو زیادہ پسند کرتے ہیں، علمی دلائل کو عام طور پر سمجھنے سے ان کا ذہن قاصر ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اس طرح کی جو ظنی باتیں ہیں اور خطابی باتیں ہیں ان کو بہت پسند کرتے ہیں اور بڑی جلدی ان کو قبول کر لیتے ہیں بھئی۔ جبکہ علمی دلائل کو سمجھنے سے اکثر اذہان جو ہیں وہ قاصر ہوتے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو قياس خطابی جو ہے وہ مقدمات، ان مقدمات سے مرکب ہوتا ہے جنہیں حسن ظن اور رائے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور میں نے بتایا اسی قياس خطابی کو اقناعی بھی کہتے ہیں، اقناعی۔ اقناعی یہ قناعت سے ہے، قناعت سے۔ یعنی جس پر حسن ظن کی وجہ سے قناعت کر لی جائے، اکتفا کر لیا جائے۔ جس پر کیا کر لی جائے؟ قناعت کر لی جائے یعنی اکتفا کر لے، کافی سمجھ لے آدمی اس کو کہ یہ کافی ہے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ قناعت ہمیشہ تھوڑی چیز پر ہوتی ہے۔ قناعت کس پر ہوتی ہے؟ تھوڑی چیز پر قناعت ہوا کرتی ہے بھئی۔ تھوڑی چیز ہو اور اس پر آدمی مطمئن ہو تو اس کو قناعت کہتے ہیں۔ تو یہ بھی اقناعی ہے مولانا۔ غالب گمان ہے ان کے صحیح ہونے کا، تو اس سے عوام کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں، وہ اس کو تسلیم کر لیتے ہیں، اس کے قائل ہو جاتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ اچھا تو یہ جو دلیل خطابی ہے، یہ جو قياس خطابی جو ہے، یہ عموماً اس میں عادی باتیں ہوتی ہیں۔ عادی عادت سے ہے۔ اس میں عموماً کس قسم کی باتیں ہیں؟ عادی باتیں ہوتی ہیں۔ اور عادی باتیں وہ ہیں جو عام عادت میں پسند کی جاتی ہیں، عام عادت میں ان کو تسلیم کر لیا جاتا ہے، عام لوگ کیا کر لیتے ہیں، کیا کرتے ہیں اس کو؟ عادی باتیں جنہیں عام لوگ عادت میں، عرف میں اس کو قبول کر لیتے ہیں، اس کو تسلیم کر لیتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ قياس خطابی وہ کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ ظن کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ غالب گمان اس کے صحیح ہونے کا ہی ہوتا ہے بھئی کہ یہ صحیح ہوں گی باتیں۔ تو یہ وہ مقدمات ہیں جنہیں حسن ظن اور حسن رائے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور یہ عادی باتیں ہوتی ہیں۔ اور عادی وہ باتیں جنہیں عادتاً تسلیم کر لیا جاتا ہے، لوگ انہیں مان لیتے ہیں اگرچہ وہ یقینی نہ ہوں بھئی۔ اگرچہ وہ یقینی نہ ہوں بھئی، ظنی ہوں۔ تو یہ عادی باتیں ہیں۔ مثلاً عادتیں مختلف ہوتی ہیں بھئی۔ کسی کو پان پسند ہوگا، کسی کو پان پسند نہیں ہے۔ کسی کو چائے پسند ہے، کسی کو چائے پسند نہیں ہے۔ تو عادی باتیں اکثری ہوتی ہیں، کلی نہیں ہوتیں۔ جبکہ اس کے مقابلے میں عقلی بات جو ہوتی ہے وہ کلی ہوتی ہے۔ عقلی بات کیا ہوتی ہے؟ عقلی بات کوئی قانون کلی پر مشتمل ہوگی جبکہ اس میں جو باتیں ذکر ہوں گی وہ حسن ظن کا فائدہ دیں گی اور اکثر اس کو قبول کر لیتے ہیں، اکثری باتیں ہوں گی بھئی۔ تو حاصل یہ ہوا کہ امور دو قسم پر ہیں۔ یا تو وہ عقلی ہوتے ہیں یا عادی بھئی۔ یا عقلی ہوں گے یا عادی۔ عقلی وہ جو قانون کلی پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ عادی جو وہ باتیں جو اکثری ہوتی ہیں، اکثری ہوتی ہیں۔ اور عقلی بات کے خلاف نہیں ہو سکتا جبکہ عادی بات کے خلاف ہو سکتا ہے۔ عقلی قانون کلی پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ عادی قانون کلی پر نہیں بلکہ اکثری باتیں ہوتی ہیں اور عقلی بات کے خلاف نہیں ہو سکتا جبکہ عادی بات کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے بھئی۔ البتہ یہ اکثریت ہیں لیکن ان کے خلاف بھی ہوتا رہتا ہے۔ جبکہ عقلی بات کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ مثلاً انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ کوئی انسان ہو اور حیوان ناطق نہ ہو کیونکہ یہ عقلی بات ہے اور عقلی بات کے خلاف نہیں ہوتا جبکہ امور عادیہ کی مخالفت ہوتی رہتی ہے۔ تو تین فرق بیان کیے میں نے بھئی۔ امور عقلیہ یقینی ہوتے ہیں جبکہ امور عادیہ یقینی نہیں ہوتے بلکہ ظنی ہوتے ہیں۔ اور امور عقلیہ جو ہیں وہ قانون کلی پر مشتمل ہوتے ہیں جبکہ ظنی باتیں جو ہیں وہ اکثری ہوتی ہیں۔ امور عقلیہ کی مخالفت نہیں ہوتی جبکہ امور عادیہ کی مخالفت ہوتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ قياس خطابی ہے، یہ ظن کا فائدہ دیتا ہے اور لوگ حسن ظن کی وجہ سے اس کو قبول کر لیا کرتے ہیں۔ یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ پھر یاد رکھیے، قياس خطابی جن مقدمات سے مرکب ہوتا ہے وہ دو قسم کے ہیں۔ یا وہ مقبولات ہوں گے یا وہ مظنونات ہوں گے۔ قياس خطابی کتنی قسم کے مقدمات سے مرکب ہوتا ہے؟ دو قسم کے مقدمات سے مرکب ہوتا ہے۔ کچھ کو مقبولات کہتے ہیں اور دوسری قسم ہے مظنونات بھئی، ظن سے مظنونات بھئی۔ مقبولات وہ مقدمات، وہ باتیں جن کو حسن ظن اور حسن اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ مقبولات وہ مقدمات ہیں بھئی، دو قسم کے مقدمات ہو سکتے ہیں نہ اس میں، مقبولات بھی اور مظنونات بھی۔ مقبولات وہ مقدمات، وہ باتیں جن کو حسن ظن اور حسن اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ کسی کے بارے میں انسان اچھا اعتقاد رکھتا ہے تو اس کی باتوں کو قبول کر لیتا ہے۔ اور پھر یہ اچھا اعتقاد رکھنا، اچھا سمجھنا یا تو تائید غیبی کی وجہ سے ہوگا کہ وہ شخص جو ہے اس کی اللہ کی طرف سے اس کی مدد کی جاتی ہے، جیسے اولیاء اللہ بھئی۔ ان سے بعض اوقات کراماتوں کا صدور ہوتا ہے، وہ کرامتیں دیکھتے ہیں لوگ بھئی، پتہ چلتا ہے کہ ان کے ساتھ اللہ کی مدد ہے۔ تو اس وجہ سے اولیاء اللہ کی باتوں کو لوگ ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں، اچھا گمان رکھتے ہیں کہ یہ باتیں اسی طرح ہوں گی، ان کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ قياس خطابی کے مقدمات مقبولات میں سے بھی ہو سکتے ہیں اور مظنونات۔ مقبولات کون سے ہیں؟ جن کو حسن ظن اور حسن رائے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے یعنی ذہن ان لوگوں کے بارے میں اچھا اعتقاد رکھتا ہے، اس لیے ان کی باتیں قبول کر لیتا ہے۔ اور یہ اچھا اعتقاد رکھنے کی وجہ کئی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ ایک صورت میں نے ذکر کر دی مثلاً ان کے ساتھ تائید غیبی ہوتی ہے، اللہ کی طرف سے ان کی مدد ہوتی ہے، ان سے کراماتوں کا صدور ہوتا ہے، جیسے اولیاء اللہ ہیں تو لوگ ان کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں بھئی۔ غالب گمان ان کا یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کی ہے تو یہ بات برحق ہوگی، درست ہوگی۔ یا کسی کے تقویٰ کی وجہ سے اور دین داری کی وجہ سے بعض اوقات لوگ اس کے بارے میں اچھا گمان کرنے لگتے ہیں، چنانچہ اس کی باتوں کو قبول کرتے ہیں، اس کے بارے میں اچھا اعتقاد رکھتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا بعض اوقات کسی کی عقل زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کے بارے میں اچھا اعتقاد رکھتے ہیں جیسے حکماء وغیرہ بھئی۔ ان کی عقل زیادہ ہوتی ہے، سمجھداری ان میں زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگ ان کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں اور ان کی باتوں کو قبول کر لیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو دو قسم کے مقدمات ہوئے، ایک مقبولات اور ایک مظنونات۔ مقبولات وہ جن کو حسن ظن اور حسن اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جائے اور اس کی کئی وجہیں ہو سکتی ہیں، یا تو تائید غیبی ان کے ساتھ ہوتی ہے اس لیے ان کی باتیں قبول کر لی جاتی ہیں یا وہ دین داری ان میں زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کی باتیں قبول کر لی جاتی ہیں یا ان کی سمجھ اور عقل زیادہ ہوتی ہے اس لیے ان کی باتیں قبول کر لی جاتی ہیں۔ یہاں بعض لوگوں نے، بعض علماء نے انبیاء کی باتوں کو بھی قياس خطابی کے اندر شامل کیا۔ مصنف بتلائیں گے کہ جنہوں نے ایسا کیا درست نہیں کیا۔ انبیاء کی باتیں ان میں زیادہ گمان صحیح ہونے کا نہیں بلکہ وہ تو عینِ یقین ہے بھئی۔ ان میں تو کسی قسم کے شک و شبہے کی گنجائش نہیں حالانکہ قياس خطابی تو ظن کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا، تو انبیاء کی باتیں بھی یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ ان کو وہ تو جو کچھ کہتے ہیں اللہ کی طرف سے وحی کے ذریعے ان کو بتلایا جاتا ہے، تو ان کی باتوں میں کسی قسم کی غلطی کا امکان ہے ہی نہیں۔ ظن میں تو یہ تھا نہ کہ ایک زیادہ گمان صحیح ہونے کا ہوتا ہے اور دوسری جانب کا بھی کچھ نہ کچھ ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ شاید درست نہ ہو حالانکہ انبیاء کی باتیں ایسی نہیں، ان میں غلطی کا امکان نہیں بھئی۔ تو انبیاء کی باتوں کو خطابی میں داخل کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ وہ ساری باتیں جو انبیاء بتلائیں وہ برحق ہیں، وہ یقین کا فائدہ دیتی ہیں بھئی، یقین کا فائدہ دیتی ہیں۔ وہ برہانِ قطعی ہیں مولانا، جیسے برہان یقین کا فائدہ دیتی ہے تو انبیاء کی باتیں بھی برہانِ قطعی ہیں، وہ یقین کا فائدہ دیتی ہیں، وبلاشبہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں، کوئی امکان نہیں۔ فلہٰذا انبیاء کی باتوں کو قياس خطابی کے اندر داخل کرنا، یہ جو بعض علماء نے کیا، بڑی غلطی ہے، ان کو اس میں داخل نہیں کرنا چاہیے۔ وہ برہان میں داخل ہیں جو یقین کا فائدہ دیتی ہیں بھئی۔ یہ ایک قسم تھی مقبولات جن کو حسن ظن اور حسن اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے اور یہی تقلید بھی ہے مولانا۔ یہی کیا ہے؟ آپ نے پڑھا تھا یا نہیں؟ ایک قسم ہے تصدیق کی جس کا نام تقلید ہے۔ کیا نام تھا؟ تقلید، اصل میں کہتے ہیں کہ دوسرے کی بات ماننا، اس کی بات پر چلنا، یہ کیا ہے؟ یہ تقلید ہے۔ جیسے ہم فروع کے اندر، یعنی عملی مسائل کے اندر جو عمل سے متعلق ہیں ہمارے افعال وغیرہ، ہم اس میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہیں۔ تقلید سمجھا رہا ہوں آپ کو، صورت سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یہ منطقی تقلید نہیں۔ منطقی تقلید مطلقاً کسی کی بات ماننا۔ مطلقاً کسی کی بات انسان مان لے، یہ کیا ہے؟ تقلید ہے، تقلید ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور جو آپ نے پڑھا، تشکیکِ تشکیک سے زائل ہو جاتا ہے۔ مثلاً بھئی، آپ سے کسی نے کہا زید آ گیا ہے، آپ نے تسلیم کر لیا بھئی۔ تسلیم کر لیا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تقلید، منطقی تقلید کی بات کر رہا ہوں۔ وہ دوسری تقلید جو ہے وہ میں نے بطورِ مثال کے سمجھایا ہے کہ جیسے ہم وہاں تقلید کرتے ہیں امام صاحب کی بات مانتے ہیں، مانا ہوا ہے، تو اسی طرح کوئی بھی آپ کو کوئی بات بتلائے اور آپ وہ اس کی بات مان لیں، تو یہ وہ منطقی تقلید ہے کہ آپ نے اس کی بات مان لی اور یقین بھی ہے اس میں۔ اور لیکن لیکن اگر کوئی شک ڈالے، کوئی دلیل ذکر کرے تو یہ آپ کا یقین ختم ہو جائے گا۔ وہ کہے گا زید تو نہیں آیا بھئی، میں کوئی دلیل ذکر کر دے بھئی کہ میں دیکھ آیا ہوں یا میں نے فلاں جگہ اس کو تو دیکھا ہے، تو اب آپ کا وہ جو یقین تھا وہ ختم ہوا، ٹوٹ گیا بھئی حالانکہ پہلے یقین تھا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ پہلی قسم تھی جی مقبولات بھئی، مقبولات۔ دوسری قسم ہے مظنونات بھئی۔ مظنونات ظن سے ہے، وہ باتیں جن کا غالب گمان ہو صحیح ہونے کا۔ مقبولات میں تو دوسروں کی بات حسنِ رائے اور حسنِ اعتقاد کی وجہ سے ان کو قبول کیا۔ مظنونات خود آپ کی عقل کسی بات کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے اور یقین تو حاصل نہیں ہوتا، غالب گمان یہی حاصل ہوتا ہے کہ یہ بات درست ہے بھئی۔ خود آپ 2 یہ عقل کسی بات کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے، اور غالب گمان اس کا یہی ہوتا ہے کہ یہ بات کسی طرح ہے۔ مثلاً بھئی لوگ کاروبار کرتے ہیں مختلف قسم کے۔ ایک آدمی نے سوچا یا اپنے ساتھی سے بھی مشورہ کیا کہ بھئی فلاں کاروبار جو ہے نا اس میں نفع ہوتا ہے۔ فلاں کاروبار والے نفع کما رہے ہیں، اس میں نفع ہوتا ہے۔ اور جو نفع جس میں ہو اس کو تو اختیار کرنا چاہیے، مجھے بھی یہ کاروبار اختیار کرنا چاہیے۔ اب دیکھو! یہ اس کے ذہن نے فیصلہ کیا۔ اور کوئی یہ بات یقینی ہے کہ اس کو اس کاروبار میں نفع ہی ہو؟ یقینی تو نہیں۔ چنانچہ آپ دیکھتے ہیں، بہت سے لوگ نئے کاروبار میں قدم رکھتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں بھئی۔ لیکن اولاً ان کے ذہن نے کیا بتلایا تھا ان کو؟ کہ اس میں نفع ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ظنی باتیں ہیں، یہ مظنونات ہیں مولانا! یا اسی طرح جیسے کوئی شخص کہتا ہے کہ بھئی فلاں رات کو پھرتا ہے گلیوں میں، اور جو رات کو گلیوں میں پھرتا ہے، وہ تو چور ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فلاں چور ہے۔ حالانکہ یہ یقینی تو نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ چوکیدار ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ قیاسِ خطابی بھی ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں بھئی آسمان پر بادل ہیں، اور جب بادل ہوتے ہیں تو بارش ہوتی ہے۔ معلوم ہوا اب بارش ہوگی۔ حالانکہ یہ یقینی بات تو نہیں۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں، آج 29 تاریخ ہے، 29 تاریخ کو چاند نظر آتا ہے، اس کا مطلب ہے آج چاند نظر آئے گا۔ حالانکہ یہ کوئی یقینی بات ہے؟ نہیں۔ تو یہ مظنونات، ظنی باتیں ہوتی ہیں۔ عقل کا غالب گمان ان کے صحیح ہونے کا ہوتا ہے، یہ مظنونات ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ قیاسِ خطابی جو ہے، وہ ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ اور یہ دو قسم، یہ دو قسم پر ہو سکتا ہے بھئی۔ اس کے مقدمات دو قسم کے ہو سکتے ہیں، مقبولات بھی ہو سکتے ہیں اور مظنونات۔ مقبولات وہ باتیں جن کو حسنِ ظن اور حسنِ اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور مظنونات وہ جن کے بارے میں عقل خود کیا کرتی ہے؟ کسی بات کے بارے میں عقل فیصلہ کرتی ہے اور غالب گمان اس کے صحیح ہونے کا ہو عقل کو، اگرچہ دوسری جانب کا بھی احتمال ہو کہ ہو سکتا ہے یہ درست نہ ہو بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور اس کا قیاسِ خطابی کا فائدہ بہت زیادہ ہے بھئی۔ کیونکہ میں نے بتلایا عوام ان کو بڑا پسند کرتے ہیں اور ان کو بڑی جلدی تسلیم کر لیا کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ دیکھتے بھی ہیں کہ بزرگوں کے اقوال اور ملفوظات کو نقل کیا جاتا ہے، جمع کیا جاتا ہے، لوگ جمع کرتے ہیں ان کو۔ حکماء کی باتوں کو لوگ جمع کرتے ہیں، ان کو لکھتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ جو ہیں، یہ لوگوں کو اس سے بڑا نفع ہوتا ہے۔ اور خطیبوں کو بھی آپ دیکھتے ہیں بھئی، کبھی ایک بزرگ کا واقعہ سناتے ہیں، کبھی دوسرے بزرگ کا واقعہ سناتے ہیں، کبھی ایک عاقل سمجھدار کی باتیں سناتے ہیں، کبھی دوسرے سمجھدار کی باتیں، کیوں سناتے ہیں یہ باتیں؟ اسی کیونکہ لوگ ان کو بڑی جلدی قبول کر لیتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ساری جو ہیں، یہ قیاسِ خطابی ہے مولانا! اور اس کی وجہ سے دنیا کا نظام اور امورِ آخرت کے بارے میں لوگوں کو سدھارنے میں بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ تو یہ جو خطیبانہ باتیں ہیں، یہ اکثر اسی میں داخل ہیں، کیونکہ لوگ علمی باتوں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ لیکن جب ان کو یہ پتہ چلے کہ فلاں بزرگ نے یوں کہا ہے، فوراً تسلیم کر لیتے ہیں، جب انہوں نے کہا ہے تو پھر اسی طرح ہوگا۔ اس کے بجائے اگر آپ علمی دلیل دینا شروع کریں گے تو تسلیم ہی نہیں کریں گے وہ، کیونکہ عقل ان تک، اس تک پہنچتی ہی نہیں ہے ان کی۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ قیاسِ خطابی کا بہت زیادہ فائدہ ہے، بہت زیادہ فائدہ ہے۔ اس کے ذریعے دنیاوی امور بھی درست ہوتے ہیں لوگوں کے، لوگوں کو پتہ لگتا ہے یہ کام کرنے والا ہے تو وہ اس کو کرتے ہیں، ان کو بتایا جاتا ہے یہ کام چھوڑنے والا ہے، کیونکہ بزرگوں نے اس سے منع فرمایا یا سمجھدار اور حکیم لوگوں نے اس سے کرنے سے منع فرمایا ہے، تو وہ لوگ اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اور اس طرح دنیا کا نظام صحیح چلتا ہے۔ اسی طرح آخرت کی باتوں میں بھی ان کو بتلایا جاتا ہے کہ یہ یہ کام کرو گے تو اس کے اندر آخرت میں فائدہ ہے۔ اس بارے میں فلاں بزرگ یوں فرماتے ہیں، ان کا یہ واقعہ ہے، اس طرح کا واقعہ ہے، چنانچہ لوگ پھر اس بات، ان باتوں کو جن کو اختیار کرنا چاہیے، اختیار کرتے ہیں۔ اور کچھ باتیں جن کے بارے میں بتلایا جاتا ہے کہ اگر یہ کام کرو گے تو اس سے آخرت میں یہ یہ نقصان ہوگا، فلاں نقصان ہوگا، چنانچہ لوگ ان کو کیا کر دیتے ہیں؟ چھوڑ دیتے ہیں۔ تو لہٰذا اس قیاسِ خطابی کا بہت بڑا فائدہ ہے، اس کے ذریعے امورِ دنیا بھی صحیح ہوتے ہیں اور لوگوں کی آخرت بھی سدھرتی ہے، تو لہٰذا بہت ہی نفع والی چیز ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے قیاسِ خطابی بھئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔ فَصْلٌ: أَیْ هٰذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ اَلْقِیَاسُ الْخَطَابِیُّ قِیَاسٌ مُفِیْدٌ لِلظَّنِّ۔ قیاسِ خطابی وہ قیاس ہے مُفِیْدٌ لِلظَّنِّ جو ظن کا فائدہ دے۔ قیاسِ خطابی ایسا قیاس ہے جو ظن کا فائدہ دیتا ہے۔ وَمُقَدَّمَاتُہٗ مَقْبُوْلَاتٌ، اور اس کے مقدمات یا تو کیا ہوں گے؟ مقبولات۔ میں نے کیا بتلایا؟ کون کون سے کیا مقدمات ہو سکتے ہیں؟ مقبولات بھی ہو سکتے ہیں اور مظنونات۔ مظنونات بھی ایک دو سطروں کے بعد آگے آئے گا بھئی، ابھی صرف مقبولات پر بات کریں گے۔ تو اس کے مقدمات یا تو ایسے مقبولات ہوں گے مَأْخُوْذَاتٌ جو لیے گئے ہوں، جو حاصل کیے گئے ہوں مِمَّنْ ان لوگوں سے یَحْسُنُ الظَّنُّ فِیْہِمْ، یا یُحْسَنُ الظَّنُّ فِیْہِمْ۔ مِمَّنْ ان لوگوں سے لیے گئے ہوں یُحْسَنُ الظَّنُّ فِیْہِمْ جن میں، جن کے بارے میں اچھا گمان کیا جاتا ہے، یا یَحْسُنُ الظَّنُّ جن کے بارے میں اچھا گمان ہوتا ہے بھئی، جن کے بارے میں اچھا گمان ہوتا ہے۔ تو یَحْسُنُ بھی پڑھ سکتے ہیں، یُحْسَنُ بھی پڑھ سکتے ہیں بھئی۔ جو وہ قیاسِ خطابی جو ہے، یہ ظن کا فائدہ دیتا ہے اور اس کے مقدمات یا تو مقبولات ہوں گے جو لیے گئے ہوں گے مِمَّنْ یُحْسَنُ الظَّنُّ فِیْہِمْ جن کے بارے میں اچھا گمان کیا جاتا ہے، كَالْأَوْلِیَاءِ وَالْحُكَمَاءِ، جیسے اولیاء اور حکماء بھئی۔ وَأَمَّا الْمَأْخُوْذَاتُ مِنَ الْأَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمْ وَعَلٰى نَبِیِّنَا الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ، اور باقی وہ باتیں جو لی گئی ہوں انبیاء علیہ الصلاة والسلام سے، انبیاء، انبیاء سے لی گئی ہوں علیہم ان انبیاء پر وَعَلٰى نَبِیِّنَا اور ہمارے نبی پر الصلاة والسلام، صلاة اور سلام ہو۔ تو وہ باتیں جو انبیاء سے لی گئی ہوں، فَلَیْسَتْ مِنَ الْخَطَابَةِ، وہ خطابت میں سے نہیں ہیں۔ لِأَنَّہَا أَخْبَارٌ صَادِقَةٌ مِنْ مُخْبِرٍ صَادِقٍ، اس لیے کیونکہ وہ سچی خبریں ہیں، أَخْبَارٌ صَادِقَةٌ وہ سچی خبریں ہیں مِنْ مُخْبِرٍ صَادِقٍ سچی خبر دینے والے کی طرف سے۔ وہ سچی خبریں ہیں سچی خبر دینے والے کی، وہ انبیاء تو مخبرِ صادق ہیں بھئی، تو سچی خبریں ہیں سچے خبر دینے والے کی جانب سے دَلَّ عَلٰى صِدْقِہِ الْمُعْجِزَةُ، کہ دلالت کرتا ہے اس کے، ان کے سچا ہونے پر الْمُعْجِزَةُ، کیا دلالت کرتا ہے؟ معجزات، انبیاء کے معجزات ان کے سچا ہونے پر دلالت کرتے ہیں بھئی، انبیاء کے معجزات۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ وَلَا مَجَالَ لِلْوَہْمِ فِیْہَا، اور ان باتوں میں وہم کا کی مجال بھی نہیں، یعنی وہم وہاں آ ہی نہیں سکتا۔ ان کی باتوں میں وہم کا، وہم کس کو کہتے تھے؟ جانبِ مخالف کا بھی کچھ نہ کچھ خیال آ جائے، ایک جانب راجح ہو تو وہ ظن ہوتا تھا اور جانبِ مخالف کیا ہوتی تھی جس کا کم خیال ہوتا تھا؟ اسے وہم کہتے تھے۔ تو انبیاء کی باتوں میں وہم آ ہی نہیں سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا مَجَالَ لِلْوَہْمِ فِیْہَا، ان میں وہم آ ہی نہیں سکتا، حَتّٰى یَتَطَرَّقَ إِلَیْہِ الْخَطَأُ وَالْخَلَلُ، یہاں تک کہ پہنچ جائے ان کی طرف الخطأ والخلل، غلطی اور خلل۔ ان میں وہم آ ہی نہیں سکتا، وہ یقین کا فائدہ دیتے ہیں۔ یقین کا فائدہ دیتے ہیں بھئی۔ اگر وہ ظن کا فائدہ دیتے، یقین کا فائدہ نہ دیتے تو ظن میں تو غالب گمان صحیح ہونے کا ہوتا ہے، لیکن کچھ نہ کچھ گمان غلطی کا بھی ہوتا ہے۔ تو اگر وہ وہم کا فائدہ دیتے تو پھر تو ان میں غلطی اور خلل کے آنے کا امکان تھا، لیکن جب وہ ظن کا فائدہ ہی نہیں دیتے، وہ تو یقین کا فائدہ دیتے ہیں تو وہاں پر وہم نہیں آ سکتا، یعنی کہ غلطی اور وہم نہیں آ سکتے وہاں پر۔ دوبارہ دیکھیے: لِأَنَّہَا أَخْبَارٌ صَادِقَةٌ مِنْ مُخْبِرٍ صَادِقٍ دَلَّ عَلٰى صِدْقِہِ الْمُعْجِزَةُ وَلَا مَجَالَ لِلْوَہْمِ فِیْہَا حَتّٰى یَتَطَرَّقَ إِلَیْہِ الْخَطَأُ وَالْخَلَلُ، اس لیے کیونکہ وہ جو انبیاء سے لی گئی باتیں ہیں، وہ ایسی سچی خبریں ہیں جو سچے خبر دینے والے کی طرف سے ہیں، دلالت کرتا ہے معجزہ ان کے سچ پر، اور اس میں وہم کا کوئی مجال نہیں ہوتا یہاں تک کہ پہنچے اس میں غلطی اور خلل۔ فَالْقِیَاسُ الْمُرَكَّبُ مِنْہَا بُرْہَانِیٌّ قَطْعِیُّ الْمُقَدَّمَاتِ، پس قیاس، وہ قیاس جو مرکب ہو ان انبیاء کی باتوں سے، بُرْہَانِیٌّ قَطْعِیُّ الْمُقَدَّمَاتِ، وہ کس قسم کا قیاس ہوتا ہے؟ برہانی ہوتا ہے اور اس کے مقدمات قطعی ہوتے ہیں۔ أَوْ مَظْنُوْنَاتٌ، جی یہ آ گیا مظنونات بھئی۔ پہلی قسم کیا تھی قیاسِ خطابی کے مقدمات کی؟ مقبولات۔ تو یہ أَوْ مَظْنُوْنَاتٌ کا عطف اسی مقبولات پر ہے۔ تو کہتے ہیں: أَوْ مَظْنُوْنَاتٌ، یا اس قیاسِ خطابی کے مقدمات مظنونات ہوں گے یُحْكَمُ فِیْہَا بِسَبَبِ الرُّجْحَانِ، جس میں حکم لگایا جائے بِسَبَبِ الرُّجْحَانِ راجح ہونے کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ راجح ہونے کی وجہ سے، یعنی زیادہ خیال ان کے صحیح ہونے کا ہوتا ہے، وہ راجح ہوتی ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ رجحان کے راجح ہونا بھئی، ایک چیز دوسری کے مقابلے میں راجح ہوتی ہے، یوں کہیں وزنی ہوتی ہے۔ ایک بات کیا ہوتی ہے دوسری کے مقابلے میں وزنی ہوگی تو وہ راجح ہو گئی، ذہن اس کی طرف چلا جاتا ہے۔ یہی ظن، ظن بھئی۔ مَظْنُوْنَاتٌ یُحْكَمُ فِیْہَا بِسَبَبِ الرُّجْحَانِ، کہ جن میں حکم لگایا جاتا ہے، یا یوں کہیں یَحْكُمُ فِیْہَا، عقل ان میں حکم لگاتی ہے بھئی، کیا کرتی ہے؟ یَحْكُمُ فِیْہَا بِسَبَبِ الرُّجْحَانِ، عقل ان میں حکم لگا دیتی ہے راجح ہونے کی وجہ سے کہ یہ راجح ہوتے ہیں۔ وَیَنْدَرِجُ فِیْہَا الْحَدْسِیَّاتُ وَالتَّجْرِیْبِیَّاتُ وَالْمُتَوَاتِرَاتُ الَّتِیْ لَمْ تَبْلُغْ إِلٰى حَدِّ الْجَزْمِ، اور درج ہیں اسی کے اندر، اسی میں درج ہیں یعنی داخل ہیں الحدسیات، حدسیات بھی، والتجربیات، اور تجربیات بھی، والمتواترات التي لم تبلغ إلى حد الجزم، اور وہ متواترات بھی جو یقین کی حد تک نہیں پہنچے۔ آپ نے پڑھا تھا بھئی کہ بدیہیات چھ قسم پر ہیں: اولیات، فطریات، حدسیات اور مشاہدات، تجربیات اور متواترات۔ ان میں سے جو حدسیات، تجربیات اور وہ متواترات بھئی جو حدِ جزم کو نہیں پہنچے، وہ بھی انہی میں داخل ہیں۔ متواترات آپ نے پڑھا تھا نا جس کی خبر دینے والے بہت سے لوگ ہوں اور اتنے خبر دینے والے ہوں کہ انسان کو یقین ہو جائے کہ یہ بات قطعی طور پر ایسی ہے، اس میں کسی قسم کا شک اور شبہ نہیں۔ جیسے آپ نے امریکہ دیکھا نہیں، لیکن بتانے والے لوگ اتنے زیادہ ہیں کہ آپ کو اسی طرح یقین حاصل ہے جیسے خود دیکھا ہو۔ یہ یقین کہاں سے آیا؟ یہ اتنے لوگوں سے سننے کی وجہ سے آیا بھئی۔ تو یہ متواترات ہیں۔ البتہ وہ متواترات جو اس حد تک نہیں پہنچے، یعنی بتلانے والے زیادہ تو ہیں، لیکن اتنے زیادہ نہیں ہیں کہ یقین تک پہنچ جائے بات، تو وہ بھی اسی قیاسِ خطابی میں داخل ہو جائیں گے، مظنونات میں داخل ہوں گے۔ کس کے اندر؟ وہ مظنونات میں داخل ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو وَیَنْدَرِجُ فِیْہَا الْحَدْسِیَّاتُ وَالتَّجْرِیْبِیَّاتُ وَالْمُتَوَاتِرَاتُ الَّتِیْ لَمْ تَبْلُغْ إِلٰى حَدِّ الْجَزْمِ، اور داخل ہیں اسی کے اندر حدسیات بھی، اور تجربیات بھی، اور وہ متواترات بھی جو نہیں پہنچے یقین کی حد تک۔ بھئی، یقین کی حد تک کیوں نہیں پہنچے؟ وجہ ذکر کر رہے ہیں: بِسَبَبِ عَدَمِ شُعُوْرِ الْعِلَّةِ، بوجہ علت کی خبر نہ ہونے کے۔ شعور، خبر کے معنی میں۔ علت کا شعور نہیں ہے، یعنی علت کی خبر نہیں ہوتی۔ بھئی، ایک بات کی علت کا پتہ ہو پھر تو بات یقینی ہے۔ مثلاً دن کے ہونے کی علت کیا ہے، سبب کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ تو جب علت کا پتہ ہے تو پھر کوئی شک و شبہ نہیں، جب سورج نکلا ہوگا دن ہے، سورج نہیں تو دن بھی نہیں۔ لیکن بعض اوقات علت کا پورا پتہ ہی نہیں ہے، اگر علت کا پتہ ہوتا تو پھر دوسری بات بھی یقینی ہوتی، جب علت کا ہی پتہ نہیں تو دوسری بات بھی یقینی نہیں۔ تو یہ معنی ہے: بِسَبَبِ عَدَمِ شُعُوْرِ الْعِلَّةِ، بوجہ علت کا شعور نہ رکھنے کے، أَوْ عَدَمِ بُلُوْغِ عَدَدِ الْمُخْبِرِیْنَ إِلٰى مَبْلَغِ التَّوَاتُرِ، یا نہ پہنچنا، بلوغ کا معنی پہنچنا، عدمِ بلوغ نہ پہنچنا، أَوْ عَدَمِ بُلُوْغِ عَدَدِ الْمُخْبِرِیْنَ یا خبر دینے والوں کی تعداد کا نہ پہنچنا إِلٰى مَبْلَغِ التَّوَاتُرِ کہاں تک نہ پہنچنا؟ تواتر کی حد تک۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ خبر دینے والے بہت تو ہیں، لیکن وہ تواتر کی حد تک نہیں پہنچے۔ تواتر کی حد تک پہنچتے تو وہ یقین کا فائدہ دیتے، لیکن جب وہ تواتر کی حد تک نہیں پہنچے تو یقین کا فائدہ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے غالب گمان کا فائدہ دیا، یعنی ظن کا فائدہ دیا، تو یہ مظنونات میں سے ہے۔ وَلِہٰذِہِ الصَّنَاعَةِ، "لہذا" ہے آپ کی کتابوں میں؟ "لہذہ" ہونا چاہیے بھئی: وَلِہٰذِہِ الصَّنَاعَةِ، کیونکہ "ہذہ" موصوف ہے، "الصناعة" صفت ہے، موصوف صفت میں تذکیر و تانیث میں مطابقت ہوتی ہے۔ وَلِہٰذِہِ الصَّنَاعَةِ مَنْفَعَةٌ عَظِیْمَةٌ، اور اس صنعت، اس فن کا، یہ جو قیاسِ خطابی جو ہے، اس کا، اس فن کا مَنْفَعَةٌ عَظِیْمَةٌ اس کا عظیم نفع ہے فِیْ تَنْظِیْمِ أُمُوْرِ الْمَعَاشِ، معاش کہتے ہیں گزر بسر، دنیا کے اندر گزر بسر۔ امور: معاملات بھئی۔ فِیْ تَنْظِیْمِ أُمُوْرِ الْمَعَاشِ، تنظیم یعنی انتظام کرنا، تنظیم کا کیا معنی ہے؟ انتظام کرنا۔ گزر بسر کے معاملات کے انتظام کرنے میں ان کا بڑا عظیم نفع ہے۔ دنیا کے اندر گزر بسر کے معاملات کا انتظام کرنا، میں نے بتایا ان باتوں کو قبول کر لیا جاتا ہے، ان کی وجہ سے دنیا کا نظام صحیح چلتا ہے، اگر یہ باتیں اس طرح کی قبول نہ کی جائیں تو دنیا کا نظام چلنا مشکل ہو جائے بھئی۔ تو لوگ اس طرح خطیبوں وغیرہ سے باتیں سنتے ہیں، اچھی باتیں سنتے ہیں، ان کو اپناتے ہیں، جو ناپسندیدہ چیزیں ہوتی ہیں، ان کو کیا کر دیتے ہیں؟ چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کو حکماء بتاتے ہیں، علماء بتلاتے ہیں، اولیاء بتلاتے ہیں کہ یہ اس اس راستے پر دنیا میں چلو گے تو کامیابیاں ملیں گی، شہرت ملے گی، نام ملے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ طریقہ، مشورہ کرتے ہیں یا لوگ نہیں ایک دوسرے سے بھئی؟ یہی مقصد ہوتا ہے کہ اسی پر اعتماد ہوتا ہے، حسنِ ظن ہوتا ہے کہ یہ سمجھداری والی بات مجھے بتلائے گا بھئی، تو وہ اس سے کیا کرتا ہے؟ مشورہ کرتا ہے۔ تو دیکھو! اس کے ذریعے دنیاوی کیا ہے؟ گزر بسر کے معاملات ان کا انتظام کیا ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِہٰذِہِ الصَّنَاعَةِ مَنْفَعَةٌ عَظِیْمَةٌ فِیْ تَنْظِیْمِ أُمُوْرِ الْمَعَاشِ، اور اس فن کا عظیم فائدہ ہے گزر بسر کے معاملات کے انتظام کرنے میں، وَتَنْسِیْقِ أَحْكَامِ الْمَعَادِ، معاد کہتے ہیں آخرت کو، احکام المعاد: آخرت کے احکام۔ تنسيق کا معنی تنظیم ہی ہے بھئی۔ آخرت کے احکام کے انتظام کرنے میں، آخرت کے احکام کا آخرت کے احکام کا انتظام کرنے میں اور دنیا میں گزر بسر کے معاملات کا انتظام کرنے میں ان کا بڑا نفع ہے۔ آخرت کے احکام کا انتظام کرنا کیا معنی؟ بھئی، جب لوگ اس طرح کی باتیں قبول کرتے ہیں تو اس کی وجہ سے لوگوں کی آخرت سدھارنے میں بڑا نفع ہوتا ہے، بزرگوں کی باتوں کی وجہ سے لوگ اچھی باتوں کو اختیار کرتے ہیں جس سے آخرت میں نفع ہو اور ان باتوں کو چھوڑتے ہیں جس سے آخرت میں نقصان ہو۔ تو یوں کہیں آسان لفظوں میں: اس کی وجہ سے دنیا بھی سدھرتی ہے اور آخرت بھی سدھرتی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ ہے قیاسِ خطابی بھئی۔ اچھی طرح بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اب دیکھیے۔ 3 تو ترجمہ یوں کیجیے بھئی، تنظیم اور تنسيق کا ایک معنی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ تو یوں ترجمہ کیجیے بالمحاورہ: ولھذہ الصناعۃِ منفعدٌ عظیمۃٌ فی تنظیمِ امورِ المعاشِ و تنسيقِ احکامِ المعاد۔ اور اس صنعت کا بہت فائدہ ہے دنیا اور آخرت دنیا کے معاملات اور آخرت کے احکام کا بندوبست کرنے میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اما باستعمالها او بالاحتراز عنها، یا تو ان کے استعمال سے یا ان سے بچتے ہوئے۔ یا تو ان کے [استعمال سے] یا ان سے بچتے ہوئے بھئی۔ دیکھیے، علماء اور اولیاء وہ بھی دو قسم کی باتیں بتائیں گے۔ کچھ کا کرنا، کچھ کرنے والی ہوتی ہیں اور کچھ باتیں چھوڑ دینے والی ہوتی ہیں کہ ان کو کچھ امور کو بتلاتے ہیں یہ کرنے چاہئیں۔ کچھ امور بتلاتے ہیں ان کو نہیں کرنا چاہیے۔ دنیاوی معاملات بتلانے والے بھی بتلاتے ہیں، کچھ امور بتلائیں گے کہ یہ یہ کرنا چاہیے اپ کو دنیا میں ترقی کے لیے اور کچھ امور کے بارے میں بتلائیں گے کہ یہ یہ امور نہیں کرنے چاہئیں۔ وہی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ اما باستعمالها، یا تو ان کے استعمال کے ساتھ، یعنی ان کو کرتے کے لیے کرتے ہوئے، او بالاحتراز عنها، یا ان سے بچتے ہوئے بھئی۔ دو قسم کے امور ہو گئے نا، کچھ کا کرنا اور کچھ کا چھوڑنا۔ ولذلك كبار الحكماء يستعملون تلك الصناعة كثيرا، اور اسی وجہ سے بڑے حکماء جو ہیں وہ استعمال کرتے ہیں اس فن کو بہت زیادہ، ويعظون بالكلام الخطابي جما غفيرا، اور وعظ کرتے ہیں، نصیحت کرتے ہیں کلام خطابی کے ساتھ جم غفیرا، بہت بڑے مجمعے کو بھئی۔ بہت بڑی جماعت کو لوگوں کی۔ جم غفیر کا کیا معنی؟ بہت بڑی جماعت، بہت بڑے جمعیت بھئی لوگوں کی۔ تو حکماء اس صنعت کو بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور وعظ کرتے ہیں کلام خطابی کے ساتھ ایک بڑی جماعت کو۔ ولا بد ان تكون المقدمات المستعملة فيها مقنعة للسامعين مفيدة للواعظين، اور ضروری ہے کہ وہ مقدمات جو استعمال کیے جائیں اس کے اندر، یعنی اس کلام خطابی میں، اس قیاس خطابی میں جو مقدمات استعمال کیے جائیں، مقنعة للسامعين، وہ مطمئن کر دینے والے ہوں سننے والوں کو، مفيدة للواعظين، اور فائدہ دینے والے ہوں وعظ کرنے والوں کو۔ یعنی ان کی وجہ سے، یہ جو قیاس خطابی ہے، سننے والے کو بھی نفع پہنچنا چاہیے اور سنانے والے کو بھی نفع پہنچنا چاہیے۔ سننے والے کو بھی نفع پہنچے، وہ بھی اس سے مطمئن ہو جائے، اور سنانے والے کو بھی جو وعظ کر رہا ہے، تقریر کر رہا ہے، اس کو بھی کیا ہونا چاہیے اس سے؟ نفع ہونا چاہیے بھئی۔ خلاصہ کلام سن لیں مختصراً بھئی۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قیاس خطابی یا قیاس اقناعی جو ہے، وہ ظن کا فائدہ دیتا ہے، یقین کا فائدہ نہیں دیتا۔ اور اس کے مقدمات دو قسم کے ہیں: کچھ مقبولات ہیں، کچھ مظنونات ہیں۔ مقبولات تو وہ باتیں ہیں دوسروں کی جن کو حسن ظن اور حسن اعتقاد کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور مظنونات وہ ہیں جن کے اندر، جن کے اندر عقل کو یقین کا فائدہ تو نہیں حاصل ہوتا، البتہ غالب گمان ان کے صحیح ہونے کا ہوتا ہے بھئی، غالب گمان ان کے صحیح ہونے کا۔ اور بتلایا کہ یہ قیاس خطابی جو ہے، اس کا بہت بڑا فائدہ ہے لوگوں کی دنیا اور آخرت سدھارنے کے اعتبار سے۔ اس سے دنیا بھی سدھرتی ہے اور آخرت بھی۔ لہٰذا، اس کو علماء، حکماء بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اپنے کلام کے اندر لوگوں کی اصلاح کے لیے۔ اور قیاس خطابی جو ہے، وہ اس قسم کا ہونا چاہیے جس سے اگر سننے والے کا دل مطمئن ہو، تو سنانے والے کو بھی اس کا فائدہ ہونا چاہیے بھئی۔ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 97 of 108