Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مرقاة · dars-065

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Wasim Babar
📍 Location Bahawalpur, Pakistan
📅 Approved Date 30 Sep 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 52
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
LESSONS NO. 65 1 فصل طرف الشرطية أعني المقدم والتالي لا حكم فيهما حين كونهما طرفين وبعد التحليل يمكن أن يعتبر فيهما حكم، فطرفاها إما شبيهتان بحمليتين أو متصلتين أو منفصلتين أو مختلفين عليك باستخراج الأمثلة. فصل أي هذا فصل یہ فصل ہے۔ طرف الشرطية یہ اصل میں تھا طرفان الشرطية پھر اضافت کی وجہ سے آپ جانتے ہیں تثنیہ کا نون گر جاتا ہے، تو نون گر گیا طرف الشرطية۔ یعنی شرطیہ کی دو طرف جو ہیں أعني المقدم والتالي یعنی کہ مقدم اور تالی۔ قضیہ شرطیہ کی دو طرف ہوتی ہیں نا ایک کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے کو تالی۔ لا حكم فيهما ان میں کوئی حکم نہیں ہوتا بھئی۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ شرطیہ کے اندر جو شرط ہے وہ موضوع کے درجے میں ہے اور جو جزا ہے وہ محمول کے درجے میں ہے، اور موضوع پر حکم لگایا جاتا ہے محمول کا۔ تو یہاں بھی اسی طرح موضوع پر حکم لگایا گیا کس چیز کا؟ محمول کا۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔ تو یہاں کیا حکم لگایا گیا؟ طلوعِ شمس پر وجودِ نہار۔ طلوعِ شمس کس میں ذکر تھا؟ إن كانت الشمس طالعة میں، اور جزا میں کیا ذکر تھا؟ فالنهار موجود۔ تو فالنهار موجود سے بن گیا وجودِ نہار، اور إن كانت الشمس طالعة سے کیا بنا؟ طلوعِ شمس۔ تو طلوعِ شمس پر کیا حکم لگایا گیا؟ وجودِ نہار کا حکم لگایا گیا بھئی۔ تو لہٰذا حکم ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے، مقدم اور تالی کے درمیان حکم ہوتا ہے، خود مقدم کے اندر یا خود تالی کے اندر ان میں خود حکم نہیں ہوتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ حکم مقدم اور تالی کے درمیان ہوتا ہے، خود مقدم ہی کے اندر یا صرف تالی کے اندر اس میں حکم نہیں ہوتا بھئی۔ یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ قضیے کی جو دو طرفین ہیں أعني المقدم والتالي یعنی مقدم اور تالی لا حكم فيهما ان میں کوئی حکم نہیں ہوتا حين كونهما طرفين، حين بمعنی وقت کے ہے بھئی، حين كونهما طرفين جس وقت یہ دونوں طرفین ہوں۔ جب تک یہ طرفین ہیں ان میں کوئی حکم نہیں، بھئی آپ نے پڑھا تھا قضیہ شرطیہ کو کھولیں تو کتنے قضیے ملتے ہیں ہمیں؟ دو قضیے۔ تو جب کھولیں گے پھر دو قضیے ملیں گے پھر ان میں حکم ہوگا جب الگ الگ کر دیں گے۔ لیکن جب تک یہ جڑے ہوئے ہیں یہ أداتِ شرط وغیرہ اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں إن وغیرہ اس وقت تک ان میں خود حکم نہیں ہے۔ اس وقت کس کے درمیان حکم ہے؟ مقدم اور تالی کے درمیان، ہاں جب ان کو کھول کر الگ الگ کر دیں گے، دو قضیے بنا دیں گے، ادواتِ شرط ختم کر دیں گے إن ، إما وغیرہ، پھر ان کے درمیان حکم پایا جائے گا۔ لیکن جس وقت یہ جڑے ہوئے ہیں اس وقت ان دونوں کے درمیان آپس میں صرف مقدم کے اندر حکم نہیں ہے، اسی طرح صرف تالی کے اندر حکم نہیں ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں لا حكم فيهما حين كونهما طرفين ان میں کوئی حکم نہیں ہے جس وقت یہ طرفین ہوں وبعد التحليل يمكن أن يعتبر فيهما حكم اور تحلیل کے بعد یعنی کھولنے کے بعد ممکن ہے کہ اعتبار کیا جائے ان میں حکم کا۔ پھر اس کے بعد کیا کیا جا سکتا ہے؟ ان میں حکم کا اعتبار کیا جا سکتا ہے جب مقدم کو تالی سے الگ کر دیں اور تالی کو مقدم سے الگ کر دیں پھر ان میں حکم کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ فطرقاها إما شبيهتان بحمليتين تو پس اس قضیہ شرطیہ کی جو دو طرفین ہیں إما شبيهتان بحمليتين یا تو یہ دونوں مشابہ ہوں گے کس کے؟ بھئی ایک مقدم ہے، ایک تالی ہے۔ یا تو جب ان کو کھولیں گے، مقدم کو کیا کر دیں گے؟ الگ، تالی کو کیا کر دیں گے؟ الگ۔ تو مقدم وہ قضیہ ملے گا ہمیں ایک پورا اور تالی بھی کیا ہوگا؟ ایک پورا قضیہ ہوگا، جب پورا قضیہ ہے تو قضیہ تو آپ نے پڑھا کبھی قضیہ حملیہ ہوتا ہے کبھی شرطیہ ہوتا ہے، تو وہ مقدم اور تالی بھی ہو سکتا ہے وہ مقدم قضیہ حملیہ ہو، ہو سکتا ہے وہ مقدم کیا ہو؟ قضیہ شرطیہ ہو، اسی طرح تالی بھی ہو سکتا ہے وہ قضیہ حملیہ ہو، ہو سکتا ہے وہ قضیہ شرطیہ ہو۔ توجہ ہے سبق کی طرف بھئی؟ یہ دو جز جڑے ہوئے ہیں قضیہ شرطیہ کے، بھئی ادھر دیکھو، یہ دو جز جڑے ہوئے ہیں، یہ ایک مقدم ہے اور یہ تالی ہے۔ ان کو الگ کر دیا ادواتِ شرط ختم کر دیے، یہ دو قضیے مل گئے۔ اور جب یہ دونوں قضیے ہیں تو قضیہ تو آپ نے پڑھا ہے کبھی قضیہ حملیہ ہو سکتا ہے اور کبھی شرطیہ، پھر شرطیہ بھی کبھی منفصلہ ہو سکتا ہے اور کبھی متصلہ، تو یہ جو دو قضیے ہمیں ملے ان میں بھی یہی امکان۔ یہ مقدم جو ہے یہ قضیہ حملیہ بھی ہو سکتا ہے، یہ شرطیہ بھی ہو سکتا ہے، شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور شرطیہ منفصلہ۔ یہی احتمال اس کے اندر بھی، یہ جو تالی ہے یہ قضیہ حملیہ بھی ہو سکتا ہے، یہ قضیہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے، یہ قضیہ شرطیہ منفصلہ بھی ہو سکتا ہے۔ تو یہی بات بیان کر رہے ہیں کہ ان دو طرفین کو جب کھولیں تو ہو سکتا ہے دونوں کیا ہوں؟ حملیہ ہوں، مقدم بھی حملیہ قضیہ ہو اور تالی بھی قضیہ حملیہ۔ ہو سکتا ہے یہ دونوں قضیہ شرطیہ ہوں متصلہ ہوں، یہ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ، یہ بھی قضیہ شرطیہ متصلہ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مقدم جو ہے قضیہ شرطیہ منفصلہ ہو، تالی بھی کیا ہو؟ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہو، اور یہ بھی، یہ تو تھا دونوں طرف ایک جیسے تھے، دونوں حملیہ ہو سکتے ہیں، دونوں متصلہ ہو سکتے ہیں یا دونوں منفصلہ۔ اور اس کا عکس یعنی مختلف بھی ہو سکتے ہیں، ایک اگر حملیہ ہے تو دوسرا کیا ہو؟ شرطیہ متصلہ ہو یا شرطیہ منفصلہ ہو۔ یا ایک قضیہ منفصلہ ہے تو ہو سکتا ہے دوسرا شرطیہ متصلہ ہو یا حملیہ ہو بھئی، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ یہی بات کر رہے ہیں فطرقاها اس کی جو دو طرفین ہیں إما شبيهتان بحمليتين یا تو وہ مشابہ ہوں گی کس کے؟ دو حملیہ کے أو متصلتين یا دو متصلہ کے مشابہ ہوں گی أو منفصلتين یا کس کے مشابہ ہوں گی؟ دو منفصلہ کے مشابہ ہوں گی أو مختلفين یا دونوں مختلف ہوں گی عليك باستخراج الأمثلة عليك اسمِ فعل ہے، اسمِ فعل بمعنی "لازم پکڑو"۔ عليك کیا ہے؟ اسمِ فعل ہے بمعنی "لازم پکڑو" یعنی یہ ہے اسم، فعل والا معنی ادا کر رہا ہے۔ تو لازم پکڑو، کیا لازم پکڑیں ہم؟ کہہ رہے ہیں باستخراج الأمثلة مثالوں کا نکالنا، آپ مثالوں کا نکالنا لازم پکڑ لیں یعنی خود مثالیں نکال لیجیے، آپ کیا کیجیے؟ آپ خود مثالیں نکال لیجیے۔ بھئی دیکھیے مصنف نے کہا إما فطرفاها قضیے کی جو دو طرفین ہیں شرطیہ کی إما شبيهتان شبیہ کا لفظ لائے، شبیہ کا لفظ کیوں لے کر آئے؟ وجہ یہ کہ بھئی جب آپ کھولیں گے ادواتِ شرط ختم کریں گے، مقدم کو تالی سے الگ کر دیں گے پھر تو یہ دو حملیہ یا دو متصلہ یا دو منفصلہ ملیں ہمیں حاصل ہوں گے، لیکن جب تک جڑے ہوئے ہیں اس وقت تک تو یہ دو نہیں، اب تو جب جڑ گئے پھر تو الگ الگ نہیں ہیں ان کے نام، صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو اس وقت اب یہ بتا رہے ہیں فطرفاها قضیے کی دو طرفین یعنی شرطیہ کی دو طرفین یہ نہیں کہہ سکتے کہ ایک طرف دونوں طرفین حملیہ ہوں گی کیونکہ اب یہ حملیہ رہیں ہی نہیں، یہ تو آپس میں جڑ چکے ہیں، کیا ہو چکے ہیں؟ جڑ چکے ہیں۔ کھولیں گے تو پھر ٹھیک ہے دو حملیہ ملیں گے، لیکن جب جڑ گئے ادواتِ شرط آ گئے اب یہ دو حملیہ نہیں، اس لیے وہ شبیہ کا لفظ لے کر آئے بھئی، کہ دونوں حملیہ کہیں گے تو بات درست نہیں رہتی بھئی کیونکہ جب دونوں جڑ گئے اب دونوں حملیہ ایک کو بھی حملیہ کہیں دوسرے کو بھی حملیہ کہیں یہ کہنا درست ہی نہیں، کیونکہ اگر حملیہ کہتے ہو تو حملیہ میں تو کیا ہوتا ہے؟ حکم لگا ہوتا ہے، اور انہوں نے بتایا ہے کہ صرف مقدم کے اندر حکم نہیں ہے، صرف تالی کے اندر حکم نہیں ہے، جب جڑے ہوں تو حکم کس کے اندر ہے؟ مقدم اور تالی کے درمیان حکم ہے، ان کے خود اپنے اندر حکم نہیں ہے۔ تو جب اپنے اندر حکم نہیں ہے تو صرف مقدم کو حملیہ کہنا اور تالی کو شرطیہ اس وقت نہیں کہہ سکتے، جب الگ کر دیں گے پھر کہنا، لیکن یہ بات کس صورت کی کر رہے ہیں؟ جب وہ دونوں ابھی آپس میں جڑے ہوئے ہوں، جب جڑے ہوئے ہوں اس وقت یہ کہنا کہ مقدم قضیہ حملیہ ہے اور تالی بھی قضیہ حملیہ ہے یہ کہنا درست تھا نہیں، لہٰذا اس لیے وہ کیا لفظ لے کر آئے؟ شبیہ کا لفظ لے کر آئے کہ حملیہ کے مشابہ ہوں گے، حملیہ نہیں بھئی، کیونکہ حملیہ تو کب کہیں گے؟ جب علیحدہ ہو جائیں گے، تو اس لیے وہ مشابہ کا لفظ لے کر آئے کہ مشابہ ہوں گے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اچھا! کہتے ہیں بھئی آپ خود مثالیں نکال لیجیے، یاد رکھیے بات چل رہی ہے قضیہ شرطیہ کی، اور قضیہ شرطیہ کے کتنے جز ہوتے ہیں؟ دو، پہلے کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تالی۔ اب مقدم کے اندر بھی تین احتمال، ہو سکتا ہے مقدم کیا ہو جب اس کو کھول دیں؟ قضیہ حملیہ ہو، ہو سکتا ہے وہ شرطیہ متصلہ ہو، صرف مقدم کی بات کر رہا ہوں، ہو سکتا ہے وہ کیا ہو؟ قضیہ حملیہ ہو، ہو سکتا ہے وہ کیا ہو مقدم؟ شرطیہ متصلہ ہو، بھئی دو شرطیہ متصلہ مل کر ایک شرطیہ بنائے تھے ہم نے نا، پھر کھولا تو وہ پھر دو الگ الگ شرطیہ مل جائیں گے، یا ایک حملیہ ہوگا ایک شرطیہ ہوگا۔ تو مقدم جو ہے اس میں تین احتمال آ گئے، یا وہ کیا ہوگا جب کھولیں گے تو؟ قضیہ حملیہ ہوگا، یا شرطیہ متصلہ ہوگا، یا شرطیہ منفصلہ ہوگا۔ کتنے احتمال آئے مقدم میں؟ تین، پہلا کیا؟ قضیہ حملیہ بنے گا اس سے، یا شرطیہ متصلہ ہوگا، یا شرطیہ منفصلہ ہوگا۔ اچھا! دوسری طرف تالی کے اندر بھی یہی تین احتمال، تالی کو الگ کیا تو وہ کیا بن گیا؟ قضیہ حملیہ ہوگا، یا شرطیہ متصلہ ہوگا، یا شرطیہ منفصلہ ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب پھر ان کے اندر بھئی یہاں کل نو صورتیں بنیں گی بھئی نو صورتیں، توجہ سے سننا۔ پہلی صورت: مقدم کو الگ کیا، تالی کو الگ کیا، ادواتِ شرط ختم کر دیے، تو دیکھا دونوں قضیہ حملیہ بن گئے۔ مقدم بھی قضیہ حملیہ ہے اور تالی بھی، پہلی صورت توجہ سے یاد رکھنا بھئی، نو صورتیں بنائیں گے آپ نے یاد رکھنی ہیں، پہلی صورت میں دونوں کیا ہیں؟ دونوں قضیہ حملیہ ہیں۔ دوسری صورت: مقدم اور تالی کو الگ کیا، مقدم بھی قضیہ شرطیہ متصلہ، تالی بھی قضیہ شرطیہ متصلہ، کتنی ہو گئیں؟ دو صورتیں بھئی، صورتیں بنا رہا ہوں۔ تیسری صورت: مقدم کو الگ کیا وہ شرطیہ منفصلہ بنا بھئی، شرطیہ متصلہ تھا منفصلہ تھا، اور تالی بھی کیا تھا؟ شرطیہ منفصلہ تھا بھئی۔ تین صورتیں، تین صورتیں یہ ہو گئیں، دونوں قضیے یا حملیہ بنیں گے یا دونوں متصلہ بنیں گے یا دونوں منفصلہ بنیں گے۔ اب چوتھی، پانچویں صورت میں الگ الگ قسمیں لے آؤ، اول مثلاً کیا بنا؟ قضیہ حملیہ، دوسرا کوئی اور لے آؤ ساتھ، شرطیہ متصلہ، یہ کتنی ہو گئیں؟ چار۔ اب اول کو وہی رکھو دوسرے کو ساتھ بدل دو تالی کو، اول کو کھولا اول کیا بنا؟ حملیہ ہی بنا، اگلا کون سا بنا؟ منفصلہ بنا۔ اچھا! حملیہ کے ساتھ تو آپ نے جمع کر دیے کس کس کو؟ منفصلہ کو بھی جمع کر دیا اور متصلہ کو بھی، ہاں متصلہ اور منفصلہ کو جمع نہیں کیا ابھی آپ نے، اول کو کھولا دونوں کو، اول کیا بنا؟ متصلہ، ثانی کیا بنا؟ منفصلہ، کیا بنا؟ منفصلہ۔ ہاں بھئی یہ لکھ رہا ہے کوئی یہ لکھ لیں بھئی ذرا صورتیں، لکھ لیں گے ذرا جلدی آپ کو سمجھ میں آ جائے گی بات بھئی۔ اوپر لکھیں پہلے مقدم اور ساتھ اس کے پھر لکھیں فاصلہ دے کر تالی۔ اوپر لکھیں پہلے ایک طرف لکھیں مقدم، دوسری طرف لکھیں تالی۔ مقدم اور تالی، لکھ لیا بھئی؟ اچھا! پہلی صورت میں کیا بنایا تھا مقدم کیا تھا؟ حملیہ، شاباش! تالی کیا تھا؟ وہ بھی ایک جیسے لے آؤ پہلے ایک ایک جیسے لے آؤ، تالی بھی کیا تھا؟ حملیہ، تو دونوں حملیہ ہوئے، دونوں طرف حملیہ حملیہ لکھ لیں بھئی، مقدم کے نیچے بھی حملیہ، تالی کے نیچے بھی حملیہ۔ دوسری صورت: مقدم کیا تھا؟ وہی، ہاں منفصلہ يا متصلہ لکھ لیں۔ متصلہ، تالی بھی کیا تھا؟ متصلہ۔ تیسری صورت: دونوں منفصلہ تھے، مقدم کے نیچے بھی منفصلہ لکھیں، تالی کے نیچے بھی منفصلہ لکھیں۔ لکھ لیا بھئی؟ یہ کون پہلی صورت میں دونوں کیا ہیں؟ دونوں حملیہ، دوسری صورت دونوں متصلہ، تیسری صورت دونوں منفصلہ، اب الگ الگ کو جمع کریں، پہلا کیا ہو مثلاً چوتھی صورت میں؟ حملیہ، دوسرا کیا ہو؟ متصلہ، جی لکھیں، مقدم کے نیچے حملیہ، تالی کے نیچے متصلہ۔ اگلی صورت: حملیہ کے ساتھ دوسرا لے آؤ، مقدم کیا ہو؟ حملیہ ہی، اور تالی کیا ہو؟ منفصلہ ہو۔ اس سے اگلی صورت لکھیں بھئی، بھئی حملیہ کے ساتھ کون کون جمع ہوئے ہیں؟ متصلہ اور منفصلہ دونوں جمع ہو گئے، ہاں متصلہ اور منفصلہ آپس میں جمع نہیں ہوئے، تو مقدم کو بنا دیں متصلہ، مقدم کو بنائیں متصلہ چھٹی صورت ہے، اور تالی کو بنائیں منفصلہ۔ بھئی یہ دونوں، یہ تین قسم کے قضیے ہیں حملیہ، متصلہ اور منفصلہ، تینوں آپس میں بھی جمع ہو گئے، حملیہ کے ساتھ حملیہ، متصلہ کے ساتھ متصلہ، منفصلہ کے ساتھ منفصلہ، اور الگ الگ بھی آپس میں جمع ہو گئے۔ حملیہ کے ساتھ متصلہ بھی جمع ہو گیا، حملیہ کے ساتھ منفصلہ بھی جمع ہو گیا، اور پھر یہ دونوں آپس میں بھی جمع ہو گئے متصلہ کے ساتھ منفصلہ۔ اب دیکھو بھئی! آگے ساتویں صورت لکھیں، سات چوتھے نمبر پر کیا لکھا تھا؟ مقدم تھا حملیہ اور تالی کیا تھا؟ متصلہ، اس کا عکس کر دو ساتویں صورت میں، مقدم کو کیا کر دو؟ متصلہ، اور تالی کو کیا کر دو؟ حملیہ۔ آٹھویں صورت میں پانچویں نمبر پر کیا تھا بھئی؟ حملیہ مقدم تھا اور منفصلہ تالی تھا، آٹھویں صورت میں عکس کر دو، منفصلہ کو مقدم کر دو اور حملیہ کو تالی بنا دیں بھئی۔ اچھا! چھٹی صورت میں کیا تھا؟ متصلہ مقدم تھا اور منفصلہ مؤخر تھا۔ 2 تو آپ کیا کریں بھئی؟ نویں صورت میں عکس کر دیں، منفصلہ کو مقدم کر دیں اور متصلہ کو تالی کر دیں بھئی۔ کتنی صورتیں ہوئیں؟ نو صورتیں۔ بھئی! یہ ہم کس کو کھول رہے ہیں؟ قضیہ شرطیہ کو۔ قضیہ شرطیہ؟ اچھا، توجہ بھئی لکھ لیا؟ اب ادھر توجہ کریں۔ بھئی! یہ ہم کس کی تحلیل کر رہے ہیں؟ قضیہ شرطیہ کی۔ اچھا، اور قضیہ شرطیہ کتنی قسم پر ہے؟ دو، یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ۔ تو متصلہ میں بھی یہی نو صورتیں قضیہ دیکھو ادھر، یہ تھا قضیہ متصلہ۔ قضیہ متصلہ شرطیہ ہے، اس میں کتنے جز ہوتے ہیں؟ ایک مقدم اور ایک تالی۔ تو اس قضیہ متصلہ کو ہم نے کھولا تو یہ نو صورتیں بنیں۔ ٹھیک ہے؟ اس کو؟ منفصلہ بھی تو ایک قسم ہے، اس میں بھی یہی نو صورتیں بنیں گی۔ بھئی! جس قضیے کو ہم کھول رہے ہیں شرطیہ کو، وہ یا تو کیا ہوگا خود؟ وہ خود متصلہ ہوگا یا منفصلہ ہوگا۔ متصلہ کو ایک کو کھولا کتنی صورتیں بنیں؟ نو۔ منفصلہ میں بھی کتنی بنیں گی؟ نو۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے کہ نہیں؟ منفصلہ کو بھی کھولیں گے کتنی آئیں گی؟ نو۔ تو کل کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ اٹھارہ۔ اٹھارہ صورتیں۔ لیکن یاد رکھیے، اٹھارہ نہیں، اٹھارہ میں سے تین قسمیں آخری تین جو ہیں، وہ منفصلہ میں نہیں آئیں گی۔ کون سی آخری تین قسمیں؟ وہ آخری تین قسمیں ہم نے کیسے بنائی تھیں؟ چار سے چھ تک جو قسمیں بنی تھیں، انہی کو ہم نے کیا کیا تھا؟ مقدم کو تالی بنایا تھا اور تالی کو مقدم۔ قضیہ منفصلہ میں یہ سات، آٹھ، نو صورت نہیں بنے گی۔ بھئی! کیوں نہیں بنے گی؟ وجہ کیا؟ متصلہ میں بن رہی ہے۔ بھئی! یاد رکھو، منفصلہ میں دو چیزوں میں انفصال بیان کیا جاتا ہے، تو وہاں آگے پیچھے کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مقدم کو تالی کر دیں اور تالی کو مقدم، وہاں کوئی... متصلہ میں فرق پڑتا ہے۔ مقدم کو تالی کیا، دیکھو چوتھی صورت میں کیا تھا مقدم؟ حملیہ، اور تالی کیا تھا؟ متصلہ تھا۔ انہی کو ہم نے الٹا تھا، متصلہ کو پہلے لے آئے اور حملیہ کو بعد میں لے گئے، تو ساتویں صورت نکل آئی تھی۔ لیکن قضیہ منفصلہ میں ایسا نہیں، وہاں ایک چیز مقدم ہے، ایک تالی ہے۔ جگہ بھی بدل دو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مقدم کو تالی کی جگہ لے جاؤ، تالی کو مقدم کی جگہ لے آؤ، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ لہٰذا منفصلہ میں یہ آخری تین صورتیں نہیں آئیں گی کیونکہ یہ انہی کو ہم نے آگے پیچھے کیا تھا، اور منفصلہ میں تو آگے پیچھے کرنے سے کوئی فرق پڑتا ہی نہیں، لہٰذا وہاں یہ تین صورتیں نہیں آئیں گی۔ وہاں صرف پہلی چھ آئیں گی۔ کون سے قضیہ منفصلہ میں؟ قضیہ منفصلہ کو ہم نے کھولا، تو دونوں جز کیا تھے؟ شروع سے دیکھیں، دونوں کیا ہوں گے؟ حملیہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ، یا ایک جز کیا ہوگا؟ ایک حملیہ دوسرا متصلہ، یا پانچویں صورت پہلا مقدم حملیہ ہوگا اور تالی منفصلہ، اور چھٹی صورت پہلا متصلہ اور دوسرا حملیہ۔ انہی تین صورتوں کو چار، پانچ اور چھ، ان کو الٹ بھی دو کوئی فرق نہیں پڑے گا وہاں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو الٹ اس میں مقدم کو تالی اور تالی کو مقدم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو معلوم ہوا قضیہ متصلہ میں نو صورتیں بنتی ہیں اور منفصلہ میں چھ، تو کل کتنی ہوئیں؟ 15 صورتیں بنیں گی بھئی، اور ان 15 کی مثالیں اب دینا پڑیں گی بھئی، دیکھنا پڑیں گی۔ یہ چند ایک مثالیں دیکھ لیں بھئی، یہ حاشیے میں آپ کے دی ہوئی ہیں مثالیں بھئی۔ علیک پر حاشیہ نمبر لگا ہے بھئی، میری کتاب میں چھ نمبر حاشیہ ہے بھئی، چھ نمبر۔ چھ نمبر حاشیہ بھئی دیکھیں نیچے، مل گیا بھئی؟ چھ نمبر حاشیہ، اس پر نشان لگائیں بھئی پنسل سے، تاکہ آپ کو فوراً پھر واضح ملے بھئی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ قد عرفت فيما سبق، تحقیق آپ نے جان لیا وہ جو پہلے بات گزری کہ ان اقسام المتصلات تسعة، کہ متصلات کی اقسام کتنی ہیں؟ نو، ابھی جو میں نے بیان کیں۔ واقسام المنفصلات ستة، اور منفصلات کی اقسام کتنی ہیں؟ چھ ہیں۔ اما امثلة المتصلات، یہ متصلات کی مثالیں ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی! متصلہ کی کتنی صورتیں تھیں؟ نو صورتیں۔ کیا نو صورتیں تھیں؟ دونوں حملیہ ہوں، یا دونوں متصلہ ہوں، یا دونوں منفصلہ ہوں، وہ جو تفصیل سے میں نے لکھوایا۔ فالاول من الحمليتين، پہلی صورت دو حملیہ سے ہوگی۔ کہ کون سے قضیے کی تحلیل کر رہے ہیں ہم؟ قضیہ شرطیہ متصلہ، اور پھر اس کے دونوں جز حملیہ ہوں گے، کقولک جیسے آپ کا یہ قول: کلما كان الشيء انسانا فهو حيوان، جب بھی کوئی چیز انسان ہوگی تو وہ حیوان ہوگی۔ صورت سمجھ میں آرہی ہے بھئی؟ تو یہاں دو حملیہ ہمیں ملیں گے۔ دو حملیہ، کیا دو حملیہ؟ الشيء انسان اور دوسرا کیا ہے؟ فهو حيوان۔ الشيء انسان، کلما کا وغیرہ حذف کر دیں کلما کان، الشيء انسان، دیکھو یہ قضیہ حملیہ ملا ہمیں یا شرطیہ ملا؟ حملیہ۔ اور فهو حيوان، یہ شرطیہ ملا یا حملیہ بھئی؟ تو دونوں جز حملیہ ہیں۔ والثاني من المتصلتين، اور دوسری قسم دونوں مقدم اور تالی کیا ہوں؟ متصلہ، کقولنا جیسے کہ ہمارا یہ قول: کلما إن كان الشيء انسانا فهو حيوان فکلما لم يكن الشيء حيوانا لم يكن انسانا۔ جب بھی کوئی چیز انسان ہوگی تو وہ حیوان ہوگی، پس جب بھی کوئی چیز حیوان نہیں ہوگی تو انسان نہیں ہوگی۔ اب ان کو ہم نے الگ الگ کیا بھئی، کیا نکلے بھئی؟ إن كان الشيء انسانا فهو حيوان، یہ قضیہ متصلہ نکل آیا۔ آگے إن لم يكن الشيء حيوانا لم يكن انسانا، یہ بھی کیا نکل آیا؟ متصلہ، تو دیکھو دو متصلہ مل سے مل کر قضیہ شرطیہ بن رہا ہے شرطیہ متصلہ بھئی۔ بات سمجھ میں آئی کہ مشکل ہے بھئی؟ تو یہ ہے پورا یہ ایک دو متصلہ کو ملا کر ہم نے ایک اور بڑا متصلہ قضیہ متصلہ بنا لیا: کلما إن كان الشيء انسانا فهو حيوان فکلما لم يكن الشيء حيوانا لم يكن انسانا۔ والثالث، تیسری بھئی من المنفصلتين، جو کہ کس سے بنا ہو؟ دو منفصلہ سے بنا ہو۔ کقولنا: کلما كان دائما اما ان يكون هذا العدد زوجا او فردا فدائما اما ان يكون منقسما بمتساويين او غير منقسم۔ جب بھی ہمیشہ کوئی عدد یا تو زوج ہوگا یا فرد ہوگا، تو دائماً یا تو وہ تقسیم ہوگا دو برابر حصوں میں یا تقسیم نہیں ہوگا۔ اب اس کو الگ الگ کریں گے تو دو منفصلہ آپ کو مل جائیں گے بھئی، کیا مل جائیں گے؟ دو منفصلہ مل جائیں گے۔ چوتھی قسم حملیہ اور متصلہ سے مرکب ہو، مقدم اس میں کون سا ہوگا؟ حملیہ۔ اگلی صورت میں بتائیں گے مؤخر کون ہوگا؟ حملیہ۔ بنے کون کون سے جز، بنے کس سے؟ ایک حملیہ ہے دوسرا متصلہ۔ پھر ان میں دو صورتیں تھیں، حملیہ مقدم ہو اور متصلہ مؤخر، یا عکس کریں، متصلہ مقدم ہو اور حملیہ مؤخر۔ اب پہلی صورت کہ مقدم حملیہ ہے، کقولنا جیسے کہ ہمارا یہ قول: إن كان طلوع الشمس علة لوجود النهار فکلما كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔ اگر طلوعِ آفتاب علت ہے وجودِ نہار کے لیے... علت میں نے بتلایا تھا، وہ چیز جس کے پائے جانے سے دوسری چیز کا پایا جانا ضروری ہو، سورج نکلے گا تو دن کا ہونا ضروری، ایسا نہیں ہو سکتا سورج نکلے اور دن نہ ہو، سورج جب بھی نکلے گا دن ضرور ہوگا۔ إن كان طلوع الشمس علة لوجود النهار فکلما كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔ تو اس کو کھولیں گے بھئی، تو کیا بنے گا پہلا؟ حملیہ، طلوع الشمس علة لوجود النهار، یہ حملیہ بن گیا۔ اور اگلے کو کھولا، متصلہ، کلما كانت الشمس طالعة فالنهار موجود۔ والخامس عكسه، الخامس اس کا عکس ہے، کیا معنی عکس؟ متصلہ کو مقدم کر دیں اور حملیہ کو مؤخر، کقولنا جیسے ہمارا یہ قول: إن كان کلما كانت الشمس طالعة فالنهار موجود فطلوع الشمس ملزوم لوجود النهار، جب بھی سورج طلوع ہوگا تو دن موجود ہوگا، پس طلوعِ آفتاب وہ ملزوم ہے وجودِ نہار کا۔ کیا ہے؟ ملزوم، ایک ہوتا ہے لازم ایک ملزوم۔ سورج کے نکلنے کے ساتھ لازم ہے دن کا نکلنا، تو دن کا نکلنا کیا ہوا؟ لازم، اور سورج کا طلوع؟ ملزوم ہوا بھئی، جس کے ساتھ لازم ہو اس کو ملزوم کہتے ہیں بھئی۔ تو طلوعِ آفتاب وہ ملزوم ہے کس کا؟ وجودِ نہار کا بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ مثالیں ہیں بھئی آگے، آپ خود دیکھ لیجیے گا، 15 مثالیں انہوں نے دی ہیں، میں نے 15 جو قسمیں لکھوائیں۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تو یہ 15 مثالیں بن جاتی ہیں بھئی، 15 قسمیں۔ اور منفصلہ میں تین قسموں کا اعتبار نہیں کیا، متصلہ میں نو صورتیں بنیں اور منفصلہ میں چھ۔ کیوں منفصلہ میں چھ صورتیں کیوں بنیں؟ کیونکہ وہاں مقدم اور تالی کی جگہ بدلنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ متصلہ میں تو تین صورتیں وہ بنی تھیں نا، انہی مقدم اور تالی کی جگہ ہم نے بدلی تھی تو تین نئی قسمیں ملی تھیں۔ وہاں فرق پڑتا ہے، جبکہ منفصلہ میں فرق نہیں پڑتا، اس لیے ان کو شمار بھی نہیں کرتے۔ تو 15 قسمیں ہوئیں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا هو المرام واللہ اعلم بحقيقة الکلام۔
108 approved lectures · 65 of 108