LESSONS NO. 62
1
أما المتصلة فهي التي حكم فيها بثبوت نسبة على تقدير ثبوت نسبة أخرى في الإيجاب، وبنفي نسبة على تقدير نفي نسبة أخرى في السلب، كقولنا في الإيجاب: إن كان زيد إنسانا كان حيوانا.
بالکل گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ شرطیہ جو ہے وہ دو قسم پر ہے، ایک منفصلہ اور ایک متصلہ۔ متصلہ اور متصلہ کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا کہ جہاں پر دو چیزوں کے درمیان اتصال کو ثابت کیا جاتا ہے یا اتصال کی نفی کی جاتی ہے۔
دو چیزوں کے درمیان اتصال کو ثابت کیا جاتا ہے يا اتصال کی نفی کی جاتی ہے بھئی، یعنی ایجاب کی صورت میں اتصال بتلایا جاتا ہے اور سلب کی صورت میں عدمِ اتصال بتلایا جاتا ہے۔ اور یہ بھی بیان کیا تھا گزشتہ سبق میں کہ ایجاب میں بھی تین صورتیں آتی ہیں اور سلب کے اندر بھی تین صورتیں آتی ہیں۔
ایجاب کے اندر تین صورتیں یہ تھیں کہ مقدم اور تالی، یعنی قضیہ شرطیہ کا پہلا جز اور دوسرا جز، دونوں یا تو ثبوتی ہوں گے يا دونوں سلبی ہوں گے یا ایک ثبوتی ہوگا اور ایک سلبی، تو تین صورتیں تھیں۔ اور اسی طرح سلب کے اندر بھی تین صورتیں تھیں کہ دونوں یا ثبوتی ہوں گے يا دونوں سلبی ہوں گے یا ایک ثبوتی ہوگا اور ایک سلبی ہوگا بھئی۔
اور پھر آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو مصنف کی عبارت ہے، اس عبارت کے اندر خلل ہے بھئی، یہ تمام صورتوں کو شامل نہیں ہوتی۔ مصنف نے کیا فرمایا؟ کہ قضیہ ”أما المتصلة“ قضیہ متصلہ جو ہے ”فهي التي حكم فيها بثبوت نسبة على تقدير ثبوت نسبة أخرى في الإيجاب“ جس میں حکم لگایا جائے ایک نسبت کے ثبوت کا ”على تقدير ثبوت نسبة أخرى“ دوسری نسبت کے ثبوت کے فرض کرنے پر۔
ایک نسبت کے اندر اگر ثبوت کو فرض کیا جائے تو دوسری میں بھی کیا ماننا پڑے گا؟ ثبوت ماننا پڑے گا، یہ ایجاب کے اندر ہے۔ ”وبنفي نسبة على تقدير نفي نسبة أخرى في السلب“ اور نفیِ نسبت ہوگی جس میں حکم لگایا جائے نفیِ نسبت کا ”على تقدير نفي نسبة أخرى“ دوسری نسبت کی نفی کے فرض کرنے کی صورت میں ”في السلب“ کس کے اندر؟ سلب کے۔
تو یہ جو عبارت میں آیا ”التي حكم فيها بثبوت نسبة“، میں نے بتایا تھا اس ثبوتِ نسبت سے جزا مراد ہے یعنی تالی، ”على تقدير ثبوت نسبة أخرى“ اس سے کیا مراد ہے؟ مقدم یعنی شرط۔ ”على تقدير ثبوت نسبة أخرى“ یعنی اگر شرط کے نسبت کے ثبوت کو فرض کیا جائے، یعنی شرط کے ثبوت کو اگر فرض کر لیا جائے تو کیا حکم لگایا جائے گا؟ دوسری نسبت یعنی جزا کے بھی ثبوت کا حکم لگایا جائے گا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ معلوم ہوا ثبوتِ نسبت جو آیا، اس سے کیا مراد ہے؟ جزا۔ اسی طرح آگے اگلے میں آیا ”بنبثبت نسبة“، یہ نفیِ نسبت سے کیا مراد ہے؟ جزا۔ اور ”على تقدير ثبوت نسبة أخرى“ اس سے کیا مراد ہے؟ شرط بھئی۔ یا جیسے اگلے میں آیا ”على تقدير نفي نسبة أخرى“، یہ کیا ہے؟ شرط بھئی۔
اور میں نے بتلایا تھا کہ مصنف کی عبارت میں خلل ہے، اس میں تمام صورتیں داخل نہیں ہوتیں۔ ہاں، ایک صورت ہے کہ یہ جو مصنف نے کہا ”بنفي نسبة على تقدير نفي نسبة أخرى“، اگر اس نفی کی جگہ عبارت پر نظر ہے بھئی؟ ”على تقدير نفي“، اس نفی کی جگہ اگر ثبوت کا لفظ ہو پھر خلل دور ہو جاتا ہے، پھر عبارت صحیح ہو جاتی ہے۔
کس کی جگہ پر ثبوت کا لفظ ہو؟ کون سی نفی کا لفظ کون سا؟ ہاں ”على تقدير نفي نسبة أخرى“، اس کے بجائے اگر ہوتا ”على تقدير ثبوت نسبة أخرى“ پھر عبارت درست بن جاتی ہے بھئی، پھر ساری صورتیں داخل ہو جائیں گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟
بھئی کس طرح ہوں گی؟ لکھیے ذرا اپنے سامنے بھئی، کاپی ایک نکالیں ایک صفحے پر بھئی۔ آٹھ مثالیں لکھیں گے، ایک ہی صفحے پر آپ نے لکھنی ہیں بھئی ساری۔
اوپر لکھیے: قضیہ شرطیہ متصلہ، قضیہ شرطیہ متصلہ۔ جلدی جلدی بھئی لکھیے بھئی، قضیہ شرطیہ متصلہ۔
اس کے نیچے لکھیے: ایجاب کی صورتیں، ایجاب کی صورتیں۔
اس کے بعد نچلی سطر میں لکھیے، سطر کے شروع میں: دونوں ثبوتی، دونوں ثبوتی۔ اسی کے آگے اسی سطر میں لکھیں نمبر ایک، ایک نمبر دیں۔ ایک نمبر، اس کے بعد لکھیے: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود. إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود. جلدی لکھیے بھئی، لکھ لیا بھئی؟ إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود.
اب نچلی سطر میں لکھیے، پہلی میں کیا لکھا تھا؟ دونوں ثبوتی ہوں۔ اگلی سطر میں اس کے نیچے لکھیے: دونوں سلبی ہوں۔ دونوں سلبی ہوں۔ یعنی دونوں، پہلے میں کیا تھا؟ مراد تھی دونوں جز ثبوتی ہوں، دوسری میں ہے کیا مراد ہے؟ دونوں جز سلبی ہوں۔ آگے نمبر دیں نمبر دو، نمبر دو بھئی۔ لکھ لیا بھئی؟ آگے لکھیے: إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن النهار موجودا. إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن النهار موجودا.
یرحمك الله.
لم يكن النهار موجودا، لکھ لیا یہاں پر تک؟ اگلی سطر میں اب لکھیے: ایک ثبوتی، ایک سلبی۔ ایک ثبوتی، ایک سلبی۔ اس کے آگے تین نمبر دیجیے بھئی، تین نمبر۔ آگے لکھیے: إن لم تكن الشمس طالعة فالليل موجود. إن لم تكن الشمس طالعة فالليل موجود. فالليل موجود.
لکھ لیا بھئی؟ یہ کون سی صورت ہے؟ ایک جز سلبی ہے تو ایک ثبوتی۔ کون سا جز سلبی ہے؟ پہلا جز إن لم تكن، پہلا جز کیا ہے؟ سلبی ہے۔ دوسرا جز ثبوتی ہے فالليل موجود.
اچھا، یہ تو صورت تھی پہلا جز سلبی، دوسرا جز ثبوتی۔ کبھی اس کا عکس ہوتا ہے، پہلا جز ثبوتی ہوتا ہے اور دوسرا جز سلبی ہوتا ہے۔ تو اس کی بھی مثال لکھ لیں، چار نمبر نیچے لکھیے۔ اسی میں گویا، چار نمبر نیچے لکھیں بھئی، چار نمبر۔ اس کے آگے لکھیے: إن كانت الشمس طالعة فلم يكن الليل موجودا. إن كانت الشمس طالعة فلم يكن الليل موجودا.
لکھ لیا بھئی؟ کیا لکھا؟ إن كانت الشمس طالعة فلم يكن الليل موجودا. ہاں، إن كانت الشمس طالعة فلم يكن الليل موجودا.
تو دیکھیے، ثبوتی پہلی قسم آپ نے لکھی ثبوتی، دونوں جز ثبوتی ہیں بھئی۔ دوسری میں دونوں جز سلبی ہیں۔ اور تیسری جس میں ایک جز سلبی ہو، ایک جز ثبوتی، اس میں دو صورتیں بن گئیں۔ پہلا جز سلبی اور دوسرا جز ثبوتی، یا پہلا جز ثبوتی ہو اور دوسرا جز سلبی ہو بھئی۔
اب اس سے نچلی سطر میں لکھیے درمیان میں: سلب کی صورت میں، سلب کی صورت میں۔
تو کیا لکھا؟ سلب کی صورت میں۔ اچھا، اب اسی طرح سطر کے شروع میں لکھیے: دونوں جز ثبوتی، دونوں جز ثبوتی۔
آگے لکھیے بھئی، کتنی مثالیں گزر گئیں؟ چار۔ اب آگے لکھیے پانچ نمبر، اسی کے آگے: دونوں جز ثبوتی پانچ نمبر۔ اس کے آگے لکھیے بھئی: ليس البتة إن كانت الشمس طالعة فالليل موجود. ليس البتة إن كانت الشمس طالعة فالليل موجود.
اگلی سطر میں لکھیے: دونوں جز سلبی ہوں۔ دونوں جز سلبی ہوں۔ مثال نمبر کون سی ہے؟ چھ، چھ نمبر آگے دیجیے، آگے لکھیے: ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن الليل موجودا. ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن الليل موجودا.
لکھ لیا بھئی؟ ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن الليل موجودا.
اس سے نیچے کیا لکھیں گے؟ ایک جز ثبوتی اور ایک سلبی، ایک جز ثبوتی اور ایک جز سلبی۔ اس کے آگے نمبر سات لکھیے، سات نمبر۔ آگے لکھیے: ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة فالنهار موجود. ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة فالنهار موجود.
لکھ لیا بھئی؟ ليس البتة إن لم تكن الشمس طالعة فالنهار موجود.
اگلی اسی میں آٹھویں مثال لکھیں کیونکہ اس میں دو صورتیں آتی ہیں، آٹھویں، آٹھ نمبر لکھیں آگے: ليس البتة إن كانت الشمس طالعة فلم يكن النهار موجودا. ليس البتة إن كانت الشمس طالعة فلم يكن النهار موجودا.
پورا ہو گیا بھئی؟ اب یہ آٹھ مثالیں آ گئیں آپ کے سامنے، یہ میں نے اسی لیے لکھوا دیں تاکہ اب آپ کی نظر کے سامنے رہیں، جو تقریر ہو آپ اس پر اس کو سمجھتے جائیں بھئی۔ بھئی سب سے پہلے ان کو خود دیکھ لیجیے ان قضایا کو بھئی۔
پہلا قضیہ جو آپ نے ایجابی صورت لکھی، پہلے میں دیکھیے دونوں جز ثبوتی ہیں: إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود. اگر سورج طلوع ہے، ایجاب کر رہے ہیں یا نفی کر رہے ہیں؟ ایجاب کر رہے ہیں۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، دن کی موجودگی کا بھی ثبوت ہے بھئی، تو دونوں جز کیا ہوئے؟ ثبوتی۔
دوسرے میں ذرا دیکھیے: إن لم تكن الشمس طالعة لم يكن النهار موجودا. اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن موجود نہیں ہے۔ تو سورج کے طلوع ہونے کی نفی کی کہ سورج اگر طلوع نہیں ہے، اور دوسرے میں بھی کہا دن موجود نہیں ہے، تو دونوں سلبی ہیں بھئی، دونوں جز۔
تیسرے میں: إن لم تكن الشمس طالعة فالليل موجود. اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات موجود ہے۔ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات موجود ہے۔ تو پہلا جز سلب ہے اس میں، دوسرا کیا ہے؟ ثبوتی۔
چوتھے میں اس کا عکس ہوگا، پہلا ثبوتی ہوگا، دوسرا سلبی۔ إن كانت الشمس طالعة فلم يكن الليل موجودا. اگر سورج طلوع ہے، یہ ثبوتی ہوا، فلم يكن الليل موجودا، تو رات موجود نہیں ہے، یہ دوسرا جز کیا ہوا؟ سلبی۔
یہ ایجاب کی صورتیں تھیں۔ یعنی دونوں ایک نسبت کے پر دوسری کا بھی ثبوت ہے بھئی۔
2
نفی کے اندر بھی یہی چار صورتیں دیکھیے بھئی۔
پہلی صورت جس میں دونوں جز کیا ہوں؟ ثبوتی ہوں۔ دیکھیے: لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَاللَّيْلُ مَوْجُودٌ.
ایسا نہیں ہے کہ إن كانت الشمس طالعة اگر سورج طلوع ہو—یہ دیکھو ثبوتی ہے، اگر سورج طلوع ہو۔ فالليل موجود تو رات موجود ہو—دیکھو یہ بھی ثبوتی ہے۔ دونوں جز کیا ہیں؟ ثبوتی۔
تو یعنی اگر سورج طلوع ہو، تو رات بھی موجود ہو، ایسا نہیں ہے، ایسا نہیں ہوگا، سورج طلوع ہو تو رات موجود نہیں ہوگی، بلکہ رات غیب موجود ہوگی بھئی۔
دوسری صورت: دونوں جز سلبی ہوں۔ لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً لَمْ يَكُنِ اللَّيْلُ مَوْجُودًا. ایسا نہیں ہے قطعی طور پر کہ اگر سورج طلوع نہ ہو، تو رات موجود نہ ہو۔ یعنی اگر سورج طلوع نہیں ہے، تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا کہ رات کا وجود نہ ہو، بلکہ پھر کیا ہوگی؟ رات تو موجود... تو دونوں جز دیکھو: إن لم تكن الشمس طالعة—یہ بھی سلبی، لم يكن الليل موجودا—یہ بھی سلبی۔
آگے دونوں جز اگر مختلف ہوں، ایک ثبوتی ہو اور ایک سلبی، اس میں دو صورتیں آ رہی ہیں۔ لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ.
دیکھیے: إن لم تكن الشمس طالعة—یہ کیا ہے؟ سلبی۔ فالنھار موجود—یہ کیا ہے؟ وجودی بھئی، ثبوتی ہے۔
تو ایسا نہیں ہے کہ اگر سورج... ایسا نہیں ہے قطعی طور پر إن لم تكن الشمس طالعة اگر سورج طلوع نہ ہو، تو دن موجود ہو۔ بھئی سورج طلوع نہ ہو... تو دن موجود ہوگا یا رات موجود ہوگی؟ ہاں، اسی لیے کہا ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ سورج طلوع نہ ہو، تو دن موجود ہو، ایسا نہیں ہے بھئی۔
یہ تو تھا پہلا جز سلبی، دوسرا جز ثبوتی تھا۔ اگلی مثال میں اس کا عکس ہے۔ پہلا جز ثبوتی ہوگا اور دوسرا جز سلبی ہوگا۔ لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَلَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا.
یہ دیکھو: إن كانت الشمس طالعة—یہ ہے ثبوتی۔ فلم يكن النھار موجودا—یہ ہے سلبی۔
تو یہ ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ اگر سورج طلوع ہو، تو دن موجود نہ ہو۔ اگر سورج طلوع ہو... تو دن موجود نہ ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ سورج طلوع ہے تو دن موجود ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو گویا... ایجاب کے اندر بھی تین صورتیں داخل: دونوں جز ثبوتی ہوں گے، یا دونوں جز سلبی ہوں گے، یا ایک جز ثبوتی اور ایک سلبی۔ اور ایک جز ثبوتی ہو، ایک سلبی ہو، اس میں پھر دو صورتیں آ گئیں، کہ پہلا جز ثبوتی ہو اور دوسرا جز سلبی ہو، یا اس کا عکس: پہلا جز سلبی ہو اور دوسرا جز ثبوتی ہو۔
اور سالبہ کے اندر بھی یہی چار صورتیں آ گئیں۔ پہلا جز ثبوتی ہو، دوسرا بھی ثبوتی ہو۔ پہلا جز سلبی ہو، دوسرا بھی سلبی ہو۔ تیسری صورت: ایک جز ثبوتی ہو تو دوسرا سلبی ہو، اس میں پھر دو صورتیں وہی آ گئیں: پہلا جز ثبوتی تو دوسرا جز سلبی، یا پہلا جز سلبی تو دوسرا جز ثبوتی۔
تو یہ ساری دیکھیے مثالیں ہیں قضیہ متصلہ کی بھئی۔
اب... یہ کتاب کی عبارت پر پھر آئیے بھئی۔
انہوں نے کہا: أَمَّا الْمُتَّصِلَةُ باقی قضیہ متصلہ وہ ہے فَهِيَ الَّتِي وہ قضیہ ہے حُكِمَ فِيهَا جس میں حکم لگایا جائے بِثُبُوتِ نِسْبَةٍ عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى ایک نسبت کے ثبوت کا، جس میں حکم لگایا جائے ایک نسبت کے ثبوت کا عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى دوسری نسبت کے ثبوت کے تقدیر پر، فِي الْإِيجَابِ ایجاب میں۔ وَبِنَفْيِ نِسْبَةٍ عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى، میں نے بتایا تھا نفی کی جگہ ثبوت کا لفظ رکھیں پھر درست ہوگی، اور حکم لگایا جائے بنفی نسبة ایک نسبت کی نفی کا عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى دوسری نسبت کے ثبوت کو فرض کرنے پر، فِي السَّلْبِ کس کے اندر؟ سلب کے اندر بھئی، سلب کے اندر بھئی۔
بھئی دیکھیے۔ اب آئیے ان مثالوں پر۔ مثالوں کے اندر بھئی، ایجاب کی صورت میں کیا ہوگا؟ ایک کے ثبوت پر دوسرے کا بھی ثبوت ہوگا۔ اور سلب میں کیا ہوگا؟ ایک کے ثبوت پر دوسرے کی نفی ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
ایجاب میں کیا ہوگا؟ ایک کے ثبوت پر دوسرے کا بھی ثبوت ہوگا، یعنی ایک جز کے ثبوت سے دوسرے جز کا بھی ثبوت ہوگا، اور سلب کے اندر ایک جز کے ثبوت سے دوسرے جز کی نفی ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اب دیکھیے مثالوں پر بھئی، مثالوں پر آئیے۔ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ.
بھئی اب مجھے... یہ کس کی آواز آئی؟ اب نہ بولیں میرے ساتھ کوئی۔
إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً اگر سورج طلوع ہے، تو دن موجود ہے۔ اگر سورج طلوع ہے، یعنی اگر اس بات کا ثبوت ہے، یہ جو ابھی بیان ہوئی، کس بات کا ثبوت؟ اگر سورج طلوع ہے، تو دوسری کا بھی ثبوت ہے۔ اس میں کیا حکم لگایا گیا ہے؟ پہلے کے ثبوت کو اگر اپ فرض کر لیتے ہیں، تو دوسرے کا بھی ثبوت ماننا پڑے گا۔ اگر سورج کے طلوع کو اپ فرض کر لیتے ہیں، تو دن کے وجود کو بھی اپ کو ماننا پڑے گا، کیونکہ جب سورج نکلتا ہے دن ضرور ہوتا ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک کے ثبوت پر دوسرے جز کا بھی ثبوت اپ کو ماننا پڑے گا۔
تو دیکھیے، یہ ایجاب والی صورت ہو گئی۔ اگلی مثال پہ آئیے۔ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا. اگر سورج طلوع نہیں ہے، تو دن بھی موجود نہیں ہے۔ یہ بھی وہی ایجاب والی صورت ہے۔ کیا؟ اپ کہیں گے ان میں تو نفی ہے، بھئی نفی کو ہم نے... یہ اجزاء کی نفی ہے، جز کی نفی کو ہم نے نہیں دیکھنا۔ صورت سمجھ میں... دیکھیے اس کی بھی وہی بات ثابت کی گئی جو ایجاب میں تھی، کیسے؟ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً یہ ہے پہلی بات، لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا یہ ہے... اگر پہلی بات کا ثبوت ہے، تو دوسری کا بھی اپ کو ثبوت ماننا پڑے گا۔ پہلی بات کا کیا ثبوت ہے؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے۔ اگر اس کا ثبوت مانتے ہو یعنی اس کو اسی طرح مانتے ہو، تو دوسری کو بھی اسی طرح... اب اگرچہ دونوں سلبی ہیں جز، لیکن ہم ان کی اپنے سلب اور ثبوت کی بات نہیں کر رہے، ہم یہ کہہ رہے ہیں جو بات اس میں کہی گئی ہے چاہے منفی ہے چاہے ثبوتی ہے، اگر یہ بات ہے اسی طرح، اس کا اسی طرح ثبوت ہے، تو دوسری کا بھی اسی طرح ثبوت ہے بھئی۔ اگر یہ بات ثابت ہے، کون سی بات؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے، تو دوسری بھی ثابت ہے، کیا؟ دن موجود نہیں ہے۔ جب سورج طلوع نہیں ہے تو لازمی بات ہے دن بھی موجود نہیں ہے۔ اگر پہلی کو مانتے ہو تو دوسری کو بھی ماننا پڑے گا، ایک کا ثبوت ہے تو دوسرے کا بھی ثبوت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھو وہی ایجاب والی تعریف سب کے صادق آ رہی ہے۔
تیسری میں آئیے۔ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَاللَّيْلُ مَوْجُودٌ. اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات موجود ہے۔ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات موجود... یعنی اگر پہلی بات کا ثبوت ہے تو دوسری کا بھی ثبوت ہے۔ پہلی کا کیا ثبوت؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے، اگر یہ اس طرح ہے، یہ ثابت ہے، تو دوسری بات بھی ثابت ہے: رات موجود ہے۔ اگر سورج طلوع نہیں ہے، سورج نہیں نکلا ہوا، تو رات موجود ہے بھئی۔ تو پہلے کے ثبوت پر دوسرے کا بھی ثبوت ماننا پڑے گا اپ کو۔
چوتھی صورت: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَلَمْ يَكُنِ اللَّيْلُ مَوْجُودًا. اگر سورج طلوع ہے تو رات موجود نہیں ہے۔ اگر پہلی کو مانتے ہو بات کو، پہلی کو ثابت مانتے ہو تو دوسرے کو بھی ثابت ماننا پڑے گا بھئی۔ ایک کا ثبوت ہے تو دوسرے کا بھی... اگر سورج طلوع ہے، تو رات موجود نہیں ہے بھئی۔
اب آئیے پانچویں مثال سلب کے اندر بھئی۔ سلب میں نے کیا تعریف بدلوائی تھی بھئی؟ کیا کہا تھا؟ حُكِمَ فِيهَا بِنَفْيِ نِسْبَةٍ عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى، جس میں ایک نسبت کی نفی کا حکم لگایا جائے دوسری نسبت کے ثبوت پر، دوسری نسبت کے ثبوت پر۔ جیسے دیکھیے: لَيْسَ الْبَتَّةَ... دیکھیے، ذرا لَیْسَ الْبَتَّةَ کو ہٹائیں۔ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَاللَّيْلُ مَوْجُودٌ. اگر سورج طلوع ہے تو رات موجود ہے۔ پہلی کو اگر ثابت مانو گے، کون سا؟ اگر سورج طلوع ہے۔ تو دوسرے... رات موجود ہوگی یا اس رات کی نفی کرنا پڑے گی؟ جب سورج طلوع ہے تو پھر تو رات موجود... تو دیکھو پہلے کا ثبوت مانو گے، تو دوسرے کی کیا کرنا پڑے گی؟ نفی کرنا پڑے گی۔ یہی ہے کہ حُكِمَ فِيهَا بِنَفْيِ نِسْبَةٍ، جس میں ایک نسبت کی نفی کا حکم لگایا جائے عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى، دوسری نسبت کے... اگر پہلی بات مانتے ہو تو دوسری بات کی اپ کو کیا کرنا پڑے گی؟ نفی، اسی لیے شروع میں لَیْسَ الْبَتَّةَ لگا دیا کہ ایسا نہیں ہے بھئی، ایک کو مانو تو دوسرے کو بھی ماننا پڑے ایسا نہیں ہے، ایک کو مانو گے تو دوسرے کی نفی ہوگی۔
اگلی مثال دیکھیے: لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً لَمْ يَكُنِ اللَّيْلُ مَوْجُودًا. ایسا نہیں ہے کہ اگر سورج طلوع نہ ہو، سورج نہ نکلا ہوا ہو، تو رات بھی نہ ہو۔ اگر سورج نہ نکلا ہوا ہو، تو رات بھی موجود نہیں ہوگی، ایسا نہیں۔ سورج نہیں نکلا تو رات ہوگی بھئی، اس کو... بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلی بات کو اگر ثابت مانتے ہو، پہلی کے ثبوت کی صورت میں دوسرے کی کیا کرنا پڑے گی؟ نفی کرنا پڑے گی، اسی لیے کہا لَیْسَ الْبَتَّةَ شروع میں لگایا کہ ایسا نہیں ہے بھئی۔
اگلی مثال میں: لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ. ایسا نہیں ہے قطعی طور پر کہ اگر سورج طلوع نہ ہو، نہ نکلا ہوا ہو، تو دن موجود ہو۔ بھئی سورج نہ نکلا ہوا ہو، تو دن موجود ہوگا یا غیر موجود ہوگا؟ ہاں، تو دیکھو پہلے کے ثبوت پر دوسرے کی کیا کرنا پڑے گی؟ نفی کرنا پڑے گی۔ اسی لیے لَیْسَ الْبَتَّةَ کہ ایسا نہیں ہے بھئی۔
چوتھی صورت میں آخری میں بھئی: لَيْسَ الْبَتَّةَ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَلَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا. دیکھو ذرا پھر یہاں لَیْسَ الْبَتَّةَ کو... ہر ایک میں لَیْسَ الْبَتَّةَ کو ہٹا کر پھر اپ غور کریں، اپ کو واضح بات سمجھ میں ا جائے گی۔ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً اگر سورج طلوع ہے، اگر یہ بات اس کو ثابت مانتے ہو، اس کا ثبوت ہے، تو فَلَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا، اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود نہیں ہوگا۔ بھئی جب سورج نکلا ہوا ہو تو دن نہیں ہوگا یا دن ہوگا؟ دن ہوگا، تو پہلی کا اگر ثبوت مانتے ہو تو دوسری کی... دوسری بات کی اپ کو نفی کرنا پڑے گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو دیکھیے، معلوم ہوا کہ کتاب کے اندر عَلَى تَقْدِيرِ نَفْيِ نِسْبَةٍ أُخْرَى، اس نفی کی جگہ کیا لفظ ہونا چاہیے؟ ثبوت کا۔ تو پھر اس صورت میں عبارت مطلب واضح ہو جائے گا بھئی۔ بات سب کو اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے، پھر ترجمہ اپ دیکھ لیں: أَمَّا الْمُتَّصِلَةُ باقی قضیہ متصلہ فَهِيَ الَّتِي پس وہ وہ قضیہ ہے حُكِمَ فِيهَا بِثُبُوتِ نِسْبَةٍ جس میں ثبوتِ نسبت کا حکم لگایا جائے عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى دوسری نسبت کے ثبوت کو فرض کر لینے پر، فِي الْإِيجَابِ کس کے اندر؟ ایجاب میں۔ وَبِنَفْيِ نِسْبَةٍ عَلَى تَقْدِيرِ ثُبُوتِ نِسْبَةٍ أُخْرَى اور قضیہ متصلہ وہ ہے جس میں نفیِ نسبت کا حکم لگایا جائے دوسری نسبت کے ثبوت کو فرض کرنے کی صورت میں، فِي السَّلْبِ کس کے اندر؟ سلب کے اندر۔ بات اچھی طرح واضح ہو گئی؟ کہ مشکل ہے؟ واضح ہو گئی؟ جی، تو ایجاب میں ایک نسبت کے ثبوت پر دوسری نسبت کا بھی ثبوت ماننا پڑے گا، اور سلب کے اندر ایک نسبت کے ثبوت پر دوسری نسبت کی نفی ماننا پڑے گی بھئی۔
تو دیکھیے، ہم نے نفی کے لفظ کو ثبوت سے بدلا، تو چاروں صورتیں اس میں آ گئیں اب دونوں کے اندر بھئی۔ چار چار مثالیں... یعنی تین تین صورتیں ہیں نا، صورتیں تین تین ہیں مثالیں چار چار بنتی ہیں۔ تو تینوں تینوں صورتیں داخل ہو گئیں۔
اور ثبوت کی جگہ اگر اسی طرح نفی کا لفظ رکھیں، پھر یہ ساری صورتیں اس میں داخل نہیں ہوتیں بھئی۔
ساری صورتیں پھر اس میں داخل نہیں ہوتیں بھئی۔
ثبوت والی جانب میں تو... ایجاب والی میں تو ساری صورتیں داخل ہو جائیں گی، لیکن سلب والی میں ساری صورتیں داخل نہیں ہوتیں بھئی۔
كَقَوْلِنَا فِي الْإِيجَابِ جیسے کہ ہمارا قول ایجاب کے اندر: إِنْ كَانَ زَيْدٌ إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا، اگر زید انسان ہے تو حیوان ہے۔ زید انسان ہے تو پھر حیوان بھی ہے، یہ بھی ماننا پڑے گا اپ کو بھئی، کیونکہ انسان حیوان ہی ہے بھئی۔ وَقَوْلِنَا فِي السَّلْبِ اور جیسے کہ ہمارا قول سلب کے اندر: لَيْسَ الْبَتَّةَ إِذَا كَانَ زَيْدٌ إِنْسَانًا كَانَ فَرَسًا. ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ زید انسان ہو تو فرس بھی ہو، گھوڑا بھی ہو۔ زید انسان ہے تو فرس بھی ہو، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے بھئی، انسان ہے تو گھوڑا نہیں ہو سکتا۔
ثُمَّ الْمُتَّصِلَةُ صِنْفَانِ پھر متصلہ جو ہے دو قسم پر ہے: إِنْ كَانَ ذَلِكَ الْحُكْمُ لِعَلَاقَةٍ بَيْنَ الْمُقَدَّمِ وَالتَّالِي سُمِّيَتْ لُزُومِيَّةً. اگر وہ حکم جو ہے کسی علاقہ کی وجہ سے ہو مقدم اور تالی کے درمیان... قضیہ شرطیہ میں اپ جانتے ہیں بھئی، پہلے حصے کو مقدم کہتے ہیں، دوسرے کو تالی کہتے ہیں۔ مقدم جس کو آگے کیا گیا ہو، تالی جو بعد میں آنے والا ہے۔ معنی سے ہی پتہ چل جاتا ہے۔ پھر کہتے ہیں: اگر یہ حکم کسی علاقہ کی وجہ سے ہو مقدم اور تالی کے درمیان... علاقہ بھئی تعلق، تعلق۔ علاقہ علاقہ، عین کے فتحہ کے ساتھ ہے یہ لفظ یاد رکھنا بھئی، علاقہ۔ تعلق کو کہتے ہیں تعلق، ربط۔ مقدم اور تالی کے درمیان کچھ تعلق تھا، اس تعلق کی بناء پر ایک کے ثبوت پر دوسرے کے ثبوت کا حکم لگایا گیا یا ایک کی نفی پر دوسرے کی نفی کا حکم لگایا گیا بھئی، کوئی ان میں تعلق تھا، تو سُمِّيَتْ لُزُومِيَّةً اس کو کیا کہتے ہیں؟ لزومیہ کہتے ہیں بھئی، كَمَا مَرَّ جیسے کہ گزر گیا بھئی، إِنْ كَانَ زَيْدٌ إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا بھئی۔ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْحُكْمُ بِدُونِ الْعَلَاقَةِ اور اگر یہ حکم...
3
ناہیق بھئی! ناہیق وہ گدھے کی آواز بھئی اس کو ناہیق کہتے ہیں، رینکنا۔ اگر انسان بولنے والا ہے تو گدھا رینکنے والا ہے۔ اور اب دیکھیے ان میں کوئی علاقہ نہیں، اتفاقاً یہ جمع ہو گئے ہیں بھئی۔ اتفاقاً انسان کے لیے نطق ثابت ہے تو گدھے کے لیے رینکنا، ان میں کوئی تعلق نہیں ہے بھئی۔ تو یہ قضیہ اتفاقیہ کہلائے گا بھئی۔ قضیہ، اور اگر علاقہ ہو تو پھر اسے کیا کہتے ہیں؟ لزومیہ کہتے ہیں۔
والعلاقة في عرفهم عبارة عن أحد الأمرين، اب علاقے کے بارے میں بتلانے لگے کہ انہوں نے کہا لزومیہ کے درمیان، لزومیہ میں حکم جو لگایا جاتا ہے وہ کسی تعلق اور ربط اور کسی علاقے کی وجہ سے لگایا جاتا ہے، اب اس کی تفصیل بیان کرنے لگے کہ علاقہ کہتے کس کو ہیں بھئی۔
تو یاد رکھیے آپ کو بتلائیں گے کہ علاقہ یہ ہے کہ وہ جو دو باتیں ہیں ان میں سے ایک علت ہے اور دوسرا معلول۔ ایک علت ہو، دوسرا معلول۔ علت کسے کہتے ہیں؟ کہ وہ چیز پائی جائے تو دوسری چیز کا پایا جانا، ایک چیز کے پائے جانے سے دوسری چیز کا پایا جانا ضروری ہو تو اسے علت کہتے ہیں۔ سورج جب بھی نکلے گا دن ضرور ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا سورج نکلے اور دن نہ ہو۔ تو سورج کا نکلنا یہ علت ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے۔ اور جب بھی علت پائی جاتی ہے معلول ضرور پایا جاتا ہے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا علت تو پائی جائے اور معلول نہ پایا جائے۔ تو سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا موجود ہونا یہ معلول ہے بھئی۔
تو لہٰذا علاقہ یا تو ان دونوں میں علت معلول والا ہوگا یا تضایف والا ہوگا۔ اور علت معلول کے اندر تین صورتیں آتی ہیں بھئی، تین صورتیں۔ تین صورتیں یہ: پہلی یہ کہ اول علت ہو، ثانی معلول ہو۔ اول کیا ہو؟ علت ہو، ثانی معلول ہو۔ مثلاً إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود، اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے۔ تو سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا موجود ہونا معلول ہے۔ تو دیکھو اول علت ہے، ثانی معلول ہے۔ یا اس کا عکس ہو، اول معلول ہو اور ثانی علت ہو۔ إن كان النهار موجوداً فالشمس طالعة، اگر دن موجود ہے تو سورج نکلا ہوا ہے۔ اگر دن موجود ہے تو— پہلے میں کیا تھا؟ اگر سورج نکلا ہوا ہے تو دن موجود ہے۔ سورج کا نکلنا علت، دن کا ہونا معلول۔ اب کہہ رہے ہیں: إن كان النهار موجوداً، اگر دن موجود ہے فالشمس طالعة، تو سورج طلوع ہے بھئی، سورج نکلا ہوا ہے۔ اب دن کا ہونا یہ معلول ہے اور سورج کا نکلنا علت۔ اب دیکھیے اول معلول ہوا اور ثانی علت۔ تیسری صورت یہ ہے کہ یہ دونوں معلول ہوں کسی ایک چیز کے، دونوں باتیں معلول ہوں کسی ایک علت کے بھئی، دونوں کی علت ایک ہی ہو۔ بھئی جب دونوں کی علت ایک ہے تو علت کے پائے جانے سے جب ایک موجود ہے تو یقیناً دوسرا بھی موجود ہوگا۔ علت ایک ہے نہ دونوں کی، اور علت جب بھی پائی جائے معلول کا پایا جانا ضروری، اور یہ دونوں معلول ہیں کسی ایک علت کے، تو وہ علت جب پائی گئی تو دونوں معلول ہیں تو دونوں کا پایا جانا ضروری ہوگا۔ جیسے دیکھیے بھئی: إن كان النهار موجوداً فالأرض مضيئة، مضيئة یعنی روشن بھئی، منور۔ إن كان النهار موجوداً، اگر دن موجود ہے فالأرض مضيئة، تو زمین روشن ہے۔ بھئی دیکھیے، دن کا ہونا اس کی علت بھی کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ زمین کا روشن ہونا اس کی بھی علت کیا ہے؟ سورج کا نکلنا۔ تو جب ایک، جب ایک ہی علت کے دونوں معلول ہیں تو ایک ہوگا، علت ہوگی تو ایک پایا جائے گا، اور دوسرا— دوسرا بھی لازمی بات ہے ساتھ، اس کے لیے بھی تو وہ علت ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ تو معلوم ہوا جب وہ علت ہوگی تو دونوں پائے جائیں گے، علت نہیں ہوگی تو دونوں نہیں پائے جائیں گے بھئی، تو دونوں ایک ہی علت کے معلول ہیں تو دونوں میں لزوم ہے بھئی، ایک ہے تو دوسرا بھی ہے، ایک نہیں تو دوسرا بھی نہیں۔ بات سمجھ میں آگئی بھئی؟ إن كان النهار موجوداً فالأرض مضيئة، اگر دن موجود ہے تو زمین روشن ہے۔ اور اگر دن کی نفی ہوگی تو زمین کے روشن ہونے کی بھی نفی ہو جائے گی بھئی۔
والعلاقة في عرفهم، دیکھیے بھئی اب پوری اصطلاحی تعریف کر رہے ہیں علاقہ کسے کہتے ہیں۔ کہتے ہیں: والعلاقة في عرفهم عبارة عن أحد الأمرين، اور علاقہ فقہاء کے عرف میں عبارت ہے دو چیزوں میں سے ایک سے: إما أن يكون أحدهما علة للآخر، یا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک علت ہو دوسرے کے لیے، أو كلاهما معلولين لثالث، یا وہ دونوں معلول ہوں کسی तीसरी چیز کے۔ وہ دونوں کیا ہوں؟ معلول ہوں کسی تیسری چیز کے۔ وإما أن يكون بينهما علاقہ التضایف، یا ان دونوں کے درمیان تضایف کا علاقہ ہو بھئی، تضایف کا۔ تضایف اسے کہتے ہیں کہ ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہو۔ یہ بات پہلے بھی بیان ہو چکی ہے۔ جیسے باپ کسے کہتے ہیں؟ جس کا بیٹا ہو۔ بیٹا کسے کہتے ہیں؟ جس کا باپ ہو۔ استاد کسے کہتے ہیں؟ جس کا شاگرد ہو۔ شاگرد کسے کہتے ہیں؟ جس کا استاد ہو۔ مالک کسے کہتے ہیں؟ جس کا مملوک ہو۔ مملوک کسے کہتے ہیں؟ جس کا مالک ہو۔ خاوند کسے کہتے ہیں؟ جس کی بیوی ہو۔ بیوی کسے کہتے ہیں؟ جس کا خاوند ہو۔ تو یہاں سب ایک کا سمجھنا ان سب میں دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہے بھئی۔ تو یہ کہتے ہیں: یا تو ان کے درمیان تضایف کا علاقہ ہو، والتضایف هو أن يكون تعقل أحدهما موقوفاً على تعقل الآخر، اور تضایف یہ ہے کہ— تعقل کا معنی سمجھنا— أن يكون تعقل أحدهما کہ ان دونوں میں سے ایک کا سمجھنا موقوفاً على تعقل الآخر دوسرے کے سمجھنے پر، كالأبوة والبنوة جیسے باپ ہونا اور بیٹا ہونا۔ فإذا قلت، پس جب آپ نے کہا: إن كان زيد أباً لعمرو، اگر زید باپ ہے عمرو کا— عمرو کا، جب زید عمرو کا باپ ہے تو عمرو اس کا کیا ہوا؟ بیٹا— كان عمرو ابناً له، تو عمرو اس کا بیٹا ہے۔ کہتے ہیں: إن كان زيد أباً لعمرو كان عمرو ابناً له، اگر زید باپ ہے عمرو کا تو عمرو بیٹا ہے اس کا۔ تو دیکھو دونوں میں کون سا علاقہ ہے؟ تضایف والا۔ تو کہتے ہیں: يكون شرطية متصلة، تو یہ کون سا قضیہ ہوگا؟ شرطیہ متصلہ ہوگا۔ بين طرفيها علاقہ التضایف، جس کے دونوں طرفین کے درمیان تضایف والا علاقہ ہے بھئی۔ کون سا علاقہ؟ تضایف والا بھئی۔
جی، چلیے بس بھئی۔ هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔