Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-069

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 57
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 69 1 ونقيض المشروطة العامة الحينية الممكنة. ونقيض العرفية العامة الحينية المطلقة. وهذا في البسائط الموجهة. ونقائض المركبات منها مفهوم تردد بين نقيضي بسائطها. والتفصيل يطلب من مطولات الفن. تناقض کی بحث پڑھ رہے ہیں آپ۔ آپ نے پڑھا تھا کہ دو قضیہ مخصوصہ کے درمیان تناقض کے لیے آٹھ شرطوں کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ اور قضیہ محصورہ میں تناقض کے لیے، دو قضیہ محصورہ میں تناقض کے لیے آٹھ شرطوں کے ساتھ ساتھ ایک نویں شرط بھی ضروری، اور وہ یہ کہ دونوں کم میں مختلف ہوں بھئی۔ یعنی ایک میں اگر کلیت ذکر ہے تو دوسرے میں جزئیت ذکر ہو۔ اور قضایا موجہہ کے اندر، دو قضایا موجہہ میں تناقض کے لیے اختلاف الجہۃ بھی ضروری ہے بھئی۔ اختلاف الجہۃ بھی ضروری ہے، یعنی اگر ایک میں ایک جہت ذکر ہے تو دوسرے میں دوسری جہت ذکر ہو۔ چنانچہ آپ کو انہوں نے بتلایا تھا کہ ضروریہ مطلقہ جو ہے، اس کی نقیض ممکنہ عامہ آئے گی بھئی، ممکنہ عامہ۔ اور دائما مطلقہ کی نقیض مطلقہ عامہ آئے گی۔ آج آپ کو بتلا رہے ہیں: ونقيض المشروطة العامة الحينية الممكنة، کہ مشروطه عامہ کی نقیض حینیہ ممکنہ آئے گی۔ ونقيض العرفية العامة، اور عرفیہ عامہ کی نقیض جو ہے الحينية المطلقة، حینیہ مطلقہ آئے گی بھئی۔ یہ دو نئے موجہات یہاں ذکر کر رہے ہیں۔ ایک حینیہ ممکنہ اور ایک حینیہ مطلقہ بھئی۔ یہ دو موجہات، ان کو عام موجہات میں منطقہ ذکر نہیں کرتے، صرف نقائض کے اندر یہاں ان کو ذکر کرتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو ان کو عام، پہلے ذکر نہیں کیا، اب یہاں پر ذکر کر رہے ہیں کیونکہ نقیض کی بحث سے ان کا تعلق ہے بھئی۔ تو وہاں عام بحثوں سے تعلق نہیں، اس لیے ان کو ذکر نہیں کرتے بھئی۔ تو انہوں نے سب سے پہلے کیا بتلایا بھئی؟ مشروطه عامہ کی نقیض کیا آئے گی؟ حینیہ ممکنہ۔ مشروطه عامہ کسے کہتے تھے بھئی؟ آپ نے پڑھا تھا بھئی۔ مشروطه عامہ کسے کہتے ہیں؟ ہاں، جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی ضروری ہو جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی کے ساتھ موصوف رہے۔ کیا پڑھا تھا؟ جس میں موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی ضروری ہو، یعنی بالضرورۃ کی قید اس میں آئے گی۔ ضروری ہو جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی کے ساتھ موصوف رہے، یعنی جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے بھئی۔ اس کی کیا مثال آپ نے پڑھی تھی؟ بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا. بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا. کہ یقینی طور پر ہر کاتب جو ہے وہ متحرك الأصابع ہے، اس کی انگلیاں حرکت کرنے والی ہیں ما دام كاتبا جب تک وہ کاتب ہے۔ تو اس کی نقیض کہتے ہیں حینیہ ممکنہ آئے گی بھئی، حینیہ ممکنہ۔ یہ تھا مشروطه عامہ بھئی، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ حینیہ ممکنہ۔ حینیہ ممکنہ کسے کہتے ہیں، یہ لکھ لیجیے بھئی۔ جلدی جلدی لکھئے بھئی۔ حینیہ ممکنہ۔ حینیہ ممکنہ۔ وہ قضیہ ہے، وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف جس میں بحسب الوصف جانبِ مخالف سے جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ لکھ لیا بھئی؟ کیا لکھا؟ حینیہ ممکنہ وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ آسان لفظوں میں یوں کہیے، آسان لفظوں میں یوں کہیے کہ حینیہ ممکنہ وہ قضیہ ہے کہ حینیہ ممکنہ وہ قضیہ ہے جس میں یہ حکم لگایا جائے جس میں یہ حکم لگایا جائے کہ موضوع کے لیے کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت محمول کا ثبوت یا موضوع سے یا موضوع سے محمول کی نفی یا موضوع سے محمول کی نفی ممکن ہے ممکن ہے جب تک ذاتِ موضوع جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی سے موصوف رہے۔ جب تک ذاتِ موضوع وصفِ عنوانی سے موصوف رہے۔ موصوف رہے۔ مثلاً: كل كاتب ضاحك كل كاتب ضاحك بالإمكان العام كل كاتب ضاحك بالإمكان العام حين هو كاتب. حين هو كاتب. ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے مثال کا بھئی؟ كل كاتب ضاحك بالإمكان العام حين هو كاتب. ہر کاتب وہ ضاحک ہے، ہر کاتب کا ضاحک ہونا ممکن ہے حين هو كاتب جس وقت وہ کاتب ہے۔ حین کا معنی ہے وقت بھئی۔ حين هو كاتب، جب تک، جس وقت وہ کاتب ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ بھئی دیکھیے، کیا لکھا آپ نے؟ حینیہ ممکنہ وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کا حکم لگایا جائے۔ بھئی کس قضیے میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی کا حکم ہوتا تھا؟ ممکنہ عامہ کے اندر بھئی۔ ممکنہ عامہ میں تھا جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی۔ تو یہ حینیہ ممکنہ بعینہٖ وہی ہے، صرف ایک قید اس کے اندر زائد ہے۔ اس میں بھی جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہے، لیکن بحسب الوصف۔ بحسب الوصف، یعنی جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے۔ تو دیکھیے، مثال... مثال کو دیکھیں: كل كاتب ضاحك بالإمكان العام، صرف یہاں تک دیکھیں۔ تو دیکھیے، یہ ممکنہ عامہ ہے۔ كل كاتب ضاحك بالإمكان العام، یہ ممکنہ عامہ ہے۔ ایک ساتھ نئی قید آ گئی: حين هو كاتب، یا وہی قید بے شک ذکر کر دیں بھئی: ما دام هو... ما دام هو كاتب بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ حين هو كاتب، جس وقت وہ کاتب ہے۔ بعینہٖ یہ اسی کی طرح ہے بھئی، ما دام هو كاتب کی طرح۔ تو جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے، اس وقت تک اس کا ضاحک ہونا ممکن ہے بھئی، ضاحک ہونا ممکن ہے، تو یہ ممکنہ عامہ ہوا، البتہ اس میں حین یعنی وقت کی قید ہے، اس لیے اس کو حینیہ ممکنہ کہتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو حینیہ مطلقہ کون سا قضیہ ہوا؟ جس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہو بحسب الوصف بھئی۔ حینیہ ممکنہ کسے کہتے ہیں؟ ہاں، وہی، جس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہو بحسب الوصف۔ تو یہ بحسب الوصف اس میں قید زائد آ گئی، ورنہ یہ بعینہٖ وہی ممکنہ عامہ ہے بھئی۔ تو كل كاتب ضاحك بالإمكان العام حين هو كاتب بھئی، حين هو كاتب۔ ہر کاتب کا ضاحک ہونا ممکن ہے جس وقت وہ کاتب ہو۔ جس وقت وہ کاتب ہو، اس وقت اس کا ضاحک ہونا بھی ممکن ہے بھئی، ممکن ہے۔ اب یہ کس کی نقیض ہے بھئی؟ مشروطه عامہ کی، یہ نقیض کس طرح ہے مشروطه عامہ کی؟ بھئی مشروطه عامہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت ہوتا تھا بھئی۔ مشروطه عامہ: كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة ما دام كاتبا. كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة ما دام كاتبا. تو مشروطه عامہ میں کیا ہوتا تھا؟ ہاں، موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا محمول کی نفی ضروری تھی جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت تھا۔ یعنی جس میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت تھا۔ جس میں ضرورت کا... كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة ما دام كاتبا. جس میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت تھا بھئی۔ بات سمجھ آ رہی ہے؟ مشروطه عامہ میں کیا تھا؟ وصف کے اعتبار سے ضرورت کا ثبوت تھا۔ ضروری تھا اس میں، کس اعتبار سے؟ وصف کے... محمول کا ثبوت کس اعتبار سے تھا؟ وصف کے اعتبار سے، اور کس قید کے ساتھ؟ ضرورت کی قید کے ساتھ۔ تو جس میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت تھا، اور اس میں کیا ہے؟ حینیہ ممکنہ میں؟ بحسب الوصف جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی، تو یہ گویا یوں کہیں۔ جس میں بحسب الوصف ضرورت کی نفی ہے، اور اس میں کیا تھا؟ بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت تھا۔ مشروطه عامہ میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت ہے، اور حینیہ ممکنہ میں بحسب الوصف ضرورت کی نفی ہوتی ہے، تو یہ دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہوئے بھئی۔ ایک میں ضرورت کا ثبوت ہے، ایک میں ضرورت کی نفی ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً جو آپ نے کہا: كل كاتب ضاحك بالإمكان العام حين هو كاتب. اس میں جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہے۔ کیونکہ ممکنہ عامہ ہے نا، اور اس کے ایک حصہ جو ہے کیا ہے؟ ممکنہ عامہ، اور ممکنہ عامہ میں کیا ہوتا ہے؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ اور بحسب الوصف ہے پھر یہ، وصف کی اس میں زائد قید آ گئی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ دونوں کس طرح ایک دوسرے کی نقیض ہیں؟ ایک میں کیا ہے؟ مشروطه عامہ میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت ہے، اور حینیہ ممکنہ میں بحسب الوصف ضرورت کی نفی ہے بھئی، جانبِ مخالف سے جو ضرورت کی نفی ہے بھئی۔ تو یہ ایک دوسرے کی نقیض ہوئے بھئی۔ اچھا، مثال اس کی لکھیں بھئی، جس میں کس طرح ایک دوسرے کی نقیض، کس طرح پھر بنائیں گے بھئی ایک قضیے کی بھئی؟ لکھیے بھئی، پہلے پہلا قضیہ لکھ لیجیے: مشروطه عامہ۔ مشروطه عامہ۔ مشروطه عامہ لکھیے: بالضرورة بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا. ما دام كاتبا. لکھ لیا بھئی؟ بالضرورة كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا. اب نقیض بنائیے بھئی اس کی حینیہ ممکنہ۔ جی؟ لا شيء من الكاتب، بھئی کلیہ کی نقیض کلیہ کیسے بنا رہے ہو بھئی؟ کلیت کو جزئیت سے بدلو۔ بعض الكا... بھئی، اچھا، یہ بلکہ مثال دوسری لکھو بھئی۔ یہ اس سے آپ بالضرور... میں نے بتلایا تھا یہ بالضرورة، بالإمكان العام وغیرہ جو جہت ذکر ہوتی ہے اس کو آگے پیچھے کہیں بھی ذکر کیا جا سکتا ہے۔ تو اس کو ذرا آخر میں ذکر کر دو۔ تاکہ کلیت یا جزئیت شروع میں آ جائے، آپ کے لیے بنانا آسان ہو جائے۔ یا تو دوبارہ لکھ لو، یا بالضرورة کو آخر میں لے جائیں بھئی۔ كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا بالضرورة. بالضرورة کو آخر میں لے جائیں بس، باقی وہی لکھیں بھئی۔ كل كاتب متحرك الأصابع ما دام كاتبا بالضرورة. صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ 2 أچھا، اب بنائیے بھئی اس کی نقیض بھئی۔ کل کاتب کی جگہ کیا لے آئیں گے؟ بعض الكاتبين اور متحرک الاصابع ہے یہاں پر۔ ایجاب ہے، سلب ہے؟ ایجاب۔ ایجاب کی جگہ نقیض میں پھر کیا لاتے ہیں؟ سلب، اور سلب ہو تو اس کی نقیض میں کیا لاتے ہیں؟ ایجاب۔ تو سلب لے کر آؤ۔ بعض الكاتب ليس بمتحرك الاصابع حينئذ ممكنة بنا رہے ہیں نا؟ اس میں وصف کی قید تھی۔ کیا وصف کی قید مثال میں لکھوائی تھی؟ حين هو یہاں وصف عنوانی کے مطابق بنا لیں۔ وصف عنوانی کیا ہے؟ کاتب، بھئی۔ اسی سے حين هو كاتب۔ وہ بھی، وہ آخر میں لے آئیں پھر۔ جہت بھی لانی ہے، یاد رکھنا۔ حين هو كاتب بعض الكاتب ليس بمتحرك الاصابع حين هو كاتب اور اب جہت لے کر آؤ، بھئی۔ حينئذ ممکنہ میں کون سی جہت تھی؟ بالامكان العام۔ وہ بھی آخر میں لکھیں، بالامكان العام، بھئی۔ لکھ لیا، بھئی؟ بعض الكاتب ليس بمتحرك الاصابع حين هو كاتب بالامكان العام۔ چاہے بالامكان العام کو پہلے لے آئیں، حين هو كاتب کو مؤخر کر دیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بھئی۔ لکھ لیا، بھئی؟ أچھا، مشروطہ عامہ کیا لکھا تھا؟ كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالضرورة۔ یعنی ہر کاتب کا متحرک الاصابع ہونا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے۔ اور نقیض کیا بنائی اس کی؟ کہ بعض کاتبوں کا متحرک الاصابع نہ ہونا ممکن ہے جس وقت وہ کاتب ہو۔ ایک میں کہا ہر کاتب کا متحرک الاصابع ہونا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے۔ اور دوسرے میں کیا بتلایا؟ کہ بعض کاتبوں کا متحرک الاصابع نہ ہونا بھی ممکن ہے جب تک وہ کاتب ہے۔ تو دیکھو، دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ ایک میں کہا ضروری ہے، ایک میں کہا ضروری نہیں ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ تو کہتے ہیں: ونقيض المشروطة العامة الحينية الممكنة۔ مشروطہ عامہ کی نقیض جو ہے وہ حینیہ ممکنہ ہے۔ ونقيض العرفية العامة الحينية المطلقة۔ اور عرفیہ عامہ کی نقیض جو ہے وہ حینیہ مطلقہ ہے۔ عرفیہ عامہ کس کو کہتے تھے، بھئی؟ عرفیہ عامہ وہ یہی مشروطہ عامہ تھا۔ مشروطہ عامہ میں البتہ بالضرورة کی قید ہے، اور اس میں عرفیہ عامہ میں بالدوام کی قید ہو گی۔ کون سی قید ہو گی؟ بالدوام کی۔ بالضرورة کی جگہ بالدوام لے آئیں تو مشروطہ عامہ سے کیا بن جائے گا؟ عرفیہ عامہ۔ یہی مثال، مثلاً: كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالدوام۔ پہلے میں کیا تھا؟ مشروطہ عامہ میں کیا تھا؟ بالضرورة۔ مشروطہ عامہ یہ تھا: كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالضرورة۔ اب بالضرورة کی جگہ کیا لے آؤ؟ بالدوام لے آؤ۔ دیکھیے، مشروطہ عامہ میں بالضرورة کی قید ہوتی ہے، بس اسی بالضرورة کو اٹھا کر اس کی جگہ بالدوام کی قید لگا دیں تو عرفیہ عامہ بن جائے گا، بھئی۔ كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالدوام۔ كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالدوام۔ تو یہ عرفیہ عامہ بن گیا، بھئی، عرفیہ عامہ۔ اب انہوں نے کہا کہ عرفیہ عامہ کی نقیض جو ہے وہ حینیہ مطلقہ آئے گی، حینیہ مطلقہ۔ بھئی، حینیہ مطلقہ لکھ لیجیے۔ حینیہ مطلقہ وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی کا حکم لگایا جائے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ تعریف مکمل ہوئی، بھئی۔ کیا لکھا؟ حینیہ مطلقہ وہ قضیہ ہے جس میں بحسب الوصف موضوع کے لیے محمول کا ثبوت یا موضوع سے محمول کی نفی کا حکم لگایا جائے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ اور بحسب الوصف کا معنیٰ تو آپ جان گئے، بھئی۔ بحسب الوصف کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ جب تک ذاتِ موضوع کے لیے وصفِ عنوانی ثابت ہے، بھئی۔ مثلاً، مثلاً: كل كاتب ضاحك بالفعل حين هو كاتب۔ لکھئے، بھئی، مثال: مثلاً: كل كاتب ضاحك بالفعل حين هو كاتب۔ کیا معنیٰ ہوا؟ ہر کاتب، وہ ہنسنے والا ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں حين هو كاتب جس وقت وہ کاتب ہے۔ أچھا، تو دیکھیے، بھئی، یہ نقیض ہے عرفیہ عامہ کی، بھئی۔ اور عرفیہ عامہ، عرفیہ عامہ میں کیا ذکر ہوتا تھا؟ بحسب الوصف دوام ذکر ہوتا تھا۔ کیا ذکر ہوتا تھا؟ بحسب الوصف دوام ذکر ہوتا تھا کہ كل كاتب متحرك الاصابع بالدوام ما دام كاتبا۔ تو اس میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا تھا، اور اس میں دوامِ وصفی کی نفی ہے۔ بھئی، تین زمانوں میں سے ایک زمانے کی بات کی، تو دوامِ وصفی کی کیا ہوئی؟ نفی۔ دوام تو یہ تھا ہر ہر زمانے میں، اور حینیہ مطلقہ میں کیا بتلایا گیا؟ كل كاتب ضاحك بالفعل حين هو كاتب۔ بالفعل کا کیا معنیٰ؟ تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ تو عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے، اور حینیہ مطلقہ میں دوام ہوتا ہے یا تین زمانوں میں سے ایک زمانہ؟ دوام تو نہ ہوا، تو اس میں دوامِ وصفی کی نفی ہوئی، بھئی۔ عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے، اور اس میں دوامِ وصفی کی نفی ہوتی ہے، تو یہ ایک دوسرے کی نقیض ہوئے، بھئی۔ جی، مثال لکھ لیں نقیض کی صورت میں، بھئی۔ عرفیہ عامہ، بھئی، عرفیہ عامہ: كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالدوام۔ لکھ لیا؟ كل كاتب متحرك الاصابع ما دام كاتبا بالدوام۔ اب اس کی ذرا نقیض بتائیں مجھے کیسے بنے گی، بھئی؟ حینیہ مطلقہ بنانا ہے۔ کل کاتب کی جگہ کیا لائیں گے؟ بعض الكاتب۔ اور اس پہلے میں ایجاب تھا یا سلب؟ ایجاب۔ تو آپ کیا لے کر آئیں گے؟ سلب۔ تو کیا کہیں گے؟ بعض الكاتب ليس بمتحرك الاصابع۔ اور بحسب الوصف ہوتا ہے اس میں، تو وصف کے ساتھ ذکر کریں گے: حين هو كاتب۔ اور اس میں کیا تھا؟ بالدوام کی قید تھی، تو اس میں تین زمانوں میں سے ایک زمانے کی قید ہو گی۔ کیا کہیں گے یہاں پر؟ بالفعل۔ جی، بالفعل۔ تو لکھیے اس کی، یہ نقیض لکھ لیجیے: بعض الكاتب ليس بمتحرك الاصابع حين هو كاتب بالفعل۔ لکھ لیا، بھئی؟ یہ دیکھیے، عرفیہ عامہ کی نقیض حینیہ مطلقہ تیار ہو گئی، بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر، کہتے ہیں: ونقيض العرفية العامة الحينية المطلقة۔ اور عرفیہ عامہ کی نقیض جو ہے وہ حینیہ مطلقہ ہے۔ وهذا في البسائط الموجهة۔ اور یہ بسائطِ موجہہ میں ہے۔ یہ تو بسائطِ موجہہ کا بیان تھا، اس میں یہ نقیضیں تھیں۔ یعنی ضروریہ مطلقہ کی کیا نقیض انہوں نے بتلائی تھی؟ ممکنہ عامہ۔ دائمہ مطلقہ کی نقیض کیا بنائی تھی؟ مطلقہ عامہ۔ اور مشروطہ عامہ کی نقیض کیا ہے؟ حینیہ ممکنہ۔ اور عرفیہ عامہ کی نقیض کیا ہے؟ حینیہ مطلقہ۔ أچھا، بھئی، بسائط کل کتنے پڑھے تھے آپ نے؟ آٹھ بسائط تھے اور سات کتنے تھے؟ مرکبات تھے۔ تو وہ آٹھ بسائط میں سے دیکھیے، بھئی، ضروریہ مطلقہ بھی آ گیا، ممکنہ عامہ بھی آ گیا، دائمہ مطلقہ بھی آ گیا، مطلقہ عامہ بھی آ گیا، مشروطہ عامہ بھی آ گیا، عرفیہ عامہ بھی آ گیا۔ چھ آ گئے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ چھ وہ پرانے آئے ہیں اور حینیہ ممکنہ اور حینیہ مطلقہ یہ دو نئے آئے۔ تو ان آٹھ میں سے چھ کو ذکر کر دیا نقیضوں کے اندر، بھئی۔ وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کو اور ان کی نقیض کو ذکر نہیں کیا۔ کس کس کو؟ وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ، ان کی نقیض کو ذکر نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ کہ آگے عکسوں اور قیاس کی بحث آ رہی ہے۔ کس کی عکسوں کی بحث ہے اور قیاس کی بحث ہے۔ چونکہ اس بحث سے ان کے اور ان کی نقیضوں کا تعلق نہیں ہے، اس لیے اس کو ذکر نہیں کیا۔ آگے قیاس اور عکسوں کی بحث آ رہی ہے، تو وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کی نقیضوں کا چونکہ اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، تو لہٰذا ضرورت محسوس نہیں کی ان کی۔ جب ضرورت نہیں ہے تو اس لیے ان کو یہاں پر ذکر بھی نہیں کیا۔ اور نیز اس وجہ سے کہ بعض صورتوں میں وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ کی نقیض درست نہیں رہتی، بھئی۔ بعض صورتوں میں ان کی نقیض درست ہی نہیں رہتی، تو اس وجہ سے ان کو ذکر نہیں کیا۔ تفصیل بڑی کتابوں میں آ جائے گی، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی، بھئی؟ تو کہتے ہیں: وهذا في البسائط الموجهة ونقائض المركبات۔ چلیے، باقی پھر کل پڑھ لیں گے، بھئی۔ خلاصۂ بحث کیا ہوا؟ کہ مشروطہ عامہ کی نقیض کیا آئے گی؟ حینیہ ممکنہ۔ اور مشروطہ عامہ کی نقیض حینیہ ممکنہ کیوں ہے؟ کیونکہ مشروطہ عامہ میں بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت ہوتا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا، سمجھ میں آئی بات؟ بحسب الوصف ضرورت کا ثبوت ہوتا ہے مشروطہ عامہ میں، اور حینیہ ممکنہ میں بحسب الوصف ضرورت کا سلب ہوتا ہے یا ضرورت کی نفی ہوتی ہے۔ جبکہ حینیہ مطلقہ وہ نقیض ہے، کس کی؟ عرفیہ عامہ کی۔ اور عرفیہ عامہ میں کس کس کا ثبوت ہوتا ہے؟ دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے۔ کس کا؟ عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی کا ثبوت ہوتا ہے، جبکہ حینیہ مطلقہ میں دوامِ وصفی کا سلب ہوتا ہے، بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس، بھئی۔ هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 69 of 108