Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 51
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 68 1 ولابد في تناقض القضايا الموجهة من الاختلاف في الجهة. فنقيض الضرورية المطلقة الممكنة العامة، ونقيض الدائمة المطلقة العامة، ونقيض المشروطة العامة الحينية الممكنة. تناقض کی بحث چل رہی ہے۔ آپ نے پڑھا کہ دو قضیہ مخصوصہ کے درمیان تناقض کے لیے آٹھ وحدتوں کا ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دو قضیہ محصورہ کے درمیان تناقض کے لیے ایک نویں شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ کم کے اندر دونوں مختلف ہوں بھئی۔ ایک میں کلیت ذکر ہو تو دوسرے میں جزئیت ذکر ہو۔ اور قضایا موجہہ کے اندر تناقض کے لیے ان نو شرطوں کے ساتھ ساتھ ایک دسویں شرط بھی ہے کہ جہت میں بھی اختلاف ہو ان دونوں میں بھئی۔ اگر جہت میں اختلاف نہیں ہوگا تو پھر دونوں کا سچا ہونا یا دونوں سچے ہوں گے یا دونوں جھوٹے ہوں گے بھئی، یہ بھی ممکن ہے۔ جیسے اس کی مثال گزشتہ سبق میں آئی تھی کہ کل انسان کاتب بالإمكان العام۔ اور اس کے مقابلے میں تھا بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام۔ یہاں پہلے میں بتلایا گیا کل انسان کاتب بالإمكان العام، ہر انسان کا کاتب ہونا ممکن ہے۔ اور دوسرے میں بتلایا گیا بعض الإنسان ليس بكاتب بالإمكان العام، بعض انسانوں کا کاتب نہ ہونا ممکن ہے۔ تو ان میں تو کوئی تناقض نہیں ہے بھئی، دونوں صادق ہیں۔ تو معلوم ہوا قضایا موجہہ میں تناقض کے لیے اختلاف فی الجہۃ کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ بتلاتے ہیں: فنقيض الضرورية المطلقة الممكنة العامة۔ ضروریہ مطلقہ کی نقیض جو ہے وہ ممکنہ عامہ ہے۔ ضروریہ مطلقہ کی نقیض ممکنہ عامہ ہے۔ ضروریہ مطلقہ کون سا قضیہ موجہہ تھا؟ جس میں بتلایا گیا تھا کہ موضوع کے لیے محمول کا ثبوت ضروری ہے، جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے، جب تک ذاتِ موضوع موجود ہے۔ جیسے کل انسان حيوان بالضرورة، ہر انسان حیوان ہے یقینی طور پر، بدیہی طور پر۔ تو ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے بھئی، جب تک انسان کی ذات موجود ہے۔ جب تک ایک بھی انسان ہے اس کے لیے حیوان ہونے کا ثبوت یقینی ہے بھئی، ضروری ہے۔ اور یہ تو تھا ضروریہ مطلقہ۔ ممکنہ عامہ کسے کہتے تھے؟ جس میں جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب ہو۔ اگر قضیہ میں ایجاب ذکر ہے تو جانبِ مخالف کیا ہوگی؟ سلب۔ یہ تو یعنی سلب کی ضرورت کی نفی ہوگی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب بھئی، جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جیسے اس کی کیا مثال ہوگی؟ کیا مثال پیچھے گزری تھی؟ کل نار حارة بالإمكان العام۔ کل نار حارة بالإمكان العام بھئی۔ تو بتلا رہے ہیں ضروریہ مطلقہ جو ہے اس کی نقیض ممکنہ عامہ ہوگی بھئی، ممکنہ عامہ۔ بھئی، ضروریہ مطلقہ میں کیا بتلایا جاتا ہے کہ محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہے؟ محمول کا ثبوت موضوع کے لیے ضروری ہے یا محمول کی نفی موضوع سے ضروری ہے۔ مثلاً کیا مثال بنائی؟ کل انسان حيوان بالضرورة۔ کل انسان حيوان بالضرورة، ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ تو دیکھو اس میں ضرورت ذکر ہوئی۔ اس کی نقیض بنائیں بھئی، نقیض۔ لا شيء من الإنسان بحيوان بالإمكان العام اور ممکنہ عامہ بنانا ہے، بالإمكان العام۔ ہاں بھئی، یہی نقیض بنے گی؟ بھئی، کلیت کو جزئیت سے بھی بدلنا ہے بھئی۔ کلیت کو ہاں، یہ ضرور خیال رکھنا، کلیت کو جزئیت سے بدلنا ہے اور اگر جزئیت ہو تو اس کو کلیت سے بدل دینا ہے۔ پہلے میں کیا ذکر ہے؟ کل انسان حيوان بالضرورة۔ تو ادھر کل انسان ہے تو نقیض میں کیا لے کر آؤ؟ بعض الإنسان۔ اور اس میں ایجاب ہے تو دوسرے میں سلب لے کر آؤ بھئی، تناقض تو تبھی ہوگا۔ تو کیا کہیں گے؟ بعض الإنسان ليس بكاتب اور ممکنہ عامہ بنانا ہے، بالإمكان العام۔ بعض الإنسان ليس بحيوان بالإمكان العام۔ تو پہلا قضیہ کیا ضروریہ مطلقہ کیا ہوا؟ کل انسان حيوان بالضرورة۔ اس کی نقیض کیا ہوئی؟ لکھیں بھئی، کاپیوں پر لکھیں بھئی، ایسے آپ کو یاد نہیں رہے گا۔ جی، لکھیے بھئی: کل انسان حيوان بالضرورة۔ کل انسان حيوان بالضرورة۔ نیچے اس کی نقیض لکھیں بھئی۔ کیا بنائیں گے نقیض؟ موضوع کو موضوع رکھیں، محمول کو محمول۔ ایجاب ہے تو اس کو نفی، نفی سے بدلیں یعنی سلب سے بدل دیں۔ اور کلیت کو جزئیت سے۔ تو بعض الإنسان ليس بحيوان اور کون سا قضیہ موجہہ بنانا ہے؟ ممکنہ عامہ بھئی، انہوں نے کیا بتلایا ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا آئے گی؟ ممکنہ عامہ آئے گی۔ تو بالإمكان العام بھئی۔ بعض الإنسان ليس بحيوان بالإمكان العام۔ اب یہ اس کی نقیض کس طرح، ذرا اس پہ غور کرنا بھئی، لکھ لیے بھئی؟ بھئی نقیض، دیکھیے پہلے میں کیا بتلایا گیا؟ ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے۔ اچھا، دوسرا ہے ممکنہ عامہ۔ ممکنہ عامہ کسے کہتے تھے جس میں کیا ہو؟ جانبِ مخالف سے ضرورت کا سلب، جانبِ مخالف کا کیا معنی؟ اگر قضیہ میں ایجاب ہے تو جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ سلب۔ اور اگر قضیہ میں سلب ہے تو جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ ایجاب۔ تو یہاں پر قضیہ میں ایجاب ہے یا سلب ہے بھئی؟ دوسرے بعض الإنسان ليس بحيوان بالإمكان سلب ہے، تو جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ ایجاب۔ یعنی ایجابِ حیوان۔ ایجابِ حیوان، انسان کے لیے، جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب۔ یعنی جانبِ مخالف کی ضرورت کی نفی ہوگی۔ جانبِ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جانبِ مخالف کی ضرورت کی نفی ہوگی۔ اب جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ یہاں تو ہے سلب، جانبِ مخالف ہوئی ایجاب۔ اور کس چیز کا سلب ہے یہاں پر؟ حیوان ہونے کا۔ تو جانبِ مخالف میں ایجاب بھی کس کا ہوگا؟ حیوان۔ تو ایجابِ حیوان یعنی حیوان ہونے کا اثبات۔ اس کی ضرورت کی نفی، اس کی ضرورت کا سلب۔ کیا معنی؟ یعنی بعض انسانوں کے لیے بعض انسانوں کا حیوان ہونا ضروری نہیں، ضرورت کی نفی ہے نا جانبِ مخالف کی ضرورت کی نفی۔ بعض انسانوں کا حیوان ہونا ضروری نہیں۔ پہلے میں بتلایا گیا ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، پہلے قضیہ میں۔ دوسرے سے کیا پتہ چلا؟ بعض انسانوں کا حیوان ہونا ضروری نہیں۔ تو نقیض ہیں یا نہیں ایک دوسرے کی بھئی؟ صورت سمجھ میں آگئی؟ پہلے میں کیا بتلایا گیا؟ کل انسان حيوان بالضرورة، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ دوسرا ہے قضیہ بعض الإنسان ليس بحيوان بالإمكان العام، یہ ممکنہ عامہ ہے۔ اور ممکنہ عامہ میں کیا ہوتا ہے؟ جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جانبِ مخالف یہاں کیا ہے؟ ایجابِ حیوان، کیونکہ اس قضیہ میں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ سلب۔ تو جانبِ مخالف ہوئی ایجاب، یعنی ایجابِ حیوان، حیوان ہونے کا اثبات، کس کے لیے؟ بعض انسانوں کے لیے۔ سلب اس کا کریں، ضرورت کا سلب۔ بعض انسانوں کے لیے حیوان ہونا ضروری نہیں۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ مشکل ہے بھئی؟ جانبِ مخالف کی ضرورت کا سلب۔ جانبِ مخالف کیا ہوئی؟ ایجابِ حیوان۔ اور ایجابِ حیوانیت کیا ہے اس کا؟ اس کی ضرورت کا سلب۔ یعنی انسان بعض، بعض انسان ذکر ہے نا؟ بعض انسانوں کے لیے حیوان ہونا، اس کی ضرورت کا سلب، بعض انسانوں کے لیے حیوان ہونا ضروری نہیں۔ پہلے میں بتایا گیا ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، دوسرے میں بتلایا گیا بعض انسانوں کے لیے حیوان ہونا ضروری نہیں۔ تو یہ نقیض ہوئے ایک دوسرے کی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ اچھا، اب دیکھیے بھئی! قضیہ موجہہ کی بات چل رہی ہے۔ یہ کلیہ بھی ہو سکتا ہے اور جزئیہ بھی ہو سکتا ہے۔ کلیہ بھی ہو سکتا ہے اور... اور پھر موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ۔ تو چار صورتیں بنیں گی۔ ایجاب کے اندر بھی یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ یا جیسے آپ کہتے ہیں: کل انسان حيوان بالضرورة۔ یہ کون سا ہے؟ کلیہ ہے اور موجبہ ہے۔ اچھا، اس سے آپ جزئیہ موجبہ بنائیں بھئی۔ بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ موجبہ ہی، موجبہ کے اندر دو صورتیں بن گئیں: ایک کلیہ ہے، ایک جزئیہ۔ دیکھیے، ضروریہ مطلقہ۔ ضروریہ مطلقہ کے اندر چار صورتیں ہو سکتی ہیں بھئی، چار صورتیں۔ یا یہ موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ اور پھر موجبہ کے اندر بھی دو صورتیں ہیں: یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ اور سالبہ کے اندر بھی دو صورتیں ہیں: یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ ہوگا بھئی۔ تو اب دیکھیے ایجاب کے اندر پہلی دو صورتیں کر لیں: کل انسان حيوان بالضرورة۔ کل انسان حيوان بالضرورة۔ اچھا، یہ تو تھا کل، موجبہ ہے اور کلیہ ذکر ہے۔ اب موجبہ ہی بنائیں اور جزئیہ ذکر کریں: بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ یہ ایجاب میں دو صورتیں ہو گئیں، ایک کلیہ ہوا دوسرا جزئیہ۔ اب سلب کے اندر بھی دو صورتیں بنا لیں یہی، ایک کلیہ بنائیں، ایک جزئیہ۔ لا شيء من الإنسان اسی کو بنا لیں، صورت بنانی ہے۔ لا شيء من الإنسان بحيوان بالضرورة۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ صادق ہے، کاذب ہے، اس سے ہماری بحث نہیں اس وقت، ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ چار صورتیں بن رہی ہیں۔ پہلا کیا بنایا آپ نے؟ کل انسان حيوان بالضرورة۔ دوسرا کیا بنایا؟ بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ تیسرا موجبہ سالبہ کلیہ بنایا: لا شيء من الإنسان بحيوان بالضرورة۔ اور ایک جزئیہ بنائیں بھئی سالبہ جزئیہ: بعض الإنسان ليس بحيوان بالضرورة۔ اسی کے اندر چار صورتیں ہم نے چاروں کی نقیض لانی ہے کس طرح نقیض آئے گی بس اس کی مشق کر رہے ہیں بھئی۔ کتنی صورتیں بنیں؟ چار۔ یا تو قضیہ موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ پھر موجبہ کے اندر دو صورتیں: یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ اسی طرح سالبہ کے اندر بھی دو صورتیں: یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ ہوگا بھئی۔ اچھا بھئی، پہلا ہم نے کون سا بنایا بھئی؟ کل انسان حيوان بالضرورة۔ یہ کون سا ہے؟ موجبہ کلیہ۔ اس کی نقیض لے کر آئے کون سا؟ ممکنہ عامہ۔ وہ کون سا ہے؟ سالبہ جزئیہ۔ سالبہ جزئیہ۔ اچھا، دوسری مثال لکھیے بھئی۔ شروع میں لکھ لیں: موجبہ جزئیہ بھئی۔ موجبہ جزئیہ۔ جی، مثال آگے بنائیے اس کی خود بنائیے بھئی۔ موجبہ ہو اور جزئیہ ہو۔ اسی اوپر والے کو دیکھتے ہوئے۔ ایک ہی میں ایجاب بھی ہو اور جزئی بھی ہو، پہلا جیسے موجبہ کلیہ تھا۔ پہلا، اسی کے مطابق اب بنائیں گے بھئی۔ کیا بنایا بھئی؟ بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ اچھا، پہلے مجھے یہ بتائیے: بعض الإنسان حيوان بالضرورة، صادق ہے، کاذب ہے؟ بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ صادق ہے شاباش بھئی، یہ صادق ہے۔ آپ یہ نہ کہیں کہ اس میں تو بعض کا ذکر ہے، ساروں کا ذکر نہیں۔ بھئی باقیوں سے، باقیوں کا ذکر ہی نہیں ہے۔ باقیوں کی نفی تو نہیں کی باقی انسانوں سے حیوان ہونے کی۔ بعض کا ذکر کیا۔ تو جب سارے انسان حیوان ہیں تو بعض بطریقِ اولیٰ ہیں بھئی۔ تو بعض الإنسان حيوان بالضرورة۔ اب اس کی نقیض بنائیں بھئی، نقیض۔ ممکنہ عامہ بنانی ہے بھئی۔ نقیض کیسے آئے گی؟ یہ ہے موجبہ جزئیہ، تو نقیض کیا آئے گی؟ سالبہ کلیہ۔ ہاں، سالبہ کلیہ، شاباش، شاباش۔ تو کیا بنے گا؟ لا شيء من الإنسان بالإمكان العام۔ لا شيء من الإنسان بحيوان بالإمكان العام۔ لا شيء من الإنسان بحيوان بالإمكان العام۔ یہ کون سی دو مثالیں ہوئی، پہلے کی کون سا ہم ضروریہ مطلقہ لائے تھے؟ موجبہ کلیہ۔ پہلا موجبہ کلیہ تھا سب سے شروع میں۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر اب ہم پھر کون سا لائے؟ موجبہ جزئیہ لائے، دونوں کی نقیضیں بھی آپ نے کر لیں۔ تیسرا لکھیے بھئی: سالبہ کلیہ۔ شروع میں لکھیں: سالبہ کلیہ۔ لا شيء من الإنسان بحجر بالضرورة۔ لا شيء من الإنسان بحجر بالضرورة۔ موجبہ ہے، سالبہ؟ سالبہ۔ کلیہ ہے، جزئیہ ہے؟ کلیہ۔ تو یہ سالبہ کلیہ ضروریہ مطلقہ ہوا بھئی۔ ضروریہ مطلقہ۔ اچھا، اب اس کی نقیض بنائیں بھئی۔ یہ کلیہ ہے نا تو جزئیہ بنائیں شاباش۔ اور یہ سالبہ ہے نا، یہ سالبہ ہے تو دوسرا موجبہ بنائیں۔ یہ ہے اولاً کیا دیکھیں؟ یہ کلیہ ہے تو نقیض کیا بنائیں گے؟ جزئیہ۔ اور یہ سالبہ ہے تو نقیض کیا ہوگی؟ موجبہ ہوگی۔ بنائیے بھئی، اب آسان کام ہے۔ بعض الإنسان... بعض الإنسان، یہ تو ٹھیک ہے آپ نے جزئیہ بنا دیا۔ اب اس میں سلب تھا، اگلے میں ایجاب لاؤ۔ بعض الإنسان حجر، اور یہ تھا ضروریہ مطلقہ، تو وہ بناؤ ممکنہ عامہ۔ بالإمكان العام۔ تو بعض الإنسان حجر بالإمكان العام بھئی۔ 2 لکھ لیا بھئی؟ اچھا، آگے چوتھی صورت لکھیے بھئی۔ سالبہ جزئیہ ہوگا بھئی، وہ سالبہ جزئیہ۔ بعض الإنسان ليس بحجر بعض الإنسان ليس بحجر بالضرورة بعض الإنسان ليس بحجر بالضرورة یہ کون سا ہے؟ موجبة یہ کون سا موجبة ہے سالبہ ہے؟ سالبہ۔ کلیہ ہے جزئیہ ہے؟ جزئیہ۔ تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا۔ تو جزئیت کو کس سے بدل دیں؟ کلیت سے۔ اور سلب کو کس سے بدل دیں؟ ایجاب سے بدل دیں، جی۔ بنائیے بھئی نقیض، کیا بنے گی؟ یہاں کیا تھا؟ بعض الإنسان، نقیض کیا آئے گی؟ کل انسان۔ اور اس میں سلب ہے، اس میں کیا ہوگا؟ ایجاب ہوگا، تو کیا کہیں گے؟ کل انسان حجر، کل انسان حجر۔ اور ممکنہ عامہ بنائیے۔ بالإمكان العام بھئی، کل انسان حجر بالإمكان العام۔ لکھ لیں بھئی چاروں مثالیں اور ان کی نقیضیں لکھ لیں آپ نے؟ اچھا، اب دیکھیے ساروں کو ذرا جلدی جلدی دوبارہ دیکھ لیں، یہ کس طرح ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ تناقض کس کو کہتے تھے؟ کہ قضیے کا صدق تقاضا کرے دوسرے کے کذب کا تقاضا کرے بھئی۔ بھئی دیکھیے، پہلے میں کیا بتلایا گیا تھا؟ کل انسان حیوان بالضرورة، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ آگے نقیض کیا بنائی تھی؟ بعض الإنسان ليس بحيوان بالإمكان العام، بعض انسانوں کا حیوان نہ ہونا ممکن ہے۔ بعض انسانوں کا حیوان نہ ہونا ممکن ہے۔ بھئی، یہ تو نہیں ہو سکتا، جب کہہ دیا ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، تو بعضوں کا حیوان نہ ہونا، یہ تو ممکن نہیں ہوگا، تو لہذا دیکھا دونوں کے اندر تناقض ہے بھئی، تناقض بھئی۔ اگر ایک صادق ہے تو دوسرا کیا ہے؟ کاذب ہے بھئی۔ اگلا کیا بنایا تھا؟ بعض الإنسان حيوان بالضرورة، بعض انسانوں کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ اس کی نقیض کیا تھی؟ لا شيء من الإنسان بحيوان بالإمكان العام، یعنی کسی بھی انسان کا حیوان ہونا ممکن نہیں۔ تو یہ اس کی نقیض ہوئی بھئی، یہ دونوں میں سے پہلا تو صادق ہے، بعض انسان کا حیوان بعض حیوان تو بعض انسانوں کا حیوان ہونا ضروری ہے بھئی۔ اور دوسرا جو کہا کہ کوئی بھی کسی یعنی کسی بھی انسان کا حیوان ہونا ممکن نہیں، یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ کاذب ہے۔ تیسرا کیا تھا؟ لا شيء من الإنسان بحجر بالضرورة، کوئی بھی انسان حجر نہیں ہے ضروری طور پر، یقینی طور پر۔ یہ صادق ہے کاذب ہے؟ یہ صادق ہے۔ تو دیکھنا نقیض کاذب ہوگی۔ بعض الإنسان حجر بالإمكان العام، بعض انسانوں کا حجر ہونا ممکن ہے۔ جب کوئی بھی انسان حجر نہیں، تو بعض کا حجر ہونا ممکن نہیں ہے، حالانکہ یہ تو کہہ رہے ہیں بعض انسانوں کا حجر ہونا معلوم ہوا دوسرا قضیہ کیا ہے؟ کاذب ہے، پہلا صادق ہے۔ تیسری مثال لکھی تھی: بعض الإنسان ليس بحجر بالضرورة، بعض انسان حجر یعنی پتھر نہیں ہیں یقینی طور پر۔ یہ صادق ہے کاذب ہے؟ یہ صادق ہے بھئی۔ اور اس کی نقیض کیا بنائی؟ کل انسان حجر بالإمكان العام، ہر انسان کا حجر ہونا ممکن ہے بھئی۔ ہر انسان کا حجر ہونا، تو یہ کاذب ہے بھئی، یہ دیکھیے یہ اس کی نقیض تھی بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ پہلی قسم کے اندر میں نے چاروں مثالیں کروا دیں، موجبة بھی اور سالبة بھی، اور پھر موجبة کے اندر دو صورتیں تھیں، یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ سالبة کے اندر بھی دو صورتیں تھیں، یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ چاروں مثالیں آ گئیں، باقی میں آپ خود نکال لیجیے گا، ایک ایک مثال ہم کرتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ طریقہ آ گیا بھئی سب کو؟ ونقيض الدائمة المطلقة العامة، اور دائمیہ کی نقیض جو ہے وہ مطلقہ عامہ ہے۔ یعنی دائمیہ مطلقہ بھئی، دائمیہ مطلقہ جس میں محمول کا ثبوت ہوتا تھا موضوع کے لیے دوام کے طریقے پر۔ کس طریقے پر؟ دوام کے طریقے پر۔ جیسے آپ نے اس کی مثال پڑھی تھی: کل فلک متحرک بالدوام، ہر آسمان حرکت کرنے والا ہے بالدوام دائمی طور پر بھئی، دائمی طور پر۔ کل فلک متحرک بالدوام۔ اچھا، اب اس کی نقیض بنائیے بھئی۔ اور نقیض کیا، یہ تھا دائمیہ مطلقہ ہے، نقیض بنانی ہے مطلقہ عامہ۔ مطلقہ عامہ کون سا قضیہ تھا؟ جس میں محمول کا ثبوت موضوع کے لیے، یا محمول کی نفی موضوع سے، تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہو، اور اس میں کیا لفظ لاتے تھے؟ بالفعل کا لفظ لاتے تھے بھئی۔ جی، تو کل فلک متحرک بالدوام۔ بنائیے نقیض بھئی۔ کل فلک کی جگہ کیا لائیں گے؟ بعض فلک، بعض فلک۔ اور یہاں ہے متحرک، تو کیا لے کر آئیں گے؟ ليس بمتحرك۔ بعض فلک ليس بمتحرك، اور یہاں ہے بالدوام، تو وہاں کیا لائیں گے؟ بالفعل لائیں گے، کیونکہ مطلقہ عامہ لانا ہے بھئی۔ تو نقیض کیا ہوئی؟ بعض الفلك ليس بمتحرك بالفعل۔ بعض آسمان متحرک نہیں ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں۔ اور دونوں ایک دوسرے کی نقیض ہیں بھئی، دیکھیے۔ کس طرح نقیض ہیں؟ پہلے میں کہا: ہر آسمان ہمیشہ حرکت میں ہے۔ دوسرے میں کہا: تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ حرکت نہیں، اس میں حرکت نہیں۔ تو ایک دوسرے کی نقیض ہیں۔ جب دائماً حرکت میں ہے، تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ حرکت نہ کرے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہ دونوں نقیض ہیں ایک دوسرے کی بھئی۔ معلوم ہوا، موجبة کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ سالبة جزئیہ۔ اور سالبة جزئیہ کی نقیض کیا آئے گی؟ لازمی بات ہے جب وہ موجبة کلیہ کی نقیض کیا ہے؟ سالبة جزئیہ، تو سالبة جزئیہ کی نقیض کیا ہوگی؟ موجبة کلیہ ہوگا بھئی۔ تو باقی قسمیں آپ بنا سکتے ہیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا بتلائی؟ ممکنہ عامہ۔ اور دائمیہ مطلقہ کی نقیض کیا بتلائی؟ مطلقہ عامہ۔ خلاصہ سبق کیا ہوا؟ ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ ممکنہ عامہ۔ اور دائمیہ مطلقہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ مطلقہ عامہ۔ اور پھر بتلایا تھا چار صورتیں بنتی ہیں ہر ایک کے اندر۔ یا موجبة ہوگا قضیہ یا سالبة، ایک قضیہ موجبة ہوگا یا سالبة۔ اور پھر موجبة کے اندر بھی دو صورتیں ہیں، یا کلیہ ہوگا یا جزئیہ۔ اور سالبة کے اندر بھی دو صورتیں ہیں، کلیہ ہوگا یا جزئیہ ہوگا، اسی کے مطابق آپ نقیض بنا لیں گے بھئی۔ اور طریقہ میں نے بتلا دیا۔ کلیت کو کس سے بدل دیں؟ جزئیت سے۔ اور اگر جزئیت ہو، اس کو کس سے بدل دیں؟ کلیت سے۔ اور ایجاب ہو، تو اس کو کس سے بدل دیں؟ سلب سے۔ اور اگر سلب ہے، اس کو کس سے بدل دیں؟ ایجاب سے۔ اور وہ جہت بھی بدلنی ہے۔ اگر پہلا ضروریہ مطلقہ ہے، تو جہت کو کون سی جہت لے آئیں گے؟ ممکنہ عامہ۔ اور اگر پہلا دائمیہ مطلقہ ہے، تو اس کی نقیض کیا لے آئیں گے؟ مطلقہ عامہ۔ اچھا، تو ضروریہ مطلقہ کی نقیض کیا آئے گی؟ ممکنہ عامہ۔ اور ممکنہ عامہ کی نقیض کیا آئے گی؟ ضروریہ مطلقہ۔ بات سمجھ میں آئی؟ اچھا، اور دائمیہ مطلقہ کی نقیض کیا بتلائی؟ مطلقہ عامہ۔ تو مطلقہ عامہ کی نقیض کیا ہوگی؟ دائمیہ مطلقہ ہوگی بھئی، ظاہر سی بات ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
108 approved lectures · 68 of 108