Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-064

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 01 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 58
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 64 1 فصل: اعلم أنه كما ينقسم الحملية إلى الشخصية والمحصورة والمهملة، كذلك الشرطية تنقسم إلى هذه أقسام، إلا أن القضية الطبيعية لا تتصور هاهنا، ثم التقادير في الشرطية بمنزلة الأفراد في الحملية. جی! یہاں سے قضية شرطية کی ایک اور تقسیم بتلا رہے ہیں۔ جس طرح کہتے ہیں آپ نے قضية حملية کی اقسام پڑھی تھیں بھئی، کہ قضية حملية کے اندر اگر اس کا موضوع کوئی معین ذات ہو تو اسے قضية شخصية کہتے تھے اور اگر وہاں حکم جو ہے حقیقت پر لگایا جائے تو اسے قضية طبيعية کہتے تھے۔ اور پھر اگر افراد پر لگایا جائے اور معین ذات پر نہ ہو، افراد پر ہو۔ تو پھر اس کے اندر افراد کی کمیت یعنی مقدار بیان ہوگی یا نہیں کہ کل افراد پر ہے یا بعض پر۔ اگر کمیت بیان ہو تو اسے قضية محصورة کہتے تھے۔ اور اگر کمیت بیان نہ ہو تو پھر قضية مهملة کہتے تھے بھئی۔ تو وہی اقسام یہاں قضية شرطية کے اندر بھی ہیں۔ البتہ یہاں قضية طبيعية نہیں ہے بھئی قضية طبيعية۔ تو یہ قضية شرطية اس اعتبار سے بھئی تین قسم پر ہوا بھئی، تین قسم پر۔ یا وہ شخصية ہوگا، یا محصورة ہوگا، یا مهملة ہوگا، قضية طبيعية نہیں۔ قضية طبيعية اس لیے نہیں بھئی کیونکہ قضية شرطية میں حکم احوال پر لگایا جاتا ہے، تقادیر پر لگایا جاتا ہے۔ کس پر؟ تقادیر پر حکم لگایا جاتا ہے، تقادیر یعنی احوال، احوال بھئی۔ اور یہ احوال بمنزلۂ افراد کے ہوتے ہیں۔ کس کے درجے میں ہوتے ہیں؟ افراد کے। تو گویا یہاں حکم افراد پر لگے گا ہر حال میں۔ جبکہ قضية طبيعية کے اندر تو حکم حقیقت پر لگا کرتا ہے، وہ یہاں پر ممکن نہیں بھئی۔ کیونکہ یہاں حکم کس پر لگایا جاتا ہے؟ تقادیر کے اعتبار سے یعنی احوال پر لگایا جاتا ہے اور احوال کس کے درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں ہیں، جبکہ قضية طبيعية میں تو حکم کس پر لگتا تھا؟ افراد پر نہیں لگتا تھا بلکہ حقیقت پر لگتا تھا، جیسے آپ کہتے تھے "الإنسان نوع"، انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ تو یہ نوع کس اعتبار سے انسان پر حکم لگایا گیا؟ حقیقت کے اعتبار سے، کہ حقیقت کے اعتبار سے انسان نوع ہے۔ جبکہ یہاں حکم کس اعتبار سے لگے گا؟ تقادیر کے اعتبار سے، اور تقادیر یعنی احوال بھئی احوال، اور یہ احوال کس درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں ہیں۔ تو گویا یہاں حکم ہمیشہ افراد پر ہوگا۔ جب ہمیشہ افراد پر ہے تو یہاں حقیقت پر حکم ہی نہیں ہے، جب حقیقت پر حکم نہیں ہے تو یہاں قضية طبيعية بھی ممکن نہیں ہے بلکہ صرف کون کون سی قسمیں ہوں گی؟ یا شخصية ہوگا، یا محصورة ہوگا، یا مهملة ہوگا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو قضية شرطية میں حکم کس پر لگتا ہے؟ تقادیر پر، احوال پر، اور یہ احوال کس کے درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں۔ تو گویا ہمیشہ حکم کس پر ہوا؟ افراد پر ہی ہمیشہ ہوگا، جب ہمیشہ تقادیر پر حکم ہے تو گویا ہمیشہ افراد پر حکم ہے، جب افراد پر حکم ہے تو حقیقت پر حکم ہی نہیں ہے، اور حقیقت پر حکم ہو تو اسے قضية طبيعية کہتے ہیں۔ لہذا یہاں قضية طبيعية کا تصور نہیں ہو سکتا بھئی۔ دیکھیے اب کتاب پر: فصل یعنی هذا فصل، یہ فصل ہے۔ اعلم: آپ جان لیں، أنه كما ينقسم الحملية إلى الشخصية والمحصورة والمهملة، کہ جس طرح تقسیم ہوتا ہے قضية حملية شخصية، محصورة اور مهملة کی طرف، كذلك الشرطية تنقسم إلى هذه الأقسام، اسی طرح قضية شرطية بھی تقسیم ہوتا ہے ان اقسام کی طرف، إلا أن القضية الطبيعية لا تتصور هاهنا، مگر یہ کہ قضية طبيعية جو ہے اس کا تصور نہیں ہو سکتا یہاں پر، یعنی وہ یہاں پر ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ احوال پر حکم ہے بھئی۔ ثم التقادير في الشرطية بمنزلة الأفراد في الحملية، پھر تقادیر جو ہیں، تقادیر کا کیا معنی میں نے کیا بھئی؟ احوال، احوال۔ ثم التقادير في الشرطية، پھر احوال جو ہیں شرطية کے اندر، بمنزلة الأفراد في الحملية، یہ حملية میں افراد کے درجے میں ہیں، جیسے افراد ہوتے تھے حملية کے اندر، اسی طرح یہ تقادیر بھی شرطية میں کس درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں ہیں۔ فإن كان الحكم على تقدير معين، پس اگر حکم جو ہے کسی معین تقدیر، کسی معین حالت پر ہو، ووضع خاص، وضع، وضع کا بھی وہی معنی بھئی حال، کسی معین حال پر ہو اور کسی خاص حال پر ہو، سميت الشرطية شخصية، تو اس شرطية کو کیا کہتے ہیں؟ شخصية بھئی۔ كقولنا، جیسے کہ ہمارا قول: إن جئتني اليوم أكرمتك، اگر آج آپ آئے میرے پاس أكرمتك تو میں کیا کروں گا؟ آپ کا اکرام کروں گا۔ بھئی دیکھیے، میں نے آپ کے، آپ کی آمد کے بعض احوال پر، آپ کی آمد پر، میں نے آپ کی آمد پر اپنے اکرام کا حکم لگایا کہ آپ کی آمد پر کے لیے میرا اکرام ثابت ہے۔ آپ کی آمد کے لیے یعنی آپ آئیں گے تو میں اکرام کروں گا آپ کا۔ لیکن کیا آپ کے ہر ایک آمد پر میں نے اکرام کا وعدہ کیا ہے؟ اکرام کے، اکرام کو ثابت کیا ہے؟ بلکہ کس، کون سے آمد پر؟ آج کے دن۔ دیکھو معین حالت پر، ایک معین حالت کے لیے میں نے اپنے اکرام کو ثابت کیا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ بھئی آپ کی آمد آج بھی ہو سکتی ہے، کل بھی ہو سکتی ہے، پرسوں بھی ہو سکتی ہے اور میں اس پر اپنے اکرام کا حکم لگا رہا ہوں کہ أكرمتك، میں کیا کروں گا آپ کا؟ اکرام کروں گا۔ لیکن کیا ہر حالت کے لیے آپ کی ہر آمد کے لیے میرا اکرام ثابت ہے؟ بلکہ کس آمد کے لیے؟ جو معین ہے، معین آج کے دن کی جو آمد ہے اس پر میری طرف سے اکرام ہوگا۔ باقیوں کی بات اس میں ذکر نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تو یہ دیکھو ایک معین حالت پر حکم لگایا گیا، ایک معین تقدیر پر حکم لگایا گیا۔ اس کو کہتے ہیں قضية شرطية شخصية بھئی۔ کیا کہتے ہیں؟ صورت سمجھ میں آئی کہ نہیں آئی بھئی؟ ایک معین حالت پر، یاد رکھیے قضية شرطية جو ہے، یہ جو شرط ہوتی ہے یہ موضوع کے درجے میں، اور جزا جو ہے وہ محمول کے درجے میں۔ شرط موضوع ہے اور جزا محمول ہے۔ مثلاً آپ نے کہا "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود"، "إن كانت الشمس طالعة" یہ ہے موضوع، "فالنهار موجود" یہ ہے محمول بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے؟ شرطية میں شرط جو ہوتی ہے وہ کس کے، وہ کیا ہے؟ موضوع، اور جزا کیا ہے؟ محمول۔ اب آپ اس سے موضوع محمول ذرا بنائیں، پہلا کیا، شرط کیا تھی؟ "إن كانت الشمس طالعة" گویا طلوعِ شمس، کیا ذکر ہے اس کے اندر؟ طلوعِ شمس۔ اور "فالنهار موجود" جزا میں کیا ذکر ہے؟ وجودِ نہار، جزا میں کیا ذکر ہے؟ وجودِ نہار ذکر ہے، تو کیا حکم لگایا گیا؟ طلوعِ شمس کے لیے وجودِ نہار ثابت ہے۔ آپ کہتے ہیں "زيد قائم" کیا معنی ہوتا ہے؟ زید کے لیے قیام ثابت ہے۔ یہاں بھی اسی طرح، طلوعِ شمس کے لیے وجودِ نہار ثابت ہے۔ سورج طلوع ہے تو دن بھی موجود ہے۔ تو طلوعِ شمس ہوا موضوع، اور وجودِ نہار ہوا محمول۔ صورت سمجھ میں آئی بھئی؟ تو یہاں پر بھی اسی طرح تھا، میں نے آپ سے کہا تھا: "إن جئتني اليوم أكرمك" اگر آپ میرے پاس آج آئے تو أكرمك پڑھیں یا أكرمك پڑھیں بھئی، تو میں کیا کروں گا آپ کا؟ اکرام کروں گا، تو موضوع کیا ہوا؟ مجیئت آپ کی، آپ کی مجیئت، لیکن ہر مجیئت یا آج کے دن کی؟ آپ کے آج کے دن کی جو مجیئت ہے اس کے لیے میرا اکرام ثابت ہے۔ اس کے لیے میرا، تو ایک معین حالت پر میں نے حکم لگایا، آپ کے آج کے دن کی جو آمد ہے اس کے لیے میرا اکرام ثابت، آپ کی ہر مجیئت کے لیے میں نے اپنا اکرام نہیں ثابت کیا بلکہ آج کی آمد کے لیے، جیسے آپ نے کہا تھا "زيد قائم" ہر، ہر شخص، ہر انسان کے فرد کے لیے قیام میں نے نہیں ثابت کیا تھا، کس کے لیے ثابت کیا تھا؟ ایک معین فرد کے لیے، تو یہاں بھی ایک معین تقدیر کے لیے یہ کہ میرا اکرام ثابت ہے بھئی، تو اسے کیا کہتے ہیں؟ قضية شرطية شخصية کہتے ہیں بھئی۔ بات کچھ واضح ہوئی بھئی؟ ایک معین تقدیر پر حکم لگایا جا رہا ہے، دیکھیے اور مثالیں آئیں گی، اوروں کی، اور واضح ہو جائے گی بات بھئی۔ وإن كان الحكم على جميع تقادير المقدم سميت كلية، اور اگر حکم جو ہے مقدم کی تمام تقدیروں پر ہو، مقدم وہی قضية شرطية میں پہلا جز کیا کہلاتا ہے؟ مقدم، اور دوسرا جز تالی۔ کہتے ہیں: وإن كان الحكم على جميع تقادير المقدم، اور اگر حکم جو ہے مقدم کی تمام تقدیروں پر یعنی تمام احوال پر ہو، سميت كلية، تو اس قضية شرطية کو کیا کہتے ہیں؟ كلية کہتے ہیں بھئی۔ بھئی قضية حملية کے اندر ایک شخصية پڑھا تھا، ایک محصورة پڑھا تھا، جس میں حکم افراد پر ہوتا ہے اور یہ بیان کیا جاتا ہے ساتھ کہ کل افراد پر حکم ہے یا بعض افراد کے لیے یہ حکم ہے بھئی۔ بات یاد ہے یا ساری بھول گئے بھئی؟ ہاں موجبة كلية، موجبة جزئية، سالبة كلية اور سالبة جزئية، چار قسمیں پڑھی تھیں بھئی، وہی یہاں پر بھی جاری ہوں گی بھئی۔ تو یہاں پر بھی، وہاں پر تھا تمام افراد پر حکم ہوتا تھا یا بعض افراد پر حکم ہوتا تھا، تمام افراد سے نفی ہوتی تھی یا بعض افراد سے نفی ہوتی تھی۔ یہاں بھی جو حکم ہے تمام افراد، تمام تقدیروں پر ہوگا یا بعض تقدیروں پر ہوگا۔ یا حکم کی نفی ہوگی تمام تقدیروں سے یا اس، یا بعض تقدیروں سے بھئی، تو یہاں بھی وہ چار قسمیں ہیں۔ تو پہلی قسم وہاں کیا پڑھی تھی؟ موجبة كلية، تو وہاں تھا تمام افراد پر حکم لگتا تھا، یہاں تمام تقدیروں پر حکم لگے گا تمام احوال پر۔ جیسے نحو: مثال کے طور پر "كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا"، جب بھی سورج نکلے گا "كان النهار موجودا" تو دن موجود ہوگا۔ تو "كلما" آیا، جب بھی، جب بھی سورج نکلے گا، دن موجود ہوگا۔ تو طلوعِ شمس کے تمام احوال پر آپ نے حکم لگا دیا، کس چیز کا؟ وجودِ نہار کا۔ سورج کے طلوع کے تمام احوال پر آپ نے کیا حکم لگا دیا؟ وجودِ نہار کا، کہ جب بھی سورج نکلے گا جتنے احوال بھی ہیں طلوعِ شمس کے ان میں سورج ضرور ہوگا۔ اوہ، دن ضرور ہوگا، جتنے بھی احوال ہیں طلوعِ شمس کے ان میں دن ضرور ہوگا بھئی، جتنے بھی احوال ہیں۔ وإن كان الحكم على بعض التقادير كانت جزئية، اور اگر حکم بعض احوال پر ہو تو كانت جزئية، تو کیا ہوگا وہ قضية شرطية؟ جزئية ہوگا، كما في قولنا، جیسے کہ ہمارے اس قول کے اندر: "قد يكون إذا كان الشيء حيوانا كان إنسانا"، کبھی کبھار "إذا كان الشيء حيوانا" جب کوئی چیز حیوان ہو، "كان إنسانا" تو وہ انسان۔ کیا جب بھی کوئی حیوان ہو وہ انسان ہوتا ہے؟ نہیں، ہو سکتا ہے وہ گائے ہو، بکری ہو، گھوڑا ہو۔ لیکن کبھی کبھار جو حیوان ہوتا ہے وہ کیا ہوتا ہے؟ انسان بھی ہوتا ہے بھئی، کیونکہ حیوان کے بہت سے افراد ہیں بھئی، انسان بھی ان میں سے ایک فرد ہے، گائے بھی فرد ہے، بھیڑ بکری بھی فرد ہے، گھوڑا بھی فرد ہے وغیرہ۔ تو یہ سب حیوان ہیں، تو انہی میں بعض احوال میں حیوان کیا ہوتا ہے؟ انسان، اور بعض احوال میں انسان نہیں ہوتا، مثلاً گائے ہوگی یا بکری ہوگی یا بھیڑ ہوگی وغیرہ بھئی۔ تو پہلی کے اندر دیکھو سورج کے طلوع کے تمام احوال پر کیا اس کے لیے کیا ثابت کیا گیا؟ وجودِ نہار، سورج جب بھی طلوع ہوگا جس حال میں بھی ہو، جتنے بھی اس کے احوال ہوں، اس کے ساتھ کیا موجود ہوگا؟ وجودِ نہار ضرور ہوگا۔ اور آگے کہا: "قد يكون إذا كان الشيء حيوانا كان إنسانا"، کبھی کبھار وہ چیز جو حیوان ہوتی ہے وہ کیا ہوتی ہے؟ انسان ہوتی ہے۔ تو حیوان کے تمام احوال میں وہ انسان ہوگا؟ نہیں، بلکہ بعض احوال میں، یہی یہاں انہوں نے بیان کیا "قد يكون"، کبھی کبھار، کبھی "إذا كان الشيء"، کبھی کوئی چیز جب حیوان ہو تو وہ انسان ہوگی۔ وإن ترك ذكر التقادير كلا وبعضا كانت مهملة، اور اگر چھوڑ دیا جائے تقدیروں کے ذکر کو کل اور بعض ہونے کے اعتبار سے، یعنی تقدیر نہ بیان کی جائے، نہ اس کے کل ہونے کو اور نہ بعض ہونے کو بیان کیا جائے، كانت مهملة، تو یہ قضية شرطية کون سا ہوگا؟ مهملة ہوگا، نحو: "إن كان زيد إنسانا كان حيوانا"، اگر زید انسان ہے "كان حيوانا" تو وہ حیوان ہے۔ اگر زید انسان ہے تو وہ، یعنی زید کے بہت سے احوال ہیں، اور زید انسان ہوگا تو پھر ضرور کیا ہوگا؟ حیوان ہوگا بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ جب انسان ہوگا وہ حیوان ہوگا، لیکن کیا ایسا ہمیشہ ہوگا یا کبھی کبھار ہوگا، وہ لفظ ذکر نہیں کیا بھئی، سور جس سے کلیت اور جزئیت کو بیان کیا جاتا تھا اسے کیا کہتے تھے؟ سور، وہ سور یہاں بیان نہیں کیا گیا، پیچھے ایک میں "كلما" ذکر تھا، وہ سور تھا موجبة كلية کا، ایک دوسرا گزرا اس میں "قد يكون" ذکر تھا، وہ سور تھا موجبة جزئية کا بھئی، تو یہاں پر یہ نہیں ذکر کہ جب بھی زید انسان ہوگا، بس اتنا بتایا گیا: اگر زید انسان ہے تو وہ حیوان ہے۔ تو یہ اس کو کیا کہیں گے؟ مهملة۔ تو خلاصۂ کلام یہ ہوا بھئی کہ قضية شرطية بھی قضية حملية کی طرح اس کی بھی تین قسمیں بنیں گی، البتہ قضية حملية کی ایک چوتھی قسم بھی تھی، قضية طبيعية، لیکن وہ یہاں نہیں بنے گی بھئی، اس لیے کیونکہ قضية طبيعية کے اندر حکم حقیقت پر لگتا ہے۔ 2 الانسان نوع انسان کیا ہے؟ نوع ہے یا الانسان كلي انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ تو یہاں حکم حقیقت پر لگتا ہے افراد پر نہیں۔ جبکہ قضیہ شرطیہ کے اندر حکم تقادیر پر لگتا ہے اور تقادیر کو کیا کہتے ہیں؟ تقادیر کا کیا معنیٰ ہے؟ احوال۔ تو احوال پر لگتا ہے اور احوال کس کے درجے میں ہیں؟ افراد کے درجے میں ہیں۔ تو لہذا یہاں حکم ہمیشہ تقادیر پر لگتا ہے اور تقادیر تو ہیں افراد کے درجے میں، تو گویا حکم ہمیشہ کس پر لگتا ہے؟ افراد۔ جب ہمیشہ حکم افراد پر لگتا ہے تو معلوم ہوا حقیقت پر کبھی بھی نہیں لگتا۔ تو قضیہ طبعیہ یہاں ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ وہاں تو حکم حقیقت پر لگتا ہے افراد پر نہیں لگتا بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ فصل في ذكر اسوار الشرطيات یہ فصل أي هذا فصل، یہ فصل ہے في ذكر اسوار الشرطيات، شرطيات کے سور کے ذکر میں بھئی، اسوار جمع ہے سور کی۔ قضیہ شرطیہ کے جو سور ہیں ان کے ذکر میں ہے یہ فصل بھئی۔ بھئی پیچھے قضیہ حملیہ کے اندر انہوں نے بتلائے تھے سور موجبہ کلیہ کا یہ سور ہوگا، موجبہ جزئیہ کا یہ، سالبہ کلیہ کا یہ سور ہوگا، سالبہ جزئیہ کا یہ سور۔ وہی سور یہاں پر شرطیہ میں کیا کیا ہوں گے وہ ذکر کریں گے بھئی۔ اور پھر شرطیہ کے اندر آپ نے پڑھا تھا، شرطیہ دو قسم پر ہے ایک متصلہ ایک منفصلہ۔ متصلہ جس میں دو چیزوں کے درمیان اتصال کی بات ہوتی ہے اور منفصلہ جس میں دو چیزوں کے درمیان انفصال کی بات ہوتی ہے بھئی۔ تو دونوں کو ساتھ ساتھ ذکر کریں گے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں وسور الموجبة الكلية في المتصلة، موجبہ کلیہ کا سور في المتصلة کس کے اندر؟ متصلہ یعنی قضیہ شرطیہ متصلہ میں لفظ متى ومهما وكلما، وہ متى، مهما اور كلما کا لفظ ہے۔ یہ لفظ جب آ جائیں تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ کون سا قضیہ ہے؟ موجبہ کلیہ ہے بھئی یہ والا متصلہ موجبہ کلیہ۔ جیسے دیکھیے بھئی، اوپر کیا آیا تھا؟ كلما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا، سورج جب بھی طلوع ہوگا دن موجود ہوگا، یعنی طلوعِ شمس کے تمام احوال میں اس پر کیا حکم لگایا گیا؟ وجودِ نہار کا حکم لگایا گیا۔ تو اس كلما کہا گیا، دیکھو یہ كلما انہوں نے کہا موجبہ کلیہ کا سور ہے۔ اور اسی طرح متى ہے اور مهما ہے۔ بھئی كلما ہٹائیں ادھر متى لگا دیں۔ متى كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا، معنیٰ وہی ہے۔ اب متى اٹھائیں اور مهما لگا دیں، مهما كانت الشمس طالعة كان النهار موجودا، سورج جب بھی طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا۔ وفي المنفصلة دائما، اور منفصلہ میں کیا ہوگا؟ دائما، یہ ہے موجبہ کلیہ کا سور، دائما۔ بھئی منفصلہ کی کیا مثال پڑھی تھی؟ هذا العدد إما زوج أو فرد، اسی کے ساتھ دائما لگا دو۔ تو یہ کیا بن جائے گا؟ موجبہ کلیہ منفصلہ بھئی، منفصلہ موجبہ کلیہ بھئی۔ دائما هذا العدد إما زوج أو فرد یا یوں دائما العدد إما زوج أو فرد دائما العدد إما زوج أو فرد۔ ہمیشہ کوئی عدد جو ہے وہ یا تو زوج ہوگا یا فرد ہوگا بھئی۔ وسور السالبة الكلية في المتصلة والمنفصلة ليس البتة، اور سالبہ کلیہ کا سور متصلہ اور منفصلہ دونوں میں ليس البتة، وہ کیا ہے؟ ليس البتة۔ جیسے کیا مثال؟ ليس البتة إن كانت الشمس طالعة فالليل موجود۔ سورج طلوع ہو تو رات بھی موجود ہو ایسا قطعی طور پر نہیں ہے بھئی، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے بھئی۔ اچھا، یہ تو تھی مثال متصلہ کی۔ منفصلہ کی بھئی منفصلہ کے اندر میں نے مثال لکھوائی تھی آپ کو ليس البتة إما أن يكون هذا العدد زوجا أو منقسما أو منقسما متساويين، کہ ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ یہ عدد یا تو زوج ہو یا تقسیم ہونے والا ہو دو برابر حصوں میں۔ یہ عدد یا تو زوج ہو یا تقسیم ہونے والا ہو دو برابر حصوں میں۔ ان میں منافات نہیں ہے قطعی طور پر۔ ليس البتة لائے نا، ان میں قطعی طور پر ان میں منافات یعنی انفصال نہیں، زوج ہے تو دو حصوں برابر حصوں میں تقسیم ہوگا۔ انہوں نے تو کہا نا یا تو زوج ہوگا یا دو برابر حصوں میں تقسیم، بھئی یہ ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں، زوج ہوگا تو پھر ضرور کیا ہوگا؟ دو برابر حصوں میں تقسیم ہونے والا ہوگا، اور دو برابر حصوں میں تقسیم ہونے والا تو وہ ضرور کیا ہوگا؟ زوج ہوگا اور انہوں نے تو انفصال بیان کیا تھا۔ کیسے؟ کہ یہ عدد یا تو زوج ہوگا یا دو برابر حصوں میں، بھئی یہ یا نہیں یہ تو جمع ہونے والی چیزیں ہیں ہمیشہ، تو اسی لیے شروع میں ليس البتة لگا دیا۔ کہ ان دو میں انفصال ہو ایسا قطعی طور پر نہیں ہے، ان دونوں چیزوں میں انفصال نہیں، زوج اور دو برابر حصوں میں تقسیم ہونا یہ ہمیشہ جمع ہوں گی، جو زوج ہوگا وہ دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا اور جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا وہ زوج ہوگا۔ تو کہتے ہیں وسور السالبة الكلية في المتصلة والمنفصلة ليس البتة، اور موجبہ سالبہ کلیہ کا سور متصلہ اور منفصلہ میں ليس البتة ہے۔ وسور الموجبة الجزئية فيهما قد يكون، اور موجبہ جزئیہ کا سور فيهما ان دونوں میں، کن دونوں میں؟ متصلہ اور منفصلہ میں، ان دونوں میں قد يكون، وہ کیا ہے؟ قد يكون، جیسے اوپر مثال گزری قد يكون إذا كان الشيء حيوانا كان إنسانا، کبھی کبھار جب کوئی چیز حیوان ہو تو وہ انسان ہوتی ہے، ہمیشہ حیوان ہو تو وہ انسان تو نہیں ہوتی، وہ تو اور بھی چیزیں ممکن ہیں بھئی۔ وسور السالبة الجزئية فيهما قد لا يكون، اور سالبہ جزئیہ کا سور ان دونوں میں، کن دونوں میں بھئی؟ متصلہ اور منفصلہ دونوں میں قد لا يكون، وہ کیا ہے؟ قد لا يكون ہے۔ وہی قد لا يكون إذا كان الشيء حيوانا كان إنسانا، کبھی کبھار جب کوئی چیز حیوان ہو تو وہ انسان نہیں ہوتی، کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی بھئی۔ وبإدخال حرف السلب على سور الإيجاب الكلي، وبإدخال حرف السلب، بھئی کس کون سا سور بیان ہو رہا ہے؟ سالبہ جزئیہ کا سور، کس کا؟ سالبہ جزئیہ کا۔ ایک تو قد لا يكون ہے، دوسرا بإدخال حرف السلب حرفِ سلب کو داخل کرنا على سور الإيجاب الكلي کس پر؟ ایجابِ کلی کے سور پر، ایجابِ کلی کا کیا سور آیا تھا پیچھے؟ متى، مهما اور كلما، یہ تھا متصلہ میں اور منفصلہ میں کیا تھا؟ دائما تھا۔ یہ جو موجبہ کلیہ کا جو سور تھا اسی پر حرفِ نفی داخل کر دو تو موجبہ سالبہ جزئیہ بن جائے گا۔ پہلے کیا تھا؟ كلما كلما كانت الشمس طالعة نہار کو نہیں دوسری چیز لائیں، لیل کو، فالليل موجود۔ اس پر ليس لے آئیں۔ سورج جب بھی طلوع ہو تو رات ہوگی؟ نہیں، تو شروع میں کیا لے آئے؟ ليس۔ ليس كلما كانت الشمس طالعة فالليل موجود۔ کبھی کبھار، کبھی کبھار جب سورج طلوع نہ ہو تو رات موجود ہوگی۔ کبھی کبھار جب سورج نہیں ہوگا تو کیا ہوگی؟ رات ہوگی۔ میرا کلام درست ہے یا غلط ہے؟ درست ہے۔ آپ کہیں گے سورج تو جب بھی نہ ہو ہمیشہ رات ہوتی ہے، بھئی میں نے ہمیشہ کی بات ہی نہیں کی، جب ہمیشہ ہوتی ہے تو کبھی کبھار ہوئی میری میں نے تو کبھی کبھار کی بات کی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ میں نے صرف کبھی میرے میں نے کیا کہا؟ کبھی کبھار جب سورج نہ ہو تو کیا ہوتی ہے؟ رات ہوتی ہے، میرے اس کہنے کا یہ مطلب الٹا مطلب نہیں لینا کہ اس کا تو یہ مطلب نکلا کہ کبھی کبھار سورج نکلا ہو تو رات ہوتی ہے، میں نے تو کہا نا کبھی کبھار نکلا نہ نکلا ہو رات ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کبھی کبھار نہ نکلا ہو تو رات موجود نہیں۔ میں نے کہا سورج کبھی کبھار، توجہ سے سنو، کبھی کبھار سورج نہ نکلا ہو، پہلے مطلق رکھو، سورج نہ نکلا ہو تو کیا ہوتی ہے؟ رات ہوتی ہے، اسی پہ میں نے کبھی کبھار لفظ لایا ہے، کبھی کبھار سورج نہ نکلا ہو تو کیا ہوتی ہے؟ رات ہوتی ہے، اس کا عکس کیا بنتا ہے؟ کبھی کبھار سورج نہ نکلا ہو تو رات یہ تو میں نے بیان کر دیا، سورج نہ نکلا ہو تو کیا ہوتی ہے؟ رات ہوتی ہے، اب رات کی بھی نفی کرو، کبھی کبھار سورج نہ نکلا ہو تو رات موجود نہیں نہیں، یہ یہ بات تو میں نے کی ہی نہیں بھئی۔ میں نے تو صرف اتنا کہا ہے، سورج کبھی کبھار نہ نکلا ہو تو کیا ہوتی ہے؟ رات ہوتی ہے، میں نے صرف کبھی کبھار کی بات کی ہے، آپ اس کا عکس نہیں لینا کہ کبھی کبھار اگر سورج نہ نکلا ہو تو رات ہوتی ہے اس کا مطلب ہے کبھی کبھار نہ نکلا ہو تو رات بھی نہیں ہوتی، میں نے تو کہا رات ہوتی ہے، آپ اس کا عکس کیا نکال رہے ہیں؟ نہیں بھئی، میں نے صرف کبھی کبھار کا ذکر کیا ہے اور جب ہمیشہ جب بھی سورج نہیں ہوتا تو رات ضرور ہوتی ہے، تو کبھی کبھار تو بطریقِ اولیٰ ہو گئی بھئی جب سورج نہ ہو تو رات نہیں ہوتی بھئی، بات سمجھ میں آئی کہ مشکل ہو گئی؟ بھئی یاد رکھیے منطق کے اندر جب ہم کسی چیز کے لیے اثبات کرتے ہیں یا نفی کرتے ہیں، تو ہم ایک حالت کو بیان کر رہے ہیں بعض احوال کو، تو دوسرے بقایہ احوال سے ہم خاموش ہیں، ہمیں ان کا یوں کہیں یا تو علم ہی نہیں یا میں نے ان کو چھیڑا ہی نہیں، تو جو احوال میں نے ذکر کیے بس اس اعتبار سے دیکھ کے بتاؤ میں نے صحیح بات کی ہے یا صحیح نہیں کی، میں نے کیا کہا؟ کبھی کبھار جب سورج نہیں ہوتا تو رات ہوتی ہے، یہ کلام غلط ہے؟ بالکل صحیح ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی؟ ہاں اس کا اگر یہ عکس کریں گے آپ، کیا؟ کبھی کبھار سورج نہ ہو اور رات بھی نہ ہو، یہ تو آپ نے عکس مانا لیا، میں نے تو عکس ذکر ہی نہیں کیا، میں نے تو صرف اتنا کہا کہ کبھی کبھار اگر سورج نہیں ہوتا تو رات ہوتی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہ معنیٰ ہے وبإدخال حرف السلب على سور الإيجاب الكلي اور داخل کرنا حرفِ سلب کو ایجابِ کلی کے سور پر، دیکھو میں نے كلما پر ليس داخل کیا تھا كلما، اسی طرح متى، مهما یا دائما ان پر بھی حرفِ نفی ليس وغیرہ داخل کر دیں گے تو کیا بن جائیں گے یہ؟ پہلے موجبہ کلیہ تھے پھر سالبہ جزئیہ بن جائیں گے، سالبہ جزئیہ کے سور بیان ہو رہے ہیں۔ واللفظة لو، وإن، وإذا في الاتصال، لو، إن اور إذا کے جو الفاظ ہیں في الاتصال کس کے اندر؟ اتصال، اتصال کس میں ہوتا ہے؟ قضیہ متصلہ میں، یعنی یہ متصلہ کے اندر۔ وإما وأو في الانفصال، اور إما اور أو کے لفظ کس کے اندر؟ انفصال، انفصال کس میں بیان ہوتا ہے؟ منفصلہ، یعنی یہ قضیہ منفصلہ میں۔ تجيء في الإهمال، اہمال کس میں ہوتا ہے؟ مہملہ میں، جس میں کلیت اور جزئیت کو بیان نہیں کیا جاتا، تو یہ لو، إن اور إذا کے جو لفظ ہیں اتصال کے اندر اور إما، أو کے جو لفظ ہیں انفصال کے اندر تجيء في الإهمال یہ کس میں آتے ہیں؟ اہمال میں آتے ہیں، یعنی قضیہ جس میں اہمال ہوتا ہے یعنی کلیت اور جزئیت کو بیان نہیں کیا جاتا، یہ قضیہ مہملہ کے بارے میں بتلا رہے ہیں بھئی، اگر قضیہ متصلہ میں صرف کیا ذکر ہے؟ إن یا لو یا إذا، ساتھ كلما بھی نہیں ہے، ساتھ متى، مهما، دائما بھی نہیں ہے، ساتھ قد يكون اور قد لا يكون بھی نہیں ہے، یہ ساری چیزوں میں سے کوئی بھی نہیں ہے صرف إن ہے، لو ہے یا إذا، تو اس کو کیا کہنا؟ قضیہ شرطیہ مہملہ کہنا، مہملہ۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور انفصال کے اندر إما اور أو آ جائیں تو اسے کیا کہنا؟ مہملہ، هذا العدد إما زوج أو فرد، بھئی میں نے قضیہ موجبہ کا سور ذکر کیا یہاں کوئی دائما ذکر کیا؟ نہیں، قد يكون یا قد لا يكون ذکر کیا؟ نہیں، تو پھر صرف کیا لے کر آیا؟ إما اور أو، اور إما اور أو قضیہ منفصلہ میں کس لیے آتے ہیں؟ مہملہ کے لیے، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ مہملہ۔ یا اسی طرح میں کہتا ہوں إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، میں نے کوئی ہمیشہ کی بات کی؟ كلما میں نہیں لے کر آیا، متى یا مهما نہیں لے کر آیا، میں قد يكون اور قد لا يكون نہیں لے کر آیا، صرف کیا لے کر آیا؟ إن، اور إن کس میں آتا ہے؟ متصلہ میں، اور پھر اس کو کیا کہیں گے؟ انہوں نے کیا بتایا؟ مہملہ کہیں گے کہ إن، لو اور إذا اتصال میں یعنی متصلہ کے اندر اور إما اور أو انفصال کے اندر، اور انفصال کس میں ہوتا ہے؟ یعنی منفصلہ میں، تجيء في الإهمال یہ کس میں آتے ہیں؟ اہمال کے اندر بھئی، مہملہ کے اندر بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 64 of 108