LESSONS NO. 71
1
وَيُشْتَرَطُ فِي أَخْذِ نَقَائِضِ الشَّرْطِيَّاتِ الْاتِّفَاقُ فِي الْجِنْسِ وَالنَّوْعِ وَالْمُخَالَفَةُ فِي الْكَيْفِ، فَنَقِيضُ الْمُتَّصِلَةِ اللُّزُومِيَّةِ الْمُوجَبَةِ سَالِبَةٌ مُتَّصِلَةٌ لُّزُومِيَّةٌ، وَنَقِيضُ الْمُنْفَصِلَةِ الْعِنَادِيَّةِ الْمُوجَبَةِ سَالِبَةٌ مُنْفَصِلَةٌ عِنَادِيَّةٌ۔
نقائض کی بحث چل رہی ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے آپ کو قضائے حملیہ کے اندر تناقض کی شرطیں ذکر کر دیں۔ اب قضیہ شرطیہ جو ہے، اس میں تناقض کے لیے کیا شرطیں ہیں، وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔
تو مصنف فرماتے ہیں: وَيُشْتَرَطُ فِي أَخْذِ نَقَائِضِ الشَّرْطِيَّاتِ، اور شرط لگائی جائے گی شرطیات کی نقیضوں کے پکڑنے میں، یعنی ان کے حاصل کرنے میں، ان کے بنانے میں۔ قضایا شرطیہ جو ہیں، ان کی نقیضیں بنانے میں شرط ہوگی الْاتِّفَاقُ فِي الْجِنْسِ وَالنَّوْعِ، جنس اور نوع میں اتفاق کا ہونا، وَالْمُخَالَفَةُ فِي الْكَيْفِ، اور کیفیت میں مخالفت ہونا۔
بھئی! قضیہ شرطیہ کی نقیض بنانے لگے ہیں تو جنس اور نوع میں اتفاق ہونا چاہیے۔ یعنی جو نقیض بنائیں، اس کی بھی وہی جنس ہو جو پہلے کی جنس تھی، پہلے قضیے کی۔ اور نوع بھی اس کی وہی ہونی چاہیے جو پہلے کی ہے۔ البتہ کیف میں مخالفت ہونی چاہیے بھئی۔ کیف، یعنی ایک میں ایجاب ہے تو دوسرے میں کیا ہونا چاہیے؟ سلب۔ اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں ایجاب ہونا چاہیے بھئی۔
اب یہ جنس اور نوع سے کیا مراد ہے بھئی؟ جنس اور نوع سے؟ یاد رکھیے، آپ نے قضیہ شرطیہ کی قسمیں پڑھی تھیں کہ وہ دو قسم پر ہے، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ پھر اس کے بعد پڑھا تھا یہ متصلہ جو ہے، یہ دو قسم پر ہے، یا لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔ لزومیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔ اسی طرح جو قضیہ منفصلہ ہے، وہ دو قسم پر ہے، یا عنادیہ ہوگا یا اتفاقیہ۔
جنس سے مراد یہ جو اولا ًپہلی دو قسمیں بنیں، وہ مراد ہیں بھئی۔ یعنی متصلہ اور منفصلہ ہونا۔ تو متصلہ اور منفصلہ ہونے میں جنس میں اتفاق ہونا چاہیے دونوں قضیوں کے اندر۔ یعنی ایک قضیہ شرطیہ متصلہ ہے تو نقیض بھی کیا ہونی چاہیے؟ قضیہ شرطیہ متصلہ۔ اور اگر ایک قضیہ شرطیہ منفصلہ ہے تو اس کی نقیض بھی کیا ہونی چاہیے؟ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہی ہونی چاہیے، جنس میں اتحاد ہو۔
اور نوع سے مراد آگے وہ جو متصلہ اور منفصلہ کی آگے قسمیں بتلائی تھیں بھئی، وہ نوع ہے۔ یعنی لزومیہ، عنادیہ، اتفاقیہ وغیرہ۔ تو ان میں بھی اتفاق ہونا چاہیے۔ یعنی اگر ایک قضیہ متصلہ لزومیہ ہے تو اس کی نقیض بھی کیا ہونی چاہیے؟ متصلہ لزومیہ۔ اگر ایک قضیہ متصلہ اتفاقیہ ہے تو اس کی نقیض بھی کیا ہونی چاہیے؟ متصلہ اتفاقیہ۔ اگر پہلا قضیہ منفصلہ عنادیہ ہے تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے نقیض کو بھی؟ منفصلہ عنادیہ ہونا چاہیے۔ اور اگر پہلا قضیہ منفصلہ اتفاقیہ ہو تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ منفصلہ اتفاقیہ بھئی۔
البتہ کیفیت میں اختلاف ہونا چاہیے۔ جنس اور نوع کے اندر تو اتفاق ہو اور کیفیت میں اختلاف ہو۔ اور کیفیت کس چیز کا نام تھا؟ ایجاب اور سلب۔ اور نقیض میں تو آپ یہ پڑھ ہی چکے ہیں، ایک میں ایجاب ہو تو دوسرے میں ہمیشہ کیا ہونا چاہیے؟ سلب۔ اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں ایجاب ہونا چاہیے بھئی۔ آسان سی بات ہے۔ اصل لفظوں میں یوں کہو بھئی، جو پہلا قضیہ تھا بعینہ وہی قضیہ، البتہ صرف اس میں نفی لے آؤ۔ اس میں کیا لے آؤ؟ نفی لے آؤ بھئی، نفی لے آؤ۔ اگر وہ ایجاب تھا پہلے میں تو دوسرے میں نفی لے آؤ۔ اور اگر پہلے میں نفی تھی تو دوسرے میں ایجاب لے آؤ بھئی، بس۔
تو کہتے ہیں: وَيُشْتَرَطُ فِي أَخْذِ نَقَائِضِ الشَّرْطِيَّاتِ الْاتِّفَاقُ فِي الْجِنْسِ وَالنَّوْعِ وَالْمُخَالَفَةُ فِي الْكَيْفِ، اور شرط ہے شرطیات کی نقیضوں کے حاصل کرنے میں اتفاق جنس اور نوع کے اندر اور مخالفت کیف میں۔ فَنَقِيضُ الْمُتَّصِلَةِ اللُّزُومِيَّةِ الْمُوجَبَةِ، پس متصلہ لزومیہ موجبہ کی نقیض، سَالِبَةٌ مُتَّصِلَةٌ لُّزُومِيَّةٌ، سالبہ متصلہ لزومیہ ہے۔ دیکھو، پہلا متصلہ تھا، نقیض بھی کیا ہے؟ متصلہ۔ پہلا لزومیہ تھا، نقیض بھی کیا ہے؟ لزومیہ۔ البتہ کیف میں اختلاف ہے، پہلا موجبہ تھا تو دوسرا سالبہ ہے۔ وَنَقِيضُ الْمُنْفَصِلَةِ الْعِنَادِيَّةِ الْمُوجَبَةِ سَالِبَةٌ مُنْفَصِلَةٌ عِنَادِيَّةٌ، اور منفصلہ عنادیہ موجبہ کی نقیض جو ہے، وہ سالبہ منفصلہ عنادیہ ہے۔ دیکھو، پہلا منفصلہ ہے تو نقیض بھی منفصلہ۔ پہلا عنادیہ ہے تو نقیض بھی عنادیہ۔ البتہ پہلا موجبہ ہے تو دوسرا سالبہ ہے۔ وَهَكَذَا، اور اسی طرح۔
فَإِذَا قُلْتَ، پس جب آپ کہیں: دَائِمًا كُلَّمَا كَانَ ا ب ف ج د، دَائِمًا كُلَّمَا كَانَ ا ب ف ج د۔ بھئی! آپ پہلے پڑھ چکے ہیں کہ موضوع اور محمول کو جو ہے، یہ الف، یا یوں کہیں حمزہ، با، جیم، دال وغیرہ، ان حروف سے تعبیر کرتے ہیں اختصار کے لیے۔ کس لیے؟ اختصار کے لیے، اور نیز عموم بتلانے کے لیے کہ ان کی جگہ کوئی بھی لفظ آپ لے آئیں جس سے قضیہ صادق بن جائے تو درست ہے بھئی، کوئی بھی چیز لا سکتے ہیں، کوئی بھی لفظ ان کی جگہ پر۔
تو دیکھیے، انہوں نے کیا بتلایا؟ دَائِمًا كُلَّمَا كَانَ ا ب ف ج د۔ كَانَ نَقِيضُهُ، تو اس کی نقیض جو ہے: لَيْسَ كُلَّمَا كَانَ ا ب ف ج د۔ تو پہلا کیا ہے؟ كُلَّمَا كَانَ ا ب ف ج د، یہ کون سا قضیہ ہے؟ شرطیہ متصلہ اور موجبہ ہے بھئی۔ لزومیہ اور اتفاقیہ کا تو پتہ جب آپ لے کر آئیں گے، لفظ لے کر آئیں گے موضوع، محمول پھر پتہ چلے گا بھئی کہ اتفاقیہ ہے یا مقدم اور تالی پورا آئے گا تو پھر ہی پتہ چلے گا کہ یہ اتفاقیہ ہے یا لزومیہ ہے۔ البتہ اتنا تو پتہ چل رہا ہے اسی عبارت سے، ان لفظوں سے کہ یہ متصلہ ہے اور پہلے میں حرفِ سلب نہیں ہے تو موجبہ ہے۔ اور دوسرا بھی متصلہ ہے اور سالبہ ہے، لَيْسَ كُلَّمَا۔
اس کی جگہ لگائیں بھئی، کوئی موضوع، محمول لے کر آئیں۔ كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، سورج جب بھی طلوع ہو، فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، تو دن موجود ہوگا۔ فَنَقِيضُهُ، اس کی نقیض جو ہے: لَيْسَ كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، ایسا نہیں ہے کہ جب بھی سورج طلوع ہو تو دن موجود ہو۔ تو دیکھیے، ان میں تناقض ہے۔ ایک صادق ہے تو دوسرا کاذب ہے۔
وَإِذَا قُلْتَ، اور جب آپ کہیں: دَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ هَذَا الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، کہ ہمیشہ یہ جو عدد ہے، یہ یا تو زوج ہوگا یا فرد۔ یہ قضیہ منفصلہ کی مثال آ گئی بھئی۔ فَنَقِيضُهُ، تو اس کی نقیض جو ہے: لَيْسَ دَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ هَذَا الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، ایسا نہیں ہے کہ ہمیشہ یہ عدد یا تو زوج ہو یا فرد ہو۔ تو ان میں سے دیکھئیے، پہلا صادق ہے، دوسرا کاذب ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی، اب تناقض کی بحث مکمل ہوئی۔ آگے اب عکس کی بحث بیان کرنے لگے ہیں۔
فَصْلٌ، الْعَكْسُ الْمُسْتَوِي يُقَالُ لَهُ الْعَكْسُ الْمُسْتَقِيمُ أَيْضًا وَهُوَ عِبَارَةٌ عَنْ جَعْلِ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ مِنَ الْقَضِيَّةِ ثَانِيًا وَالْجُزْءِ الثَّانِي أَوَّلًا مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ۔
فَصْلٌ، أَيْ هَذَا فَصْلٌ، یہ فصل ہے۔ الْعَكْسُ الْمُسْتَوِي، عکسِ مستوی جو ہے، وَيُقَالُ لَهُ الْعَكْسُ الْمُسْتَقِيمُ أَيْضًا، اور اس کو عکسِ مستقیم بھی کہتے ہیں۔ وَهُوَ عِبَارَةٌ، اور وہ عبارت ہے، عَنْ جَعْلِ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ مِنَ الْقَضِيَّةِ ثَانِيًا وَالْجُزْءِ الثَّانِي أَوَّلًا، قضیے کے پہلے جزو کو دوسرا بنا دینا اور دوسرے جزو کو پہلا بنا دینا، مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ، ساتھ صدق اور کیف کی بقا کے ساتھ۔
بھئی! دیکھیے، عکس، عکسِ مستوی اس چیز کا نام ہے، آپ نے پڑھا تھا، قضیہ حملیہ جو ہے اس کے دو جز ہوتے ہیں، پہلے کو موضوع کہتے ہیں اور دوسرے کو محمول۔ اور اسی طرح قضیہ شرطیہ جو ہے، اس کے بھی کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو جز ہوتے ہیں، پہلے کو مقدم اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں بھئی۔ تو قضیہ شرطیہ کے دو جز ہوتے ہیں، پہلے کو مقدم اور دوسرے کو تالی کہتے ہیں بھئی۔
تو عکس، عکسِ مستوی بھئی! عکسِ مستوی اس چیز کا نام ہے کہ موضوع کو محمول بنا دیا جائے اور محمول کو موضوع بنا دیا جائے۔ یا اسی طرح قضیہ شرطیہ کے اندر مقدم کو تالی بنا دیا جائے اور تالی کو مقدم بنا لیا جائے بھئی۔ آسان سی بات ہے۔
اور اس، اس کو عکسِ مستوی کہتے ہیں۔ مستوی کا معنیٰ سیدھا۔ مستقیم کا معنیٰ بھی سیدھا۔ اس کو عکسِ مستوی یا عکسِ مستقیم کہتے ہیں کیونکہ اس کا طریقہ آسان ہے، سیدھا سادہ ہے بھئی۔ موضوع کو محمول بنایا اور محمول کو موضوع بنا دیا، دونوں کی جگہ بدل دی۔ دونوں کی جگہ۔ تو اس لیے اس کو عکسِ مستوی کہتے ہیں کیونکہ یہ آسان ہے، سیدھا ہے، اس میں کوئی ٹیڑھا پن نہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں آگے ایک عکسِ نقیض آئے گا بھئی۔ عکسِ نقیض کے اندر یہ نہیں کہ موضوع کو محمول کی جگہ لے آئیں بس، بلکہ وہاں پہلے نقیض تیار کرنا پڑتی ہے بھئی۔
تو یہ چونکہ سیدھا سادہ ہے، آسان ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ عکسِ مستوی بھی کہتے ہیں اور عکسِ مستقیم بھی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ عکسِ مستوی کسے کہتے ہیں؟ کہ موضوع کو محمول بنا دیں اور محمول کو موضوع بنا دیا جائے۔ اور ساتھ ساتھ صدق اور کیف کی بقا ہو۔ یعنی پہلا اگر صادق ہے تو دوسرے کو بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق۔ صرف صدق کی بات کر رہا ہوں، کذب کی بات نہیں۔ پہلا صادق ہے تو دوسرا بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق ہونا چاہیے۔
اور کیف میں بھی بقا ہو۔ پہلے میں، پہلے میں ایجاب ہے تو دوسرے میں بھی ایجاب۔ اور پہلے میں اگر سلب ہے تو دوسرے میں بھی کیا ہونا چاہیے؟ سلب ہونا چاہیے بھئی۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو کہتے ہیں: الْعَكْسُ الْمُسْتَوِي يُقَالُ لَهُ الْعَكْسُ الْمُسْتَقِيمُ أَيْضًا، عکسِ مستوی جو ہے، اسے عکسِ مستقیم بھی کہتے ہیں۔ وَهُوَ عِبَارَةٌ عَنْ جَعْلِ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ، اور وہ عبارت ہے عَنْ جَعْلِ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ، بنانا پہلے جزو کو، مِنَ الْقَضِيَّةِ، قضیہ میں سے، پہلے جزو کو بنانا، ثَانِيًا، دوسرا۔ وَالْجُزْءِ الثَّانِي أَوَّلًا، اور دوسرے جزو کو پہلا۔ یعنی محمول کو موضوع بنانا۔ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ، ساتھ صدق اور کیفیت کی بقا کے۔
فَالصَّالِبَةُ الْكُلِّيَّةُ تَنْعَكِسُ كَنَفْسِهَا، پس سالبہ کلیہ جو ہے، تَنْعَكِسُ، وہ منعکس ہوتا ہے، كَنَفْسِهَا، اپنے جیسے کی طرح۔ اپنے جیسے کی طرح ہی منعکس ہوتا ہے۔ یعنی سالبہ کلیہ کا عکس اپنے جیسا ہی آتا ہے۔ سالبہ کلیہ کا عکس اپنے جیسا ہی آتا ہے۔ یعنی یہ سالبہ کلیہ ہے، تو عکس بھی کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ ہی آئے گا۔ كَقَوْلِكَ، جیسا کہ آپ کا قول: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔
اس میں پھر یاد رکھیے، یہ جو پہلا قضیہ ہوگا جس کا، جس سے آگے ہم نے عکس بنانا ہے، اس پہلے کو اصل کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اصل۔ اور پھر آگے اس کا کیا آئے گا؟ عکس آئے گا بھئی۔ جس میں آپ موضوع اور محمول کی جگہ بدل دیں گے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ عکسِ مستوی میں کیا کیا جاتا ہے؟ موضوع کو محمول بنا دیتے ہیں، یعنی پہلے جزو کو دوسرا۔ اور دوسرے جزو کو پہلا، یعنی محمول کو موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ اور شرط کیا ہے اس کے اندر؟ اگر پہلا، پہلا صادق ہے تو دوسرے کو بھی صادق ہونا چاہیے۔ صادق ہونا چاہیے۔ اور پہلے میں ایجاب ہے تو دوسرے میں بھی ایجاب۔ اور اگر پہلے میں سلب ہے تو دوسرے میں بھی سلب ہونا چاہیے۔
صدق کی بات کی، کذب کی بات نہیں کی۔ وجہ اس کی یہ کہ اگر اصل کاذب ہو، اصل قضیہ کیا ہو؟ کاذب ہو، تو اس کا عکس اس کا کاذب ہونا ضروری نہیں۔ اگر اصل قضیہ کاذب ہو، تو اس کے عکس کا کاذب ہونا ضروری نہیں۔
جیسے آپ کہتے ہیں: كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ، ہر حیوان انسان ہے۔ صادق ہے، کاذب ہے؟ ہر حیوان انسان ہے۔ کاذب ہے بھئی، حالانکہ حیوانات میں تو گائے بھی آ گئی، بھینس بھی آ گئی، بکری بھی آ گئی، گدھا بھی آ گیا، گھوڑا بھی آ گیا، یہ تو انسان نہیں ہے۔ اور قضیے میں تو کیا بتلایا گیا؟ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ، تو یہ کاذب ہے، کاذب۔ اب اس کی ذرا، اس کا عکس تیار کریں بھئی! موضوع کیا ہے یہاں پر؟ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ، حیوان موضوع، اور محمول کیا ہے؟ انسان۔ تو دونوں کی جگہ بدل دیں۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ تو دیکھیے، پہلے میں ایجاب تھا تو دوسرے میں بھی کیا ہے؟ ایجاب ہی ہے۔ تو كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ، یہ تھا کاذب۔ اور كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ صادق ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو اسی سے، صرف انہوں نے کتاب میں صدق کی بات کی کہ صدق میں بقا ہونی چاہیے اور کیف میں۔
تو کہتے ہیں: فَالصَّالِبَةُ الْكُلِّيَّةُ تَنْعَكِسُ كَنَفْسِهَا، پس سالبہ کلیہ جو ہے، وہ منعکس ہوتا ہے، یعنی اس کا عکس آتا ہے، كَنَفْسِهَا، اپنی ہی ذات کی طرح، یعنی سالبہ کلیہ ہی۔ كَقَوْلِكَ، جیسے کہ آپ کا قول: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔
لَا شَيْءَ، دیکھو سالبہ ہے۔ اور لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، یہ 'لا شيء' یہ سور تھا کلیہ کا یا جزئیہ کا؟ یہ کلیہ کا سور ہے، تو یہ سالبہ کلیہ ہوا۔ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی بھی انسان حجر نہیں ہے۔ کوئی بھی انسان حجر نہیں، صادق ہے، کاذب ہے؟ صادق ہے بھئی۔
يَنْعَكِسُ، یہ منعکس ہوتا ہے، إِلَى قَوْلِكَ، آپ کے قول، اس قول کی طرف: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِإِنْسَانٍ۔ کوئی بھی پتھر انسان نہیں ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ کوئی بھی انسان پتھر نہیں ہے، اب ہے: کوئی بھی پتھر انسان نہیں ہے۔ پہلے میں انسان موضوع تھا اور حجر محمول۔ جو عکس تیار کیا، اس میں حجر کو موضوع بنا دیا اور انسان کو محمول بنا دیا۔ اور وہ سالبہ کلیہ تھا تو یہ بھی کیا آیا؟ سالبہ کلیہ ہی آیا بھئی۔
2
سالبہ کلیہ کا عکس جو ہے وہ سالبہ کلیہ ہی آتا ہے۔ جیسے کہ آپ کا قول: ”لا شيء من الإنسان بحجر“، اس کا عکس جو ہے وہ آپ کا یہ قول ہے: ”لا شيء من الحجر بإنسان“، بدلیل الخلف۔ کس دلیل کی وجہ سے؟ دلیل خلف کی وجہ سے۔ دلیل خلف کی وجہ سے۔
دلیل خلف آگے یہ بھی بیان کریں گے۔ یاد رکھیے، دلیل خلف اس کو کہتے ہیں کہ آپ ایک دعویٰ کرتے ہیں اور فریق مخالف، یعنی مقابل جو ہے، وہ اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ نے ایک دعویٰ کیا، جیسے یہاں پر آپ نے دعویٰ کیا کہ سالبہ کلیہ کا عکس کیا آئے گا؟ سالبہ کلیہ ہی آئے گا۔ دعویٰ کیا کیا آپ نے؟ کہ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آئے گا۔ یہ آپ کا دعویٰ ہے، اس کے لیے دلیل چاہیے۔ تو اس کی دلیل دلیل خلف سے کرتے ہیں۔
دلیل خلف اسے کہتے ہیں کہ اے فریق مخالف! اگر آپ ہمارے اس دعوے کو نہیں مانتے—دعویٰ کیا تھا؟ کہ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آتا ہے—تو اگر آپ اس سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ کو نہیں مانتے، تو پھر اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ اس کا عکس کیا ہے؟ اس کی نقیض... ابھی گزرا بھئی، تناقض کی بحث ابھی گزری۔ دیکھو، وہ اب یہاں پر کام آئے گی۔ تو وہ اسی ترتیب سے کتاب کو چلا رہے ہیں کہ ہر بحث میں جس جس چیز کی ضرورت پیش آتی ہے، اس کو پہلے سمجھا دیتے ہیں بھئی۔ تو عکس کی بحث کے اندر چونکہ دیکھو، دلیل خلف کا بھی ذکر آ رہا تھا، آگے اسی طرح اور جگہوں پر بھی ضرورت آئے گی، تو پہلے تناقض آپ کو اچھی طرح سمجھا دیا۔
تو اس کی دلیل کیا ہے بھئی؟ دلیل خلف۔ تو دلیل خلف اس کو کہتے ہیں کہ آپ کو ہمارا دعویٰ ماننا پڑے گا۔ اگر دعویٰ نہیں مانتے، تو پھر اس کی نقیض ماننا پڑے گی۔ کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا۔ ارتفاع نقیضین تو... مثلاً آپ کہتے ہیں: یہ چیز انسان ہے۔ یہ چیز انسان ہے۔ نقیض اس کی کیا آئے گی؟ یہ چیز انسان نہیں ہے۔ تو دونوں نہیں اٹھ سکتے۔ یا تو یہ انسان ہے، یا انسان نہیں ہے، دونوں میں سے ایک ضرور صادق آئے گا بھئی، ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا۔ میں نے پہلے بیان کیا تھا کہ ایک ضدین ہوتی ہیں اور ایک نقیضین۔ ضدین بھی ایک دوسرے کے مخالف، نقیضین بھی ایک دوسرے کے مخالف، لیکن ضدین کا اٹھنا ممکن ہے کہ دونوں ہی صادق نہ آئیں، لیکن نقیضین، دونوں کا ارتفاع جائز نہیں کہ دونوں ہی صادق نہ آئیں۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی، آپ کہتے ہیں: یہ چیز سفید ہے۔ دوسرا کہتا ہے: یہ چیز سیاہ ہے، کالی ہے۔ سفید اور کالی، سفید اور سیاہ ہونا یہ ایک دوسرے کی ضد ہیں، نقیض نہیں۔ کیونکہ ہو سکتا ہے وہ چیز نہ سفید ہو نہ سیاہ ہو، بلکہ سرخ ہو یا نیلے رنگ کی ہو۔ تو یہ ضدین ہیں، سفید اور سیاہ۔ جبکہ نقیضین، ان میں دونوں کا اٹھنا ممکن نہیں ہوتا۔ جیسے آپ کہتے ہیں: یہ شے یا تو انسان ہے یا یہ شے لا انسان ہے۔ یہ شے یا تو انسان ہے یا لا انسان ہے۔ تو دیکھیے، یہ شے انسان ہے، یا تو یہ صادق آئے گا، یا یہ صادق آئے گا کہ یہ شے لا انسان ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ نہ انسان ہو اور نہ لا انسان ہو، کیونکہ ارتفاع نقیضین، دونوں نقیضوں کا اٹھ جانا، یعنی ایک بھی صادق نہ آئے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو دلیل خلف کی بات چل رہی تھی۔ دلیل خلف اسے کہتے ہیں کہ آپ فریق مقابل کو کہتے ہیں بھائی—سمجھ میں آیا؟ یہ مناظروں وغیرہ میں ضرورت پیش آتی ہے یا اور بحثوں کے اندر بھئی، کسی سے بحث ہو رہی ہے—کہ اگر آپ کو ہمارا یہ دعویٰ ماننا پڑے گا، اگر آپ ہمارا یہ دعویٰ نہیں مانتے، تو اس دعوے کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ یا تو اسی کو ماننا پڑے گا یا اس کی نقیض، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا، ایک تو ضرور صادق آئے گا، یا یہی بات صادق آئے گی یا اس کی نقیض صادق آئے گی بھئی۔
اور اگر آپ اس کی نقیض کو مان لیتے ہیں، تو اس صورت میں ایک محال چیز لازم آئے گی۔ اگر آپ کیا مان لیتے ہیں؟ اگر ہمارا دعویٰ نہیں مانتے، تو آپ کو اس دعوے کی نقیض کو ماننا پڑے گا، اور نقیض کو ماننے کی صورت میں ایک محال چیز لازم آتی ہے۔ کیا لازم آتی ہے؟ محال۔ محال کسے کہتے ہیں؟ ناممکن، جو ممکن ہی نہیں ہے۔ تو نقیض ماننے کی صورت میں ایک ناممکن بات کا ماننا لازم آئے گا بھئی، ایک محال چیز کا۔
اور معلوم ہوا نقیض کو ماننے کی صورت میں ایک محال چیز لازم آ رہی ہے، اور محال چیز تو ہو نہیں سکتی کوئی، محال تو کوئی چیز ہو نہیں سکتی کہ ایسی چیز ثابت ہو جائے جو محال ہے اور اس کو ماننا پڑ رہا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ اس کی نقیض ماننے کی صورت میں ایک باطل چیز کو ماننا پڑے گا بھئی۔ کس کو ماننا پڑے گا؟ جو باطل ہے، ممکن ہی نہیں ہے، اس کو ماننا پڑے گا۔
اور مسلمہ ضابطہ ہے: جو چیز مستلزمِ محال ہو، وہ خود محال ہوتی ہے، یا جو چیز مستلزمِ باطل ہو، وہ خود باطل ہوتی ہے۔ جس سے کوئی ناممکن چیز لازم آئے، وہ خود ناممکن ہے، وہ خود محال ہے، یا جس سے کوئی باطل چیز لازم آ رہی ہے، وہ خود کیا ہے؟ دعویٰ ہی باطل ہے۔ تو یہ ہے دلیل خلف بھئی۔ معلوم ہوا ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا۔ ہمارا دعویٰ کیا ہوا؟ ثابت ہو گیا۔
دوبارہ سنیں بھئی دلیل خلف۔ دلیل خلف اس کو کہتے ہیں: فریق مخالف کو کہا جائے، مقابل کو کہا جائے، اگر آپ ہمارا دعویٰ نہیں مانتے، تو آپ کو اس دعوے کی نقیض کو ماننا پڑے گا، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو ہو ہی نہیں سکتا، اس بات کو یا اس کی نقیض کو، ان دو میں سے ایک کو ضرور ماننا پڑے گا۔ اور آپ ہمارے اس دعوے کو تو تسلیم نہیں کر رہے، تو کس کو ماننا پڑے گا؟ اس کی نقیض کو ماننا پڑے گا۔ اور نقیض ماننے کی صورت میں ایک محال چیز لازم آتی ہے، اور ضابطہ ہے کہ محال کو جو مستلزم ہو، وہ خود کیا ہوتا ہے؟ محال۔ یا یوں کہو، باطل کو جو مستلزم ہوتا ہے، وہ خود کیا ہوتا ہے؟ وہ چیز جس کے ساتھ باطل لازم ہو، وہ خود باطل ہے بھئی۔
تو لہٰذا نقیض ماننے کی صورت میں ایک باطل چیز لازم آتی ہے، اور جس چیز سے باطل لازم آئے، وہ خود کیا ہوتی ہے؟ باطل۔ معلوم ہوا اس چیز کی نقیض کو نہیں مانا جا سکتا، ورنہ کیا لازم آتا ہے؟ باطل۔ تو اس کی نقیض کو ماننا بھی کیا ہو گیا؟ باطل ہو گیا۔ اور جب نقیض کا ماننا باطل ہوا، تو معلوم ہوا ہمارا دعویٰ سچا ہو گیا۔ نقیض تو نہیں مان سکتے، تو لازمی بات ہے پھر کس کو ماننا پڑے گا؟ ہمارے اس دعوے کو ماننا پڑے گا، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ بھی آئی کہ نہیں آئی بھئی؟
دیکھیے کتاب پر۔ دعویٰ کیا ہے ہمارا؟ کہ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آتا ہے۔ دعویٰ ہمارا یہ کہ سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ ہی آتا ہے۔ اور دلیل اس کی دلیل خلف ہے بھئی۔ کہ اگر آپ سالبہ کلیہ کو سالبہ کلیہ کا عکس نہیں مانتے، تو پھر سالبہ کلیہ کی نقیض کو اس کا عکس ماننا پڑے گا۔ اور اس کی نقیض کو عکس مانیں گے، تو اس سے ایک امر محال لازم آئے گا۔ اور جو چیز مستلزمِ محال ہو، وہ خود محال ہوتی ہے۔ یا یوں کہیں، جو چیز مستلزمِ باطل ہو، وہ خود کیا ہوتی ہے؟ باطل۔
اور یہ... تو معلوم ہوا اس کی نقیض کو عکس ماننا، وہ باطل ہوا۔ جب اس کی نقیض کو عکس ماننا باطل ہوا، تو ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا، کیونکہ جب نقیض نہیں ہو سکتی، تو یہ اصل ہی ہو گا، کیونکہ ارتفاع نقیضین تو ممکن نہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے، بس بھئی، باقی پھر کل پڑھیں گے انشاء اللہ۔ چلیے، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔