LESSONS NO. 79
1
وقروضہ الناتجة ایضا اربعۃ احدھا من الكلیتین والصغری موجبة ینتج سالبة كلیة كقولنا كل ج ب ولا شیء من ا ب فلا شیء من ج ا والذلیل علی ھذا الانتاج عكس الكبری فانك اذا عكست الكبری صار لا شیء من ب ا وبانظمامه إلی الصغری انتظم الشكل الأول وینتج النتيجة المطلوبة۔
قیاس کی بحث چل رہی ہے جو کہ منطق کا مقصد اعلیٰ ہے یا یوں کہیے منطق کی روح ہے بھئی۔
گزشتہ تمام ابحاث دراصل انہی کی تمہید تھی بھئی انہی کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے۔ اب تک کی جتنی بحثیں گزریں وہ انہی کی تمہید تھی۔ اور یہ آپ نے پڑھا قياس دو قسم پر ہے یا اقترانی ہوگا یا استثنائی۔
قیاس استثنائی جس میں "لیکن" کے ذریعے نتیجہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے، جبکہ قياس اقترانی جس میں حرف استثنا یعنی "لیکن" وغیرہ نہیں ہوگا بھئی۔ اور اس میں ہم شکل ثانی پڑھ رہے تھے بھئی، شکل ثانی۔
شکل اول میں آپ نے پڑھا کہ شکل اول میں حد اوسط جو ہے صغریٰ میں محمول کی جگہ اور کبریٰ میں موضوع کی جگہ ہوگا، جبکہ شکل ثانی میں حد اوسط محمول کی جگہ آئے گا دونوں میں صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی۔
جبکہ شکل ثالث میں حد اوسط جو ہے دونوں میں موضوع کی جگہ آئے گا صغریٰ میں بھی اور کبریٰ میں بھی۔ جبکہ شکل رابع میں حد اوسط صغریٰ میں موضوع ہوگا اور کبریٰ میں محمول ہوگا یعنی یہ شکل اول کا عکس ہے بھئی، شکل اول کا عکس۔
اور پھر یہ بھی بیان ہوا کہ نتیجہ ہمیشہ ارذل و اخس کے تابع ہوا کرتا ہے۔ ارذل و اخس یعنی جو زیادہ ادنیٰ ہے، رذیل ہے، اخس یعنی خسیس ہے، زیادہ خسیس ہے۔ اور موجبہ اور سالبہ میں سے زیادہ ادنیٰ کونسا ہے؟ سالبہ، تو نتیجہ ان دونوں میں ایک موجبہ ایک سالبہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ سالبہ آئے گا۔
اور اگر ایک کلیہ ہو ایک جزئیہ ہو تو ان دونوں میں ادنیٰ کیا ہے؟ جزئیہ، تو نتیجہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا۔ اور اگر دونوں جزئیہ ہوں پھر بھی نتیجہ جزئیہ ہی آئے گا۔
اور اگر دونوں کلیہ ہوں تو پھر نتیجہ کبھی کلیہ آئے گا اور کبھی جزئیہ آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دونوں مقدمے اگر کلیہ ہوں تو نتیجہ کیا ہوگا؟ تو نتیجہ کلیہ بھی ہو سکتا ہے اور جزئیہ بھی ہو سکتا ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ دوبارہ، دونوں اگر کلیہ ہوں تو نتیجہ کلیہ بھی آ سکتا ہے اور جزئیہ بھی۔
اب ایک اور قیمتی بات بھی اس میں اضافہ کر لیں اس کو بھی یاد رکھیں۔ پہلی دو شکلوں میں نتیجہ کلیہ ہوگا اور تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ ہمیشہ جزئیہ ہوگا۔ صغریٰ بھی کلیہ، کبریٰ بھی کلیہ۔
دونو ں کلیہ ہوں تو نتیجہ کیا آتا ہے؟ زبان سے زبان سے دہرائیں میں بار بار تکرار کروا رہا ہوں۔ دونوں مقدمے اگر کلیہ ہوں تو نتیجہ کلیہ بھی آ سکتا ہے اور جزئیہ بھی آ سکتا ہے۔
بس اسی میں مزید تفصیل یاد رکھیں۔ دونوں کلیہ ہوں تو ہم نے کیا کہا کبھی کلیہ ہوگا نتیجہ اور کبھی جزئیہ۔ کہاں کلیہ ہوگا کہاں جزئیہ ہوگا اب یہ یاد رکھیں۔ پہلی دونوں شکلوں میں نتیجہ کلیہ ہوگا اور تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ جزئیہ ہوگا۔
یعنی دونوں اگر کلیہ ہیں، صغریٰ بھی کلیہ ہے اور کبریٰ بھی کلیہ ہے، تو پہلی اور دوسری شکل میں نتیجہ کیا آئے گا؟ کلیہ آئے گا۔ اور تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ آئے گا۔
یہ بات یاد رہے گی؟ تو خلاصہ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ نتیجہ ہمیشہ اخس و ارذل کے تابع ہوتا ہے۔ ایک موجبہ اور ایک سالبہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ سالبہ۔ اگر ایک کلیہ ہو ایک جزئیہ ہو تو نتیجہ ہمیشہ جزئیہ۔
اگر دونوں جزئیہ ہوں تو نتیجہ جزئیہ۔ اور اگر دونوں کلیہ ہوں تو کبھی نتیجہ کلیہ ہوگا کبھی جزئیہ۔ کہاں کلیہ ہوگا؟ پہلی دو شکلوں میں۔ اور کہاں جزئیہ ہوگا؟ تیسری اور چوتھی شکل یعنی آخری دو شکلوں میں۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو مطلب اس کا یہ ہوا کہ تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا۔ تیسری اور چوتھی شکل میں نتیجہ ہمیشہ ہمیشہ ہمیشہ جزئیہ آئے گا تیسری اور چوتھی شکل میں، کبھی بھی کلیہ نہیں آ سکتا۔
جبکہ پہلی دو شکلوں میں نتیجہ جزئیہ بھی آ سکتا ہے اور کلیہ بھی آ سکتا ہے، جتنی ضربیں بنیں گی سب کے اعتبار سے کہہ رہا ہوں بھئی۔
اچھا، اب یہ دوسری قسم کی ضربیں بھئی ہم شروع کرنے لگے ہیں۔ پہلے پہلی شکل کی شرطیں کیا تھیں؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔
پہلی شکل کی شرطیں کیا تھیں؟ ایجاب صغریٰ اور کلیت کبریٰ۔ ایجاب صغریٰ کا کیا معنیٰ؟ صغریٰ موجبہ ہو۔ اور کلیت کبریٰ کا کیا معنیٰ؟ کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے، یہ شرطیں ہیں۔
اور چنانچہ پھر چار ضربیں تھیں جن میں یہ شرطیں پوری ہو رہی تھیں۔ وہ نتیجہ دیں گی باقی 12 نتیجہ ہی نہیں دیں گی بھئی۔
اور شکل ثانی جو ہے اس کے اندر کتنی شرطیں تھیں؟ دو شرطیں۔ پہلی شرط کیا؟ صغریٰ اور کبریٰ میں کیف کے اعتبار سے اختلاف ہو۔ ایک موجبہ ہے تو دوسرے کو کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ۔ اور اگر پہلا سالبہ ہے تو دوسرے کو موجبہ ہونا چاہیے۔ پہلی شرط یہ اختلاف فی الکیف ہو اور دوسری شرط کیا تھی؟
کلیت کبریٰ، وہی پہلی شکل جیسی شرط ہے۔ کلیت کبریٰ، کبریٰ کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے بھئی، کلیہ ہونا چاہیے۔
اور پھر کل میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ اگر ان دو شرطوں میں سے یہ جو شکل ثانی کے اندر دو شرطیں ہیں، کیف کے اعتبار سے اختلاف ہونا چاہیے اور کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے۔
اگر ان میں دونوں شرطیں مفقود ہوئیں یعنی نہ پائی گئیں یا کوئی ایک شرط مفقود ہوئی تو پھر اس صورت میں نتیجہ نہیں آئے گا بھئی۔ کیونکہ نتیجہ کبھی سالبہ آ جائے گا اور کبھی موجبہ۔
اور ایک ہی ضرب کے اندر کبھی نتیجہ موجبہ آئے کبھی سالبہ آئے اس کا مطلب یہ ہے وہ نتیجہ دینے والی نہیں ہے، ورنہ تو نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے تھا بھئی۔
جیسے اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی۔ مثلاً اگر پہلی شرط کیا ہے شکل ثانی کی؟ کیف میں اختلاف ہو۔ اگر ہم کیف میں اختلاف نہیں لاتے مثلاً کیا کہتے ہیں "کل انسان حیوان" اور دوسرا کیا تھا "کل ناطق حیوان"۔
"کل انسان حیوان" اور دوسرا "کل ناطق حیوان" دیکھو حد اوسط دونوں میں ہم کہاں پر لائے ہیں؟ محمول کی جگہ پر، یہ شکل ثانی ہے۔
تو "کل انسان حیوان" اور "کل ناطق حیوان"، نتیجہ کیا آیا؟ "کل انسان ناطق"، "کل انسان ناطق"۔
اچھا، اب اسی کے اندر پہلا کیا تھا؟ یہ نتیجہ یاد رکھیں، نتیجہ کیا آیا "کل انسان ناطق"۔
اچھا، اب ہم صرف کبریٰ میں تبدیلی کرتے ہیں۔ صغریٰ کو اسی طرح رکھتے ہیں۔ صغریٰ کیا تھا؟ "کل انسان حیوان"۔
تو صغریٰ تھا "کل انسان حیوان" اور کبریٰ پہلے کیا تھا؟ "کل ناطق حیوان"، اب ناطق کی جگہ فرس لے آئیں۔ "کل فرس حیوان"، "کل فرس حیوان"۔
دیکھو وہی ضرب ہے، ہم نے نہ کلیت جزئیت کو بدلا، نہ ہم نے ایجاب و سلب کو بدلا، صرف کس کو بدلا؟ ایک لفظ موضوع کو بدل دیا کبریٰ کے۔
تو نتیجہ پہلے کیا تھا؟ "کل انسان ناطق" موجبہ کلیہ تھا، اب بھی کیا آنا چاہیے؟ موجبہ کلیہ۔ اب بنائیے۔ بھئی یہ جو میں مثالیں لکھواؤں جلدی سے سامنے سے مثال لکھ لیا کیجیے۔
اچھا، تو پہلے کیا تھا؟ لکھ لیں یہ دوبارہ یہ سارے۔ "کل انسان حیوان"، "کل انسان حیوان"۔ یہ تھا صغریٰ۔ کبریٰ تھا "کل ناطق حیوان"، "کل ناطق حیوان"۔
نتیجہ کیا آیا تھا؟ "کل انسان ناطق"، دیکھو یہ موجبہ کلیہ آیا نتیجہ۔
اب دیکھو موضوع یا محمول کو بدلنے سے تو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے لیکن آپ دیکھیں گے فرق پڑ جائے گا۔ صغریٰ کو اسی طرح رکھیں "کل انسان حیوان"، "کل انسان حیوان"۔
کبریٰ میں صرف ناطق کی جگہ فرس لے آئیں۔ "کل فرس حیوان"، "کل فرس حیوان"۔
اب دیکھیے اگر اسی طرح نتیجہ بنائیں آپ کیا بنے گا؟ "کل انسان فرس" بن رہا ہے اور ہر انسان فرس ہے یہ صادق ہے یا کاذب ہے؟ یہ تو کاذب ہے، یہ تو صادق ہی نہیں آ رہا۔
تو پھر اس کو سالبہ بنائے ذرا "لا شیء من الانسان بفرس"۔ دیکھو اب نتیجہ صحیح آیا۔ کوئی بھی انسان فرس یعنی گھوڑا نہیں ہے۔
تو بعینہ وہی ضرب ہے پہلے اسی کا نتیجہ موجبہ کلیہ آیا، اب سالبہ کلیہ آ رہا ہے۔
یہ نتیجے میں اختلاف آنا یہ بتلا رہا ہے کہ اس کی اگر شرط پوری نہیں ہوگی تو نتیجہ صحیح نہیں آئے گا، نتیجہ صحیح نہیں آئے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ تو وہ پہلی شرط کی ہم نے رعایت نہ رکھی، یعنی دونوں میں ایجاب و سلب میں اختلاف نہیں کیا۔
دوسری صورت کہ اگر ہم دوسری شرط کی رعایت نہیں رکھتے، پہلی شرط کی رعایت رکھتے ہیں، ایک کو موجبہ بناتے ہیں ایک کو سالبہ، لیکن دوسری شرط جو ہے کلیت کبریٰ اس کی رعایت نہیں رکھتے بلکہ ہم کبریٰ کس طرح کا لائیں گے؟ جزئیہ لائیں گے۔ دیکھنا پھر نتیجہ خراب ہوگا، کبھی کچھ آئے گا کبھی کچھ۔
دیکھیے! "کل انسان ناطق"، یہ ہے صغریٰ۔ اور کبریٰ کیا ہوگا؟ "وبعض الحيوان ليس بناطق"۔ "وبعض الحيوان ليس بناطق"۔
دیکھیے! پہلے کے اندر پہلا موجبہ ہے تو دوسرا کیا ہے؟ "کل انسان ناطق"، "وبعض الحيوان ليس بناطق"۔
"کل انسان ناطق"، "وبعض الحيوان ليس بناطق"۔ آپ حد اوسط پہ نظر رکھیں، دونوں میں حد اوسط محمول کی جگہ آ رہا ہے یا نہیں بھئی؟ دونوں جگہ ناطق ہے، یہ شکل ثانی ہے۔
پہلی شرط اس میں پوری، پہلا ایجاب و سلب میں اختلاف ہے، صغریٰ موجبہ ہے تو کبریٰ سالبہ ہے۔ دوسری شرط نہیں پوری، دوسری شرط کیا تھی؟ کبریٰ کیا ہونا چاہیے؟ کلیہ ہونا چاہیے، حالانکہ یہاں پر ہے "بعض الحيوان"، یہ جزئیہ ہے بھئی، جزئیہ۔
نتیجہ کیا آئے گا بھئی؟ بھئی ایجاب و سلب اکٹھے ہوں تو نتیجہ کیا آتا ہے؟ سلب کی صورت سالبہ آئے گا۔ کلیت جزئیت اکٹھے ہوں تو نتیجہ کیا آتا ہے؟ جزئیہ آتا ہے، تو سالبہ جزئیہ آنا چاہیے نتیجہ۔ بنائیے بھئی، ناطق ناطق کو ختم کریں۔
"بعض الانسان ليس بحيوان"۔ بعض انسان حیوان نہیں ہے، یہ صادق ہے؟ "بعض انسان ليس بحيوان"، نتیجہ یہی آ رہا ہے نا؟ موجبہ ہے ایک سالبہ ہے تو سالبہ آ رہا ہے نتیجہ۔
ایک کلیہ ہے ایک جزئیہ تو نتیجہ کیا آ رہا ہے؟ جزئیہ، سالبہ جزئیہ ہے، "بعض الانسان ليس بحيوان"۔ یہ آنا چاہیے، لیکن یہ تو غلط ہے۔
بعض انسان حیوان نہیں ہیں، یہ تو غلط ہے۔ لہٰذا اس کو ایجاب سے بدل دو۔ "بعض الانسان" ایجاب سے بدلو، "بعض الانسان حیوان"۔ یہ دیکھو نتیجہ آیا، موجبہ آیا، نتیجہ کیا آیا؟ موجبہ آیا۔
اچھا، اب باقی سارا کچھ اسی طرح رکھیں۔ سارا کچھ، صرف کبریٰ کے موضوع کو ہم بدلیں گے، دیکھو نتیجہ پھر بدل جائے گا۔
صغریٰ اسی طرح رکھیں، صغریٰ کیا ہے؟ "کل انسان ناطق"۔ کبریٰ میں صرف حیوان کی جگہ فرس لے آئیں، کیا بن جائے گا؟ "بعض الفرس ليس بناطق"، "بعض الفرس ليس بناطق"۔
اچھا، نتیجہ کیا آنا چاہیے؟ سالبہ جزئیہ آنا چاہیے نا؟ بنائیے سالبہ جزئیہ۔ "بعض الانسان ليس بفرس"۔ صادق ہے یا کاذب ہے؟
"بعض انسان ليس بفرس"۔ بعض انسان گھوڑے نہیں ہیں۔
نتیجہ صادق ہے یا کاذب ہے مجھے یہ بتائیے۔ "بعض انسان ليس بفرس"، بعض انسان گھوڑے نہیں ہیں، صادق ہے بھئی، صادق ہے۔ کیسے آپ کہہ رہے ہیں یہ میں روزانہ یہ بتلا رہا ہوں آپ کو کہ جب میں یہ کہوں نا کہ بعض انسان گھوڑے نہیں ہیں، یہ بات سچی ہے یا غلط ہے؟ میں نے ساروں کی بات ہی نہیں کی، میں نے کب کہا ہے کہ کچھ گھوڑے نہیں ہیں تو کچھ گھوڑے ہیں؟
میں نے تو یہ نہیں کہا کچھ فرس ہیں۔ میں نے تو صرف اتنا کہا ہے کچھ انسان فرس نہیں ہیں اور باقی کے کچھ میں نے ان کی بات ہی نہیں کی، ان کے لیے میں نے اس بات کا تو نہیں کہا کوئی فرس ہونے کا۔ ابھی کل میں نے بتایا ہے کہ آپ صرف بعض کے اعتبار سے دیکھا کریں۔
جن بعض پہ حکم لگایا جا رہا ہے لگ رہا ہے یا نہیں لگ رہا؟ یہاں پہ سلب ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں باقیوں کے لیے ایجاب ہے، یا یہاں پر ایجاب ہو تو باقیوں کے لیے سلب ہو، ایسا نہیں ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اس قضیے کے اندر "بعض الانسان ليس بفرس"، میں نے بعض انسانوں کی بات کی ہے کہ وہ فرس نہیں ہیں۔ باقی بعض کہ وہ فرس ہیں یا نہیں ہیں میں نے تو کوئی ذکر ہی نہیں کیا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ان ان کی بات تو میں نے ذکر ہی نہیں کی، تو بعض انسان فرس نہیں ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ بعض فرس ہیں۔ میں نے کب کہا ہے بعض فرس ہیں، میں نے تو صرف بعض کی بات کی ہے کہ بعض فرس نہیں ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ ہمیشہ یاد رکھنا بھئی، مفہوم مخالف نہیں نکالنا آپ نے اس کا خود بخود بلکہ صرف ان لفظوں کو دیکھیں جو اس وقت قضیے میں ہیں۔
بعض سے میں نے فرس ہونے کی نفی کی اور صحیح ہے یا نہیں؟ بعض سے تو فرس ہونے کی نفی کر رہا ہوں اور درست ہے، تو یہ دیکھو یہ نتیجہ درست ہے بھئی۔
تو پہلا نتیجہ کیا تھا اسی ضرب میں؟ موجبہ جزئیہ تھا، اب کیا آیا؟ سالبہ جزئیہ۔ دیکھو یہ نتیجے کا اختلاف بتلا رہا ہے کہ اس میں نتیجہ اگر شرطوں کی رعایت نہیں رکھو گے تو نتیجہ نہیں آئے گا بھئی۔
نتیجہ تو ہمیشہ ایک جیسا آنا چاہیے، اگر پہلے موجبہ جزئیہ تھا تو اب بھی موجبہ جزئیہ آنا چاہیے تھا، لیکن اب آ رہا ہے سالبہ جزئیہ۔
تو نتیجہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ منطق کے قوانین کلی ہوتے ہیں، ساری شکلیں اس میں لاتے ہیں، ایک جگہ پر بھی اگر وہ ضابطہ ٹوٹ جائے تو کہتے ہیں یہ ضابطہ ہی نہیں صحیح۔ سب کو بات سمجھ میں آ گئی؟
اب ذرا کاپی پر، کاپی پر ایک نقشہ بنا لیں بھئی۔ کاپی پر نقشہ بنائیں الگ صفحے پہ، نئے صفحے پہ بنائیں بھئی، نئے صفحے پر۔ اور اس میں...
2
اوپر سے نیچے کی طرف لکیر کھینچ کے پانچ خانے بنا لیں کل۔ اوپر سے نیچے کی طرف لکیر کھینچیں، پانچ خانے چاہیے ہمیں، پانچ خانے بھئی۔ جی جی، اوپر سے نیچے کی طرف لکیر کھینچیں۔ لمبائی میں پانچ خانے بن جائیں بھئی۔ جلدی جلدی بنائیے بھئی، پانچ خانے بھئی۔ بن گئے؟ اچھا!
پہلے خانے کے اوپر پہلی لکیر میں لکھیں صغریٰ۔ پہلے خانے میں پہلی لکیر پر لکھیں صغریٰ، صغریٰ۔ دوسرے خانے میں لکھیں کبریٰ، دوسرے خانے میں لکھیں کبریٰ۔ تیسرے خانے میں لکھیں شکلِ اول، شکلِ اول۔ چوتھے خانے میں لکھیں شکلِ ثانی، شکلِ ثانی۔ پانچویں خانے میں لکھیں شکلِ ثالث، شکلِ ثالث۔
بنا لیا بھئی؟ صغریٰ پہلے خانے میں، کبریٰ دوسرے خانے میں، شکلِ اول تیسرے خانے میں، شکلِ ثانی چوتھے خانے میں اور شکلِ ثالث پانچویں خانے میں۔ اب اس سے نچلی لکیر میں آئیے۔ پہلے خانے کے اندر بالکل شروع میں چھوٹا سا 1 (ایک) لکھ لیں۔ دائیں طرف بھئی، دائیں طرف۔ دائیں... پہلا خانہ ہے، پہلا خانہ خالی چاہیے ہمیں، سمجھ میں آیا؟ صرف دائیں طرف کر کے، جہاں سے شروع... جو سائیڈ کنارے والی ہے نا کنارے والی، اس طرف 1 لکھیں چھوٹا سا، 1۔ اس سے نیچے والی لکیر میں اسی کے نیچے لکھیں 2۔ نچلی لکیر میں، تیسری میں لکھیں 3، چوتھی میں لکھیں 4، پانچویں میں لکھیں 5۔ یہ 16 (سولہ) تک لے جائیں نیچے بھئی، ہر لکیر میں ایک ایک۔ 16 نمبر ڈال دیں، 16 ضربیں بنانی ہیں ہم نے بھئی جن کے احتمالات ہیں۔ 16 ضربیں، 16 ضربیں بھئی۔
16 تک نمبر ڈال لیے بھئی؟ اچھا! اب آئیے جو پہلا 1 (ایک) نمبر لکھا، یہ صغریٰ کے خانے میں لکھا ہے نا شروع میں؟ ہاں، جگہ ہے آگے؟ ہاں تو اس میں لکھو صغریٰ پہلا کیا ہوگا؟ موجبه کلیه، موجبه کلیه لکھیں بس، موجبه کلیه۔ لکھ لیا؟ اچھا!
آگے کبریٰ کے خانے میں اب لکھیں، قضیہ محصوره کتنے قسم پر ہے؟ چار، کون کون سا؟ موجبه کلیه، موجبه جزئیه، سالبه کلیه، سالبه جزئیه۔ یہ چار ہم کبریٰ والے میں لکھیں گے۔ پہلے نمبر والے خانے میں کبریٰ میں لکھیں موجبه کلیه، موجبه کلیه۔ اسی کے نیچے والی لکیر میں لکھیں، کبریٰ میں ہی لکھیں، کبریٰ کے اندر ہی دوسری لکیر میں لکھیں موجبه جزئیه، موجبه جزئیه۔ ہاں، دیکھا؟ یہ نمبر بھی میں ساتھ، نمبر میں نے اسی لیے لکھوائے ہیں۔ کبریٰ میں پہلی لکیر میں کیا لکھا؟ موجبه کلیه۔ کبریٰ ہی میں اب دوسرے نمبر والی لکیر پہ لکھنا ہے جس کے سامنے 2 نمبر لکھا ہوا تھا۔ میں ادھر سے نمبر بولتا جاؤں گا، اپ سمجھتے جائیں گے فلاں لکیر میں ہم چل رہے ہیں۔ اب صرف کبریٰ کے خانے میں ہم لکھتے جا رہے ہیں۔ پہلی لکیر میں کیا لکھا؟ موجبه کلیه۔ دوسری لکیر میں؟ موجبه جزئیه۔ تیسری میں لکھو سالبه کلیه، سالبه کلیه۔ چوتھی میں لکھو سالبه جزئیه۔
لکھ لیا بھئی؟ اچھا! اب پانچویں لکیر پر آئیے، یہاں صغریٰ میں... بھئی روکیے! صغریٰ کا صغریٰ کیا لکھا تھا ہم نے؟ موجبه کلیه۔ صغریٰ ہو موجبه کلیه تو اس کے ساتھ چار قسم کے کبریٰ جڑ سکتے ہیں، وہ ہم نے لکھ دیے۔ چار قسم کے کبریٰ جڑ سکتے ہیں۔ اب آ جائیں صغریٰ دوسرا لے آتے ہیں۔ پانچویں لکیر میں لکھیں موجبه جزئیه، اب ہم نے صغریٰ بدل دیا۔ صغریٰ صغریٰ بدل رہے ہیں ہم۔ پانچویں لکیر، صغریٰ والا خانہ، کیا لکھا؟ موجبه جزئیه، موجبه جزئیه۔ اچھا! اس کے ساتھ پھر وہی کبریٰ والی چاروں صورتیں لکھیں نیچے بھئی، 5، 6، 7، 8 لکیر میں، کبریٰ میں لکھیں کبریٰ میں۔ وہی جو اوپر چار لکھے ہیں نا؟ وہی پھر ترتیب سے دوبارہ لکھ لیں۔ کبریٰ والے خانے میں، پہلے نمبر پہ... 5 نمبر لکیر میں کیا لکھا آپ نے صغریٰ میں؟ موجبه جزئیه۔ اس کے سامنے اب کبریٰ والے خانے میں چلے جائیں، وہاں پھر لکھیں موجبه کلیه، اس سے نچلی لکیر میں کبریٰ میں ہی لکھیں موجبه جزئیه، اسی کے نیچے کبریٰ ہی میں لکھیں سالبه کلیه، اسی کے نیچے کبریٰ ہی میں لکھیں سالبه جزئیه۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ دیکھو صغریٰ اب ہم لے آئے کون سا؟ موجبه جزئیه۔ صغریٰ کو موجبه جزئیه رکھیں تو اس کے ساتھ چار قسم کے کبرے آ سکتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اچھا! اب آ جائیے 9 (نو) نمبر لکیر پر۔ 9 نمبر لکیر، صغریٰ اب ہم نے بدلنا ہے صرف۔ کون سا آئے گا اب صغریٰ؟ موجبه کلیه بھی گزر گیا، موجبه جزئیه بھی گزر گیا، اب؟ سالبه کلیه لکھو 9 نمبر خانے میں صغریٰ کے اندر، سالبه کلیه، سالبه کلیه۔ لکھ لیا؟ اچھا! اس کے آگے پھر کبریٰ والے خانے میں پھر اسی طرح چاروں آئیں گے ترتیب سے، کبریٰ میں: موجبه کلیه، اس کے نیچے کبریٰ میں ہی موجبه جزئیه، اس کے نیچے کبریٰ ہی میں سالبه کلیه، اس کے نیچے کبریٰ ہی میں سالبه جزئیه۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ صغریٰ کون سا ہے، کیا رکھا ہے ہم نے؟ سالبه کلیه۔ اس کے ساتھ بھی کتنی قسم کے کبرے آ سکتے ہیں؟ چار، وہ چاروں ہم نے لکھ لیے۔
اب آئیے لکیر نمبر 13 (تیرہ) پر۔ لکیر نمبر 13 پر پہنچ گئے نا ہم؟ اب صغریٰ بدلیں۔ صغریٰ کون کون سے گزر گئے؟ اب کون سا رہ گیا؟ سالبه جزئیه لکھیں شاباش! موجبه کلیه بھی ہو چکا، موجبه جزئیه بھی، سالبه کلیه بھی ہو چکا، اب سالبه جزئیه تھا۔ سالبه جزئیه لکھ لیا؟ اس کے سامنے پھر اسی طرح وہ چاروں صورتیں کبریٰ میں لکھیں: موجبه کلیه، موجبه جزئیه، سالبه کلیه، سالبه جزئیه، یہ کبریٰ میں لکھ لیں بھئی۔
لکھ لیا بھئی؟ دیکھیں یہ 16 (سولہ) ضربیں بن گئیں۔ صغریٰ موجبه کلیه ہو تو کبریٰ چار قسم کے آ سکتے ہیں اس کے ساتھ، چار ضربیں یہ ہوئیں۔ صغریٰ موجبه جزئیه ہو تو اس کے ساتھ بھی چار قسم کے کبریٰ آ سکتے ہیں، یہ 8 (آٹھ) ہو گئے۔ صغریٰ سالبه کلیه ہو تو اس کے ساتھ بھی چار قسم کے کبریٰ آ سکتے ہیں، یہ 12 (بارہ) ہو گئے۔ اور صغریٰ سالبه جزئیه ہو تو اس کے ساتھ بھی چار قسم کے کبریٰ آ سکتے ہیں، یہ کتنے ہو گئے؟ 16۔ 16 احتمالات ہوتے ہیں یہ ہر ضرب... ہر شکل میں۔ ہر شکل میں 16 احتمال، لیکن کچھ نتیجہ دیں گے احتمالات، کچھ نتیجہ نہیں دیں گے۔ جو ضربیں نتیجہ دیں اس کو کہتے ہیں منتج، نتیجہ دینے والی۔ منتج کا کیا معنیٰ؟ منتج! اور جو ضربیں نتیجہ نہ دیں ان کو عقیمہ کہتے ہیں، عقیمہ بانجھ بھئی، بانجھ!
بانجھ جس کی اولاد نہ ہو بھئی، جس عورت کے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بانجھ۔ تو یہاں بھی یہ قیاس کی صغریٰ کبریٰ ملاتے ہیں، نتیجہ نہیں دیتے تو اس کو بھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ عقیمہ۔ تو یہاں پر اب آئیے بھئی! شکلِ اول والے خانے میں آ جائیں۔ شکلِ اول کی شرطیں دیکھتے جانا ہے کہاں کہاں پوری ہو رہی ہیں، کہاں پوری نہیں ہو رہی ہیں بھئی۔ کس خانے میں لکھنا ہے اب؟ شکلِ اول میں۔ شکلِ اول کی شرطیں کیا تھیں؟ ایجابِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ، یہ شرطیں ہر ایک کی ہر وقت یاد ہونی چاہئیں۔ آسان سی تو شرطیں ہیں، ایک دو شرطیں ہوتی ہیں۔ ایجابِ صغریٰ، صغریٰ کیا چاہیے؟ موجبه چاہیے۔ معلوم ہوا صغریٰ سالبه نہیں آ سکتا۔ جب ہم نے کہہ دیا، اب اس نقشے پہ نظر رکھو، جب ہم نے کہہ دیا صغریٰ موجبه ہونا چاہیے، کون سی ضربیں نکل گئیں؟ سالبه کلیه سے لے کر سالبه جزئیه کے آخر تک، یعنی کہاں سے، نمبر بتائیں، کہاں سے کہاں تک؟ 9 سے 16 تک یہ سب نکل گئے کیونکہ ان میں صغریٰ موجبه نہیں ہے بلکہ سالبه ہے، اور ہم نے تو شرط کیا لگائی؟ ایجابِ صغریٰ کی، تو یہ آٹھ شکلیں تو یہی نکل گئیں پہلی شرط پہ ہی۔
دوسری شرط کیا تھی؟ کلیتِ کبریٰ۔ یہ پہلی آٹھ ضربوں کے اندر، پہلی آٹھ ضربوں کے اندر، ان میں کبریٰ پہ نظر رکھیں۔ کبریٰ کون سا کلیہ ہے؟ پہلی لکیر میں کبریٰ ہے موجبه کلیه، اس میں شرط پوری ہے یا نہیں؟ ایجابِ صغریٰ کو تو ہم کر چکے، اب صرف کس کو دیکھ رہے ہیں؟ کلیتِ کبریٰ کو۔ تو پہلی لکیر میں کبریٰ کی... میں موجبه کلیه ہے، کبریٰ کلیہ آ گیا۔ تو اس کے آگے لکھ لیں، منتج یا یوں لکھیں یُنتِجُ لکھ دیں، یُنتِجُ۔ شکلِ اول میں لکھنا ہے لیکن ساری لکیر پہ نہ لکھنا، شکلِ اول میں... کے خانے میں شروع میں لکھ دو یُنتِجُ، یُنتِجُ۔ لکھ لیا بھئی؟ اچھا!
شکلِ اول کا خانہ آدھا آپ نے خالی رکھنا ہے بھئی، اس کے آگے ہم نتیجہ لکھیں گے۔ اچھا، لکھ لیا یُنتِجُ؟ اچھا! کبریٰ میں دوسری لکیر میں آئیں، موجبه جزئیه، شرط پوری ہے کہ پوری نہیں؟ شرط پوری نہیں، اس کو چھوڑ دیں۔ تیسری لکیر میں آئیں، کبریٰ میں، سالبه کلیه، کلیتِ کبریٰ ہے کہ نہیں؟ کلیتِ کبریٰ، اس کے آگے بھی لکھ لیں، یہاں شرط پوری ہے تو لکھ لیں یُنتِجُ، یُنتِجُ۔ اس سے نچلی لکیر میں آئے کبریٰ میں، سالبه جزئیه، کبریٰ... کلیہ یا جزئیہ ہے؟ جزئیہ، شرط پوری نہیں، اس کو بھی چھوڑ دیں۔ اس سے نچلی لکیر میں آئیں، موجبه کلیه، شرط پوری ہے یا نہیں؟ پوری ہے، اس کے آگے بھی لکھ لیں یُنتِجُ۔ اس سے نچلی لکیر میں آئیں، موجبه جزئیه، شرط پوری ہے؟ نہیں، اس کو چھوڑ دیں۔ اس سے نچلی لکیر میں آئیں، سالبه کلیه، شرط پوری ہے کہ نہیں؟ یُنتِجُ اس کے آگے بھی لکھ لیں۔ 7 (سات) نمبر کے آگے بھی کیا لکھ لیا؟ یُنتِجُ۔ اس سے نچلی لکیر میں کیا ہے؟ سالبه جزئیه، شرط پوری ہے؟ نہیں، یہاں بھی نہیں۔ اور اس سے نیچے والی 9 سے 16 تک، وہ تو ہم پہلے ہی بتا چکے وہ منتج نہیں۔ ان میں پہلی شرط نہیں پوری۔
بات سمجھ بھی آئی کہ مشکل ہو گئی؟ 9 سے 16 تک تو پہلے ہم بتا چکے کہ ان میں ایجابِ صغریٰ والی شرط پوری نہیں ہے۔ اچھا، کتنی منتج ہوئیں؟ چار! دیکھا؟ یہ چار منتج ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اور اب ہم نے یہ دیکھنا ہے نتیجہ کیا آئے گا؟ پہلے یُنتِجُ کس کے آگے لکھا؟ قیاس کیا ہے؟ صغریٰ کبریٰ دونوں باری باری بتائیں، صغریٰ کیا؟ موجبه کلیه! کبریٰ کیا؟ موجبه کلیه! دونوں موجبه ہوں تو نتیجہ کیا آتا ہے؟ موجبه ہی آتا ہے۔ نتیجہ کیا آتا ہے؟ اور دونوں کلیہ ہوں تو نتیجہ کیا آتا ہے؟ کبھی کلیہ، کبھی جزئیہ، لیکن شکلِ اول اور ثانی میں کیا آتا ہے؟ کلیہ! اور ثالث اور رابع میں؟ جزئیہ! تو معلوم ہوا یہ تو شکلِ اول ہم کر رہے ہیں، تو نتیجہ کیا آئے گا؟ کلیہ! اور سالبه ہے یا موجبه؟ موجبه، تو نتیجہ لکھیں، یُنتِجُ کے آگے لکھ لیں موجبه کلیه۔ بھئی! شکلِ اول میں یُنتِجُ جہاں آپ نے لکھا تھا، پہلا یُنتِجُ، اس کے آگے ہی لکھنا ہے اسی خانے کے اندر، شکلِ اول کے اندر ہی لکھنا ہے۔ کیا لکھنا ہے؟ موجبه کلیه! تو عبارت کیا بن گئی؟ یُنتِجُ موجَبَةً کُلِّیَّةً، یُنتِجُ موجَبَةً کُلِّیَّةً۔
آگے یُنتِجُ ا... کس کے آگے لکھا ہے؟ سالبه کلیه، قیاس کیا بن رہا ہے؟ صغریٰ کیا ہے؟ صغریٰ موجبه کلیه اور کبریٰ؟ سالبه کلیه، اچھا! ایک موجبه ہے ایک سالبه ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبه۔ ایک کلیہ ہے دوسرا بھی کلیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ شکلِ اول ہے، کلیہ ہی آئے گا، تو کیا آیا نتیجہ؟ سالبه کلیه، شاباش! تو یہاں یہ تین نمبر جو... دوسرا یُنتِجُ لکھا تھا اس کے آگے ک... شکلِ اول ہی کے خانے میں آپ نے لکھنا ہے، یُنتِجُ... دوسرے یُنتِجُ کے سامنے کیا لکھنا ہے؟ سالبه کلیه۔
آگے کہاں پر ہے یُنتِجُ؟ 5 (پانچ) نمبر میں۔ اچھا! دونوں موجبه ہیں؟ تو نتیجہ کیا آئے گا؟ موجبه۔ ایک جزئیہ ہے ایک کلیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ، تو کیا آیا نتیجہ؟ موجبه جزئیه، یہ 5 نمبر خانے میں شکلِ اول میں لکھیں گے یُنتِجُ کے آگے، موجبه جزئیه۔
اچھا! اس سے آگے نتیجہ کس کے آگے یُنتِجُ لکھا ہے؟ کبریٰ ہے سالبه کلیه۔ صغریٰ کیا؟ صغریٰ ہے موجبه جزئیه اور کبریٰ ہے سالبه کلیه۔ ایک موجبه، ایک سالبه ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ سالبه۔ اور ایک جزئیہ ہے، ایک کلیہ ہے، نتیجہ کیا آئے گا؟ جزئیہ، تو کیا آیا نتیجہ؟ سالبه جزئیه، شاباش!
سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ منطق ہے، بڑی دلچسپ چیز ہے اگر شوق ہو مولانا، سمجھ میں آیا؟ بالکل واضح نتیجے آئیں گے، واضح بات ہوگی، کلی بات ہوگی، ایک جگہ پر بھی یہ قانون نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ آپ کہیں دلیل ذکر کر دیں، ان قواعد اور شرائط کی رعایت رکھیں، دوسرا آپ کی دلیل کو رد کر ہی نہیں سکتا بھئی۔
تو کل کتنے نتیجے... ضربیں نتیجہ دے رہی ہیں؟ چار! ایک... پہلی میں نتیجہ کیا؟ موجبه کلیه، دوسری میں سالبه کلیه، تیسری میں موجبه جزئیه، چوتھی میں سالبه جزئیه۔ یہ پہلی شکل کی خصوصیت ہے، اس میں چاروں محصورہ نتیجے میں آ رہے ہیں۔ موجبه کلیه بھی دیکھو نتیجہ آ رہا ہے، موجبه جزئیه بھی آ رہا ہے، سالبه کلیه بھی آ رہا ہے اور سالبه جزئیه بھی آ رہا ہے، یہ شکلِ اول کی خصوصیت ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
اور موجبه کلیه اس کے اندر نتیجہ آیا موجبه کلیه، کسی شکل میں موجبه کلیه نتیجہ نہیں آتا سوائے اس شکل کے، یہ بھی اس کی خصوصیت ہے۔ اور یہ آپ پڑھ چکے ہیں پیچھے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ بات تو کتاب میں آئی تھی کہ یہ شکلِ اول کی خصوصیت ہے، اس میں نتیجہ چاروں محصورہ آتے ہیں، کسی شکل میں چاروں قسم کے محصورہ نہیں آتے۔ محصورہ کی چار ہی قسمیں ہیں اور دیکھو چاروں نتیجے میں آ گئے، موجبه کلیه بھی ہے، موجبه جزئیه بھی، سالبه کلیه بھی، سالبه جزئیه بھی۔
اب آئیے شکلِ ثانی کی طرف بھئی۔ چلیے بس بھئی، باقی پھر کل کر لیں گے۔ تو یہ اچھی طرح یاد کر لیجیے گا بھئی۔ چلیے بس بھئی! ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔