LESSONS NO. 61
1
باب الشرطيات: قد عرفت معنى الشرطية، وهي التي تنحل إلى قضيتين. والان نهديك إلى أقسامها ونرشدك إلى أحكامها. فاعلم أيتها الفطن اللبيب والذكي الأريب أن الشرطية قسمان: أحدهما المتصلة والثاني منهما المنفصلة.
أما المتصلة فهي التي حكم فيها بثبوت نسبة على تقدير ثبوت نسبة أخرى في الإيجاب، وبنفي نسبة على تقدير نفي نسبة أخرى في السلب.
آج قضية شرطية جو ہے اس کی تفصیل بیان ہوگی کہ وہ کتنی قسم پر ہے اور کس قسم کے ہیں وغیرہ بھئی۔
دیکھیے بھئی، باب الشرطيات أيا هذا باب الشرطيات، یہ شرطيات کا باب ہے یعنی قضية شرطية کا بیان، قضية شرطية کا بیان ہے۔ قد عرفت معنى الشرطية، تحقيق آپ جان چکے ہیں شرطية کا معنی وهي التي تنحل إلى قضيتين، اور یہ وہ قضية ہے جو کھلتا ہے دو قضية کی طرف، جو کھلتا ہے دو قضية کی طرف۔
آپ نے پڑھا تھا قضية دو قسم پر ہے، کون کون سے؟ ایک حملية اور ایک شرطية۔ حملية کو اگر کھولیں تو دو قضية نہیں حاصل ہوں گے، یا تو دو مفرد حاصل ہوں گے یا ایک مفرد اور ایک قضية، جبکہ قضية شرطية کو کھولیں تو وہاں دو قضية آپ کو حاصل ہوں گے۔
مثلاً آپ کہتے ہیں: اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا، اگر سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ تو یہاں سے "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود"، یہاں سے أدوات شرط اور زائد حروف کو حذف کر دیں، تو دو قضية آپ کو مل گئے بھئی، دو قضية بھئی۔ کون کون سے؟ "الشمس طالعة" اور "النهار موجود"، یہ دو قضية۔ تو یہ جو دو قضية کی طرف کھلے، اسے قضية شرطية کہتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: وهي التي تنحل إلى قضيتين، اور قضية شرطية وہ قضية ہے جو کھلتا ہے دو قضية کی طرف۔ والان، اور اب، نهديك إلى أقسامها، ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں۔ الان نهديك إلى أقسامها، اور اب ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں اس کی أقسام کی طرف بھئی۔
هدا يہدي کے کیا معنی ہوتے ہیں؟ رہنمائی کرنا، راستہ دکھانا۔ والان، الان کا معنی اب۔ والان نهديك إلى أقسامها، اور اب ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں اس قضية شرطية کی أقسام کی طرف۔ ونرشدك إلى أحكامها، اور أَرشَدَ يُرشِدُ کے معنی بھی رہنمائی کرنے کے ہیں اور راستہ دکھانے کے ہیں۔ ونرشدك إلى أحكامها، اور ہم آپ کو راستہ دکھاتے ہیں اس کے أحكام کی طرف، یعنی اس کے أحكام کا راستہ دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں: اب ہم اس کے أقسام اور اس کے أحكام، ان کی طرف یعنی آپ کی رہنمائی کرتے ہیں۔
فاعلم، پس تو جان لے، أيتها الفطن اللبيب، فطن کہتے ہیں سمجھدار بھئی، سمجھدار۔ اللبيب، اللبيب بھی سمجھدار کو، عقل مند کو کہتے ہیں بھئی۔ والذكي، ذكي، یہ ذہین کو کہتے ہیں بھئی۔ الأريب، الأريب بھی سمجھدار، ہوشیار۔ الأريب کا کیا معنی ہے؟ سمجھدار، ہوشیار۔ فاعلم أيتها الفطن اللبيب، پس تو جان لے تو اے سمجھدار، عقل مند، والذكي الأريب، اور ہوشیار، ذہین۔ ذكي کا معنی ذہین، أريب کا معنی ہوشیار۔
تو جان لے، أن الشرطية قسمان، کہ قضية شرطية دو قسم پر ہے۔ أحدهما المتصلة والثاني منهما المنفصلة، ان میں سے ایک متصلة ہے اور دوسرا منفصلة ہے۔
أما المتصلة، اب متصلة کی تفصیل بیان کرنے لگے ہیں۔
یاد رکھیے قضية متصلة وہ قضية ہے، وہ قضية شرطية ہے جس میں دو باتوں کے درمیان اتصال ثابت کیا جاتا ہے بھئی، کہ ان دو باتوں میں اتصال ہے۔ ان دو باتوں میں کیا ہے؟ اتصال جو ہے، ان دونوں کو ملا دیا جاتا ہے۔
اور یاد رکھیے کہ یہ موجبة بھی ہو سکتا ہے اور سالبة بھی۔ پھر ایجاب کے اندر بھی یاد رکھیے، دونوں قضية ثبوتی ہو سکتے ہیں، دونوں قضية منفی بھی ہو سکتے ہیں، اور ایک موج، ایک میں ایجاب ہو اور ایک میں سلب ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے بھئی۔ ایک میں ایجاب ہو اور ایک میں سلب۔
بھئی قضية شرطية کی قسم پڑھ رہے ہیں آپ قضية متصلة، قضية متصلة کے اندر کیا کیا جائے گا؟ دو باتوں کے درمیان اتصال ذکر کیا جائے گا، کہ اگر یہ ہے تو یہ بات بھی ہے۔ دو باتیں ہیں، اگر یہ بات ہے تو یہ بات بھی ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ اگر محنت کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ دیکھا! اگر محنت کرنا ہے تو کامیابی بھی ہے بھئی۔ دو باتوں کے درمیان کیا ثابت کر دیا؟ اتصال۔ یہ ایجاب کی صورت، اور ایک صورت اس کی سلب کی آئے گی۔ ایجاب دو باتوں کے درمیان ایجاب کا یہ مطلب کہ اگر ایک ہے تو دوسری بھی ہے۔ یہ دیکھو دونوں ثبوتی آ گئے۔ ایک ہو سکتا ہے من، ایک میں سلب ہو، ایک میں ایجاب ہو۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: اگر سورج طلوع نہیں تو رات ہے۔ اگر سورج طلوع نہیں تو دیکھو دونوں باتوں میں اتصال بتا رہے ہیں، اگر سورج نہیں ہے تو رات ہے۔ یا کبھی دونوں کے اندر سلب ہوگا، اگر سورج نہیں ہے تو دن بھی نہیں ہے۔ اگر سورج نہیں ہے تو یہ ایجاب والی ساری صورتیں چل رہی ہیں بھئی۔
ایجاب کے اندر کتنی صورتیں آئیں گی؟ تین صورتیں، یا تو دونوں، دیکھو دو قضية سے مل کر بنتا ہے نا قضية شرطية، تو یا تو وہ دونوں باتیں ثبوتی ہوں گی یا دونوں سلبی ہوں گی یا ایک ثبوتی ہو اور ایک سلبی ہو، تو تینوں صورتیں ممکن۔ نفی کے اندر بھی اسی طرح، ہو سکتا ہے دونوں باتیں کیا ہوں؟ ثبوتی ہوں، ہو سکتا ہے دونوں باتیں کون سی ہوں؟ سلبی ہوں، ہو سکتا ہے ایک، ایک بات ثبوتی ہو اور ایک سلبی ہو۔
صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ مثلاً دیکھیے بھئی ایجاب کی صورت میں، ایجاب کی صورت میں: آپ کہتے ہیں: "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود"، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، تو دو باتیں یہاں آئیں: ایک سورج کا طلوع ہونا، دوسری بات کیا آئی؟ دن کا موجود ہونا، ان میں آپ نے اتصال بتلا دیا، اگر یہ پہلی بات ہے تو دوسری بھی ہے۔
یا آپ کیا کرتے ہیں؟ دونوں نفی والے ہیں، دونوں میں سلبی ہے، دونوں سلبی ہیں مثلاً: آپ کہتے ہیں اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن بھی نہیں ہے۔ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن بھی پہلی بات بھی سلبی، دوسری بھی سلبی ہے بھئی۔
تیسری صورت: ایک میں ایجاب ہو، ایک میں کیا ہو؟ سلب ہو۔ آپ کہتے ہیں اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات ہے۔ پہلے میں کیا تھا؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن نہیں ہے، دونوں میں سلب تھا، اب ایک میں سلب ہے، اگر سورج طلوع نہیں ہے، دوسرے میں ایجاب آئے گا، تو رات موجود ہے۔ تو رات موجود ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو قضية متصلة کے اندر دو باتوں کے درمیان اتصال ثابت کیا جاتا ہے اور اس میں پھر دو صورتیں ہیں: ایجاب بھی ہو سکتا ہے اور سلب بھی۔ ایجاب کے اندر بھی تین صورتیں آئیں گی بھئی، تین صورتیں۔ یا تو دونوں کیا ہوں گی باتیں؟ ثبوتی ہوں گی، یا ایک ثبوتی ہوگی، ایک سلبی ہوگی، یا دونوں کیا ہوں گے؟ سلبی ہوں گے، تین صورتیں بھئی۔ تینوں کی مثالیں سمجھ میں آ گئیں؟
دونوں ثبوتی ہوں: "إن كانت الشمس طالعة فالنهار موجود"۔
اگر دونوں سلبی ہوں: "إن لم تكن الشمس طالعة فالنهار ليس بموجود"۔ "إن لم تكن الشمس طالعة فالنهار ليس بموجود"، دیکھو دونوں سلبی ہیں، اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن بھی نہیں ہے۔
اور تیسری صورت: ایک میں ایجاب ہو، دوسری میں سلب، مثلاً آپ کہتے ہیں: "إن لم تكن الشمس طالعة فالليل موجود"۔
صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی بھئی؟
نفی کی صورت میں بھی اسی طرح ہوگا بھئی، نفی کی صورت میں۔ یعنی دونوں باتیں ثبوتی بھی ہو سکتی ہیں، دونوں سلبی بھی ہو سکتی ہیں، ایک ثبوتی اور ایک سلبی بھی ہو سکتی ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "ليس البتة إذا كان زيد إنساناً كان فرساً"۔
یہ "ليس البتة" کو ذرا ہٹاؤ۔ "إذا كان زيد إنساناً"، اگر زید کیا ہے؟ انسان ہے، "كان فرساً"، تو وہ گھوڑا ہے۔ اگر زید انسان ہے تو وہ گھوڑا بھی ہے، کیا ایسا ہے؟ نہیں ہے بھئی، ایسا۔ لہٰذا شروع میں "ليس البتة" لے کر آؤ، یہ نفی کے لیے لاتے ہیں بھئی، یہ نفی کر رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے قطعی طور پر، "البتة" کے کیا معنی؟ قطعی طور پر۔ "ليس البتة"، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ زید انسان ہو تو وہ گھوڑا بھی ہو۔
جب انسان ہے تو وہ گھوڑا نہیں ہو سکتا بھئی، معنی اس کا یہ ہے۔ اگر زید انسان ہے تو وہ گھوڑا اسی کو کس طرح کن لفظوں میں وہ ذکر کر رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے، ایسا یقینی طور پر، "ليس البتة" کا کیا معنی؟ "ليس البتة"، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو۔
زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہوگا، ایسا قطعی طور پر ہے ایسا یا نہیں؟ نہیں ہے۔ جب انسان کہہ دیا تو قطعی بات ہے وہ گھوڑا نہیں، کیونکہ انسان الگ، گھوڑا، گھوڑا الگ بھئی۔ تو لہٰذا شروع میں نفی کا لفظ لے آئے کہ زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو، ایسا قطعی طور پر نہیں ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ اب دیکھو دونوں ثبوتی ہیں۔
زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو۔ انسان کے کا بھی ہونا بیان کیا گیا اور گھوڑے کا بھی ہونا بیان کیا گیا، اور پھر اس کی نفی کر دی گئی کہ ایسا نہیں ہے۔ زید انسان ہو تو گھوڑا بھی ہو، ایسا نہیں ہے، یعنی زید انسان ہو تو گھوڑا نہیں ہو سکتا قطعی طور پر۔
صورت سمجھ میں آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی بھئی؟
یہ تو تھے دونوں ثبوتی، دونوں کیا تھے؟ ثبوتی۔ بھئی یہ مثال کتاب میں بھی ہے، وہیں پر دوسری سطر اگلی سطر میں آپ دیکھیں۔ "ليس البتة إذا كان زيد إنساناً كان فرساً"، "إذا كان زيد إنساناً"، ایجاب ہے، سلب ہے؟ ایجاب۔ اور "كان فرساً"، یہ ایجاب۔ تو دیکھو دونوں ثبوتی ہیں اور پھر اس کی نفی کی گئی بھئی "ليس البتة" کے ذریعے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
اچھا دوسری مثال بنا لیں، جبکہ دونوں منفی ہوں۔ اس کی کیا مثال بنائیں؟ دیکھیے، اسی وہی وہی مثال بنا لیں۔ اگر سورج طلوع نہ ہو تو رات نہیں ہوگی، ایسا نہیں ہے، ایسا قطعی طور پر نہیں۔ سورج نہیں ہوگا تو رات بھی نہیں ہوگی، ایسا ہے کہ نہیں ہے؟ سورج طلوع نہیں ہوگا پھر تو رات کو تو ہونا چاہیے اور یہ کہہ رہے ہیں رات بھی سورج طلوع نہیں ہوگا تو رات بھی نہیں ہوگی، ایسا نہیں ہے، پھر رات ہوگی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کیسے بنائیں؟ "ليس البتة إذا لم تكن الشمس طالعة لم يكن الليل موجوداً"۔ "ليس البتة إذا لم تكن الشمس طالعة لم يكن الليل موجوداً"۔ ایسا قطعی طور پر نہیں ہے کہ سورج طلوع نہ ہو تو رات بھی نہ ہو۔
یعنی جب سورج طلوع نہیں ہوگا تو پھر رات کی نفی نہیں ہوگی بلکہ رات کا اثبات کرنا پڑے گا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ دونوں کون سے ہیں؟ نفی، "إذا لم تكن الشمس طالعة"، دیکھو یہ بھی منفی۔ "لم يكن الليل موجوداً"، یہ بھی نفی، اور پھر اس میں اس کی کیا کی گئی؟ نفی کی گئی "ليس البتة" کے ذریعے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
تیسری صورت بھئی، دیکھو دو صورتیں آ گئیں نفی کے اندر بھی: پہلا بھی ثبوتی، دوسرا بھی ثبوتی، پھر اس اتصال کی نفی کی جائے۔ دوسری مثال گزری: پہلا بھی منفی ہو، دوسرا بھی منفی ہو، اور پھر اس اتصال کی نفی کی جائے۔ تیسری صورت: ایک ثبوتی ہو اور ایک سلبی ہو، اس کے کیا مثال بنائیں؟ وہی "إذا لم تكن الشمس طالعة"، جب سورج طلوع نہیں ہے، "فالنهار موجود"۔
بھئی نفی کرنی ہے نا، جب سورج طلوع نہیں ہے تو دن موجود ہے، دن موجود ہو ایسا نہیں ہو سکتا۔ سورج طلوع نہ ہو تو دن موجود ہو ایسا نفی والی بات کر رہے ہیں نا، "ليس البتة إذا لم تكن الشمس طالعة فالنهار موجود"۔ ایسا نہیں ہے کہ سورج طلوع نہ ہو تو دن موجود ہو۔ سورج طلوع نہ ہو تو دن کبھی بھی موجود نہیں ہوگا۔ مثالیں سمجھ میں آ گئیں؟
2
کہ نہیں آئی سمجھ میں۔
تو یہاں پر بس اتنا یاد رکھیے، دو چیزوں کے درمیان ایجاب کی صورت میں اتصال بتایا جاتا ہے اور نفی کی صورت میں عدم اتصال آ جاتا ہے بھئی کہ ان دو باتوں میں اتصال نہیں۔ ان دو باتوں میں اتصال نہیں ہے۔ پھر ایجاب کے اندر بھی کتنی صورتیں آئیں؟ تین صورتیں۔ یا دونوں کیا ہوں گے؟ دونوں باتیں ثبوتی ہوں گی یا دونوں سلبی ہوں گی یا ایک ثبوتی اور ایک سلبی ہو گی۔ اور نفی کے لیے "لیس البتہ" کا لفظ لے کر آتے ہیں اور یہاں بھی تین صورتیں؛ دونوں کی... دونوں ثبوتی ہوں گے یا دونوں سلبی ہوں گے یا ایک ثبوتی اور ایک سلبی، اور پھر ان کی نفی کی جائے گی بھئی، پھر ان کی نفی کی جائے گی بھئی۔
دیکھیے بھئی، "واما المتصلۃ" فباقی متصلہ جو ہے "فھی التی حکم فیھا بثبوت نسبۃ علی تقدیر ثبوت نسبۃ اخرى فی الإیجاب" پس باقی متصلہ، "وھی التی" وہ قضیہ ہے "حکم فیھا" جس میں حکم لگایا جائے "بثبوت نسبۃ" کسی نسبت کے ثبوت کا "علی تقدیر ثبوت نسبۃ اخرى"، تقدیر کا معنی فرض کرنا۔ آپ پڑھتے ہیں یا نہیں بھئی، اعراب ایک لفظی ہے، تقدیدی ہے۔ کیا معنی ہوتا ہے تقدیری کا؟ فرض کر لینا، فرض کر لینا، فرض کر لیا ہے ہم نے یہاں پر اعراب اس طرح ہے بھئی۔ یہ جگہ جگہ لفظ آتا ہے کہ یہ بات مثلاً خبر، یہ لفظی ہے تو دوسری تقدیری ہے، یعنی فرض کر لی گئی ہے، فرض کر لی گئی ہے۔
اچھا بھئی، پس قضیہ متصلہ وہ ہے جس میں حکم لگایا جائے بثبوت نسبت کسی نسبت کے ثبوت کا "علی تقدیر ثبوت نسبۃ اخرى" دوسری نسبت کے ثبوت کے فرض کرنے پر۔ ایک نسبت کو فرض کیا جائے تو دوسری نسبت کے ثبوت کا حکم لگایا جائے گا اس میں بھئی۔ "فی الإیجاب" کس کے اندر؟ ایجاب میں۔
بھئی جس میں حکم لگایا جائے ثبوت نسبت کا، یہ ہے جزا، جس میں کیا حکم لگایا جائے؟ ثبوت نسبت کا، "علی تقدیر ثبوت نسبۃ اخرى" دوسری نسبت کے ثبوت کے فرض کرنے پر، یہ ہے شرط۔ ایک، یہ والی نسبت فرض کرو گے تو دوسری نسبت بھی ہو گی۔ اگر سورج طلوع ہے، اگر اس کو فرض کرو گے، اس کو مانو گے تو دن بھی موجود ہے، یہ بھی آپ کو ماننا پڑے گا بھئی۔
"إن كانت الشمس" اگر سورج طلوع ہے، اگر یہ بات مانو گے تو دوسری بھی ماننا پڑے گی، کیا؟ دن موجود ہے، بھئی دو قضیے ہیں نا، جواب دیا کریں، اگر بات سمجھ میں آ رہی ہو، مجھے پتہ تو چلے آپ کو بات سمجھ بھی آئی ہے کہ نہیں! میں کہتا ہوں "إن كانت الشمس طالعۃ فالنھار موجود"، یہ پہلی بات، اگر اس کو مان لیتے ہیں آپ، فرض کر لیں، فرض کیا کر لیں؟ اگر اس کو اگر مان لیا جائے، اس کو ثبوت کو فرض کر لیں تو دوسرا بھی آپ کو ماننا پڑے گا۔ اگر سورج کے طلوع ہونے کو تسلیم کر لیں تو دن کا ہونا بھی آپ کو ماننا پڑے گا۔ یہ تو تھے دونوں ثبوتی۔
نفی کی صورت میں، اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات موجود ہے۔ پہلی بات مانو گے اگر، تو پھر دوسری کو بھی آپ کو کیا کرنا پڑے گا؟ ماننا پڑے گا۔ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو کیا ماننا پڑے گا؟ رات موجود ہے۔ صورت یہ ایک ایجاب میں اور ایک سلب میں۔ دونوں میں سلب ہو، اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن موجود نہیں ہے۔ پہلی بات کو مان لیتے ہیں آپ، فرض کر لیں، تو دوسری کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ماننا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے کہ "ھی التی حکم فیھا" جس میں حکم لگایا جائے "بثبوت نسبۃ" ایک نسبت کے ثبوت کا، کون سی نسبت کے ثبوت کا؟ جو کس میں ہے؟ جزا میں ہے، "علی تقدیر ثبوت نسبۃ اخرى" دوسری نسبت کے ثبوت کو فرض کر لینے پر، اس کو اگر فرض کر لیتے ہیں تو ایک پہلی کو فرض کر لیتے ہیں تو دوسری کو بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ماننا پڑے گا، "فی الإیجاب" ایجاب کے اندر۔ "وبنفی نسبۃ علی تقدیر نفی نسبۃ اخرى" اور جس میں حکم لگایا جائے ایک نسبت کی نفی کا، یہ کس میں ہو گا؟ جزا میں، جزا میں، پیچھے تھا نا "بثبوت نسبۃ" یہ اسی پر عطف ہے "بنفی نسبۃ"، ثبوت نسبت کس میں تھا، میں نے بتایا تھا؟ جزا میں، تو نفی نسبت بھی کس میں ہے؟ جزا میں، کہ اس میں حکم لگایا جائے ایک نسبت کی نفی کا "علی تقدیر نفی نسبۃ اخرى" دوسری نسبت کی نفی کے فرض کر لینے پر، ایک نسبت کی نفی سلب، ایک ایک نسبت یعنی شرط میں اگر آپ نفی فرض کر لیتے ہیں تو جزا میں بھی کیا ماننا پڑے گی؟ نفی ماننا پڑے گی "فی السلب" کس صورت میں؟ سلب کے اندر۔
بھئی یہاں ماتن کی عبارت میں واضح بات نہیں بھئی، واضح نہیں بھئی۔ بھئی انہوں نے ایجاب کی صورت میں صرف ایک صورت ذکر کی، کہ پہلی کو ثبوت کو مانو گے تو دوسری کے بھی ثبوت کو ماننا پڑے گا۔ اگر سورج طلوع ہے تو دن بھی موجود ہے، اگر پہلی بات کو ثبوت کو آپ مان لیتے ہیں تو دوسری کے ثبوت کو بھی ماننا پڑے گا آپ کو۔ یہ تو صرف ایک صورت آئی جب دونوں کیا ہوں؟ ثبوتی ہوں۔ اور میں نے تو یہ بتایا، کتنی صورتیں ہیں؟ تین صورتیں۔ دونوں ثبوتی بھی ہو سکتے ہیں، دونوں سلبی بھی ہو سکتے ہیں، ایک ثبوتی اور ایک سلبی بھی ہو سکتا ہے۔ جبکہ ان کی بات صرف کس صورت پر صادق آ رہی ہے؟ صرف ثبوتی دونوں ہوں، تو ایک صورت داخل ہوئی، دو صورتیں نکل گئیں۔
اسی طرح نفی کے اندر انہوں نے کہا، جس میں حکم لگایا جائے ایک نسبت کی نفی کا دوسری نسبت کی نفی کو فرض کرنے کی صورت میں، یعنی جب دونوں کیا ہوں؟ سالبہ ہوں، کیا ہوں؟ حالانکہ نفی کے اندر بھی کتنی صورتیں ہیں؟ تین صورتیں؛ یا دونوں ثبوتی، یا دونوں سلبی، یا ایک ثبوتی اور ایک سلبی ہو گا "فی السلب" سلب کے اندر بھئی۔ مثالیں میں نے ذکر کر دیں۔
"لیس البتہ" مثلاً آپ کہتے ہیں ایسا نہیں ہے یقینی طور پر کہ اگر سورج طلوع ہو تو رات موجود ہو۔ دیکھو، دونوں کیا ہیں؟ ثبوتی، اگر سورج طلوع ہو تو رات بھی موجود ہو، ایسا نہیں ہے بھئی، قطعی طور پر ایسا نہیں ہے۔ جب سورج طلوع مانیں گے تو رات کو بھی ماننا پڑے، ایسا نہیں ہے بلکہ پھر کیا ماننا پڑے گا؟ دن کو ماننا پڑے گا بھئی۔ یہ تھے دونوں ثبوتی۔
نفی کی صورت دیکھ لیں، اگر سورج طلوع نہیں ہے، "لیس البتہ" شروع میں لائیں، یہ بات قطعی طور پر نہیں ہے کہ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو رات بھی موجود نہیں ہے۔ سورج طلوع نہیں ہے تو رات بھی موجود نہیں ہے، ایسا نہیں ہے۔ سورج طلوع نہیں ہے تو پھر رات موجود ہو گی بھئی! اور آپ کیا کر رہے ہیں؟ رات کی، جب سورج نہیں ہے تو پھر کیا ہونی چاہیے؟ رات ہونی چاہیے، اور آپ کہہ رہے ہیں پھر رات بھی موجود نہیں، تو شروع میں "لیس البتہ" لگا دیا کہ ایسا نہیں ہے۔ سورج موجود نہ ہو تو رات بھی مو... رات بھی موجود نہ ہو، ایسا نہیں ہو سکتا، سورج نہیں ہے تو پھر رات موجود ہو گی بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟
تو یہ دیکھو دونوں نفی والے آ گئے، اور "لیس البتہ" لے کر آئے، "لیس البتہ" آپ کو آگے چل کر بتائیں گے، یہ سور ہے سالبہ کا بھئی، یہ بتلائے گا کہ یہ قضیہ شرطیہ کون سا ہے؟ سالبہ ہے، موجبه نہیں ہے بھئی۔ تو دیکھو سالبہ کے اندر دوسری صورت آ گئی۔ جی!
اور تیسری صورت، ایک میں ایجاب ہو تو دوسری میں سلب ہو۔ اس کی کیا صورت بتائیں... بنائیں؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن موجود ہے۔ سورج طلوع نہیں ہے تو دن کو موجود ہونا چاہیے یا غیر موجود ہونا چاہیے؟ اور آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اگر سورج طلوع نہیں ہے تو دن موجود ہے، ایسا نہیں ہے بھئی! صورت اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں دونوں میں تین تین صورتیں آ رہی ہیں اور مصنف کی عبارت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ موجبہ کے اندر ایک کے ثبوت سے دوسرے کا ثبوت ہو گا بس، ایک صورت، اور سالبہ کے اندر ایک کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو گی بس بھئی، حالانکہ دونوں میں کتنی کتنی صورتیں ہیں؟ تین تین صورتیں ہیں۔ چلیے بس بھئی، باقی پھر کل کریں گے۔ چلیے بھئی، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔