Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-074

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 56
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 74 فصلٌ وإذ قد فرغنا عن مباحث القضايا والعكوس التي كانت من مبادئ الحجة فحريٌّ بنا أن نتكلم في مباحث الحجة، فنقول الحجة على ثلاثة أقسام: أحدها القياس والثاني الاستقراء والثالث التمثيل، فلنبين هذه الثلاثة في ثلاثة فصول. فصلٌ أي هذا فصلٌ، یہ فصل ہے۔ وإذ قد فرغنا عن مباحث القضايا اور جب ہم فارغ ہو گئے قضايا عن مباحث القضايا والعكوسِ اور جب ہم فارغ ہو گئے ان قضايا اور ان عکسوں کی بحثوں سے التي كانت من مبادئ الحجةِ جو کہ حجة کے مبادئ میں سے ہیں۔ جب ہم فارغ ہو گئے قضايا اور عکسوں کی ان مباحث سے جو کہ حجة کے مبادئ ہیں۔ حجة کے مبادئ ہیں یعنی وہ ابتدائی باتیں ہیں بھئی۔ بھئی حجة آپ پڑھ چکے، حجة کسے کہا جاتا ہے؟ معلوم تصدیقات کو ترتیب دے کر نامعلوم تصدیق کو حاصل کیا جاتا ہے نامعلوم تصدیق کو۔ اور یہ جو معلوم تصدیق کے ذریعے نامعلوم تصدیق کو حاصل کیا جاتا ہے تو ان کو حجة کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ حجة اور دلیل بھئی دلیل، دو معلوم تصدیقات ان کے ذریعے کس کو حاصل کیا؟ نامعلوم تصدیق کو، تو یہ جو دو معلوم تصدیق جن کو آپ نے ترتیب دیا اس کو کیا کہیں گے؟ دلیل اور حجة۔ اور جو نامعلوم تصدیق حاصل ہوئی اس کو کیا کہیں گے؟ نتیجہ بھئی، کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ کہتے ہیں اور اسی طرح مطلوب بھی کہتے ہیں بھئی مطلوب بھی۔ اور یہ اس فن کا مقصدِ اعلیٰ ہے بھئی۔ یہ اس فن کا مقصدِ اعلیٰ ہے، تو حجة کی بحث کا سمجھنا موقوف تھا قضايا اور عکسوں کی بحث پر، چنانچہ مصنف بھی فرماتے ہیں کہ قضايا اور عکسوں کی بحث سے جب ہم فارغ ہو گئے، قضايا اور عکسوں کی وہ بحثیں جو کہ اس حجة کے مبادئ میں سے ہیں، اس کی ابتدائی باتیں ہیں یعنی ان کا سمجھنا ضروری ہے، ان کے سمجھنے پر ہی حجة کا سمجھنا موقوف ہے تو پہلے ان کو ذکر کر دیا اب کس کو ذکر کرنے لگے ہیں؟ حجة کو ذکر کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں وإذ قد فرغنا عن مباحث القضايا والعكوس التي كانت من مبادئ الحجةِ اور جب ہم فارغ ہوئے قضايا اور عکسوں کی ان مباحث سے جو اس جو حجة کے مبادئ ہیں فحريٌّ بنا، حريٌّ حرى يحرى کے معنی ہوتے ہیں لائق ہونا، مناسب ہونا۔ فحريٌّ بنا پس ہمارے لیے مناسب ہے، ہمارے لائق ہے أن نتكلم في مباحث الحجةِ کہ ہم تکلم کریں حجة کے مباحث میں، ہم کلام کریں کس کے اندر؟ حجة کے مباحث میں۔ قضايا اور عکسیں جن پر یہ موقوف تھے ان کا بیان ہم نے کر دیا تو اب ہمارے لیے مناسب ہے کہ ہم حجة کے مباحث میں کلام کریں۔ فنقولُ پس ہم کہتے ہیں الحجةُ على ثلاثة أقسامٍ کہ حجة جو ہے وہ تین قسم پر ہے أحدها القياسُ ان میں سے ایک قياس ہے وثانيها الاستقراءُ اور دوسرا استقراء ہے وثالثها التمثيلُ اور تیسرا تمثیل ہے بھئی۔ تو حجة تین قسم پر ہوئی قياس، استقراء اور تمثیل بھئی۔ فلنبين هذه الثلاثة في ثلاثة فصولٍ پس چاہیے کہ ہم بیان کریں یہ تین تین فصلوں میں، پس ہمیں چاہیے کہ ہم ان تینوں کو تین فصلوں میں بیان کریں۔ فصلٌ في القياسِ أي هذا فصلٌ في القياسِ، یہ فصل ہے قياس کے بارے میں۔ وهو قولٌ مؤلفٌ من قضايا يلزم عنها قولٌ آخر بعد تسليم تلك القضايا۔ سب سے پہلے قياس کو ذکر کریں گے بھئی، سب سے پہلے قياس کو کیونکہ یہ ان تین قسموں میں سے سب سے اعلیٰ ہے بھئی، سب سے اعلیٰ ہے بھئی، اس لیے پہلے اس کو ذکر کر رہے ہیں۔ تو قياس کی تعریف کر رہے ہیں کہتے ہیں وهو قولٌ مؤلفٌ من قضايا وہ قول ہے جو مرکب ہو، مؤلف کا کیا معنی؟ مرکب۔ وہ قول جو مرکب ہو من قضايا قضیوں سے، کس سے مرکب ہو؟ قضیوں سے۔ قضايا جمع لے کر آئے لیکن اس سے مراد ما فوق الواحد ہے بھئی۔ جمع کا تو کم از کم اطلاق کتنے پر ہوتا ہے؟ تین پر، تو تین نہیں یہاں مراد بس ایک سے زائد، تو یہ دو کو بھی شامل ہوا۔ تو دو نا مع دو معلوم تصدیقوں کو ملا کر کس کو حاصل کیا جاتا ہے؟ ایک نامعلوم تصدیق کو۔ تو کہتے ہیں وهو قولٌ مؤلفٌ اور قول کے بارے میں بھی آپ پڑھ چکے بھئی کہ قول کتنی قسم پر ہے؟ ایک قولِ ملفوظ ہے اور ایک قولِ معقول ہے، قولِ ملفوظ جس کو ہم زبان سے ادا کریں جس پر تلفظ کریں اور قولِ معقول جو ذہن میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں وهو قولٌ مؤلفٌ من قضايا وہ قول ہے جو مرکب ہو قضیوں سے، ایسے قضیوں سے يلزم عنها دیکھیے قضايا نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد يلزم فعل آیا اور نکرہ کے بعد فعل آئے تو وہ عموماً اس کی صفت بنتا ہے، اور پھر ترجمہ کس طرح کرتے ہیں؟ کہ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آتے ہیں، تو قضايا یہاں موصوف ہے اس سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آئیں گے۔ تو دیکھیے کس طرح ہوگا ترجمہ، کہتے ہیں قياس وہ قول ہے جو مرکب ہو ایسے قضايا سے کہ لازم آتا ہو ان قضايا سے، ھا ضمیر کس کو راجع ہے؟ قضايا کو۔ کہ لازم آتا ہو ان قضايا سے قولٌ آخر ایک اور دوسرا قول بعد تسليم تلك القضايا بعد تسلیم کر لینے ان قضايا کو۔ ان قضايا کو ان قضیوں بھئی دو قضیوں کو آپ نے ترتیب دیا ان دو قضیوں کو اگر تسلیم کر لیا جائے تو اس سے ایک اور قول لازم آتا ہے یعنی آگے نتیجہ نکلتا ہے، کیا نکلتا ہے؟ نتیجہ نکلتا ہے۔ مثلاً بھئی میں کہتا ہوں کہ منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے، منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے، اور جس چیز سے ذہن تیز ہوتا ہو اس کا سیکھنا ضروری ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ منطق کا سیکھنا ضروری ہے، دیکھو خود بخود نتیجہ آپ کے سامنے آ گیا۔ منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے ایک قضیہ، اور دوسرا ہاں جس چیز سے ذہن تیز ہوتا ہو اسے اسے سیکھنا ضروری ہے اس کا سیکھنا مفید ہے، یہ دوسرا قضیہ ہوا، اور نتیجہ کیا نکلا؟ منطق کا سیکھنا ضروری ہے یا منطق کا سیکھنا مفید ہے، یہ نتیجہ نکل آیا بھئی۔ اور یہ نتیجہ کب نکلے گا؟ جب پہلے دو کو آپ تسلیم کر لیں گے، کیا کر لیں گے؟ اگر وہ جن کو آپ نے ترتیب دیا ہے اگر ان دو کو تسلیم کر لیا جائے تو تیسرا خود بخود حاصل ہو جائے گا بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اور چنانچہ جب انہوں نے کہہ دیا کہ ان قضیوں کو تسلیم کر لیا جائے، پہلے دو قضیوں کو کیا کر لیا جائے؟ تسلیم کرنے کے بعد نتیجہ حاصل ہو جائے گا بھئی، نتیجہ حاصل ہو جائے گا۔ اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو گیا کہ جو آپ نے دو قضیے جو آپس میں جوڑے ہیں ان کا ضروری نہیں کہ وہ صادق ہوں، کاذب ہی کیوں نہ ہوں پھر بھی اس کو قياس کہا جائے گا بھئی۔ وہ دو قضیے جن کو جوڑا اور اس سے پھر تیسرا ان کو تسلیم کر لیا جائے تو تیسرا قضیہ بھی حاصل ہو جائے گا بھئی، تو ان کا صادق ہونا ضروری نہیں، چاہے کاذب ہی کیوں نہ ہوں لیکن اگر ان کو تسلیم کرتے ہیں تو کیا نتیجہ ایک تیسرا قضیہ حاصل ہو جائے گا آپ کو بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ انہوں نے تسلیم کرنے کی قید لگائی یہ نہیں کہا کہ وہ واقع میں اگر ایسے ہوں تو ایک نتیجہ نکل آئے گا آگے، ہاں ان دو کو اگر آپ تسلیم کر لیتے ہیں چاہے کاذب ہی کیوں نہیں ہیں تسلیم کریں گے تو خود بخود کیا آ جائے گا؟ نتیجہ حاصل ایک تیسرا قول لازم آئے گا ایک تیسرا قول حاصل ہو جائے گا اور اسے کیا کہتے ہیں؟ نتیجہ کہتے ہیں بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یا مثلاً بھئی کیا مثال میں نے بنائی تھی پہلے؟ کہ منطق منطق سے ذہن تیز ہوتا ہے، دوسری مثال بنا لیں زیيد درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے، زیيد درجہ ثانیہ میں پڑھتا ہے یا یوں بنائیں ہم درجہ ثانیہ میں پڑھتے ہیں، ہم درجہ ثانیہ میں پڑھتے ہیں اور درجہ ثانیہ کا ہر طالب علم بہت بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ ہم بہت بڑے منطقی ہیں، نتیجہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی تو یہ پہلے دو کو اگر آپ تسلیم کر لیتے ہیں تو اس کے ساتھ لازم ہے ایک تیسرا قول بھی وہ جو نتیجہ ہے بھئی نتیجہ۔ جی دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں وهو قولٌ مؤلفٌ من قضايا يلزم عنها قولٌ آخر بعد تسليم تلك القضايا وہ قياس وہ ایسا قول ہے جو مرکب ہو ایسے قضیوں سے کہ لازم ہو ان کے ساتھ ایک اور قول ان کو ان قضیوں کو تسلیم کر لینے کے بعد، فإن كانت النتيجةُ أو نقيضُها مذكورةً فيه يسمى استثنائياً اگر نتیجہ أو نقيضُها أي نقيض النتيجةِ اگر نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ مذكورةً فيه وہ مذکور ہو اس قياس میں ہی يسمى استثنائياً تو اس اس قياس کو قياسِ استثنائی کہا جاتا ہے۔ قیاس کی تقسیم کر رہے ہیں آپ کو بتلائیں گے ایک قياسِ استثنائی ہے اور ایک قياسِ اقترانی ہے بھئی، قياسِ استثنائی کس کو کہتے ہیں؟ اگر نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ اس قياس کے اندر ہی مذکور ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قياسِ استثنائی، کیا اگر مذکور ہو؟ نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ خود مذکور ہو یا اس کی نقیض اس قياس کے اندر ہی مذکور ہو تو اس کو قياسِ استثنائی کہیں گے، كقولنا جیسے کہ ہمارا قول إن كان زيدٌ إنساناً كان حيواناً لكنه إنسانٌ اگر زیيد انسان ہے تو وہ حیوان ہے لیکنہ انسانٌ لیکن وہ انسان ہے۔ اگر زیيد انسان ہے تو وہ حیوان ہے لیکن وہ انسان ہے، ينتج یہ نتیجہ دیتا ہے فهو حيوانٌ کہ زیيد حیوان ہے۔ کیا نتیجہ آیا بھئی؟ کہ زیيد حیوان ہے، زیيد حیوان ہے۔ اور یہ قياس کونسا ہے بھئی؟ آپ دیکھیں غور کریں نتیجہ کیا آیا فهو حيوانٌ، اور اگر نتیجہ یا اس کی نقیض قياس کے اندر ہی مذکور ہو اسے کیا کہا جاتا تھا؟ قياسِ استثنائی، اور یہاں بھی دیکھیے نتیجہ کیا ہے؟ فهو حيوانٌ، اور یہ نتیجہ كان حيواناً کے ضمن میں آ گیا بھئی۔ بھئی نتیجہ یہاں مذکور ہے قياس کے اندر ہی كان حيواناً، كان کو ذرا ہٹا دو اس کے اندر ھو ضمیر ہے اس کو نکال لیں ھو حیوانٌ، آ گیا یا نہیں آ گیا یہاں پر؟ اور نتیجہ بھی کیا تھا؟ ھو حیوانٌ، تو یہی نتیجہ خود مذکور تھا قياس کے اندر ہی، تو اس قياس کو کیا کہا جاتا ہے؟ قياسِ استثنائی۔ جی اور یہاں نتیجہ خود قياس کے اندر تھا یا اس کی نقیض تھی بھئی؟ خود نتیجہ ہی کس کے اندر تھا؟ قياس کے اندر موجود تھا، آگے ایک اور مثال ذکر کر رہے ہیں اس میں نتیجے کی نقیض قياس کے اندر مذکور ہوگی بھئی، یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ إن كان زيدٌ إنساناً اگر زیيد انسان ہے تو كان حيواناً تو حیوان ہے لیکنہ انسانٌ لیکن وہ انسان ہے، تو نتیجہ کیا نکلا؟ وہ حیوان ہے، بھئی انہوں نے کہا اگر زیيد انسان ہے تو وہ حیوان ہے، اور آگے خود ہی کہہ دیا لیکن وہ انسان ہے، پہلے کہا تھا اگر وہ انسان ہے تو حیوان ہے، اور آگے اشارہ کر دیا کہ وہ کیا ہے؟ انسان ہے، اور انسان ہو تو اس نے وہ کیا ہوگا؟ حیوان، یہی بات نکل آئی وہ حیوان ہے بھئی، جب یہ علم ہو گیا کہ وہ انسان ہے تو یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ حیوان ہے۔ دوسری مثال وإن كان زيدٌ حماراً اور اگر زیيد گدھا ہے كان ناهقاً تو وہ ناہق ہے، ناہق نہیق وہ گدھے کی آواز رینکنا اس کو کہتے ہیں اردو میں، اگر زیيد گدھا ہے تو وہ رینکنے والا ہے لیکنہ ليس بناهقٍ لیکن وہ رینکنے والا نہیں، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ وہ گدھا بھی نہیں، ينتج أنه ليس بحمارٍ یہ نتیجہ دیتا ہے کہ وہ گدھا نہیں، وہ گدھا نہیں ہے یہ نتیجہ قياس کے اندر مذکور ہے یا نہیں؟ إن كان زيدٌ حماراً ان شرط کو ہٹا دو ذرا زيدٌ حمارٌ یا ھو حمارٌ ھو حمارٌ، یہ مذکور ہے یا نہیں؟ اور نتیجہ کیا نکلا؟ ھو ليس بحمارٍ، وہ گدھا اور مذکور کیا ہے قضیہ قياس میں؟ ھو حمارٌ، اس کی نقیض مذکور ہے بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو کبھی خود وہ نتیجہ مذکور ہوگا کبھی اس کے نقیض مذکور ہوگی اس کو قياسِ استثنائی کہتے ہیں، آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ وہ قضیہ جس کے وہ قياس جس کے اندر نتیجے کی طرف اشارہ کر دیا جائے لیکنّ کے ذریعے، اسے کیا کہا جاتا ہے؟ قياسِ استثنائی، تو یہاں بھی لیکنّ کے ذریعے نتیجے کی طرف اشارہ کر دیا گیا، کہا گیا اگر زیيد گدھا ہے تو وہ رینکنے والا ہے، اور پھر ساتھ بتلا بھی دیا گیا کہ وہ رینکنے والا نہیں، اور آپ نے تو پیچھے کیا بتلایا تھا؟ اگر وہ گدھا ہے تو رینکنے والا ہے، اور وہ رینکنے والا نہیں تو نتیجہ کیا نکلا؟ وہ گدھا بھی نہیں بھئی، چلیے بس بھئی هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 74 of 108